روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

فلسطین میں نسل کشی اور بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں: فورتھ انٹرنیشنل

فلسطین میں نسل کشی اور بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں: فورتھ انٹرنیشنل

لاہور(جدوجہد رپورٹ) فورتھ انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو بیورو کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ’حتمی یلغار‘کی حکمت عملی کے طور پر غزہ کو بھوکا مار رہا ہے۔ دنیا بھر کی انسانی ہمدردی کی اور مزدور تحریکوں کو نسل کشی کو روکنے کے لیے متحرک ہونا ہوگا!

صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کی جانے والی بربریت کی کوئی حد باقی نہیں رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق

52ہزار شہری ہلاک اور 1لاکھ20ہزار زخمی ہو گئے ہیں، جن میں ہزاروں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ 19لاکھ اندرون ملک بے گھر ہو چکے ہیں، جو غزہ کی آبادی کا 80فیصد ہیں۔ یکجہتی کے قافلوں پر حملے، ڈاکٹروں اور صحافیوں کے قتل کے ساتھ ساتھ،

گزشتہ ہفتوں میں جاری نسل کشی نے پہلے سے کہیں زیادہ ہولناک شکل اختیار کر لی ہے۔

مارچ میں جنگ بندی کے اختتام کے بعد سے نیتن یاہو، ان کی انتہائی دائیں بازو کی کابینہ اور جنگی جنونی جرنیل براہِ راست امریکی حمایت اور بالواسطہ یورپی ممالک کی حمایت سے غزہ کے عوام کو بھوک، طبی سہولیات کی کمی، علاقے کے مکمل محاصرے اور انسانی امداد کے داخلے پر پابندی کے ذریعے اذیت میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ہسپتالوں اور خوراک کے بنیادی ڈھانچوں پر فضائی حملے جاری ہیں۔

اقوام متحدہ، آکسفیم، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق، غزہ میں بھوک ’جنگ بندی سے پہلے کی صورتحال سے بھی بدتر‘ ہو چکی ہے۔ علاقے کا انفراسٹرکچر تقریباً مکمل تباہی کے دہانے پر ہے، اور 93 فیصد آبادی شدید غذائی قلت کا شکار،یعنی بھوک سے ہلاکت کی سطح پرہے۔ خوراک کی کمی، پانی کی قلت، بیماریوں، زخمیوں کے علاج کی عدم دستیابی اور ایندھن، بجلی اور طبی سامان کی عدم دستیابی کے باعث وسیع پیمانے پر اموات ہو رہی ہیں۔
یہ اجتماعی اذیت ایک دانستہ پالیسی ہے، جو آج کی عالمی دائیں بازو کی قیادت کرنے والی حکومت اپنا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے برملا اعلان کیا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کی طرح اسرائیل خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کے داخلے کو مکمل طور پر روکے رکھے گا۔ انہوں نے خوراک کے گوداموں اور بجلی پیدا کرنے والے یونٹوں پر بمباری کا دفاع بھی کیا ہے۔ غزہ کے شہریوں پر یہ اجتماعی اذیت دراصل ایک ’حتمی یلغار‘ کی تیاری ہے جس کا مقصد ’غزہ کو حماس سے آزاد‘کرانا ہے، جیسا کہ نیتن یاہو نے مئی کے آغاز میں اعلان کیاتھا۔

ایک فلسطینی کارکن نے ایک بڑے برطانوی اخبار میں لکھاکہ نسل کشی کرنے والے سستے، خاموش اور بے رحمانہ طریقوں سے اجتماعی قتل کر رہے ہیں۔

سامراجی حکومتوں اور کارپوریٹ میڈیا کی ملی بھگت سے معلومات کو چھپا کر یا پھر جبر کے ذریعے سے احتجاج کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی حکمت عملی یہی ہے کہ فلسطین میں جاری بربریت کو ’قدرتی‘اور قابل قبول بنا دیا جائے۔
ہمیں اس خاموشی اور بے عملی کی دیوار کو فوری طور پر توڑنا ہوگا!

فورتھ انٹرنیشنل ’لا ویا کمپیسینا‘ اور 17 دیگر سماجی تنظیموں کی اس اپیل کی مکمل حمایت کرتی ہے،جس میں ریاستوں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس قانونی ذمہ داری پر عمل کریں جو ان پر عائد ہوتی ہے۔جب انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں نسل کشی، جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کو جنم دے رہی ہوں، تو فوری مداخلت کی جائے۔

فوری طور پر ضرورت ہے کہ حکومتوں پر دباؤ بڑھایا جائے،خاص طور پر بائیں بازو، سنٹرلیفٹ اور جمہوری حکومتوں پردباؤ بڑھایا جائے، تاکہ وہ انسانی راہداریوں کے قیام اور غزہ کے شہریوں کے تحفظ کے لیے عالمی فورس کی تشکیل میں تعاون پر آمادہ ہوں، جیسا کہ لا ویا کمپیسینا نے تجویز کیا ہے۔ اس کوشش میں سماجی تحریکیں اور بائیں بازو کی جماعتیں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ایساجلسوں، دستخطی مہمات، احتجاجوں، فون کال مہمات اور ایک عالمی احتجاج کا دن مقرر کر کے کیا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر کے پارلیمانی نمائندوں اور عوامی رہنماؤں کو اس نسل کشی کی نئی لہر کو بے نقاب کرنے کے لیے مربوط مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

نکبہ کی اس المناک سالگرہ پرفورتھ انٹرنیشنل فلسطینی عوام سے یکجہتی کے لیے ایک وسیع اور طویل المدتی عالمی تحرک کی اپیل کرتی ہے۔ ہمیں ان حکومتوں سے مطالبہ کرنا ہوگا کہ وہ نسل کش ریاست اسرائیل سے تمام معاشی، سفارتی اور تعلیمی تعلقات ختم کریں۔ آئیں ہم سڑکوں پر نکلیں، یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں آواز بلند کریں! آئیں ہم اُن جہازوں کو روکیں جو موت کا سامان اسرائیل پہنچا رہے ہیں۔ آئیں ہم اُن آوازوں اور تنظیموں کے خلاف جبر کا مقابلہ کریں،جو فلسطین کا دفاع کر رہی ہیں۔

٭ اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ محاصرے اور ہلاکت خیز انسانیت سوز ناکہ بندی کا خاتمہ کیا جائے، جس پر دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں!
٭ سڑکوں پر اور پارلیمانوں میں حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں پر فوری بیانات دینے اور غزہ کے محاصرے کے خلاف اقدامات کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔
٭’فلوٹیلا فارفریڈم کولیشن‘کی مکمل حمایت کی جائے، جو امداد لے کر غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے!
٭ ایک وسیع قومی، عالمی،انسانی و سماجی تنظیموں کے اتحاد کے قیام کے لیے کام کیا جائے، تاکہ نسل کشی کے خلاف عالمی مہم کو منظم کیا جا سکے!

(بشکریہ:’فورتھ انٹرنیشنل‘، ترجمہ حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں