روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

فرانس بند تحریک: نئے وزیر اعظم کے پہلے دن ہی ملک گیر مظاہرے

فرانس بند تحریک: نئے وزیر اعظم کے پہلے دن ہی ملک گیر مظاہرے

لاہور(جدوجہد رپورٹ)فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور’بلاک ایوری تھنگ‘یعنی’سب کچھ بند کرو‘کے نعرے کے تحت حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ یہ مظاہرے صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کے لیے ایک نیا امتحان ثابت ہوئے اور نئے وزیراعظم سبیسٹین لیکورنو کے پہلے دن کو ہی بحران میں بدل ڈالا۔

یہ تحریک بنیادی طور پر حکومت کے 2026 کے مجوزہ بجٹ منصوبے کے خلاف ہے جس میں اربوں یورو کی کٹوتیاں، عوامی خدمات اور صحت کے شعبے میں کمی، ریٹائرمنٹ اصلاحات اور قومی تعطیلات میں کمی شامل ہے۔ تحریک کی شروعات چند ہفتے قبل سوشل میڈیا پر ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افراد اس میں شامل ہوگئے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ کسی باضابطہ سیاسی جماعت یا یونین کے زیر انتظام نہیں بلکہ ایک جمہوری اور خودبخود منظم ہونے والی تحریک ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق بائیں بازو کی جماعتیں، خصوصاً’لا فرانس انسومیز‘اس کی خاموش حمایت کر رہی ہیں، تاہم مرکزی قیادت کا کوئی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔

مظاہروں کے دوران فرانس بھر میں فضا دھوئیں، آنسو گیس اور جلتے ہوئے بیریکیڈز سے اٹی رہی۔ رینز شہر میں ایک بس کو آگ لگا دی گئی، جبکہ جنوب مغربی علاقوں میں بجلی کی تاریں کاٹنے سے ٹرین سروس معطل ہوگئی اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ وزارت داخلہ نے ملک بھر میں تقریباً دو لاکھ مظاہرین کی موجودگی رپورٹ کی، جبکہ سی جی ٹی یونین کے مطابق یہ تعداد ڈھائی لاکھ کے قریب تھی۔ حکومت کے مطابق 800 سے زائد احتجاجی کارروائیاں ریکارڈ ہوئیں، 400 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ وہ ملک کو بند کرنے کی کوشش ناکام بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیکن اعداد و شمار ان کے دعوے کے برعکس صورتحال دکھاتے ہیں۔

یہ مظاہرے 2018 کی پیلی جیکٹ تحریک جتنے بڑے نہیں تھے مگر ان کا پیغام واضح تھا کہ میکرون کی صدارت کے دوران عوامی ناراضگی کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ 2022 میں دوبارہ انتخاب کے بعد سے وہ پنشن اصلاحات پر شدید مخالفت کا سامنا کر چکے ہیں اور 2023 میں ایک نوجوان کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک گیر فسادات نے بھی ان کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اب ایک بار پھر فرانس کی سڑکیں حکومت کے خلاف عوامی غصے کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

ان مظاہروں نے نئے وزیراعظم سبیسٹین لیکورنو کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔ وہ سابق وزیر دفاع اور میکرون کے قریبی اتحادی ہیں، لیکن ان کی حکومت کا آغاز ہی بحران سے ہوا ہے۔ سابق وزیراعظم فرانسوا بیرو کی حکومت محض چند دن قبل پارلیمانی اعتماد کے ووٹ میں شکست کھا گئی تھی، جس کے بعد لیکورنو کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ دیا گیا۔ ان کے لیے سب سے بڑا امتحان 2026 کے بجٹ کو پارلیمنٹ سے منظور کرانا ہے جس کی آخری تاریخ 7 اکتوبر ہے، بصورت دیگر سیاسی بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔ لیکورنو نے کہا ہے کہ وہ پالیسی اور حکمرانی کے انداز میں ’گہری تبدیلی‘لائیں گے اور مخالفین کے ساتھ زیادہ تخلیقی اور سنجیدہ مذاکرات کریں گے، لیکن بائیں بازو نے پہلے ہی ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا اشارہ دے دیا ہے۔

یہ سب کچھ اس وقت ہورہا ہے جب فرانس کا مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا 5.8 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ سخت اقدامات سے اسے کم کرے۔ لیکن عوامی ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ عام لوگ مزید بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ احتجاجی نعرے اور عوام کی سڑکوں پر موجودگی اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ صرف معاشی کٹوتیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کا احساس ہے کہ اقتدار چند ہاتھوں میں مرکوز ہے اور ان کی آواز کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں