لاہور(جدوجہد رپورٹ)امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی مسلسل اور غیر مشروط حمایت نہ صرف عالمی سطح پر تنقید کا باعث بن رہی ہے، بلکہ اس کے بھاری مالی اخراجات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد اربوں ڈالر تک جا پہنچی ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان 10 سالہ دفاعی معاہدے کے تحت واشنگٹن ہر سال تقریباً 3.8 ارب ڈالر اسرائیل کو امریکی ہتھیار خریدنے کے لیے فراہم کرتا ہے۔ یہ معاہدہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں طے پایا تھا، تاہم موجودہ دور میں اس امداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مارچ میں امریکی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ اسرائیل کو 4 ارب ڈالر کی ہنگامی فوجی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے دور میں اب تک 12 ارب ڈالر سے زائد کے فوجی معاہدوں کی منظوری دے چکی ہے۔ اس کے علاوہ کاسٹ آف وار پراجیکٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک امریکہ اسرائیل کو 21 ارب ڈالر سے زیادہ کی مالی اور فوجی مدد دے چکا ہے۔
یہ اخراجات صرف مالی امداد تک محدود نہیں۔ امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کیا، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر پابندیاں عائد کیں، اور اسرائیلی قیادت کو عالمی قانون کے تحت جواب دہ بنانے کی کوششوں کو روکنے کے لیے سفارتی دباؤ استعمال کیا۔
ماہرین کے مطابق، ایسے وقت میں جب امریکہ خود مہنگائی، صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ممکنہ حکومتی شٹ ڈاؤن جیسے مسائل سے دوچار ہے، اسرائیل کی حمایت پر اٹھنے والے یہ اخراجات امریکی عوام اور سیاست میں بڑھتی ہوئی بے چینی کا سبب بن رہے ہیں۔