روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

فہیم اکرم شہید کا یوم شہادت: وہ نوجوان جس نے محکومی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا

فہیم اکرم شہید کا یوم شہادت: وہ نوجوان جس  نے محکومی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا

صائمہ بتول

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ایک پسماندہ گاوں کوٹیرا مست خان میں جنم لینے والا فہیم اکرم کسی کو کیا معلوم تھا کہ ایک دن تاریخ کے افق پر ہمیشہ کے لیے امر ہو جائے گا۔

فہیم اکرم نے شعور کی کرن پاتے ہی ظلم کے خلاف آواز بلند کر دی تھی۔اس وقت جب یہ خطہ جبر و استحصال کی چکی میں پس رہا تھا اور حق بات کہنا سنگین خطرے سے کم نا تھا،فہیم اکرم قابض قوتوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو گیا۔وہ سامراج کے ایجنٹوں اور حاشیہ برداروں کا مقابلہ کرنے سیسہ پلائی دیوار بن گیا۔ اس نے ان چوکوں چوراہوں میں نا صرف آزادی کا نعرہ بلند کیا بلکہ انقلابی نظریات کی بنیاد بھی رکھی۔

فہیم اکرم نے این ایس ایف کا سرخ علم تھام کر ہی اپنے انقلابی نظریات کا اعلان کر دیا تھا۔وہ سمجھتا تھا سائنسی سوشلزم کے راستے پر چلے بغیر اس خطے کے عوام کی آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔اس نے واضح کیا کہ قومی آزادی کی تحریک کو طبقاتی جدوجہد سے جوڑے بغیر حتمی کامیابی ممکن نہیں۔

فہیم اکرم اس دھرتی کا باسی تھا جہاں نو آبادیاتی جبر اپنی انتہاؤں پر تھا۔وہ خطہ جس پر بار بار بیرونی حملے ہوئے،جس کے لوگوں کو تاراج کیا گیا،جہاں تقسیم در تقسیم کا کھیل کھیلا گیا۔ خونی لکیر نے یہاں کی زمین کو ہی تقسیم نہیں کیا بلکہ یہاں پر بسنے والے خاندانوں کے دل چیر دیے،ان کے جذبات کا خون کیا۔ اس خونی لکیر کو اپنے پاؤں تلے روندنے کے لیے 1990 میں فہیم اکرم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میدان عمل میں اترا،اور ساتھیوں کے ہمراہ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں سرخ علم لہرا کر اپنی ثابت قدمی، مستقل مزاجی اور نظریات سے وابستگی کا پختہ ثبوت دیا۔

فہیم اکرم کے نظریات اس کی بے لوث جدوجہد اور اس کی تنظیم سے وابستگی نے ریاست کو خوفزدہ کر دیا تھا۔ ہر حربہ آزمانے کے بعد بالآخر ریاستی جبر نے26 سال کی عمر میں ہی اس نوجوان کو شہید کروا ڈالا۔ ریاست نے سمجھا تھا فہیم کی شہادت کے ساتھ یہ تحریک دم توڑ دے گی اورنوجوان جدوجہد کے میدان میں آنے سے کترانے کریں گے،لیکن حقیقت اس کے بر عکس نکلی۔اس کی شہادت نے ہزاروں نوجوانوں کے دلوں میں انقلاب کی چنگاری بھڑکا دی۔آج بھی فہیم کی جلائی گئی مشعل کو جلاتے ہوئے اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے نوجوان جدوجہد کے میدان میں برسر پیکار ہیں۔

فہیم اکرم کو حقیقی خراج عقیدت اسی دن پیش ہو گا،جب اس خطے سے جہالت غربت،بے روزگاری،مہنگائی، طبقاتی استحصال اور قومی جبر کا خاتمہ ہو گا۔اور ایک سرخ سویرا طلوع ہو کر اس دھرتی کے عوام کو حقیقی آزادی اور پر امن زندگی عطا کرے گا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں