لاہور(جدوجہد رپورٹ)اسرائیلی فوج نے وہ تمام الزامات ختم کر دیے ہیں جو پانچ فوجیوں پر ایک فلسطینی قیدی کو شدید جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں عائد کیے گئے تھے۔ یہ واقعہ 2024 میں اسدے تیمان نامی اسرائیلی حراستی مرکز میں پیش آیا تھا، جو فلسطینی قیدیوں پر کیے جانے والے مبینہ بہیمانہ تشدد کی وجہ سے بدنام ہو چکا ہے۔
’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ فلسطینی شخص کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کے جسم پر شدید زخم پائے گئے، جن میں ٹوٹی ہوئی پسلیاں، پھیپھڑے میں سوراخ، اور دیگر شدید چوٹیں شامل تھیں۔ واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
گزشتہ سال اسرائیلی فوج کی سابق چیف لیگل افسر کو بھی اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر وہ خفیہ ویڈیو لیک کی تھی جس میں فوجیوں کو قیدی کے ساتھ زیادتی کرتے دکھایا گیا تھا۔ واقعے کے وقت اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے فوجیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ان کے ساتھ مجرموں کی طرح نہیں بلکہ ہیروز کی طرح سلوک ہونا چاہیے۔“
دوسری جانب اسپین نے مستقل بنیادوں پر اپنا سفیر اسرائیل سے واپس بلا لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسپین نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری فوجی حملوں کی شدید مخالفت میں اضافہ کر دیا ہے۔
اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے گزشتہ ہفتے واضح طور پر اعلان کیا کہ اسپین امریکہ کو جنوبی اسپین میں واقع فضائی اور بحری فوجی اڈوں کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
مزید برآں، آئس لینڈ اور نیدرلینڈز نے بھی جنوبی افریقہ کی جانب سے بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں دائر اس مقدمے میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی ہے،جس میں اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ نے یہ مقدمہ دسمبر 2023 میں دائر کیا تھا، جس کے بعد کئی ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہو چکے ہیں۔