روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

لینن سرکشی کی کال دیتا ہے

لینن سرکشی کی کال دیتا ہے

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف ’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

فیکٹریوں، بیرکوں، دیہاتوں، محاذ اور سوویتوں کے علاوہ انقلاب کی ایک اور تجربہ گاہ بھی تھی: لینن کا دماغ۔ روپوش ہو جانے کے بعد 6 جولائی سے 25 اکتوبر تک کے ایک سو گیارہ دنوں کے دوران لینن مرکزی کمیٹی کے اراکین سے بھی رابطہ منقطع کرنے پر مجبور تھا۔ عوام سے براہِ راست میل جول اور پارٹی تنظیموں کیساتھ روابط سے محرومی کے اِس عرصے میں اُس نے اپنی سوچ کو زیادہ مستقل مزاجی سے انقلاب کے بنیادی مسائل پر مرکوز کیا اور اُنہیں مارکسزم کے بنیادی مسائل تک محدود کر دیا، جو اُس کا طریقہ کار بھی تھا اور اُس کی فطرت کا تقاضا بھی ۔
اقتدارپر قبضے کے خلاف سب سے بائیں بازو کے جمہوریت پسندوں کی کلیدی دلیل بھی یہی تھی کہ محنت کش ابھی ریاستی مشینری چلانے کے قابل نہیں تھے۔ حتیٰ کہ بالشویک پارٹی میں بھی موقع پرست عناصر نے ایسے خوف پال رکھے تھے۔ ’’ریاست کی مشنری!‘‘ ہر پیٹی بورژوا کو عوام اور طبقات سے بلند اِسی پراسرار اصول کی پرستش سکھائی جاتی ہے۔ ہر پڑھے لکھے جاہل کے دل و دماغ میں اپنے مالدار کسان باپ یا دُکاندار چچا کی طرح اِن مقتدر اداروں کاخوف و دبدبہ رچا بسا ہوتا ہے جہاں جنگ اور امن کے سوالوں کے فیصلے ہوتے ہیں، جہاں تجارتی پیٹنٹ دئیے جاتے ہیں، جہاں سے ٹیکسوں کے کَوڑے برسائے جاتے ہیں، جہاں سزا اور کبھی معافی بھی مل جاتی ہے، جہاں شادیوں اور پیدائشوں کو جائز بنایا جاتا ہے، جہاں خود موت کو بھی اپنی شناخت کے لئے بڑی تمیز سے قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ ریاست کی مشینری! پیٹی بورژوا اپنے تخیل میں نہ صرف اپنی ٹوپی بلکہ جوتے بھی اتار کر پنجوں کے بل اِس دیوی کے مندر میں داخل ہوتا ہے۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اُس کا نام کیرنسکی ہے یا لاوال، میکڈونلڈ ہے یا ہلفرڈنگ [۱]، جب بھی ذاتی خوش قسمتی یا حالات کی قوت اُسے وزیر بناتی ہے تو وہ اِسی طرح سے داخل ہوتا ہے۔ اِس لطف و کرم کا جواب وہ ’’ریاست کی مشینری‘‘ کی اطاعت گزاری سے ہی دے سکتا ہے۔ روس کے ریڈیکل دانشور، جو انقلاب کے دوران بھی خطاب یافتہ زمینداروں اور بڑے صنعتکاروں کی پیٹھ پیچھے ہی اقتدار کی نشستوں پر بیٹھنے کی جرات کرتے تھے، بالشویکوں کی طرف خوف اور طیش سے دیکھتے تھے۔ یہ سڑکوں پر ایجی ٹیشن کرنے والے، یہ جذباتی تقریریں کرنے والے، یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ریاست کی مشینری چلا سکتے ہیں!
سرکاری جمہوریت کے خصی پن کے مقابلے میں جب سوویت نے کورنیلوف کے خلاف جدوجہد کر کے انقلاب کو بچا لیا تو لینن نے لکھا: ’’ اعتماد کے فقدان والوں کو اِس مثال سے سیکھنے دو۔ وہ شرم کریں جو کہتے ہیں کہ ’بے رحمی سے بورژوازی کا دفاع کرنے والی پرانی مشینری کو تبدیل کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی مشینری نہیں ہے۔‘ ہمارے پاس مشینری ہے۔ یہ سوویتیں ہیں۔ عوام کی پیش قدمی اور آزادی سے نہ ڈرو۔ عوام کی انقلابی تنظیموں پر بھروسہ کرو ۔تم ریاستی زندگی کے تمام شعبوں میں مزدوروں اور کسانوں کی وہی طاقت، وقار اور ناقابل تسخیر عزم دیکھو گے جس کا مظاہرہ اُنہوں نے کورنیلوفزم کے خلاف کیا ہے۔‘‘
اپنی روپوش زندگی کے ابتدائی مہینوں میں اُس نے ’ریاست اور انقلاب‘ تحریر کی، جس کے لئے کلیدی مواد اُس نے جنگ کے دوران بیرونِ ملک اکٹھا کیا تھا۔ جو جفاکش احتیاط اُس نے فوری عملی مسائل پر غوروفکر میں برتی تھی، اُسی سے ریاست کے نظریاتی مسائل کا جائزہ لیا۔ وہ اِس سے برعکس کر بھی نہیں سکتا تھا: اُس کے لئے نظریہ درحقیقت عمل کا رہنما تھا۔ اپنی اِس تصنیف میں لینن نے ایک لمحے کے لئے بھی مارکسزم کے سیاسی نظرئیے میں کوئی نئی بات متعارف کروانے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ اِس کے برعکس وہ اپنی ایک شاگرد کی حیثیت پر زور دیتے ہوئے اپنی تصنیف کو غیرمعمولی عاجزی کا پہلو عطا کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اُس کا کام ’’ریاست کے بارے میں مارکسزم کی حقیقی تعلیم ‘‘ کو زندہ کرنا ہے۔
اقوال کے بے حد محتاط انتخاب اور تفصیلی مناظرانہ تشریحات کی وجہ سے یہ کتاب شاید اُن حقیقی کتاب پرستوں کو بھی کتاب پرستانہ لگے جو متن کے تجزئیے کے نیچے سوچ اور عزم کی دیوہیکل تڑپ کو محسوس کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ لیکن ریاست کے طبقاتی نظرئیے کو ہی ایک نئی اور بلند تر تاریخی بنیاد پر استوار کر کے لینن نے مارکس کے نظریات کو ایک نئی مادیت اور اہمیت عطا کی ہے۔ لیکن ریاست پر یہ تصنیف سب سے بڑھ کر اپنی بے انتہا اہمیت اِس حقیقت سے اخذ کرتی ہے کہ یہ تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب کے سائنسی تعارف پر مبنی ہے۔ مارکس کا یہ ’’مفسر‘‘ اپنی پارٹی کو کرہ ارض کے قابل سکونت رقبے کے چھٹے حصے کی انقلابی فتح کے لئے تیار کر رہا تھا!
اگر ریاست ایک نئے تاریخی نظام کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال سکتی ہوتی تو انقلابات برپا نہ ہوتے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ بورژوازی خود بھی انقلاب کے بغیر برسراقتدار نہیں آئی تھی۔ اب مزدوروں کی باری ہے۔ اِس سوال پر بھی لینن نے پرولتاری انقلاب کے نظریاتی ہتھیار کے طور پر مارکسزم کو اُس کی اہمیت واپس لوٹائی ہے۔
تم کہتے ہو کہ مزدور ریاست کی مشینری نہیں چلا سکتے؟ لیکن لینن بتاتا ہے کہ یہ پرانی مشینری کو قبضے میں لے کر اُسے نئے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا سوال ہی نہیں ہے: یہ تو ایک رجعتی یوٹوپیا ہو گا۔ پرانی مشینری میں اہم شخصیات کا انتخاب، اُن کی تربیت، اُن کے باہمی تعلقات، سب کچھ پرولتاریہ کے تاریخی فریضے سے متضاد ہوتا ہے۔ اقتدار پر قبضے کے بعد ہمارا کام پرانی مشینری کی ازسر نو تربیت نہیں بلکہ اُسے پاش پاش کرنا ہے۔ اور اُس کی جگہ کیا چیز لے گی؟ سوویتیں۔ انقلابی عوام کے رہنماؤں اور تربیت کے وسیلوں سے سوویتیں اب نئے ریاستی نظام کے ادارے بن جائیں گی۔
انقلاب کے گرداب میں اِس تصنیف کو بہت کم قاری ملے؛ درحقیقت یہ اقتدار پر قبضے کے بعد ہی شائع ہو سکی۔ ریاست کے مسئلے پر لینن بالخصوص اپنے داخلی اعتماد اور مستقبل کے لئے کام کر رہا تھا۔ اُسے نظریات کو آگے منتقل کرنے کی فکر مسلسل لاحق تھی۔ جولائی میں اُس نے کامینیف کو لکھا: ’’یہ بات تمہارے اور میرے درمیان رہنی چاہئے۔اگر مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے تو تم سے گزارش ہے کہ میرا چھوٹا سا کتابچہ ’ریاست کا مارکسی نظریہ‘ [۲] (جو سٹاک ہوم میں پڑا ہے) شائع کروا دینا۔ نیلے رنگ کی جلد میں ہے۔ سارے اقتباسات مارکس اور اینگلز اور اِسی طرح کاؤتسکی کے پانینکویک [۳] کیساتھ مناظرے سے لئے گئے ہیں۔ بے شمار نوٹ اور تبصرے ہیں۔ اِسے مرتب کرو۔ میرے خیال میں تم ایک ہفتے کے کام سے اِسے شائع کر سکتے ہو۔ میرے خیال میں یہ اہم ہے، کیونکہ صرف پلیخانوف اور کاؤتسکی ہی پٹری سے نہیں اترے ہیں۔ میری شرائط: یہ سب کچھ صرف میرے اور تمہارے درمیان رہنا چاہئے۔‘‘ ایک انقلابی رہنما، جسے ایک دشمن ریاست کا ایجنٹ قرار دے کر ذلیل کیا جا رہا ہے اور جو اپنے دشمنوں کے ہاتھوں قتل کر دئیے جانے کے امکان پر غور کر رہا ہے، ایک ’’نیلی‘‘ نوٹ بک کی اشاعت کے بارے میں فکر مند ہے جس میں مارکس اور اینگلز کے اقوال ہیں۔ [قتل کر دئیے جانے کی صورت میں] یہی اُس کی آخری خواہش اور وصیت ہونا تھی۔ ’’اگر مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے‘‘ کے الفاظ اُس ماتم اور رونے دھونے کے سد باب کے لئے تھے جس سے اُسے نفرت تھی۔
لیکن اپنی پشت پر اِس وار کا انتظار کرتے ہوئے لینن خود بھی سامنے سے ایک وار کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ جس وقت اخبارات پڑھنے اور ہدایات کے خطوط لکھنے کے درمیان وہ اپنی اُس قیمتی نوٹ بک کو سیدھا کر رہا تھا جو آخر کار سٹاک ہوم سے منگوا لی گئی تھی، زندگی رُکی نہیں تھی۔ وہ وقت قریب آ رہا تھا جب ریاست کے سوال کا فیصلہ عملی کاروائی سے ہونا تھا۔
بادشاہت کے دھڑن تختے کے فوراً بعد سوئٹزر لینڈ سے ہی لینن نے لکھاتھا: ’’ہم بلانکسٹ نہیں ہیں اور ایک اقلیت کے اقتدار پر قبضے کی وکالت نہیں کرتے… ‘‘ روس واپسی پر اِسی سوچ کو اُس نے آگے بڑھایا: ’’ہم فی الوقت اقلیت میں ہیں۔ عوام ابھی ہم پر اعتماد نہیں کرتے۔ ہم انتظار کرنا جانتے ہیں… وہ ہماری جانب راغب ہوں گے اور طاقتوں کے توازن کی وضاحت کے بعد ہم اُن سے کہیں گے: ہمارا وقت آ گیا ہے۔‘‘ یوں اُن ابتدائی مہینوں میں اُس نے اقتدار پر قبضے کے سوال کو سوویتوں میں اکثریت حاصل کرنے کے سوال کے طور پر پیش کیا تھا۔
جولائی کے حملوں کے بعد لینن نے اعلان کیا: ’’اب کے بعد سے اقتدار صرف ایک مسلح سرکشی کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے؛ ہمیں اِس کاروائی کے لئے سوویتوں پر ہرگزا نحصار نہیں کرنا چاہئے، جنہیں مصالحت پسندوں نے پست حوصلہ کر دیا ہے، بلکہ فیکٹری کمیٹیوں پر انحصار کرنا چاہئے۔ فتح کے بعد اقتدار کے اداروں کے طور پر سوویتوں کو ازسرِ نو تخلیق کرنا ہوگا۔‘‘ تاہم اِس کے دو ماہ بعد ہی بالشویکوں نے مصالحت پسندوں سے سوویتیں جیت لیں۔ اِس سوال پر لینن کی غلطی کی نوعیت اُس کی تذویراتی ذہانت کی غمازی کرتی ہے: سب سے جرات مندانہ منصوبوں کے لئے وہ سب سے کم موافق مفروضوں کو اپنے حساب کتاب کی بنیاد بناتا تھا۔ اِسی لئے اپریل میں جرمنی کے راستے روس آمد پر اُسے سٹیشن سے سیدھا جیل جانے کی توقع تھی۔ اِسی لئے 5 جولائی کو وہ کہہ رہا تھا: ’’وہ شاید ہم سب کو گولی مار دیں۔‘‘ اور اِسی لئے وہ اب سوچ رہا تھا: مصالحت پسند ہمیں سوویتوں میں اکثریت حاصل نہیں کرنے دیں گے۔
نپولین نے جنرل ہرتھیر کو لکھا تھا:’’جب میں کوئی عسکری منصوبہ مرتب کر رہا ہوتا ہوں تو میرے سے بڑا ڈرپوک کوئی نہیں ہوتا۔ میں تمام خطرات اور تمام ممکنہ بدبختیوں میں مبالغہ کرتا ہوں… لیکن جب میں فیصلہ کر لیتا ہوں تو ہر چیز فراموش کر دیتا ہوں، ماسوائے وہ چیز جو منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنا سکتی ہے۔‘‘ نامناسب لفظ ’ڈرپوک‘ میں شامل انداز کے سوا اِس سوچ کی اساس کا اطلاق مکمل طور پر لینن پر ہوتا ہے۔ حکمت عملی کے کسی مسئلے کے فیصلہ کا آغاز وہ دشمن کو اپنے عزم و استقلال اور دور اندیشی میں ملبوس کر کے کرتا تھا۔ لینن کی تدبیری غلطیاں زیادہ تر اُس کی تذویراتی فوقیت کی اضافی پیداوار ہوتی تھیں۔ درحقیقت موجودہ مثال میں لفظ ’غلطی‘ کا استعمال زیادہ مناسب نہیں ہے۔ ایک تشخیص کار جب ’لگاتار اخراج‘ [۴] کے طریقہ کار کے ذریعے کسی بیماری کی تشخیص کرتا ہے تو اُس کے مفروضے، جن کا آغاز بدترین ممکنات سے ہوتا ہے، غلطیاں نہیں بلکہ تجزئیے کے طریقے ہوتے ہیں۔ جونہی بالشویکوں نے دونوں دارالحکومتوں ،ماسکو اور پیٹروگراڈ، کی سوویتوں کا کنٹرول حاصل کیا، لینن نے کہا: ’’ہمارا وقت آگیا ہے۔‘‘ اپریل اور جولائی میں اُس نے بریکیں لگائی تھیں؛ اگست میں وہ نظریاتی طور پر ایک نئے قدم کی تیاری کر رہا تھا؛ ستمبر کے وسط میں وہ اپنی پوری قوت سے تیزی لا رہا تھا اور زور دے رہا تھا۔ خطرہ اب جلد بازی کا نہیں بلکہ تاخیر کا تھا۔ ’’اِس معاملے میں اب قبل از وقت ہونا ناممکن ہو چکا ہے۔‘‘
مرکزی کمیٹی کے نام اپنے خطوط اور مضامین میں صورتحال کے تجزئیے کا آغاز لینن سب سے پہلے بین الاقوامی حالات پر زور دیتے ہوئے کرتا ہے۔ جنگ کے پس منظر میں ایک بیدار ہوتے ہوئے یورپی پرولتاریہ کی علامات اور حقائق اُس کی نظر میں ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ بیرونی سامراجیت کی طرف سے انقلابِ روس کو لاحق براہِ راست خطرہ مسلسل مٹتا جائے گا۔ اٹلی میں سوشلسٹوں کی گرفتاری اور اِس سے بھی بڑھ کر جرمن بحری بیڑے میں بغاوتوں نے اُسے عالمی صورتحال میں گہری تبدیلی کے اعلان پر مجبور کر دیاـ: ’’ہم ایک عالمگیر پرولتاری انقلاب کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔‘‘
نقال تاریخ دانوں نے لینن کی سوچ کے اِس نقطہ آغاز کو چھپانے کی کوشش کی ہے، اِس لئے کہ واقعات نے لینن کے اندازے کو غلط ثابت کیا اور اِس لئے بھی کہ [سٹالنزم کے] تازہ نظریات کے مطابق انقلاب ِ روس کو تمام بین الاقوامی حالات میں خود مختیار اور خود انحصار ہونا چاہئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لینن کی بین الاقوامی صورتحال کی پرکھ کسی صورت بھی غیرحقیقی نہیں تھی۔ تمام ممالک کی عسکری سنسرشپ کے پردے میں سے جن علامات کا مشاہدہ وہ کر رہا تھا وہ واقعی ایک انقلابی طوفان کی آمد کا پتا دے رہی تھیں۔ ایک سال کے اندر اندر اِس طوفان نے مرکزی طاقتوں [جرمنی، آسٹریا ہنگری، سلطنت عثمانہ وغیرہ] کی بوسیدہ عمارت کو بنیادوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن فاتح ممالک، برطانیہ، فرانس اور اٹلی، میں بھی اِس نے طویل عرصے کے لئے حکمران طبقات کو عمل کی آزادی سے محروم کر دیا۔ ایک مضبوط، قدامت پسند، پراعتماد سرمایہ دارانہ یورپ کے خلاف روس کا تنہا اور ابھی تک غیرمستحکم پرولتاریہ انقلاب چند مہینوں کے لئے بھی ٹک نہیں سکتا تھا۔ لیکن وہ والا یورپ اب موجود نہیں تھا۔یہ درست ہے کہ مغرب میں انقلاب نے پرولتاریہ کو اقتدار نہیں دیا، کیونکہ مصالحت پسندوں نے بورژوا نظام کو بچا لیا، لیکن اِس کے باوجود بھی سوویت جمہوریہ کی زندگی کے ابتدائی اور سب سے نازک عرصے میں یہ انقلاب اُسے بچانے میں بہت طاقتور ثابت ہوا۔
لینن کی گہری بین الاقوامیت کا اظہار محض اِس حقیقت سے ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ سب سے پہلے بین الاقوامی صورتحال کو پرکھتا تھا۔ بلکہ وہ روس میں اقتدار پر قبضے کو سب سے بڑھ کر اُس یورپی انقلاب کی قوت محرکہ کے طور پر دیکھتا تھا جسے، جیسا کہ اُس نے کئی بار دہرایا، انسانیت کے مقدر میں پسماندہ روس کے انقلاب کی نسبت کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہونا تھا۔ کیسے تمسخر سے وہ اُن بالشویکوں پر برستا تھا جو اپنی بین الاقوامی ذمہ داری کو نہیں سمجھتے تھے۔ وہ منہ چڑاتا ہے، ’’آؤ ہم جرمن باغیوں سے ہمدردری کی قرارداد منظور کریں اور روس میں سرکشی کو مسترد کریں۔ یہی ایک حقیقی معقول بین الاقوامیت ہو گی۔‘‘
جمہوری اجلاس کے دنوں میں لینن نے مرکزی کمیٹی کو لکھا: ’’دونوں دارالحکومتوں کی سوویتوں میں اکثریت حاصل کر لینے کے بعد بالشویک ریاستی اقتدار پر قبضہ کر سکتے ہیں اور اُنہیں کرنا چاہئے۔‘‘ یہ حقیقت اُس کے لئے فیصلہ کن اہمیت کی حامل تھی کہ جمہوری اجلاس میں کسان مندوبین کی اکثریت نے کیڈٹوں کے ساتھ اتحاد کے خلاف ووٹ دیا تھا: بورژوازی کے ساتھ اتحاد نہ چاہنے والے کسان کے پاس بالشویکوں کی حمایت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ ’’منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کے تذبذب سے عوام تنگ آ چکے ہیں۔ دارالحکومتوں میں ہماری فتح ہی کسانوں کو ہماری طرف لائے گی۔‘‘ پارٹی کا فریضہ ہے کہ ’’پیٹروگراڈ اور ماسکو میں مسلح سرکشی، اقتدار پر قبضے اور حکومت کے دھڑن تختے کو ایجنڈے پر رکھے… ‘‘ اُس وقت تک کسی نے بھی اتنے اعتماد اور بے حجابانہ انداز سے سرکشی کا فریضہ متعین نہیں کیا تھا۔
لینن بہت مستعدی سے ملک میں انتخابات اور رائے شماریوں پر نظر رکھتا تھا اور ایسے اعداد و شمار اکٹھے کرتا تھا جو طاقوتوں کے حقیقی توازن پر روشنی ڈال سکیں۔ انتخابی اعداد و شمار سے نیم انارکسٹ لاتعلقی ظاہر کرنے والوں کو اُس کی طرف سے حقارت کے سوا کچھ نہیں ملتا تھا۔ لیکن عین اسی وقت لینن پارلیمانیت کے اعشاریوں کو ہی طاقتوں کا حقیقی توازن نہیں سمجھتا تھا۔ وہ ہمیشہ براہِ راست عمل کے حق میں اُن کی تصحیح کرتا تھا۔ وہ وضاحت کرتا ہے، ’’عوام میں کام اور اُنہیں جدوجہد میں شامل کرنے کے نقطہ نظر سے انقلابی پرولتاریہ کی طاقت ایک پارلیمانی جدوجہد کی نسبت ماورائے پارلیمان جدوجہد میں کہیں زیادہ ہے۔ جب خانہ جنگی کا سوال ہو تو یہ بہت اہم مشاہدہ ہے۔‘‘
لینن نے اپنی گہری نظر سے سب سے پہلے مشاہدہ کیا تھا کہ زرعی تحریک ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی تھی اور اُس نے فوراً تمام نتائج اخذ کئے تھے۔ سپاہی کی طرح کسان بھی زیادہ انتظار نہیں کرے گا۔ لینن نے ستمبر کے آخر میں لکھا، ’’کسان سرکشی جیسی حقیقت کے سامنے تمام سیاسی علامات، حتیٰ کہ اگر وہ اِس کُل قومی بحران کے پک جانے سے متضاد بھی ہوں، کسی بھی اہمیت سے عاری ہوں گی۔‘‘ انقلاب کی بنیاد زرعی سوال ہے۔ کسان بغاوت پر حکومت کی فتح کا مطلب ’’انقلاب کی موت ہو گا… ‘‘ ہم اِس سے زیادہ موافق حالات کی امید نہیں کر سکتے۔عمل کا وقت آ گیا ہے۔ ’’بحران پک کر تیار ہو چکا ہے۔ سوشلزم کے لئے مزدوروں کے بین الاقوامی انقلاب کا مستقبل داؤ پر ہے۔ بحران پک کر تیار ہو چکا ہے۔‘‘
لینن سرکشی کی کال دیتا ہے۔ ہر سادہ ، نثری اور بعض اوقات تیکھی سطر میں جوش و ولولے کا بلند ترین تناؤ محسوس ہوتا ہے۔وہ اکتوبر کے آغاز میں پیٹروگراڈ کے پارٹی اجلاس کو لکھتا ہے، ’’اگر مستقبل قریب میں پرولتاریوں اور سپاہیوں کی جانب سے کیرنسکی کی حکومت کو اکھاڑ پھینکا نہیں جاتا تو انقلاب برباد ہو جائے گا…کیرنسکی کی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کی بے دھڑک، حتمی اور پرعزم جدوجہد کی غیرمشروط ضرورت کو مزدوروں اور سپاہیوں پر آشکار کرنے کے لئے ہمیں اپنی تمام قوتوں کو متحرک کرنا ہوگا۔‘‘
لینن نے ایک سے زیادہ مرتبہ کہا تھا کہ عوام پارٹی کے بھی بائیں طرف کھڑے ہیں۔وہ جانتا تھا کہ پارٹی ’’پرانے بالشویکوں‘‘ پر مبنی اپنی ہی بالائی پرت کے بائیں طرف کھڑی تھی۔ وہ مرکزی کمیٹی کی داخلی گروہ بندی اور مزاجوں سے خوب واقف تھا اور اُس سے خطرناک اقدامات کی توقع کر رہا تھا۔ دوسری طرف وہ ضرورت سے زیادہ احتیاط، فیبین ازم [۵] اور اُس تاریخی کیفیت کو گنوا دینے سے بھی ڈرتا تھا جو دہائیوں بعد ہی پیدا ہوتی ہے۔ لینن، لینن کے بغیر مرکزی کمیٹی پر اعتماد نہیں کرتا تھا۔ اِسی میں روپوشی سے اُس کے خطوط کی کنجی مضمر ہے۔ اِس عدم اعتماد میں لینن غلط نہیں تھا۔
زیادہ تر صورتوں میں پیٹروگراڈ میں فیصلہ ہو جانے کے بعد اظہار خیال پر مجبور لینن مسلسل بائیں جانب سے مرکزی کمیٹی کی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا۔ اُس کی مخالفت کی بڑھوتری کے پس منظر میں سرکشی کا سوال تھا۔ لیکن یہ صرف اُسی تک ہی محدود نہیں تھی۔ لینن کا خیال تھا کہ مصالحت پسندانہ مجلس عاملہ، جمہوری اجلاس اور بالعموم بالائی سوویت حلقوں کی پارلیمانی کاروائیوں پر مرکزی کمیٹی ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہی تھی۔ اُس نے پیٹروگراڈ سوویت میں [مصالحت پسندوں اور بالشویکوں کی] مخلوط صدارتی انتظامیہ کی بالشویک تجویز کی سخت مخالفت کی تھی۔ وہ ستمبر کے آخر میں شائع کی جانے والی آئین ساز اسمبلی کے بالشویک امیداواروں کی فہرست پر بھی برہم تھا۔ دانشور بہت زیادہ ہیں اور مزدوروں کم ہیں۔ ’’آئین ساز اسمبلی میں مقررین اور ادیب بھرنے کا مطلب موقع پرستی اور شاونزم کے فرسودہ راستے پر سفر کرنا ہوگا۔یہ تیسری انٹرنیشنل کے شایان شان نہیں ہے۔‘‘ مزید برآں امیدواروں میں بہت سے نئے نام ہیں، پارٹی کے ایسے اراکین جو جدوجہد میں آزمائے ہوئے نہیں ہیں! یہاں لینن ایک استثنا کرنا ضروری سمجھتا ہے: ’’یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ … مثلاً کوئی بھی ل- ڈ ٹراٹسکی کی امیدواری سے اختلاف نہیں کرے گا، کیونکہ اول تو ٹراٹسکی نے اپنی آمد کے ساتھ ہی ایک انٹرنیشنلسٹ موقف اپنایا؛ دوم اُس نے بالشویکوں میں انضمام کے لئے مزھرایونسٹی کے اندر لڑائی لڑی؛ سوم جولائی کے مشکل دنوں میں وہ ڈٹا رہا اور انقلابی پرولتاریہ کی پارٹی کا وفادار حامی ثابت ہوا۔ تاہم یہ واضح ہے کہ یہ سب کچھ پارٹی کے اُن تمام نئے اراکین کی اکثریت کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا جنہیں اِس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔‘‘
شاید محسوس ہو جیسے اپریل کے دن لوٹ آئے تھے، لینن ایک بار پھر مرکزی کمیٹی کی مخالفت کر رہا تھا۔ سوالات مختلف تھے تاہم اُس کی مخالفت کی عمومی روح وہی تھی: مرکزی کمیٹی بہت مجہول ہے، دانشور حلقوں کی رائے عامہ پر بہت دھیان دیتی ہے، مصالحت پسندوں کی طرف اِس کا رویہ بہت مصالحت پسندانہ ہے۔سب سے بڑھ کر بہت لا پرواہ اور مقدر پرست ہے اور ایک بالشویک کی طرح سرکشی کے مسئلے سے نہیں نبٹ رہی ہے۔
یہ باتوں سے عمل پر اترنے کا وقت ہے: ’’جمہوری اجلاس میں اب عملی طور پر ہماری پارٹی کی اپنی کانگریس موجود ہے اور اِس کانگریس کو (چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے) انقلاب کے مقدر کا فیصلہ کرنا ہے۔‘‘ صرف ایک فیصلے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے: مسلح سرکشی۔ سرکشی کے بارے میں اِس پہلے خط میں لینن ایک اور استثنا بھی دیتا ہے: ’’یہ سرکشی کے ’دن‘ یا ’وقت‘ کا سوال نہیں ہے۔ اِس کا فیصلہ صرف اُنہی کی عمومی رائے سے ہو سکتا ہے جو مزدوروں، سپاہیوں اور عوام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘‘ لیکن صرف دو یا تین دن بعد (اُن دنوں خطوط پر تاریخیں نہیں لکھی جا رہی تھیں، اِس کی وجہ بھول نہیں بلکہ کام کا خفیہ طریقہ کار تھا) جمہوری اجلاس کے گلنے سڑنے کے پیش نظر لینن نے فوری کاروائی پر اصرار کیا اور ساتھ ہی ایک عملی منصوبہ بھی پیش کیا۔
’’ہمیں اجلاس میں بالشویک دھڑے کو فی الفور ٹھوس بنانا چاہئے، تعداد کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہئے… ہمیں بالشویکوں کا مختصر اعلامیہ مرتب کرنا چاہئے… ہمیں اپنے سارے دھڑے کو فیکٹریوں اور بیرکوں میں منتقل کرنا چاہئے۔ عین اسی وقت ایک بھی منٹ ضائع کئے بغیر ہمیں سرکش دستوں کی قیادت کو منظم کرنا چاہئے، اپنی قوتوں کی صف بندی کرنی چاہئے، وفادار رجمنٹوں کو سب سے اہم مقامات پر منتقل کر دینا چاہئے، الیگزینڈرنکا (وہ تھیٹر جہاں جمہوری اجلاس ہو رہا تھا) کا محاصرہ کرنا چاہئے، پیٹر اور پال کے قلعے پر قبضہ کرنا چاہئے، فوجی قیادت اور حکومت کو گرفتار کر لینا چاہئے، جنکروں اور وحشی ڈویژن کے خلاف وہ دستے بھیجنے چاہئیں جو لڑنے مرنے کو تیار ہیں، لیکن کسی صورت دشمن کو شہر کے مرکز کی طرف بڑھنے نہیں دینا چاہئے؛ ہمیں مسلح مزدوروں کو متحرک کرنا چاہئے، اُنہیں ایک بے دھڑک اور آخری لڑائی کے لئے ابھارنا چاہئے، ٹیلی گراف اور ٹیلیفون سٹیشنوں پر فوراً قبضہ کرنا چاہئے، مرکزی ٹیلیفون سٹیشن پر اپنا سرکش عملہ تعینات کرنا چاہئے، بذریعہ ٹیلیفون تمام فیکٹریوں، تمام رجمنٹوں اور مسلح جدوجہد کے تمام کلیدی مقامات سے رابطہ قائم کرنا چاہئے، وغیرہ۔‘‘ تاریخ کا سوال اب ’’عوام سے رابطہ رکھنے والوں کی عمومی رائے‘‘ پر منحصر نہیں تھا۔ لینن نے ایک فوری کاروائی کی تجویز پیش کی: ایک الٹی میٹم کے ساتھ الیگزینڈرنسکی تھیٹر سے نکلو اور مسلح عوام کے قائد کی حیثیت سے وہاں واپس جاؤ۔ نہ صرف حکومت بلکہ مصالحت پسندوں کے اعلیٰ ترین ادارے پر بھی کاری ضرب لگاؤ۔
سوخانوف کا الزام کچھ یوں ہے، ’’لینن، جو نجی خطوط میں جمہوری اجلاس کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہا تھا، پریس میں ’مصالحت‘ کی وکالت کر رہا تھا: منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کو سارا اقتدار سنبھال لینے دو اور پھر دیکھو کہ سوویت کانگریس کیا کہتی ہے… اِسی خیال کا دفاع جمہوری اجلاس میں ٹراٹسکی کر رہا تھا۔‘‘ سوخانوف کو وہاں ڈبل گیم نظر آ رہی ہے جہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔ لینن نے کورنیلوف پر فتح کے فوراً بعد، ستمبر کے ابتدائی دنوں میں مصالحت پسندوں کو ایک معاہدے کی پیش کش کی تھی۔ مصالحت پسندوں نے کندھے جھٹک کر اِسے نظر انداز کر دیا۔ وہ جمہوری اجلاس کو بالشویکوں کے خلاف کیڈٹوں سے ایک نئے اتحاد کی آڑ بناتے پھر رہے تھے۔ اِس سے معاہدے کا امکان بالکل ختم ہو گیا۔ اب اقتدار کے سوال کا فیصلہ صرف ایک کھلی جدوجہد میں ہی ہو سکتا تھا۔ سوخانوف دو مراحل کو گڈ مڈ کر رہا ہے، جن میں سے پہلا مرحلہ دوسرے سے دو ہفتے قبل آیا اور سیاسی طور پر دوسرے کی وجہ بنا۔
اجلاس میں بالشویک دھڑے کو اپنے خط کی بنیاد پر متحد کرنا واضح طور پر ناممکن تھا۔ دھڑے کا مزاج ایسا تھا کہ اِس نے پچاس کے خلاف ستر ووٹوں سے عبوری پارلیمنٹ کے اُس بائیکاٹ کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا جو سرکشی کے راستے کا پہلا قدم تھا۔ خود مرکزی کمیٹی میں بھی لینن کے منصوبے کو کوئی حمایت نہیں ملی۔ چار سالوں بعد ایک یادوں بھری شام میں بخارن نے اپنی روایتی مبالغہ آرائیوں اور چٹکلوں سے اُس واقعے کی حقیقی سرگزشت بیان کی۔ ’’(لینن کا) خط بے انتہا قوت سے لکھا گیا تھا اور ہمیں ہر طرح کی سزاؤں سے ڈرا رہا تھا۔ ہم سب ہانپ رہے تھے۔ کسی نے ابھی تک سرکشی کے سوال کو ایسے یک لخت انداز سے پیش نہیں کیا تھا… پہلے تو ہم ششدر رہ گئے۔ بعد ازاں، اِس پر بحث کے بعد ہم نے ایک فیصلہ کیا۔ شاید یہ ہماری پارٹی کی تاریخ کا واحد واقعہ تھا جب مرکزی کمیٹی نے متفقہ طور پر لینن کے خط کو جلانے کا فیصلہ کیا… اگرچہ ہمیں پورا یقین تھا کہ پیٹرزبرگ اور ماسکو میں ہم اقتدار پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، تاہم ہمارا خیال تھا کہ صوبوں میں ابھی ہم ٹِک نہیں پائیں گے، کہ اقتدار پر قبضہ اور جمہوری اجلاس کو منتشر کرنے کے بعد ہم باقی ماندہ روس میں خود کو مستحکم نہیں کر پائیں گے۔‘‘
سازشی نیت سے اِس خطرناک خط کی کئی نقول کو جلانے کا فیصلہ درحقیقت متفقہ نہیں تھا بلکہ چار کے خلاف چھ ووٹوں سے کیا گیا تھا اور چھ لوگوں نے ووٹ نہیں دیا تھا۔ خوش قسمتی سے تاریخ کے لئے ایک نقل بچ گئی۔ تاہم جیسا کہ بخارن بتاتا ہے، یہ درست ہے کہ مرکزی کمیٹی کے تمام اراکین نے لینن کی تجویز مستر د کردی۔ کچھ بالعموم سرکشی کے مخالف تھے؛ کچھ کا خیال تھا کہ جمہوری اجلاس کا وقت سب سے کم مناسب تھا؛ باقی محض اِدھر اُدھر جھول رہے تھے اور انتظار کی پالیسی اپنا رکھی تھی۔
اِس براہ راست مزاحمت کا سامنا ہونے پر لینن نے سملگا کیساتھ ایک طرح کا گٹھ جوڑ بنا لیا، جو اُس وقت فن لینڈ میں ہی تھا اور سوویتوں کی علاقائی کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے اچھی خاصی حقیقی طاقت رکھتا تھا۔ 1917ء میں سملگا پارٹی کے انتہائی بائیں بازو میں شامل تھا اور جولائی میں ہی جدوجہد کو انجام تک پہنچانے کی طرف مائل تھا۔ اپنی حکمت عملی کے اہم موڑوں پر لینن کو ہمیشہ کوئی ایسا مل جاتا تھا جس پر بھروسہ کیا جاسکے۔ 27 ستمبر کو لینن نے سملگا کو ایک طویل خط لکھا: ’’ہم کیا کر رہے ہیں؟ صرف قراردادیں ہی منظور کر رہے ہیں؟ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں، صرف تاریخیں ہی متعین کر رہے ہیں۔ بالشویک کیرنسکی کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے مسلح قوتوں کی تیاری کا منظم کام نہیں کر رہے ہیں… مسلح سرکشی کی طرف سنجیدہ رویہ اپنانے کے لئے ہمیں پارٹی میں ایجی ٹیشن کرنا ہوگی… مزید برآں جہاں تک تمہارے کردار کا تعلق ہے… سب سے وفادار آدمیوں کی ایک خفیہ کمیٹی بناؤ، اُنہیں سارے معاملات سمجھاؤ، پیٹروگراڈ اور ارد گرد کے فوجی دستوں کے محل وقوع اور ساخت ، فن لینڈ کے دستوں کی پیٹروگراڈ منتقلی اور بحری بیڑے کی نقل و حرکت کے بارے میں بالکل درست معلومات اکٹھی کرو (اور خود سے تصدیق بھی کرو)، وغیرہ۔‘‘ لینن نے مطالبہ کیا کہ ’’یہاں فن لینڈ میں موجود کاسکوں میں منظم پرپیگنڈا کیا جائے… ہمیں کاسکوں کے مزاج کے بارے میں تمام معلومات کا جائزہ لینا ہوگا اور فن لینڈ کے جہازیوں اور سپاہیوں کی بہترین قوتوں میں سے ایجی ٹیشن کرنے والے دستے بھیجنے کا عمل منظم کرنا ہوگا۔‘‘ اور آخر میں: ’’سوچوں کی درست تیاری کے لئے ہمیں اِس طرح کے نعروں کو فوراً گردش میں لانا ہوگا: اقتدار فوری طور پر پیٹروگراڈ سوویت کو منتقل کیا جانا چاہئے، جو اِسے سوویتوں کی کانگریس کے حوالے کرے گی۔ جنگ اور کیرنسکی کی ردِ انقلابی تیاریوں کے مزید تین ہفتے برداشت کیوں کئے جائیں؟‘‘ اِس خط میں ہمارے سامنے سرکشی کا ایک نیا منصوبہ ہے: لڑاکا قیادت کے طور پر ہلسنگفورس کے زیادہ اہم عسکری افراد کی خفیہ کمیٹی، لڑاکا قوتوں کے طور پر فن لینڈ میں موجود روسی دستے۔’’یوں محسوس ہوتا ہے کہ فن لینڈ کے دستوں اور بالٹک کے بحری بیڑے کو ہی ہم مکمل طور پر قابو کر سکتے ہیں اور وہی ایک سنجیدہ عسکری کردار ادا کریں گے۔‘‘یوں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ لینن حکومت پر پیٹروگراڈ کے باہر سے کاری ضرب لگانے کی تیاری کر رہا تھا۔عین اسی وقت ’’سوچوں کی درست تیاری‘‘ بھی ضروری ہے، تاکہ فن لینڈ کی عسکری قوتوں کی جانب سے حکومت کا دھڑن تختہ پیٹروگراڈ سوویت کے لئے غیرمتوقع نہ ہو، جسے سوویتوں کی کانگریس تک اقتدار کا جانشین ہونا تھا۔
پچھلے مسودے کی طرح منصوبے کا یہ نیا مسودہ بھی عملی جامہ نہیں پہن سکا۔ تاہم یہ بے اثر نہیں رہا۔ کاسک ڈویژنوں میں ایجی ٹیشن نے جلد ہی نتائج دئیے: ہم نے اِس بارے میں ڈائبنکو سے سنا ہے۔ بعد کے منصوبے میں حکومت پر کاری ضرب میں بالٹک کے جہازیوں کی شمولیت بھی شامل ہو گئی۔ لیکن یہ کلیدی چیزنہیں تھی: سوال کو انتہائی تند انداز سے بیان کر کے لینن نے کسی کو ٹال مٹول یا چالبازی کا موقع نہیں دیا۔ جو چیز ایک براہ راست تدبیری تجویز کے طور پر قبل از وقت معلوم ہو رہی تھی، وہ درحقیقت مرکزی کمیٹی کے رویوں کے امتحان، متذبذب عناصر کے خلاف پر عزم عناصر کی حمایت اور بائیں طرف ایک اضافی دھکے کے طور پر ضروری تھی۔
اپنی روپوشی کی تنہائی میں لینن تمام دستیاب ذرائع سے پارٹی کے کیڈروں کو صورتحال کی نزاکت اور عوامی دباؤ کی طاقت محسوس کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اُس نے کچھ بالشویکوں کو انفرادی طور پر اپنی خفیہ جگہ پر بلایا، اُن سے بحث و مباحثہ کیا، رہنماؤں کے الفاظ اور اعمال کو پرکھا اور اپنے نعروں کو پارٹی کی گہرائیوں میں اتارنے کے بالواسطہ راستے استعمال کئے،تاکہ مرکزی کمیٹی کووقت کے تقاضوں کے مطابق فوری عمل اور معاملے کو انجام تک پہنچانے پر مجبور کر سکے۔
سملگا کو خط کے ایک دن بعد لینن نے مذکورہ بالا دستاویز ’بحران پک کر تیار ہو چکا ہے‘ تحریر کی، جس کا اختتام ایک طرح سے مرکزی کمیٹی کے خلاف اعلانِ جنگ پر کیا۔ ’’ہمیں اِس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ مرکزی کمیٹی اور پارٹی کے بالائی حلقوں میں سوویتوں کی کانگریس تک انتظار کرنے کے حق میں اور اقتدار پر فوری قبضے اور فوری سرکشی کے خلاف ایک رجحان یا رائے موجود ہے۔‘‘ اِس رجحان پر ہر قیمت پر قابو پانا ہو گا۔ ’’پہلے کیرنسکی کو شکست دو اور پھر سوویتوں کی کانگریس بلاؤ۔‘‘ سوویتوں کی کانگریس کے انتظار میں وقت ضائع کرنا ’’سراسر حماقت یا پھر سراسر غداری ہے۔‘‘ 20 تاریخ کی کانگریس میں ابھی بارہ سے زیادہ دن پڑے ہیں: ’’اب معاملات کا فیصلہ ہفتوں بلکہ دِنوں میں ہو رہا ہے۔‘‘کھل کر میدان میں آنے میں تاخیر کا مطلب سرکشی سے بزدلانہ دستبرداری ہے، کیونکہ کانگریس کے دوران اقتدار پر قبضہ ناممکن ہو گا: ’’بیو قوفی سے ’مقررہ‘ سرکشی کے دن کے لئے وہ کاسکوں کو اکٹھا کر لیں گے۔‘‘
خط کا لہجہ ہی ظاہر کرتا ہے کہ لینن کو پیٹروگراڈ قیادت کا ’فیبین ازم‘ کس قدر تباہ کن لگ رہا تھا۔ لیکن اب کی بار اُس نے غضبناک تنقید پر ہی اکتفا نہیں کیا؛ وہ احتجاجاً مرکزی کمیٹی سے ہی مستعفی ہو گیا۔ اُس نے یہ وجوہات بتائیں: جمہوری اجلاس کے آغاز کے بعد سے مرکزی کمیٹی نے اُس کی جانب سے اقتدار پر قبضے پر اصرار کا کوئی جواب نہیں دیا ہے؛ پارٹی جریدے کا ادارتی بورڈ (سٹالن) اُس کے مضامین کی اشاعت میں جان بوجھ کر تاخیر کر رہا ہے اور اُن میں سے ’’عبوری پارلیمنٹ میں شمولیت جیسے شرمناک فیصلے جیسی بالشویکوں کی فاش غلطیوں‘‘ کی نشاندہی کو خارج کر رہا ہے۔اِس کاروائی کو لینن نے پارٹی سے چھپانا ممکن نہیں سمجھا:’’میں مجبور ہو چکا ہوں کہ مرکزی کمیٹی سے نکلنے کی درخواست کروں، جوکہ میں اب کر رہا ہوں، اور اب میں پارٹی کی نچلی صفوں اور پارٹی کانگریس میں ایجی ٹیشن کرنے کے لیے آزاد ہو چکا ہوں۔‘‘
دستاویزات یہ نہیں بتاتیں کہ اِس معاملے میں مزید کیا باقاعدہ کاروائی کی گئی۔ بہرحال لینن مرکزی کمیٹی سے الگ نہیں ہوا۔ استعفے کا اعلان کسی وقتی ہیجان کا نتیجہ نہیں تھا، لینن واقعی اِس چیز کو ممکن بنانا چاہتا تھا کہ بوقت ضرورت وہ مرکزی کمیٹی کے داخلی ڈسپلن سے آزاد ہو۔ اُسے پختہ یقین تھا کہ اپریل کی طرح پارٹی کی نچلی صفوں سے براہِ راست استدعا اُس کی فتح کی ضامن ہو گی۔ لیکن مرکزی کمیٹی کے خلاف کھلی بغاوت کے لئے ایک خصوصی اجلاس کی تیاری کی ضرورت تھی، اِس کے لئے وقت کی ضرورت تھی اور وقت ہی تو نہیں تھا۔ اپنے استعفے کے اعلان کو برقرار رکھتے ہوئے، لیکن پارٹی کے ضابطوں کی حدود سے بالکل ماورا نہ ہو کر لینن نے اب زیادہ آزادی سے اپنے حملے کو داخلی سطور پر آگے بڑھانے کا عمل جاری رکھا۔ مرکزی کمیٹی کے نام اپنا خط اُس نے نہ صرف پیٹروگراڈ اور ماسکو کمیٹیوں کو بھیجا بلکہ اِس چیز کو بھی یقینی بنایا کہ اِس کی نقول مقامی علاقائی تنظیموں کے زیادہ بااعتماد پارٹی کارکنان کے ہاتھ بھی لگیں۔ اکتوبر کی آغاز میں اور اب کی بار مرکزی کمیٹی سے ماورا ہو کر لینن نے پیٹروگراڈ اور ماسکو کمیٹیوں کو براہ راست لکھا: ’’بالشویکوں کو سوویتوں کی کانگریس کا انتظار کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔سوویتوں کی کانگریس کا انتظار رسومات (Formalities) کے ساتھ بچگانہ اور شرمناک کھیل اور انقلاب سے غداری کے مترادف ہے۔‘‘ تنظیمی نقطہ نظر سے لینن کسی طور بھی سرزنش سے ماورا نہیں تھا، لیکن یہاں سوال پارٹی ڈسپلن کی فکر سے بہت بڑا تھا۔
وائبورگ کی علاقائی کمیٹی کا ایک رُکن سویشنیکوف یاد کرتا ہے: ’’الیچ لینن روپوشی میں لکھ رہا تھا اور لکھتا ہی چلا جا رہا تھا، [لینن کی بیوی] کرپسکایا اکثر یہ تحریریں ہمیں علاقائی کمیٹی میں پڑھ کر سناتی تھی… رہنما کے سلگتے ہوئے الفاظ ہمارے حوصلے کو دوچند کر دیتے تھے… مجھے ایسے یاد ہے جیسے کل ہی کی بات ہو کہ علاقائی انتظامیہ کے کمروں میں ٹائپسٹ کام کر رہے ہوتے تھے اور کرپسکایا بڑی احتیاط سے نقل اور اصل کا موازنہ کر رہی ہوتی تھی اور اُس کے ساتھ کھڑے ’انکل‘ اور ’جین‘ ایک ایک نقل کا مطالبہ کر رہے ہوتے تھے۔‘‘ ’’انکل‘‘ اور ’’جین‘‘ علاقے کے دو رہنماؤں کے خفیہ نام تھے۔ علاقے کا مزدور نائموف بتاتا ہے،’’زیادہ پرانی بات نہیں کہ ہمیں مرکزی کمیٹی تک پہنچانے کے لئے الیچ کا ایک خط ملا… ہم نے خط پڑھا اور ہمارے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ ایسالگتاہے کہ لینن نے بہت پہلے ہی مرکزی کمیٹی کے سامنے سرکشی کا سوال رکھ دیا تھا۔ ہم نے شور مچا دیا۔ ہم اُن [مرکزی کمیٹی والوں] پر دباؤ ڈالنے لگے۔‘‘ اِسی چیز کی ضرورت تھی۔
اکتوبر کے آغاز میں لینن نے پیٹروگراڈ کے پارٹی اجلاس سے استدعا کی کہ سرکشی کے حق میں ٹھوس بات کرے۔ اِس سفارش پر اجلاس ’’مرکزی کمیٹی سے بھرپور درخواست کرتا ہے کہ مزدوروں، کسانوں اور سپاہیوں کی ناگزیر سرکشی کو قیادت فراہم کرنے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔‘‘ اِس اکیلے فقرے میں ہی دو طرح کے بہروپ ہیں: قانونی اور سفارتی۔ یہ سرکشی کی براہِ راست تیاری کی بجائے ایک ’’ناگزیر سرکشی‘‘ کو قیادت فراہم کرنے کی بات کرتا ہے، تاکہ ڈسٹرکٹ اٹارنی کے ہاتھ میں ترپ کا پتہ نہ آ جائے؛ اور یہ مرکزی کمیٹی سے مطالبہ یا احتجاج نہیں بلکہ ’ ’ درخواست‘‘ کرتا ہے، یہ پارٹی کے سب سے بالا ادارے کی عزت کا پاس تھا۔ لیکن لینن کی ہی لکھی ہوئی ایک اور قرارداد میں بات ذرا زیادہ بے تکلفی سے کی گئی ہے: ’’پارٹی کے بالائی حلقوں میں تذبذب ، اقتدار کی جدوجہد سے ایک طرح کا خوف اور اِس جدوجہد کی بجائے قراردادوں، احتجاجوں اور اجلاسوں کا رجحان دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘یہ مرکزی کمیٹی کو پارٹی کی براہِ راست لعن طعن تھی۔ لینن شوق سے ایسا نہیں کر رہا تھا۔ لیکن یہ انقلاب کے مقدر کا سوال تھا اور دوسری تمام فکریں بے معنی تھیں۔
8 اکتوبر کو لینن نے آنے والی شمالی علاقائی کانگریس کے مندوبین سے خطاب کیا: ’’ہمیں کسی صورت سوویتوں کی کُل روس کانگریس کا انتظار نہیں کرنا چاہئے، جسے مرکزی مجلس عاملہ نومبر تک بھی موخر کر سکتی ہے۔ ہمیں تاخیر کر کے کیرنسکی کو مزید ردِ انقلابی فوجی دستے لانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔‘‘ علاقائی کانگریس، جس میں فن لینڈ، بحری بیڑے اور ریوال کی نمائندگی موجودگی تھی، کو ’’پیٹروگراڈ کی طرف فوری حرکت‘‘کا فیصلہ لینا چاہئے۔ اب کی بار فوری سرکشی کی استدعا کئی سوویتوں کے نمائندگان سے کی گئی تھی۔ پارٹی نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا؛ پارٹی کے اعلیٰ اداروں نے ابھی تک اظہار خیال ہی نہیں کیا تھا۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ لینن، جسے ہم نے اپریل کے آغاز میں اپنی ہی پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان تنہا دیکھا ہے، نے ستمبر اور ابتدائی اکتوبر میں ایک بار پھر اُسی گروہ میں خود کو تنہا پایا؟ اگر آپ بالشویزم کی تاریخ کو ایک خالص انقلابی نظرئیے کے ظہور کے طور پر پیش کرنے والی جاہلانہ داستان پر یقین رکھتے ہیں تو اِسے نہیں سمجھ سکتے۔ درحقیقت بالشویزم ایک مخصوص سماجی ماحول میں ارتقا پذیر ہوا اور کئی طرح کے اثرورسوخ کا شکار ہوا تھا، جس میں پیٹی بورژوا ماحول اور ثقافتی پسماندگی کا اثرورسوخ بھی شامل تھا۔ پارٹی نے صرف ایک داخلی بحران سے گزر کر ہی خود کو ہر نئی صورتحال کے مطابق ڈھالا۔
بالائی بالشویک حلقوں میں قبل از اکتوبر کی تندوتیز جدوجہد کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی میں جاری اُن عوامل کو دوبارہ دیکھا جائے جن کا ذکر ہم نے پہلی جلد میں کیا ہے۔ یہ اِس لئے زیادہ ضروری ہے کہ سٹالن کا دھڑا آج کل بین الاقوامی سطح پر اِس بارے میں ہر یادداشت کو تاریخ سے کھرچ ڈالنے کی سر توڑ کوششیں کر رہا ہے کہ اکتوبر انقلاب درحقیقت کیسے تیار اور برپا ہوا تھا۔
جنگ سے پہلے کے سالوں میں قانونی پریس میں بالشویک خود کو ’’بااصول جمہوریت پسند‘‘ قرار دیتے تھے۔اِس فرضی نام کا انتخاب حادثاتی طور پر نہیں کیا گیا تھا۔ انقلابی جمہوریت کے نعروں کو بالشویزم اور صرف بالشویزم نے ہی منطقی انجام تک پہنچایا۔ لیکن انقلاب کی پیش بینی میں یہ اِس سے آگے نہیں گیا۔ تاہم بورژوا جمہوریت پسندوں کو سامراجیت سے ناقابل علیحدگی انداز سے جوڑ دینے والی جنگ نے قطعی طور پر ثابت کر دیا کہ ’’بااصول جمہوریت‘‘ کا پروگرام ایک پرولتاری انقلاب کے سوا کسی طریقے سے بھی عملی جامہ نہیں پہن سکتا۔ ہر ایسا بالشویک جس پر جنگ اِس حقیقت کو واضح نہیں کر سکی، اُسے ناگزیر طور پر انقلاب نے بے خبری میں دبوچ لینا تھا اور بورژوا جمہوریت کے بائیں بازو کے ہمسفر میں تبدیل کر دینا تھا۔
تاہم جنگ کے دوران اور انقلاب کے آغاز میں پارٹی کی زندگی کی تصویر کشی کرنے والے تمام مواد کا محتاط مطالعہ (اِس مواد کی انتہائی اور بے نظیر قلت اور 1923ء کے بعد سے اِس کی بڑھتی ہوئی جانبداری کے باوجود) جنگ کے دوران بالشویکوں کی بالائی پرت کی بے انتہا نظریاتی گمراہی کو زیادہ سے زیادہ واضح کر دیتا ہے۔ اِس گمراہی کی وجہ دورخی تھی: عوام سے کٹ جانا اور بیرون ملک مقیم رہنماؤں، بالخصوص لینن سے کٹ جانا۔ نتیجہ تنہائی اور تنگ نظری میں ڈوب جانا تھا۔
ساری جنگ کے دوران روس میں موجود پرانے بالشویکوں میں سے کوئی بھی اپنے تئیں ایک بھی ایسی دستاویز مرتب نہیں کر سکا جسے دوسری انٹرنیشنل سے تیسری تک کے راستے پر روشنی کا چھوٹا سا مینار بھی سمجھا جا سکے۔پارٹی کے پرانے رُکن اینٹونوف -ساراٹووسکی نے کچھ سال قبل لکھا، ’’امن، آنے والے انقلاب کے کردار، مستقبل کی عبوری حکومت میں پارٹی کے کردار وغیرہ کے مسائل کو ہم یا تو واضح طور پر سمجھتے نہیں تھے یا وہ ہماری فکر کے میدان میں داخل ہی نہیں ہوئے۔‘‘ اب تک کوئی ایک بھی مضمون، ڈائری کا صفحہ یا خط ایسا شائع نہیں ہوا ہے جس میں سٹالن، مولوٹوف یا موجودہ رہنماؤں میں سے کسی اور نے بالواسطہ یا مختصر انداز میں ہی جنگ اور انقلاب کے تناظروں پر اپنے خیالات واضح کئے ہوں۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جنگ، سوشل ڈیموکریسی کے انہدام اور انقلابِ روس کی تیاری کے سالوں میں پرانے بالشویکوں نے اِن سوالوں پر کچھ لکھا نہیں۔ یہ تاریخی واقعات ایک جواب کا پرزور تقاضا کر رہے تھے؛ مزید برآں جیل اور جلاوطنی نے غور و فکر اور خط و کتابت کے لئے بہت سا فارغ وقت مہیا کیا تھا۔ لیکن اِن موضوعات پر جو کچھ لکھا گیا اُس میں سے کوئی ایک بھی ایسی چیز نہیں ہے جسے کھینچ تان کر بھی اکتوبر انقلاب کے نظریات تک کا وسیلہ سمجھا جا سکے۔ یہ یاد رکھنا ہی کافی ہے کہ ’پارٹی تاریخ کے ادارے‘ کو 1914-1917ء کے سالوں کے دوران سٹالن کے قلم سے لکھی ہوئی ایک بھی سطر شائع کرنے سے منع کر دیا گیا ہے اور مارچ 1917ء کی انتہائی اہم دستاویزات چھپا دینے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔موجودہ حکمران پرت میں سے اکثریت کی سرکاری سیاسی سوانح حیاتوں میں جنگ کے سال خالی ہیں۔ یہ ایک تلخ سچائی ہے۔
ایک حالیہ نوجوان تاریخی دان باییوسکی (Bayevsky) ، جسے یہ ثابت کرنے کا خصوصی کام سونپا گیا کہ کیسے جنگ کے دوران پارٹی کے بالائی حلقے پرولتاری انقلاب کی سمت میں گامزن تھے، ضمیر کی تمام تر لچک کے باوجود دستاویزت میں اِس کمزور سے بیان کے علاوہ کچھ اخذ نہیں کر سکا: ’’اِس عمل کا سراغ لگانا ناممکن ہے، تاہم کچھ دستاویزت اور یادداشتیں بلاشبہ ثابت کرتی ہیں کہ پارٹی کی سوچ لینن کے اپریل تھیسس کی سمت میں ہی ایک مخفی جستجو کر رہی تھی… ‘‘ گویا یہ سائنسی پرکھ اور سیاسی پیش بینی کا نہیں بلکہ ’مخفی جستجو‘ کا سوال تھا۔
علت سے معلول تک استدلال کے ذریعے اکتوبر انقلاب کے نظریات تک پہنچنا ممکن تھا، سائبیریا میں نہیں، ماسکو میں نہیں، پیٹروگراڈ میں بھی نہیں، بلکہ صرف اور صرف عالمی تاریخ کے چوراہے پر۔ اِس سے قبل کہ روس میں پرولتاری آمریت کا پروگرام پیش کرنا ممکن لگتا، ضروری تھا کہ تاخیر زدہ بورژوا انقلاب کے فرائض کو عالمی پرولتاری تحریک کو قطع (Inter-Cross) کرتے ہوئے دیکھا جائے۔ اِس کے لئے مشاہدے کا ایک بلند تر مقام اور قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی افق درکار تھا۔
پارٹی کے نام نہاد روسی ’’عملیت پسندوں‘‘ کے خیال میں بادشاہت کے خاتمے نے ایک ’’آزاد‘‘ جمہوری روس کے عہد کا آغاز کرنا تھا، جس میں مغربی ممالک کی مثال کی پیروی کرتے ہوئے وہ سوشلزم کی جدوجہد شروع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ تین پرانے بالشویکوں، رائیکوف، سکوورٹزوف اور ویگمان، نے ’’انقلاب کے بعد آزادی پانے والے نارائم کے علاقے کے سوشل ڈیموکریٹوں کی ہدایت پر‘‘ مارچ میں ٹومسک سے ایک تار بھیجا: ’’ہم دوبارہ زندہ ہونے والے ’پراودا‘ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جس نے اتنی کامیابی سے سیاسی آزادی کے حصول کے لئے انقلابی کیڈروں کو تیار کیا ہے۔ ہم بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ سب کو اپنے پرچم تلے قومی انقلاب کے نام پر مستقبل کی جدوجہد کے لئے متحد کرنے میں کامیاب ہو گا۔‘‘ اِس اجتماعی تار میں سے ایک مکمل عالمی فلسفہ برآمد ہوتا ہے۔ یہ لینن کے اپریل تھیسس سے کوسوں دور ہے۔ فروری انقلاب نے کامینیف، رائیکوف اور سٹالن کی قیادت میں پارٹی کی رہنما پرتوں کو فوراً جمہوری ڈیفنسسٹوں میں تبدیل کر دیا تھا، جو منشویکوں سے مصالحت کی طرف گامزن تھے۔ پارٹی کے مستقبل کا تاریخ دان یاروسلاوسکی، مرکزی کنٹرول کمیشن کے مستقبل کا سربراہ اُورڈزھونیکائدز اور یوکرائنی مرکزی کمیٹی کے مستقبل کے صدر پیٹرووسکی نے مارچ کے دوران یاکوٹسک میں منشویکوں کے ساتھ قریبی اتحاد سے ایک پرچہ ’سوشل ڈیموکریٹ‘ شائع کیا، جو حب الوطن اصلاحات اور لبرلزم کی حدوں کو چھوتا تھا۔ حالیہ سالوں میں اِس پرچے کے شمارے بڑی احتیاط سے جمع کر کے تلف کر دئیے گئے ہیں۔
پیٹرزبرگ کے ’پراودا‘ نے انقلاب کے آغاز میں ایک انٹرنیشنلسٹ موقف اپنانے کی کوشش کی، جو یقینا بہت متضاد تھا کیونکہ بورژوا جمہوریت کی حدود سے تجاوز نہیں کر رہا تھا۔ جلاوطنی سے لوٹنے والے معتبر بالشویکوں نے مرکزی جریدے کو فوراً ایک جمہوری حب الوطن پالیسی پر گامزن کر دیا۔30 مئی کو اپنے خلاف موقع پرستی کے الزام کا دفاع کرتے ہوئے کالینن نے اِس حقیقت کو یاد کیا: ’’مثلاً ’پراودا‘ کو ہی لے لو۔آغاز میں ’پراودا‘ کی ایک پالیسی تھی۔ پھر سٹالن، مورانوف اور کامینیف آ گئے اور ’پراودا‘ کا پہیہ دوسری طرف موڑ دیا۔‘‘
جب ایسی چیزیں لکھنے کی اجازت تھی تو اِسی پرت کا ایک رکن انگارسکی لکھتا ہے، ’’ہمیں بے تکلفی سے تسلیم کرنا چاہئے کہ اپریل کے پارٹی اجلاس تک پرانے بالشویکوں کی ایک بہت بڑی تعداد1917ء کے انقلاب کے کردار کے بارے میں 1905ء والے پرانے بالشویک خیالات پر ہی اڑی ہوئی تھی اور اِن خیالات سے دستبرداری اِتنی آسانی سے مکمل نہیں ہوئی۔‘‘ یہ بتانا ضروری ہو گا کہ اپنی عمر پوری کر چکے 1905ء کے یہ نظریات 1917ء میں ’’پرانے بالشویک خیالات‘‘ نہیں رہے تھے بلکہ حب الوطن اصلاح پسندی کے خیالات بن چکے تھے۔
ایک سرکاری تاریخی تصنیف کہتی ہے، ’’لینن کے اپریل تھیسس کو پیٹروگراڈ کمیٹی میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ تیرہ کے خلاف صرف دو نے اِن تھیسس کے حق میں ووٹ دیا اور ایک نے ووٹ دینے سے گریز کیا۔‘‘ پوڈووئسکی لکھتا ہے، ’’لینن کی دلیل اُس کے سب سے سرمست پیروکاروں کے لئے بھی بہت گستاخ تھی۔‘‘ پیٹروگراڈ کمیٹی اور بالشویکوں کی فوجی تنظیم کی رائے میں لینن کی تقاریر نے ’’بالشویکوں کی پارٹی کو تنہا کر دیا اور یوں پرولتاریہ اور پارٹی کو سخت نقصان پہنچایا۔‘‘
کچھ سال پہلے مولوٹوف نے لکھا، ’’ہمیں بے تکلفی سے کہنا چاہئے کہ پارٹی میں اُس صراحت اور عزم کی کمی تھی جس کا تقاضا انقلابی تحریک کر رہی تھی… ایجی ٹیشن اور بالعموم پارٹی کے تمام کام کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں تھی، کیونکہ ہماری سوچیں ابھی تک سوشلزم اور سوشلسٹ انقلاب کی فوری جدوجہد کی ضرورت کے بارے میں کسی بے باک نتیجے تک نہیں پہنچی تھیں۔‘‘ تبدیلی کا آغاز انقلاب کے دوسرے مہینے میں جا کر ہی ہوا۔ جیسا کہ مولوٹوف تصدیق کرتا ہے، ’’اپریل 1917ء میں لینن کے روس آمد کے بعد سے ہماری پارٹی اپنے پیروں تلے مضبوط زمین محسوس کرنے لگی… اُس وقت تک پارٹی بڑی نقاہت اور مشکل سے اپنا راستہ تلاش رہی تھی۔‘‘
سٹالن نے مارچ کے آخر میں عسکری دفاع، عبوری حکومت کی مشروط حمایت، سوخانوف کے امن پسند منشور اور سریتیلی کی پارٹی میں ضم ہونے کی حمایت کی تھی۔ سٹالن نے خود 1924ء میں ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے تسلیم کیا، ’’اِس غلط موقف میں دوسرے پارٹی کامریڈوں کے ساتھ میں بھی شریک تھا۔ میں نے اپریل کے وسط میں جا کر ہی اِسے مکمل طور پر ترک کیا، جب میں نے لینن کے تھیسس سے وابستگی اختیار کی۔ ایک نئی جہت درکار تھی۔ لینن نے پارٹی کو اپنے مشہور زمانہ اپریل تھیسس میں وہ نئی جہت عطا کی۔‘‘
کالینن تو اپریل کے آخر تک بھی منشویکوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کا حامی تھا۔پارٹی کے پیٹروگراڈ اجلاس میں لینن نے کہا، ’’میں کالینن کا سخت مخالف ہوں، کیونکہ شاونسٹوں سے اتحاد کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا… یہ سوشلزم سے غداری ہے۔‘‘ حتیٰ کہ پیٹروگراڈ میں بھی اکیلے کالینن کا رویہ ایسا نہیں تھا۔ اجلاس میں کہا گیا: ’’لینن کے اثرورسوخ نے منشویکوں سے اتحاد کو بخارات بنا کر اُڑا دیا ہے۔‘‘
صوبوں میں لینن کے اپریل تھیسس کی مزاحمت کافی زیادہ دیر تک،کئی صوبوں میں تو تقریباً اکتوبر تک جاری رہی ۔ کیف کے ایک مزدور سوٹزوف کے مطابق ’’(لینن کے) تھیسس میں پیش کئے گئے خیالات کو کیف کی ساری بالشویک تنظیم نے فوراً قبول نہیں کیا۔ کئی کامریڈوں نے تھیسس سے اختلاف کیا… ‘‘ خارکوف کا ایک ریلوے مزدور موگونوف کہتا ہے: ’’ریلوے مزدوروں پر پرانے بالشویکوں کا گہرا اثرورسوخ تھا… کئی پرانے بالشویک ہمارے دھڑے سے باہر رہے۔ فروری انقلاب کے بعد اُن میں سے کئی بطور منشویک درج ہو گئے، جس پر وہ خود بھی بعد میں ہنستے تھے کہ ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔‘‘ ایسے اور اِس سے ملتے جلتے بیانات کی کوئی کمی نہیں ہے۔
اِس سب کے باوجود لینن کی جانب سے اپریل میں پارٹی کو ازسرنو مسلح کرنے کے ذکر کو بھی موجودہ سرکاری تاریخ دان الحاد گردانتے ہیں۔ بالکل حالیہ تاریخ دانوں نے تاریخی کسوٹی کی جگہ پارٹی یونیفارم کے وقار کی کسوٹی کو دے دی ہے۔اِس موضوع پر اُنہیں خود سٹالن تک کا حوالہ دینے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا، جو اپریل کی تبدیلی کی گہرائی کو تسلیم کرنے پر مجبور تھا۔ اُس نے لکھا، ’’ لینن کے مشہور اپریل تھیسس ضروری تھے ، تاکہ پارٹی ایک دلیرانہ قدم اٹھا کر نئے راستے پر گامزن ہوسکے۔‘‘ ’’ایک نئی جہت‘‘، ’’ایک نیا راستہ‘‘، اِس سب کا مطلب پارٹی کو ازسرنو مسلح کرنے کا عمل ہی ہے۔ تاہم چھ سال بعد جب یاروسلاوسکی نے بطور تاریخ دان اِس حقیقت کو یاد کیا کہ انقلاب کے آغاز پر سٹالن’’بنیادی سوالات پر غلط موقف‘‘ رکھتا تھاتو اُسے ہر طرف سے ملامت کا نشانہ بنایا گیا۔ قدر و منزلت کا بت تمام عفریتوں میں سب سے زیادہ لالچی ہوتا ہے۔
پارٹی کی انقلابی روایت، نیچے سے مزدوروں کے دباؤ اور اوپر سے لینن کی تنقید نے اپریل اور مئی کے مہینوں میں بالائی پرت کو سٹالن کے الفاظ میں ’’ایک نئے راستے پر گامزن ہونے‘‘ پر مجبور کر دیا۔ تاہم یہ سمجھنے والا سیاسی نفسیات سے بالکل بے بہرہ ہی ہو گا کہ بس لینن کے تھیسس کے حق میں ووٹ ڈال دینے کا مطلب ’’بنیادی سوالوں پر غلط موقف‘‘ سے حقیقی اور مکمل دستبرداری تھا۔ درحقیقت جنگ کے دوران پختہ ہو جانے والے احمقانہ جمہوری خیالات نے خود کو ایک نئے پروگرام کے مطابق ڈھال لیا اور اِس پروگرام کی مخالفت میں خاموش رہے۔
بالشویکوں کے اپریل کے اجلاس کے فیصلے کے برخلاف 6 اگست کو کامینیف نے مجلس عاملہ میں سٹاک ہوم میں سوشل حب الوطنوں کے ایک اجلاس، جس کی تیاریاں جاری تھیں، میں شمولیت کی حمایت کی۔ پارٹی کے مرکزی جریدے میں کامینیف کی تقریر کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی۔ لینن نے ایک خوفناک مضمون لکھا جو کامینیف کی تقریر کے دس دن بعد ہی شائع ہو سکا۔ خود لینن اور مرکزی کمیٹی کے دوسرے اراکین کے پرزور اصرار پر ہی ادارتی عملے، جس کا سربراہ سٹالن تھا، نے احتجاجی مضمون شائع کیا۔
جولائی کے دنوں کے بعد پوری پارٹی تذبذب کا شکار تھی۔پرولتاری ہراول دستے کی تنہائی نے بالخصوص صوبوں میں کئی رہنماؤں کو خوفزدہ کر دیا تھا۔ کورنیلوف کے دنوں کے دوران اِن خوفزدہ رہنماؤں نے مصالحت پسندوں سے رابطے کی کوشش کی، جس پر ایک بار پھر لینن نے زور دار تنبیہ کی۔
20 اگست کو ’پراودا‘ کے مدیر سٹالن نے کسی اختلافی تبصرے کے بغیر زینوویف کا مضمون ’کیا نہیں کرنا چاہئے‘ شائع کیا، جو سرکشی کی تیاری کے خلاف لکھا گیا تھا۔ ’’ہمیں سچائی کو تسلیم کرنا چاہئے: اِس وقت پیٹروگراڈ میں ایسے حالات موجود ہیں جو 1871ء کے پیرس کمیون جیسی سرکشی [۶] کے پھوٹ پڑنے کے لئے موافق ہیں۔‘‘ 3 ستمبر کو لینن نے زینوویف کا نام لئے بغیر لیکن اُس پر بالواسطہ ضرب لگاتے ہوئے لکھا: ’’پیرس کمیون کا حوالہ بہت سطحی اور حمقانہ ہے۔پہلی بات تو یہ ہے 1871ء کے بعد سے بالشویکوں نے آخر کار کچھ سیکھا ہے۔ وہ بینکوں کو قبضے میں لینے سے غفلت نہیں برتیں گے، وہ ورسائی پر حملے کو مسترد نہیں کریں گے، ایسے حالات میں تو شاید کمیون بھی کامیاب ہو جاتا۔ مزید برآں کمیون عوام کو فوری طور پر وہ کچھ نہیں دے پایا تھا جو اقتدار میں آنے پر بالشویک دے سکتے ہیں، یعنی کسانوں کو زمین اور امن کا فوری منصوبہ… ‘‘ یہ نہ صرف زینوویف بلکہ ’پراودا‘ کے مدیر سٹالن کو بھی ایک گمنام مگر واضح تنبیہ تھی ۔
عبوری پارلیمنٹ کے سوال نے مرکزی کمیٹی کو درمیان سے تقسیم کر دیا۔ جمہوری اجلاس کے بالشویک دھڑے کے عبوری پارلیمنٹ میں شرکت کے فیصلے کی توثیق اگر اکثریتی نہیں تو کم از کم کئی مقامی کمیٹیوں نے کی۔ مثلاً کیف میں ایسا ہی ہوا۔ ع۔ بوش اپنی یادداشتوں میں کہتی ہے، ’’عبوری پارلیمنٹ میں شمولیت کے سوال پر کمیٹی کی اکثریت نے شمولیت کے حق میں ووٹ دیا اور پیاٹاکوف کو اُس کا مندوب منتخب کیا۔‘‘ کامینیف، رائیکوف، پیاٹاکوف اور کئی دوسروں کے معاملے میں تذبذب کا ایک تسلسل دیکھا جا سکتا ہے: اپریل میں لینن کے تھیسس کے خلاف، ستمبر میں عبوری پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کے خلاف، اکتوبر میں سرکشی کے خلاف۔ دوسری طرف بالشویکوں کی اِس سے نچلی پرت نے عوام کے قریب اور سیاسی طور پر زیادہ تازہ ہونے کی وجہ سے بائیکاٹ کے نعرے کو آسانی سے قبول کر لیا اور مرکزی کمیٹی سمیت تمام کمیٹیوں کو رُخ بدلنے پر مجبور کر دیا۔ لینن کے خطوط کے زیر اثر کیف کے شہری اجلاس نے وسیع اکثریت سے اپنی کمیٹی کے خلاف ووٹ دیا۔ اِسی طرح تقریباً تمام نازک مرحلوں پر لینن نے پارٹی مشین کی بالائی پرت کے خلاف نچلی پرت یا پھر ساری مشین کے خلاف پارٹی کے عام کارکنان پر انحصار کیا۔
اِن حالات میں امکان نہیں تھا کہ قبل از اکتوبر کا تذبذب لینن کو بے خبری میں دبوچ لے گا۔ وہ پہلے سے شک بھری نظر سے مسلح تھا، تشویشناک علامات کو دیکھ رہا تھا، بدترین ممکنہ مفروضے قائم کر رہا تھا؛ اُس نے درگزر کرنے کی بجائے ایک بار پھر زور ڈالنا زیادہ مناسب سمجھا۔
ستمبر کے آخر میں ماسکو کے علاقائی بیورو نے بلاشبہ لینن کے مشورے پر ہی مرکزی کمیٹی کے خلاف ایک تلخ قرارداد منظور کی، اُس پر تزلزل، پس و پیش اور پارٹی کی صفوں میں تذبذب پھیلانے کا الزام لگایا اور مطالبہ کیا کہ وہ ’’سرکشی کی طرف واضح اور قطعی روش اختیار کرے۔‘‘ ماسکو بیورو کی جانب سے لوموف نے 3 اکتوبر کو اِس فیصلے سے مرکزی کمیٹی کو آگاہ کیا۔ مرکزی کمیٹی کے اجلاس کی کاروائی کے مطابق: ’’سوال پر بحث نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔‘‘ یعنی مرکزی کمیٹی ابھی تک سوال کا جواب دینے سے بھاگ رہی تھی۔ لیکن ماسکو کے ذریعے ڈالے گئے لینن کے دباؤ کا نتیجہ برآمد ہوا: دو دنوں بعد مرکزی کمیٹی نے عبوری پارلیمنٹ سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا۔
اِس اقدام کا مطلب تھا کہ سرکشی کے راستے پر داخلہ دشمنوں اور مخالفین کے سامنے بالکل واضح ہو گیا۔ سوخانوف لکھتا ہے، ’’عبوری پارلیمنٹ سے اپنی فوج نکال لینے کے بعد ٹراٹسکی واضح طور پر ایک پرتشدد انقلاب کی طرف گامزن ہو گیا۔‘‘ عبوری پارلیمنٹ سے علیحدگی پر پیٹروگراڈ سوویت کی رپورٹ اِس نعرے پر ختم ہوئی: ’’ملک میں انقلابی اقتدار کے لئے براہِ راست اور کھلی جدوجہد زندہ باد!‘‘ یہ 9 اکتوبر کا دن تھا۔
اگلے دن لینن کے مطالبے پر مرکزی کمیٹی کا وہ مشہور اجلاس منعقد ہواجس میں سرکشی کا سوال قطعی طور پر اٹھایا گیا۔ اجلاس کے آغاز سے ہی لینن نے اپنی آگے کی حکمت عملی کو اجلاس کے نتیجے کے تابع کر دیا: مرکزی کمیٹی کے ذریعے یا اُس کے خلاف۔ سوخانوف لکھتا ہے، ’’آہ! تاریخ کا کیسا مذاق تھا! یہ اعلیٰ سطحی اور فیصلہ کن اجلاس میرے گھر پر ہوا(32 کارپووکا ، اپارٹمنٹ نمبر 31)۔لیکن مجھے اِس سب کا علم نہیں تھا۔‘‘ منشویک سوخانوف کی بیوی ایک بالشویک تھی۔ ’’میرے گھر سے باہر سونے کو یقینی بنانے کے خصوصی اقدامات کئے گئے تھے: میری بیوی نے میرا ارادہ دریافت کیا اور مجھے دوستانہ اور بے لوث نصیحت کی کہ کام کے بعد گھر تک لمبا سفر کر کے خود کو تھکاؤں نہیں۔ بہرکیف، یہ اعلیٰ اجلاس میرے کسی حملے سے بالکل محفوظ رہا۔‘‘ زیادہ اہم بات یہ تھی کہ یہ کیرنسکی کی پولیس کے حملے سے محفوظ رہا۔
مرکزی کمیٹی کے اکیس میں سے بارہ اراکین موجو دتھے۔ لینن مصنوعی بال اور چشمہ لگا کر داڑھی کے بغیر آیا۔ اجلاس رات گئے تک تقریباً دس گھنٹے جا ری رہا۔ وقفوں میں چائے اور ساسیج سے توانائی بحال کی جا تی تھی۔ توانائی کی بحالی ضروری تھی: یہ زاروں کی سابقہ سلطنت میں اقتدار پر قبضے کا سوال تھا۔ اجلاس کا آغاز ہمیشہ کی طرح سویڈلوف کی تنظیمی رپورٹ سے ہوا۔ اُس نے بظاہر لینن کے ساتھ پیشگی اتفاق کے تحت محاذ پر بات رکھی، تاکہ ضروری نتائج اخذ کرنے میں مدد مل سکے۔ یہ لینن کے طریقہ کار کے بالکل مطابق تھا۔ شمالی محاذ کی فوج کے نمائندگان نے سویڈلوف کے ذریعے تنبیہ کی تھی کہ ردِ انقلابی کمان’’اندرون ملک سے فوجی دستے ہٹانے کے مشکوک منصوبے‘‘ کی تیاریوں میں مصروف تھی؛ مغربی محاذ کے صدر دفتر منسک سے اطلاع ملی تھی کہ ایک نئی ردِ انقلابی سرکشی کی تیاری کی جا رہی تھی؛ مقامی گیریزن کے انقلابی کردار کے پیش نظر صدر دفتر نے شہر کو کاسک دستوں سے گھیر لیا تھا۔’’صدر دفتر اور اعلیٰ افسروں کے درمیان مشکوک نوعیت کے مذاکرات جاری ہیں‘‘؛ منسک میں صدر دفتر پر قبضہ عین ممکن ہے؛ مقامی گیریزن کاسکوں کو غیرمسلح کرنے کو تیار ہے؛ وہ ایک انقلابی کور بھی منسک سے پیٹروگراڈ بھیج سکتے ہیں؛ محاذ پر مزاج بالشویکوں کے حق میں ہے؛ وہ کیرنسکی کے خلاف جائیں گے۔ سویڈلوف کی رپورٹ کچھ ایسی تھی۔ یہ ہر لحاظ سے واضح تو نہیں تھی، لیکن امید ا فزا تھی۔
لینن نے فوراً چڑھائی کر دی: ’’مرکزی کمیٹی میں ستمبر کے آغاز سے ہی سرکشی کے سوال سے ایک طرح کی لاتعلقی موجود ہے۔عوام باتوں اور قراردادوں سے تنگ آ چکے ہیں۔‘‘ ہمیں صورتحال کو بحیثیت مجموعی لینا ہو گا۔ شہر میں واقعات ایک دیوہیکل کسان تحریک کے پس منظر میں ہو رہے ہیں۔ زرعی سرکشی کو کچلنے کے لئے حکومت کو دیوہیکل قوتیں درکار ہوں گی۔ ’’لہٰذا سیاسی صورتحال تو تیار ہے۔ ہمیں تکنیکی پہلو کی بات کرنی چاہئے۔ یہی ساری چیز ہے۔ لیکن ہم ڈیفنسسٹوں کی طرح سرکشی کی منظم تیاری کو کوئی سیاسی گناہ سمجھ رہے ہیں۔‘‘ مقرر واضح طور پر خود کو قابو میں رکھ رہا تھا: وہ جذبات سے بھرا ہوا تھا۔ ’’ہمیں ایک فیصلہ کن کاروائی کے آغاز کے لئے شمالی علاقائی کانگریس اور منسک کی تجویز کو بروئے کار لانا چاہئے۔‘‘
شمالی کانگریس کا آغاز مرکزی کمیٹی کے اِس اجلاس والے دن ہی ہوا اور اُس نے دو یا تین دن تک ختم ہونا تھا۔ ’’فیصلہ کن کاروائی‘‘ کے آغاز کو لینن نے آنے والے دنوں کے فریضے کے طور پر پیش کیا۔ ہمیں انتظار ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔ہمیں تاخیر ہرگز نہیں کرنی چاہئے۔جیسا کہ ہم نے سویڈلوف سے سنا ہے کہ محاذ پر [فوجی قیادت کی جانب سے] کُو کی تیاریاں جاری ہیں۔ کیا سوویتوں کی کانگریس کبھی ہو پائے گی؟ ہمیں نہیں معلوم۔ ہمیں کسی کانگریس کا انتظار کرنے کی بجائے اقتدار پر فوری قبضہ کرنا ہو گا۔ ٹراٹسکی نے کئی سال بعد لکھا، ’’اُن تناؤ بھری، پرجوش اور برجستہ تقاریر کی عمومی روح ناقابل بیان ہے جو معترض اور متذبذب اراکین میں اپنی سوچ، اپنا عزم، اپنا اعتماد، اپنی جرات سرایت کردینے کی خواہش سے لبریز تھیں۔‘‘
لینن کو سخت مزاحمت کی توقع تھی، لیکن اُس کا خوف جلد ہی دور ہو گیا۔جس اتفاق رائے سے مرکزی کمیٹی نے ستمبر میں فوری سرکشی کی تجویز مسترد کی تھی وہ وقتی تھا: بایاں بازو عارضی وجوہات کی بنا پر ’’الیگزینڈرنکا کو گھیرے میں لینے‘‘ کے خلاف تھا؛ دائیں بازو کی وجوہات عمومی حکمت عملی پر مبنی تھیں، اگرچہ اُن پر پوری طرح سوچ بچار نہیں کی گئی تھی۔ بعد کے تین ہفتوں کے دوران مرکزی کمیٹی کافی حد تک بائیں طرف مڑ چکی تھی۔ دو کے خلاف دس نے سرکشی کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی!
انقلاب کے فوری بعد پارٹی کی داخلی کشمکش کے ایک نئے مرحلے پر لینن نے پیٹروگراڈ کمیٹی میں ایک بحث کے دوران ذکر کیا کہ کیسے مرکزی کمیٹی کے اُس اجلاس تک اُسے ’’انٹرنیشنلسٹ ادغام پسندوں کی طرف سے موقع پرستی کا ڈر تھا، لیکن یہ جلد ہی دور ہو گیا۔ تاہم (مرکزی کمیٹی کے) کچھ اراکین راضی نہیں ہوئے۔ اِس بات کا مجھے بہت دکھ ہوا۔‘‘ اُس کے مخالفین دو پرانے بالشویک تھے، جو ماضی میں لینن کے سب سے قریب رہے تھے: زینوویف اور کامینیف۔ جب اُس نے ’’مجھے بہت دکھ ہوا‘‘ کہا تو وہ اُنہی کی بات کر رہا تھا۔ 10 تاریخ کا کم و بیش سارا اجلاس زینوویف اور کامینیف کے خلاف تندوتیز مناظرے میں تبدیل ہو گیا۔ لینن نے حملے کی قیادت کی اور باقی ایک ایک کر کے ساتھ ملتے گئے۔
لینن کی جانب سے بچے کی ڈبوں والی کاپی کے ایک صفحے پر چھوٹی سی کچی پنسل سے جلد بازی میں لکھی جانے والی قرارداد بڑی بے ربط سی تھی، تاہم اِس میں سرکشی کے راستے کی بھرپور حمایت کی گئی۔ ’’مرکزی کمیٹی سمجھتی ہے کہ انقلابِ روس کی بین الاقوامی صورتحال (جرمن بحری بیڑے میں بغاوت، جو پورے یورپ میں عالمی سوشلسٹ انقلاب کی بڑھوتری کا انتہائی اظہار ہے، اور ساتھ ہی ساتھ انقلابِ روس کا گلا گھونٹنے کی نیت سے سامراجیوں کے مابین امن کا خطرہ ) اور عسکری صورتحال (روسی بورژوازی اور کیرنسکی اینڈکمپنی کی جانب سے پیٹرزبرگ کو جرمنوں کے حوالے کرنے کا مسلمہ فیصلہ) اور اِس سب کے ساتھ کسان سرکشی اور عوامی اعتماد کاہماری پارٹی کی طرف جھکاؤ (ماسکو کے انتخابات) اور آخر میں ایک دوسرے ردِ انقلابی حملے کی واضح تیاری (پیٹرزبرگ سے فوجی دستوں کا انخلا، پیٹرزبرگ میں کاسکوں کی درآمد، منسک کے گرد کاسکوں کا محاصرہ وغیرہ) … یہ سب کچھ مسلح سرکشی کو فوری ایجنڈے پر رکھ دیتا ہے۔ یوں یہ سمجھتے ہوئے کہ مسلح سرکشی ناگزیر ہے اور مکمل طور پر پک چکی ہے، مرکزی کمیٹی پارٹی کی تمام تنظیموں کو سفارش کرتی ہے کہ اِس سے رہنمائی حاصل کریں اور اِسی نقطہ نظر سے تمام عملی سوالات (شمالی علاقے کی سوویتوں کی کانگریس، پیٹرزبرگ سے فوجی دستوں کا انخلا، ماسکو اور منسک والوں کا باہر نکلنا) کو دیکھیں اور اُن کا فیصلہ کریں۔‘‘
یہاں وقت اور مصنف کی وصف نگاری کرنے والی قابل توجہ چیز وہ ترتیب ہے جس میں سرکشی کی شرائط گنوائی گئی ہیں۔سب سے پہلے عالمی انقلاب کے پک کر تیار ہو جانے کا ذکر ہے؛ روس میں سرکشی کو ایک عمومی سلسلے کی محض ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ لینن کا مستقل نقطہ آغاز اور بنیادی قضیہ تھا: وہ اِس سے برعکس سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔ سرکشی کے فریضے کو براہِ راست طور پر پارٹی کے فریضے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اِس کی تیاری کو سوویتوں کے ساتھ مطابقت میں لانے کے مشکل سوال کو ابھی چھیڑا نہیں گیا ہے۔ سوویتوں کی کُل روس کانگریس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ ٹراٹسکی نے اصرار کیا کہ سرکشی کی حمایت کے نکات میں شمالی علاقائی کانگریس اور ’’ماسکو اور منسک والوں کے میدان میں آنے‘‘ کے علاوہ ’’پیٹرزبرگ سے دستوں کے انخلا‘‘کا اضافہ بھی کیا جائے۔ یہی سرکشی کے اُس منصوبے کی طرف واحد اشارہ تھا جسے بعد ازاں دارالحکومت کے واقعات کی روش نے متعین کیا۔ قرارداد صرف سرکشی کے تذویراتی نقطہ آغاز کا ہی تعین کر رہی تھی۔ کسی نے کسی قسم کی تدبیری ترمیم تجویز نہیں کی۔ اِس کے برخلاف زینوویف اور کامینیف نے سرکشی کی ضرورت کو ہی مسترد کر دیا۔
سرکاری تاریخ دانوں کی جانب سے معاملے کو اِس طرح سے پیش کرنے کی کوشش کہ زینوویف اور کامینیف کے سوا پارٹی کی ساری رہنما پرت ہی سرکشی کے حق میں تھی، حقائق اور دستاویزت کے سامنے پاش پاش ہو جاتی ہے۔ اِس حقیقت سے قطع نظر کہ سرکشی کے حق میں ووٹ دینے والے بھی اکثر اِسے مستقبل بعید تک موخر کر دینے کی طرف مائل تھے، سرکشی کے کھلے دشمن، زینوویف اور کامینیف، مرکزی کمیٹی میں بھی اکیلے نہیں تھے۔ رائیکوف اور نوگن، جو 10 تاریخ کے اجلاس میں غیر حاضر تھے، بالکل اُنہی کا نقطہ نظر رکھتے تھے اور ملیوٹن اُن کے قریب قریب تھا۔ لینن کا اپنا بیان ہے کہ ’’پارٹی کے بالائی حلقوں میں تذبذب دیکھا جا سکتا ہے، جیسے اقتدار کی جدوجہد سے ڈر رہے ہوں۔‘‘ بالشویک سیڈووسکی نے بعد ازاں ’’اُس وقت حاوی مخصوص ابہام اور عدم اعتماد‘‘ کے بارے میں لکھا۔’’حتیٰ کہ ہماری اُن دنوں کی مرکزی کمیٹی میں بھی بحث اور تنازعات موجود تھے کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور شروع کیا بھی جائے یا نہیں۔‘‘
اُس عرصے میں سیڈووسکی خود بھی سوویت کے عسکری حصے اور بالشویکوں کی فوجی تنظیم کے رہنماؤں میں شامل تھا۔ لیکن جیسا کہ بے شمار یادداشتوں سے پتا چلتا ہے کہ فوجی تنظیم کے یہ اراکین ہی اکتوبر میں سرکشی کے خیال کے خلاف انتہائی متعصب تھے۔فوجی تنظیم کے مخصوص کردار نے اِس کے رہنماؤں کو سیاسی حالات کی وقعت گھٹانے اور تکنیکی شرائط کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے پر مائل کر دیا تھا۔ 16 اکتوبر کو کرائیلنکو نے اطلاع دی: ’’بیورو (فوجی تنظیم) کا بڑا حصہ سمجھتا ہے ہمیں اِس معاملے میں زبردستی نہیں کرنی چاہئے، لیکن اقلیت کا خیال ہے کہ ہم پیش قدمی کر سکتے ہیں۔‘‘ 18 تاریخ کو فوجی تنظیم کے ایک اور نمایاں رکن لاشیوچ نے کہا: ’’میرے خیال میں ہمیں واقعات کی روش کو تیز نہیں کرنا چاہئے۔ کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ہم اقتدار پر ٹکے رہنے میں کامیاب ہوں گے… لینن کا مجوزہ تذویراتی منصوبہ لولا لنگڑا ہے۔‘‘ لینن کے ساتھ اہم عسکری کارکنان کی ایک ملاقات کے بارے میں اینٹونوف- اوسوینکو بتاتا ہے: ’’پوڈووئسکی نے خدشات کا اظہار کیا؛ نیوسکی نے پہلے اُس سے اتفاق کیا لیکن پھر لینن کے پراعتماد لہجے کا شکار ہو گیا؛ میں نے فن لینڈ کی صورتحال بیان کی… لینن کے اعتماد اور مستقل مزاجی نے مجھے حوصلہ دیا اور نیوسکی کی بھی ہمت بندھائی، لیکن پوڈووئسکی اپنے شکوک و شبہات پر اٹکا رہا۔‘‘ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اِس طرح کی تمام یادداشتوں میں شکوک و شبہات کو آبی رنگوں اور اعتماد کو روغنی رنگوں میں پیش کیا گیا ہے۔
چڈنووسکی نے فیصلہ کن انداز میں سرکشی کی مخالفت کی۔ مانوالسکی نے تنبیہ کرتے ہوئے زور دیا کہ ’’محاذ ہمارے ساتھ نہیں ہے۔‘‘ ٹامسکی بھی سرکشی کے خلاف تھا۔ وولوڈارسکی نے زینوویف اور کامینیف کی حمایت کی۔ مزید برآں سرکشی کے بہت سے مخالفین نے کھل کر بات نہیں کی۔ پیٹروگراڈ کمیٹی کے 15 تاریخ کے اجلاس میں کالینن نے کہا: ’’مرکزی کمیٹی کی قرارداد آج تک منظور ہونے والی بہترین قرادادوں میں سے ایک تھی… ہم عملی طور پر مسلح سرکشی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ لیکن یہ نہیں پتا کہ یہ کب ممکن ہو سکے گی، شاید ایک سال بعد۔‘‘ مرکزی کمیٹی سے اِس قسم کا ’’اتفاق‘‘ اگرچہ کالینن کی شخصیت کے عین مطابق تھا، تاہم اُسی تک محدود نہیں تھا۔
سب سے کم اتفاق رائے ماسکو کے رہنماؤں میں دیکھا گیا۔ علاقائی بیورو نے لینن کی حمایت کی۔ ماسکو کی کمیٹیوں میں بہت زیادہ ہچکچاہٹ تھی؛ غالب مزاج تاخیر کے حق میں تھا۔ صوبائی کمیٹی کا موقف غیرواضح تھا، تاہم یاکوولیوا کے مطابق علاقائی بیورو والوں کا خیال تھا کہ فیصلہ کن وقت پر صوبائی کمیٹی سرکشی کے مخالفین سے مل جائے گی۔
ساراٹوف سے لیبیڈیف بتاتا ہے کہ کیسے ماسکو کے انقلاب سے کچھ ہی دن قبل ماسکو کے دورے کے دوران وہ رائیکوف کے ساتھ چہل قدمی کر رہا تھا، جس نے پتھر کے گھروں اور امیروں کی دکانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنے والے فریضے کے مشکل ہونے کی شکایت کی۔ ’’یہاں بورژوا ماسکو کے بیچوں بیچ ہم بالکل ایسے بونے لگتے ہیں جو ایک پہاڑ کو ہلانے کے بارے میں سوچ رہے ہوں۔‘‘
پارٹی کی ہر تنظیم، ہر صوبائی کمیٹی میں زینوویف اور کامینیف کے مزاج والے لوگ تھے۔ کئی کمیٹیوں میں تو وہ اکثریت میں تھے۔ حتیٰ کہ پرولتاری علاقے ایوانوو-وزنیسنسک میں بھی، جہاں صرف بالشویکوں کا غلبہ تھا، رہنما حلقوں کے آپسی اختلافات بہت شدت اختیار کر گئے۔ 1925ء میں جب یادداشتیں خود کو نئی روش کے مطابق ڈھال چکی تھیں، ایک بوڑھے بالشویک مزدور نے لکھا: ’’چند ایک افراد کے سوا ، پارٹی کے مزدور حصے نے لینن کی حمایت کی۔ تاہم پارٹی کے دانشوروں اور تنہا کارکنان کا ایک چھوٹا سا گروہ لینن کے خلاف تھا۔‘‘ کھلی بحث میں سرکشی کے مخالفین زینوویف اور کامینیف والے دلائل ہی دہراتے تھے۔ کسیلیف لکھتا ہے، ’’تاہم نجی بحث میں مناظرہ ایک زیادہ شدید اور دوٹوک شکل اختیار کر لیتا تھااور یہاں تک کہا جاتا تھا کہ لینن ایک پاگل آدمی ہے، وہ محنت کش طبقے کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے، اِس مسلح سرکشی سے ہمیں کچھ نہیں ملے گا، دشمن ہمیں پاش پاش کر دیں گے، پارٹی اور محنت کش طبقے کو تباہ و برباد کر دیں گے اور یوں انقلاب سالہا سال تک تاخیر کا شکار ہو جائے گا، وغیرہ۔‘‘
حتیٰ کہ پیٹروگراڈ میں سرکشی کی فتح بھی ہر جگہ دائیں بازو کی مزاحمت اور انتظار کی پالیسی کا جمود نہیں توڑ سکی۔ رہنماؤں کا تذبذب ماسکو میں سرکشی کو تباہی کے دہانے تک لے گیا تھا۔ کئی صوبائی شہروں میں بالشویکوں نے اکتوبر میں مصالحت پسندوں کے ساتھ ’’ردِ انقلاب کے خلاف‘‘ اتحاد بنایا۔ گویا اُس وقت ردِ انقلاب کے سب سے کلیدی ستون یہی مصالحت پسند نہیں تھے۔ تقریباً ہر جگہ مقامی کمیٹی کے تذبذب کو توڑنے، اُسے مصالحت پسندوں سے علیحدگی اور تحریک کی قیادت پر مجبور کرنے کے لئے نیچے اور اوپر سے دھکے کی ضرورت پڑی۔ شلیاپنیکوف، جس نے خود بھی اِس تذبذب میں کچھ کم حصہ نہیں ڈالا، بتاتا ہے،’’ اکتوبر کا اختتام اور نومبر کا آغاز واقعی ہمارے پارٹی حلقوں میں بے انتہا کھلبلی کا وقت تھا۔‘‘
خارکوف کے بالشویکوں جیسے تمام عناصر، جنہوں نے انقلاب کے آغاز میں خود کو منشویک کیمپ میں پایا تھا اور بعد ازاں خود ہی حیرت زدہ تھے کہ ایسا کیسے ہو گیا تھا، اکتوبر کے دنوں میں بالعموم اپنے لئے کوئی جگہ تلاش نہیں کر پائے اور انتظار کرتے رہے۔ یہی لوگ نظریاتی رجعت کے اِس عہد میں ’’پرانے بالشویک‘‘ ہونے کے بھرپور دعویدار ہیں۔ حالیہ سالوں میں اِن حقائق کو چھپانے کے لئے کئے جانے والے وسیع کام کے باوجود اور محققین کے لئے اب عدم دستیاب خفیہ دستاویزات کے بغیر بھی اخبارات، یادداشتوں اور تاریخی رسالوں میں ایسے بے شمار ثبوت بچ گئے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ انتہائی انقلابی پارٹی کی باضابطہ مشین نے بھی انقلاب سے قبل شدید مزاحمت کی۔ قدامت پسندی ناگزیر طور پر افسرشاہی میں پناہ تلاش کرتی ہے۔ مشین صرف تب تک ہی انقلابی فریضہ انجام دے سکتی ہے جب تک یہ پارٹی کی خدمت کا اوزار رہے، یعنی جب تک یہ کسی نظرئیے کے تابع اور عوام کے قابو میں رہے۔
10 اکتوبر کی قرارداد انتہائی اہمیت اختیار کر گئی۔ اِس نے یقینی بنایا کہ سرکشی کے حقیقی حامیوں کے پاس پارٹی قانون کی مضبوط بنیاد موجود ہو۔ پارٹی کی تمام تنظیموں اور تمام مرکزوں میں سب سے پرعزم عناصر ذمہ دار عہدوں پر آنے لگے۔ پیٹروگراڈ سے شروع ہو کر تمام پارٹی تنظیموں نے خود کو یکجا کیا، اپنی قوتوں اور مادی وسائل کی فہرست تیار کی، اپنے روابط کو مربوط کیا اور انقلاب کی مہم کو زیادہ مرتکز کردار عطا کر دیا۔
تاہم قرارداد نے مرکزی کمیٹی میں اختلافات کا خاتمہ نہیں کیا۔ بلکہ اِس نے اُنہیں واضح کیا اور سطح پر لے آئی۔ کامینیف اور زینوویف، جو ابھی کل تک رہنما حلقوں کے ایک مخصوص حصے میں خود کو ہمدردی کے ماحول میں گھرا ہوا محسوس کرتے تھے، اب یہ دیکھ کر خوفزدہ تھے کہ چیزیں کتنی تیزی سے بائیں طرف جا رہی تھیں۔ اُنہوں نے مزید وقت ضائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اگلے ہی دن پارٹیوں کے اراکین سے طویل استدعا کر ڈالی۔ ’’تاریخ، بین الاقوامی پرولتاریہ، انقلابِ روس اور روسی محنت کش طبقے کے سامنے ہمیں کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ سارے مستقبل کو اِس وقت ایک مسلح سرکشی کے لئے داؤ پر لگا دیں۔‘‘
اُن کا منصوبہ اُس آئین ساز اسمبلی میں ایک مضبوط حزب اختلاف کی پارٹی کے طور پر جانے کا تھا جو ’’اپنے انقلابی کام میں صرف سوویتوں پر انحصار کر سکتی ہے۔‘‘ یوں اُن کا کلیہ تھا: ’’آئین ساز اسمبلی اور سوویتیں،یہی وہ مشترک قسم کا ریاستی ادارہ ہے جس کی طرف ہم گامزن ہیں۔‘‘ آئین ساز اسمبلی جہاں بالشویک اقلیت میں ہوں گے اور سوویتیں جہاں بالشویک ایک اکثریت تھے، یعنی بورژوازی کے ادارے اور پرولتاریہ کے ادارے کو دوہرے اقتدار کے ایک پرامن نظام میں ’’متحد‘‘ کرنا تھا۔ یہ کام تو مصالحت پسندوں کی قیادت میں بھی نہیں ہو سکا تھا۔ اب جبکہ سوویتیں بالشویک تھیں تو ایسا کیسے ہو سکتا تھا؟
زینوویف اور کامینیف نے نتیجہ اخذ کیا، ’’اب یا کبھی بھی پرولتاری پارٹی کو اقتدار کی منتقلی کا سوال اٹھانا ایک فاش غلطی ہو گی۔نہیں، پرولتاریہ کی پارٹی پھلے پھولے گی، اِس کا پروگرام زیادہ سے زیادہ عوام کے سامنے واضح ہو گا۔‘‘ طبقاتی تصادموں کی حقیقی روش سے قطع نظر بالشویزم کی مسلسل بڑھوتری کی یہ امید اُن دنوں لینن کی اِس مسلسل تکرار کے بالکل برخلاف تھی: ’’روس اور دنیا بھر کے انقلاب کی کامیابی کا دارومدار دو یا تین دن کی جدوجہد پر ہے۔‘‘
شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اِس ڈرامائی مکالمے میں سچائی مکمل طور پر لینن کے ساتھ تھی۔ ایک انقلابی صورتحال کو خواہش کے ذریعے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر اکتوبر اور نومبر میں بالشویک اقتدار پر قبضہ نہ کرتے تو غالب امکان یہی تھا کہ وہ کبھی بھی نہ کر پاتے۔ مضبوط قیادت کی بجائے بالشویکوں میں بھی عوام کو قول و فعل کا وہی تضاد نظر آتا جس سے وہ پہلے ہی تنگ آ چکے تھے۔ وہ دو یا تین مہینوں میں اِس پارٹی سے بھی دور ہو جاتے جس نے اُن کی امیدوں پر پانی پھیرا تھا، بالکل اُسی طرح جیسے وہ ابھی ابھی سوشل انقلابیوں اور منشویکوں سے دور ہوئے تھے۔ مزدوروں کا ایک حصہ بے حسی کا شکار ہو جاتا، دوسرا حصہ پرتشدد تحریکوں، انارکسٹ انتشار، گوریلا لڑائیوں اور مایوسی و انتقام کی دہشت میں اپنی قوتیں ضائع کر دیتا۔ یوں بورژوازی کو سانس لینے کی مہلت مل جاتی، جسے وہ جرمن بادشاہت کے ساتھ علیحدہ امن کے قیام اور انقلابی تنظیموں کا قلع قمع کرنے کے لئے استعمال کرتی۔روس ایک بار پھر ایک نیم سامراجی، نیم نوآبادیاتی ملک کی حیثیت سے سرمایہ دارانہ ریاستوں کے حلقے میں شامل ہو جاتا۔ پرولتاری انقلاب لامتناہی تاخیر کا شکار ہو جاتا۔ اِسی تناظر کی گہری پرکھ نے لینن کو تنبیہ کی یہ چیخ بلند کرنے پر مجبور کیا تھا: ’’روس اور دنیا بھر کے انقلاب کی کامیابی کا دارومدار دو یا تین دن کی جدوجہد پر ہے۔‘‘
لیکن اب 10 تاریخ کے بعد سے پارٹی میں صورتحال مکمل طور پر بدل چکی تھی۔ لینن اب تنہا ’’مخالف‘‘ نہیں تھا جس کی تجاویز کو مرکزی کمیٹی نظر انداز کر رہی تھی۔ بلکہ اب دایاں بازو تنہا ہو چکا تھا۔ لینن کو مرکزی کمیٹی سے استعفیٰ کی قیمت پر ایجی ٹیشن کا حق حاصل نہیں کرنا پڑ رہا تھا۔ پارٹی کی قانونیت اب اُس کے ساتھ تھی۔ دوسری طرف زینوویف اور کامینیف مرکزی کمیٹی کی اکثریت کے فیصلے کے خلاف اپنی دستاویز تقسیم کر کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے تھے۔ اور لینن نے جدوجہد میں اپنے دشمن کی معمولی سی غلطی کو بھی کبھی معاف نہیں کیا!
10 تاریخ کے اجلاس میں ڈزرزھنسکی کی تجویز پر سات آدمیوں کا سیاسی بیورو منتخب کیا گیا: لینن، ٹراٹسکی، کامینیف، زینوویف، سٹالن، سولکولنیکوف، ببنوف (Bubnov) ۔ تاہم یہ نیا ادارہ بالکل ناقابل عمل ثابت ہوا۔ لینن اور زینوویف ابھی تک روپوش تھے؛ مزید برآں زینوویف اور کامینیف نے سرکشی کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔ سیاسی بیورو کا اجلاس نہیں ہو سکا اور جلد ہی اِسے فراموش کر دیا گیا، جیسے واقعات کے بھنور میں تخلیق کی گئی دوسری کئی تنظیموں کو کر دیا گیا تھا۔
10 تاریخ کے اجلاس میں سرکشی کا کوئی عارضی عملی منصوبہ بھی تشکیل نہیں دیا گیا تھا۔ تاہم قرارداد میں شامل کئے بغیر اِس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ سرکشی سوویتوں کی کانگریس سے پہلے ہونی چاہئے اور اگر ممکن ہو تو 15 اکتوبر سے بھی پہلے۔ سب لوگ اِس تاریخ پر بخوشی راضی نہیں ہوئے۔ یہ یقینا پیٹروگراڈ کی اڑان کے لئے بہت مختصر تھی۔ لیکن تاخیر پر اصرار کا مطلب دائیں بازو کی حمایت اور پتوں کو ملانا ہوتا۔
15 تاریخ کے اِس ابتدائی تعین کی حقیقت کو واقعے کے سات سال بعد 1924ء میں ٹراٹسکی نے لینن کی یادداشتوں میں افشا کیا۔ اِس بیان سے جلد ہی سٹالن نے اختلاف کیا۔ یہ سوال روس کے تاریخی لٹریچر کا ایک تیکھا سوال بن چکا ہے۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ سرکشی درحقیقت 25 تاریخ کو ہوئی اور یوں اصل مقررہ تاریخ پر قائم نہیں رہا جا سکا۔ نقال تاریخ دانوں کے نزدیک مرکزی کمیٹی کی حکمت عملی میں کوئی نقص یا تاریخ کے معاملے میں کوئی تاخیر ہونا بھی ناممکن ہے۔ اِس موضوع پر سٹالن لکھتا ہے، ’’اِس کا مطلب ہو گا کہ مرکزی کمیٹی نے سرکشی کے لئے 15 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی اور بعد ازاں سرکشی کی تاریخ کو 25 اکتوبر تک ملتوی کر کے خود ہی اِس فیصلے کی خلاف ورزی (!) بھی کی۔ کیا یہ سچ ہے؟ نہیں یہ سچ نہیں ہے۔‘‘ سٹالن نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ’’ٹراٹسکی کی یادداشت نے اُسے دھوکہ دیا ہے۔‘‘ اِس کے ثبوت کے طور پر وہ 10 اکتوبر کی قرارداد پیش کرتا ہے جس میں کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔
واقعات کے آہنگ کو سمجھنے کے لئے سرکشی کی تاریخ وار ترتیب کا یہ متنازعہ معاملہ بہت اہم ہے اور وضاحت کا متقاضی ہے۔ یہ درست ہے کہ 10 تاریخ کی قرارداد میں کوئی تاریخ موجو دنہیں تھی۔ لیکن اِس عمومی قرارداد کا تعلق پورے ملک میں سرکشی سے تھا اور اِسے سینکڑوں ہزاروں پارٹی کارکنان تک پہنچنا تھا۔ اِس میں سرکشی کی خفیہ تاریخ شامل کرنا انتہائی احمقانہ ہوتا۔ ہمیں یاد ہونا چاہئے کہ لینن اُن دنوں احتیاطً اپنے خطوں پر بھی تاریخ نہیں ڈالتا تھا۔ مذکورہ صورت میں معاملہ اتنے اہم اور ساتھ ہی ساتھ اتنے سادہ فیصلے کا تھا کہ تمام شرکا باآسانی تاریخ یاد رکھ سکتے تھے۔ یوں سٹالن کی جانب سے متن کا حوالہ یکسر غلط فہمی کا اظہار ہے۔
تاہم ہم تسلیم کرنے کو تیار ہیں کہ ایک شریک کی جانب سے اپنی یادداشت کا حوالہ ایک سائنسی محقق کے لئے ناکافی ہے، بالخصوص جب ایک دوسرا شریک اِس سے اختلاف کر رہا ہو۔ خوش قسمتی سے حالات و دستاویزت کا تجزیہ اِس سوال کا فیصلہ بلا شک و شبہ کر دیتا ہے۔
سوویتوں کی کانگریس کا آغاز 20 اکتوبر کو ہونا تھا۔ مرکزی کمیٹی کے اجلاس اور کانگریس کی تاریخ کے درمیان 10 دن کا وقفہ تھا۔ کانگریس نے اقتدار کے حق میں ایجی ٹیشن نہیں بلکہ اُس پر قبضہ کرنا تھا۔ تاہم چند سو مندوبین اپنے تئیں اقتدار پر قبضہ نہیں کر سکتے تھے؛ کانگریس کے حوالے کرنے کے لئے اقتدار پر کانگریس سے پہلے قبضہ کرنا ضروری تھا ۔ ’’پہلے کیرنسکی کو شکست دو، پھر کانگریس بلاؤ!‘‘ یہی سوچ ستمبر کے وسط سے لینن کی تمام ایجی ٹیشن کا مرکزی نقطہ تھی۔ اقتدار پر قبضے کے تمام حامی اِس سے متفق تھے۔ نتیجتاً مرکزی کمیٹی کے پاس 10 اور 20 اکتوبر کے درمیان سرکشی کی کوشش کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ چونکہ یہ پیشگوئی ناممکن تھی کہ جدوجہد کتنے دن جاری رہے گی، لہٰذا سرکشی کے آغاز کے لئے 15 تاریخ مقرر کی گئی۔ لینن کی یادداشتوں میں ٹراٹسکی نے لکھا، ’’اصل تاریخ کے بارے میں کم و بیش کوئی اختلاف نہیں تھا۔سب کو پتا تھا کہ تاریخ حتمی نہیں تھی، محض رُخ بندی کے مقصد کے تحت مقرر کی گئی تھی اور واقعات کے مطابق آگے پیچھے کی جا سکتی تھی۔ لیکن یہ دِنوں کا ہی سوال ہو سکتا تھا، اِس سے زیادہ نہیں۔ کسی تاریخ اور مزید برآں قریب ترین تاریخ کی ضرورت بالکل واضح تھی۔‘‘
سیاسی منطق کی یہ گواہی درحقیقت سوال کو حل کر دیتی ہے۔ لیکن اضافی ثبوت کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ لینن نے کئی بار پرزور سفارش کی کہ شمالی علاقائی کانگریس کو پارٹی اپنی عسکری سرگرمیوں کے آغاز کے لئے بروئے کار لائے۔ مرکزی کمیٹی کی قرارداد نے اِس خیال کو اپنایا۔ لیکن 10 تاریخ کو شروع ہونے والی علاقائی کانگریس کو 15 تاریخ سے بالکل پہلے ختم ہو جانا تھا۔
16 تاریخ کے اجلاس میں زینوویف نے چھ دن پہلے منظور ہونے والی قرارداد کی منسوخی پر اصرار کرتے ہوئے مطالبہ کیا: ’’ہمیں بے تکلفی سے خود سے کہنا ہو گا کہ اگلے پانچ دنوں میں ہم کوئی سرکشی نہیں کریں گے۔‘‘ وہ اُن پانچ دنوں کی بات کر رہا تھا جو سوویتوں کی کانگریس تک باقی تھے۔اسی اجلاس میں کامینیف نے اصرار کرتے ہوئے کہ ’’سرکشی کا فیصلہ ایک مہم جوئی ہے‘‘ یاد دلایا کہ ’’پہلے کہا جا رہا تھا کہ کاروائی 20 تاریخ سے پہلا ہونی چاہئے۔‘‘ کسی نے اِس بیان پر اعتراض نہیں کیا اور کوئی کر بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ سرکشی میں تاخیر تھی جسے کامینیف نے لینن کی قرارداد کی ناکامی قرار دیا۔‘‘ اُس کے الفاظ کے مطابق سرکشی کے بارے میں ’’اِس پورے ہفتے کے دوران کچھ نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ ظاہر ہے کہ یہ ایک مبالغہ آرائی تھی۔ تاریخ کے تعین نے سب کو اپنے منصوبوں کو ٹھوس اور کام کو تیز کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ تاہم یہ مسلمہ ہے کہ 10 تاریخ کے اجلاس میں مقرر کیا گیا پانچ دن کا وقفہ بہت مختصر ثابت ہوا تھا۔ التوا ایک حقیقت بن چکا تھا۔ مرکزی مجلس عاملہ نے 17 تاریخ کو سوویتوں کی کانگریس کے آغاز کو 25 تاریخ پر منتقل کر دیا۔ یہ التوا بہت کارآمد ثابت ہوا۔
لینن، جسے تنہائی میں یہ ساری رکاوٹیں اور رگڑیں ناگزیر طور پر ایک مبالغہ آمیز شکل میں نظر آ رہی تھیں، اِس تاخیر پر تشویش کا شکار ہوا اور مرکزی کمیٹی کا ایک نیا اجلاس بلانے پر اصرار کیا، جس میں دارالحکومت کے پارٹی کام کی زیادہ اہم شاخوں کے نمائندے شریک ہوں۔ شہر کے نواح میں 16 تاریخ کو ہونے والا یہی اجلاس تھا جس میں زینوویف اور کامینیف نے پرانی تاریخ کو منسوخ کرنے کے حق میں اور نئی تاریخ مقرر کرنے کے خلاف اوپر نقل کئے گئے دلائل دئیے۔ تنازعہ دوہری شدت کے ساتھ دوبارہ کھل گیا۔ ملیوٹن کا موقف تھا: ’’ہم پہلی ضرب لگانے کے لئے تیار نہیں ہیں… ایک اور امکان بھی پیدا ہوتا ہے: مسلح تصادم… یہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہمیں اِس تصادم کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ لیکن یہ امکان، سرکشی سے بالکل مختلف چیز ہے۔‘‘ ملیوٹن کا موقف بالکل وہی تھا جس کا دفاع زینوویف اور کامینیف کر رہے تھے۔ پیٹروگراڈ کا ایک بوڑھا مزدور شاٹمین، جو پارٹی کی تمام تاریخ میں سے گزرا تھا، بتاتا ہے کہ پارٹی کمیٹی اور عسکری انقلابی کمیٹی، دونوں کا مزاج مرکزی کمیٹی سے کہیں کم لڑاکا تھا۔’’ہم میدان میں نہیں آ سکتے، لیکن ہمیں تیار ہونا چاہئے۔‘‘ لینن نے طاقتوں کے توازن کا مایوسی بھرا تخمینہ لگانے پر ملیوٹن اور شاٹمین کو تنقید کا نشانہ بنایا: ’’یہ فوج کے ساتھ جدوجہد نہیں بلکہ فوج کے ایک حصے کی دوسرے حصے کے ساتھ جدوجہد کا سوال ہے… حقائق ثابت کرتے ہیں کہ ہمیں دشمن پر فوقیت حاصل ہے۔ مرکزی کمیٹی شروعات کیوں نہیں کر سکتی؟‘‘
ٹراٹسکی اِس اجلاس میں موجود نہیں تھا۔ بالکل اِسی وقت وہ سوویت میں عسکری انقلابی کمیٹی کے بارے میں قرارداد پیش کر رہا تھا۔ لیکن جو خیال پچھلے کچھ دنوں کے دوران سمولنی میں تشکیل پا چکا تھا، اُس کا دفاع کرائیلنکو نے کیا۔ کرائیلنکو کو کوئی شک نہیں تھا کہ ’’پانی خوب جوش کھا رہا ہے۔‘‘ سرکشی کے حق میں قرارداد کو واپس لینا ’’سب سے بڑی غلطی ہو گی۔‘‘ تاہم وہ اِس سوال پر لینن سے اختلاف کر رہا تھا کہ ’’اِسے کون شروع کرے گا اور کیسے شروع کرے گا۔‘‘ فی الوقت سرکشی کی تاریخ متعین کرنا نامناسب ہے۔ ’’لیکن پیٹروگراڈ سے فوجی دستے ہٹانے کا سوال ہی وہ متنازعہ مسئلہ ہے جس کی بنیاد پر کشمکش جاری ہے… ہم پر حملہ پہلے ہی ایک حقیقت ہے اور ہم اِس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں… اِس چیز کے بارے میں پریشان ہونا ضروری نہیں کہ آغاز کہاں سے کیا جائے، کیونکہ آغاز تو پہلے ہی ہو چکا ہے۔‘‘ کرائیلنکو تشریح کر رہا تھا اور عسکری انقلابی کمیٹی اور گیریزن کی مجلس مشاورت کی وضع کردہ حکمت عملی کا دفاع کر رہا تھا۔ سرکشی اِسی راستے پر آگے بڑھتی رہی۔
لینن نے کرائیلنکو کی بات کا جواب نہیں دیا۔ پیٹروگراڈ کا پچھلے چھ دن کا منظر نامہ اُس کی نظروں کے سامنے سے نہیں گزرا تھا۔ لینن کو تاخیر کا ڈر تھا۔ اُس کی توجہ سرکشی کے کھلے مخالفین پر مرکوز تھی۔ وہ تمام تحفظات، مشروط کلیوں اور غیرواضح جوابات کو کامینیف اور زینوویف کی حمایت گردان رہا تھا، جو اب ایسے لوگوں والی مخالف پر اتر آئے تھے جو اپنی کشتیاں جلا چکے ہوں۔ کامینیف نے دلیل پیش کی، ’’ایک ہفتے کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ سرکشی کے لئے معلومات کی کمی ہے۔ ہمارے پاس سرکشی کی کوئی مشین نہیں ہے۔ دشمن کی مشین کہیں زیادہ مضبوط ہے اور اِس ہفتے کے دوران مزید مضبوط ہو چکی ہے… یہاں دو طریقوں کا تصادم ہو رہا ہے: سازش کا طریقہ اور انقلابِ روس کی قوت محرکہ پر اعتماد کا طریقہ۔‘‘ جب لڑائی لازم ہو جاتی ہے تو موقع پرستوں کو قوت محرکہ پر اعتماد کا خیال آ جاتا ہے۔
لینن نے جواب دیا: ’’اگر تم سمجھتے ہو کہ سرکشی درست ہے تو پھر سازش کی بات بے معنی ہے۔ اگر سرکشی سیاسی طور پر ناگزیر ہو چکی ہے تو ہمیں سرکشی کو ایک فن کے طور پر لینا ہو گا۔‘‘ پارٹی میں بنیادی اور حقیقی معنوں میں اصولی تنازعہ اِنہی خطوط پر رونما ہوا۔ یہ وہ تنازعہ تھا جس کے فیصلے اور حل پر انقلاب کا سارا مستقبل منحصر تھا۔ تاہم مرکزی کمیٹی کی اکثریت کو متحد کر دینے والے لینن کے کلیے کے عمومی ڈھانچے میں بھی کئی ثانوی لیکن انتہائی اہم سوالات ابھرے: تیار سیاسی صورتحال کی بنیاد پر سرکشی کی جانب کیسے بڑھا جائے؟ انقلاب کی سیاست اور تکنیک کے درمیان پُل کیسے بنایا جائے؟ عوام کو اِس پُل پر سے کیسے گزارا جائے؟
بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے جوفے [۷] نے 10 تاریخ کی قرارداد کی حمایت کی تھی۔ تاہم ایک نکتے پر اُس نے لینن کی مخالفت کی: ’’یہ درست نہیں ہے کہ سوال اب خالصتاً تکنیکی ہے۔ اب بھی سرکشی کے وقت پر سیاسی نقطہ نظر سے ہی غور کیا جانا چاہئے… پچھلے ہفتے نے ثابت کیا ہے کہ پارٹی، سوویت اور عوام کی سرکشی ابھی تک محض تکنیکی سوال نہیں بنی ہے۔ اِسی وجہ سے ہم مقرر کردہ تاریخ پر قائم نہیں رہ سکے ہیں۔‘‘
لینن کی ’’پارٹی کی تمام تنظیموں اور مزدوروں اور سپاہیوں سے مسلح سرکشی کی ہمہ جہت اور بھرپور تیاری‘‘ کی استدعا کی نئی قرارداد کو کامینیف اور زینوویف کے دو اختلافی ووٹوں کے مقابلے میں 20 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا، تین افراد نے ووٹ نہیں دیا۔ سرکاری تاریخ دان اِن اعداد و شمار کو مخالفت کے بالکل خفیف ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہ معاملے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دیتے ہیں۔ پارٹی کی گہرائیوں میں بائیں طرف جھکاؤ اتنا شدید تھا کہ سامنے آنے کی جرات نہ کر سکنے والے سرکشی کے مخالفین نے دونوں کیمپوں کے درمیان بنیادی تقسیم مٹانے کو ہی موافق گردانا۔ اگر پیشگی فیصلے کے باوجود 16 تاریخ تک سرکشی نے عملی جامہ نہیں پہنا ہے تو کیا مستقبل میں بھی سارا معاملہ ’’سرکشی کی طرف بڑھنے‘‘ کے نام پر گول مول نہیں ہو جائے گا؟ اُسی اجلاس میں بالکل واضح ہو گیا تھا کہ [سرکشی کی حمایت کے باوجود اُسے مستقبل بعید تک ملتوی کرنے کے معاملے میں] کالینن اکیلا نہیں تھا۔ زینوویف کی قرارداد کہ ’’سوویتوں کی کانگریس کے بالشویک حصے سے مشاورت کے بغیر کوئی کاروائی ناقابل قبول ہے‘‘ کو 6 کے مقابلے میں 15 ووٹوں سے مسترد کیا گیا اور 3 لوگوں نے ووٹ نہیں دیا تھا۔ یہاں سے آپ آرا کو درست طور پر پرکھ سکتے ہیں۔ مرکزی کمیٹی کی قرارداد کے کئی ’’حامی‘‘ فیصلے کو سوویتوں کی کانگریس اور صوبوں کے بالشویکوں، جن کی اکثریت زیادہ اعتدال پسند تھی، سے مشاورت تک ملتوی کرنا چاہتے تھے۔ اگر ووٹ نہ دینے والوں کو بھی شامل کیا جائے تو 24 میں سے 9 ایسے ’’حامی‘‘ تھے، یعنی ایک تہائی سے زیادہ۔ یہ یقینا ایک اقلیت تھی، لیکن ایک سرکشی کے صدر دفتر میں بڑی اہمیت کی حامل تھی۔ تاہم اِس اقلیت کی صورتحال اِس لئے مایوس کن تھی کہ اِسے پارٹی کی نچلی صفوں یا محنت کش طبقے میں کوئی حمایت حاصل نہیں تھی۔
اگلے دن زینوویف کے ساتھ مل کر کامینیف نے گورکی کے پرچے کو ایک اعلامیہ دیا، جس میں ایک رات پہلے لئے جانے والے فیصلے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ کامینیف نے لکھا، ’’نہ صرف زینوویف اور میں بلکہ کئی دوسرے عملی کامریڈ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں، سماجی طاقتوں کے موجودہ توازن کے ساتھ اور سوویتوں کی کانگریس سے آزادانہ طور پر اور اس سے کئی دن پہلے سرکشی کا اقدام ناقابل قبول ہے اور پرولتاریہ اور انقلاب کے لئے تباہ کن ثابت ہو گا… ہر چیز کو سرکشی کے لئے داؤ پر لگا دینا مایوس کن اقدام ہو گا۔ ہماری پارٹی اتنی مضبوط ہے اور اِس کے سامنے اتنا شاندار مستقبل ہے کہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جانا چاہئے۔‘‘ مصالحت پسند ہمیشہ خود کو ’’اِتنا مضبوط‘‘ محسوس کرتے ہیں کہ لڑائی میں ہی نہیں اترتے۔
کامینیف کا خط مرکزی کمیٹی کے خلاف براہِ راست اعلان جنگ تھااور وہ بھی ایک ایسے سوال پر جو کسی کے لئے بھی مذاق نہیں تھا۔ صورتحال انتہائی خراب ہو گئی۔ پیٹروگراڈ سوویت کے 18 تاریخ کے اجلاس میں مخالفین کی جانب سے اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں ٹراٹسکی نے اعلان کیا کہ سوویت نے آنے والے دنوں میں کسی سرکشی کی تاریخ مقرر نہیں کی ہے، لیکن اگر ضروری ہوا تو مزدور اور سپاہی یکجان ہو کر نکلیں گے۔ مجلس صدارت میں ٹراٹسکی کے پہلو میں بیٹھا کامینیف فوراً ایک مختصر بیان کے لئے اُٹھ کھڑا ہوا: اُس نے ٹراٹسکی سے مکمل اتفاق کیا۔ یہ ایک مکارانہ چال تھی۔ٹراٹسکی تو ایک دفاعی آڑ میں حملے کی حکمت عملی کی وکالت کر رہا تھا، لیکن کامینیف ٹراٹسکی کے کلیے، جس سے وہ مکمل اختلاف کرتا تھا، کو استعمال کرتے ہو ئے اپنی بالکل متضاد حکمت عملی پر پردہ ڈال رہا تھا۔کامینیف کی چال کا اثر زائل کرنے کے لئے ٹراٹسکی نے اُسی دن فیکٹری و کارخانہ کمیٹیوں کے کُل روس اجلاس میں کہا: ’’خانہ جنگی ناگزیر ہے۔ ہمارا کام اِسے ہر ممکنہ حد تک کم تکلیف دہ بنانا ہے۔ ہم تذبذب اور ہچکچاہٹ کے ذریعے نہیں بلکہ اقتدار کی پراعتماد اور جرات مندانہ جدوجہد کے ذریعے ہی ایسا کر سکتے ہیں۔‘‘ سب کو پتا تھا کہ ’تذبذب اور ہچکچاہٹ‘ کے الفاظ زینوویف، کامینیف اور اُن کے ساتھیوں کے بارے میں کہے گئے تھے۔
اس کے علاوہ ٹراٹسکی نے سوویت میں کامینیف کی تقریر کو تفتیش کے لئے مرکزی کمیٹی کے اگلے اجلاس کو تفویض کر دیا۔ سرکشی کے خلاف ایجی ٹیشن کے لئے اپنے ہاتھ آزاد کرنے کے خواہشمند کامینیف نے وقفے میں مرکزی کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ معاملے پر اُس کی عدم موجودگی میں غور کیا گیا۔ ٹراٹسکی نے اصرار کیا کہ ’’صورتحال بالکل ناقابل برداشت ہو چکی ہے‘‘ اور تجویز پیش کی کہ کامینیف کا استعفیٰ قبول کر لیا جائے۔
سویڈلوف نے ٹراٹسکی کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے لینن کا ایک خط پڑھا جس میں کامینیف اور زینوویف کو گورکی کے پرچے میں اعلامیہ جاری کروانے پر ہڑتال توڑنے والے قرار دیا گیا تھااور اُنہیں پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لینن لکھتا ہے، ’’پیٹروگراڈ سوویت کے اجلاس میں کامینیف نے گری ہوئی حرکت کی ہے۔وہ کہتا ہے کہ وہ ٹراٹسکی سے بالکل متفق ہے! لیکن کیا یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ٹراٹسکی دشمن کے سامنے اِس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا جو اُس نے کہا؟ کیا سمجھنا مشکل ہے کہ سرعام تقاریر میں سرکشی کا ذمہ دار دشمن کو ٹھہرانا ضروری ہے؟ کامینیف کی چال گھٹیا فریب کاری تھی۔‘‘
سویڈلوف کے ذریعے اپنا غضبناک احتجاج بھیجتے ہوئے لینن کو ابھی یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ مرکزی جریدے کے مدیروں کے نام ایک خط میں زینوویف نے اعلان کیا تھا کہ اُس کے خیالات ’’اُن خیالات سے بہت دور ہیں جن کے خلاف لینن لڑ رہا ہے‘‘ اور یہ کہ وہ ’’پیٹروگراڈ سوویت میں ٹراٹسکی کے کل والے اعلان سے متفق ہے۔‘‘ سرکشی کے ایک تیسرے مخالف لیوناچارسکی نے بھی پریس میں ایسی ہی باتیں کیں۔ بغض بھرے تذبذب کو مکمل کرنے کے لئے مرکزی جریدے نے زینوویف کے خط کے ساتھ مدیروں کا ہمدردانہ تبصرہ بھی شائع کیا: ’’ہم امید کرتے ہیں کہ زینوویف کے اعلان ( اور سوویت میں کامینیف کے اعلان) کے بعد سمجھا جا سکتا ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ لینن کے مضمون کے لہجے کی تلخی سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ بنیادی سوالات پر ہم متفق ہیں۔‘‘ یہ پیٹھ پر وار تھا، وہ بھی ایسی سمت سے جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ جس وقت زینوویف اور کامینیف مخالفین کی پریس میں مرکزی کمیٹی کے سرکشی کے فیصلے کے خلاف کھلی ایجی ٹیشن کر رہے ہیں، پارٹی کا مرکزی جریدہ لینن کے لہجے کی ’’تلخی‘‘ کی مذمت کر رہا ہے اور ’’بنیادی سوالات‘‘ پر کامینیف اور زینوویف سے اظہار یکجہتی کر رہا ہے۔ گویا اُس وقت سرکشی کے سوال سے زیادہ بنیادی بھی کوئی سوال ہو سکتا تھا۔ اجلا س کے مختصر منٹس کے مطابق ٹراٹسکی نے مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں ا علان کیا: ’’مرکزی جریدے کو کامینیف اور زینوویف کے خطوط اور اُن پر مدیروں کے تبصرے ناقابل برداشت ہیں۔‘‘ سویڈلوف نے احتجاج کی حمایت کی۔
اُس وقت مرکزی جریدے کے مدیر سٹالن اور سولکولنیکوف تھے۔ اجلاس کی کاروائی کے مطابق: ’’سولکولنیکوف نے بیان دیا کہ زینوویف کے خط پر مدیروں کے تبصرے میں اُس کا کوئی ہاتھ نہیں تھا اور وہ اِس تبصرے کو غلطی سمجھتا ہے ۔‘‘ یوں معلوم ہوا کہ سٹالن نے ذاتی طور پر اور تن تنہا ، سرکشی سے صرف چار دن قبل، مجلس ادارت کے دوسرے رُکن اور مرکزی کمیٹی کی اکثریت کے خلاف کامینیف اور زینوویف کی حمایت کی تھی۔ اِس پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔
سٹالن نے کامینیف کا استعفیٰ قبول کرنے کی مخالفت کی اور دلیل پیش کی کہ ’’ہماری ساری صورتحال ہی متضاد ہے۔‘‘ یعنی سٹالن نے اُس تذبذب کے دفاع کا بیڑا اٹھا لیا جو سرکشی کی مخالفت کرنے والے مرکزی کمیٹی کے اراکین لوگوں کے ذہنوں میں ڈال رہے تھے۔ کامینیف کا استعفیٰ تین کے خلاف پانچ ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔ 6 ووٹوں سے زینوویف اور کامینیف کو مرکزی کمیٹی کی مخالفت سے باز رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، سٹالن نے ایک بار پھر مخالفت کی۔ اجلاس کے منٹس کے مطابق: ’’سٹالن نے اعلان کیا کہ وہ مجلس ادارت سے استعفیٰ دیتا ہے۔‘‘ پہلے سے مشکل صورتحال کو مزید نہ الجھانے کی غرض سے مرکزی کمیٹی نے سٹالن کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
سٹالن کے بارے میں گھڑی گئی داستان کی روشنی میں تو اُس کا طرز عمل شاید ناقابل یقین لگے۔ لیکن درحقیقت یہ اُس کی روحانی ساخت اور سیاسی طریقوں کے عین مطابق تھا۔ بڑی مشکلات کا سامنا ہونے پر سٹالن ہمیشہ پسپائی اختیار کر لیتا ہے، کامینیف کی طرح کردار کی کمزوری کی وجہ سے نہیں، بلکہ سوچ کی تنگی اور تخلیقی تخیل کے فقدان کی وجہ سے۔ بڑے فیصلوں اور گہرے اختلافات کے لمحات میں اُس کی مشکوک احتیاط اُسے پس منظر میں چلے جانے، انتظار کرنے اور اگر ممکن ہو تو دونوں ممکنہ نتائج سے خود کو محفوظ رکھنے پر مجبو رکر دیتی ہے۔ سٹالن نے لینن کے ساتھ سرکشی کے حق میں ووٹ دیا؛ زینوویف اور کامینیف کھل کر سرکشی کے خلاف لڑ رہے تھے۔ لیکن پھر بھی، لینن کے ’’لہجے کی تلخی‘‘ سے قطع نظر، ’’بنیادی سوالات پر ہم متفق ہیں۔‘‘ سٹالن نے کسی طور بھی لا پرواہی کی وجہ سے یہ ادارتی تبصرہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ وہ بڑی احتیاط سے حالات اور الفاظ کو تول رہا تھا۔ اُس کے خیال میں سرکشی کے مخالفین سے تعلق بالکل توڑ دینا مناسب نہیں تھا۔
اجلاس کے یہ منٹس، جو ہم نے سٹالن کے سیکرٹریٹ کے سرکاری متن سے نقل کئے ہیں، نہ صرف بالشویک مرکزی کمیٹی میں افراد کی حقیقی صورتحال کو واضح کرتے ہیں، بلکہ اپنے اختصار اور روکھے پن کے باوجود ہمارے سامنے تمام تضادات اور ناگزیر انفرادی تذبذب کے ساتھ پارٹی قیادت کی درست منظر کشی بھی کرتے ہیں۔ نہ صرف ساری تاریخ، بلکہ اس کے انتہائی بے باک انقلابات بھی ایسے انسان ہی رقم کرتے ہیں جن کے لئے کوئی بھی انسانی چیز بیگانی نہیں ہوتی۔ لیکن کیا اِس سب سے اِن کامیابیوں کی اہمیت کم ہو جاتی ہے؟
اگر نپولین کی سب سے شاندار فتوحات کو پردے پر چلایا جائے تو فلم ہمیں ذہانت، وسعت، ہوشیاری اور شجاعت کے ساتھ ساتھ انفرادی سپہ سالاروں کی بے ہمتی، نقشہ نہ پڑھ سکنے والے جرنیلوں کا تذبذب، افسروں کی حماقت اور پوری پوری افواج میں آنتوں کو ڈھیلا کر دینے والی دہشت بھی دکھائے گی۔ یہ حقیقی دستاویز صرف یہی گواہی دے گی کہ نپولین کی فوج مشینوں پر نہیں بلکہ زندہ فرانسیسی باشندوں پر مشتمل تھی، جن کی پیدائش اور پرورش ایک عہد کے اختتام اور دوسرے کے آغاز کے دوران ہوئی تھی۔ انسانی کمزوری کی یہ تصویر مجموعی جاہ و جلال کو زیادہ واضح ہی کرے گی۔
انقلاب برپا ہو جانے کے بعد اُس پر غوروفکر کرنا، اُسے پہلے سے اپنے دل و دماغ میں اتارنے کی نسبت بہت آسان ہوتا ہے۔ جوں جوں سرکشی کا وقت قریب آتا ہے، سرکش پارٹیوں میں ناگزیر طور پر بحران پیدا ہوتا ہے اور ایسا ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ آج تک کی سب سے پختہ اور انقلابی پارٹی کا تجربہ اِس کا واضح ثبوت ہے۔ اتنا ہی کافی ہے کہ لڑائی سے چند دن قبل لینن کو اپنے دو قریب ترین اور نمایاں ترین شاگردوں کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ کرنا پڑا۔ اِس تنازعے کو ذاتی نوعیت کے ’’حادثات‘‘ تک محدود کرنے کی حالیہ کوششوں کی وجہ پارٹی کے ماضی کو بالکل مذہبی انداز سے مثالی بنا کر پیش کرنا ہے۔ جس طرح 1917ء کے موسم خزاں میں لینن دوسروں کی نسبت زیادہ دوٹوک اور فیصلہ کن انداز میں سرکشی کی معروضی ضرورت اور انقلابی عوام کی منشا کا اظہار کر رہا تھا، بالکل ویسے ہی زینوویف اور کامینیف دوسروں کی نسبت زیادہ بے تکلفی سے پارٹی میں موجود رکاوٹی رجحانات، تذبذب، پیٹی بورژوازی کے اثرورسوخ اور حکمران طبقات کے دباؤ کا اظہار کر رہے تھے۔
اگر سٹینوگرافر نے بالشویک پارٹی کے بالائی حلقوں میں صرف اکتوبر میں ہونے والے تمام اجلاسوں، مباحث اور ذاتی جھگڑوں کا ہی اندراج کیا ہوتا تو آنے والی نسل دیکھ سکتی تھی کہ کیسی شدید داخلی کشمکش سے پارٹی رہنماؤں میں سرکشی کے لئے درکار عزم پروان چڑھا ۔ سٹینوگرافر کی رپورٹ یہ بھی واضح کرے گی کہ ایک انقلابی پارٹی کو داخلی جمہوریت کی کس قدر ضرورت ہوتی ہے۔ جدوجہد کا عزم پیشگی ذخیرہ نہیں کیا جاتا ہے، نہ ہی یہ اوپر سے مسلط کیا جاتا ہے، اِسے ہر مرحلے پر اندر سے تازہ اور پختہ کرنا پڑتا ہے۔
اس کتاب کے مصنف کا دعویٰ کہ ’’ پرولتاری انقلاب کا کلیدی اوزار پارٹی ہوتی ہے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے سٹالن نے 1924ء میں پوچھا: ’’اگر ’کلیدی اوزار‘ ہی ٹھیک نہیں تھا تو ہمارا انقلاب کیسے کامیاب ہوا؟‘‘ اُس کی طنز اِس اعتراض کی بددیانتی کو نہیں چھپا سکی۔ درویشوں اور شیطانوں کے درمیان عام انسان بھی ہوتے ہیں۔ اور وہی ہوتے ہیں جو تاریخ مرتب کرتے ہیں۔ بالشویک پارٹی کی پختگی نے اپنا اظہار اختلافات، تذبذب اور لرزاہٹ کی عدم موجودگی میں نہیں بلکہ اِس حقیقت میں کیا کہ انتہائی مشکل حالات میں اُس نے خود کو ایک داخلی بحران سے گزار کر یکجا کیا اور واقعات میں مداخلت کے موقع کا فائدہ اٹھایا۔ اِس کا مطلب ہے کہ بحیثیت مجموعی پارٹی انقلاب کا کافی کارآمد اوزار تھی۔
عملی طور پر ایک اصلاح پسند پارٹی جس نظام کی اصلاح کرنا چاہ رہی ہوتی ہے اُس کی بنیادوں کو غیرمتزلزل سمجھتی ہے۔یوں ناگزیر طور پر حکمران طبقات کے نظریات اور اخلاقیات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔ پرولتاریہ کے کندھوں پر سوار ہو کر ابھرنے والے سوشل ڈیموکریٹ ایک دوسرے درجے کی بورژوا پارٹی بن گئے تھے۔ بالشویزم نے ایک ایسا مستند انقلابی فرد تخلیق کیا جو اپنے ذاتی وجود، خیالات اور اخلاقی فیصلوں کو ایسے تاریخی مقاصد کے تابع کرتا ہے جو مروجہ سماج سے ناقابل مصالحت ہوتے ہیں۔ پارٹی میں بورژوا نظریات سے ضروری فاصلہ ایک چوکس عدم مصالحت کے ذریعے برقرار رکھا گیا تھا، جس کا روح رواں لینن تھا۔ لینن ایک نشتر کی طرح اُن تمام بندھوں کو مسلسل کاٹتا رہتا تھا جو پیٹی بورژوا ماحول میں پارٹی اور سرکاری رائے عامہ کے درمیان استوار ہوتے تھے۔ عین اسی وقت لینن نے پارٹی کو ابھرتے ہوئے طبقے کے خیالات اور جذبات کی بنیاد پر اپنی رائے عامہ استوار کرنا بھی سکھایا ۔ یوں انتخاب، تربیت اور مسلسل جدوجہد کے عمل سے بالشویک پارٹی نے نہ صرف اپنا سیاسی بلکہ اخلاقی ماحول بھی تخلیق کیا، جو بورژوا رائے عامہ سے آزاد اور بالکل برخلاف تھا۔ صرف اِسی چیز نے بالشویکوں کو اپنی صفوں میں تذبذب پر قابو پانے اور عمل میں وہ عزم دکھانے کے قابل بنایا جس کے بغیر اکتوبر کی فتح ناممکن تھی۔

*****

[۱] روس، فرانس، برطانیہ اور آسٹریا ہنگری کے اصلاح پسند رہنما، جو اُس وقت حکومتوں کا حصہ تھے۔
[۲] یہی کتابچہ ’ریاست اور انقلاب‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔
[۳] ہالینڈ کا ایک مارکسی نظریہ دان۔ لینن نے اپنے کتابچے ’ریاست اور انقلاب‘ میں کاؤتسکی اور پانینکویک کے مناظروں کا گہرا تجزیہ کیا ہے۔
[۴]’’ Successive Eliminations‘‘ یعنی ایک ایک کر کے تمام امکانات کو پرکھتے جانا۔
[۵] سرمایہ داری کی ’’بتدریج‘‘ سوشلزم میں تبدیلی کا نظریہ۔
[۶] 1871ء کے پیرس کمیون کو آخر کار خون میں ڈبو دیا گیا تھا۔ زینوویف کا خیال تھا کہ بالشویک اگر سرکشی کرتے ہیں تو یہی حشر ہوگا۔
[۷] ایڈولف جوفے پارٹی کا پرانا رُکن تھا اور 1906ء سے ہی ٹراٹسکی کے قریب تھا۔ اُس نے انقلاب کے دوران اور بعد میں بھی ہر نازک مرحلے پر لینن اور ٹراٹسکی کا ساتھ دیا۔انقلاب کے بعد جرمنی کے ساتھ ہونے والے بریسٹ لیٹووسک مذاکرات میں شریک رہا اور سوویت جمہوریہ میں کئی کلیدی عہدوں پر فائز رہا۔ لینن کی وفات کے بعد سٹالنزم کے خلاف جدوجہد میں ٹراٹسکی کا وفادار ساتھی رہا۔ 1927ء تک وہ شدید بیمار ہو چکا تھا اور اِس وقت تک ٹراٹسکی کو بھی پارٹی سے نکالا جا چکا تھا۔ سٹالن نے علاج کے لئے جوفے کو بیرون ملک بھیجنے سے انکار کر دیا۔ اِن تلخ حالات میں جوفے نے خود کشی کر لی۔ موت سے پہلے ٹراٹسکی کے نام اُس کا آخری خط پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ؂؂

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں