روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

مادورو کے اغوا کے بعد کا وینزویلا

مادورو کے اغوا کے بعد کا وینزویلا

ایشلے اسمتھ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں ایک کُوکر کے اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی کی’’ڈونرو ڈاکٹرائن‘‘کو نافذ کیا۔ اس کا مقصد مغربی نصف کرے میں ایک خصوصی اثر و رسوخ کا دائرہ قائم کرنا، وہاں کی ریاستوں پر سامراجی غلبہ مسلط کرنا، اور خصوصاً چین جیسے حریفوں کو باہر دھکیلنا ہے۔ اس حکمت عملی کے پہلے قدم کے طور پر ٹرمپ نے نکولاس مادورو کی حکومت کے خلاف من گھڑت منشیات اسمگلنگ کے الزامات گھڑے۔ ان الزامات کی بنیاد پر وینزویلا کے ساحل کے قریب کشتیوں پر ریاستی دہشت گردی کے حملوں کی ایک لہر چلائی، اور پھر اپنے خصوصی دستے بھیج کر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو اغوا کر کے نیویارک منتقل کیا، جہاں انہیں مقدمے کے لیے قید کر دیا گیا ہے۔ بغاوت پر اپنی پریس بریفنگ میں ٹرمپ اور ان کے کابینہ اراکین نے کھلم کھلا اپنے حقیقی سامراجی مقاصد بیان کیے،یعنی وینیزویلا کے تیل پر قبضہ۔

تاہم دائیں بازو کی اپوزیشن کی رہنما ماریا کورینا ماچادو کو اقتدار میں بٹھانے کی بجائے امریکی انتظامیہ نے مادورو کی حکومت کو جوں کا توں رہنے دیا۔ اب اس کی سربراہی ڈیلسی روڈریگیز کر رہی ہیں۔ اپنے سامراج مخالفت کے دعووں کے باوجود وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔ اب ٹرمپ کی نظر کولمبیا اور نکاراگوا سے لے کر کیوبا اور گرین لینڈ تک مزید مداخلتوں اور رژیم چینج پر ہے،تاکہ پورے مغربی نصف کرے کو واشنگٹن کے تسلط میں لایا جا سکے۔

ٹیمپسٹ کے لیے کیے گئے درج ذیل انٹرویو میں ایشلے سمتھ نے فیڈریکو فوئنٹس سے بغاوت، مادورو کی حکومت اور ٹرمپ کی اس نئی اور وحشی سامراجی جارحیت کے خلاف سامراجیت مخالف مزاحمت کی فوری ضرورت کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ فیڈریکو فوئنٹس طویل عرصے سے وینزویلا یکجہتی تحریک کے کارکن ہیں۔ وہ ہوگو شاویز کی حکومت کے دوران کئی سال کاراکاس میں رہے، گرین لیفٹ کے نامہ نگار اور سینٹرو انٹرنیشنل میرانڈا کے محقق کے طور پر کام کیا۔ وہ لنکس انٹرنیشنل جرنل آف سوشلسٹ رینیول کے مدیر بھی ہیں۔

وینزویلا میں ٹرمپ کی بغاوت نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ واضح طور پر ان کی نئی مونرو ڈاکٹرائن کا پہلا وار ہے، جس کے ذریعے وہ مغربی نصف کرے کو واشنگٹن کا خصوصی دائرہ اثر قرار دینا چاہتے ہیں۔یہ ایسا اقدام ہے جو ہر اس حکومت کو نشانہ بناتا ہے جو امریکہ کی مخالفت کرتی ہے یا اس کے احکامات ماننے سے انکار کرتی ہے، لیکن یہ بات حیران کن بھی ہے۔ بغاوت سے پہلے مادورو امریکہ کو کئی طرح کی رعایتیں اور سودے پیش کر رہے تھے، مگر ٹرمپ نے پھر بھی انہیں اغوا کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

فیڈریکو فوئنٹس:ڈونلڈ ٹرمپ اور نکولاس مادورو کی حکومتوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز سے جڑا ہے، جب انہوں نے اپنے خصوصی ایلچی رچرڈ گرینیل کوکاراکاس بھیجا تاکہ مادورو سے ملاقات کی جا ئے۔ ایسا لگتا ہے کہ کم از کم ایک عرصے کے لیے ٹرمپ اس امکان پر غور کر رہے تھے کہ وینزویلا کے ساتھ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔

یہ اس اعتراف پر مبنی تھا کہ واشنگٹن کے روایتی اتحادی،یعنی دائیں بازو کی اپوزیشن،اتنے کمزور ہیں کہ وہ نہ تو مادورو کو اقتدار سے ہٹا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی مستحکم حکومت قائم کر سکتے ہیں، جبکہ مادورو کی حکومت ٹرمپ کی ضرورتیں پوری کر سکتی تھی، خصوصاً ملک بدر کیے جانے والوں اور تیل تک رسائی کے معاملے میں۔ ٹرمپ کی بات صحیح ثابت ہوئی۔ مادورو حکومت نے ڈیپورٹیشن فلائٹس قبول کیں، امریکی شہریوں کو رہا کیا، اور کھلے عام امریکہ کو وینزویلا کے تیل تک رسائی کی پیشکش کی۔ واحد چیز جو وہ دینے کو تیار نہ تھے، وہ ان کے اپنے لوگوں میں سے کوئی تھا۔

ٹرمپ نے کئی بار خبردار کیا تھا کہ اگر مادورو مستعفی ہو کر ملک سے نہیں نکلے تو کسی نہ کسی قسم کی فوجی کارروائی کی جائے گی۔ مادورو نے سمجھا کہ وہ ٹرمپ کی دھمکی کو جھوٹا ثابت کر سکتے ہیں، لیکن آخرکار ہم نے وہ ڈرامائی فوجی حملہ دیکھا جس نے وینزویلا کی سرزمین پر چڑھائی کی۔اس کے نتیجے میں نہ صرف مادورو اور سابق نیشنل اسمبلی کی صدر سیلیا فلوریس کو اغوا کیا گیا، بلکہ وینزویلا کے شہریوں اور 32 کیوبائی باشندوں کی ایک نامعلوم تعداد بھی ہلاک ہوئی۔ یہ ایک سامراجی مداخلت تھی جس کی مذمت ضروری ہے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ اس حقیقت کو تسلیم کر چکے تھے کہ وہ بیک وقت اپنی نئی’’ٹرمپ کورولری‘‘،یعنی مونرو ڈاکٹرائن کا نیا اضافہ نافذ نہیں کر سکتے، جس کا مقصدنیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی کے مطابق ’’مغربی نصف کرے میں امریکی بالادستی کی بحالی‘‘ ہے، اور اس کے ساتھ ہی مادورو کو اقتدار میں رہنے بھی دیں اور ان کی حکومت سے مذاکرات بھی کریں۔ اسی لیے ایک ایسا آپریشن انجام دیا گیا جس نے مادورو کو تو ہٹا دیا مگر ان کی حکومت کو برقرار رکھا۔ یہی ڈرامائی فوجی حملہ ’’ٹرمپ کورولری‘‘ کے عملی آغاز کا باقاعدہ اعلان تھا۔

اب جبکہ یہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، ٹرمپ کی حکومت نئی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کی حکومت سے ایک بنیادی طور پر مختلف بنیاد پر معاملہ کر رہی ہے،ایک ایسی بنیاد جس میں تمام طاقت ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔ ان کا منصوبہ یہ ہے کہ اس حکومت کو نیچا دکھایا جائے اور بالآخر وینزویلا کو 21ویں صدی کی ایک نئی نوآبادی یا پروٹیکٹوریٹ(protectorate) میں تبدیل کر دیا جائے۔

ٹرمپ کا کُوکوئی رژیم چینج نہیں تھا۔ انہوں نے حکومت کو برقرار رکھا، بس مادورو اور ان کی اہلیہ کو نکال دیا۔ ایساکیوں؟ انہوں نے ماچادو اور دائیں بازو کی اپوزیشن کو اقتدار میں کیوں نہیں بٹھایا؟

فیڈریکو فوئنٹس:اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں۔پہلی وجہ یہ کہ ٹرمپ انتظامیہ اس حقیقت کو سمجھ چکی تھی کہ ماچادو اور دائیں بازو کی اپوزیشن ملک پر مستحکم طور پر حکومت کرنے کے قابل نہیں تھی، خصوصاً اس لیے کہ انہیں فوج اور سکیورٹی اداروں میں کوئی اثر و رسوخ حاصل نہیں تھا۔ اس کے علاوہ اگرچہ حکومت کے حامی اقلیت میں ہیں، مگر وہ سماج کے ایک اہم حصے کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ ایسی حکومت کے مسلط کیے جانے کے خلاف ضرور متحرک ہو جاتے۔ اس کے نتیجے میں سب سے ممکنہ منظرنامے بڑے پیمانے پر عوامی تحریکیں اور شاید خانہ جنگی بھی ہو سکتے تھے۔

دوسری وجہ یہ کہ ٹرمپ حکومت نے اندازہ لگایا کہ مادورو کے بغیر کوئی بھی نئی حکومت امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی وہی پالیسی جاری رکھے گی جو مادورو نے اپنائی تھی۔ انہیں یہ بھی احساس تھا کہ 2024 کے صدارتی انتخابات کے بعد مادورو حکومت اپنی حمایت اور جواز میں شدید کمی کا شکار ہو چکی تھی،کیونکہ حکومت نے قابل تصدیق نتائج شائع کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس سے واضح طور پر دھاندلی کا اشارہ ملتا تھا۔

ایسی کوئی بھی نئی حکومت اقتدار برقرار رکھنے کے لیے امریکہ پر انتہائی حد تک انحصار کرتی۔ چونکہ مادورو حکومت فوج پر مکمل کنٹرول رکھتی تھی، اور اس نے شاویز کے زیر قیادت چلے آنے والے انقلابی عمل،جسے بولیوارین انقلاب کہا جاتا ہے،کو ختم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس لیے ٹرمپ کے حکام نے اندازہ لگایا کہ امریکہ پر انحصار کرنے والی ’’مادورو ازم، مگر مادورو کے بغیر‘‘ کی حکومت ہی امریکی مفادات کے تحفظ اور سیاسی استحکام کے لیے بہتر ثابت ہو گی۔

دو مزید نکات بھی قابل ذکر ہیں۔پہلا یہ کہ میرا ہمیشہ سے خیال تھا کہ ایک کے بعد ایک آنے والی امریکی حکومتیں شاویز اور پھر مادورو کی حکومت کو ایک غیرجمہوری عبوری اتھارٹی سے بدلنا چاہتی تھیں۔ طویل عرصے تک یہ ضروری بھی تھا، کیونکہ اپوزیشن انتخابات میں عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ ایسی عبوری اتھارٹی بولیوارین انقلاب کی باقی ماندہ اصلاحات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے سب سے موزوں تھی۔ چونکہ وہ منتخب نہ ہوتی، اس لیے اسے عوامی حمایت یا انتخابی مینڈیٹ کی فکر نہ ہوتی اور وہ نیچے سے دباؤ کے بھی کم زیر اثر ہوتی۔ اس کی بجائے وہ تیزی سے وہ تمام اقدامات کر سکتی تھی جو امریکہ چاہتا تھا (اور اس کے لیے درکار جبر بھی لاگو کر سکتی تھی)، تاکہ جب تک کوئی انتخابات ہوتے تو تمام بڑے فیصلے پہلے ہی کیے جا چکے ہوں۔

جو بات میں پہلے سمجھنے سے قاصر رہا وہ یہ تھی کہ ایسی عبوری اتھارٹی کو آخر کار اپوزیشن کی بجائے انہی لوگوں کے ذریعے بہتر طور پر چلایا جا سکتا تھا جو بولیوارین انقلاب کی زبان اور بیانیہ برقرار رکھتے ہیں،چاہے وہ خود ہی اس کے خاتمے کے ذمہ دار کیوں نہ رہے ہوں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ روڈریگیز کی حکومت کو ماچادو کی حکومت پر یہ برتری حاصل ہے کہ ماچادو پر عوامی دباؤ کہیں زیادہ ہوتا، کیونکہ پچھلے صدارتی انتخابات میں ان کے پسندیدہ امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز اوروتیا نے مبینہ طور پر بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کیے، جس کی تصدیق اپوزیشن کے جمع کردہ ووٹوں کے نتائج سے بھی ہوتی ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمیں بنتر (form) پر نہیں بلکہ مواد (content) پر توجہ دینی چاہیے۔ دائیں بازو (اور بائیں بازو) کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ حکومت بڑی حد تک برقرار ہے، اس لیے بنیادی طور پر کچھ بھی نہیں بدلا۔تاہم یہ نقطہ نظر ایک نہایت اہم پہلو کو نظرانداز کرتا ہے کہ وہ طاقت کا توازن جس پر یہ حکومت کھڑی ہے، وہ بنیادی طور پر بدل چکا ہے۔

جب شاویز 1998 میں منتخب ہوئے تو وہ ایک ترقی پسند پروگرام کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، لیکن اپنی کئی مجوزہ اصلاحات نافذ کرنا ان کے لیے مشکل تھا۔ پرانا سرمایہ دار طبقہ،جس کی قیادت بڑی کاروباری انجمن فیڈے کاماراس کرتی تھیں،اب بھی طاقت کے توازن میں برتری رکھتا تھا، ایساخصوصاً فوج اور ریاستی تیل کمپنی PDVSA پر اس کے کنٹرول کے ذریعے تھا۔

طاقت کے یہی اہم مراکز 2002-03 میں شاویز کو ہٹانے کے لیے استعمال کیے گئے۔تاہم اپریل 2002 کے فوجی کُو کی ناکامی اور دسمبر 2002 تا جنوری 2003 کے آئل لاک آؤٹ نے طاقت کے توازن کو بنیادی طو رپر بدل کر رکھ دیا،جن دونوں کو غریب عوام، محنت کش طبقے (خصوصاً تیل کے مزدوروں) اور فوج کے محب وطن حصوں کی بڑی عوامی مزاحمت نے شکست دی۔بنترمیں شاویز کی حکومت ان واقعات سے پہلے بھی وہی تھی اور بعد میں بھی، لیکن مواد کے لحاظ سے وہ بنیادی طور پر تبدیل ہو چکی تھی۔

آج بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے، مگر الٹی سمت میں۔طاقت کا توازن مزدور طبقے اور غریبوں کی طرف نہیں گیا،جنہیں مادورو حکومت نے طویل عرصے تک نظرانداز کیا اور دبایا۔ اس کے برعکس طاقت اس نئی بنیاد سے ہٹ گئی ہے جس پر حکومت ٹکی ہوئی تھی۔فوج اور سکیورٹی ادارے،وہ نیا سرمایہ دار طبقہ جسے ریاستی وسائل تک رسائی دے کر پروان چڑھایا گیا،اور حالیہ برسوں میں پرانا سرمایہ دار طبقہ بھی (جس میں فیڈے کاماراس بھی شامل ہیں) حکومت سے مفاہمت کر چکا تھا۔

آج حکومت کی اصل حمایت کی بنیاد امریکی حکومت ہے۔2024 کے صدارتی انتخابات میں عوامی حمایت کی زبردست کمی نے حکومت کی کمزوری عیاں کر دی تھی۔تاہم 3 جنوری کو امریکہ کے فوجی حملے نے حکومت کے پیروں تلے سے زمین ہی کھینچ لی۔نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایسی عبوری اتھارٹی وجود میں آئی ہے جس کے پاس کوئی عوامی مینڈیٹ نہیں، اور جس کی طاقت کا مکمل انحصار واشنگٹن پر ہے۔یہ وینزویلا کے عوام اور ان کی خودمختاری کے لیے نہایت خطرناک صورت حال ہے۔

بہت سے لوگوں نے بغاوت کے بعد روڈریگیز کی حکومت اور امریکہ کے درمیان واضح تعاون کی نشاندہی کی ہے۔ کچھ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ٹرمپ سے مادورو کو حوالے کرنے اور تیل کی مراعات دینے کی کوئی ڈیل کی،تاکہ حکومت کو بچایا جا سکے۔ کیا یہ درست ہے؟ روڈریگیز کی سودے بازی ان کے سامراجیت مخالف دعوؤں سے کیسے میل کھاتی ہے؟ اب وہ کیا کرنے کی کوشش کریں گی؟

فیڈریکو فوئنٹس:اگرچہ کسی خفیہ معاہدے کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کی حتمی شہادت پیش نہیں کی گئی۔ مزید یہ کہ ایسے معاہدے کے خلاف دو مضبوط دلائل موجود ہیں۔پہلی وجہ یہ ہے کہ زیادہ امکان ہے کہ حکومت کے اندر موجود گروہوں نے سمجھا کہ وہ ٹرمپ کی دھمکیوں کا فریب پکڑ سکتے ہیں،یعنی وہ آخرکار اس حد تک نہیں جائیں گے کہ مادورو کو ہٹانے کے لیے براہ راست حملہ کریں، یا وہ ایسا معاہدہ قبول نہیں کریں گے جس میں مادورو اقتدار میں رہتے۔ یہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ وینزویلا کی مسلح افواج مہینوں کی وارننگ کے باوجود 3 جنوری کے حملے کے لیے اس قدر تیار نہ تھیں۔

زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مادورو (اور اب روڈریگیز) حکومت کی طاقت کا بنیادی ذریعہ اندرونی دھڑوں کو متحد رکھنا ہے، جو نہایت متنوع ہیں۔ اگر حکومت کسی ایک رہنما کو حوالے کرنے پر رضامند ہوتی تو تمام دھڑوں میں تشویش اور خوف پیدا ہو جاتا،کہ اگلا کون ہو گا؟ اس سے وہ یکجہتی ٹوٹ سکتی تھی جس پر حکومت کی بقا اب تک منحصر رہی ہے،اور آئندہ بھی رہے گی۔

یہ سب کہنے کے بعد، چاہے کوئی خفیہ ڈیل ہوئی ہو یا نہیں، اس سے روڈریگیز حکومت کی پالیسی یا بیانیے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی۔

سب سے پہلے مادورو حکومت کافی عرصے سے،بالخصوص ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد،اپنے سامراجیت مخالف بیانیے کو کم کرتی جا رہی تھی۔ وہ کاراکاس میں حکومتی فورمز پر غیر ملکی بائیں بازو کے حامیوں سے خطاب کرتے وقت سامراجیت مخالف زبان استعمال کرتے تھے، یا اپنی حمایت کی بنیاد کے سامنے، جن کے لیے یہ نعرے ایک جوڑنے والا عنصر تھے۔تاہم دوسری جانب جب امریکہ کی فوجی سرگرمی کیریبیئن میں بڑھ رہی تھی، تب مادورو مسلسل صورت حال کو کم کر کے دکھانے اور ٹرمپ پر براہ راست تنقید سے بچنے کی کوشش کرتے رہے۔

پہلے انہوں نے دعویٰ کیا کہ کیریبیئن میں بمباری کی ویڈیوز محض اے آئی تھیں۔پھر انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو ٹرمپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔پھر انہوں نے ٹرمپ کو ایک نجی خط لکھا جس میں کہا کہ وہ ’’عوامی طور پر ان اہم کوششوں کا اعتراف کرتے ہیں جو ٹرمپ دیگر خطوں کی جنگوں کے خاتمے کے لیے کر رہے ہیں‘‘ اور امید ظاہر کی کہ ’’ہم مل کر ان جھوٹوں کو شکست دے سکتے ہیں جنہوں نے ہمارے تعلقات کو داغدار کیا ہے۔‘‘ اغوا سے صرف چند دن پہلے مادورو نے دوبارہ عوامی طور پر پیشکش کی کہ امریکہ کو وینزویلا کے تیل تک رسائی دے دی جائے۔

یہی بیانیہ اب روڈریگیز کے تحت جاری ہے، جنہوں نے مادورو کے اغوا کے دو ہفتوں سے بھی کم وقت بعد سی آئی اے کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی، اور اپنے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہوں نے ٹرمپ سے ایک ’’طویل اور شائستہ‘‘ فون کال کی، جس میں ’’ہمارے عوام کی بھلائی کے لیے دو طرفہ ایجنڈے‘‘ پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے سفارتی تعلقات کی بحالی اور دونوں ملکوں میں سفارت خانوں کے دوبارہ کھولنے کو مادورو اور فلوریس کی رہائی کے حصول کا راستہ قرار دیا ہے۔

جہاں تک آپ کے آخری سوال کا تعلق ہے، معاملہ یہ نہیں کہ روڈریگیز کیا کرنا چاہتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں کیا کرنے دیا جائے گا۔ ایک بار پھر اب تمام فیصلے واشنگٹن کے ہاتھ میں ہیں۔

تیل کی صنعت کا معاملہ لیجیے۔ٹرمپ نے وینزویلا کے بڑے تیل ذخائر ضبط کر لیے، انہیں غیر ملکی ثالثوں کے ذریعے فروخت کیا، رقم قطری بینکوں میں رکھوائی، اور وینزویلا کو بتایا کہ اس کے حصے کی رقم کیسے استعمال کی جائے،یعنی اسے نجی بینکوں کو غیر ملکی زرمبادلہ کی فروخت کے لیے فراہم کیا جائے۔

جواب میں روڈریگیز حکومت اس کو ایک ’’فتح‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، بجائے اس کے کہ اسے کھلی بین الاقوامی بحری ڈاکا زنی اور خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دے۔ اسی وقت نیشنل اسمبلی نے شاویز کے ہائیڈروکاربن قانون میں جزوی ترمیم کی پہلی منظوری دے دی ہے،جو ٹرمپ کی تیل پالیسیوں کو قانونی شکل دے دے گی، یعنی تیل کی نکاسی، پیداوار اور فروخت پر غیر ملکی کمپنیوں کو عملی کنٹرول مل جائے گا۔

آخرکار، روڈریگیز کے پاس کسی بڑے انتخاب کی گنجائش نہیں،اگرچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ (اور مادورو) اس سمت جانے پر خوش ہوتے، لیکن یقینا اس طرح کے شدید دباؤ میں نہیں۔

بغاوت کے بعد ملک کے اندر اور بیرون ملک وینزویلا کے مختلف طبقات، سماجی گروہوں اور سیاسی قوتوں کا ردعمل کیسا رہا ہے؟

فیڈریکو فوئنٹس:تمام حلقوں میں بنیادی ردعمل صدمے، سوگ، بے یقینی اور ملے جلے توقعات کا رہا ہے۔دائیں بازو کے رہنماؤں،جیسا کہ ماچادو،نے فوجی حملے اور اغوا کی حمایت میں بیانات دیے، اور بیرون ملک مقیم وینزویلا کے شہریوں میں کچھ مقامات پر 3 جنوری کی مداخلت کے حق میں جشن منانے کی ریلیاں بھی ہوئیں۔تاہم ان ریلیوں کو درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔وینیزویلا کے لاکھوں شہریوں کو مجبوراً ملک چھوڑنا پڑا ہے،اس کے مقابلے میں یہ ریلیاں نہایت چھوٹی تھیں۔

یہ ریلیاں زیادہ تر جلاوطن آبادی کے ان دائیں بازو کے حصوں کی عکاسی کرتی ہیں جو اپنے ملک کی زمینی حقیقتوں (خصوصاً بمباری) سے دور ہیں۔ اپنی قیادت کی طرح انہوں نے بھی تمام امیدیں کسی امریکی مداخلت پر لگا رکھی تھیں تاکہ موجودہ حکومت کو ہٹایا جا سکے، اور وہ وطن واپس لوٹ سکیں۔ لیکن یہ احتجاج زیادہ دیر نہیں چلے،خاص طور پر اس احساس کے بعد کہ حکومت بدستور وہی موجود ہے اور ان کی پسندیدہ رہنماماچادوکو خود ٹرمپ نے ایک طرف کر دیا ہے۔

ملک کے اندر حکومت نے یقینی بنایا کہ ایسی کوئی ریلی یا احتجاج ہونے نہ پائیں۔اعتدال پسند دائیں بازو کے سیاست دانوں نے حملے کے خلاف بولنے کی ہمت کی ہے، مگر اس کے باوجود عوام کی جانب سے کوئی خودبخود ابھرنے والی بڑی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔

حکومت کو صدمے سے نکل کر ردعمل میں اپنی پہلی احتجاجی ریلیاں منظم کرنے میں کئی دن لگے۔ ان ریلیوں میں شمولیت بنیادی طور پر حکومتی جماعت کے کارکنوں تک محدود رہی اور یہ تعداد بھی بہت زیادہ نہیں تھی،محض ہزاروں تک ہی تھی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی برسوں سے زیادہ تر وینزویلا کے شہریوں نے سیاست سے تقریباً دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ عوام نے حکومت اور مخالف دھڑوں کی سیاسی قیادت سے منہ موڑ رکھا ہے۔ 2024 میں بہت سے لوگوں نے اپوزیشن کو ووٹ دیا، مگر زیادہ تر حکومت کو نکالنے کے لیے،نہ کہ اپوزیشن کی حمایت میں اور نہ ہی اس کے سیاسی پروگرام کی بنیاد پر۔

ایک بات خاص طور پر اہم ہے۔یہ صورتحال واضح مثال ہے اس غلط فہمی کی کہ ہمیں ہر اس حکومت کی حمایت کرنی چاہیے جو سامراج کے ساتھ ٹکر میں ہو۔یقیناہمیں سامراجی جارحیت اور بیرونی مداخلت کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔

تاہم، ہم اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتے کہ کچھ حکومتیں اپنے ہی ملک میں ایسی پالیسیاں اپناتی ہیں جو سامراجیت مخالف عوامی شعور کو برباد کر دیتی ہیں۔3 جنوری کی سامراجی جارحیت کے خلاف بڑے پیمانے کی مزاحمت کا نہ ابھرنادرحقیقت مادورو حکومت کی مزدور دشمن اور غیر جمہوری پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے ٹھیک اسی طبقے کو دور دھکیل دیا جو سامراج کے خلاف جدوجہد کا ستون ہونا چاہیے تھا۔

آج، زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ حالات اب پہلے جیسے نہیں چل سکتے۔یہی وجہ ہے کہ ایک طرف عوام سڑکوں پر نہیں نکل رہے، اور دوسری طرف ایک بڑے حصے میں ایک گھبراہٹ بھری امید بھی موجود ہے،کہ شاید حالات بہتر ہو جائیں، کیونکہ اس سے بدتر ہونا ممکن نہ لگتا تھا۔اگرچہ حقیقت میں سامراجی مداخلت آخرکار حالات کو مزید خراب ہی کرے گی۔

وینزویلا کے عوام کی عدم مزاحمت شاویز کے خلاف پہلے ناکام کُو سے بالکل مختلف ہے۔ اس وقت عوام اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور انہیں دوبارہ اقتدار میں لے آئے تھے۔ اس بار ردعمل مختلف کیوں ہے؟

فیڈریکو فوئنٹس:یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ 2002 میں محنت کش طبقہ اور غریب عوام شاویز کی حکومت کو کیسے دیکھتے تھے، اور 2026 میں مادورو حکومت کو کیسے دیکھتے ہیں۔ جب شاویز کو ہٹایا گیا تو عوام کو حقیقی احساس تھا کہ یہ ان کی اپنی حکومت اور ان کے اپنے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ یہی احساس وسیع منظم اور خودبخود ابھرنے والی عوامی مزاحمت کا باعث بنا۔

اب 2026 میں چاہے درست ہو یا غلط لیکن اکثریت مادورو حکومت کو خود مسئلے کی بنیادی وجہ سمجھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب کے سب فوجی حملے کی حمایت کرتے تھے۔ بہت سے لوگوں نے اس سامراجی حملے کے مقابلے میں شدید مخالفت یا مکمل مایوسی محسوس کی، مگر پھر بھی وہ اس کے خلاف متحرک نہیں ہوئے۔ اس کی بجائے انہوں نے زیادہ تر گزشتہ دہائی کی طرح تماشائی بن کر بیٹھے رہنا بہتر سمجھا، یہ دیکھنے کے لیے کہ آگے کیا ہوتا ہے،اس امید کے ساتھ کہ شاید اس المیے میں سے کچھ اچھا نکل آئے۔

واضح طور پر مادورو کا نظام شاویز کے دور سے بہت بدل چکا ہے،جب یہ نہ صرف وینزویلا بلکہ لاطینی امریکہ اور وسیع عالمی بائیں بازو کے لیے بھی امید کی علامت تھا۔ اب کیا تبدیل ہوا ہے اور کیوں؟ ان تبدیلیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا کتنا کردار ہے؟ امریکہ کی پابندیوں کا کتنا اثر ہے؟ اور خود حکومت کا کردار کیا رہا ہے؟

فیڈریکو فوئنٹس:سوال کے آخری حصے کے حوالے سے، ان تمام عوامل نے کردار ادا کیا ہے،اور میں ایک چوتھا اہم عنصر بھی شامل کروں گا۔یہ دائیں بازو کی اپوزیشن کی غیر جمہوری اور پرتشدد کارروائیاں ہیں،بالخصوص ماچادو جیسے کردار،جنہوں نے سیاسی بحران اور معاشرے میں شدید بددلی کو جنم دیا۔ ان میں سے ہر عامل کو کتنا وزن دیا جائے، اور کس نے کب سے صورت حال پر اثر ڈالنا شروع کیا،یہ وینزویلا کے اندر اور باہر بائیں بازو کی صفوں میں ایک بڑی بحث ہے، جب وہ مادورو حکومت کا تجزیہ کرتے ہیں۔تاہم اگر کوئی تجزیہ ان عوامل میں سے کسی کو نظرانداز کر دے تو وہ لازماً غلط نتیجے تک پہنچے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام عوامل مادورو حکومت کی نوعیت میں بنیادی تبدیلی کی وضاحت کرتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا 2015 سے 2017 کے درمیان یہ واضح ہو گیا کہ حکومت کس طبقے کی خدمت کر رہی ہے، اس میں بنیادی تبدیلی آ رہی ہے۔ حالات اور حکومتی انتخاب دونوں نے یہ نتیجہ پیدا کیا کہ حکومت نے غریب اکثریت اور محنت کش طبقے سے عملی طور پر ناطہ توڑ لیا ہے،جو شاویز حکومت کی ریڑھ کی ہڈی اور بولیویرین انقلاب کی بنیاد تھے۔اس کی بجائے حکومت نے اپنی نئی بنیاد فوج، سکیورٹی اداروں اور نئی ابھرنے والے سرمایہ دار طبقے میں قائم کی، اور یوں ایک ردِ انقلاب کے عمل کا آغاز ہوا۔

اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگرچہ امریکی پابندیاں رژیم کے روایتی معنی میں کامیاب نہیں ہوئیں،یعنی ریاست چلانے والے افراد کو بدلنے میں،لیکن وہ موجودہ حکومت کے طبقاتی کردار اور سیاسی منصوبے کو تبدیل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہیں۔

مادورو کے اغوا سے پہلے ان کی حکومت کی نوعیت کیا تھی؟ وہ کن طبقاتی مفادات کی نمائندگی کرتی تھی؟ وہ کتنی جابرانہ اور آمرانہ ہو چکی تھی؟

فیڈریکو فوئنٹس:شاویز کی حکومت کے برعکس مادورو کی حکومت بلاشبہ سرمایہ دارانہ مفادات کی حامل حکومت بن چکی تھی۔ یہ ایک طرف اس نئے ابھرنے والے سرمایہ دار طبقے کے مفادات کی نمائندگی کرتی تھی، جو ’’بولیویرین‘‘ ریاست سے اپنے تعلقات کے ذریعے دولت مند ہوا تھا (وہی طبقہ جسے شاویز ’’بولیویرین بورژوازی‘‘ کہہ کر تنقید کا نشانہ بناتے تھے)، اور دوسری طرف روایتی سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا بھی دفاع کرتی تھی۔بالآخر مادورو حکومت نے فیڈکماراس جیسے بڑے سرمایہ دارانہ اداروں کی حمایت بھی حاصل کر لی، اور 2024 کے صدارتی انتخابات کے بعد کاراکس اسٹاک ایکسچینج کے سربراہ نے کہا کہ اقتصادی استحکام کی نمائندگی حکومت کرتی ہے، اپوزیشن نہیں۔

مادورو حکومت واضح طور پر محنت کشوں کی مخالف بھی تھی۔ بائیں بازو کے کچھ حلقے حکومت کا دفاع اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ اس کی پالیسیاں پابندیوں کی وجہ سے تھیں، لیکن یہ اس حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ حکومت نے پابندیوں سے پہلے ہی دولت کی خوفناک حد تک اوپر جانے والی تقسیم کے حق میں پالیسیاں اپنائی تھیں۔مزید یہ کہ پابندیوں کے باوجود مادورو حکومت کے پاس دیگر راستے موجود تھے، مگر 2018 کے بعد اس نے شعوری طور پر معاشی بحران کا بوجھ محنت کش طبقے پر ڈالنے کا فیصلہ کیا۔

پرومادورو بایاں بازو یہ دلیل دیتا ہے کہ حکومت نے عوامی خدمات کی نج کاری نہیں کی، سبسڈیز دیتی ہے، اور کمیونز کی تعمیر کی حمایت کرتی ہے، اس لیے وہ اب بھی ترقی پسند ہے۔ تاہم یہ دلیل اس حقیقت کو چھپاتی ہے کہ مختلف شعبوں،بالخصوص زرعی شعبے میں مکمل اور جزوی نجکاری ہو چکی ہے، حتیٰ کہ تیل کے اسٹریٹجک شعبے میں بھی، جہاں اینٹی بلاکیڈ قانون کے پردے میں نجکاری کا عمل جاری ہے۔

اسی طرح مادورو دور میں اگرچہ کچھ سرکاری کمپنیاں قائم کی گئی ہیں، خاص طور پر معدنیات کے شعبے میں، مگر ان کا اصل مقصد دولت کی منصفانہ تقسیم نہیں تھا بلکہ فوج کو سرمایہ دارانہ منافع کے دھاروں میں شامل کرنا تھا۔ یہ کمپنیاں ماحولیاتی تباہی اور مقامی و قدیم باشندوں کی زمینوں پر قبضے کی ذمہ دار رہی ہیں۔ تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے کہ سرکاری کمپنیاں کس طرح سرمایہ دار طبقے کو فائدہ پہنچاتی رہی ہیں،جیسا کہ PDVSA کے ساتھ ہوا، جو شاویز سے قبل پورے نیولبرل دور میں ریاستی ملکیت ہوتے ہوئے بھی سرمایہ داروں کے مفاد میں کام کرتی رہی۔

خوراک، ٹرانسپورٹ اور ایندھن کی سبسڈیز بھی کوئی ترقی پسند ثبوت نہیں ہیں۔ مصر اور انڈونیشیا جیسی انتہائی رجعتی حکومتیں بھی ایسا کرتی رہی ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں سبسڈیز سیاسی مفاد پرستی (Clientilistic) کے ذریعے کچھ سماجی حمایت برقرار رکھنے کا ذریعہ ہوتی ہیں،جیسا کہ مادورو حکومت میں حکمران جماعت کے مقامی عہدیداروں کے ذریعے فوڈ پیکیج تقسیم کرنا۔دوسری صورتوں میں سبسڈیز ختم کرنا اتنا مشکل ہوتا ہے کہ حکومت بڑے عوامی ردعمل کے خوف سے ایسا نہیں کر سکتی۔بالآخر ان سبسڈیز سے حاصل ہونے والے فائدے اس حکومتی پالیسی کے مقابلے میں انتہائی معمولی ہیں جس کے تحت محنت کشوں کی اجرتوں کو دانستہ طور پر کچلا گیا تاکہ ہائپر انفلیشن سے نمٹا جا سکے۔

جو بائیں بازو کے لوگ مادورو حکومت کی ترقی پسند نوعیت کے ثبوت کے طور پر کمیونل کونسلوں اور کمیونز کے فروغ کا حوالہ دیتے ہیں، وہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ان اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ ’’ہزاروں کمیونز‘‘ کو سیلف گورنمنٹ کے اداروں کے طور پر فروغ دینے کی بجائے حکومت نے انہیں قابو میں کرنے اور تنزلی کی طرف دھکیل دیا۔وزیر کمیونز کے مطابق پچھلے چار سالوں میں ان کمیونل کونسلوں کی تعداد میں شدید اور مسلسل کمی ہوئی ہے جو اپنے نمائندے دوبارہ منتخب کرنے میں کامیاب ہوئیں۔یہ 2022 میں تقریباً 19ہزار تھیں جو گزشتہ سال صرف 2ہزار سے کچھ زائد رہ گئیں۔

اسی طرح گزشتہ ایک دہائی میں رجسٹر ہونے والی تقریباً 4ہزار کمیونز میں سے 20 فیصد سے بھی کم ایسی ہیں جن کے پاس آج کم از کم ایک فعال ادارہ،جیسے کمیونل حکومت یا کمیونل بینک،موجود ہے۔ اس زوال کی بڑی وجہ حکومت کی یہ کوشش رہی کہ انہیں مقامی حکمران پارٹی کے عہدیداروں کے تابع کر دیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ جن پالیسیوں کا پرومادورو بایاں بازو حوالہ دیتا ہے وہ زیادہ تر شاویز دور کی میراث تھیں، مگر مادورو حکومت نے انہیں بدل کر بدعنوانی، سیاسی مفاد پرستی اور سرمایہ دارانہ ارتکاز کے راستے بنا دیا۔یا تو وہ پالیسیاں محنت کشوں کی اجرتوں کو دانستہ طور پر گرانے کی حکمت عملی کے باعث عملاً بے اثر ہو گئیں، یا وہ اس لیے برقرار ہیں کہ انہیں ختم کرنے کی سیاسی قیمت بہت بھاری پڑے گی۔اگرچہ تیل کے شعبے کی مجوزہ اصلاحات یہ بھی دکھاتی ہیں کہ جو چیز کل تک ممنوع تھی وہ کل مقدس بھی ہو سکتی ہے۔

یقینامعاشی پالیسی میں اس تبدیلی کے ساتھ جبر میں اضافہ ناگزیر تھا۔ بیرون ملک ہمیں صرف دائیں بازو کی اپوزیشن کے خلاف جبر کے بارے میں بتایا جاتا ہے،لیکن ان کے اپنے غیر جمہوری، پرتشدد اور غیر قانونی اقدامات کا کبھی ذکر نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بائیں بازو اور محنت کش طبقے کو اس سے بھی زیادہ جبر کا سامنا کرنا پڑا۔

محنت کشوں کے حقوق کے حوالے سے سینکڑوں ٹریڈ یونین کارکن صرف احتجاج کرنے پر جیل میں ہیں،نئی ٹریڈ یونین بنانا تقریباً ناممکن ہے،ہڑتالیں غیر قانونی قرار دی گئی ہوئی ہیں، اجتماعی سودے بازی عملاً ممنوع ہے۔بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی بات کی جائے تو ملک کی ہر بائیں بازو کی جماعت یا تو اپنی انتخابی رجسٹریشن سے محروم کر دی گئی ہے یا اسے انتخابات میں رجسٹر ہونے کا حق ہی نہیں دیا گیا۔گزشتہ صدارتی انتخاب 1958 میں فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد پہلا ایسا انتخاب تھا جس میں بائیں بازو کو مکمل طور پر امیدوار کھڑا کرنے سے روک دیا گیا۔

جب ہم اس حقیقت کو بھی شامل کرتے ہیں کہ وینزویلا کے عوام کو اپنے ووٹوں کی گنتی اور تصدیق کے حق سے محروم کیا گیا،جو بنیادی ترین جمہوری حق ہے،تو واضح ہوتا ہے کہ جمہوریت کس حد تک پیچھے دھکیل دی گئی تھی۔ نہ صرف شاویز دور کے مقابلے میں (جس وقت شفاف انتخابات کے لحاظ سے وینزویلا دنیا کی مثال سمجھا جاتا تھا) بلکہ کم سے کم بورژوا جمہوری حقوق کے معیاروں کے مطابق بھی نہیں ہے ۔

اس کے ساتھ ایک اور عنصر بھی اہم ہے کہ سکیورٹی فورسز کا استعمال محنت کش اور غریب بستیوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔جب حکومت کے خلاف انہی روایتی شاویز کے حامی علاقوں میں بے چینی بڑھنے لگی، تو مادورو حکومت نے ان محلّوں میں ’’آپریشن لبریٹ دی پیپل‘‘ اور ایلیٹ ڈیتھ اسکواڈ ،FAES (اسپیشل ایکشن فورسز) کے ذریعے پولیسنگ میں شدت پیدا کی۔

نتیجہ یہ ہوا کہ خاص طور پر غریب بستیوں میں نوجوان سیاہ فام مردوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکتیں شدید بڑھ گئیں۔2014-15 میں ہر سال 1500-2500 اور 2016-18 میں ہر سال 5000-5500ہلاکتیں ہوئیں، یعنی فی کس بنیاد پر وینزویلا کی سکیورٹی فورسز پورے خطّے کی سب سے زیادہ مہلک فورسز بن گئیں۔یہ کارروائیاں بظاہر سیاسی نہ تھیں، مگر عملی طور پر انہوں نے ان برادریوں کو خوفزدہ کر کے بغاوت سے روکنے کا کام کیا۔

ان تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ حیرت کی بات نہیں کہ حتیٰ کہ روایتی طور پر مضبوط شاویز نواز علاقوں نے بھی آخرکار مادورو سے منہ موڑ لیا،اور ان کے اغوا کے بعد ان کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے کو تیار نہیں ہوئے۔

ٹرمپ واضح طور پر خطے پرنیو مونرو ڈاکٹرائن دوبارہ مسلط کرنے سے باز نہیں آئے۔ وہ کولمبیا، کیوبا اور خاص طور پر گرین لینڈ میں کیا کرنے کی کوشش کریں گے؟ ہدف بننے والے ممالک کیسے ردعمل دیں گے؟ چین کیسا ردعمل دے گا،جس کی پورے مغربی نصف کرے میں بھاری سرمایہ کاری اور تجارتی روابط ہیں؟ روس اور یورپ کیسا رد عمل دیں گے؟ کیا یہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی تقسیم کے نئے سامراجی ٹکراؤ کی علامت ہے، باوجود اس کے کہ عالمی سرمایہ داری گہرے باہمی انضمام کی حالت میں ہے؟

فیڈریکو فوئنٹس:اس قدر بڑے سوال کا جامع جواب دینا مشکل ہے، مگر سادہ الفاظ میں اس کے اثرات دو طرح کے ہوں گے۔ایک طرف، چھوٹے ممالک کو یہ واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ اگر تم نے معمول سے ہٹ کر قدم اٹھایا تو تم اگلے ہو گے۔لہٰذا کولمبیا اور میکسیکو جیسے ممالک کا امکان یہی ہوگا کہ وہ امریکہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ موزوں شرائط پر سودے بازی کرنے کی کوشش کریں، تاکہ بدتر انجام سے بچ سکیں۔چھوٹے ممالک کے خلاف امریکی سامراجی مداخلتوں کا امکان اب خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

دوسری طرف وینزویلا میں ٹرمپ کی کارروائی نے چین اور روس جیسی طاقتوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ اب دنیا اسی طرح چلے گی۔یہ بات ان دونوں کو اپنے اپنے اثر و رسوخ کے حلقوں میں اسی طرز پر قدم اٹھانے کی مزید حوصلہ افزائی کرے گی۔روس تو پہلے ہی ایسا کر رہا تھا، خاص طور پر یوکرین میں، لیکن چین بھی اب تائیوان کے معاملے میں اسی سمت میں سوچ سکتا ہے۔

آخری سوال بین الاقوامی بائیں بازو کے بارے میں ہے۔ بائیں بازو کا بڑا حصہ مادورو اور ان کی حکومت کو بہت رومانوی انداز میں دیکھتا رہا ہے،اسے ’سامراج مخالف‘ یا ’سوشلسٹ‘ کہہ کر دفاع کرتا ہے، باوجود اس کے کہ وہ محنت کش مخالف اور جابرانہ تھی۔ ایسی پوزیشن اگر اینٹی وار تحریک کے اتحاد کی بنیاد کے طور پر اپنائی گئی تو نہ صرف عام محنت کش طبقے بلکہ وینزویلا کے محنت کشوں اور پناہ گزینوں کو بھی بیگانہ کر دے گی، جو خود اس حکومت کے ظلم کا شکار تھے۔ تو بین الاقوامی بائیں بازو کو مادورو اور روڈریگیز کی حکومت کے بارے میں کیا موقف اختیار کرنا چاہیے؟ اور اینٹی وار تحریک کا مرکزی نعرہ کیا ہونا چاہیے؟

فیڈریکو فوئنٹس:یہاں دو خطرات ہیں۔پہلا یہ کہ بڑے منظرنامے سے آنکھ ہٹا کر محض یہ سمجھ لیا جائے کہ چونکہ مادورو برے تھے اور بہت سے وینزویلاکے شہری ان کے جانے پر خوش تھے، اس لیے ہمیں ان کے (اورفلوریس کے) اغوا پر غیرجانبدار رہنا چاہیے۔

سامراج مخالفین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ٹرمپ کے اقدامات نے دنیا کو بہت زیادہ خطرناک بنا دیا ہے، اور انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون، جمہوریت اور ریاستی خودمختاری کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔مزید یہ کہ ان اقدامات نے وینزویلا میں جمہوری حقوق کی بحالی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ٹرمپ نے واضح کہا ہے کہ انتخابات ری کالونائزیشن منصوبے کے تیسرے مرحلے تک ملتوی رہیں گے،یعنی ایسے وقت تک جو انہوں نے خود ابھی تک واضح بھی نہیں کیا۔

لہٰذا ہمیں 3 جنوری کی فوجی جارحیت کی مذمت جاری رکھنی چاہیے اور مادورو اورفلوریس کی فوری رہائی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے،مثلاً پچھلے انتخابات چرانے کا،تو ان کا فیصلہ وینزویلا کے عوام کو کرنا چاہیے، نہ کہ امریکہ کو۔

اگرچہ صرف اسی مطالبے (یعنی مادورو اور فلوریس کی رہائی)پر مبنی ایک تحریک کو وہ وسیع عوامی حمایت نہیں مل پائے گی جس کی ہمیں ٹرمپ کو پسپا کرنے کے لیے ضرورت ہے۔ بہت کم محنت کش لوگ (چاہے وینزویلا کے اندر ہوں یا باہر) اس سادہ سی بات کو یہ کہتے ہوئے نہیں دیکھتے کہ بس حالات پہلے جیسے ہو جائیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔لہٰذا کچھ دیگر اہم نکات ہیں جن پر ہم مہم چلا سکتے ہیں۔

مثلاً یہ خود واضح حقیقت ہے کہ وینزویلا اپنے قدرتی وسائل پر خودمختاری تیزی سے کھو رہا ہے۔ ہمیں وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اس کے قدرتی وسائل کی کھلی چوری کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔

امریکی پابندیوں اور بحری محاصرے کے خلاف مہم چلانا اسی کا حصہ ہے، کیونکہ یہ اوزار استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ روڈریگیز حکومت کو مکمل طور پر جھکایا جا سکے۔ ہمیں یہ بھی مطالبہ کرنا چاہیے کہ امریکہ کی کیریبین میں فوجی تعیناتی ختم کی جائے، جسے مختلف حکومتوں کو دباؤ میں رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، صرف وینزویلا تک محدود نہیں۔

بائیں بازوکومجموعی طور پر ایسے مطالبوں کے پیچھے متحد ہونا چاہیے، چاہے مادورو یا روڈریگیز حکومت کے بارے میں ان کا نظریہ کچھ بھی ہو۔ تاہم تحریک کو ضروری ہے کہ وہ وینزویلا کی قومی خودمختاری کے دفاع کو روڈریگیز حکومت کے سیاسی دفاع سے الگ رکھے۔ اگر ہم ایسا نہ کریں، تو یہ بائیں بازو کے لیے دوسرا خطرہ بن سکتا ہے۔

بنیادی جمہوری حقوق کے معاملے میں ہم غیر جانبدار نہیں رہ سکتے،جو وینزویلا میں شدید کمزور ہو چکے ہیں، نہ ہی یہ کہتے ہوئے آنکھیں بند کر سکتے ہیں کہ سب کچھ صرف امریکی کارروائیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔یہ بالکل غلط ہے، اور ہمارے اپنے ممالک میں مزدور طبقات اسے درست طور پر نہیں مانیں گے،جس سے انہیں سامراج مخالف موقف پر متحرک کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیاکہ مادورو حکومت کی محنت کش مخالف اور غیرجمہوری پالیسیاں خود وینزویلا میں سامراج مخالف مزاحمت کو کمزور کر چکی ہیں۔ان حقوق کا دفاع کرنا نہ صرف اندرونی طور پر ایک وسیع عوامی ردعمل پیدا کرنے میں مدد دے گا، بلکہ وینزویلا کے اندر حقیقی سامراج مخالف، مزدور طبقے کے احتجاج اور مزاحمت کے لیے جگہ بھی کھولے گا۔

آخرکار ہماری یکجہتی کا ایک اہم حصہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم وینزویلا کے مزدوروں اور بائیں بازو کے ساتھ رابطے قائم کریں اور دیکھیں کہ ہم اپنی مشترکہ جدوجہد کو کیسے مربوط کر سکتے ہیں۔اکثر بحثیں صرف حکومت اور دائیں بازو کی اپوزیشن کے گرد گھومتی ہیں،اور اس میں بائیں بازو کی اور محنت کش آوازیں چھوڑ دی جاتی ہیں،یا جو قوم کی اکثریت ہے، جو نہ مادورو/روڈریگیز کی حمایت کرتی ہے اور نہ ماچادو کی۔جبکہ کچھ بائیں بازو کے لوگ ان آوازوں کے وجود کو جھٹلاتے ہیں یا ان پر تنقید کرتے ہیں، ہمیں ان کی آوازوں کے سنے جانے میں مدد کرنی چاہیے، تاکہ ہمارے ممالک میں مزدور اپنے مسائل سے واقف ہوں اور ان کے ساتھ یکجہتی میں قدم اٹھا سکیں۔

اگر ہم سنجیدگی سے یہ مانتے ہیں کہ صرف وینزویلاکے شہری اپنی تقدیر کا فیصلہ کر سکتے ہیں، تو پھر ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم وینزویلاکے شہریوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کے حق خودارادیت کے لیے اس جدوجہد کی حمایت کریں،یعنی وہی حقوق جن کے لیے ہم اپنے اپنے گھروں میں لڑتے ہیں۔اس میں بغیر کسی بیرونی مداخلت اور دھاندلی کے اپنی حکومت کو آزادانہ طور پر منتخب کرنے کا حق شامل ہے۔

(بشکریہ: ’ٹیمپسٹ‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Ashley Smith
ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں