(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف‘انقلاب روس کی تاریخ’ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ‘جدوجہد’ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
انقلاب کے نتیجے میں نقصان اٹھانے والے طبقے کے وکلا اور صحافیوں نے اچھی خاصی سیاہی یہ ثابت کرنے میں ضائع کی ہے کہ فروری میں جو کچھ ہوا وہ درحقیقت خواتین کی بغاوت تھی، جس کے ساتھ بعد میں سپاہیوں کی بغاوت شامل ہو گئی اور اسے انقلاب کا نام دے دیا گیا۔ اپنے وقت میں لوئی شانزدھم نے بھی یہی سمجھنے کی کوشش کی تھی کہ باستیل کے قلعے [۱] پر قبضہ صرف ایک بغاوت تھی، لیکن مودبانہ انداز میں اُسے بتایا گیا کہ جناب یہ انقلاب ہے۔ انقلاب سے شکست کھانے والے اُسے اصل نام سے کم ہی پکارتے ہیں۔ کیونکہ زہریلے رجعت پسند لوگوں کی پوری کوشش کے باوجود یہ نام انسانیت کی تاریخی یادداشت میں تمام تر زنجیروں اور تعصبات سے آزادی کی روشنی سے گھرا ہوا ہے۔ ہر عہد کے مراعت یافتہ طبقات نے اپنے حواریوں سمیت ہمیشہ خود کو اکھاڑ پھینکنے والے انقلاب کو ماضی کے انقلابات کے برعکس ایک بغاوت، ایک دنگہ اور کسی ہجوم کی سرکشی قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ اپنا وقت پورا کرلینے والے طبقات حقیقت پسند نہیں ہوتے۔
27 تاریخ کے فوری بعد کوششیں کی جانے لگیں کہ انقلاب کو ‘نوجوان ترکوں’ کی طرز کے کسی فوجی کُو سے تشبیہہ دی جائے، جس کے خواب روسی بورژوازی کے بالائی حلقوں میں دیکھے جا رہے تھے۔ یہ تشبیہہ اتنی مایوس کن تھی کہ بورژوا اخباروں میں سے کسی ایک نے بھی اس کی سنجیدگی سے حمایت نہیں کی۔ ٹیوگن-بیرنووسکی ، جس نے اپنی جوانی میں مارکس کا مطالعہ کیا تھا اور جو روسی قسم کا ایک سومبارٹ تھا، نے 10 مارچ کو ‘برزیووئی ویڈوموستی’ اخبار میں لکھا: ‘‘ترکی کا انقلاب فوج کی کامیاب شورش پر مشتمل تھا جو فوجی قیادت نے برپا کی تھی؛ سپاہیوں نے صرف اپنے افسروں کے منصوبے کو تابعداری سے عملی جامہ پہنایا تھا۔ لیکن محافظ فوج کی رجمنٹوں، جنہوں نے 27 فروری کو روسی بادشاہت کو اکھاڑا، کے ساتھ افسران شامل نہیں تھے۔ فوج نے نہیں بلکہ مزدوروں نے سرکشی شروع کی؛ جرنیل نہیں بلکہ سپاہی ریاستی دوما آئے۔ سپاہیوں نے اپنے افسروں کے احکامات پر مزدوروں کا ساتھ نہیں دیا، بلکہ اس لئے دیا کہ وہ خود کو محنت کرنے والے ایک طبقے کے طور پر مزدوروں کے ساتھ خون کے رشتے میں بندھا محسوس کر رہے تھے۔ کسان اور مزدور، یہ وہ دو سماجی طبقات ہیں جنہوں نے انقلابِ روس برپا کیا۔’’
اِن الفاظ کو کسی درستی یا اضافے کی ضرورت نہیں ہے۔ انقلاب نے مزید آگے بڑھ کر اچھی طرح سے اِن کے معانی کی تصدیق کر دی۔ پیٹروگراڈ میں فروری کا آخری دن فتح کا پہلا دن تھا: سرمستی کا دن، بغل گیر ہونے،خوشی کے آنسو بہانے، بے اختیار جذباتی تقاریر کرنے کا دن؛ لیکن ساتھ ہی یہ دشمن پر آخری ضربیں لگانے کا دن بھی تھا۔ گلیاں ابھی تک گولیوں کی آوازوں سے گونج رہی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ پروٹوپوپوف کے فرعون، جنہیں عوامی فتح کی خبر نہیں ہوئی تھی، ابھی تک چھتوں سے گولیاں چلا رہے تھے۔ نیچے سے [مزدور اور سپاہی] بالائی منزلوں، مشکوک کھڑکیوں اور گھنٹہ گھروں کی طرف گولیاں برسا رہے تھے، جہاں زار شاہی کی مسلح باقیات کے چھپے ہونے کا امکان موجود تھا۔ تقریباً چار بجے بحریہ کے صدر دفتر پر قبضہ کر لیا گیا، جہاں ماضی کے ریاستی اقتدار کی باقیات نے پناہ لی ہوئی تھی۔ انقلابی تنظیمیں اور فوری ترتیب پانے والے گروہ پورے شہر میں گرفتاریاں کر رہے تھے۔ شلسل برگ کی سخت مشقتی جیل پر ایک گولی چلائے بغیر قبضہ کر لیا گیا۔ دارالحکومت اور نواحی علاقوں میں بھی زیادہ سے زیادہ رجمنٹیں انقلاب میں شامل ہو رہی تھیں۔
ماسکو میں انقلاب پیٹروگراڈ کی سرکشی کی ہی بازگشت تھا۔ سپاہیوں اور مزدوروں کا وہی مزاج تھا، لیکن اس کا اظہار کم واضح طور پر ہوا۔ وہاں بورژوازی کا رجحان ذرا زیادہ بائیں جانب تھا۔ انقلابی تنظیموں کی کمزوری پیٹروگراڈ سے بھی زیادہ تھی۔ جب سرکشی کے واقعات شروع ہوئے تو ماسکو میں ریڈیکل دانشوروں نے اس سوال پر ایک اجلاس بلایا کہ کیا کیا جائے، لیکن وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ 27 فروری کو ماسکو میں فیکٹریوں اور کارخانوں میں پہلے ہڑتالیں شروع ہوئیں اور پھر مظاہرے۔ افسروں نے سپاہیوں کو کہا کہ سڑکوں میں ہجوم دنگہ فساد مچا رہا ہے جسے کچلنا لازمی ہے۔ ایک سپاہی شیشیلنبیان کر تا ہے، ‘‘لیکن اُس وقت تک سپاہی لفظ ‘فساد’ کو الٹ معنوں میں سمجھ رہے تھے۔’’ دو بجے کے قریب مختلف رجمنٹوں کے کئی سپاہی یہ پوچھنے کے لئے شہری دوما کی عمارت پہنچے کہ انقلاب میں کیسے شامل ہوا جائے۔ اگلے دن ہڑتالیں بڑھ گئیں۔ ہجوم جھنڈے اٹھا کر دوما کی طرف جانے لگے۔فوج کی موٹر گاڑی کمپنی کا ایک سپاہی مورالوف ، جو ایک بالشویک، ایک زرعی ماہر اور ایک خوش طبع اور باہمت لمبا تڑنگا انسان تھا، دوما کے پاس پہلا مکمل اور منظم دستہ لایا، جس نے ایک وائرلیس سٹیشن اور کئی دوسرے مقامات پر قبضہ کر لیا۔ آٹھ مہینوں بعد ماسکو کے فوجی ڈسٹرکٹ کے دستوں کی کمان یہی مورالوف کر رہا ہو گا۔
جیلیں کھول دی گئیں۔ یہی مورالوف آزاد کرائے جانے والے سیاسی قیدیوں سے بھرا ٹرک چلا رہا تھا: اس کی لوہے کی ٹوپی پر ہاتھ رکھ کر ایک پولیس افسر نے پوچھا آیا یہودیوں کو بھی آزاد کرنا معقول تھا۔ ڈزرزنسکی، جو ابھی ابھی سخت مشقتی قید سے رہا ہوا تھا اور قیدیوں والے کپڑے بھی تبدیل نہیں کئے تھے، نے دوما میں خطاب کیا، جہاں نمائندگان کی ایک سوویت پہلے ہی تشکیل پا چکی تھی۔ توپچی ڈوروفیف بیان کرتا ہے کہ کیسے یکم مارچ کو ٹافیاں بنانے والی سائیف فیکٹری کے مزدور جھنڈے اٹھا کر توپخانے کی ایک بریگیڈ کی بیرکوں میں سپاہیوں سے ملنے گئے اور کیسے کئی افراد خوشی کے مارے رونے لگے۔ شہر میں گھات لگا کر گولیاں چلانے کے کچھ واقعات ہوئے، لیکن بالعموم کوئی مسلح تصادم یا اموات نہیں ہوئیں: ماسکو کا کام پیٹروگراڈ نے پہلے ہی آسان کر دیا تھا۔
کئی صوبائی دارالحکومتوں میں تحریک یکم مارچ کو کہیں جا کر شروع ہوئی، جب ماسکو میں بھی انقلاب برپا ہو چکا تھا۔ ٹویرمیں مزدور اپنے کام کی جگہوں سے جلوس کی شکل میں بیرکوں کو گئے اور سپاہیوں کے ساتھ مل کر شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ وہ ابھی تک انٹرنیشنل کی بجائے انقلابِ فرانس کا ترانہ (Marseillaise) پڑھ رہے تھے۔ نزھنی نووگوروڈ میں ہزاروں مزدور دوما کی اُس عمارت کے گرد جمع ہو گئے جس نے اکثر شہروں میں ٹاؤرائڈ محل والا کردار ادا کیا۔ میئر کی تقریر کے بعد مزدور سرخ جھنڈوں کے ساتھ جیلوں سے سیاسی قیدیوں کو آزاد کرانے چلے گئے۔ شام تک گیریزن کے اکیس میں سے اٹھارہ فوجی ڈویژن انقلاب میں شامل ہو چکے تھے۔ سمارا اور ساراٹوف میں جلسے ہوئے اور مزدور نمائندگان کی سوویتیں تشکیل پائیں۔ خارکوف میں پولیس کا سربراہ، جسے ریلوے سٹیشن پر انقلاب کی خبر ملی، ایک پرجوش ہجوم کے سامنے اپنی بوگی پر چڑھ گیا اور اپنی ٹوپی اتار کر پورے زور سے نعرہ لگایا: ‘‘انقلاب زندہ باد، آہا!’’ خارکوف سے خبر ایکاٹیرینوسلاو پہنچی۔ وہاں مظاہرے کی قیادت پولیس کا نائب سربراہ کر رہا تھا، ہاتھ میں پرانے وقتوں کے مذہبی جلوسوں کی طرح لمبی تلوار پکڑی ہوئی تھی۔ جب آخر کار یہ واضح ہو گیا کہ بادشاہت دوبارہ کھڑی نہیں ہو سکتی تو سرکاری دفاتر میں سے زار کی تصویریں احتیاطاً اتار کر بالائی کمروں میں چھپائی جانے لگیں۔ اس بارے کئی مصدقہ اور خیالی لطیفے لبرل حلقوں میں مشہور ہوئے، جہاں انقلاب کا ذکر ابھی تک مسخرے پن سے کیا جاتا تھا۔ تاہم مزدوروں میں اور سپاہیوں کی بیرکوں میں بھی واقعات کو بہت مختلف انداز میں لیا جا رہا تھا۔ کئی دوسرے صوبائی شہروں (پسکوف، اورل، رائبنسک، پینزا، قازان، زارٹسائن وغیرہ) کے بارے میں 2 مارچ کو ‘کرونیکل’ خبر دیتا ہے: ‘‘شورش کی خبر آئی اور آبادی انقلاب میں شامل ہو گئی۔’’ انتہائی مختصر ہونے کے باوجود یہ بیان واقعات کی بنیادی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔
شہروں سے انقلاب کی خبر قریبی دیہاتوں تک پہنچ گئی، کچھ سرکاری حکام کے ذریعے لیکن زیادہ تر منڈیوں، مزدوروں اور چھٹیوں پر آئے سپاہیوں کے ذریعے۔ شہروں کی نسبت دیہاتوں نے آہستگی اور کم ولولے کے ساتھ انقلاب کو قبول کیا، لیکن اسے کم گہرائی سے محسوس نہ کیا۔ اُن کے لئے یہ جنگ اور زمین کے سوال سے جڑا ہوا تھا۔
یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہو گی کہ فروری کا انقلاب پیٹروگراڈ نے برپا کیا۔ باقی ملک اس کے ساتھ جڑ گیا۔ پیٹروگراڈ کے علاوہ کہیں اور جدوجہد نہیں ہوئی۔ باقی ملک میں آبادی کے ایسے گروہ، پارٹیاں، ادارے یا فوجی یونٹ ہی موجود نہیں تھے جو پرانے نظام حکومت کے لئے لڑتے۔ یہاں سے پتا چلتا ہے کہ رجعتی لوگوں کی یہ بات کتنی بے بنیاد تھی کہ اگر پیٹروگراڈ گیریزن میں محافظ فوج کے گھڑسوار دستے ہوتے، یا اگر ایوانوف محاذ سے قابل اعتماد دستے لے آتا تو بادشاہت کا مقدر بدل جاتا۔ نہ ہی محاذ اور نہ ہی عقب میں کوئی ایسی بریگیڈ یا رجمنٹ موجود تھی جو نکولس دوم کے لئے لڑنے کو تیار ہوتی۔
انقلاب ایک ایسے شہر کی پہل قدمی اور قوت کی بنیاد پر برپا ہوا جو ملک کی تقریباً 1/75 آبادی پر مشتمل تھا۔ اگر آپ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ انتہائی دیوہیکل جمہوری عمل ایک انتہائی غیر جمہوری انداز میں ہوا۔ [پیٹروگراڈ کے ذریعے] پورے ملک کے مقدر کا تعین پہلے ہی ہو چکا تھا۔ یہ حقیقت بھی معاملے کو بدلتی نہیں ہے کہ ایک آئین ساز اسمبلی بلائی جانے والی تھی، کیونکہ اِس قومی نمائندگی کے اجلاس کی تاریخوں اور طریقوں کا تعین بھی انہی اداروں نے کیا جو پیٹروگراڈ کی فتح مند سرکشی سے برآمد ہوئے تھے۔ یہ سب بالخصوص ایک انقلابی عہد میں جمہوریت کی عمومی شکلوں کے فعل کے سوال پر گہری روشنی ڈالتا ہے۔ انقلابات ہمیشہ عوامی منشا کے قانونی استصنام (Fetishism) پر ایسی ہی ضربیں لگاتے ہیں، یہ ضربیں اُتنی ہی بے رحم ہوتی ہیں جتنے زیادہ گہرے، نڈراور جمہوری یہ انقلابات ہوتے ہیں۔
خاص طور پر عظیم انقلابِ فرانس کے حوالے سے یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ بادشاہت کی انتہائی مرکزیت بعد میں انقلابی دارالحکومت کو بھی اس قابل بناتی ہے کہ وہ پورے ملک کی جگہ پر سوچ سکے اور عمل کر سکے۔ یہ وضاحت سطحی ہے۔ اگر انقلابات میں مرکزیت کا رجحان ہوتا ہے تو وہ اکھاڑی جانے والی بادشاہتوں کی نقالی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اُس نئے سماج کے ناقابل مزاحمت تقاضوں کے نتیجے میں ہوتا ہے جس کی مصالحت ‘تفریق پسندی’ [۲] سے نہیں ہو سکتی۔ اگر دارالحکومت انقلاب میں ایسا غالب کردار ادا کرتا ہے جیسے پوری قوم کی مرضی و منشا اس میں مجتمع ہو گئی ہو تو ایسا اس لئے ہے کہ دارالحکومت ایک نئے سماج کے بنیادی رجحانات کا انتہائی واضح اور تفصیلی اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ داراحکومت کے اقدامات کی پیروی صوبے ایسے کرتے ہیں جیسے وہ انہی کے مقاصد کو عملی جامہ پہنا رہا ہو۔انقلاب کو شروع کرنے میں مرکزی شہروں کا کردار جمہوریت کی خلاف ورزی نہیں ہے، بلکہ یہ تو جمہوریت کو ایک متحرک انداز میں عملی جامہ پہناتا ہے۔ تاہم عظیم انقلابات میں اس عمل کی حرکیات کبھی بھی باقاعدہ نمائندہ جمہوریت سے ہم آہنگ نہیں ہوتی ہیں۔ صوبے دارالحکومت کی سرگرمیوں کی پیروی کرتے ہیں، لیکن کچھ تاخیر سے۔ واقعات کا تیز ارتقا، جو انقلاب کی خاصیت ہوتا ہے، انقلابی پارلیمانیت میں ایسا گہرا بحران پیدا کر دیتا ہے جو جمہوری طریقوں سے حل نہیں ہو سکتا۔ تمام حقیقی انقلابات میں قومی نمائندگی ناگزیر طور پر انقلاب کی اُس متحرک قوت کے ساتھ تضاد میں آتی ہے جس کا مرکز دارالحکومت ہوتا ہے۔ سترہویں صدی کے برطانیہ، اٹھارہویں صدی کے فرانس اور بیسویں صدی کے روس میں ایسا ہی ہوا۔ دارالحکومت کے کردار کا تعین افسر شاہانہ مرکزیت کی روایت نہیں بلکہ قیادت کرنے والے انقلابی طبقے کی صورتحال کرتی ہے، جس کے ہراول حصے سب سے بڑے شہر میں مجتمع ہوتے ہیں؛ یہ بات بورژوازی اور پرولتاریہ، دونوں کے لئے برابر درست ہے۔
جب فروری کی فتح مکمل طور پر یقینی ہو چکی تو جانی نقصانات کا شمار شروع کیا گیا۔ پیٹروگراڈ میں 1443 لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں سے 869 سپاہی اور 60 افسران تھے۔ عالمی جنگ کے وسیع قتل عام کی کسی ایک لڑائی کے مقابلے میں بھی یہ اعداد و شمار انتہائی معمولی ہیں۔ لبرل اخباروں نے فروری انقلاب کو خون خرابے سے پاک قرار دیا۔ عمومی خوشگواری اور حب الوطن پارٹیوں کی باہمی معافی تلافی کے دنوں میں کسی نے سچ معلوم کرنے کی زحمت نہ کی۔ البرٹ تھامس، جو ہر فاتح کا دوست بن جاتا تھا، حتیٰ کہ فاتح سرکشی کا بھی، نے انقلاب کو ‘‘بالکل کسی چھٹی کے دن کی طرح تابناک، روس کا سب سے پرامن انقلاب’’ قرار دیا۔ یقینا اسے امید تھی کہ یہ انقلاب فرانس کی سٹاک مارکیٹ کا وفادار رہے گا۔ لیکن یہ عادت تھامس نے ایجاد نہیں کی تھی۔ 27 جون 1789ء کو میرابو (Mirabeau) نے بھی [انقلاب فرانس کے بارے میں] جذباتی انداز سے کہا تھا: ‘‘کتنی اچھی بات ہے کہ یہ عظیم انقلاب کسی بد حرکت اور آنسوؤں کے بغیر ختم ہو جائے گا!… تاریخ ہمیشہ سے ہمیں درندوں کی حرکات کے بارے میں ہی بتاتی رہی ہے… اب ہم امید کر سکتے ہیں کہ ہم انسانوں کی تاریخ شروع کر رہے ہیں۔’’جب تینوں درجات (Estates) قومی اسمبلی میں یکجا ہو چکے تو البرٹ تھامس جیسوں نے لکھا تھا: ‘‘انقلاب ختم ہو گیا۔ اس کے لئے خون کا ایک قطرہ نہیں بہانا پڑا۔’’تاہم ہمیں ماننا پڑے گا کہ اُس وقت تک خون بہنا ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا۔ فروری کے دنوں میں ایسا نہیں تھا۔ تاہم پرامن انقلاب کی داستان سختی سے قائم تھی، جس کی ضرورت لبرل بورژوازی کو تھی، تاکہ یہ تاثر دے سکے کہ طاقت خود بخود اُس کے ہاتھوں میں آ گئی تھی۔
اگرچہ فروری انقلاب خون خرابے سے خالی نہیں تھا، لیکن نہ صرف انقلاب کے وقت بلکہ اس کے بعد کے ابتدائی عرصے میں بھی ہلاکتوں کی کم تعداد حیران کن ہے ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ انقلاب اس جبر، ستم، ذلتوں اور نفرت انگیز ضربوں کا حساب تھا جنہیں روس کے عوام نے صدیوں برداشت کیا تھا۔ جہازیوں اور سپاہیوں نے یقینا کچھ جگہوں پر اپنے افسروں سے حقارت آمیز اذیت کا فوری انتقام لیا،لیکن ابتدا میں حساب چکتا کرنے کی ایسی کاروائیوں کی تعداد پرانی خونریز ذلتوں کے مقابلے میں بہت معمولی تھی۔ عوام نے کافی دیر بعد ہی اپنی خوش اخلاقی کو جھٹک کر پرے پھینکا، جب انہیں یقین ہو گیا کہ حکمران طبقات سب کچھ واپس گھسیٹ لینا چاہتے ہیں اور ایک ایسے انقلاب کو ہتھیانا چاہتے ہیں جو انہوں نے برپا ہی نہیں کیا، بالکل اُسی طرح جیسے انہوں نے زندگی کی وہ ساری اچھی چیزیں ہمیشہ ہتھیائی ہیں جو انہوں نے پیدا نہیں کیں۔
ٹیوگن- بیرنووسکی بالکل درست کہتا ہے کہ فروری انقلاب مزدوروں اور کسانوں نے برپا کیا، موخرالذکر سپاہیوں کی شکل میں تھے۔ لیکن ایک بڑا سوال ابھی بھی باقی ہے: انقلاب کی قیادت کس نے کی؟ مزدوروں کو اپنے پیروں پر کس نے کھڑا کیا؟ سپاہیوں کو کون سڑکوں پر لایا؟ فتح کے بعد یہ سوالات پارٹی تنازعے کا موضوع بن گئے۔ اس آفاقی کلیے سے تو وہ بڑی آسانی سے حل ہو سکتے تھے : کسی نے انقلاب کی قیادت نہیں کی، وہ خود بخود ہو گیا۔ ‘‘خود روی’’ (Spontaneousness) کا یہ نظریہ نہ صرف اُن معززین کے لئے بڑا موزوں ہے جو کل تک حکام، جج، وکیل، تاجر یا کمانڈر تھے اور آج انقلاب میں شامل ہونے کی جلدی میں تھے، بلکہ بہت سے پیشہ ور سیاستدانوں اور سابقہ انقلابیوں کے لئے بھی موافق ہے، جو انقلاب کے دوران سوتے رہنے کے باوجود خواہشمند تھے کہ اُن میں اور باقیوں میں فرق مٹ جائے۔
اپنی دلچسپ کتاب ‘روس میں انتشاروں کی تاریخ’ میں سفید فوج کا سابقہ کمانڈر جنرل ڈینیکن 27 فروری کے بارے میں کہتا ہے: ‘‘اُس فیصلہ کن دن کوئی رہنما نہیں تھے، صرف عناصر تھے۔ اُن کے خوفناک دھارے میں مقاصد، منصوبے یا نعرے نظر نہیں آ رہے تھے۔’’ پڑھا لکھا تاریخ دان ملیوکوف بھی لفاظی کے علاوہ اس جرنیل سے زیادہ گہرا نہیں سوچ سکا۔ انقلاب سے پہلے لبرل رہنما انقلاب کے ہر خیال کو جرمن فوج کی سازش قرار دیتے تھے۔ لیکن انقلاب کے نتیجے میں لبرلوں کے اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال زیادہ پیچیدہ ہو گئی۔ ملیوکوف کا کام اب انقلاب کو جرمن سازش قرار دے کر اس کی تذلیل کرنا نہیں بلکہ اِس کے برعکس انقلاب شروع کرنے کا اعزاز انقلابیوں سے چھیننا تھا۔ اِس لئے لبرلزم نے پوری دلجمعی سے خود رو اور غیر شخصی انقلاب کا نظریہ اپنا لیا۔ ملیوکوف بڑی ہمدردی سے ایک نیم لبرل، نیم سوشلسٹ سٹینکیوچکا حوالہ دیتا ہے: ‘‘عوام ناقابل توجیہ داخلی احکامات بجا لاتے ہوئے خود ہی متحرک ہوگئے۔ کن نعروں کے ساتھ سپاہی باہر نکلے؟ جب اُنہوں نے ضلعی عدالت کو جلایا، جب اُنہوں نے پیٹروگراڈ کو فتح کیا تو اُن کی قیادت کون کر رہا تھا؟ کوئی سیاسی نظریہ نہیں، کوئی انقلابی نعرہ نہیں، کوئی سازش نہیں، کوئی بغاوت نہیں، بلکہ ایک خودرو تحریک، جس نے اچانک سارے پرانے اقتدار کو جلا کر رکھ دیا۔’’ یہاں پر آ کر خودروی ایک پراسرار شکل اختیار کر لیتی ہے۔
یہی سٹینکیوچ ایک انتہائی قابل قدر شہادت بھی دیتا ہے: ‘‘جنوری کے اواخر میں، میں کیرنسکی سے ملنے ایک قریبی حلقے میں گیا… ایک عوامی شورش کے امکانات کے بارے میں اُن سب کی رائے نفی میں تھی، اُنہیں خوف تھا کہ ایک عوامی تحریک اگر اٹھ گئی تو انتہائی بائیں طرف جا سکتی ہے اور اس سے جنگ کے دوران بڑی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔’’ کیرنسکی کے حلقے کی سوچ کیڈٹوں سے مختلف نہیں تھی۔ انقلاب کا آغاز اُنہوں نے نہیں کیا تھا۔ سوشل انقلابی پارٹی کا صدر زینزینوف کہتا ہے، ‘‘انقلاب صاف آسمان سے بجلی کی طرح گرا۔ بے جھجک ہو کر بات کرتے ہیں: ہم انقلابیوں کے لئے بھی یہ خوشگوار حیرت کا باعث تھا، جنہوں نے اِس کے لئے سالہا سال کام اور انتظار کیا تھا۔’’
منشویکوں کا حال بھی کوئی بہتر نہیں تھا۔سکوبیلیف، جو بعد ازاں انقلابی حکومت کا وزیر بنا، سے 21 فروری کو ٹرام گاڑی میں ملاقات کا حال ایک غیر ملکی بورژوا صحافی بیان کرتا ہے : ‘‘تحریک کے قائدین میں شامل اِس سوشل ڈیموکریٹ رہنما نے مجھے بتایا کہ ہنگاموں کا کردار لوٹ مار پر مبنی تھا، جسے کچلنا ضروری تھا۔ تاہم یہی سکوبیلیف ایک ماہ بعد کہہ رہا تھا کہ انقلاب اُس نے اور اُس کے دوستوں نے برپا تھا۔’’یہاں رنگ شاید تھوڑے گہرے ہیں لیکن بنیادی طور پر قانونی سوشل ڈیموکریٹوں، یعنی منشویکوں کی حالت بڑی درستی سے بیان کی گئی ہے۔
سب سے آخر میں مٹسلاوسکی ، جو سوشل انقلابیوں کے بائیں بازو کے سب سے حالیہ رہنماؤں میں شامل تھا اور جو بعد ازاں بالشویکوں سے مل گیا، فروری کی شورش کے بارے میں کہتا ہے: ‘‘انقلاب نے ہم پارٹی کے لوگوں کو انجیل کی احمق دوشیزاؤں کی طرح نیند میں دبوچ لیا۔’’ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ اُن کی دوشیزاؤں سے کتنی مماثلت تھی، لیکن یہ سچ ہے کہ وہ سب واقعی گہری نیند سو رہے تھے۔
بالشویکوں کی کیا صورتحال تھی؟ کچھ تو ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔ زیر زمین بالشویک تنظیم کے اہم رہنما تین لوگ تھے، جن پر مرکزی کمیٹی کا بیورو مشتمل تھا: سابقہ مزدور شلیاپنیکوف اور زالٹسکی اور سابقہ طالب علم مولوٹوف۔ کچھ عرصہ بیرون ملک اور لینن کی قربت میں رہنے کی وجہ سے شلیاپنیکوف اِن تینوں میں سیاسی لحاظ سے سب سے بالغ اور متحرک تھا۔ تاہم شلیاپنیکوف کی اپنی یادداشتیں تصدیق کرتی ہیں کہ واقعات اِن تینوں کی فہم سے بھی بالاتر تھے۔ آخری وقت تک یہ رہنما سوچ رہے تھے کہ یہ مسلح سرکشی کی بجائے صرف ایک انقلابی مظاہرہ تھا۔ ہمارا دوست کائیوروف، جو وائبورگ کے رہنماؤں میں شامل تھا، بالکل واضح اندازمیں کہتا ہے: ‘‘پارٹی مراکز کی جانب سے کوئی رہنمائی نہیں ملی… پیٹروگراڈ کمیٹی گرفتار ہو چکی تھی اور مرکزی کمیٹی کے نمائندے کامریڈ شلیاپنیکوف آنے والے دن کے لئے کوئی ہدایات جاری کرنے سے قاصر تھے۔’’
زیر زمین تنظیموں کی کمزوری پولیس کے چھاپوں کا براہ راست نتیجہ تھی، جنہوں نے جنگ کے آغاز میں حب الوطنی کے مزاج کے پیش نظر بڑے غیر معمولی نتائج دئیے تھے۔انقلابی تنظیموں سمیت ہر تنظیم میں اپنی سماجی بنیادوں سے پیچھے رہ جانے کا رجحان ہوتا ہے۔ 1917ء کے آغاز میں بالشویکوں کی زیر زمین تنظیم ابھی تک اپنی کچلی اور بکھری ہوئی کیفیت سے بحال نہیں ہو پائی تھی، جبکہ عوام میں حب الوطنی کے جنون کی جگہ بڑی تیزی سے انقلابی طیش نے لے لی تھی۔
انقلابی قیادت کے شعبے میں صورتحال کا صحیح ادراک حاصل کرنے کے لئے یہ یاد رکھنا ضروری ہے سب سے زیادہ معتبر انقلابی، یعنی بائیں بازو کی پارٹیوں کے رہنما ملک سے باہر تھے اور اُن میں سے کچھ قید یا جلاوطن تھے۔ کوئی پارٹی ریاست کے لئے جتنی خطرناک تھی، انقلاب کے وقت وہ اتنی ہی سرکٹی نظر آتی تھی۔ دوما میں نرودنکوں کے دھڑے کا سربراہ، کسی پارٹی سے غیر وابستہ (Non-Party) ریڈیکل کیرنسکی تھا۔ سوشل انقلابیوں کا باضابطہ رہنما چرنوف ملک سے باہر تھا۔ دوما میں منشویکوں کے دھڑے کے رہنما شکائدز اور سکوبیلیف تھے؛ مارٹوف ملک سے باہر تھا؛ ڈین اور سریتیلی (Tseretelli) جلاوطن تھے۔ انقلابی ماضی رکھنے والے سوشلسٹ دانشوروں کی معقول تعداد اِنہی نرودنک اور منشویک دھڑوں کے گرد جمع تھی۔ اس سے ایک طرح کی سیاسی قیادت تشکیل پاتی تھی، لیکن ایسی جو صرف فتح کے بعد ہی سامنے آنے کے قابل تھی۔ بالشویکوں کا دوما میں کوئی دھڑا نہیں تھا: دوما میں اُن کے پانچ مزدور نمائندے، جنہیں زارشاہی انقلاب کا تنظیمی مرکز سمجھتی تھی، جنگ کے ابتدائی چند مہینوں میں ہی گرفتار ہو چکے تھے۔ لینن ملک سے باہر تھا، زینوویف اُس کے ساتھ تھا؛ کامینیف بھی جلاوطنی میں تھا؛ اُس وقت کم جانے جانے والے عملی رہنما سویڈلوف، رائیکوف اور سٹالن بھی جلاوطن تھے۔ پولینڈ کا سوشل ڈیموکریٹ ڈزرزنسکی، جو ابھی بالشویکوں میں شامل نہیں ہوا تھا، سخت مشقت کی سزا کاٹ رہا تھا۔ ملک میں موجود رہنما چونکہ انتہائی بااختیار پارٹی قیادت کے تحت کام کرنے کے عادی تھے ، لہٰذا وہ خود کو اور باقی لوگ اُنہیں انقلابی واقعات میں رہنما کردار ادا کرنے کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔
لیکن اگر بالشویک پارٹی سرکشی کو بااختیار قیادت فراہم نہیں کر سکی تو باقی تنظیموں کے بارے بات کرنا ہی بیکار ہے۔ یہ حقیقت فروری انقلاب کے خودرو کردار پر یقین کو مستحکم کرتی ہے۔ تاہم یہ یقین بالکل غلط ہے، یا کم از کم بے معنی ضرورہے۔
دارالحکومت میں جدوجہد ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے نہیں بلکہ پانچ دن جاری رہی۔ رہنماؤں نے اِسے روکنے کی کوشش کی؛ عوام نے اور زیادہ قوت سے جواب دیا اور پیش قدمی کی۔ اُن کے مقابلے میں پرانی ریاست تھی، جس کی روایتی وضع قطع کے پیچھے گمان تھا کہ دیوہیکل طاقت ابھی تک موجود تھی: ریاستی دوما کیساتھ لبرل بورژوازی ، زمینی اور شہری یونینیں، فوجی صنعتی تنظیمیں ، درس گاہیں اور یونیورسٹیاں، انتہائی جدید صحافت اور سب سے آخر میں دو مضبوط سوشلسٹ پارٹیاں ، جو نیچے سے ہونے والے حملے کے خلاف حب الوطن مزاحمت کرتی تھیں۔ ایسے میں بالشویک پارٹی ہی سرکشی کے لئے موزوں ترین تنظیم تھی، لیکن یہ ایک سرکٹی تنظیم تھی، جس کی قیادت بکھری ہوئی تھی اور غیر قانونی مرکزے کمزور تھے۔ لیکن اس کے باجود انقلاب، جس کی توقع اُن دنوں کوئی نہیں کر رہا تھا، پھٹ پڑا اور جب اوپر سے محسوس ہو رہا تھا کہ تحریک مر رہی ہے، اُس نے اچانک دوبارہ زندہ ہو کر دیوہیکل اضطراب کے ساتھ فتح چھین لی۔
جارحیت اور استقامت کی یہ بے مثال قوت کہاں سے آئی؟ عوام کے تلخ احساسات کی طرف اشارہ کرنا کافی نہیں ہے۔ اکیلی تلخی یہ سب کرنے کے لئے ناکافی تھی۔ پیٹروگراڈ کے مزدور چاہے جنگ کے دوران [دیہاتوں سے بڑے پیمانے پر شہر آنے والے] انسانی خام مال سے کتنے بھی رقیق ہوگئے ہوں، اُن کے پاس ماضی کا عظیم انقلابی تجربہ تھا۔ اوپر سے مخالفت اور قیادت کی عدم موجودگی کے باوجود اُن کی جارحیت اور استقامت میں قوتوں کا انتہائی معقول تخمینہ اور تذویراتی حساب کتاب موجود تھا، اگرچہ اِس کا اظہار ہمیشہ نہیں ہوتا تھا۔
جنگ سے قبل مزدوروں کی انقلابی پرتیں بالشویکوں کی پیروی اور عوام کی قیادت کر رہی تھیں۔ جنگ شروع ہوجانے پر صورتحال میں گہری تبدیلی آئی: قدامت پسند گروہ سر اٹھانے لگے اور اپنے پیچھے طبقے کے ایک بڑے حصے کو بھی گھسیٹ لے گئے۔ انقلابی عناصر نے خود کو تنہا اور خاموش پایا۔ جنگ کے دوران صورتحال پہلے پہل آہستگی سے، لیکن محاذ پر شکستوں کے بعد تیزی سے اور زیادہ قطعی طور پر بدلنے لگی۔ ایک متحرک بے چینی نے سارے محنت کش طبقے کو اپنے غلبے میں لے لیا۔ یقینا یہ بے چینی کسی حد تک حب الوطنی کے رنگ میں رنگی تھی، لیکن یہ اُن ملکیتی طبقات کی حساب کتاب اور بزدلی پر مبنی حب الوطنی سے بالکل مختلف تھی جو سارے داخلی سوالات کو جیت تک موخر کر رہے تھے۔خود جنگ نے ، اِس کے متاثرین نے، اِس کی ہولناکیوں نے، اِس کی ذلت نے مزدوروں کی نہ صرف پرانی بلکہ نئی پرتوں کو بھی زارشاہی ریاست کے ساتھ متصادم کر دیا۔ اِس نے ایک نئی شدت سے ایسا کیا اور مزدوروں کو اس نتیجے تک لے گئی: ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ ہمہ گیر نتیجہ تھا، جس نے عوام کو یکجا کر دیا اور انہیں دیوہیکل متحرک قوت عطا کر دی۔
دسیوں لاکھ مزدوروں اور کسانوں کی شمولیت سے فوج بہت پھول چکی تھی۔ ہر کسی کے اپنے لوگ فوج میں تھے؛ بیٹے، خاوند، بھائی، رشتہ دار۔ جنگ سے پہلے کی طرح اب فوج عوام سے کٹی ہوئی نہیں تھی۔ لوگ اب سپاہیوں سے زیادہ ملنے جلنے لگے تھے؛ محاذ پر بھیجتے ہوئے اُنہیں الوداع کہتے تھے، جب وہ گھر آتے تھے تو اُن کے ساتھ رہتے تھے، سڑکوں اور ٹرام گاڑیوں میں اُن کیساتھ محاذ کے بارے میں بات چیت کرتے تھے، ہسپتالوں میں اُن کی عیادت کرنے جاتے تھے۔ مزدوروں کے علاقے، بیرکیں، محاذ اور کسی حد تک دیہات بھی اس تبادلہ خیال کے وسیلے بن گئے تھے۔ مزدور جاننے لگے تھے کہ سپاہی کیا سوچ اور محسوس کر رہے تھے۔ اُن کے درمیان جنگ، جنگ سے امیر ہونے والے لوگوں، جرنیلوں، حکومت، زار اور زارینہ کے بارے میں بے شمار باتیں ہوتی تھیں۔ جنگ کے بارے میں سپاہی کہتے تھے: بھاڑ میں جائے! اور حکومت کے بارے میں مزدور کہتے تھے: بھاڑ میں جائے! سپاہی کہتے تھے: پھر تم دارالحکومت میں چپ چاپ کیوں بیٹھے ہو؟ مزدور جواب دیتے تھے: خالی ہاتھ ہم کچھ نہیں کر سکتے، 1905ء میں حکومت کے خلاف نکلے تھے تو فوج نے ہی ہمیں مارا تھا۔ سپاہیوں کا رد عمل ہوتا: کیا خیال ہے اگر ہم اکٹھے نکل پڑیں؟ مزدور: بالکل، اکٹھے نکلنا ہو گا! جنگ سے پہلے اس طرح کی گفتگو سازشی انداز میں اکا دکا لوگ آپس میں کرتے تھے؛ لیکن اب یہ ہر جگہ اور ہر موقع پر اور تقریباً سرِ عام ہو رہی تھی، کم از کم مزدور علاقوں میں ایسا ہی تھا۔
زار کی خفیہ پولیس بڑی تاک سے ان باتوں کی بازگشت مسلسل سن رہی تھی۔ انقلاب سے دو ہفتے قبل ایک جاسوس، جس نے اپنا نام کرسٹیانینوف رکھا ہوا تھا، نے مزدور علاقے سے گزرنے والی ایک ٹرام گاڑی میں ہونے والی بات چیت کی رپورٹ دی۔ سپاہی بتا رہا تھا کہ کیسے اُس کی رجمنٹ کے آٹھ بندے سخت مشقت کی سزا کاٹ رہے تھے کیونکہ اُنہوں نے نوبل فیکٹری کے مزدوروں پر گولی چلانے سے انکار کیا تھا اور الٹا پولیس والوں پر گولی چلا دی تھی۔ یہ گفتگو کھلے عام ہو رہی تھی، کیونکہ مزدور علاقوں میں پولیس اور جاسوسوں کی کوشش ہوتی تھی کہ اُن پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ سپاہی نے کہا، ‘‘ہم اُن سے حساب چکتا کریں گے۔’’ رپورٹ میں مزید درج ہے: ‘‘ایک ہنرمند مزدور نے اُسے جواب دیا: ‘اِس کے لئے ضروری ہے کہ منظم ہوا جائے تاکہ سب یکجا ہو جائیں۔’ سپاہی نے جواب دیا: ‘پریشان نہ ہو، ہم بڑے عرصے سے منظم ہیں… وہ بہت خون پی چکے۔ سپاہی مورچوں میں ذلیل ہو رہے ہیں اور وہ اپنے پیٹ موٹے کر رہے ہیں۔’کوئی خاص گڑ بڑ نہیں ہوئی۔ 10 فروری 1917ء ۔کرسٹیانینوف۔’’ ایک جاسوس کی بے مثال کہانی!‘‘کوئی خاص گڑبڑ نہیں ہوئی۔’’ گڑبڑ ہونے والی تھی اور بہت جلد ہونے والی تھی: ٹرام گاڑی میں ہونے والی یہ گفتگو اس کی ناگزیر آمد کا پتا دے رہی تھی۔
سرکشی کی ‘خود روی’ کو مٹسلاوسکی بڑی دلچسپ مثال سے بیان کرتا ہے: انقلاب کے فوراً بعد قائم ہونی والی ‘‘27 فروری کی افسر یونین’’ نے ایک سوال نامے کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ سرکشی میں وولائنسکی رجمنٹ کی قیادت سب سے پہلے کس نے کی، جواب میں اُنہیں اِس فیصلہ کن اقدام کا آغاز کرنے والوں کے سات نام ملے۔ عین ممکن ہے کہ اِس اقدام میں کئی سپاہی شامل ہوں اور یہ بھی ناممکن نہیں کہ پیش قدمی کرنے والا کلیدی فرد سڑک پر لڑتے ہوئے گمنامی میں مارا گیا ہو۔ لیکن اِس سے اُسکی گمنام پیش قدمی کی تاریخی اہمیت مٹ نہیں جاتی۔ معاملے کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ اہم ہے، جو ہمیں بیرک کے کمرے کی دیواروں سے آگے لے جائے گا۔ محافظ فوج کی بٹالینوں کی سرکشی، جو لبرل اور قانونی سوشلسٹ حلقوں کے لئے انتہائی حیران کن تھی، مزدوروں کے لئے بالکل بھی حیران کن نہیں تھی۔ مزدوروں کی سرکشی کے بغیر وولائنسکی رجمنٹ سڑکوں پر نہ نکلتی۔ سڑک پر مزدوروں کا کاسکوں کے ساتھ آمنا سامنا، جسے ایک وکیل نے کھڑکی سے دیکھا اور پھر ٹیلی فون کے ذریعے دوما کے ایک ممبر کو بتایا، اُن دونوں افراد کے لئے ایک ایسے عمل کا حصہ تھا جس میں وہ خود شامل نہیں تھے: فیکٹری والوں کے ایک ہجوم کا بیرک والوں کے ایک ہجوم سے آمنا سامنا۔ لیکن یہ سب اُس کاسک کے لئے بالکل مختلف تھا جس نے مزدور کو آنکھ مارنے کی جرات کی تھی اور اُس مزدور کے لئے بھی جس نے فوراً نتیجہ نکالا تھا کہ کاسک نے اُسے ‘‘دوستانہ انداز میں آنکھ ماری ہے۔’’ فوج کے عوام میں شامل ہوجانے کا سالماتی عمل مسلسل جاری تھا۔ فوج کی تپش کو مزدور محسوس کرتے تھے اور فوراً اپنی طرف اس کی قربت کا انتہائی باریک بینی سے ادراک کرتے تھے۔ بالکل یہی وہ عمل تھا جس نے عوام،جنہیں فتح کا پورا یقین تھا، کے حملے کو ناقابل تسخیر قوت عطا کر دی ۔
یہاں ہم ایک لبرل اہلکار کا کھرا تبصرہ پیش کرنا چاہیں گے، جس میں فروری کے مشاہدات کا خلاصہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے: ‘‘یہ کہنا روایت بن چکا ہے کہ تحریک خودرو طریقے سے شروع ہوئی اور سپاہی خود ہی سڑکوں پر آ گئے۔ میں اس سے بالکل اتفاق نہیں کر سکتا۔ آخر ‘‘خودروی’’ کے لفظ کا کیا مطلب ہے؟… خودرو ہونے کا یہ تاثر فطری سائنس کے مقابلے میں سماجیات میں کہیں زیادہ بے تکا ہے۔یہ حقیقت کہ کوئی انقلابی رہنما تحریک پر اپنا نام چسپاں نہیں کر سکا، تحریک کو غیر شخصی نہیں بلکہ صرف بے نام بناتی ہے۔’’ ملیوکوف کی جانب سے جرمن ایجنٹوں اور روسی خودروی کے حوالوں کی نسبت سوال کی یہ کہیں زیادہ سنجیدہ کلیہ سازی ایک سابقہ سرکاری وکیل نے کی ہے، جو انقلاب کے وقت زار پرست سنیٹر تھا۔ عین ممکن ہے کہ عدالتوں کے تجربے نے زواڈسکی کو یہ ادراک کرنے کے قابل بنایا ہو کہ انقلابی سرکشی نہ تو غیر ملکی طاقتوں کے حکم پر ہو سکتی ہے، نہ ہی فطرت کے غیر شخصی عمل کے نتیجے میں۔
یہی مصنف دوایسے واقعات بیان کرتا ہے جنہوں نے اُسے دروازے کے سوراخ میں سے انقلابی عمل کی تجربہ گاہ میں جھانکنے کا موقع دیا۔ جمعہ 24 فروری [۳]کو جب بالائی حلقوں میں کسی کو بھی مستقبل قریب میں انقلاب کی توقع نہیں تھی، ایک ٹرام گاڑی، جس میں ایک سنیٹر سفر کر رہا تھا، غیر متوقع طور پر بند ہو گئی، جھٹکوں سے کھڑکیاں کھڑکھڑانے لگیں اور ایک ٹوٹ بھی گئی، گاڑی لیٹینی شاہراہ کے ساتھ والی سڑک پر جا کر رک گئی۔ کنڈکٹر نے سب سے اتر جانے کو کہا: ‘‘گاڑی آگے نہیں جائے گی۔’’ مسافر اعتراض اور لعن طعن کرنے لگے، لیکن اتر گئے۔ ‘‘مجھے ابھی تک اُس خاموش کنڈکٹر کا چہرہ اچھی طرح یاد ہے : غصے سے پرعزم، بھیڑئیے جیسا ۔’’ جہاں تک نظر دیکھ سکتی تھی ٹرام گاڑیوں کی حرکت ہر جگہ رک گئی۔ وہ پرعزم کنڈکٹر، جو اُس لبرل افسر کو ابھی سے ‘‘بھیڑئیے جیسا’’ لگ رہا تھا، لازماً اپنے فرض کے بلند احساس سے مغلوب ہو گا جو اُس نے جنگ کے دوران شاہی دارالحکومت کی سڑکوں پر حکام سے بھری ایک گاڑی اپنے زورِ بازو سے روک دی۔ بالکل ایسے ہی کنڈکٹروں نے اِنہی الفاظ کے ساتھ بادشاہت کی گاڑی بھی روک دی تھی: گاڑی آگے نہیں جائے گی! اُنہوں نے افسر شاہی کو نکال باہر کیا اور اِس کام کی جوش بھری جلدی میں فوجی پولیس کے ایک جرنیل یا لبرل سنیٹر میں کوئی تمیز نہیں کی۔ لیٹینی شاہراہ کا یہ کنڈکٹر تاریخ کا ایک باشعور عنصر تھا۔ اُس کی پیشگی تربیت کی گئی تھی۔
جس وقت ضلعی عدالت جل رہی تھی، اِسی سنیٹر کے حلقے کا ایک لبرل وکیل سڑک پر آہ و بکا کر رہا تھا کہ ڈھیروں عدالتی فیصلے اور قانونی دستاویزات راکھ ہو رہی ہیں۔ مزدوروں کے کپڑے میں ملبوس سیاہ رنگت والے ایک بوڑھے نے غصے میں اعتراض کیا: ‘‘زمینوں اور مکانوں کو ہم خود تقسیم کر سکتے ہیں اور تمہاری دستاویزات کے بغیر کر سکتے ہیں۔’’ شاید اِس واقعے کو ادبی انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ لیکن ایسے بہت سے حاضر جواب بوڑھے مزدور موجود تھے۔ضلعی عدالت کے جلائے جانے سے اُن کا خود کچھ لینا دینا نہیں تھا: اُسے جلانے کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن کم از کم اِس طرح کی ‘‘زیادتی’’ سے وہ ڈرتے نہیں تھے۔ وہ عوام کو نہ صرف زار کی پولیس بلکہ ایسے لبرل ججوں کے خلاف بھی نظریات سے مسلح کر رہے تھے جنہیں یہ ڈر پڑا ہوا تھا کہ انقلاب کی آگ میں کہیں جائیداد کی عدالتی دستاویزات نہ جل جائیں۔ فیکٹری کا نظام چلانے والے یہ درشت اور گمنام لوگ، آسمان سے نہیں ٹپکے تھے: ان کی تربیت کی گئی تھی۔
فروری کے آخری دنوں کے واقعات کا اندراج کرتے ہوئے خفیہ پولیس نے بھی یہی کہا کہ تحریک ‘‘خودرو’’ تھی، یعنی اوپر سے اس کی کوئی منصوبہ بند قیادت نہیں تھی؛ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا: ‘‘پرولتاریہ کی عمومی کیفیت پراپیگنڈا سے متاثرہ تھی۔’’ صورتحال کا یہ اندازہ قطعی طور پر درست تھا: انقلابیوں سے خالی ہونے والے جیل خانوں تک خود پہنچے سے پہلے ، انقلاب کے خلاف برسرپیکار یہ پیشہ ور لوگ لبرلزم کے رہنماؤں کی نسبت کہیں زیادہ باریک بینی سے واقعات کو دیکھ رہے تھے۔
خودروی کا پراسرار نظریہ کچھ بھی بیان کرنے سے قاصر ہے۔ صورتحال کا درست ادراک اور دشمن پر وار کرنے کے وقت کا تعین کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ عوام، یا کم از کم اُن کی ہراول پرتیں، تاریخی واقعات کا تجزیہ کرتیں اور اُن کی جانچ کا کوئی اصول مقرر کرتیں۔ دوسرے الفاظ میں اِس کے لئے مجرد عوام نہیں بلکہ پیٹروگراڈ اور بالعموم پورے روس کے مزدور عوام درکار تھے، جو 1905ء کے انقلاب میں سے گزرے تھے، دسمبر 1905ء میں ماسکو کی سرکشی میں سے گزرے تھے اور محافظ فوج کی سیمینووسکی رجمنٹ سے ٹکرا کر بکھرے تھے۔ یہ ضروری تھا کہ سارے عوام میں وہ مزدور بکھرے ہوں جنہوں نے 1905ء کے تجربے پر غور و فکر کیا تھا، لبرلوں اور منشویکوں کی آئینی خوش فہمیوں پر تنقید کی تھی، انقلاب کے تناظر تشکیل دئیے تھے، فوج کے سوال پر سینکڑوں مرتبہ غور کیا تھا، واقعات کے درمیان موجود رہ کر اُنہیں پوری توجہ سے دیکھا تھا، ایسے مزدور جو اپنے مشاہدے سے انقلابی نتائج اخذ کرکے انہیں دوسروں تک پہنچاسکتے تھے۔ آخر میں ضروری تھا کہ خود گیریزن کے دستوں میں ترقی پسند سپاہی موجود ہوں، جنہیں ماضی میں انقلابی پراپیگنڈا نے گرفت میں لیا تھا، یا کم از کم چھوا ضرور تھا۔
انقلابی فکر کا سالماتی عمل جاری تھا، ہر فیکٹری میں ، مزدوروں کے ہر گروہ میں، فوج کی ہر کمپنی میں، ہر شراب خانے میں، ہر فوجی ہسپتال میں، سٹیشنوں پر، حتیٰ کہ آبادی کی کمی سے دوچار دیہاتوں میں بھی۔ ہر جگہ ایک ہی سوال تھا ‘‘کیا خبر ہے؟’’ اور ایسے لوگ تھے جن سے جواب کی توقع کی جاتی تھی۔ یہ وہ رہنما تھے جو اکثر تنہا رہ جاتے تھے، مختلف ذرائع سے ہاتھ لگنے والے عمومی انقلابی نتائج سے اپنی شعوری نشونما کرتے تھے، لبرل اخباروں میں سے اپنی ضرورت کی چیزیں چھان لیتے تھے۔ اُن کی طبقاتی جبلت کو سیاست کی کسوٹی سے نکھار ملا تھا اور اگرچہ وہ تمام خیالات آخر تک نہیں سوچتے تھے لیکن اِس کے باوجود اُن کی سوچ مضبوطی سے لگاتار ایک سمت میں چلتی تھی۔ تجربے، تنقید، پیش قدمی اور قربانی کے یہ عناصر عوام میں سرایت کر گئے اور ایک شعوری عمل سے انقلابی تحریک کی ایسی داخلی میکانیات تخلیق کیں جنہیں سطحی نظر نہیں دیکھ سکتی تھی۔ لبرلزم اور سدھائے ہوئے سوشلزم کے تنگ نظر سیاستدانوں کو عوام میں رونما ہونے والی ہر تبدیلی حسب معمول ایک جبلتی عمل ہی لگتی ہے، چاہے اُن کا واسطہ چیونٹیوں کے بنائے ہوئے پہاڑ سے ہو یا شہد کی مکھیوں کے چھتے سے۔ درحقیقت محنت کش طبقے کے شعور میں جو سوچ سرایت کر رہی تھی وہ پڑھے لکھے طبقے کے حقیر نظریات سے کہیں زیادہ بے باک، تیز دھار اور باشعور تھی۔علاوہ ازیں یہ سوچ زیادہ سائنسی تھی: نہ صرف اس لئے کہ بڑی حد تک اس کی آبیاری مارکسزم کے طریقوں نے کی تھی، بلکہ اس لئے بھی کہ یہ اُن عوام کے زندہ تجربے پر نشونما پا رہی تھی جنہیں جلد ہی انقلابی میدان میں اترنا تھا۔ کیا ایسی معمولی سی بھی خصوصیات اُن حکومتی حلقوں میں تھیں جو الہام پر ایمان اور راسپیوٹن کے خوابوں پر یقین رکھتے تھے؟ یا پھر کیا لبرلوں کے نظریات سائنسی تھے جنہیں امید تھی سرمایہ دارانہ دیوؤں کی لڑائی میں کود کر ایک پسماندہ روس بیک وقت جنگ میں فتح اور پارلیمانیت، دونوں جیت سکتا تھا؟ یا پھر دانشوروں کے اُن حلقوں کی شعوری حالت سائنسی تھی جو غلامانہ انداز میں روس کے اُس لبرلزم کو اپناتے تھے جو اپنے بچپن میں ہی ضعیف تھا اور ساتھ ہی عرصہ قبل مر چکے استعاروں کے ساتھ اپنی خیالی آزادی کا تحفظ کرتے تھے؟ درحقیقت یہاں جمود، خوف، توہمات اور خیال پرستی کا راج تھا، اِسے آپ ‘‘خودروی’’ کا راج بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں ہمیں فروری انقلاب کے اس لبرل نظرئیے کو بالکل الٹا دینے کا حق حاصل نہیں ہے؟ ہاں، ہمیں یہ کہنے کا حق حاصل ہے: جس وقت سرکاری طبقہ، حکمران طبقات کا کئی منزلوں پر مشتمل وہ ڈھانچہ، وکیل، گروہ، پارٹیاں اور سازشی جتھے اپنی روز مرہ کی جامد زندگی غیر شعوری طور پر گزار رہے تھے، گھسے پٹے نظریات کے کھنڈروں میں آباد تھے، ارتقا کے ناگزیر تقاضوں کے سامنے بہرے ہوچکے تھے، خوش فہمیوں سے دل بہلا رہے تھے اور عین اسی وقت آگے کچھ دیکھنے سے قاصر تھے، ایسے میں محنت کش عوام میں نہ صرف حکمرانوں سے نفرت بلکہ اُن کے خصی پن کے تنقیدی ادراک کی نمو، تجربے اور تخلیقی شعور کے اجتماع کا گہرا اور آزادانہ عمل جاری تھا، جسے انقلابی سرکشی اور اُس کی فتح نے صرف مکمل ہی کیا۔
فروری انقلاب کی قیادت کس نے کی؟ اِس سوال کا جواب ہم بہت قطعی طور پر دے سکتے ہیں: باشعور اور تپ تپ کر فولاد بن چکے مزدوروں نے، جن کی تربیت زیادہ تر لینن کی پارٹی نے کی تھی۔ لیکن ہم ساتھ میں یہ بھی بتاتے چلیں: سرکشی کی فتح کے لئے تو یہ قیادت کافی ثابت ہوئی، لیکن فوری طور پر انقلاب کی باگ ڈور پرولتاریہ کے ہراول دستوں کے ہاتھوں میں دینے کے لئے یہ نا کافی تھی۔
*****
[۱] باستیل کا قلعہ فرانسیسی بادشاہت کے جاہ و جلال اور جبر کی علامت تھا۔ اس پر انقلابی عوام کے حملے اور قبضے سے انقلاب فرانس کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
[۲] یہاں تفریق پسندی (Particularism) سے مراد یہ اصول ہے کہ کسی ملک یا فیڈریشن میں ہر ریاست یا صوبہ یا قومیت بحیثیت مجموعی پوری فیڈریشن کے مفادات سے قطع نظر اپنے مفادات کو آگے بڑھائے۔
[۳] 24 فروری کو پیٹروگراڈ میں دو لاکھ مزدور ہڑتال پر تھے۔ اس سے اگلے دن عام ہڑتال ہو گئی۔