لاہور(جدوجہد رپورٹ) صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنے دینے والے گرینڈ ہیلتھ الائنس کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
’جنگ‘ کے مطابق لاہور میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کے دھرنے کے 23 ویں روز دھرنے کے شرکاء نے پیر کے روز ایوان وزیر اعلیٰ کا رُخ کرلیا۔ شرکاء بیریئرز اور رکاوٹیں ہٹاتے ریلی کی صورت میں چیئرنگ کراس سے ایوان وزیر اعلیٰ کے سامنے پہنچ گئے تھے۔ پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
پولیس نے مظاہرین کو گھسیٹ گھسیٹ کر پریزن وین میں ڈالنا شروع کر دیا۔ مظاہرین نے پولیس کی گاڑی پر دھاوا بول دیا، دھکم پیل میں 2 افراد زخمی ہوگئے،جب کہ ایک پولیس اہلکار کی وردی پھٹ گئی۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ لوگ جی او آر کا گیٹ توڑنے کی کوشش کر رہے تھے، اس لیے ان کو پیچھے ہٹانا پڑا، جن مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔
گرینڈ ہیلتھ الائنس کے ملازمین مال روڈ پر ایوان وزیراعلیٰ کے سامنے سے ہٹ کر کلب چوک کی سڑک پر دوبارہ بیٹھ گئے ہیں۔
ٹریڈ یونینیں اور بائیں بازو کی تنظیمیں ملازمین کے مطالبات منظور کرنے کی بجائے ان پر ریاستی جبر کی مذمت کر رہی ہیں۔ رہنماؤں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کے 24روز سے احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ملازمین کے مطالبات منظور کیے جائیں۔