روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

قومیتوں کے مسئلے پر ایک مزید نوٹ

قومیتوں کے مسئلے پر ایک مزید نوٹ

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

بالشویک پارٹی نے کسی طور بھی قومی سوال پر وہ موقف فروری انقلاب کے فوراً بعد نہیں اپنایا جسے لمبے عرصے میں اِس کی فتح کا ضامن بننا تھا۔ ایسا نہ صرف کمزور اور ناتجربہ کار پارٹی تنظیموں والے سرحدی علاقوں بلکہ پیٹروگراڈ مرکز میں بھی تھا۔ جنگ کے دوران پارٹی اِتنی کمزور ہو گئی تھی اور اِس کے کیڈروں کا نظریاتی اور سیاسی معیار اِتنا گر گیا تھا کہ لینن کی آمد تک اِس کے باضابطہ رہنماؤں نے قومی سوال پر بھی انتہائی متذبذب اور ادھورا موقف اپنایا۔
یہ درست ہے کہ اپنی روایت کے مطابق بالشویکوں نے قوموں کے حق خودارادیت کا دفاع کیا۔ لیکن اِس کلیے کی حمایت تو لفاظی کی حد تک منشویک بھی کرتے تھے۔ دونوں پارٹیوں کے پروگراموں کا متن ایک ہی تھا۔ یہ اقتدار کا سوال تھا جو فیصلہ کن تھا۔ قومی اور زرعی سوالوں پر بالشویک نعروں اور جمہوریت کے بہروپ میں ایک بورژوا سامراجی نظامِ حکومت کے درمیان ناقابل حل تضاد کو سمجھنے سے پارٹی کے عارضی رہنما بالکل قاصر ثابت ہوئے۔
جمہوری موقف نے اپنا سب سے واضح اظہار سٹالن کے قلم سے کیا۔ قومی پابندیوں کے خاتمے کے حکومتی فرمان سے متعلق 25 مارچ کے ایک مضمون میں سٹالن نے قومی سوال کو تاریخی پیمانے پر وضع کرنے کی کوشش کی۔ وہ لکھتا ہے، ’’قومی جبر کی سامراجی بنیاد اور اِس میں روح پھونکنے والی طاقت ایک گلتی سڑتی ہوئی زمیندار اشرافیہ ہے۔‘‘ یہ حقیقت اِس جمہوری مصنف کی عقل سے ماورا معلوم ہوتی ہے کہ سرمایہ داری کے عہد میں قومی جبر میں بے نظیر اضافہ ہوا اور اِس کا سب سے وحشیانہ اظہار نوآبادیاتی پالیسیاں تھیں۔ وہ بات جاری رکھتا ہے، ’’برطانیہ میں زمیندار اشرافیہ اپنا اقتدار بورژوازی سے بانٹتی ہے اور عرصہ قبل اپنی لامحدود طاقتوں سے محروم ہو چکی ہے۔ نتیجتاً قومی جبر نسبتاً ہلکا اور کم غیرانسانی ہے۔ ظاہر ہے اِس میں دورانِ جنگ کے حالات شامل نہیں ہیں، جب اقتدار زمینداروں کے پاس چلا گیا تھا (!) اور قومی جبر کافی سخت ہو گیا تھا (آئرلینڈ اور ہندوستان پر جبر)۔‘‘ یعنی آئر لینڈ اور ہندوستان پر جبر کرنے والے زمیندار ہیں، جنہوں نے جنگ کی بدولت لائڈ جارج کی شکل میں اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے! سٹالن مزید لکھتا ہے، ’’سوئٹزرلینڈ اور شمالی امریکہ میں کوئی زمینداری نہیں ہے اور کبھی تھی بھی نہیں (!)، وہاں اقتدار مکمل طور پر بورژوازی کے پاس ہے، لہٰذا قومیتیں آزادی سے پنپ رہی ہیں۔ بالعموم وہاں قومی جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے… ‘‘ مصنف امریکہ میں سیاہ فام، انڈین، مہاجر اور نوآبادیاتی مسائل کو یکسر فراموش کر دیتا ہے۔
اِس مایوس کن حد تک عامیانہ تجزئیے، جو جاگیرداری اور جمہوریت کے متذبذب موازنے پر مبنی ہے، سے خالصتاً لبرل سیاسی نتائج اخذ کئے گئے ہیں۔ ’’جاگیردار اشرافیہ کو سیاسی منظرنامے سے ہٹانا اور اُس سے اقتدار چھیننا ہی قومی جبر کا خاتمہ کرنا اور قومی آزادی کے لئے درکار حقیقی حالات پیدا کرنا ہے۔جس حد تک انقلابِ روس فتح یاب ہو چکا ہے، اِس نے واقعی یہ حالات پیدا کر دئیے ہیں۔‘‘ اِس موضوع پر جو کچھ منشویکوں نے لکھا ہے شاید اُس سے زیادہ نظریاتی عذر خواہی ہمیں یہاں نظر آ رہی ہے۔ جیسے کامینیف کے ساتھ ساتھ سٹالن کو بھی امید تھی کہ عبوری حکومت کے ساتھ محنت کی تقسیم کی ذریعے ایک جمہوری امن قائم کیا جا سکتا ہے، ویسے ہی داخلہ پالیسی میں بھی شہزادہ لووف کی جمہوریت میں اُسے قومی آزادی کے ’’حقیقی حالات‘‘ مل گئے تھے۔
درحقیقت بادشاہت کے دھڑن تختے نے اِس حقیقت کو پہلی بار آشکار کیا کہ نہ صرف رجعتی زمیندار، بلکہ ساری لبرل بورژوازی اور اُس کے پیچھے ساری پیٹی بورژوا جمہوریت اور ساتھ میں محنت کش طبقے کی بالائی پرتیں بھی، قومی حقوق کی حقیقی برابری یعنی غالب قوم کی مراعات کے خاتمے کے بے رحم مخالف تھے۔ اُن کا سارا پروگرام محض تخفیف کے کام، ثقافتی ملمع کاری اور عظیم روسی غلبے کو جمہوریت کے لبادے میں چھپانے تک محدود ہو چکا تھا۔
اپریل کے اجلاس میں قومی سوال پر لینن کی قرارداد کے دفاع میں سٹالن اِس تھیسس سے آغاز کرتا ہے کہ ’’قومی جبر وہ نظام ہے … وہ اقدامات ہیں جو سامراجی حلقے اپناتے ہیں۔‘‘ لیکن اس کے فوراً بعد اور ناگزیر طور پر وہ پٹری سے اُتر جاتا ہے اور اپنے مارچ والے موقف کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ ’’ایک ملک جتنا جمہوری ہو گا، قومی جبر بھی اِتنا ہی کمزور ہو گا، یونہی اِس کے برعکس بھی۔‘‘ یہ اِس مقرر کا اپنا خلاصہ ہے، جو اُس نے لینن سے مستعار نہیں لیا تھا۔ یہ حقیقت کہ ذات پات سے بھرے جاگیردارانہ ہندوستان پر جمہوری برطانیہ جبر کر رہا ہے، پہلے کی طرح اُس کی محدود فہم سے اب بھی ماورا ہے۔ سٹالن مزید کہتا ہے کہ روس، جہاں ’’پرانی زمیندار اشرافیہ‘‘ غالب ہے، کے برعکس ’’برطانیہ اور آسٹریا ہنگری میں قومی جبر نے کبھی بلووں کی شکل اختیار نہیں کی ہے۔‘‘ گویا برطانیہ میں زمیندار اشرافیہ کبھی غالب نہ تھی اور گویا ہنگری میں یہ آج تک غالب نہیں ہے! تاریخی ارتقا کا مشترک کردار، جو ’’جمہوریت‘‘ کو کمزور اقوام پر جبر کے ساتھ یکجا کر دیتا ہے، سٹالن کے لئے ایک بند کتاب ہی رہا ہے۔
روس نے اپنی تاریخی تاخیرزدگی کی وجہ سے قومیتوں پر مشتمل ریاست کی شکل اختیار کی تھی۔ لیکن تاخیرزدگی ایک پیچیدہ اور ناگزیر طور پر متضاد تصور ہے۔ ایک پسماندہ ملک، ترقی یافتہ ملکوں کے پیچھے پیچھے مستقل فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے نہیں چلتا۔ عالمگیر معیشت کے عہد میں ترقی یافتہ اقوام کے دباؤ کے تحت ارتقا کے عمومی سلسلے میں شامل ہو کر پسماندہ اقوام کئی درمیانی مراحل کو پھلانگ جاتی ہیں۔ مزید برآں ٹھوس مروجہ سماجی اشکال اور روایات کی عدم موجودگی کم از کم کچھ مخصوص حدود میں ایک پسماندہ ملک کو بین الاقوامی تکنیک اور سوچ کی جدید ترین حاصلات کے لئے انتہائی زرخیز بنا دیتی ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہے کہ اِس وجہ سے پسماندگی، پسماندگی نہیں رہتی۔ بلکہ سارا ارتقا ایک متضاد اور مشترک کردار کا حامل ہو جاتا ہے۔ تاریخی انتہاؤں کا غلبہ ایک تاخیرزدہ قوم کے سماجی ڈھانچے کی خاصیت ہے، یعنی ایک طرف پسماندہ کسانوں اور دوسری طرف ترقی یافتہ پرولتاریہ کا بورژوازی کی درمیانی تراکیب (Formations) پر غلبہ۔ ایک طبقے کے فرائض دوسرے کے کندھوں پر عائد ہو جاتے ہیں۔ قومی سطح پر بھی قرونِ وسطیٰ کی باقیات کو اکھاڑ پھینکنے کا فریضہ پرولتاریہ پر عائد ہوتا ہے۔
روس کو اگر ایک یورپی ملک گردانا جائے تو اِس کی تاریخی تاخیرزدگی کا اظہار اِس حقیقت سے بہتر کوئی چیز نہیں کر سکتی کہ اِسے بیسویں صدی میں جبری زمینی کرائے اور پیل [۶] کا خاتمہ کرنا پڑا۔لیکن اپنے تاخیرزدہ ا رتقا کی ہی وجہ سے اِن فرائض کی ادائیگی میں روس نے نئے اور بالکل جدید طبقات، پارٹیوں اور پروگراموں کا استعمال کیا۔ راسپیوٹن کے نظریات اور طریقوں کے خاتمے کے لئے اُسے مارکس کے نظریات اور طریقے درکار تھے۔
یہ درست ہے کہ سیاسی نظریات کی نسبت سیاسی عمل کافی پسماندہ رہا۔ کیونکہ نظریات کی نسبت چیزوں کو تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم نظریات نے عمل کے تقاضوں کو پورا کیا۔ آزادی اور ثقافتی بلندی کے حصول کے لئے محکوم قومیتیں مجبور تھیں کہ اپنے مقدر کو محنت کش طبقے کے مقدر کے ساتھ جوڑیں۔ اِس مقصد کے لئے اُنہیں خود کو اپنی بورژوا اور پیٹی بورژوا پارٹیوں سے آزاد کروانا تھا، اُنہیں تاریخی ارتقا کے راستے پر لمبی چھلانگ لگانا تھی۔
قومی تحریکوں کی انقلاب کے بنیادی عمل، یعنی پرولتاریہ کی اقتدار کے لئے جدوجہد، کی اطاعت یکدم نہیں بلکہ مختلف مراحل میں اور مختلف علاقوں میں مختلف طریقوں سے مکمل ہوئی۔ یوکرائنی، سفید روسی اور تاتاری مزدور ، کسان اور سپاہی، جو کیرنسکی، جنگ اور رسیفیکیشنکے مخالف تھے، اپنی مصالحت پسندانہ قیادت کے باوجود پرولتاری سرکشی کے اتحادی بن گئے۔ بالشویکوں کی معروضی حمایت سے آگے کے مرحلے پر وہ مجبور ہو گئے کہ فیصلہ کن طور پر بالشویک راستے پر گامزن ہو جائیں۔ فن لینڈ، لیٹویا، ایسٹونیا اور نسبتاً کمزور انداز میں یوکرائن میں قومی تحریک کی طبقہ بندی اتنی واضح شکل اختیار کر چکی تھی کہ صرف بیرونی دستوں کی مداخلت ہی پرولتاری انقلاب کی فتح کو روک سکتی تھی۔ ایشیائی مشرق ، جہاں قومی بیداری زیادہ قدیم شکلوں میں وقوع پذیر ہو رہی تھی، بتدریج اور خاصی تاخیر سے ہی، درحقیقت پرولتاریہ کے اقتدار پر قبضے کے بعد ہی پرولتاری قیادت کے ماتحت آ سکتا تھا۔ اگر آپ اِس پیچیدہ اور متضاد عمل کو بحیثیت مجموعی لیں تو نتیجہ واضح ہے: زرعی دھارے کی طرح قومی دھارا بھی اکتوبر انقلاب کے دریا میں شامل ہو رہا تھا۔
سیاسی، زرعی اور قومی نجات کے انتہائی ابتدائی فرائض سے ناقابل واپسی اور ناقابل مزاحمت انداز میں عوام کا پرولتاریہ اقتدار کے نعرے کی طرف جاناکسی ’’جذباتی‘‘ ایجی ٹیشن، کسی بنے بنائے منصوبے یا انقلابِ مسلسل کے نظرئیے کا نتیجہ نہیں تھا، جیسا کہ لبرل اور مصالحت پسند سوچ رہے تھے، بلکہ یہ روس کے سماجی ڈھانچے اور عالمگیر حالات کا نتیجہ تھا۔ انقلابِ مسلسل کے نظرئیے نے اِس ارتقا کے مشترکہ عمل کو صرف ایک قانون کی شکل ہی دی ۔
یہاں یہ صرف روس کا سوال نہیں ہے۔ تاخیرزدہ قومی انقلابات کے پرولتاری انقلاب کے ماتحت ہونے کا یہ عمل جس قانون کی پیروی کرتا ہے وہ پوری دنیا میں درست ہے۔ جہاں انیسویں صدی میں جنگوں اور انقلابات کا بنیادی مسئلہ پیداواری قوتوں کے لئے ایک قومی منڈی کی ضمانت فراہم کرنا تھا، وہاں ہماری صدی کا مسئلہ پیداواری قوتوں کو اُن قومی سرحدوں سے آزاد کروانا ہے جو اِن پیداواری قوتوں کے پیروں کی بیڑیاں بن چکی ہیں۔ وسیع تر تاریخی نقطہ نظر سے مشرق کے انقلابات درحقیقت پرولتاریہ کے عالمی انقلاب کے ہی مراحل ہیں، بالکل جیسے روس کی قومی تحریکیں ایک سوویت آمریت تک کے زینے بن گئیں۔
زارشاہی روس اور پوری دنیا میں محکوم قومیتوں کی جبلی انقلابی قوت کو لینن نے کمال گہرائی میں پرکھا تھا۔ اُس منافقانہ ’’امن پسندی‘‘، جو چین کو غلام بنانے کے لئے اُس کے خلاف جاپان کی جنگ اور اپنی آزادی کے لئے جاپان کے خلاف چین کی جنگ کی ’’مذمت‘‘ ایک ہی انداز سے کرتی ہے، کے لئے لینن کے پاس سوائے حقارت آمیز استرداد کے کچھ نہ تھا۔ اُس کی نظر میں سامراجی جبر کی جنگوں کے برخلاف قومی آزادی کی جنگ محض قومی انقلاب کی ہی ایک شکل تھی، جو بین الاقوامی محنت کش طبقے کی آزادی کی جدوجہد میں ایک لازمی کڑی ہے۔
تاہم قومی جنگوں اور انقلابات کی اِس پرکھ کا یہ مطلب ہرگزنہیں ہے کہ نوآبادیاتی اور نیم نو آبادیاتی قوموں کی بورژوازی کسی انقلابی نصب العین کی حامل ہے۔ اِس کے برعکس پسماندہ ممالک کی یہ بورژوازی اپنے دودھ کے دانتوں کے دنوں سے ہی بیرونی سرمائے کے آلہ کار کے طور پر نشونما پاتی ہے اور بیرونی سرمائے سے اپنی تمام تر حاسدانہ نفرت کے باوجود ہر فیصلہ کن صورتحال میں اُسی کے کیمپ میں نمودار ہوتی ہے اور ہو گی۔ نوآبادیاتی بورژوازی کی کلاسیکی شکل چینی کمپراڈورزم [۷] ہے اور کمپراڈورزم کی کلاسیکی پارٹی کیومنٹانگ Kuomintang) ( ہے۔ قومی جدوجہدوں میں دانشوروں سمیت پیٹی بورژوازی کے بالائی حلقے ایک متحرک اور بعض اوقات بہت پرشور حصہ لے سکتے ہیں، لیکن وہ ایک آزادانہ کردار ادا کرنے سے بالکل قاصر ہوتے ہیں۔ صرف محنت کش طبقہ ہی قوم کی قیادت کرتے ہوئے ایک قومی یا زرعی انقلاب کو انجام تک پہنچا سکتا ہے۔
نقالوں [۸] اور سب سے بڑھ کر سٹالن کی مہلک غلطی یہ ہے کہ محکوم قومیتوں کی ترقی پسند تاریخی اہمیت کے بارے میں لینن کی تعلیمات سے اُنہوں نے نوآبادیاتی ممالک کی بورژوازی کے انقلابی نصب العین کا نتیجہ اخذ کر لیا ہے۔ سامراجی عہد میں انقلاب کے مسلسل کردار کو سمجھنے میں ناکامی؛ ارتقا کی روش کا بنا بنایا خاکہ؛ ایک زندہ اور مشترک عمل کو زمان میں الگ الگ مردہ مراحل میں کاٹ دینا… یہ تمام غلطیاں سٹالن کو جمہوریت یا اُس ’’جمہوری آمریت‘‘ کے پست تصور تک لے گئی ہیں جو حقیقت میں ایک سامراجی آمریت یا پھر ایک پرولتاری آمریت کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی۔ اِس راستے پر قدم بہ قدم آگے بڑھتے ہوئے سٹالن کا گروہ قومی سوال پر لینن کے موقف سے بالکل کٹ چکا ہے اور چین میں اُن کی حکمت عملی تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔
اگست 1927ء میں اپوزیشن [۹] (ٹراٹسکی، راکووسکی اور دوسروں) کے ساتھ تصادم میں سٹالن نے بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی کے مکمل اجلاس میں کہا: ’’سامراجی ممالک میں انقلاب ایک چیز ہے؛ وہاں بورژوازی انقلاب کے تمام مراحل پر ردِ انقلابی ہے… نوآبادیاتی اور ماتحت ممالک میں انقلاب ایک مختلف چیز ہے؛ وہاں قومی بورژوازی ایک مخصوص مرحلے اور مخصوص وقت میں سامراجیت کے خلاف اپنے ملک کی انقلابی تحریک کی مدد کر سکتی ہے۔‘‘
خود پر عدم اعتماد کی وجہ سے کچھ انحرفات اور نرمی کے ساتھ سٹالن یہاں بالکل اُنہی خاصیتوں کو نوآبادیاتی بورژوازی سے منسوب کر رہا تھا جو اُس نے مارچ میں روسی بورژوازی سے منسوب کی تھیں۔ اپنی گہری نامیاتی نوعیت کے عین مطابق سٹالن کی موقع پرستی گویا کشش ثقل کے کسی قانون کے تحت ہمیشہ اِسی سمت میں گامزن ہو جاتی ہے۔اِس معاملے میں نظریاتی دلائل کا انتخاب بالکل اتفاقیہ ہو تا ہے۔
عبوری حکومت کی مارچ والی پرکھ کو چین کی ’’قومی‘‘ حکومت پر لاگو کرنے کا نتیجہ سٹالن کی کیومنٹانگ سے تین سالہ معاونت کی صورت میں نکلا، یہ ایک ایسی حکمت عملی تھی جو جدید تاریخ کے انتہائی خوفناک حقائق پر منتج ہوئی۔
اِن نقالوں کے بالشویزم نے ایک وفادار ہتھیار بردار کی حیثیت سے 11 اپریل 1927ء تک، یعنی اُس دن تک چینی بورژوازی کا ساتھ دیا جب اُس نے شنگھائی کے پرولتاریہ کا قتل عام کیا۔ چینگ کائی شیک [۱۰] کے ساتھ اپنی رفاقت کا جواز سٹالن کچھ اِس طرح سے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، ’’ لیفٹ اپوزیشن کی بنیادی غلطی اِس حقیقت میں مضمر ہے کہ یہ دوسری قوام کو محکوم بنانے والے روس جیسے سامراجی ملک کے 1905ء کے انقلاب کو چین کے انقلاب سے ملا رہی ہے، جو خود ایک محکوم ملک ہے۔‘‘ حیرت کی بات یہ ہے کہ سٹالن نے روس کے انقلاب کو ’’دوسری اقوام کو محکوم بنانے‘‘ والی قوم کے نقطہ نظر کی بجائے روس کی اُن ’’دوسری اقوام‘‘ کے نقطہ نظر سے دیکھنا گوارا نہیں کیا جو چینیوں سے کچھ کم جبر کا شکار نہ تھیں۔
اپنے تین انقلابات کے دوران روس کے پیش کردہ دیوہیکل تجربے میں آپ کو قومی اور طبقاتی جدوجہد کی ہر شکل مل سکتی ہے، سوائے ایک کے: وہ جس میں کسی محکوم قوم کی بورژوازی نے اپنے عوام کو آزادی دلانے کا کردار ادا کیا ہو۔ اپنے ارتقا کے ہر مرحلے پر ہر سرحدی علاقے کی بورژوازی ہمیشہ ایسے مرکزی بینکوں، ٹرسٹوں اور تجارتی اداروں پر منحصر تھی جو بنیادی طور پر روسی سرمائے کے آلہ کار تھے۔ وہ بورژوازی کو رسیفیکیشنکی تحریک کے تابع کرتے تھے اور لبرل اور جمہوری دانشوروں کے وسیع حلقوں کو بورژوازی کے تابع کرتے تھے۔ کسی سرحدی علاقے کی بورژوازی جتنی ’’بالغ‘‘ تھی، ریاستی مشینری سے اُتنی ہی زیادہ جڑی ہوئی تھی۔ بحیثیت مجموعی محکوم اقوام کی بورژوازی نے حکمران بورژوازی کے حوالے سے وہی کردار ادا کیا جو حکمران بورژوازی نے بین الاقوامی مالیاتی سرمائے کے حوالے سے ادا کیا۔ تضادات اور باہمی انحصاروں کی یہ پیچیدہ درجہ بندی ایک دن کے لئے بھی سرکش عوام کے خلاف اِن تینوں کی بنیادی یکجہتی کی راہ میں حائل نہ ہوئی۔
ردِ انقلاب (1907-1917ء) کے عرصے میں جب قومی تحریکوں کی قیادت مقامی بورژوازی کے ہاتھوں میں تھی، وہ روسی بادشاہت کے ساتھ قابل عمل مفاہمت کی کوشش میں روسی لبرلوں سے بھی زیادہ مخلص تھیں۔ سامراجی حب الوطنی کی نمائش میں پولش، بالٹک، تاتاری، یوکرائنی اور یہودی بورژوازی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتی تھیں۔ فروری انقلاب کے بعد وہ کیڈٹوں کے پیچھے چھپ گئیں، یا پھر کیڈٹوں کی طرح اپنے قومی مصالحت پسندوں کے پیچھے چھپ گئیں۔ 1917ء کے موسم خزاں میں اِن سرحدی اقوام کی بورژوازی علیحدگی پسندی کے راستے پر گامزن ہو گئی۔ایسا قومی جبر کے خلاف جدوجہد کے لئے نہیں بلکہ پیش قدمی کرتے ہوئے پرولتاری انقلاب کا راستہ روکنے کے لئے تھا۔ مجموعی طور پر محکوم اقوام کی بورژوازی نے عظیم روسی بورژوازی کی نسبت انقلاب سے کچھ کم عداوت کا مظاہرہ نہیں کیا۔
تاہم تین انقلابات کے اِن دیوہیکل تاریخی اسباق نے بالخصوص سٹالن سمیت اِن میں حصہ لینے والے بہت سوں کی سوچ پر کوئی نقش نہیں چھوڑا ہے۔ نوآبادیاتی اقوام میں طبقات کے باہمی تعلق کے پیٹی بورژوا مصالحت پسندانہ تصور، وہ تصور جس نے 1925-27ء کے انقلابِ چین کا قتل کیا، کو اِن نقالوں نے کمیونسٹ انٹرنیشنل کے پروگرام میں بھی شامل کروا کے اِس پروگرام کو مشرق کی محکوم اقوام کے لئے ایک پھندے میں تبدیل کر دیا ہے۔
قومی سوال پر لینن کی حکمت عملی کے حقیقی کردار کو سمجھنے کے لئے بہتر ہو گا کہ موازنے کے طریقے کے تحت اِس کا موازنہ آسڑیائی سوشل ڈیموکریٹوں سے کیا جائے۔بالشویزم نے اپنی بنیاد اگلی کئی دہائیوں تک چلنے والے قومی انقلابات کے آغاز کو بنایا تھا اور اِسی روح سے ہراول مزدوروں کو ہدایات دی تھیں۔ اِس کے برعکس آسٹریائی سوشل ڈیموکریسی نے بڑی فرمانبرداری سے خود کو حکمران طبقات کی پالیسی سے ہم آہنگ کیا؛ اِس نے آسٹریا ہنگری کی بادشاہت میں دس اقوام کی مشترکہ شہریت کی حمایت کی اور عین اسی وقت اِن مختلف قومیتوں کے مزدوروں کے انقلابی اتحاد کی تشکیل میں یکسر نا اہلی کی وجہ سے اُنہیں پارٹی اور ٹریڈ یونینوں میں عمودی بٹواروں کے ذریعے الگ الگ کر دیا۔ پہلی عالمی جنگ میں جب مرکزی سلطنتیں (Central Empires) کچلی گئیں تو آسٹریا ہنگری کی ہاپسبرگ بادشاہت نے ایک بار پھر اپنی حاکمیت میں خود مختیار اقوام کے وفاق کا پرچم بلند کرنے کی کوشش کی۔ بادشاہت کے ڈھانچے میں پرامن ارتقا کے مفروضے پر مبنی آسڑیائی سوشل ڈیموکریسی کا سرکاری پروگرام اب ایک سیکنڈ میں خود اُس بادشاہت کا پروگرام بن گیا جو چار سالہ جنگ کی خونی غلاظت میں لتھڑی ہوئی تھی۔ معاہدہ ورسائی کی جراحی سے مضبوط ہونے والے داخلی مرکز گریز رجحانات کے نتیجے میں آسٹریا ہنگری ٹوٹ کر بکھر گیا۔ آسٹریائی جرمن پاتال میں غرق ہو جانے کے خطرے سے دوچار ہوگئے۔ اُن کا مسئلہ اب دوسری اقوام پر اپنا غلبہ قائم رکھنا نہیں بلکہ خود ایک بیرونی طوق سے بچنا تھا۔ آسٹریائی سوشل ڈیموکریسی کے ’’بائیں‘‘ بازو کی نمائندگی کرنے والے آٹو بائر نے اِس موقع کو قومی حق خودارادیت کا کلیہ پیش کرنے کے لئے مناسب گردانا۔ وہ پروگرام جسے پچھلی دہائیوں میں ہاپسبرگ بادشاہت اور حکمران بورژوازی کے خلاف پرولتاریہ کی جدوجہد کو تحریک دینی چاہئے تھی، اب ایک ایسی قوم کے تحفظ کا اوزار بن گیا جو کل تک غالب تھی لیکن آج آزاد ہونے والی سلاوی اقوام سے خطرہ محسوس کر رہی تھی۔ جیسے آسٹریائی سوشل ڈیموکریسی کا اصلاح پسند پروگرام پلک جھپکنے میں ایک ڈوبتی ہوئی بادشاہت کے سہارے کا تنکا بن گیا تھا، ویسے ہی آسٹریائی مارکسسٹوں کا حق خودارادیت کا کلیہ اب جرمن بورژوازی کی نجات کا آسرا بن گیا۔
3 اکتوبر 1918ء کو جب معاملے کا ذرہ برابر انحصار بھی اُن پر نہیں رہا تھا، آسٹریا کی پارلیمنٹ کے سوشل ڈیموکریٹک اراکین نے سابقہ سلطنت کی اقوام کا حق خودارادیت ’’تسلیم‘‘ کر لیا۔ 4 اکتوبر کو بورژوا پارٹیوں نے بھی حق خودارادیت کا پروگرام اپنا لیا۔ یوں آسٹریائی جرمن سامراجیوں پر ایک دِن کی سبقت سے سوشل ڈیمو کریٹوں نے پھر سے انتظار کی حکمت عملی اپنا لی۔ ابھی تک غیریقینی تھا کہ حالات کون سی کروٹ لیں گے اور امریکی صدر ولسن کیا کہے گا۔ 13 اکتوبر کو کہیں جا کر آسٹریائی مارکسسٹوں نے حق خود ارادیت کا سوال عملی طور پر اٹھایا،جب آٹوبائر کے الفاظ میں فوج اور بادشاہت کے فیصلہ کن انہدام نے ’’وہ انقلابی صورتحال پیدا کی جس کے لئے ہمارا پروگرام مرتب کیا گیا تھا۔‘‘ درحقیقت اُن کے پاس اب کھونے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا۔ بائر بڑے بے تکلف انداز سے بیان کرتا ہے، ’’دوسری اقوام پر اپنی حاکمیت کے انہدام سے جرمن قومی بورژوازی نے اُس تاریخی نصب العین کو ختم سمجھا جس کے لئے اُس نے رضاکارانہ طور پر جرمن مادرِ وطن سے علیحدگی برداشت کی تھی۔‘‘ یوں پروگرام کو اِس لئے جاری نہیں کیا گیا کہ مظلوموں کو اِس کی ضرورت تھی، بلکہ اِس لئے کہ یہ ظالموں کے لئے خطرناک نہیں رہا تھا۔ تاریخی طور پر بند گلی میں پہنچ جانے والے ملکیتی طبقات کو مجبوراً قومی انقلاب کو قانونی طور پر تسلیم کرنا پڑا اور آسٹریائی مارکسسٹوں کو یہ وقت اِسے نظریاتی طور پر جائز ثابت کرنے کے لئے مناسب معلوم ہوا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک بالغ، بروقت اور تاریخی طور پر تیارہ شدہ قومی انقلاب تھا۔ یہاں سوشل ڈیموکریسی کی روح ہمارے سامنے پوری طرح آشکار ہوتی ہے۔
سماجی انقلاب کا معاملہ بالکل برعکس تھا، جسے ملکیتی طبقات کی جانب سے تسلیم کئے جانے کی کوئی امید نہیں تھی۔ اِسے موخر، کمزور اور ذلیل کیا جانا تھا۔ چونکہ سلطنت اپنے کمزور ترین بخیوں، یعنی قومی بخیوں سے اُدھڑی تھی، لہٰذا آٹو بائر نے انقلاب کے کردار کے بارے میں یہ نتیجہ اخذ کیا: ’’یہ کسی طور پر ایک سماجی نہیں بلکہ قومی انقلاب تھا۔‘‘ درحقیقت بالکل شروعات سے ہی تحریک میں ایک گہرا سماجی انقلابی مواد موجود تھا۔ اِس کے ’’خالصتاً قومی‘‘ کردار کی قلعی اِس حقیقت سے ہی کھل جاتی ہے کہ آسٹریا کے ملکیتی طبقات نے اتحادی ممالک (Entente) کو کھلی دعوت دی کہ وہ اُن کی ساری فوج کو قیدی بنا لیں۔ جرمن بورژوازی نے اطالوی جرنیل سے التجا کی کہ وہ اطالوی دستوں سے ویانا پر قبضہ کر لے [۱۱] ۔
انقلابی عمل میں قومی شکل کی سماجی مافیہ سے اِس گھٹیا اور مصنوعی علیحدگی، گویا وہ دو الگ الگ تاریخی مراحل ہوں (ہم دیکھ سکتے ہیں کہ آٹو بائر یہاں سٹالن کے کتنا قریب آجاتا ہے!) کی منزل انتہائی افادی تھی۔ اِس کا مقصد سماجی انقلاب کے خطرے کے خلاف بورژوازی کی مزاحمت میں سوشل ڈیموکریسی کی معاونت کا جواز پیدا کرنا تھا۔
اگر آپ مارکس کا کلیہ اپنائیں کہ انقلاب تاریخ کا انجن ہوتا ہے، تو آسٹریائی مارکسزم کی حیثیت ایک بریک کی ہے۔حتیٰ کہ بادشاہت کے حقیقی انہدام کے بعد بھی سوشل ڈیموکریسی، جسے حکومت میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی، ابھی تک پرانی ہاپسبرگ حکومت سے تعلق توڑنے کا فیصلہ کرنے سے قاصر تھی۔ 9 اکتوبر کو جب جرمن انقلاب نے ہوہنزولرن بادشاہت کو اکھاڑ پھینکا، تب کہیں جا کر آسٹریائی سوشل ڈیموکریٹوں نے ریاستی کونسل کو تجویز پیش کی کہ ایک جمہوریہ کا اعلان کیا جائے اور اپنے بورژوا ساتھیوں کو عوام کی اُس تحریک سے ڈرا کر راضی کیا جس سے وہ خود تھرتھر کانپ رہے تھے۔ آٹو بائر عاقبت نااندیش ستم ظریفی سے لکھتا ہے، ’’عیسائی سوشلسٹ پارٹی، جو 9 اور 10 نومبر کو ابھی تک بادشاہت کے ساتھ تھی، نے 11 نومبر کو اپنی مزاحمت ختم کرنے کا فیصلہ کیا… ‘‘ یعنی سوشل ڈیموکریٹ اِس بلیک ہنڈرڈ بادشاہت کی پارٹی سے پورے دو دن آگے تھے! انسانیت کی شجاعت کی ساری داستانیں اِس انقلابی بے باکی کے سامنے ماند پڑ جاتی ہیں!
انقلاب کی شروعات سے ہی بالکل روسی منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کی طرح آسٹریائی سوشل ڈیموکریسی اپنی مرضی کے برخلاف قوم کی قیادت میں آ گئی تھی۔ اُنہی کی طرح یہ ہر چیز سے بڑھ کر اپنی ہی طاقت سے ڈرتی تھی۔ مخلوط حکومت میں سوشل ڈیموکریٹوں نے ہر ممکن حد تک کم جگہ گھیرنے کی کوشش کی۔ آٹو بائر اِس کی وضاحت یوں کرتا ہے: ’’انقلاب کے خالصتاً قومی کردار کی وجہ سے شروع میں سوشل ڈیموکریٹوں نے حکومت میں معمولی سا حصہ مانگا۔‘‘ یہ لوگ طاقت کے سوال کا فیصلہ طاقتوں کے توازن، انقلابی تحریک کی قوت، حکمران طبقات کے دیوالیہ پن یا پارٹی کے سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ’’انقلاب کے خالصتاً قومی کردار‘‘ کے مصنوعی لیبل کی بنیاد کر رہے تھے، جو ایسی درجہ بندی کرنے والے کچھ لال بجھکڑوں نے واقعات کی حقیقی روش پر چپکا دیا تھا۔
ریاستی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے کارل رینر نے طوفان کے گزر جانے کا انتظار کیا۔ باقی سوشل ڈیموکریٹک رہنماؤں نے خود کو بورژوا وزرا کے نائبین میں تبدیل کر لیا۔دوسرے الفاظ میں سوشل ڈیموکریٹ دفتری میزوں کے نیچے چھپ گئے۔ تاہم عوام اِس قومی خول پر گزارا کرنے کو تیار نہیں تھے جس کا سماجی گوشت یہ آسٹریائی مارکسسٹ، بورژوازی کے لئے بچا رہے تھے۔ مزدوروں اور سپاہیوں نے بورژوا وزرا کو نکال باہر کیا اور سوشل ڈیموکریٹوں کو روپوشی سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ بے بدل نظریہ دان آٹو بائر اس کی بھی وضاحت کرتا ہے: ’’قومی انقلاب کو سماجی انقلاب کی طرف لے جانے والے بعد کے دنوں کے واقعات نے ہی حکومت میں ہمارا وزن بڑھایا۔‘‘ معقول زبان میں اِس کا مطلب ہے: ’’عوام کے حملے کے تحت سوشل ڈیموکریٹ مجبور تھے کہ میزوں کے نیچے سے باہر نکلیں۔‘‘
لیکن اِس سے اُن کا کام ایک لمحے کے لئے بھی تبدیل نہیں ہوا۔اُنہوں نے ’رومانیت‘ اور ’مہم جوئی‘ کے خلاف جنگ کا آغاز کرنے کے لئے اقتدار سنبھالا۔ یہ گماشتے اب اُس سماجی انقلاب کو ’رومانیت‘ اور’مہم جوئی‘ جیسے القابات سے نواز رہے تھے جس نے ’’حکومت میں اُن کا وزن بڑھایا تھا۔‘‘اگر یہ آسٹریائی مارکسسٹ 1918ء میں محافظ فرشتوں کے طور پر ویانا کے سرمایہ داروں کو پرولتاریہ کی انقلابی رومانیت سے بچانے میں کامیاب رہے تو صرف اِس لئے کہ اُنہیں ایک حقیقی انقلابی پارٹی کی جانب سے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں تھا۔
قومیتوں پر مشتمل اِن دو ریاستوں، روس اور آسٹریا ہنگری نے اپنے بالکل تازہ مقدر سے بالشویزم اور آسٹریائی مارکسزم کے درمیان فرق پر مہر ثبت کی ہے۔ ڈیڑھ دہائی تک لینن نے عظیم روسی شاونزم کے تمام رنگوں کے خلاف بے رحم جدوجہد کرتے ہوئے تمام محکوم قومیتوں کے زاروں کی سلطنت سے علیحدہ ہونے کے حق کی تبلیغ کی۔ بالشویکوں پر روس کو توڑنے کی خواہش کا الزام لگتا تھا، لیکن قومی مسئلے کی اِسی بے باک انقلابی کلیہ سازی سے بالشویک پارٹی نے زارشاہی روس کی محکوم اور چھوٹی اقوام کا لازوال اعتماد جیتا۔ اپریل 1917ء میں لینن نے کہا: ’’جب یوکرائنی دیکھیں گے کہ ہمارے پاس ایک سوویت جمہوریہ ہے تو الگ نہیں ہوں گے، لیکن اگر ہمارے پاس ایک ملیوکوف جمہوریہ ہو گی تو وہ ہو جائیں گے۔‘‘ اُس کی بات درست ثابت ہوئی۔ تاریخ نے قومی سوال پر دونوں پالیسیوں کی ایک بے نظیر پڑتال پیش کی ہے۔ آسٹریا ہنگری، جس کے پرولتاریہ کی تربیت ایک ادھوری بزدلانہ پالیسی کی روح سے کی گئی تھی، ایک ہیبت ناک جھٹکے سے ٹوٹ گیا، مزید برآں اِس عمل کا آغاز بھی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے قومی حصوں نے کیا تھا۔ لیکن روس میں زارشاہی کے کھنڈرات کے اوپر قومیتوں پر مبنی ایک نئی ریاست تشکیل پا چکی ہے، جسے معاشی اور سیاسی طور پر بالشویک پارٹی نے یکجا کیا ہے۔
سوویت یونین کا مقدر کچھ بھی ہو (ابھی منزل بہت دور ہے) لیکن لینن کی قومی پالیسی کا شمار رہتی دنیا تک انسانیت کے خزانوں میں ہو گا۔

*****

[۱] ’عظیم روس‘ کی اصطلاح اصل روس یا وسطی روس کے اُن علاقوں کے لئے استعمال ہوتی ہے جہاں آبائی روسی لوگ آباد تھے۔ اس سے باہر کی طرف روس کے ’سرحدی علاقے‘ تھے جہاں دوسری قومیتیں آباد تھیں۔
[۲] سرحدی علاقوں سے مراد زارشاہی سلطنت کے وہ علاقے جو ’عظیم روس‘ کے بیرونی حصوں پر واقع تھے اور جہاں دوسری قومیتیں آباد تھیں۔
[۳] "Russification” یا ــ”Russianization” سے مراد ایک طرح کی روسی ثقافتی جارحیت ہے، جس میں رضاکارانہ یا غیررضاکارانہ طور پر غیرروسی اقوام پر روسی ثقافت اور زبان کو مسلط کیا جائے اور اُنہیں اپنی ثقافت اور زبان ترک کرنے پر مجبور کیا جائے۔
[۴] سفید روس سے مراد آج کے بیلاروس (Belarus) کے مشرقی علاقے۔
[۵] یونانی میتھولوجی کا ایک کردار، جس کے سر پر بالوں کی بجائے زہریلے سانپ تھے۔
[۶] پیل (Pale) سے مراد زارشاہی روس کے وہ مغربی علاقے جہاں یہودیوں کو آباد ہونے کی اجازت تھی اور جن سے باہر اُنہیں مستقل رہائش کی اجازت نہیں تھی۔
[۷] سامراجی سرمائے کی گماشتگی۔ جیسے پاکستان کی بورژوازی ہے، جس کا کردار سامراجی سرمائے کے کمیشن ایجنٹ کا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے پہلی جلد کے دوسرے باب کے ابتدائی پیراگراف دیکھئے۔
[۸] یہاں ’’Epigone‘‘ کا ترجمہ ’نقال‘ کیا گیا ہے۔ ’’Epigone‘‘کا لفظی مطلب ’کسی تخلیق کار کی معمولی نقالی یا پیروکاری کرنے والا‘ ہے۔ ٹراٹسکی اِس اصطلاح کا استعمال بالعموم سٹالنسٹوں کے لئے کرتا ہے۔
[۹] یہاں اپوزیشن سے مراد لیفٹ اپوزیشن ہے، جو لینن کی وفات کے بعد ٹراٹسکی کی قیادت میں سٹالنسٹ افسر شاہی سے برسر پیکار تھی۔
[۱۰]کیو منٹانگ کا رہنما، جو سٹالنسٹوں کی نظر میں ’’ترقی پسند‘‘ چینی بورژوازی کا نمائندہ تھا اور جس نے پہلا موقع ملتے ہی محنت کشوں اور کمیونسٹ کارکنان کا وسیع قتل عام کیا۔ یوں سٹالنزم کی پالیسیوں کی وجہ سے 1927ء میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی پرولتاری بنیاد کو کچل دیا گیا اور بچے کھچے پارٹی کارکنان دیہاتوں میں فرار ہو گئے، جہاں سے بعد ازاں سٹالنزم کی ماؤاسٹ شکل برآمد ہوئی جو کسانوں کو انقلاب کا ہراول دستہ قرار دیتی ہے۔
[۱۱] یعنی انقلاب کو کچلنے کے لئے حکمران طبقات شکست کھانے اور اپنے دشمنوں کی مدد لینے سے بھی نہیں ہچکچائے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں