روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

فروری انقلاب کا متناقضہ

فروری انقلاب کا متناقضہ

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف‘انقلاب روس کی تاریخ’ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ‘جدوجہد’ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

سرکشی فتح مند رہی۔ لیکن بادشاہت سے چھین کر اس نے طاقت کس کے حوالے کی؟ یہاں ہم فروری انقلاب کے مرکزی مسئلے پر پہنچتے ہیں: اقتدار کیسے اور کیوں لبرل بورژوازی کے ہاتھ لگ گیا؟ دوما کے حلقوں اور بورژوا ‘‘سوسائٹی’’ میں 23 فروری کو شروع ہونے والی ایجی ٹیشن کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ لبرل نمائندے اور حب الوطن صحافی پہلے کی طرح ہی ترکی کی بحری گزرگاہوں کی روس کے لئے اہمیت اور دور دراز کے محاذوں کی باتیں کرنے دیوان خانوں میں جمع ہو رہے تھے۔ دوما کو تحلیل کرنے کے حکم نامے پر دستخط بھی ہو چکے تھے،لیکن دوما کا ایک کمیشن ابھی تک خوراک کا مسئلہ شہری انتظامیہ کے حوالے کرنے کے سوال پر غور کر رہا تھا۔ محافظ فوج کی بٹالینوں کی سرکشی سے بارہ گھنٹے پہلے ‘سلاوی امداد باہمی کی سوسائٹی’ بڑے سکون سے اپنی سالانہ رپورٹ سن رہی تھی۔ دوما کا ایک رکن یاد کرتا ہے، ‘‘جب میں میٹنگ سے پیدل گھر آیا تو تب کہیں جا کر عام طور پر مصروف رہنے والی سڑکوں کی جلال بھری خاموشی اور خالی پن نے مجھے تشویش میں مبتلا کیا۔’’ یہ جلال بھرا خالی پن پرانے حکمران طبقات کو گھیرے میں لے رہا تھا اور اُن کے مستقبل کے وارثوں کے دلوں کو لرزا رہا تھا۔
تاہم 26 فروری تک تحریک کی سنجیدگی حکومت اور لبرلوں، دونوں کے سامنے واضح ہو چکی تھی۔ اس دن زار کے وزرا اور دوما کے اراکین کے درمیان مفاہمت پر مذاکرات ہو رہے تھے، یہ ایسے مذاکرات تھے جن پر سے بعد میں لبرلوں نے بھی پردہ نہیں اٹھایا۔ اپنی گواہی میں پروٹوپوپوف کہتا ہے کہ دوما اتحاد [۱] کے رہنما پہلے کی طرح مطالبہ کر رہے تھے کہ نئے وزرا ان لوگوں میں سے بنائے جائیں جنہیں کچھ سماجی اعتماد حاصل ہو: ‘‘یہ اقدام شاید عوام کو ٹھنڈا کر سکے گا۔’’ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ 26 تاریخ کو انقلاب کچھ دیر کے لئے خلل کا شکار ہو ا ،جس کی وجہ سے حکومت خود کو مضبوط محسوس کرنے لگی۔ جب روڈزیانکو نے گولائٹسن کو استعفیٰ دینے پر مائل کرنے کی کوشش کی تو جواب میں وزیر اعظم گولائٹسن نے اپنے میز پر پڑے لفافے کی طرف اشارہ کیا، جس میں دوما کو تحلیل کرنے کا مکمل حکم نامہ زار کے دستخط کے ساتھ موجود تھا، صرف تاریخ درج کرنا باقی تھی۔ گولائٹسن نے تاریخ بھی درج کر دی۔ انقلاب کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے حالات میں حکومت ایسے اقدام کا فیصلہ کیسے کر سکتی تھی؟ اس سوال پر حکمران افسرشاہی کے لوگ بہت عرصہ قبل ایک ٹھوس نتیجے پر پہنچے تھے: ‘‘دوما کا ترقی پسند اتحاد ہمارے ساتھ ہو نہ ہو، مزدورو ں کی تحریک کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم تحریک سے دوسرے طریقوں سے نبٹ سکتے ہیں اور اب تک وزارت داخلہ اس سے نبٹ بھی رہی ہے۔’’ گوریمائیکن نے اگست 1915ء میں یہی کہا تھا۔ دوسری طرف افسرشاہی کا خیال تھا کہ دوما کو تحلیل کر دینے پر بھی یہ کوئی بے باک قدم نہیں اٹھائے گی۔ ایک بار پھر اگست 1915ء میں غیر مطمئن دوما کو تحلیل کرنے کے سوال پر وزیر داخلہ شہرادہ شیرباٹوف نے کہا تھا: ‘‘دوما شاید ہی حکم عدولی پر اترے۔ آخر کار اس کی اکثریت بزدلوں پر مبنی ہے جو اپنی چمڑی بچانے کے لیے کانپ رہے ہیں ۔’’ شہزادے نے اگرچہ زیادہ مہذب زبان میں بات نہیں کی، لیکن طویل مدت میں وہ بالکل درست ثابت ہوا۔ لبرل اپوزیشن کے ساتھ جدوجہد میں افسر شاہی خود کو بڑا مستحکم محسوس کر رہی تھی۔
27 تاریخ کی صبح بتدریج خراب ہوتے ہوئے حالات سے خوفزدہ ہو کر دوما کے اراکین باقاعدہ اجلاس میں اکٹھے ہوئے۔ اکثریت کو اب جا کر پتا چلا کہ دوما کو تحلیل کر دیا گیا تھا۔ خبر اس لئے بھی زیادہ حیران کن لگ رہی تھی کہ ایک دن پہلے تک وزرا سے امن مذاکرات کئے جا رہے تھے۔ روڈزیانکو بڑے فخر سے لکھتا ہے‘‘ اس کے باوجود، اب بھی گھمبیر صورتحال سے نکلنے کا راستہ مل جانے کی امید میں دوما نے قانون کی عملداری کو تسلیم کر لیا اور کوئی ایسی قرار داد منظور نہ کی کہ یہ منتشر نہیں ہو گی یا غیر قانونی طور پر اپنے اجلاس جاری رکھے گی۔’’ دوما کے اراکین ایک نجی اجلاس میں اکٹھے ہوئے اور ایک دوسرے کے خصی پن کا اعتراف کیا۔ بعد ازاں اعتدال پسند لبرل شیڈلووسکی خباثت بھرے مزاح کے ساتھ ایک انتہائی بائیں بازو کے کیڈٹ اور مستقبل میں کیرنسکی کے رفیق نیکراسوف کی اس تجویز کو یاد کرتا ہے، ‘‘ساری طاقت کسی مقبول جرنیل کو دے کر فوجی آمریت قائم کر دی جائے۔’’ اُس وقت نجات کی عملی کوشش کا بیڑا ترقی پسند اتحاد کے رہنماؤں نے اٹھایا ، جو دوما کے اِس نجی اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ اعلیٰ نواب میخائل کو پیٹروگراڈ بلا کر انہوں نے تجویز پیش کی کہ وہ آمریت قائم کرے، حکومت کے اہلکاروں کو استعفیٰ دینے پر ‘‘آمادہ’’ کرے اور ذاتی تار کے ذریعے زار سے مطالبہ کرے کہ وہ ذمہ دار حکومت کی ‘‘منظوری ’’ دے۔ جس وقت پہلی محافظ رجمنٹوں کی شورش شروع ہو رہی تھی، لبرل بورژوازی آخری کوشش کر رہی تھی کہ سرکشی کو شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے کسی آمر کے ذریعے کچلا جائے اور ساتھ ہی انقلاب کی قیمت پر بادشاہت کے ساتھ معاہدہ کر لیا جائے۔ روڈزیانکو شکایت کرتا ہے، ‘‘اعلیٰ نواب میخائل کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے یہ مناسب موقع ہاتھ سے نکل گیا۔’’
کتنی آسانی سے ریڈیکل دانشور اپنی مرضی کی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں اس کا ثبوت کسی پارٹی سے غیر وابستہ سوشلسٹ سوخانوف ہے، جو اُس وقت ٹاؤرائڈ محل میں کچھ سیاسی کردار ادا کرنے لگا تھا۔ اپنی یادداشوں میں وہ کہتا ہے، ‘‘اُنہوں نے مجھے اس ناقابل فراموش دن کی صبح کی سب سے بنیادی سیاسی خبر سنائی۔ ریاستی دوما کو تحلیل کرنے کا حکم جاری ہو چکا تھا اور دوما نے جواب میں منتشر ہونے سے انکار کر کے ایک عبوری کمیٹی منتخب کر دی تھی۔’’ یہ اس آدمی نے لکھا ہے جو شاید ہی کبھی ٹاؤرائڈ محل سے باہر نکلا تھا اور وہاں مسلسل اپنے دوما کے دوستوں کا سر مسلسل کھا رہا تھا۔ روڈزیانکو کی طرح اپنی انقلاب کی تاریخ میں ملیوکوف بھی واضح طور پر لکھتا ہے: ‘‘گرما گرم تقاریر کے بعد پیٹروگراڈ نہ چھوڑنے کی قرار داد منظور کی گئی، لیکن ایسی کوئی قرارداد منظور نہیں ہوئی کہ ایک ادارے کے طور پر ریاستی دوما ‘منتشر نہیں ہو گی’، جیسا کہ کہانی مشہور ہو چکی ہے۔’’ ‘‘منتشر نہ ہونے’’ کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ تاخیر سے ہی سہی لیکن کچھ کرنے کا بیڑا اٹھا رہے تھے۔ ‘‘پیٹروگراڈ نہ چھوڑنے’’ کا مطلب یہ تھا کہ وہ جان چھڑا رہے تھے اور انتظار میں تھے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ویسے سوخانوف کا بھولا پن ذرا قابل معافی ہے۔ یہ افواہ کہ دوما نے زار کا حکم نہ ماننے کی انقلابی قرارداد منظور کر لی تھی، دوما کے صحافیوں کے معلوماتی خبرنامے کی زینت بن چکی تھی، جو عام ہڑتال کی وجہ سے اُس وقت چھپنے والا واحد اخبار تھا ۔ اُس دن چونکہ سرکشی فتح یاب ہو چکی تھی لہٰذا دوما کے اراکین کو بھی اِس غلطی کو ٹھیک کرنے کی کوئی جلدی نہیں تھی، وہ اپنے ‘‘بائیں بازو’’ کے دوستوں کی خوش فہمی کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ درحقیقت اُنہوں نے ملک سے باہر بھاگ جانے تک سچائی بیان نہیں کی۔ یہ واقعہ ثانوی معلوم ہوتا ہے لیکن معنی خیز ہے۔ 27 فروری کے دن دوما کا انقلابی کردار بالکل من گھڑت کہانی ہے ، جسے انقلاب سے مسرور اور خوفزدہ ریڈیکل دانشوروں کی سیاسی خوش فہمی نے جنم دیا تھا۔ اِن دانشوروں کو عوام کی صلاحیت پر اعتبار نہیں تھا اور وہ جلد از جلد بورژوازی کی طرف جھکاؤ اختیار کرنے کو بے قرار تھے۔
اکثریت سے تعلق رکھنے والے دوما کے اراکین کی یادداشتوں میں خوش قسمتی سے ایک واقعہ محفوظ ہو گیا ہے، جو بتاتا ہے کہ انقلاب کی طرف دوما کا رویہ کیا تھا۔ دائیں بازو کے کیڈٹوں میں شامل شہزادہ مانسائریف کے مطابق 27 تاریخ کی صبح بڑی تعداد میں اکٹھے ہونے والے دوما کے اراکین میں صدارتی انتظامیہ (Presidium) کا کوئی رکن نہیں تھا، پارٹیوں کے کوئی رہنما نہیں تھے، ترقی پسند اتحاد کی کوئی قیادت نہیں تھی: اُنہیں پہلے سے دوما کے تحلیل ہو جانے اور سرکشی کا علم تھا اور انہوں نے اپنی شکل نہ دکھانے کی حتی الامکان کوشش کی۔ علاوہ ازیں عین اسی وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ میخائل سے آمریت کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔مانسائریف کے مطابق ‘‘ایک عمومی مایوسی اور گھبراہٹ دوما پر حاوی تھی ۔ خوشگوار گفتگو بند ہوگئی، اس کی جگہ آہیں اور ‘یہ آخر ہو ہی گیا’ جیسے بے ساختہ جملے سنائی دینے لگے، یا بے جھجک انداز میں زندگی کو لاحق خطرے کا اظہار کیا جانے لگا۔’’ یہ سب کچھ بڑا اعتدال پسند رکن بتا رہا ہے، جس کی آہیں سب سے بلند تھیں۔ دوپہر دو بجے جب رہنماؤں کو مجبوراً دوما جانا پڑا، صدارتی انتظامیہ کا سیکرٹری خوشگوار مگر غیر مصدقہ خبر لایا: ‘‘انتشار جلد ہی کچل دیا جائے گا، اقدامات کر لئے گئے ہیں۔’’ ممکن ہے کہ ‘‘اقدامات’’ کا مطلب ایک آمریت کے لئے مذاکرات تھے، لیکن دوما غمگین تھی اور ترقی پسند الحاق کے رہنماؤں سے کوئی فیصلہ کن بات سننا چاہ رہی تھی۔ ملیوکوف نے اعلان کیا، ‘‘موجودہ وقت میں ہم کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے کیونکہ انتشار کی وسعت کا ہمیں پتا نہیں ہے؛ اسی طرح یہ بھی پتا نہیں ہے کہ مقامی فوجی دستوں، مزدوروں اور سماجی تنظیموں کی اکثریت کس کا ساتھ دے گی۔ اس بارے میں درست معلومات اکٹھی کرنا ضروری ہے ، تب ہی ہم صورتحال کو جانچ سکتے ہیں۔ فی الوقت یہ قبل از وقت ہو گا۔’’ 27 فروری کی دوپہر دو بجے بھی لبرلزم کے لئے یہ ‘‘قبل از وقت’’ تھا! ‘‘معلومات اکٹھی کرنے’’ کا مطلب تھا کہ اپنی فکر کرو اور جدوجہد کا نتیجہ نکلنے کا انتظار کرو۔لیکن ملیوکوف نے ابھی اپنی تقریر، جو اُس نے بے نتیجہ ختم کرنے کے لئے ہی شروع کی تھی، ابھی ختم بھی نہیں کی تھی کہ اتنے میں کیرنسکی بڑے جوش سے دوڑتا ہو اہال میں آیا: اُس نے اعلان کیا کہ عوام اور سپاہیوں کا بہت بڑا ہجوم ٹاؤرائڈ محل [۲] کی طرف آ رہا ہے اور اُن کا ارادہ ہے کہ دوما سے مطالبہ کریں کہ یہ اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لے۔ یعنی دوما کے اِس ریڈیکل رُکن کو پہلے ہی پتا تھا کہ لوگوں کا بہت بڑا ہجوم کیا مطالبہ کرنے والا تھا۔ درحقیقت کیرنسکی نے خود سے ہی سب سے پہلے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اقتدار دوما کے ہاتھ آ جائے ، ایسی دوما جو اندر ہی اندر اب بھی امید کر رہی تھی کہ سرکشی کچلی جائے۔ کیرنسکی کے اعلان کو ‘‘اضطراب اور دہشت بھری نظروں’’ سے سنا گیا۔ وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ دوما کا ایک خوفزدہ ملازم بھاگتا ہوا آیا اور اُسے ٹوکتے ہوئے بولا: سپاہیوں کا آگے والا دستہ محل پہنچ چکا ہے ، سنتریوں کے ایک دستے نے اسے اندر جانے سے روکا، لگتا ہے کہ سنتریوں کا افسر بری طرح زخمی ہو چکا ہے۔ ایک منٹ بعد پتا چلا کہ سپاہی محل کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ اس وقت سارے دوما والوں کی جان نکلی ہوئی تھی، لیکن بعد میں تقاریر اور مضامین میں دعویٰ کیا گیا کہ سپاہی دوما کو مبارکباد دینے اور اس کے ساتھ وفاداری کا حلف لینے آئے تھے۔ پانی ان کی گردن تک پہنچ چکا تھا۔ یہ رہنما آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے کہ ہمیں سانس لینے کی جگہ حاصل کرنی چاہئے۔ روڈزیانکو نے جلدی سے کسی اور کی دی ہوئی ایک تجویز پیش کی کہ وہ عبوری کمیٹی تشکیل دیں۔ اس کی تائید میں چیخ و پکار ہونے لگی۔ لیکن وہ سب جلد از جلد وہاں سے بھاگ جانا چاہتے تھے۔ رائے شماری کا وقت نہیں تھا۔ صدر، جو دوسروں سے کم خوفزدہ نہیں تھا، نے تجویز پیش کی کہ کمیٹی کی تشکیل کی ذمہ داری ‘بزرگوں کی کونسل’ کے سپرد کر دی جائے۔ جو کوئی ہال میں بچ گئے تھے اُنہوں نے ایک بار پھر تائید میں شور مچایا۔ اکثریت پہلے ہی غائب ہو چکی تھی۔ سرکشی کی فتح پر زار کی جانب سے تحلیل کردہ دوما کا پہلا ردِ عمل کچھ ایسا تھا۔
عین اس وقت اسی عمارت کے ایک کم رنگین حصے میں انقلاب کا ایک اور ادارہ تخلیق ہو رہا تھا۔ انقلابی رہنماؤں کو اسے ایجاد نہیں کرنا پڑا؛ 1905ء کی ‘سوویتوں’کا تجربہ ہمیشہ کے لئے مزدوروں کے شعور میں سرایت کر چکا تھا۔ تحریک کی ہر اٹھان پر، حتیٰ کہ جنگ کے دوران بھی سوویتوں کا خیال خود بخود پھر سے پیدا ہو جاتا تھا۔ اِس تنظیم کی شکل بغیر کسی ابہام کے بالکل واضح تھی، اگرچہ بالشویکوں اور منشویکوں کی سوویتوں کے کردار کی پرکھ اور اُن کی طرف رویہ ایک دوسرے سے مختلف تھا، سوشل انقلابیوں کی اس سلسلے میں کوئی مستقل پرکھ نہیں تھی۔ جیل سے رہا ہونے والے منشویکوں، جو فوجی صنعتی کمیٹیوں کے اراکین بھی تھے، نے ٹاؤرائڈ محل میں ٹریڈ یونینوں اور کو آپریٹو (Co-Operative) تحریکوں کے رہنماؤں، دائیں بازو والوں اور دوما کے منشویک اراکین شکائدز اور سکوبیلیف کے ساتھ مل کر فی الفور ‘‘مزدور نمائندگان کی سوویت کی عبوری مجلس عاملہ’’ تشکیل دے دی، جو اس دن کے دوران زیادہ تر اُن سابق انقلابیوں سے بھر گئی جو عوام سے کٹ چکے تھے، لیکن اپنے ‘‘نام’’ برقرار رکھے ہوئے تھے۔ مجلس عاملہ، جس کے عملے میں بالشویک بھی شامل تھے، نے مزدوروں سے کہا کہ فوراً اپنے نمائندے منتخب کریں۔ پہلا اجلاس اسی شام ٹاؤرائڈ محل میں بلایا گیا۔ یہ نو بجے منعقد ہوا اور تمام سوشلسٹ پارٹیوں کے باضابطہ نمائندے شامل کر کے مجلس عاملہ کے عملے کی توثیق کر دی۔ لیکن دارالحکومت کے فتح مند پرولتاریہ کے نمائندوں کے اِس پہلے اجلاس کی اہمیت یہ نہیں ہے۔ بغاوت کرنے والی رجمنٹوں کے مندوبین نے اجلاس کے دوران مبارک بادی تقاریر کیں۔ اُن میں سرکشی سے خستہ حال بالکل سفید ریش سپاہی بھی شامل تھے، جو ابھی تک بمشکل ہی اپنی زبان کو قابو کر پا رہے تھے۔ لیکن یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے وہ بات کہی جو کوئی دوسرا مقرر نہ کہہ سکا تھا۔ یہ انقلاب کے انتہائی رقت انگیز مناظر میں سے ایک تھا۔ انقلاب جو اپنی طاقت کو اب محسوس کر رہا ہے، اُن بے شمار عوام کو محسوس کر رہا ہے جنہیں اِس نے بیدار کر دیا تھا، غیر معمولی فرائض کو، کامیابی کے فخر کو، آج سے زیادہ خوبصورت آنے والے کل کے خیال کی مسرت سے بیٹھتے دل کو۔ ابھی تک انقلاب کا کوئی تہوار نہیں ہے، سڑکیں دھویں سے بھری ہیں، عوام نے ابھی نئے گیت نہیں سیکھے ہیں۔ اجلاس کسی سیلابی دریا کی طرح کسی ضبط ، کسی حد کے بغیر جاری ہے۔ سوویت کی سانس اپنے ہی ولولے سے مشکل ہو رہی ہے۔ انقلاب بہت طاقتور ہے، لیکن ابھی تک معصوم ہے۔ یہ ایک بچے کی معصو میت ہے۔
پہلے اجلاس میں فوج کو مزدوروں کے ساتھ ایک ہی ‘مزدوروں اور سپاہیوں کے نمائندگان کی سوویت’میں یکجا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ قرارداد سب سے پہلے کس نے پیش کی؟ شاید کئی لوگوں نے، بلکہ یہ تمام اطراف سے مزدوروں اور سپاہیوں کی اُس بھائی بندی کی بازگشت بن کر سامنے آئی جس نے اس دن انقلاب کے مقدر کا فیصلہ کیا تھا۔ اپنی تشکیل کے وقت سے ہی سوویت نے اپنی مجلس عاملہ کی شکل میں ایک خودمختیار بالا ادارے کے طور پر کام شروع کر دیا۔اِس نے خوراک کا ایک عارضی کمیشن منتخب کیا اور اُسے باغی سپاہیوں اور بالعموم سارے گیریزن کا اختیار سونپ دیا۔ اِس نے اپنے متوازی ایک عبوری انقلابی صدر دفتر منظم کیا ( اُن دنوں ہر چیز عبوری کہلاتی تھی) جس کے بارے میں ہم اوپر بات کر چکے ہیں۔ مالیاتی وسائل پرانے اقتدارکے حکام سے چھیننے کے لئے سوویت نے سٹیٹ بینک، خرانے، سکہ سازی اور نوٹ چھاپنے کے دفتر پر انقلابی دستے کے ذریعے قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سوویت کے کام اور فرائض عوام کے دباؤ کے تحت متواتر بڑھتے چلے گئے۔ انقلاب کو یہاں اپنا مسلمہ مرکز مل گیا تھا۔ مزدور، سپاہی اور جلد ہی کسان بھی اب صرف سوویت کی طرف دیکھتے تھے۔ اُن کی نظروں میں سوویت تمام امیدوں اور اختیار کا مرکز اور انقلاب کی مجسم شکل بن چکی تھی۔ لیکن ملکیتی طبقات کے نمائندے بھی بغض و عناد کے باوجود تنازعات کے حل کے لئے سوویت کا تحفظ اور مشاورت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
تاہم فتح کے ان ابتدائی دنوں میں بھی، جب نئے انقلاب کا اقتدار حیرت انگیز رفتار اور ناقابل تسخیر مضبوطی سے تشکیل پا رہا تھا، سوویت کی قیادت کرنے والے سوشلسٹ تشویش کے ساتھ اِدھر اُدھر حقیقی ‘‘مالک’’ کی تلاش کر رہے تھے۔ اُن کے خیال میں یہ طے شدہ تھا کہ اقتدار بورژوازی کو منتقل کیا جانا چاہئے۔ یہاں نئے اقتدار کی کلیدی گِرہ لگتی ہے: اس کا ایک سرا مزدوروں اور سپاہیوں کی مجلس عاملہ کے ایوان میں، جبکہ دوسرا بورژوا پارٹیوں کے مرکزی صدر دفاتر میں جاتا ہے۔
بزرگوں کی کونسل نے سہ پہر تین بجے، جب دارالحکومت میں فتح یقینی بن چکی تھی، ایک ‘‘دوما کے اراکین کی عبوری کمیٹی’’ منتخب کی، جو شکائدز اور کیرنسکی کے اضافے کے ساتھ ترقی پسند اتحاد کی پارٹیوں پر مشتمل تھی۔ شکائدز نے انکار کر دیا جبکہ کیرنسکی آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ اس تقرری کا حقیقی مطلب یہ تھا کہ یہ ریاستی دوما کی سرکاری کمیٹی کا نہیں بلکہ دوما کے اراکین کے اجلاس کی نجی کمیٹی کا معاملہ تھا۔ ترقی پسند اتحاد کے رہنماآخر تک صرف ایک بات سوچتے رہے: کس طرح ذمہ داری سے بچا جائے اور اپنے ہاتھ خود ہی نہ باندھے جائیں۔ کمیٹی کے فرائض بڑے محتاط انداز سے گول مول کئے گئے: ‘‘نظم و نسق کی بحالی اور اداروں اور افراد کے ساتھ مذاکرات۔’’ ایک لفظ اس بارے نہیں تھاکہ یہ معززین کس قسم کا نظم و نسق بحال کرنا چاہتے ہیں، نہ ہی یہ کہ کن اداروں سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ابھی تک اپنے ہاتھ ریچھ [۳] کی کچھار میں نہیں ڈال رہے تھے: کیا پتا کہ وہ ابھی مرا نہ ہو بلکہ بری طرح زخمی ہی ہوا ہو۔جیسا کہ ملیوکوف تسلیم کرتا ہے کہ 27 تاریخ کی رات 11 بجے کہیں جا کر ‘‘جب انقلابی تحریک کی ساری وسعت واضح ہو گئی ، تب ہی عبوری کمیٹی نے کوئی قدم اٹھانے اور حکومت کے ہاتھ سے نکلنے والا اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کا فیصلہ کیا۔’’آہستہ آہستہ یہ نیا ادارہ دوما کے اراکین کی کمیٹی سے بدل کر خود دوما کی کمیٹی بن گیا تھا۔ اُن کے پاس ریاست کی قانونی جانشینی کو یقینی بنانے کا اِس جعل سازی سے بہتر کوئی طریقہ نہ تھا۔ لیکن ملیوکوف بنیادی بات کے بارے میں خاموش رہا: اسی دن کے دوران تخلیق پانے والی سوویت کی مجلس عاملہ کے رہنما پہلے ہی دوماکی اِس عبوری کمیٹی کے پاس آئے تھے اور اصرار کیا تھا کہ وہ اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لے۔ اس دوستانہ دباؤ کا اثر ہوا تھا۔ ملیوکوف نے بعد میں دوما کی کمیٹی کے فیصلے کے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے سرکشی کرنے والوں کے خلاف وفادار دستے بھیجے جانے کی توقع تھی اور ‘‘دارالحکومت کی سڑکوں پر حقیقی لڑائی کا خطرہ تھا۔’’ حقیقت میں حکومت کے پاس کوئی فوجی دستے نہیں بچے تھے، انقلاب برپا ہو چکا تھا۔ روڈزیانکو نے بعد ازاں لکھا کہ اگر وہ اقتدار میں آنے سے انکار کر دیتے تو ‘‘دوما گرفتار ہو جاتی، باغی سپاہی سب کو گولی سے اڑا دیتے اور اقتدار فوری طور پر بالشویکوں کے ہاتھ آ جاتا۔’’ظاہری سی بات ہے کہ یہ ایک بیہودہ مبالغہ آرائی ہے؛ لیکن یہ درست طور پر دوما کے تاثرات کی غمازی کرتی ہے، جو اپنے ہاتھوں میں اقتدار کی منتقلی کو سیاسی بلادکار گردان رہی تھی۔
ایسے تاثرات کی وجہ سے فیصلہ جلد نہیں ہو پایا۔ خاص طور پر روڈزیانکو مضطرب اور متذبذب تھا، دوسروں سے سوال پو چھ رہا تھا ‘‘اس کا کیا مطلب ہو گا؟ کیا یہ ایک بغاوت ہے یا پھر بغاوت نہیں ہے؟’’دوما کے شاہ پرست رکن شلگن نے اسے جواب دیا۔ اُس کی اپنی رپورٹ کے مطابق: ‘‘یہ کوئی بغاوت نہیں ہے؛ وفادار ماتحت کے طور پر اقتدار سنبھال لو… اگر وزرا بھاگ گئے ہیں تو کسی نے تو ان کی جگہ لینی ہے… دو نتائج نکل سکتے ہیں: سب کچھ ٹھنڈا پڑ جائے گا ، بادشاہ نئی حکومت کا اعلان کرے گا، ہم اقتدار اُس کے حوالے کر دیں گے۔ یا پھر انقلاب ٹھنڈا نہیں پڑے گا۔ اس صورت میں اگر ہم اقتدار نہیں لیتے تو دوسرے لے لیں گے، وہ لوگ جنہوں نے پہلے ہی فیکٹریوں میں بدمعاش قسم کے لوگ منتخب کئے ہوئے ہیں۔’’ہمیں اِس رجعتی معزز آدمی کی جانب سے مزدوروں کے لئے گھٹیا زبان کے استعمال پر غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے: انقلاب نے اِن سارے معززین کی دم پر بڑے زور سے پیر رکھا تھا۔ سبق واضح تھا: اگر بادشاہت جیت گئی تو ہم اُس کے ساتھ ہیں؛ اگر انقلاب جیت گیا تو ہم اِس پر شب خون مارنے کی کوشش کریں گے۔
طویل مشاورت ہوئی۔ جمہوری رہنما بے چینی سے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔ آخر کار روڈزیانکو کے دفتر سے ملیوکوف باہر آیا۔ پراعتماد نظر آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سوویت کے وفد کے پاس جا کر اُس نے اعلان کیا: ‘‘فیصلہ ہو گیا ہے، ہم اقتدار قبول کرتے ہیں…’’ خوشی سے نڈھال سوخانوف کہتا ہے، ‘‘میں نے نہیں پوچھا کہ ‘ہم’ سے اُس کی کیا مراد تھی، میں نے مزید کچھ نہیں پوچھا، لیکن میرے پورے وجود نے نئی صورتحال کو محسوس کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ انقلاب کے جہاز، جو عناصر کے مسلسل بدلتے ہوئے رویوں کی وجہ سے اُس وقت بھنور میں پھنس گیا تھا، نے اب بادبان لہرا دیا تھا اور خوفناک طوفان اور تلاطم کے باوجود استحکام اور باقاعدگی حاصل کر لی تھی۔’’پیٹی بورژوا جمہوریت کے سرمایہ دارانہ لبرلزم پر ذلت بھرے انحصار کے فرسودہ اعتراف کی کیسی بلند و بانگ لفاظی ہے! اور سیاسی تناظر کی کیسی تباہ کن غلطی ہے۔ لبرلوں کو اقتدار کی منتقلی نہ صرف جہاز کو استحکام نہیں دے گی، بلکہ اس کے برعکس یہ انقلاب کی بے رہنمائی، بے انتہا انتشار، عوام کی تلخی، محاذ کے انہدام اور مستقبل میں انتہائی درشت خانہ جنگی کی راہ ہموار کرے گی۔
اگر آپ صرف ماضی کے ادوار کو دیکھیں تو بورژوازی کو اقتدار کی منتقلی بہت حد تک باقاعدہ نظر آتی ہے: ماضی کے تمام انقلابات میں سڑکوں کے مورچوں (Barricade) پر لڑنے والے مزدور، ہنر سیکھنے والے کاریگر، کسی حد تک طلبہ اور اُن کے ساتھ مل جانے والے سپاہی تھے۔ لیکن اپنی کھڑکیوں سے محتاط انداز میں مورچوں کا نظارہ کرنے کے بعد ٹھوس بورژوازی اقتدار سمیٹ لیتی تھی۔ لیکن 1917ء کا فروری انقلاب اپنے بلند سماجی کردار اور انقلابی طبقے کے بلند سیاسی معیار، باغیوں کے لبرل بورژوازی پر معاندانہ عدم اعتماد اور عین فتح کے وقت عوام کی مسلح طاقت پر مبنی انقلابی اقتدار کے نئے اوزار یعنی سوویت کی تشکیل کے حوالوں سے ماضی کے انقلابات سے مختلف تھا۔ اِن حالات میں سیاسی طور پر تنہا اور غیر مسلح بورژوازی کو اقتدار کی منتقلی وضاحت کی متقاضی ہے۔
سب سے پہلے انقلاب کے نتیجے میں جنم لینے والی طاقتوں کے توازن کا جائزہ گہرائی میں لینا لازم ہے۔ کیا سوویت جمہوریت معروضی صورتحال کے ہاتھوں مجبور نہیں تھی کہ اقتدار بورژوازی کے سپرد کر دے؟ خود بورژوازی ایسا نہیں سمجھتی۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ بورژوازی نہ صرف انقلاب سے اقتدار ملنے کی توقع نہیں کر رہی تھی ، بلکہ اس کے برعکس اسے اپنی ساری سماجی صورتحال کے لئے جان لیوا خطرہ گردان رہی تھی۔ روڈزیانکو لکھتا ہے، ‘‘اعتدال پسند پارٹیوں نے نہ صرف انقلاب کی خواہش نہیں کی تھی بلکہ اس سے خوفزدہ تھیں۔ خاص طور پر کیڈٹ ، جو اعتدال پسند گروہوں کے بائیں جانب کھڑے تھے اور اس لئے باقیوں سے زیادہ ملک کی انقلابی پارٹیوں کے ساتھ رابطے میں تھے، اس آتی ہوئی تباہی سے زیادہ پریشان تھے۔’’ 1905ء کے تجربے نے بڑے واضح انداز میں لبرلوں کو اشارہ دے دیا تھا کہ مزدوروں اور کسانوں کی فتح بورژوازی کے لئے اس سے کم خطرناک نہ ہو گی جتنی کہ یہ بادشاہت کے لئے ہو گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ فروری کی سرکشی نے اس پیش بینی کی تصدیق ہی کی۔ ان دنوں انقلابی عوام کے سیاسی نظریات کئی لحاظ سے جتنے بھی بے شکل ہوں، محنت کرنے والوں اور بورژوازی کے درمیان تقسیم کی لکیر بے رحمی سے کھینچی جا چکی تھی۔
استاد سٹینکیوچ، جو لبرل حلقوں کے قریب تھا اور ترقی پسند اتحاد کا دشمن نہیں بلکہ دوست تھا، ان حلقوں کا مزاج اس انقلابی فتح کے دوسرے دن بیان کرتا ہے جسے وہ روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے: ‘‘باضابطہ طور پر تو انہوں نے خوشی کا اظہار کیا، انقلاب کی مدح سرائی کی، آزادی کے سپاہیوں کے لئے ‘‘آہا!’’ کے نعرے لگائے، سرخ فیتے باندھے اور سرخ جھنڈوں کے نیچے مارچ کیا… لیکن اپنے احساس میں، اپنی آپسی بات چیت میں وہ خوفزدہ تھے، کانپ رہے تھے، خود کو ایسے دشمن عناصر کا قیدی محسوس کر رہے تھے جو انجانے راستے پر جا رہے تھے۔اُس عالی شان نواب اور مرعوب کن شخصیت روڈزیانکو کی شکل ناقابل فراموش ہے، جب وہ باوقار شان و شوکت کو برقرار رکھتے ہوئے لیکن زرد چہرے پر گہری تکلیف کے مایوسی بھرے تاثرات لے کر بپھرے ہوئے سپاہیوں کے ہجوم کے درمیان ٹاؤرائڈ محل کی غلام گردش سے گزر رہا تھا۔ سرکاری طور پر کہا گیا: حکومت کے خلاف جدوجہد میں سپاہی دوما کی حمایت کرنے آئے تھے۔ لیکن دوما تو پہلے دن ہی منسوخ ہو چکی تھی۔ اوریہی تاثرات دوما کی عبوری کمیٹی کے اراکین کے چہروں اور ان کے ارد گرد موجود حلقوں کے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ترقی پسند الحاق کے نمائندے اپنے گھروں میں بے بسی اور مایوسی سے رو رہے تھے۔’’
یہ زندہ گواہی طاقتوں کے توازن پر کی جانے والی کسی بھی سماجی تحقیق سے زیادہ قیمتی ہے۔ روڈزیانکو کی اپنی روداد کے مطابق وہ اُن نامعلوم سپاہیوں کو دیکھ کر بے بس غصے سے کانپ رہا تھا جو ‘‘نہ جانے کس کے حکم پر’’ پرانی ریاست کے اہلکاروں کو گرفتار کر رہے تھے اور انہیں دوما کی عمارت میں لا رہے تھے۔ ان گرفتار ہونے والے لوگوں سے روڈزیانکو کے کچھ اختلافات ضرور تھے، لیکن بہرحال وہ اُس کے اپنے حلقے کے لوگ تھے۔ اِس ‘‘من مانی’’ کاروائی سے مضطرب ہو کر اُس نے گرفتار شدہ وزیر شیگلوویٹوف کو اپنے دفتر بلایا ، لیکن سپاہوں نے اکھڑ طریقے سے اِس قابل نفرت اہلکار کو اُس کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ روڈزیانکو بیان کرتا ہے، ‘‘جب میں نے اپنا اختیار دکھانے کی کوشش کی تو سپاہیوں نے اپنے قیدی کو گھیرے میں لے لیا اور انتہائی خطرناک اور گستاخ انداز میں اپنے رائفلوں کی طرف اشارہ کیا ، جس کے بعد وہ بغیر کسی شورشرابے کے شیگلوویٹوف کو پتا نہیں کہاں لے گئے۔’’کیا سٹینکیوچ کے دعوے کی اِس سے زیادہ مطلق تصدیق ممکن ہے کہ جن رجمنٹوں کے بارے میں دوما کی حمایت میں آنے کا قیاس کیا جا رہا تھا، انہوں نے ہی درحقیقت اسے منسوخ کر دیا تھا؟
اقتدار پہلے لمحے سے سوویت کے پاس تھا، اِس حقیقت کا ادراک سب سے زیادہ خود دوما کے اراکین کو تھا۔ اکتوبرسٹ پارٹی [۴] کا شیڈلووسکی، جو ترقی پسند اتحاد کے رہنماؤں میں سے ایک تھا، بتاتا ہے کہ کیسے ‘‘سوویت نے ڈاک اور ٹیلی گراف کے تمام بیورو ، وائرلیس اور پیٹروگراڈ کے تمام ریلوے سٹیشن، تمام چھاپہ خانے قبضے میں لے لئے۔ اُس کی اجازت کے بغیر تار بھیجنا، پیٹروگراڈ سے نکلنا یا ایک استدعا شائع کروانا بھی ناممکن تھا۔’’یہ طاقتوں کے توان کی بالکل واضح تصویر کشی ہے، صرف ایک چھوٹی سی تصحیح کی ضرورت ہے: ٹیلی گراف، ریلوے سٹیشن، چھاپہ خانوں وغیرہ پر سوویت کے ‘‘قبضے’’ کا مطلب صرف یہ ہے کہ ان اداروں کے مزدوروں نے سوائے سوویت کے کسی اور کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
شیڈلووسکی کے اس بیان کی تشریح بڑے شاندار انداز میں ایک واقعے سے ہوتی ہے، جو سوویت کے رہنماؤں اور دوما کے درمیان اقتدارکے بارے ہونے والے مذاکرات کے عروج پر پیش آیا۔ ان کے مشترکہ اجلاس کے دوران پسکوف، جہاں ٹرین میں اِدھر اُدھر بھٹکنے کے بعد زار پہنچا تھا، سے اطلاع آئی کہ براہ راست تار پر روڈزیانکو کو بلایا جا رہا تھا۔ دوما کے اس بڑے طاقتور صدر نے کہا کہ وہ ٹیلی گراف کے دفتر اکیلا نہیں جائے گا۔‘‘سپاہیوں اور مزدوروں کے نمائندہ صاحبان مجھے محافظ فراہم کریں یا خود میرے ساتھ آئیں، ورنہ میں وہاں ٹیلی گراف دفتر پر گرفتار ہو جاؤں گا۔ دیکھیں آ پ کے پاس اقتدار اور طاقت ہے’’، وہ جذباتی انداز میں بولتا رہا، ‘‘آپ مجھے گرفتار کر سکتے ہیں…شاید آپ ہم سب کو گرفتار کرنے والے ہیں، ہمیں کیا پتا؟’’یہ یکم مارچ کو ہو رہا تھا، اُس عبوری کمیٹی کی جانب سے اقتدار ‘‘حاصل کرنے’’ سے صرف چوبیس گھنٹے قبل جس کا سربراہ یہی روڈزیانکو بنا تھا۔
پھر کیسے ہو گیا کہ ان حالات میں لبرل اقتدار میں آ گئے؟ اُنہیں کس نے اختیار دیا کہ وہ ایک ایسے انقلاب کے نتیجے میں حکومت قائم کر لیں جس سے وہ خوفزدہ تھے، جس کے خلاف انہوں نے مزاحمت کی تھی، جسے انہوں نے کچلنے کی کوشش کی تھی، جسے انہی کے مخالف عوام نے برپا کیا تھا اور اس بے باکی اور فیصلہ کن انداز میں برپا کیا تھا کہ سرکشی سے جنم لینے والی مزدوروں اور سپاہیوں کی سوویت قدرتی طور پر اور سب کے لئے واضح اور تسلیم شدہ انداز میں سارے اختیارات کی مالک بن گئی تھی؟
آئیے دوسری طرف والوں کی بات سنتے ہیں، جو لبرل بورژوازی کے حق میں اقتدار سے دستبردار ہوئے۔ فروری کے دنوں کے بارے میں سوخانوف لکھتا ہے، ‘‘لوگ ریاستی دوما کی طرف مائل نہیں تھے، اُنہیں اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اسے سیاسی یا تکنیکی طور پر تحریک کا مرکز بنانے کا کوئی خیال اُن کے ذہن میں نہ تھا۔’’یہ اعتراف اس حوالے سے زیادہ قابل توجہ ہے کہ اس کا مصنف جلد ہی اپنی ساری توانائی اقتدار کو ریاستی دوماکی کمیٹی کے سپرد کرنے پر صرف کرنے والا تھا۔ مارچ کے مذاکرات کے بارے سوخانوف مزید کہتا ہے، ‘‘ملیوکوف کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اقتدار بورژوا حکومت کے حوالے کرنے یا نہ کرنے کا اختیار سوویت کی مجلس عاملہ کے پاس تھا۔’’کیا اس سے زیادہ قطعی طور پر بات بیان ہو سکتی ہے؟ کیا سیاسی صورتحال اس سے زیادہ واضح ہو سکتی ہے؟ اور اس کے باوجود اس ساری صورتحال اور خود اپنی ہی بات کے برخلاف سوخانوف فوراً کہتا ہے: ‘‘زارشاہی کی جگہ لینے والا اقتدار صرف بورژوا اقتدار ہونا چاہئے… ہمیں اسی اصول کے مطابق اپنا راستہ متعین کرنا چاہئے۔ وگرنہ سرکشی کامیاب نہیں ہو گی اور انقلاب منہدم ہو جائے گا۔’’ یعنی روڈزیانکو کے بغیر انقلاب منہدم ہو جائے گا!
سماجی طاقتوں کے زندہ رشتوں کی جگہ یہاں ایک پہلے سے طے شدہ منصوبہ اور روایتی اصطلاحات لے لیتی ہیں: دانشوروں کی لگی بندھی نظریہ پرستیDoctrinairism) (کی یہی اساس ہے۔ لیکن ہم بعد میں دیکھیں گے کہ یہ نظریہ پرستی کسی صورت بھی بے عمل نہیں تھی: اس نے اگرچہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر، لیکن ایک بڑا حقیقی سیاسی عمل سرانجام دیا۔
ہم نے سوخانوف کو کسی وجہ سے نقل کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں مجلس عاملہ پر اثر انداز ہونے والا آدمی اُس کا صدر شکائدز نہ تھا، جو ایک دیانتدار اور محدود سوچ والا آدمی تھا،بلکہ یہی سوخانوف تھا، جو عمومی طور پر بات کی جائے تو انقلابی قیادت کے لئے بالکل غیر موزوں تھا۔ وہ ایک نیم نرودنک، نیم مارکسی، ایک سیاست کار کی بجائے ایک ذمہ دار تماش بین، ایک انقلابی کی بجائے ایک صحافی اور ایک صحافی کی بجائے ایک استدلال پسند تھا اور تب تک ہی کسی انقلابی نظرئیے پر قائم رہتا تھا جب تک اس پر عمل کرنے کا وقت نہ آ جائے۔ جنگ کے دوران وہ بے عمل انٹرنیشنلسٹ تھا، انقلاب کے پہلے دن ہی اُس نے فیصلہ کر لیا کہ جلد از جلد اقتدار اور جنگ کو بورژوازی کی طرف اچھال دینا ضروری تھا۔ ایک نظریہ دان کے طور پر (یعنی اُس کی جانب سے کم از کم اس ضرورت کا احساس کہ چیزوں کی کوئی منطق ہونی چاہئے، اگرچہ یہ ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت اُس میں نہ تھی) وہ مجلس عاملہ کے اُس وقت کے تمام اراکین سے بالا تھا۔ لیکن اُس کی بنیادی فوقیت نظریہ پرستی کی زبان میں کثیر رنگی تاہم یکساں بھائی چارے کی تمام نامیاتی خاصیتوں کا ترجمہ کرنے کی صلاحیت تھی: اپنی ہی قوتوں پر عدم اعتماد، عوام کا خوف اور بورژوازی کی طرف دلی احترام کا رویہ۔ لینن نے سوخانوف کو پیٹی بورژوازی کا سب سے بہترین نمائندہ قرار دیا تھا، اُس کے بارے اِس سے بہتر رائے نہیں دی جا سکتی۔
اسی تناظر میں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہاں معاملہ ایک نئی سرمایہ دار قسم کی پیٹی بورژوازی کا ہے، یعنی صنعتی، کاروباری اور بینکاری کے کلرکوں کا، ایک طرف سرمائے کے منصب داروں اور دوسری طرف مزدور افسر شاہی کا۔ یہ نئی ‘درمیانی پرت’ [۵]ہے، جس کی نمائندگی کرتے ہوئے جرمنی کے مشہور سوشل ڈیموکریٹ ایڈورڈ برنسٹین نے پچھلی صدی کے آخر میں مارکس کے انقلابی نظریات میں ترمیم کی تھی۔ اس سوال کا جواب دینے کے لئے کہ ایک مزدوروں اور کسانوں کے انقلاب نے اقتدار بورژوازی کے حوالے کیسے کر دیا، سیاسی زنجیر میں ایک درمیانی کڑی شامل کرنا ضروری ہے: سوخانوف جیسے پیٹی بورژوا جمہوریت پسند اور سوشلسٹ، نئی درمیانی پرت کے صحافی اور سیاستدان، جنہوں نے عوام کو سکھایا تھا کہ بورژوازی دشمن ہے، لیکن خود یہ لوگ انقلاب کے کردار اور اس سے برآمد ہونے والے اقتدار کے تضاد سے عوام کو آزاد کرنے سے سب سے زیادہ ڈرتے تھے۔ اس کی وضاحت انقلابی عوام اور سرمایہ دار بورژوازی کے درمیان اس نئی پیٹی بورژوا دیوارِ تقسیم کے اپنے متضاد کردار سے ہوتی ہے۔ آگے کے واقعات میں اس نئی قسم کی پیٹی بورژوا جمہوریت کا کردار کھل کے ہمارے سامنے آئے گا۔ فی الوقت ہم خود کو مختصر الفاظ تک ہی محدود رکھیں گے۔
انقلابی طبقے کی ایک اقلیت ہی سرکشی میں حصہ لیتی ہے، لیکن اس اقلیت کی طاقت اکثریت کی حمایت یا کم از کم ہمدردی ہوتی ہے۔ دشمن کے برستی ہوئی آگ میں اس متحرک اور لڑاکا اقلیت کے زیادہ انقلابی اور جانثار عناصر ناگزیر طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ فطری ہے کہ فروری کی لڑائیوں میں مزدور بالشویک قیادت میں تھے۔ لیکن صورتحال فتح کے لمحے سے ہی بدل جاتی ہے اور انقلابی فتح کی سیاسی قلعہ بندی شروع ہوتی ہے۔ جو ہاتھوں میں ہتھیار اٹھا کر لڑے ہوتے ہیں ان کی نسبت بہت زیادہ لوگ فتح مند انقلاب کے اداروں میں چناؤ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔یہ نہ صرف شہری دوما ، دیہاتی انتظامیہ کے اداروں یا پھر بعد ازاں آئین ساز اسمبلی جیسے عمومی جمہوری اداروں کے لئے درست ہے، بلکہ مزدور نمائندگان کی سوویت جیسے طبقاتی اداروں کے لئے بھی۔ منشویک، سوشل انقلابی اور کسی پارٹی سے ناوابستہ مزدوروں کی بہت بڑی اکثریت نے زار شاہی کے ساتھ براہ راست مڈبھیڑ کے وقت بالشویکوں کی حمایت کی تھی۔ لیکن مزدوروں کی ایک بہت چھوٹی سی اقلیت ہی جانتی تھی کہ بالشویک دوسری سوشلسٹ پارٹیوں سے مختلف تھے۔ تاہم اسی وقت مزدوروں نے اپنے اور بورژوازی کے درمیان ایک گہری لکیر بھی کھینچ دی۔ اس حقیقت نے فتح کے بعد کی سیاسی صورتحال کا تعین کیا۔ مزدوروں نے سوشلسٹوں کو منتخب کیا، یعنی اُنہیں جو نہ صرف بادشاہت بلکہ بورژوازی کے بھی خلاف تھے ۔ایسا کرتے ہوئے انہوں نے تین سوشلسٹ پارٹیوں میں کم و بیش کوئی فرق نہیں کیا۔ چونکہ منشویکوں اور سوشل انقلابیوں میں دانشوروں، جو ہر طرف سے ٹپکنے لگے تھے، کی بہت بڑی تعداد شامل تھی اور یوں ایجی ٹیشن کرنے والوں کا بہت بڑا عملہ فوراً اُن کے ہاتھ آ گیا تھا، اس لئے کارخانوں اور فیکٹریوں کے انتخابات میں بھی اُنہیں بڑی اکثریت مل گئی۔ اسی سمت میں ایک طاقتور دھکا بیدار ہوتی ہوئی فوج نے بھی لگایا۔ سرکشی کے پانچویں دن پیڑوگراڈ گیریزن مزدوروں کی پیروی کر رہا تھا۔ فتح کے بعد اسے سوویت کے انتخابات منعقد کرنے کو کہا گیا۔ سپاہیوں نے اعتماد کے ساتھ انہیں منتخب کیا جو انقلاب کے ساتھ اور شاہ پرست افسروں کے خلاف تھے اور جو جانتے تھے کہ بلند آواز میں اِس کا اظہار کیسے کرنا تھا: یہ لوگ رضاکار، کلرک، معاون سرجن، جنگ کے دوران افسر بن جانے والے تعلیم یافتہ لوگ اور چھوٹے فوجی اہلکار تھے، یعنی نئی درمیانی پرت کی سب سے نیچے والی پرتیں۔ مارچ کے آغاز سے یہ تقریباً سارے کے سارے لوگ سوشل انقلابیوں کی پارٹی میں شامل ہوگئے ، جو اپنی شعوری بے شکلی کی وجہ سے بالکل درست طریقے سے اُن کی درمیانی سماجی کیفیت اور محدود سیاسی فہم کی نمائندگی کرتی تھی۔ یوں گیریزن کے نمائندے، سپاہیوں کی نسبت کہیں زیادہ اعتدال پسند اور بورژوا ثابت ہوئے۔ لیکن سپاہی اس فرق سے آگاہ نہیں تھے: اُن کے سامنے یہ آنے والے مہینوں کے واقعات کے دوران ہی آشکار ہونا تھا۔ اپنے طور پر مزدور ہر ممکن حد تک سپاہیوں کے قریب رہنے کی کوشش کر رہے تھے، تاکہ خون دے کر حاصل کئے گئے اس رشتے کو مضبوط کر سکیں اور انقلاب کو زیادہ مستقل طور پر مسلح کریں۔ لیکن چونکہ فوج کے ترجمان زیادہ تر ادھ پکے سوشل انقلابی تھے، لہٰذا اِس پارٹی اور ساتھ میں اِس کی اتحادی منشویک پارٹی کی عملداری مزدوروں کی نظر میں ناگزیر طور پر بڑھنے لگی۔ اس کا نتیجہ سوویتوں میں دو مصالحتی پارٹیوں کے غلبے کی شکل میں برآمد ہوا۔ یہ بتانا کافی ہو گا کہ وائبورگ کے علاقے کی سوویت میں بھی ان ابتدائی دنوں میں رہنما کردار مزدور منشویکوں نے حاصل کر لیا۔ اس عرصے میں بالشویزم ابھی انقلاب کی گہرائیوں میں ہی پک کر تیار ہو رہا تھا۔ اس لئے پیٹروگراڈ سوویت میں بھی باضابطہ بالشویک بہت معمولی سی اقلیت کی نمائندگی کرتے تھے، جس نے اپنے فرائض ابھی واضح طور پر متعین نہیں کئے تھے۔
یوں فروری انقلاب کا متناقضہ (Paradox) ابھر کر سامنے آیا۔ اقتدار جمہوری سوشلسٹوں کے پاس تھا۔ اس پر کسی بلانکسٹ (Blanquist) طرز کے کُو کے ذریعے قبضہ نہیں کیا گیا تھا؛ بلکہ یہ تو کھلم کھلا فتح مند عوام نے اُن کے حوالے کیا تھا۔ عوام نے نہ صرف یہ کہ بورژوازی کو اعتماد یا حمایت نہیں دی تھی، بلکہ اُن کے نزدیک بورژوازی اور شاہی اشرافیہ اور افسر شاہی میں کوئی فرق نہ تھا۔ انہوں نے اپنے ہتھیار صرف سوویتوں کے اختیار میں دئیے تھے۔ دوسری طرف انتہائی آسانی سے سوویتوں کی قیادت میں آنے والے سوشلسٹ صرف ایک سوال کے بارے میں فکر مند تھے: کیا سیاسی طور پر تنہا، عوام کی نفرت سے دوچار اور ہر لحاظ سے انقلاب مخالف بورژوازی ہمارے ہاتھوں سے اقتدار قبول کرنے پر راضی ہو جائے گی؟ اس کی رضامندی ہر قیمت پر حاصل کرنا ہوگی۔ اور چونکہ بورژوازی اپنے بورژوا پروگرام سے دستبردار نہیں ہو سکتی ہے لہٰذا ہم ‘‘سوشلسٹوں’’ کو ہی اپنے پروگرام سے دستبردار ہونا پڑے گا: ہمیں بادشاہت، جنگ اور زمین کے معاملات پر خاموشی اختیار کرنا ہو گی، بس بورژوازی اقتدار کا تحفہ قبول کر لے! یہ واردات کرتے ہوئے ‘‘سوشلسٹ’’ گویا اپنا ہی تمسخر اڑانے کے لئے اِسی بورژوازی کو کچھ اور نہیں بلکہ اپنا طبقاتی دشمن بھی قرار دے رہے تھے۔ یوں اُن کی عبادت کی رسوم میں ہی ایک خبیث گستاخی کا عمل بھی شامل تھا۔ ایک طبقاتی جدوجہد اپنے منطقی انت میں ریاستی اقتدار کی جدوجہد ہوتی ہے۔ ایک انقلاب کا بنیادی کردار طبقاتی جدوجہد کو اس کے انت تک لے جانے میں مضمر ہوتا ہے۔ ایک انقلاب اقتدار کی براہ راست جدوجہد ہوتا ہے۔ تاہم ہمارے یہ ‘‘سوشلسٹ’’ اپنے اُس طبقاتی دشمن سے اقتدار دور لے جانے کے بارے میں پریشان نہیں تھے جس کے پاس وہ تھا ہی نہیں اورجو اپنی قوتوں سے اُس پر قبضہ بھی نہیں کر سکتا تھا، بلکہ اِس کے برعکس وہ بزور طاقت ہر قیمت پر اُسے یہ اقتدار دینا چاہتے تھے۔ کیا یہ واقعی متناقضہ نہیں ہے؟ یہ اور بھی حیران کن لگتا ہے کیونکہ 1918ء کے جرمن انقلاب کا تجربہ اس وقت موجود نہیں تھا اور انسانیت نے اِس قسم کی دیوہیکل اور زیادہ کامیاب واردات کا مشاہدہ نہیں کیا تھا، جسے جرمن سوشل ڈیموکریسی کی قیادت میں ‘‘نئی درمیانی پرت’’ نے مکمل کیا [۶]۔
مصالحت پسندوں نے اپنے طرز عمل کی وضاحت کیسے پیش کی؟ ایک تاویل جامد نظریہ پرستانہ کردار کی حامل تھی: چونکہ انقلاب بورژوا ہے اس لئے سوشلسٹوں کو اقتدار میں نہیں آنا چاہئے، بورژوازی اپنے مسئلے سے خود نبٹے۔ یہ بڑا سنگدل سا لگتا ہے۔ لیکن درحقیقت اس جھوٹی سنگدلی میں پیٹی بورژوازی دولت، تعلیم اور سیاسی اشرافیہ کی طاقت کی چاپلوسی چھپا رہی تھی۔ طاقتوں کے باہمی توازن سے قطع نظر ، بڑی بورژوازی کے اقتدار پر حق کو پیٹی بورژوازی ایک وراثتی حق کے طور پر تسلیم کر رہی تھی۔ بنیادی طور پر ہمارے سامنے وہی کیفیت ہے جب کسی سٹیشن یا تھیٹر میں ایک چھوٹا تاجر یا استاد اپنی جبلت کے تحت فوراً ایک طرف ہو کر کسی سیٹھ کو راستہ دیتا ہے۔ نظریہ پرستانہ دلیلیں اپنی ذات کی بے وُقعتی پر مبنی شعور کی تلافی کا کام کر رہی تھیں۔ صرف دو مہینوں میں جب یہ واضح ہو گیا کہ بورژوازی کو جو اقتدار دیا گیا ہے وہ اسے اپنے بلبوتے پر برقرار نہیں رکھ سکتی تو انہی مصالحت پسندوں نے اپنے ‘‘سوشلسٹ’’ تعصبات جھٹک کر مخلوط حکومت میں شامل ہونے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا، بورژوازی کو باہر نکالنے کے لئے نہیں بلکہ اُسے بچانے کے لئے، بورژوازی کی مرضی کے خلاف نہیں بلکہ اُس کی حکم نما دعوت پر۔ درحقیقت بورژوازی نے ان جمہوریت پسندوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے مخلوط حکومت میں شامل ہونے سے انکار کیا تو وہ اقتدار اُن کے سروں پر گرنے دے گی۔
اقتدار میں نہ آنے کی دوسری تاویل اگرچہ اپنی اساس میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہے لیکن اس کی ظاہریت زیادہ عملی تھی۔ ہمارا دوست سوخانوف روس کی جمہوری قوتوں کو بہت ‘‘بکھرا ہوا’’ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے: ‘‘ اس وقت جمہوریت پسندوں کی کوئی مستحکم یا اثر و رسوخ رکھنے والی تنظیمیں، پارٹی، پیشہ ور لوگ یا بلدیہ نہ تھی’’۔ یہ بالکل ایک لطیفہ لگتا ہے! مزدوروں اور سپاہیوں کے نمائندگان کی سووتیوں، جن کی وہ نمائندگی کر رہا تھا، کے بارے میں ایک لفظ یہ سوشلسٹ نہیں بولتا ۔ حقیقت یہ کہ 1905ء کی روایت کی وجہ سے سوویتیں جیسے زمین کے اندر سے دوبارہ پھوٹ پڑی تھیں اور بہت جلد اُن تمام دوسری تنظیموں (بلدیاؤں، کوآپریٹو تنظیموں اور کسی حد تک ٹریڈ یونینوں) سے زیادہ طاقتور بن گئیں جنہوں نے بعد میں اِن کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ۔ جہاں تک کسانوں کا سوال ہے تو یہ ایک ایسا طبقہ ہے جو فطری طور پر بکھرا ہوتا ہے، لیکن جنگ اور انقلاب کی وجہ سے وہ ہمیشہ سے زیادہ منظم ہو چکا تھا۔ جنگ نے کسانوں کو فوج میں یکجا کر دیا تھا اور انقلاب نے فوج کو سیاسی کردار عطا کر دیا تھا! فوج کی کمپنیوں اور سکواڈرنوں میں کم از کم اسی لاکھ کسان یکجا تھے، جنہوں نے فوراً اپنی انقلابی نمائندگی تشکیل دی اور اِس نمائندگی کے ذریعے اُنہیں ایک ٹیلیفون کال پر متحرک کیا جا سکتا تھا۔ کیا یہ سب کچھ ‘‘بکھرا پن’’ معلوم ہوتا ہے؟
آپ یقینا کہہ سکتے ہیں کہ اقتدار کے سوال کا فیصلہ کرتے وقت اِن جمہوریت پسندوں کو اندازہ نہیں ہوگا کہ محاذ پر موجود فوج کا رد عمل کیا ہو گا۔ ہم یہ سوال نہیں اٹھائیں گے کہ کیا اِس بارے میں خوفزدہ ہونے یا ایسا سوچنے کی کوئی معمولی سی وجہ بھی موجود تھی کہ محاذ پر جنگ سے شکستہ حال سپاہی سامراجی بورژوازی کی حمایت کرنا چاہیں گے۔ بس اتنا بتانا ہی کافی ہے کہ اس سوال کا فیصلہ اگلے دو یا تین دن میں مکمل طور پر ہو گیا تھا، جسے مصالحت پسندوں نے ایک بورژوا حکومت کی پس پردہ تیاریوں کے دوران نظر انداز کر دیا۔ سوخانوف تسلیم کرتا ہے، ‘‘3 مارچ کو انقلاب کامیابی سے مکمل ہو گیا تھا۔’’ سوویتوں کے ساتھ پوری فوج کی وفاداری کے باوجود اُن کے رہنما پوری توانائی سے اقتدار کو پرے دھکیلتے رہے: اقتدار جوں جوں اُن کے ہاتھوں میں مجتمع ہوتا گیا، اُتنا ہی وہ اُس سے ڈرنے لگے۔
لیکن کیوں؟ ان جمہوریت پسند ‘‘سوشلسٹوں’’ کو عوام کی ایسی براہ راست حمایت حاصل تھی جیسی آج تک تاریخ میں کسی جمہوریت کو نہیں مل سکی تھی، مزید برآں عوام بھی معقول طور پر تجربہ سے لیس اور مسلح تھے اور سوویتوں میں منظم تھے، پھر یہ مختارِ کل اور بظاہر ناقابل تسخیر جمہوریت اقتدار حاصل کرنے سے کیسے ڈر سکتی تھی؟ اِس بظاہر پیچیدہ معمے کی وضاحت اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ جمہوریت پسندوں کو اپنی حمایت پر ہی یقین نہیں تھا، وہ اِنہی عوام سے ہی خوفزدہ تھے، اُنہیں خود پر اور عوام کے اعتماد کے استحکام پر اعتماد نہ تھا، سب سے ابتر یہ کہ وہ اُس چیز سے دہشت زدہ تھے جسے وہ ‘‘انارکی’’ کہتے تھے، یعنی اقتدار میں آنے کے بعد کہیں وہ اقتدار سمیت اِن نام نہاد ‘سرکش عناصر’ کے ہاتھوں میں کھلونے بن کر نہ رہ جائیں۔ دوسرے الفاظ میں جمہوریت پسندوں کو محسوس ہوتا تھا کہ انقلابی شورش نے اُن سے عوام کی قیادت کا نہیں بلکہ بورژوا نظام کا ایسا بایاں بازو بننے کا تقاضا کیا تھا جو عوام میں اُس کی آنکھوں اور کانوں کا کام دے سکے۔ یہ جمہوریت خود کو ‘‘سوشلزم کی طرف مائل’’ (Socialistic) قرار دیتی تھی، بلکہ سمجھتی بھی تھی، تاکہ نہ صرف عوام بلکہ خود اپنے آپ سے بھی اپنا حقیقی کردار چھپا سکے: اِس خود فریبی کے بغیر یہ اپنا کردار ادا نہیں کر سکتی تھی۔ یہی فروری انقلاب کے بنیادی متناقضے کا حل ہے۔
یکم مارچ کی شام شکائدز، سوخانوف، سٹیکلوف اور سوویت کی مجلس عاملہ کے دوسرے نمائندے، دوما کی کمیٹی کے ایک اجلاس میں اُن شرائط پر بحث کرنے آئے جن کے تحت سوویت کو نئی حکومت کی حمایت کرنا تھی۔ اِن جمہوریت پسندوں کے پروگرام میں جنگ کے سوال، جمہوریہ، زمین اور آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کا سرے سے کوئی ذکر نہ تھا، یہ صرف ایک مطالبے تک محدود تھا: بائیں بازوکی پارٹیوں کو ایجی ٹیشن کی آزادی دی جائے گی۔ اپنے ہاتھوں میں سارا اقتدار رکھنے والے سوشلسٹوں، جو خود یہ اختیار رکھتے تھے کہ دوسروں کو ایجی ٹیشن کی آزادی دیں یا نہ دیں، نے اپنے ‘‘طبقاتی دشمن’’ کو اِس شرط پر اقتدار دے دیا کہ وہ اُن سے وعدہ کرے کہ … ایجی ٹیشن کی آزادی دے گا! روڈزیانکو ٹیلی گراف کے دفتر تک جانے سے بھی ڈرتا تھا اور اُس نے شکائدز اور سوخانوف کو کہا تھا: ‘‘تمہارے پاس اقتدار ہے، تم ہم سب کو گرفتار کر سکتے ہو۔’’ شکائدز اور سوخانوف نے اُسے جواب دیا: ‘‘اقتدار لے لو، بس ہمیں پراپیگنڈا کرنے پر گرفتار نہ کرنا۔’’ جب آپ مصالحت پسندوں کے لبرلوں کے ساتھ مذاکرات اور بالعموم اُن دنوں ٹاؤرائڈ محل میں بائیں اور دائیں بازو کے آپسی تعلق کے سارے واقعات پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جس دیوہیکل سٹیج پر عوام کا تاریخی ڈراما ظہور پذیر ہو رہا تھا ، اُس پر ایک کونے میں اِن ثانوی اداکاروں کا ایک گروہ جلدی جلدی بہروپ بدلنے والا ناچ تماشا کر رہا تھا۔
ہمیں انصاف سے کام لینا چاہئے، بورژوازی کے رہنماؤں کو اِس قسم کی کسی چیز کی کوئی توقع نہ تھی۔ وہ یقینا انقلاب سے کم خوفزدہ ہوتے اگر اُنہیں اِس کے رہنماؤں کی اِس قسم کی سیاست کا علم پہلے سے ہوتا۔ اب بھی اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ مجوزہ شرائط پر بورژوازی اقتدار قبول نہیں کرے گی، سوخانوف نے ایک خطرناک الٹی میٹم دیا: ‘‘‘ عناصر’ کو صرف اور صرف ہم قابو کر سکتے ہیں… صرف ایک راستہ ہے… ہماری شرائط مان لو۔’’ دوسرے الفاظ میں: ہمارا پروگرام مان لو، جو تمہار بھی پروگرام ہے؛ اس صورت میں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جن عوام نے ہمیں اقتدار دیا ہے ہم اُنہیں تمہارے تابع کر دیں گے۔ عناصر کو تابع کرنے والے بیچارے!
ملیوکوف حیران رہ گیا۔ سوخانوف یاد کرتا ہے، ‘‘اُس نے اپنے اطمینان اور آمادگی پر مبنی حیرانی کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔’’ جب سوویت کے وفد نے اپنی شرائط کے زیادہ اہم ہونے کا تاثر دینے کے لئے کہا کہ وہ ‘‘حتمی’’ ہیں تو ملیوکوف خوشی سے پھول گیا اور یہ تبصرہ کر کے اُن کے سر پر تھپکی دی: ‘‘ہاں، میں تمہاری بات سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ 1905ء کے بعد سے ہماری مزدور تحریک کتنی ترقی کر گئی ہے…’’ ایسے ہی خوش طبع مگر مچھ جیسے لہجے میں بریسٹ لیٹووسک میں جرمن سفارتکار نے یوکرائنی پارلیمنٹ کے مندوبین سے بات چیت کی تھی اور اُنہیں ہڑپ کرنے سے پہلے اُن کی پختہ سفارتکاری کی تعریف کی تھی۔ اگر سوویت جمہوریت کو بورژوازی ہڑپ نہیں سکی تو یہ ملیوکوف کی غلطی یا سوخانوف کا کمال نہ تھا۔ بورژوازی نے عوام کے پس پشت اقتدار حاصل کیا تھا۔ محنت کش طبقات میں اُس کی کوئی حمایت نہ تھی۔ لیکن اقتدار کے ساتھ اُسے حمایت کی نقل ملی تھی۔عوام نے جن منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کو منصب دیا تھا اُنہوں نے اپنی طرف سے بورژوازی کو اعتماد کی سند بھی دے دی۔ اگر آپ رسمی جمہوریت کی اس کاروائی کو کاٹ کر دیکھیں تو آپ کو دوہرا انتخاب نظر آتا ہے، جس میں منشو یکوں اور سوشل انقلابیوں نے درمیانی کڑی کا تکنیکی کردار ادا کیا، یعنی [عوام سے منتخب ہو کر] کیڈٹوں کو منتخب کرنے والوں کا کردار۔ اگر آپ سوال کو سیاسی طور پر لیں تو ماننا پڑے گا کہ مصالحت پسندوں کو جن کے خلاف منتخب کیا گیا تھا اُنہوں نے اُنہی کو اقتدار میں لا کر عوام سے غداری کی۔ آخر میں اگرگہرے اور زیادہ سماجی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جیسے ہی انقلاب نے اُنہیں اقتدار کی بلندیوں تک پہنچایا، وہ اپنے ناکافی پن سے خوفزدہ ہو گئے اور جلدی سے اقتدار سرمائے کے نمائندوں کے سپرد کر دیا۔ ذلت کے اس عمل میں نئی درمیانی پرت کا تذبذب اور بڑی بورژوازی پر اُس کا شرمناک انحصار فوراً ظاہر ہوتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے یا صرف محسوس کرتے ہوئے کہ اقتدار ویسے بھی اُن کے ہاتھوں میں زیادہ دیر نہیں رہ پائے گا اور یہ کہ اُنہیں جلد ہی اسے اپنی دائیں یا بائیں طرف کے سپرد کرنا ہوگا، جمہوریت پسندوں نے فیصلہ کیا کہ اِسے کل کو پرولتاریہ کے سخت گیر نمائندوں کی بجائے آج ہی ٹھوس لبرلوں کے حوالے کرنا زیادہ بہتر ہے۔لیکن سماجی محرکات کے باوجود اِس لحاظ سے بھی مصالحت پسندوں نے عوام سے غداری ہی کی۔
سوشلسٹوں کو اعتماد دے کر مزدور اور سپاہی بڑے غیر متوقع طور پرخود کو سیاسی لحاظ سے بے بس محسوس کرنے لگے۔ وہ ششدر رہ گئے، متنبہ ہوئے، لیکن فوری طور پر کوئی راستہ نہ نکال سکے۔ اُن کے اپنے غداروں نے اوپر سے ایسے دلائل دے کر اُنہیں بہرہ کر دیا جن کا اُن کے پاس کوئی فوری جواب نہ تھا، لیکن جو اُن کے تمام احساسات اور امنگوں سے متصادم تھے۔ فروری انقلاب کے وقت بھی عوام کے انقلابی رجحانات، پیٹی بورژوا پارٹیوں کے مصالحتی رجحانات سے میل نہیں کھاتے تھے۔ پرولتاریہ اور کسانوں نے منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کو مصالحت پسندوں کے طور پر نہیں بلکہ زار، سرمایہ داروں اور زمینداروں کے مخالفوں کے طور پر ووٹ دیا تھا۔ لیکن اُنہیں ووٹ دے کر اُنہوں نے اپنے اور اپنے مقاصد کے درمیان دیوار کھڑی کر لی۔ وہ اپنی کھڑی کی گئی اِس دیوار سے ٹکرائے اور اسے گرائے بغیر ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ فروری انقلاب نے جن طبقاتی تعلقات پر سے پردہ اٹھایا تھا وہ اِسی حیران کن باہمی تبادلے پر مبنی تھے۔
اس بنیادی متناقضہ میں ایک اضافی متناقضہ بھی فوراً ہی شامل ہو گیا۔ لبرلوں نے صرف اس شرط پر سوشلسٹوں سے اقتدار قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی کہ بادشاہت اِسے اُن کے ہاتھوں سے واپس لینے پر راضی ہو جائے۔ جس وقت گچکوف اور اُس کے ساتھ شاہ پرست شلگن، جسے ہم پہلے ہی جانتے ہیں، بادشاہت کو بچانے پسکوف جا رہے تھے، آئینی بادشاہت کا مسئلہ ٹاؤرائڈ محل میں دونوں کمیٹیوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں زیر بحث تھا۔ ملیوکوف جمہوریت پسندوں، جو اس کے پاس اقتدار ہتھیلی پر رکھ کر لائے تھے، کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ شاہی خاندان اب خطرناک نہیں رہا ہے اور یہ کہ نکولس کو تو یقینا ہٹانا پڑے گا لیکن اُس کا بڑا بیٹا الیگزی بطور جانشین اور اُس کا بھائی میخائل بطور قائم مقام فرماں روا ملک کی فلاح کی مکمل ضمانت بن سکتے ہیں: ‘‘پہلا ایک بیمار بچہ ہے اور دوسرا انتہائی احمق آدمی ہے۔’’ ہم یہاں بتانا چاہیں گے کہ زار کے اس امیدوار کی کردار نگاری لبرل شاہ پرست شیڈلووسکی نے کیسے کی ہے: ‘‘میخائل الیگزینڈرووچ نے ریاست کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، اُس نے خود کو پوری دلجمعی سے گھوڑوں کی دوڑ کے لئے وقف کر رکھا ہے۔’’یہ ایک غیر معمولی تجویز تھی، خاص طور پر اگر عوام کے سامنے دہرائی جاتی۔ [انقلابِ فرانس کے دوران] لوئی شانزدھم کے پیرس سے ویرینس بھاگ جانے کے بعد ڈانٹن نے جیکوبن کلب میں کہا تھا کہ آدمی جب ایک بار ضعیف العقل ہو جائے تو بادشاہ نہیں رہ سکتا۔ روسی لبرل اِس کے الٹ سوچ رہے تھے کہ بادشاہ کی کم عقلی ہی ایک آئینی حکومت کے لئے بہترین اعزاز ثابت ہو گی۔ تاہم یہ بے تکی دلیل ‘‘بائیں بازو’’کے احمقوں کی سوچ کو متاثر کرنے کے لئے بنائی گئی تھی، اگرچہ یہ اُن کے لئے بھی خاصی بھونڈی تھی۔ لبرل بکواسیات کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے یہ بھی کہا گیا کہ میخائل ‘‘انگریز پسند’’ (Anglomaniac) تھا، یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گھوڑوں کی دوڑ یا پھر پارلیمانیت کے معاملے میں۔ لیکن بنیادی دلیل یہ تھی کہ بس ‘‘طاقت کی رسمی علامت’’ کی ضرورت تھی۔ وگرنہ لوگ سوچتے کہ ‘انارکی’ آ گئی ہے۔
جمہوریت پسند سنتے رہے، شائستگی سے حیران ہوئے اور اُنہیں قائل کرنے کی کوشش کی… ایک جمہوریہ کے اعلان کے لئے؟ نہیں۔ بلکہ صرف اِس بات پر کہ پیشگی کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔ مجلس عاملہ کی شرائط کے تیسرے نکتے میں لکھا تھا: عبوری حکومت کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گی جو مستقبل کی حکومت کی شکل کو پیشگی واضح کرے۔’’ ملیوکوف نے بادشاہت کے سوال کو الٹی میٹم بنا دیا۔ جمہوریت پسند مایوس ہو گئے۔ لیکن یہاں عوام اُن کی مدد کو آئے۔ ٹاؤرائڈ محل میں ہونے والے اجلاسوں میں نہ صرف مزدوروں بلکہ سپاہیوں میں سے بھی کوئی بادشاہت نہیں چاہتا تھا اور اِسے اُن پر مسلط کرنے کا کوئی طریقہ نہ تھا۔ اس کے باوجود ملیوکوف نے دھارے کے برخلاف تیرنے اور اپنے بائیں بازو کے اتحادیوں کی قربانی دے کر تخت اور بادشاہت کو بچانے کی کوشش کی۔ اپنی انقلاب کی تاریخ میں وہ خود محتاط انداز میں تبصرہ کرتا ہے کہ 2 مارچ کے آخر تک میخائل کی قائم مقام فرماں روائی کے بارے میں اُس کی بات سے پھیلنے والا اشتعال ‘‘کافی بڑھ گیا تھا۔’’ لبرلوں کی ایسی شاہ پرستانہ حرکات پر عوام کے رد عمل کو روڈزیانکو زیادہ رنگین انداز میں بیان کرتا ہے۔گچکوف جب میخائل کے حق میں زار کی دستبرداری کے ساتھ پسکوف سے واپس پہنچا تو مزدوروں کے مطالبے پر سٹیشن سے ریلوے کے کارخانوں میں بتانے گیا کہ کیا بنا تھا، دستبرداری کا متن پڑھنے کے بعد اُس نے آخر میں کہا: ‘‘بادشاہ میخائل زندہ باد!’’ نتیجہ غیر متوقع تھا۔ اُسے مزدوروں نے فوراً گرفتار کر لیا اور گولی سے اڑا دینے کی دھمکی دی۔ ‘‘اُسے بڑی مشکل سے قریب ترین رجمنٹ کی سنتری کمپنی کی مدد سے آزاد کروایا گیا۔’’ روڈزیانکو ہمیشہ کی طرح تھوڑی مبالغہ آرائی کرتا ہے، لیکن معاملے کی اساس ٹھیک بیان کی گئی ہے۔ ملک نے اتنے جارحانہ انداز میں قے کر کے بادشاہ کو اُگلا تھا کہ وہ کبھی بھی واپس عوام کے حلق سے نیچے نہیں اتر سکتا تھا۔ انقلابی عوام نے نئے زار کے بارے میں سوچنے کی بھی اجازت نہ دی۔
اس صورتحال میں دوما کی عبوری کمیٹی ایک ایک کر کے میخائل سے پیچھے ہٹ گئی، فیصلہ کن طور پر نہیں بلکہ‘‘آئین ساز اسمبلی تک’’ اور پھر ہم دیکھیں گے۔ صرف ملیوکوف اور گچکوف آخر تک بادشاہت کے حق میں رہے اور کابینہ میں شمولیت کو اس کے ساتھ مشروط کرتے رہے ۔کیا کیا جائے؟ جمہوریت پسندوں نے سوچا کہ ملیوکوف کے بغیر ایک بورژوا حکومت تشکیل دینا اور ایک بورژوا حکومت کے بغیر انقلاب کو بچانا ناممکن تھا۔ بحث و تکرار اور قائل کرنے کی کوششیں آخر تک بے نتیجہ رہیں۔ 3 مارچ کی صبح کے ایک مشاورتی اجلاس میں ‘‘اعلیٰ نواب میخائل کو دستبرداری پر مائل کرنے’’ کی تجویز عبوری کمیٹی میں غالب آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ بائیں بازو کے ایک کیڈٹ نیکراسوف نے تو دستبرداری کا متن بھی تیار کر لیا۔ لیکن چونکہ ملیوکوف نے سختی سے ماننے سے انکار کر دیا، لہٰذا مزیدتند و تیز تکرار کے بعد آخر کار ایک فیصلہ کیا گیا: ‘‘ اعلیٰ نواب کے سامنے دونوں اطراف اپنی رائے رکھیں گی اور مزید کسی بحث کے بغیر فیصلہ اعلیٰ نواب پر ہی چھوڑ دیا جائے گا۔’’ یوں ایک ‘‘انتہائی احمق آدمی’’ ، جسے سرکشی کے نتیجے میں معزول ہونے والے اُس کے بڑے بھائی نے جانشینی کی روایات کے بھی برخلاف تخت پر بٹھانے کی کوشش کی تھی، اب غیر متوقع طور پر انقلابی ملک کے ریاستی ڈھانچے کے سوال کا سب سے بڑا ثالث بن گیا۔ جتنا بھی غیر متوقع لگے لیکن ریاست کے معاملات پر شرط لگانے کا مقابلہ شروع ہو چکا تھا۔ نواب کو اصطبل سے دور کرنے اور تخت پر بٹھانے کے لئے ملیوکوف نے اُسے یقین دہانی کروائی کہ پیٹروگراڈ کے باہر سے ایسی فوجی قوت مجتمع کرنے کا بہترین امکان موجود ہے جو اُس کے حقوق کا دفاع کر سکے۔ دوسرے الفاظ میں سوشلسٹوں کے ہاتھ سے طاقت لیتے ہی ملیوکوف نے شاہی کُو کا منصوبہ پیش کر دیا۔ دونوں اطراف کے لمبے چوڑے دلائل سننے کے بعد اعلیٰ نواب نے جواب کے لئے کچھ وقت مانگا۔ روڈزیانکو کو دوسرے کمرے میں بلاکر میخائل نے اُس سے صاف صاف پوچھا: نئے حکام اُسے صرف تاج کی ضمانت دیں گے یا ساتھ میں سر کی بھی؟بے مثال روڈزیانکو نے جواب دیا کہ وہ شاہ سے صرف یہی وعدہ کر سکتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اُس کے ساتھ مرے گا۔ بادشاہت کا امیدوار بالکل بھی مطمئن نہ ہوا۔ روڈزیانکو سے ملنے کے بعد دوما اور سوویت کے نمائندوں کے سامنے میخائل رومانوف نے ‘‘بڑے پراعتماد انداز میں’’ واضح کیا کہ وہ پیش کئے گئے باوقار لیکن خطرناک عہدے کو مسترد کرتا ہے۔ یہاں کیرنسکی، جو اِن مذاکرات میں جمہوریت کے ضمیر کا مجسم روپ تھا، خوشی کے مارے چھلانگ لگا کر اپنی کرسی سے اٹھا اور کہنے لگا: ‘‘عالی جاہ، آپ بہت عظیم الشان آدمی ہیں!’’ اور قسم اٹھائی کہ اب کے بعد ہر جگہ یہی اعلان کرے گا۔ ملیوکوف روکھے انداز میں رائے دیتا ہے، ‘‘کیرنسکی کا یہ جوش ابھی ابھی لئے گئے فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔’ ’ اِس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ڈرامے کے اس درمیانی وقفے کے متن نے جوش کی گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔ قدیم بیضوی تھیٹر کے ایک کونے پر ناچ تماشے کے ساتھ موازنے میں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ پردے لگا کر سٹیج کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا: ایک حصے میں لبرلوں کی منتیں انقلابی کر رہے کہ وہ انقلاب کو بچائیں، دوسرے حصے میں بادشاہت کی منتیں لبرل کر رہے تھے کہ وہ لبرلزم کو بچائے۔
سوویت کی مجلس عاملہ کے نمائندے واقعی حیران پریشان تھے کہ ملیوکوف جیسا نفیس اور دور اندیش آدمی آخر کیوں ایک پرانی بادشاہت پر اتنی ڈھٹائی سے ضد کر رہا تھا اور ایک رومانوف کو شامل نہ کئے جانے پر سارے اقتدار کو ہی مسترد کرنے کو تیار تھا۔ ملیوکوف کی شاہ پسندی نہ تو کوئی اصول پرستی تھی نہ ہی کوئی رومانس؛ اس کے برعکس یہ جائیداد کے خوفزدہ مالکوں کے عریاں حساب کتاب کا نتیجہ تھی۔ اس عریانی میں مایوس کن کمزوری پنہاں تھی۔ یہ درست ہے کہ ملیوکوف ، جو ایک تاریخ دان تھا، شاید فرانسیسی بورژوازی کے رہنما میرابو کی مثال دیتا، جس نے اپنے وقت میں انقلاب کی مصالحت بادشاہ سے کروانے کی کوشش کی تھی۔ تب بھی جائیداد مالکان کو اپنی جائیداد کے چھن جانے کا خوف لاحق تھا: زیادہ عیار حکمت عملی یہ تھی کہ اِسے بادشاہت کے پیچھے چھپایا جائے، بالکل ویسے جیسے بادشاہت نے خود کو کلیسا کے پیچھے چھپایا ہوا تھا۔ لیکن 1789ء میں شاہی اقتدار کی روایت ابھی تک ایک ہمہ گیر اور عمومی شناخت رکھتی تھی، ارد گرد کے سارے یورپ میں بادشاہتیں تھیں۔ تاہم بادشاہ سے چمٹے رہنے کے باوجود بھی فرانسیسی بورژوازی کے کچھ مفادات عوام سے مشترک تھے، کم از کم اِس لحاظ سے کہ یہ عوام کے خلاف اُنہی کے تعصبات کو استعمال کر رہی تھی۔ 1917ء کے روس میں صورتحال یکسر مختلف تھی۔ دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں بادشاہت کی بربادی کے ساتھ ساتھ خود روس کی بادشاہت بھی 1905ء میں ہی ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہو چکی تھی۔ 9 جنوری کے بعد فادر گاپون [۷] نے زار اور اُس کے ‘‘سپولیے’’ کو بددعا دی تھی۔ 1905ء کی مزدور نمائندگان کی سوویت نے کھل کر ایک جمہوریہ (Republic) کی تائید کی تھی۔ کسانوں کے شاہ پرست جذبات، جن سے بادشاہت بہت عرصہ توقعات وابستہ کئے رہی اور جس کا حوالہ دے کر بورژوازی خود اپنی شاہ پرستی چھپاتی رہی تھی، سرے سے وجودنہیں رکھتے تھے۔ بعد میں اٹھنے والے جارح رد انقلاب، جو کورنیلوف سے شروع ہوا، نے اگرچہ منافقت سے لیکن اس کے باوجود قطعی طور پر زارشاہی کے اقتدار کو رد کر دیا، بادشاہت کی جڑیں لوگوں میں اِتنی کم بچی تھیں۔ لیکن 1905ء کا یہی انقلاب جس نے بادشاہت کو شدید زخمی کر دیا تھا، اس نے ہمیشہ کے لئے ‘‘روشن خیال’’ بورژوازی کے جمہوری رجحانات کو بھی کھوکھلا کر دیا۔ ایک دوسرے کو منقطع کرتے ہوئے اِن دو عوامل نے ایک دوسرے کو مکمل کر دیا۔ فروری انقلاب کی ابتدائی گھڑیوں میں خود کو ڈوبتا محسوس کرتے ہوئے بورژوازی نے تنکے کا سہارا لینے کی کوشش کی۔ اُسے بادشاہت کی ضرورت تھی، اس لئے نہیں کہ یہ کوئی ایسا عقیدہ تھا جو اُس میں اور عوام میں مشترک تھا؛ بلکہ اِس لئے کہ عوام کے عقائد کے خلاف بورژوازی کے پاس بادشاہت کے بھوت کے سوا کچھ نہیں بچا تھا۔ روس کے ‘‘پڑھے لکھے طبقات’’ انقلاب کے میدان میں ایک معقول ریاست کا اعلان کرنے والوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ قرون وسطیٰ کے متروک اداروں کے محافظوں کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ نہ تو عوام اور نہ ہی اپنے اندر سے حمایت ملنے کی وجہ سے وہ اِسے اپنے سے بالا کہیں تلاش کرنے لگے۔ ارشمیدس نے سہارے کا کوئی نقطہ (Point of Support) مل جانے کی صورت میں زمین کو ہلا دینے کی بات کی تھی۔ ملیوکوف زمیندار کی جاگیر تہہ و بالا ہونے سے بچانے کے لئے سہارے کا نقطہ ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔ اِس کاروائی میں وہ خود کو ظالم روسی جرنیلوں اور کلیسا کے پادریوں کے زیادہ قریب محسوس کر رہا تھا، بہ نسبت اُن مطیع جمہوریت پسندوں کے جو صرف لبرلوں سے منظوری لینے کے لئے فکر مند تھے۔ ملیوکوف انقلاب کو توڑ ڈالنے کی حالت میں نہیں تھا، چنانچہ اُس نے عیاری سے انقلاب کو مات دینے کا پکا ارادہ کیا۔ وہ ایک بڑا سودہ کرنے کو تیار تھا: سپاہیوں کے لئے شہری آزادی، جمہوری بلدیائیں، آئین ساز اسمبلی، لیکن صرف ایک شرط پر: اُسے بادشاہت کی شکل میں ارشمیدسی سہارے کا نقطہ فراہم کیا جائے۔ اُس کا ارادہ تھا کہ جرنیلوں کے گروہوں، دوبارہ جڑتی ہوئی افسر شاہی، کلیسا کے شہزادوں، جائیداد مالکان اور انقلاب سے ناراض دوسرے تمام لوگوں کے لئے بادشاہت کو رفتہ رفتہ اور قدم بہ قدم ایک محور بنائے، ایک ‘‘علامت’’ سے شروعات کرے اور جوں ہی عوام انقلاب سے تھکیں اُنہیں ڈالنے کے لئے ایک حقیقی بادشاہی لگام تیار کی جائے۔ بس اگر اُسے کچھ وقت مل جاتا۔ کیڈٹ پارٹی کا ایک اور رہنما بعد میں بیان کرتا ہے کہ میخائل اگر تخت پر بیٹھ جانے کو راضی ہوجاتا تو کیا بڑا فائدہ ہوتا: ‘‘جنگ کے دوران آئین ساز اسمبلی بلانے کا مہلک سوال مٹ جاتا۔’’ ہمیں یہ الفاظ ذہن میں رکھنے چاہئیں۔ فروری اور اکتوبر کے درمیان آئین ساز اسمبلی کی تاریخوں کے تنازعے نے بہت جگہ گھیری۔ کیڈٹ اس دوران عوامی نمائندوں کی طلبی کو موخر کرنے کی اپنی نیت کا قطعی طور پر انکار کرتے رہے، جب کہ درحقیقت وہ ضد اور اصرار سے تاخیر کی پالیسی پر عمل پیرا تھے۔افسوس، اس کوشش میں وہ صرف خود پر ہی انحصار کر سکتے تھے: اُنہیں بادشاہت کا بہروپ نہیں مل سکا۔ میخائل کے بھاگ جانے کے بعد ملیوکوف کے پاس تنکے کا سہارا بھی نہیں تھا۔
[۱]یہاں دوما اتحاد (Duma Bloc) سے مراد دوما میں مختلف لبرل اور نام نہاد جمہوری پارٹیوں کا وہی ‘‘ترقی پسنداتحاد’’ ہے جس کا ذکر دوسرے باب میں بھی آیا ہے۔ یہ بنیادی طور پر اصلاح پسند اپوزیشن کا اتحاد تھا۔جنگ کی طرف اس اتحاد کا رویہ حب الوطنی پر مبنی تھا اور یہ نام نہاد ترقی پسند زارشاہی سے کچھ جمہوری اصلاحات چاہتے تھے۔شروع سے آخر تک یہ انقلاب کے دشمن رہے۔
[۲]یاد رہے کہ ٹاؤرائڈ محل ریاستی دوما کا مرکز تھا اور فروری انقلاب کے بعد یہ عبوری حکومت اور پیٹروگراڈ سوویت کا صدر دفتر بن گیا۔
[۳]ریچھ سے مراد یہاں زارشاہی ہے۔ مزدوروں اور سپاہیوں کے انقلاب کے زور پر بورژوازی اقتدار میں آنا چاہتی تھی لیکن اس فیصلہ کن وقت میں انقلاب کے ساتھ نتھی ہونے سے بھی ڈرتی تھی، اس خوف سے کہ اگر زارشاہی نے پلٹ کر وار کر کے انقلاب کو کچل دیا تو اُن کی بھی شامت آ جائے گی۔ وہ صرف ٹال مٹول کر کے دیکھ رہے تھے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ انقلاب کی فتح جوں جوں یقینی ہوتی گئی یہ سارے بورژوا لبرل اور دوسرے کیرئیراسٹ عناصر فوراً ‘‘انقلابی’’ بنتے گئے۔
[۴]اکتوبرسٹ پارٹی یا ‘‘17 اکتوبر کی یونین’’ ایک لبرل اصلاح پسند پارٹی تھی جس کا ایجنڈا آئینی بادشاہت تھا۔
[۵]یہاں نئی درمیانی پرت سے مراد مڈل کلاس، مزدور اشرافیہ اور روایتی اصلاح پسند رہنما ہیں۔
[۶]جرمن سوشل ڈیموکریسی کی قیادت نے 1918ء میں انقلاب سے غداری کرتے ہوئے اقتدار بورژوازی کے حوالے کر دیا تھا۔
[۷]9 جنوری 1905ء کی ‘خونی اتوار’ کے دن زار نے جس جلوس پر گولی چلوائی تھی اس کی قیادت فادر گاپون کر رہا تھا۔ یہاں سے ہی 1905ء کے انقلاب کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔اس کا پورا نام ‘جیورجی گاپون’ تھا ۔ وہ ایک پادری اور پاپولسٹ قسم کا مزدور رہنما تھا۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ وہ پولیس کا خبری بھی تھا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں