روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

لبنان اور حزب اللہ سامراج کے سائے میں: ایران پر جنگ کے پھیلتے اثرات

لبنان اور حزب اللہ سامراج کے سائے میں: ایران پر جنگ کے پھیلتے اثرات

جوزف داہر

امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جنگ نے پورے خطے کو شدید غیر مستحکم کر دیا ہے۔ اس کے اثرات خصوصاً لبنان میں انتہائی شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں، جو اس وقت اسرائیل کے ایک نئے حملے کی زد میں ہے۔ نہ ایران میں، نہ لبنان میں اور نہ کہیں اور، امریکہ اور اس کا اسرائیلی اتحادی کسی جگہ جمہوریت یا مقامی آبادی کی فلاح کے خواہاں نہیں ہیں۔ ان کا ہدف صرف یہ ہے کہ وہ وحشیانہ تشدد کے ذریعے ایک نیا علاقائی آرڈرنافذ کریں، جو واشنگٹن اور تل ابیب کی بالادستی کے تحت ہو۔ اسرائیل کی یہ تازہ ترین جنگ لبنان کے خلاف اس کی طویل جارحیت کی تاریخ کا تسلسل بھی ہے اور خطے میں امریکی و اسرائیلی بالادستی کی نئی سیاسی کوششوں کا حصہ بھی۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اسرائیل اور امریکہ کے ہاتھوں قتل کے جواب میں، حزب اللہ نے حیفا کے جنوب میں ایک اسرائیلی میزائل ڈیفنس سائٹ پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان واقعات کے بعد اسرائیلی قابض فوج نے لبنان میں اپنی جنگ اور قبضے کو مزید وسعت دے دی ہے اورایرانی اتحادی حزب اللہ کو براہ راست نشانہ بنا رہی ہے۔
اگرچہ نومبر 2024 سے نام نہاد ’’جنگ بندی‘‘ نافذ تھی، لیکن اسرائیلی قابض فوج روزانہ کی بنیاد پر لبنان پر حملے کر رہی ہے۔سینکڑوں افراد کو قتل ، درجنوں کو اغوا کیا، اور ہزاروں کو زخمی کردیاگیا ہے۔ یہ سب کچھ اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے جنگ بندی کی 15 ہزار سے زائد خلاف ورزیوں کا حصہ ہے، جو زمین، فضا اور سمندر تینوں میں کی گئیں۔

تل ابیب نے 2024 کے حملوں کے بعد اب بھی لبنان کے کم از کم پانچ علاقوں پر قبضہ جاری رکھا ہوا ہے، اور اب تک تعمیر نو کو روکے رکھا ہے،خصوصاً سرحدی گاؤں جنہیں اس نے مکمل طور پر زمین بوس کر دیا تھا۔ بہت سے لحاظ سے لبنان کے خلاف اسرائیلی جنگ کبھی واقعی ختم ہوئی ہی نہیں، البتہ اس کی شدت مختلف خطوں میں مختلف انداز میں محسوس کی جاتی رہی۔

حالیہ دنوں میں 2 تا 23 مارچ 2026 کے درمیان 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے، جن میں سے صرف 1لاکھ25ہزار افراد کو استقبالی مراکز میں جگہ مل سکی۔ 1030 سے زیادہ لوگ مارے گئے،جن میں 110 سے زائد بچے اور تقریباً 40 ریسکیو ورکر شامل ہیں،جبکہ تقریباً 2ہزار870 زخمی ہوئے۔

2 مارچ کو حزب اللہ کی عسکری کارروائی کے بعداسرائیلی قابض افواج نے ایک بار پھر بیروت کے جنوبی مضافات سمیت جنوبی لبنان اور وادی بقاع کے قصبوں اور دیہات پر بمباری کی۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنوب میں نیا زمینی حملہ شروع کیا، تاکہ سرحد کے ساتھ اپنے ’’سکیورٹی بفر زون‘‘ کو مزید پھیلا سکے۔ اس وقت جنوب میں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور اسرائیلی قابض افواج کے درمیان براہ راست جھڑپیں جاری ہیں، جبکہ حزب اللہ نے دریائے لیتانی کے شمال سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

اسی دوران اسرائیلی قابض فوج نے بڑے پیمانے پر انخلا کے احکامات جاری کیے، جس کے نتیجے میں بیروت کے جنوبی مضافات، وادی بقاع اور دریائے لیتانی کے جنوب کا پورا علاقہ زبردستی خالی کرایا جا رہا ہے، جو لبنان کے تقریباً 14 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔ جنوبی شہر صور کے رہائشیوں کو فوری طور پر شہر چھوڑنے کا حکم دیا گیا، جبکہ دریائے لیتانی کے جنوبی کنارے کو باقی ملک سے ملانے والے تمام پل منظم طریقے سے تباہ کر دیے گئے ہیں۔تمام اشارے بتاتے ہیں کہ اسرائیل اس پورے خطے پر قبضہ کرنے اور اسے ایک بے آب و گیاہ ،یعنی ’’بفر زون‘‘ میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

حزب اللہ کے پاس اب کیا راستہ ہے؟

حزب اللہ کی عسکری کارروائی نے بلاشبہ اسرائیل کو اس موجودہ جنگ کا بہانہ فراہم کیا،ایسی جنگ جس کی تیاری اسرائیل نے پہلے ہی کر رکھی تھی،اور اسے یہ موقع ملا کہ وہ اپنے دیرینہ مقصد کو آگے بڑھائے۔ یہ مقصد حزب اللہ کو ہر سطح پر (سیاسی، معاشی، عسکری) نمایاں طور پر کمزور کرنا اور بالآخر اسے غیر مسلح کرناہے۔ اسرائیل مسلسل حزب اللہ کے ارکان (سویلین اور عسکری دونوں) اور اس کے اداروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس میں عام شہری ادارے بھی شامل ہیں، جیسے قرض الحسن کا مالیاتی ادارہ، اسی طرح القدس فورس کے وہ ارکان جو لبنان میں مقیم ہیں اور جو ایرانی ریاست کی جانب سے حزب اللہ کی متعدد سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ اسرائیل نے بڑے پیمانے پر ان علاقوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں شیعہ آبادی زیادہ ہے، تاکہ حزب اللہ اور اس کے عوامی حمایتیوں کے درمیان دوری پیدا کی جائے اور مجموعی طور پر تمام لبنانی عوام اور حزب اللہ کے درمیان خلیج کو وسیع کیا جا سکے۔

اسی اثناء میں اسرائیلی حکومت لبنانی ریاست پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل کو جاری رکھے اور بیروت سے مزید رعایتیں حاصل کرے،خصوصاً دونوں ریاستوں کے درمیان تعلقات کی ’’نارملائزیشن‘‘ کے عمل کو گہرا کر کے۔ اس پس منظر میں لبنانی حکومت نے اقدامات کا ایک سلسلہ کیا ہے، جن میں حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دینا اور ان پر پابندی لگانا؛لبنانی فوج سے مطالبہ کرنا کہ وہ جلد از جلد اور ’’ہر ممکن طریقے‘‘ سے ہتھیاروں کی اجارہ داری کے منصوبے پر عمل کرے؛اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسداران انقلاب) کی کسی بھی ممکنہ عسکری سرگرمی پر پابندی عائد کرنا؛ایران سے آنے والوں پرویزا کی پابندی لگانا؛ ایرانی سفیر کی سفارتی حیثیت ختم کرنا، انہیں ناپسندیدہ شخص قرار دینا، اور انہیں لبنان چھوڑنے کا حکم دینا شامل ہیں۔لبنان کے وزیر اطلاعات نے ریاستی میڈیا کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ حزب اللہ کے لیے لفظ ’’مزاحمت‘‘ کے استعمال سے گریز کریں، وغیرہ۔

یہ سارے اقدامات اس سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں جسے 2025 کے آغاز سے لبنانی صدر اور وزیراعظم نے اختیار کر رکھا ہے۔ یہ ایسی حکمت عملی ہے جو مغربی اور علاقائی طاقتوں کے دباؤ میں بنائی گئی، اور جس کا مقصد غیر مسلح کرنے کے مطالبے اور پارٹی سے منسلک غیر رسمی مالیاتی نیٹ ورکس اور چینلز کو کمزور کر کے حزب اللہ پر دباؤ بڑھانا ہے۔

اس تناظر میں لبنانی صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی اپیل بھی کی ہے، لیکن تل ابیب نے اسے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل کی خواہش یہی ہے کہ وہ لبنان اور حزب اللہ کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے۔2006 کی اسرائیلی جنگ کے دوران تیار کی گئی بدنامِ زمانہ ’’ضاحیہ ڈاکٹرائن‘‘ ایک بار پھر نافذ کی جا رہی ہے۔ اس ڈاکٹرائن کا مقصد شہری ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر تباہ کرنا اور کسی دشمن حکومت یا مزاحمتی گروہ پر اتنا دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملہ کرے اور یوں اسرائیل کو مزید عسکری کارروائی کے لیے سیاسی جواز فراہم ہو۔ یہ ڈاکٹرائن غزہ میں بارہا استعمال کی گئی ہے، اور اب ایک بار پھر انہی علاقوں میں نافذ کی جا رہی ہے جہاں سے یہ ابتدا میں نکلی تھی۔

آخرکاراسرائیلی قابض فوج اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر لبنان کے اندر ان دیگر سیاسی فریقوں پر بھی حملے کر رہی ہے جنہیں وہ دشمن یا مخالف سمجھتی ہے۔اس کا ثبوت فلسطینی اسلامی جہاد اور حماس کے متعدد ارکان کے قتل، نیز جماعہ اسلامیہ کے کارکنوں کو نشانہ بنانے اور صیدا میں اس کے دفاتر پر بمباری کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اسی طرح اسرائیلی قابض افواج نے لبنانی فوج کے اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا اور کئی فوجیوں کو قتل کیا۔

مزید وسیع تناظر میں لبنان کے خلاف اسرائیلی قابض افواج کی جنگ امریکہ اور اسرائیل کی ان خواہشات کی عکاسی کرتی ہے جو 7 اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینیوں کے خلاف ان کی نسل کشی پر مبنی جنگ کے پس منظر میں تشکیل پائیں۔ یہ رویہ لبنان اور ایران کے خلاف سابقہ سامراجی جنگوں اور شام میں قبضے کے پھیلاؤ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اس کا مقصد مہلک فوجی طاقت کے ذریعے خطے میں ایسا سیاسی نظام مسلط کرنا ہے جو واشنگٹن اور تل ابیب کے مفادات کے تابع ہو۔

ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے لبنان کے خلاف اسرائیلی جنگ طویل مدت تک جاری رہنے کا خدشہ ہے،خصوصاً امریکہ کی جانب سے مکمل سیاسی حمایت اور فیصلہ کن عسکری مدد کی موجودگی میں،حتی کہ اگر مستقبل میں ایران کے ساتھ کسی مرحلے پر جنگ بندی ہو بھی جائے۔

حزب اللہ اور ایران

لبنان کی موجودہ صورتحال براہ راست اس تاریخی رشتے سے جڑی ہے جو حزب اللہ اور ایران کے درمیان قائم ہے، اور اس جنگ سے بھی جو امریک اور اسرائیل نے شروع کی ہے۔ حزب اللہ کا مستقبل اور اس کی مالی و عسکری صلاحیتیں براہ راست ایران کی اسلامی جمہوریہ کی بقا اور سمت سے جڑی ہوئی ہیں۔

ایران نے نہ صرف حزب اللہ کو اہم عسکری مدد اور اسلحہ فراہم کیا، بلکہ اس نے حزب اللہ کے سول اور فوجی عملے کی تنخواہیں ادا کرنے میں بھی کردار ادا کیا، اور پارٹی کے سماجی پروگراموں کی مالی معاونت بھی کی جو اس کے عوامی حمایتیوں کو سہولیات مہیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ لبنان میں ریاست کے بعد سب سے بڑا روزگار دینے والا ادارہ بن کر ابھری۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی مشیر تاریخی طور پر حزب اللہ کی فیصلہ سازی کی تنظیمی ساختوں میں شامل رہے ہیں،جن میں اس کی جہاد کونسل (فوجی) اور شوریٰ کونسل (سیاسی) تنظیمی ساختیں شامل ہیں۔

حزب اللہ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو تعیناتی پر مبارکباد دی،جنہیں 28 فروری 2026 کو ان کے والد کی وفات کے بعد مجلس خبرگان نے مقررکیا۔ حزب اللہ نے اعلان کیا کہ جماعت ان کی قیادت کے ساتھ ویسے ہی وفادار رہے گی‘’’جیسے ہم شہید رہبر امام خامنہ ای اور بانی امام خمینی کے ساتھ تھے۔‘‘

اس طرح اسرائیلی قابض افواج کے جاری حملوں کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ 2 مارچ کو اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی عسکری کارروائیاں براہ راست ایران کے ریاستی ردعمل کا حصہ ہیں۔ لبنان میں ایک نیا محاذ کھولنا ایرانی پاسداران انقلاب کی اس حکمت عملی کے عین مطابق تھا جس کا مقصد جنگ کو علاقائی سطح پر پھیلانا اور اپنے مخالفین کے لیے اس کے عسکری اور معاشی اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ کرنا تھا۔مزید یہ کہ پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا اظہار آپریشن Eaten Straw میں ہوا، جو مارچ کے وسط میں لبنانی مزاحمتی تحریک کے عسکری ونگ نے ایران کے ساتھ ہم آہنگی میں انجام دیا،جس میں اسرائیلی علاقوں پر تقریباً 200 راکٹ اور 20 ڈرون فائر کیے گئے۔

ایران کی اس وسیع تر حکمت عملی میں اسرائیل کے خلاف جاری بمباری کی مہم بھی شامل ہے، جس میں خلیجی بادشاہتوں میں واقع تیل کے بنیادی ڈھانچے اور امریکی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ اسی حکمت عملی کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا،جو دنیا کے تقریباً 20 فیصد سمندری تیل کی گزرگاہ کا اسٹرٹیجک راستہ ہے۔ اس اقدام نے کئی کمپنیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ متبادل، زیادہ مہنگے اور لمبے راستے استعمال کریں۔مارچ 2026 کے آخر تک خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،جس میں جنگ کے آغاز کے بعد سے 30 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور امریکہ و اسرائیل کی قیادت پر بھی اس کے سنگین سیاسی اثرات پڑ رہے ہیں۔

حزب اللہ کی تنظیمی وحدت اور لبنانی ریاست کے ساتھ اس کا تعلق

اگرچہ حزب اللہ اسرائیلی حملوں کے خلاف ظاہری اتحاد کا چہرہ پیش کر رہی ہے، لیکن غالب امکان ہے کہ جماعت کے اندر رائے اور حکمت عملی کے اختلافات موجود رہے ہیں،جو 2024 کی جنگ سے ہی پکتے آ رہے تھے۔

حزب اللہ کی قیادت اور تنظیمی ڈھانچہ اس وقت ہل کر رہ گیا جب سابق سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ اور جماعت کی سیاسی و عسکری قیادت کے متعدد ارکان کو قتل کر دیا گیا۔ نئے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم اپنے پیش رو کے برابر سیاسی اثرورسوخ اور مقبولیت نہیں رکھتے۔

اسی دوران خطے میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی خطرات نے پارٹی کے اندر تناؤ میں اضافہ کیا ہے،جن میں دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ اس سیاسی اور عسکری دباؤ نے ناگزیر طور پر جماعت میں نکتہ نظر اور حکمت عملی کے اختلافات کو جنم دیا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ حزب اللہ کا پاسداران انقلاب پر انحصار مزید گہرا ہو گیا ہے، خصوصاً اس کے عسکری ونگ کے اندر۔

اسی دوران حزب اللہ کے عسکری ونگ کے بعض حلقوں کا یہ خیال بھی ہو سکتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جنگ چھیڑنے سے ایک طرف لبنانی حکومت کے غیر مسلح کرنے کے منصوبے میں خلل پڑ سکتا ہے، اور دوسری جانب ایران کی طویل، علاقائی جنگ کی حکمت عملی کو تقویت مل سکتی ہے،جس کے ممکنہ نتائج حزب اللہ اور ایران کے علاقائی نیٹ ورکس کے لیے فائدہ مند ہوں۔

اگرچہ سیکرٹری جنرل قاسم اور متعدد پارٹی رہنماؤں نے جنگ میں حزب اللہ کے کردار کی کھل کر حمایت کی ہے، تاہم مختلف سطحوں پر اختلاف رائے کی جھلکیاں بھی نظر آئی ہیں۔ حزب اللہ کی قیادت کی اکثریت لبنانی حکومت کے غیر مسلح کرنے کے مطالبے کی سخت مخالف ہے، لیکن ردعمل کے طریقہ کار پر اختلاف موجود ہے،کچھ زیادہ تعاون کے حق میں ہیں اور کچھ کم کے۔یہ اختلافات پارٹی کو درپیش مختلف دباؤ کے جواب میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر حزب اللہ کے سابق وزیر مصطفی بیرم نے ایک ٹویٹ (جو بعد میں حذف کر دی گئی) میں الزام لگایا کہ تل ابیب نے 2 مارچ کو ایک ایسے راکٹ حملے کی منصوبہ بندی کی تھی،جو اصل میں حزب اللہ نے کیا تھا،تاکہ لبنان پر اپنے پہلے سے طے شدہ حملوں کو جواز دیا جا سکے۔اسی طرح یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ حزب اللہ کے رہنماؤں محمد فنیش اور محمد رعد نے امل تحریک کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کو یقین دہانی کرائی تھی کہ حزب اللہ موجودہ علاقائی جنگ میں شامل نہیں ہو گا۔

تاہم اسرائیلی جنگ اور لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف سیاسی دباؤ نے جماعت کی قیادت اور کارکنوں کے رویے اور بیانیے کو مزید یکساں اور سخت گیر بنا دیا ہے۔ حزب اللہ اس جنگ کو ایک وجودی جنگ سمجھتی ہے۔ایسے دشمن کے خلاف جنگ جو کبھی بھی لبنان یا حزب اللہ کے بارے میں دشمنی سے باز نہیں آیا۔ اسی وجہ سے جماعت کے کچھ رہنماؤں نے لبنانی حکومت کے خلاف بھی بیانیہ سخت کر دیا ہے۔

مثال کے طور پر حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب صدر محمود قماطی نے کہا کہ ’’ہم ملک کو ہلا دینے اور حکومت کو گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہماری برداشت کی بھی ایک حد ہے۔۔۔۔وشی حکومت نے مزاحمت کاروں کو گرفتار کرکے پھانسیاں دیں، پھر وہ خود بھی گر گئی اور اس کے غدار انجام کو پہنچے۔ خدا کرے کہ ہمیں اتنی دور نہ جانا پڑے۔۔۔۔ جنگ کے بعد موجودہ سیاسی قوت کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ ناگزیر نظر آ رہا ہے، چاہے جنگ کا نتیجہ کچھ بھی ہو۔ لبنانی حکومت اب ملک پر حکمرانی کی اہل نہیں رہی، اور اس کے تمام موقف صرف اسرائیلی دشمن کے مفاد میں ہیں۔ لہٰذا ٹکراؤ قریب ہے، اور غدار اپنی غداری کی قیمت ادا کریں گے۔‘‘

اسی طرح، حزب اللہ کی رابطہ و ہم آہنگی یونٹ کے سابق سربراہ وفیق صفا نے بھی کہا کہ’’ہم حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ جنگ کے بعد جماعت کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی کے فیصلے سے پیچھے ہٹ جائے،چاہے جو بھی طریقہ اختیار کرنا پڑے۔‘‘

اس پس منظر میں ابتدا میں حزب اللہ کو اپنی عوامی حمایت کے کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً اس کے اسرائیل پر حملے کے بعد۔ لوگ حالیہ جنگ سے پیدا ہونے والی تباہی، بربادی اور بے گھری سے تھک چکے تھے۔2024 سے حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں میں کمی کے باعث بہت سے افراد کو شدید شبہ تھا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے توازن پر کوئی حقیقی اثر ڈال سکتی ہے یا نہیں؛یا لبنان میں اسرائیلی قابض افواج کی تباہ کاریوں کو کم کر سکتی ہے یا نہیں۔

دسمبر 2024 میں شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے نے حزب اللہ کی عسکری کمزوریوں کو اور بڑھا دیا۔ اس سے پہلے شام، رقوم اور اسلحے کی ترسیل کا سب سے بڑا راستہ تھا؛اور غیر قانونی تجارت،جیسے کیپٹاگون سمیت منشیات کی اسمگلنگ سمیت دیگر ذرائع سے آمدن کا مرکز بھی۔تاہم نئی شامی حکومت نے امریکہ سے وفاداری ثابت کرنے کے لیے سرحدوں پر سخت کنٹرول نافذ کر دیے اور فوجی موجودگی بڑھا دی۔اس نئے سیاسی تناظر نے لبنان میں ایسے صدر اور حکومت کے انتخاب کو آسان بنایا جومغربی مداخلت کے زیادہ قریب اور حزب اللہ کے اسلحے کے زیادہ مخالف ہو۔

تاہم عسکری لحاظ سے حزب اللہ نے اس عرصے میں خود کو نئی قیادت اور مقامی اسلحہ سازی پر توجہ کے ساتھ دوبارہ منظم کیاہے ۔اس کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں راکٹ اور ڈرونز موجود ہیں،جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل بھی شامل ہیں۔حزب اللہ کے پاس اب بھی 30 سے 40 ہزار تک مسلح جنگجو موجود ہیں۔

تاہم یہ عسکری تشکیل نو بھی جماعت کی سیاسی اور جغرافیائی تنہائی کو توڑنے میں ناکام رہی۔اس وقت حزب اللہ پر کئی سمتوں سے دباؤ ہے۔اسرائیلی جارحیت کا مسلسل خطرہ ہے،لبنانی حکومت اور فوج پر امریکہ کا دباؤہے،بین الاقوامی مالی پابندیاں ہیں،شام میں حکومت کی تبدیلی اور لبنان میں بڑی آبادی کی جانب سے مکمل غیر مسلح ہونے کا مطالبہ بھی مسائل اور دباؤ کی وجہ ہے۔

اگرچہ حزب اللہ کے روایتی مخالفین،مثلاً لبنانی فوج کا اس کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی کی حمایت کرنا حیران کن نہیں، لیکن اس پابندی کے فیصلے کی امل تحریک (جو اس کی قریبی شیعہ اتحادی ہے) کی جانب سے حمایت،حزب اللہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔یہ دونوں جماعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

وزیر اعظم نواف سلام کی یہ اپیل کہ لبنانی فوج فوراً حزب اللہ کو غیر مسلح کرے،سخت چیلنجنگ ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فوج میں ایک تہائی سے زیادہ شیعہ اہلکار ہیں،اور ایسا اقدام فوج کی یکجہتی کو تباہ کر سکتا ہے۔لبنانی فوج کے کمانڈر انچیف رودولف ہائیکل نے مبینہ طور پر کہا کہ حزب اللہ کے خلاف طاقت کا استعمال خونریزی اور فوج کی تقسیم کا باعث بن سکتا ہے،اس لیے وہ اس اقدام کی مخالفت کرتے ہیں۔ان بیانات کے بعد امریکہ نے لبنانی فوج کے ساتھ اپنی سیکورٹی کوآرڈی نیشن معطل کر دی، تاکہ رودولف ہائیکل کی برطرفی کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔تاہم لبنانی صدر عون نے اب تک اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

مزید یہ کہ ایسے کسی فیصلے کے لیے ’’شیعہ‘‘ سیاسی پشت پناہی فراہم کرنے کے لیے امل کی منظوری بھی ضروری ہوگی۔ تاہم امل کے سربراہ اور اسپیکر پارلیمنٹ بری ابھی تک ایسی منظوری دینے کے لیے تیار نہیں، خصوصاً اس لیے کہ ایسا کرنا مجموعی طور پر شیعہ برادری کو کمزور کر سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں بری اس وقت اسرائیلی حکام کے ساتھ ممکنہ براہ راست مذاکرات کے لیے لبنانی حکومتی وفد میں کسی شیعہ شخصیت کی نامزدگی سے بھی انکار کر رہے ہیں۔ بری حزب اللہ کی طرح یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کے دوران اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا کوئی بھی فارمولہ لبنانی فریق کی طرف سے حد سے زیادہ چھوٹ دینے کا سبب بنے گا۔

وسیع تر سطح پر حزب اللہ کے خلاف لبنانی عوام کی بڑی تعداد میں بڑھتی ہوئی ناراضی اور پھوٹتا ہوا غصہ حالیہ واقعات کے بعد مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ملک میں فرقہ وارانہ تناؤ بھی بڑھا ہے۔ یہ وہ تناؤ ہیں جنہیں اسرائیل کی ریاست ہمیشہ سے لبنان کے اندرونی انتشار کو گہرا کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ اس کے باوجود حزب اللہ کو اکثر ملک اور خطے کے موجودہ عدم استحکام کا مرکزی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

لبنانی شیعہ برادری سے باہر حزب اللہ کی تنہائی اور کم ہوتی مقبولیت گزشتہ دو دہائیوں میں اس کی داخلی پالیسیوں کی وجہ سے مزید بڑھ گئی ہے۔ ان پالیسیوں میں8 مئی 2008 کے واقعات، 2019 کی لبنانی انتفادہ کی مخالفت اور مظاہرین پر جبر، اور علاقائی سطح پر شام میں انقلابی تحریک کے ابھار کے وقت اسد حکومت کی حمایت میں مداخلت جیسی پالیسیاں شامل ہیں۔

ستمبر 2025 میں ناصرسٹ پاپولر آرگنائزیشن کے صدر اور صیدا کے رکن پارلیمنٹ اسامہ سعد نے لبنانی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (جس کاعربی مخفف ’جمول‘ ہے) کی 43ویں سالگرہ کی تقریب میں کھل کر حزب اللہ کی ’’مزاحمت کی فرقہ وارانہ تشکیل‘‘ پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ قومی مزاحمتی محاذ کو اپنے کردار، یعنی جاری آزادی کی جدوجہد، کو آگے بڑھانے سے روکا گیا، اور یہ کہ جو مزاحمت کبھی ’’قومی اور وحدت کی علامت‘‘ تھی، وہ اب ’’گروہی‘‘ بن چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’یہ سنگین غلطی مزاحمت کو ایک فرقہ وارانہ مسئلے میں تبدیل کرنے کا باعث بنی، اور اس نے لبنانیوں کو اپنی قومی ذمہ داری کو سمجھنے سے روک دیا،جیسے ملک کی آزادی نہ تو ریاست کا مسئلہ ہو، نہ اس کے طبقات کا، اور نہ اس کے عوام کا۔‘‘

حالیہ دنوں میں حزب اللہ کی عسکری کارروائی پر تنقید لبنانی کمیونسٹ پارٹی (ایل سی پی) کی جانب سے بھی سامنے آئی ہے، جس نے اسرائیل کی نوآبادیاتی ریاست کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’حزب اللہ کا ردعمل ہیت اور مواد دونوں کے لحاظ سے فیصلہ سازی کی غلطی تھی۔ صہیونی دشمن، جسے جارحیت جاری رکھنے کے لیے کسی بہانے کی ضرورت نہیں، نے اس کارروائی کو لبنان کے خلاف اپنی بربریت میں اضافے کے لیے استعمال کیا۔‘‘

متعدد انٹرویوز میں ایل سی پی کے سیکرٹری جنرل حنا غریب نے بھی حزب اللہ پر شدید تنقید کی ہے کہ اس نے اسرائیل کو یہ نیا حملہ شروع کرنے کا بہانہ فراہم کیا۔ اگرچہ وہ مزاحمت کے حق اور لبنانی ریاست پر تنقید کا دفاع کرتے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ مزاحمت فرقہ وارانہ نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کسی ایک مذہبی گروہ کے ہاتھ میں مرتکز، جیسا کہ آج ہے۔ ان کے مطابق مزاحمت قومی ہونی چاہیے، جس میں تمام مذہبی برادریاں شامل ہوں، جیسا کہ ماضی میں جمول کے ساتھ تھا، جس کا مقصد محنت کش اور عوامی طبقات کو آزاد کرنا، اور جمہوری و معاشی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنا تھا۔ یہ تمام عناصر حزب اللہ نظر انداز کرتی ہے۔یہ تنقید لبنانی بائیں بازو کے ایک حصے میں اس اسرائیلی جارحیت سے پہلے بھی پنپ رہی تھی، لیکن حالیہ حملے کے بعد یہ اور زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔

اب کیا ہوگا؟

ایک طرف حزب اللہ ایک حقیقی وجودی خطرے سے دوچار ہے، دوسری طرف لبنانی حکومت مسلسل اسرائیلی حملوں کے باعث جبری بے دخلی اور مزید تشدد کے خطرے میں گھرے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام ہے۔ حزب اللہ کے غیر مسلح کیے جانے کی خواہش ایک غلط منطق پر قائم ہے،جو اسرائیل، علاقائی و مغربی طاقتوں اور لبنانی آبادی کے ایک بڑے حصے میں مشترک ہے۔ خواہش یہ ہے کہ ریاستی خودمختاری صرف تب بحال ہو سکتی ہے جب ریاست اپنی تشدد پر اجارہ داری کو مضبوط کرے۔ مزید یہ کہ لبنانی فوج کے لیے بیرونی فنڈنگ، چاہے وہ امریکہ، قطر یا فرانس کی جانب سے ہو، بنیادی طور پر اس کے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے کردار سے مشروط ہے، نہ کہ ملک کو بیرونی خطرات سے بچانے کی صلاحیت سے۔ حکومت کا فیصلہ کہ لبنانی فوج کو جنوب سے واپس بلا کر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر توجہ دی جائے، اس منطق کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔

حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نارملائزیشن کے عمل سے بھی منسلک ہے، جس سے حکومت توقع رکھتی ہے کہ تعمیر نو کے لیے بڑے پیمانے پر مالی امداد مل جائے گی۔

اس طرح لبنانی خودمختاری کو بالواسطہ طور پر بیرونی شرائط کی قبولیت سے مشروط کر دیا جاتا ہے، اور واشنگٹن کے بھاری دباؤ کے ساتھ یہ کسی بھی ’’معاہدے‘‘ کو خودمختاری کے اظہار کی بجائے ایک ایجنسی کا سرینڈر بنا دیتا ہے۔

حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل کو، خصوصاً اسرائیل کی جاری علاقائی جنگ کے دوران ، بغیر کسی سیاسی یا معاشی تبدیلی کے آگے بڑھانا، ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں مزید اضافے اور ریاست کی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے ملک کی اس معیشت میں کوئی تبدیلی لانے کی کوشش نہیں کی، جو فرقہ وارانہ سرپرستی، نیولبرل کرایہ داری (نجکاری، حکومتی ٹھیکوں کی تقسیم، اور خدماتی شعبوں خصوصاً مالیات، بینکاری، تجارت اور رئیل اسٹیٹ کے ذریعے رینٹ حاصل کرنے) اور اشرافیہ کی گرفت پر قائم ہے۔ حزب اللہ خود بھی گزشتہ دو دہائیوں سے اس فرقہ وارانہ اور نیولبرل سیاسی نظام میں سرگرم طریقے سے شریک اور حمایتی رہی ہے۔ ریاست کے اعلیٰ ترین سطحوں پر وہ اس نظام کا حصہ بن کر رہی ہے، جہاں اس نے لبنانی بورژوازی کے مختلف دھڑوں کے مفادات کا دفاع کیا۔

ریاستی خودمختاری کا یہ تصور، جو تقریباً مکمل طور پر سکیورٹی فورسز کے پھیلاؤ کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، دو بنیادی حقائق کو نظر انداز کرتا ہے۔ اول، لبنانی مسلح افواج کے پاس نہ تو مادی وسائل ہیں اور نہ مالی طاقت کہ وہ خود لبنان کی سرحدوں کا دفاع کر سکیں یا وہ خلا پر کر سکیں جو حزب اللہ کے ہٹنے سے پیدا ہوگا۔ جاری معاشی بحران ، تیز رفتار مہنگائی اور قومی کرنسی کی تباہی، کی وجہ سے 2025 کا تقریباً پورا دفاعی بجٹ صرف تنخواہوں اور بنیادی اخراجات میں کھپ جاتا ہے۔ ایک سپاہی کی حقیقی آمدنی اس کے عہدے اور الاؤنسز کے مطابق تقریباً 250 سے 400 ڈالر کے درمیان ہوتی ہے، جو بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اخراجات زندگی کے مطابق بنیادی ضروریات کے لیے بھی ناکافی ہے۔ اس صورتحال میں اکثر فوجیوں کو دوسرا روزگار اختیار کرنا پڑتا ہے۔دوم، لبنانی ریاست کے پاس مرکزی دفاعی حکمت عملی نافذ کرنے کی وہ سیاسی اور اخلاقی جوازیت ہی نہیں رہی۔ برسوں پر محیط مذہبی سرپرستی، پسماندہ ٹیکسیشن، اور معاشی محرومی نے ریاست کی اپنے ہی شہریوں میں ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت نہ تو نشانہ بننے والے اور بے گھر ہونے والے عوام کی ضروریات کا کوئی خاطر خواہ جواب دے سکی ہے، اور نہ ہی تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے کوئی منصوبہ پیش کر سکی ہے۔

حزب اللہ کی خودمختار عسکری صلاحیتیں اور ایران کے ساتھ اس کا سیاسی تعلق واضح طور پر ایک خودمختار قومی دفاعی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تاہم حکومت فیصلے کرتے وقت حزب اللہ کی عوامی بنیاد کو نظرانداز بھی نہیں کر سکتی۔ آخرکار اس جماعت کی حمایت بڑی حد تک ریاست کی ناکامیوں، عدم تحفظ، سماجی و اقتصادی حاشیہ بندی، اور بیرونی حملوں اور جنگوں ، خصوصاً اسرائیل کی جانب سے ، کے نتیجے میں تشکیل پائی ہے۔ اگرچہ شیعہ آبادی کے لیے اسرائیل کے خلاف تحفظ کے طور پر حزب اللہ کی مسلح طاقت کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے، لیکن یہ اب بھی قومی سیاسی نظام میں ایک اثاثہ ہے۔ یہ حقیقت آج اس لیے بھی زیادہ نمایاں ہے کہ پڑوسی ملک شام کی نئی حکمران اشرافیہ کو پارٹی اور عمومی طور پر شیعہ آبادی کے لیے مخالف سمجھا جاتا ہے۔ درحقیقت حزب اللہ کی عسکری قوت کبھی بھی صرف اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے لیے استعمال نہیں ہوئی، بلکہ داخلی اور خارجی سطح پر دیگر سیاسی عوامل اور ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کے منصوبے سے بھی منسلک رہی ہے۔

دوسرے لفظوں میں لبنانی ریاست کو بااعتبار، جواب دہ اور جامع محسوس ہونا چاہیے،ایسی جو نہ صرف خطرات کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہو بلکہ مزدور طبقات کی ضروریات پوری کرنے کے قابل بھی ہو۔ فرقہ وارانہ اور نیولبرل سیاسی نظام اور اس کے اداروں میں عوامی جوازیت کی شدید کمی ہے۔ خاص طور پر اس حوالے سے کہ ملک کی مزدور طبقات کی امنگوں کی سچی نمائندگی کرنے والی کوئی جمہوری گنجائش موجود نہیں، اور نہ ہی آبادی کے بڑے حصے کے لیے بنیادی سماجی و معاشی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

مزید برآں حزب اللہ کے عوامی حلقوں کے بعض حصوں کی مایوسی اب بھی ملک میں ایک جمہوری اور جامع متبادل سیاسی راستے کا تقاضا کرتی ہے،ایک ایسا راستہ جو انہیں منظم کر سکے۔ تاہم اس طرح کا کوئی متبادل اس وقت موجود نہیں۔ اس پس منظر میں، اور موجودہ داخلی و خارجی خطرات اور لبنانی ریاست کی ناکامیوں کے باعث یہ بھی یقینی نہیں کہ ہم حزب اللہ کی عوامی بنیاد کا اس سے منہ موڑ لینے کا کوئی رجحان دیکھیں گے۔ اس کے برعکس شاید ہم جماعت کے گرد مزید اتحاد کی ضرورت کا بڑھتا ہوا احساس دیکھیں۔

اگرچہ اسرائیلی قابض فوج کی جنگ کی مخالفت ضروری ہے، بشمول مسلح مزاحمت، جو ایک نوآبادیاتی قبضے اور مسلسل حملوں کے مقابلے میں بنیادی حق ہے ، لیکن لبنان میں فی الحال اس نوعیت کی سیاسی سکت کمزور ہے۔ ایسی مزاحمت پائیدار نہیں ہو سکتی، اور نہ ہی کامیابی کی راہ ہموار کر سکتی ہے، اگر وہ ایک ہی مذہبی گروہ تک محدود ہو، یا اگر اس کے پاس جمہوریت، سماجی انصاف اور مساوات پر مبنی سیاسی منصوبہ نہ ہو، نہ لبنان میں اور نہ ہی پورے خطے میں۔

اسی طرح جمہوری اور سماجی بنیادوں پر قائم عوامی مزاحمت اپنی قسمت ایک ایسے آمرانہ ایرانی نظام کے ساتھ نہیں جوڑ سکتی، جو اپنے مزدور طبقات کو دبانے کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر ایک سامراجی پالیسی بھی چلا رہا ہے ۔ جیسا کہ شام (جہاں پاسداران انقلاب، حزب اللہ، اور تہران نواز ملیشیاؤں نے اسد کی آمریت کا ساتھ دیا)، عراق، لبنان اور یمن میں نظر آتا ہے۔ یہ تنقید ہرگز اس حقیقت کی نفی نہیں کرتی کہ ہم ایک ہی وقت میں امریکی واسرائیلی سامراجی جنگوں اور فلسطینیوں پر جاری نسل کشی کی بھی مذمت کریں۔

جہاں تک لبنانی حکومت کے ’’خودمختارملک‘‘ کے دعوؤں کا تعلق ہے، موجودہ صورتحال ملک کی مزدور طبقات کے مفادات کو ہرگز ترقی نہیں دے گی۔ ’’خودمختاری‘‘ کا یہ بیانیہ لبنانی فوج کی طاقت مسلط کرنے پر قائم ہے ، جو بیرونی طاقتوں کے دباؤ سے تقویت پاتا ہے، جن کے مفادات لبنانی اور علاقائی مزدور طبقات کی ضروریات کے برخلاف ہیں۔ حکومت کی یہ ناکامی کہ وہ فرقہ وارانہ اور نیولبرل نظام کو ختم کرے، یا ریاستی صلاحیت کو مضبوط کرے ، خواہ وہ سماجی و معاشی خدمات ہوں یا عوام کا دفاع ، اس تضاد کو مزید گہرا کرتی ہے۔

دوسرے الفاظ میں ضروری یہ ہے کہ جمہوری اور سماجی مسائل کو ایک ساتھ جوڑا جائے، تمام سامراجی اور ذیلی سامراجی طاقتوں کی مخالفت کی جائے، اور نیچے سے سیاسی و سماجی تبدیلی کا عمل تعمیر کیا جائے۔ یعنی ایسے عوامی و محنت کشوں پر مبنی تحریکی ڈھانچے قائم کیے جائیں جن میں محنت کش طبقات اپنی آزادی کے اصل ایجنٹ بنیں۔ ان دو حرکیات کو ایک دوسرے سے الگ کرنا لبنان اور وسیع تر خطے کے محنت کش طبقات کے لیے مزید تکالیف کا باعث بنے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مزاحمت کا ایسا منصوبہ پیش کیا جائے جو محنت کش طبقات میں حقیقی عوامی بنیاد رکھتا ہو، تمام مذاہب اور نسلی گروہوں سے بالاتر ہو، اور مقامی و علاقائی سطح پر ان کے مشترکہ طبقاتی مفادات کے دفاع پر قائم ہو۔

(بشکریہ: ’لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں