روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

عرب بادشاہتیں اور اسرائیل ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں

عرب بادشاہتیں اور اسرائیل ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں

جلبیر اشقر

14 جنوری 2011 کو تیونس کے آمر زین العابدین بن علی کو شمالی افریقہ میں چار ہفتے تک جاری رہنے والی عوامی بغاوت کے بعد استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ عرب اسپرنگ کے نام سے مشہور خطے بھر کی بغاوتوں کا پہلا بڑا ہدف تھا ۔ یہ جمہوری ابھار اگرچہ بہت بڑے عوامی جوش کی علامت تھا، لیکن بالآخر کئی ہیبت ناک شکستوں پر منتج ہوا۔ سوئس ویب سائٹ marx21.chکے لیے دیے گئے اس انٹرویو میں ممتاز اسکالر جلبیر اشقرعرب بہارکے ورثے اور نئی انقلابی لہر کے امکانات پر بات کرتے ہیں۔ یہ گفتگو ایران کی حالیہ بغاوت سے قبل ریکارڈ کی گئی۔

ژاں باتو:زین العابدین بن علی کے تختہ الٹے 15سال گزر چکے ہیں۔یہ عرب بہارکی پہلی بڑی کامیابی تھی۔ تیونس کے بعد خطے کی کئی قوموں نے بڑے پیمانے پر عوامی جدوجہد کا آغاز کیا، خصوصاً مصر اور شام میں۔ تاہم یہ شاندار انقلابی ابھارخونی خانہ جنگیوں، غیر ملکی مداخلتوں (جہادی گروہوں، خلیجی ریاستوں، ایران، ترکی، روس وغیرہ) اور موجودہ ریاستوں کے شدید جبر کے ذریعے روک دیا گیا۔ نتیجتاً آمرانہ حکومتیں دوبارہ قائم ہو گئیں۔ آپ اس 15سالہ عرصے کا مجموعی جائزہ کیسے لیتے ہیں؟

جلبیر اشقر:فی الحال جائزہ انتہائی منفی ہے۔ 2011 کی بغاوتوں، جنہیں عرب بہارکہا جاتا ہے، کی آخری اہم جمہوری کامیابی ، تیونس کی منتخب حکومت ، کو 10سال بعد 2021 میں بغاوت کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔ 2019 کی دوسری انقلابی لہر ، جسے ’’سیکنڈ عرب اسپرنگ‘‘ کہا گیا ، کا آخری مورچہ سوڈان تھا، مگر وہاں بھی 2023میں شروع ہونے والی فوجی رژیم کے دو دھڑوں کی جنگ نے عوامی مزاحمت کو کچل دیا۔انہی شکستوں کے پس منظر میں اسرائیل نے غزہ کی آبادی کے خلاف اپنی نسل کش جنگ شروع کی ، اور فلسطینی عوام اور خطے میں اسرائیل کے دشمنوں کے خلاف صیہونی جارحیت میں ایک خوفناک اضافہ ہوا۔

تاہم یہ منفی تشخیص اس بات کا لمحاتی عکس ہے جس کا میں نے شروع سے ہی ایک ’’طویل المدتی انقلابی عمل‘‘کے طور پر تجزیہ کیا تھا، جب عرب بہار کے نام سے جڑی ہوئی غلط فہمیاں غالب تھیں۔ میرے لیے یہ واضح تھا کہ یہ کوئی مختصر مدتی جمہوری تبدیلی نہیں تھی، جیسا کہ 1980 کی دہائی کے آخر میں وسطی اور مشرقی یورپ کے ممالک نے تجربہ کی تھی۔ ان ممالک کی نوکر شاہی نے سیاسی تبدیلی کی بڑھتی ہوئی لہر کے سامنے محض کمزور مزاحمت کی، جو کہ بیوروکریٹک پیداواری طریقے کے ایک گہرے بحران کی وجہ سے عائد ہوئی اور جسے اس وقت کے عروج پر موجود مغربی سامراجی طاقت نے سپورٹ کیا۔ یہ سیاسی تبدیلی محض اس ماڈل کو اپنانے تک محدود تھی جو اس مغربی سامراجی طاقت کی طرف سے فروغ دیا گیا تھا، یعنی سب سے کم مزاحمت والے راستے پر سرک جانا۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا معاملہ مکمل طور پر مختلف تھا، اور آج بھی ہے۔ یہاں کی حکمران پرتیں ملکی وسائل کے حقیقی مالک طبقات ہیں ، بعض اوقات تو یہ ریاست کو بھی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں، اور وہ سیاسی تبدیلی کی سخت ترین مزاحمت کرتی ہیں۔ وہ تبدیلی جو خطے کی معاشی ترقی اور عوام کی سماجی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے، دراصل مغربی سامراجی مفادات کے بھی خلاف جاتی ہے۔

تبدیلی کی اسی دشواری نے ایک طویل تاریخی جمود پیدا کیا، کیونکہ ساختیاتی بحران جوں کا توں برقرار رہا،معاشی و سماجی بحران گہرا ہوتا گیا،سیاسی حالات مزید بگڑتے گئے،اور اس بگاڑ نے شام، لیبیا، یمن اور اب سوڈان میں سلسلہ وار خانہ جنگیوں کو جنم دیا۔یہ جنگیں خطے کے عوام میں مایوسی اور بددلی کو بڑھا رہی ہیں۔

تاہم پرانا نظام اب استحکام واپس نہیں لا سکتا۔ یہ ساختی جمود سماجی تناؤ کو مسلسل بڑھاتا رہے گا، اور یہ تناؤ بالآخر دوبارہ سیاسی دھماکوں کی صورت میں پھوٹے گا۔ایک ’’طویل المدتی انقلابی عمل‘‘کئی دہائیوں تک چل سکتا ہے، اور اگر اس دوران جمود برقرار رہے تو خطہ وسیع پیمانے پر تہذیبی زوال کی طرف بھی جا سکتا ہے۔یوں اس عمل کے سامنے دو ہی امکانات ہیں، سماجی انقلاب، یا پھر بربریت۔

ژاں باتو:کیا روجاوا میں ڈیموکریٹک یونین پارٹی (پی وائے ڈی) کی خودمختار انتظامیہ کا قیام، اور شام میں (بشار الاسد) رژیم کا خاتمہ، اس انقلابی سلسلے کے نتائج سمجھے جا سکتے ہیں، چاہے شام کا مستقبل اب بھی شدید غیر یقینی کیوں نہ ہو؟ مزید یہ کہ کیا حالیہ مراکشی نوجوانوں کی بغاوت اس بات کی نشان دہی نہیں کرتی کہ پورے خطے میں سماجی بحران آج بھی پہلے کی طرح گہرا ہے؟

جلبیر اشقر:شمال مشرقی شام میں کردوں کی خودمختار انتظامیہ عرب دنیا کے جاری انقلابی عمل کا باقاعدہ حصہ نہیں ہے۔ یہ ایک ضمنی نتیجہ ہے، جو اس خانہ جنگی کے باعث ممکن ہوا جس نے شامی ریاست کو کمزور کردیا اور اسے اس علاقائی انتظامیہ کو برداشت کرنے پر مجبور کیا۔ ابتدا ہی سے اس انتظامیہ نے شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری محاذ آرائی سے فاصلہ رکھا۔ اس نے داعش (اسلامک اسٹیٹ) کے خلاف جدوجہد میں امریکہ سے اتحاد کیا۔

اس کے علاوہ تیل کی بادشاہتوں کی مداخلت، شامی حکومت کی عیّارانہ چالیں، اور شام کی عوامی تحریک میں بائیں بازو کی نااہلی،ان سب نے مل کر اس ملک کی انقلابی بغاوت کو بہت تیزی سے دو رد انقلابی کیمپوں کے درمیان ایک خانہ جنگی میں بدل دیا۔ ایک طرف اسد رژیم اور دوسری طرف اسلامی بنیاد پرستی کے سیاسی دائرے سے تعلق رکھنے والی مختلف مسلح قوتیں اس خانہ جنگی میں متحارب تھیں اور دونوں رد انقلابی قوتیں تھیں۔

ان میں سے سب سے زیادہ رجعت پسند قوت،النصرہ فرنٹ ،جو پہلے القاعدہ کی شامی شاخ تھی، اور جو کئی سالوں تک شمالی علاقے ادلب پر حکومت کرتی رہی۔ اس نے ترک ریاست سے ایسے تعلقات قائم کیے جو ترک حکومت نے طویل عرصے تک تسلیم نہیں کیے۔ اس نے اسد رژیم کے خاتمے کا اصل فائدہ اٹھایا۔ اسد رژیم اس لیے گری کہ روس نے اسے چھوڑ دیا، جو یوکرین پر حملے میں بری طرح پھنس چکا تھا، اور پھر ایران نے بھی اسے چھوڑ دیا، کیونکہ وہ مداخلت کے قابل نہیں رہا تھا، خصوصاً اسرائیل کے ہاتھوں 2024 کے موسم خزاں میں لبنان میں حزب اللہ کے سر قلم کیے جانے کے بعد۔

دمشق میں جو نئی حکومت قائم ہوئی ہے، وہ اگرچہ ادلب کی حکومت کو ہی ری برینڈ کر کے سامنے آئی ہے، مگر اپنی اصل نوعیت میں وہی پرانی رجعتی، فرقہ پرستانہ اور غیرجمہوری رژیم ہی ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ سب سے بدترین نوعیت کی سرمایہ داری کے حق میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور مغربی دارالحکومتوں نے فوراً اس کا خیرمقدم کیا۔

اس کے برعکس مراکش کی حالیہ نوجوان تحریک 2011 میں شروع ہونے والے انقلابی عمل کا بالکل تسلسل ہے۔ یہ اس کے گہرے سماجی اسباب کی بہترین مثال ہے،جو ترقیاتی جمود اور نہایت کمزور معاشی نموکی صورت ظاہر ہو رہے ہیں۔ اس کی سب سے نمایاں علامت نوجوانوں میں بے روزگاری تھی اور اب بھی ہے۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا یہ خطہ کئی دہائیوں سے نوجوانوں کی بے روزگاری کے عالمی ریکارڈ کا حامل ہے۔ امید سے محروم یہ نوجوان ہی خطے کی بغاوتوں کی اصل قوت محرکہ ہیں۔

ژاں باتو:اگر وہ عوامل اب بھی موجود ہیں جنہوں نے عوامی بغاوتوں کے اس سلسلے کو جنم دیا تھا، تو پھر بیشتر ممالک میں موجودہ سماجی تحرک میں کمی کی کیا وجہ ہے؟ کیا یہ ریاستی جبر کے طویل المدتی اثرات ہیں؟ یا ان طبقات کی تھکن جو ان جدوجہدوں کے اگلے مورچے پر تھے؟ یا پھر ایسی سیاسی قیادت کی عدم موجودگی جو مافیائی طرز کی نیولبرل سرمایہ داری اور/یا رجعتی اسلام ازم سے قطع تعلق کی کوئی سنجیدہ امید فراہم کرے؟

جلبیر اشقر:سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسی منظم سیاسی قوت موجود نہیں جو نوجوانوں کی انقلابی امنگوں کی نمائندگی کرے،اور وہ بھی اس طرح کہ وہ سیاسی طور پر اصلاح پسند یا سماجی طور پر رجعتی اپوزیشنوں سے آزاد ہو۔ انہی اپوزیشن قوتوں نے بڑی حد تک عوام کی انقلابی توانائی کو اپنی طرف موڑنے میں کامیابی پائی، جس کے نتیجے میں ایک مثلثی صورت حال پیدا ہوگئی کہ ایک طرف انقلابی قطب، اور دوسری طرف دو ردانقلابی قطب ہیں۔

اس کمی کو سب سے زیادہ کسی حد تک پورا کیا گیا تو وہ سوڈانی انقلاب تھا،جس کی اصل قیادت محلوں میں سرگرم ریڈیکل نوجوانوں کی کمیٹیاں تھیں، یعنی رزسٹنس کمیٹیاں۔ یہ ایک غیرمرکزی ڈھانچہ تھا، لیکن جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم آہنگی اور عملی یکجہتی قائم رکھنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ جس چیز کی کمی رہی، وہ ایک ایسی سیاسی تنظیم تھی جو بغاوت سے پہلے فوج کے اندر ایک خفیہ نیٹ ورک تعمیر کرتی،یا کم از کم انقلاب کے آغاز کے بعد اس نیٹ ورک کی تعمیر کی کوشش کرتی۔ صرف اسی صورت میں انقلاب کو ان رجعتی فوجی افسروں کی آپسی پاور اسٹرگل سے دم گھٹ کر مرنے سے بچایا جا سکتا تھا۔

یہی کمی مراکش میں بھی سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ وہاں نوجوانوں کی تحریک،جسے جین زی 212کہا جاتا ہے،سوڈانی رزسٹنس کمیٹیوں کے مقابلے میں بہت ہی کم منظم ہے، اور انہیں درپیش بحرانوں کے مقابلے کے لیے کسی ٹھوس سیاسی بیانئے کی کمی تو اور بھی زیادہ شدید ہے۔ ریاستی جبر بذات خود حتمی وجہ نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ جبر تو اس خطے میں ہمیشہ سے ایک ناگزیر رکاوٹ ہے جس پر قابو پانا ہی ہوتا ہے، اور اس کی شدت بھی سب پر واضح ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس جبر پر قابو پانے کے لیے کس طرح منظم ہوا جائے؟اور یہی وہ مقام ہے جہاں تنظیم سازی کا عنصر سب سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

ژاں باتو:اسرائیل کی جانب سے غزہ میں، یا متحدہ عرب امارات کی جانب سے سوڈان میں کی جانے والی ’’نیکرو پالیٹکس‘‘ (موت کی سیاست) نے فلسطینی اور سوڈانی عوام کے مزاحمت کے حوصلے پر کس حد تک کاری ضرب لگائی ہے؟

جلبیر اشقر: ان دونوں صورت حالوں کا آپس میں موازنہ کرنا مشکل ہے۔ غزہ کی آبادی کے خلاف اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی پر مبنی جنگ پورے فلسطینی عوام کے خلاف ایک جارحانہ کارروائی ہے۔ اس کے برعکس متحدہ عرب امارات سوڈان میں براہ راست مداخلت نہیں کرتا، بلکہ وہ وہاں جاری خانہ جنگی میں موجود دو فوجی دھڑوں میں سے ایک،ریپڈ سپورٹ فورسز،کی حمایت کرتا ہے۔اس کی جڑیں ان ہی نیم فوجی جتھوں تک جاتی ہیں جنہوں نے تقریباً 20 برس پہلے دارفور میں نسل کشی کی تھی۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، سوڈان میں بھڑکنے والی اس جنگ نے 2019 سے جاری انقلابی عمل کا دم گھونٹ دیا۔ تاہم اس کے علاقائی اثرات محدود ہیں۔ اس کے برعکس غزہ میں صیہونی ریاست کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کی جنگ نے پورے خطے پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس نے عرب بہارکے بعد سے جمع شدہ شکستوں کو مزید سنگین بنا دیا ہے، اور خطے کی اقوام میں بے بسی، غصے اور شدید جھنجھلاہٹ کے احساسات کو بڑھایا ہے۔ میرا خیال ہے کہ بالآخر یہی جھنجھلاہٹ غالب آئے گی، کیونکہ قومی سطح پر سماجی و معاشی اور سیاسی محرومیوں کا امتزاج، اور علاقائی سطح پر سیاسی و جذباتی صدمات، ایک دھماکہ خیز مجموعہ تشکیل دے چکے ہیں۔

ژاں باتو:کیا خطے میں ابھرنے والے مشرق وسطیٰ کے ذیلی سامراج ،جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل،جو فوجی اور مالی اعتبار سے زیادہ طاقتور اور زیادہ جارح بنتے جا رہے ہیں، اور جو اپنے مفادات کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، امریکہ کے لیے بڑھتے ہوئے مسائل کا باعث نہیں بن رہے؟ میں خاص طور پر اسرائیل کی اپنے کئی پڑوسی ممالک کے خلاف جنگجویانہ جارحیت، قطر پر اس کی بمباری، اور سوڈان میں امارات اورسعودیہ کی رقابت کا ذکر کر رہا ہوں۔

جلبیر اشقر:سامراج کے ماتحت ریاستوں کے درمیان رقابتیں دراصل سامراج کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں، کیونکہ اس سے ہر ماتحت ریاست کا اپنے آقا،یعنی اس معاملے میں امریکہ،پر انحصار مزید بڑھ جاتا ہے۔ واشنگٹن ایسی رقابتوں میں فریق بننے سے گریز کرتا ہے اور اس کی بجائے مصالحت کار اور اعتدال پسند کا کردار ادا کرتا ہے، تاکہ اپنے تمام گاہکوں کو ضرورت پڑنے پر پھر سے اکٹھا کر سکے۔

مثال کے طور پر پہلی ٹرمپ انتظامیہ (2017-2020) نے امارات اور سعودیہ کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کو ہری جھنڈی دی تھی، اگرچہ اس دوران امریکہ نے قطر کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے،جو اس خطے میں سب سے بڑے امریکی اڈے کا میزبان ہے۔ یہ بائیکاٹ ٹرمپ کے پہلے دور کے اختتام پر ختم ہوگیا۔ اپنے دوسرے دور حکومت میں ٹرمپ نے قطریوں کے ساتھ اپنی پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی کی،کیونکہ قطری عملاً انہیں خرید چکے تھے، اور یہ کام وہ ہمیشہ سے بہت مہارت سے کرتے آئے ہیں۔

بنیامین نیتن یاہو کا معاملہ مختلف ہے۔ ٹرمپ اور ان کے درمیان کچھ معمولی نوعیت کے اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر دونوں انہیں قابو میں رکھتے ہیں۔ نیتن یاہو ٹرمپ کو راضی رکھنے کے ماہر بن چکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کب خاموش رہنا ہے، جیسا کہ نام نہاد ’’امن منصوبے‘‘ کے معاملے میں کیا گیا، جس کے متعلق نیتن یاہو پورا یقین رکھتے ہیں کہ وہ کبھی آگے نہیں بڑھے گا اور جلد یا بدیر خود ہی رک جائے گا۔ رہی بات اسرائیل کی ’’جنگجویانہ جنونیت‘‘ کی،تو اسے واشنگٹن کی مکمل منظوری حاصل تھی، بلکہ امریکہ نے اس میں براہ راست حصہ لیا، خاص طور پر ٹرمپ کے دور میں، جب انہوں نے اپنے مسلح دستوں کو ایران پر بمباری میں حصہ لینے کا حکم دیا۔ قطر کے ساتھ ٹرمپ کے ذاتی اور خاندانی کاروباری تعلقات کے باعث وہ قطر میں حماس کی قیادت کے قتل کی اسرائیلی کوشش سے خود کو الگ کرنے پر مجبورہوئے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی نیم دلی سے کیا، اور فوراً ہی دونوں اتحادیوں میں صلح صفائی کروانے پر لگ گئے۔

خلیجی تیل کی بادشاہتیں، اردن اور مراکش کی بادشاہتیں، مصر اور اسرائیل،یہ سب ایک علاقائی نظام کا حصے ہیں جو امریکہ سے گہرا جڑا ہوا ہے۔ یہ تمام ریاستیں کسی نہ کسی طرح واشنگٹن پر منحصر ہیں، اور خطے میں ان کے کردار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں،متصادم نہیں ہوتے۔ یہ تکمیلی کردار غزہ میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کے دوران نہایت برہنہ انداز میں سامنے آگیا۔

(بشکریہ: جیکوبن۔ ترجمہ: حارث قدیر)

Gilbert Achcar

جلبیر اشقر اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز لندن کے پروفیسر ہیں۔ وہ مذہب کے سیاسی کردار اور بنیاد پرستی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں