روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

ماسکو میں ریاستی اجلاس

ماسکو میں ریاستی اجلاس

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

اگر ایک علامت تصویر کا نچوڑ ہوتی ہے تو انقلاب اِن علامات کا سب سے بڑا معمار ہوتا ہے، کیونکہ یہ تمام مظاہر اور تعلقات کو مجتمع شدہ شکل میں پیش کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انقلاب کی علامتیت (Symbolism) بڑی پُر شکوہ ہوتی ہے؛ یہ افراد کے تخلیقی کام میں سما نہیں سکتی۔ اسی وجہ سے انسانیت کے عظیم ترین عوامی ڈراموں کو فنون لطیفہ میں دوبارہ پیش کرنے کا عمل بڑا ناقص ہوتا ہے۔
ماسکو کے ریاستی اجلاس کا اختتام پہلے سے ہی یقینی ناکامی پر ہوا۔ اِس نے کچھ بھی تخلیق نہیں کیا اور کوئی فیصلہ نہ کرپایا۔ تاہم اِس نے تاریخ دان پر انقلاب کا انمول تاثر چھوڑ دیا ہے، اگرچہ یہ ایک منفی تاثر ہے، جس میں روشنی پرچھائی کے طور پر، کمزوری مضبوطی کے طور پر، لالچ بے لوثی کے طور پر اور فریب بلند ترین شجاعت کے طور پر نمودار ہوتا ہے۔ انقلاب کی طاقتور ترین پارٹی، جس نے صرف دس ہفتوں میں برسر اقتدار آنا تھا، کو حقارت سے نظر انداز کر کے اجلاس سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ عین اسی وقت ’’ارتقائی سوشلزم کی پارٹی‘‘، جسے کوئی جانتا بھی نہیں تھا، کو سنجیدہ لیا جا رہا تھا۔ کیرنسکی ایک قوت اور عزم کی مجسم شکل کے طور پر سامنے آیا۔ بری طرح سے گھس پٹ چکی مخلوط حکومت کو ہی مستقبل کی نجات کا وسیلہ قرار دیا جا رہا تھا۔ دسیوں لاکھ سپاہیوں کے لئے قابل نفرت کورنیلوف کا استقبال فوج اور عوام کے محبوب رہنما کی طرح کیا گیا۔ شاہ پرستوں اور بلیک ہنڈرڈ والوں نے آئین ساز اسمبلی سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ وہ تمام لوگ جو سیاسی میدان سے بہت جلد فارغ ہونے والے تھے، ایسے پیش آ رہے تھے جیسے کسی تھیٹر کے سٹیج پر آخری بار اپنے بہترین کردار ادا کرنے پر راضی ہو گئے ہوں۔ وہ پوری قوت سے چیخنے کو بے قرار تھے: ہم یہی بننا چاہتے تھے! ہم یہی بن چکے ہوتے، اگر انہوں نے ہمیں روکا نہ ہوتا! اُنہیں جس نے روکا وہ مزدور، سپاہی، کسان اور مظلوم قومیتیں تھیں۔ اِن دسیوں لاکھ ’’سرکش غلاموں‘‘ نے ہی اُنہیں انقلاب سے اپنی وفاداری کا مظاہرہ کرنے سے روکا تھا۔ ماسکو ، جہاں وہ پناہ کی تلاش میں گئے تھے، میں ایک ہڑتال نے اُن کا استقبال کیا۔ ’’سیاہ عناصر‘‘، ’’جہالت‘‘ اور ’’جوش خطابت‘‘ سے ذلیل ہو چکے یہ ڈھائی ہزار لوگ ایک تھیٹر میں جمع ہو کر مصنوعی خوش فہمی کی خلاف ورزی نہ کرنے پر راضی ہو گئے۔ ہڑتال سے متعلق ایک لفظ نہیں کہا گیا۔ اِن کی پوری کوشش تھی کہ نام لے کر بالشویکوں کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ پلیخانوف نے ’’لینن کی ناخوشگوار یاد‘‘ کا تذکرہ سرسری سے انداز میں کیا، گویا وہ ایسے دشمن کی بات کر رہا تھا جو مکمل طور پر شکست کھا چکا تھا۔’’قوم کی زندہ قوتیں‘‘ ہونے کی دعویدار اِن نیم مدفون پرچھائیوں کی سلطنت میں عوام کا حقیقی رہنما ایک سیاسی لاش کے سوا کچھ ہو بھی نہیں سکتا۔
سوخانوف لکھتا ہے، ’’شاندار آڈیٹوریم واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم تھا: دائیں طرف بورژوازی اور بائیں طرف جمہوریت بیٹھی تھی۔ دائیں طرف کی نشستوں پر جرنیلوں اور بائیں طرف سپاہیوں کی بہت سی وردیاں دیکھی جا سکتی تھیں۔ سٹیج کے سامنے کی سابقہ شاہی نشستوں پر اتحادی ممالک اور دوست طاقتوں کے اعلیٰ سفارتکار بیٹھے تھے۔ ہمارا انتہائی بائیں بازو کا گروہ آرکسٹرا کے ایک چھوٹے سے کونے پر براجمان تھا۔‘‘ بالشویکوں کی عدم موجودگی میں مارٹوف کے پیروکارانتہائی بایاں بازو تھے۔
دو بجے کے قریب انقلابی حکومت کی طاقت کی علامت کے طور پر دو نوجوان افسران (ایک سپاہی اور ایک جہازی) کے ہمراہ کیرنسکی سٹیج پر نمودار ہوا۔ افسران اُس کے پیچھے بت بنے کھڑے تھے۔ جیسا کہ پہلے سے اتفاق ہوا تھا، دائیں بازو کو ’جمہوریہ‘ کے لفظ سے خفا نہ کرنے کے لئے کیرنسکی نے ’’روسی سر زمین کے نمائندگان‘‘ کا استقبال ’’روسی ریاست‘‘ کی حکومت کی جانب سے کیا۔ ہمارا لبرل تاریخ دان لکھتا ہے، ’’اعتماد اور عظمت کی بجائے تقریر کا عمومی لہجہ حالیہ دنوں کے اثر کے نتیجے میں ایک بری طرح سے چھپائے جانے والے خوف پر مبنی تھا، جسے یہ مقرر دھمکی کے اونچے سُروں کے ذریعے اپنے اندر دبانے کی کوشش کر رہا تھا۔‘‘ کیرنسکی نے بالشویکوں کا نام لئے بغیر اُنہیں دھمکاتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔حکومت کے خلاف کسی نئی کاروائی کو ’’خون اور فولاد سے کچل دیا جائے گا۔‘‘ اجلاس کے دونوں دھڑوں نے مل کر طوفانی تالیاں بجائیں۔ پھر کورنیلوف، جو ابھی پہنچا نہیں تھا، کے حوالے سے ایک اضافی دھمکی دی: کوئی مجھے کیسی بھی دھمکیاں دیتا رہے، میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اُسے اُس اقتدارِ اعلیٰ کی منشا کا مطیع کیسے بنانا ہے جو میری نظر میں صرف سربراہِ اعلیٰ کے پاس ہے۔‘‘اگرچہ اِس پر والہانہ تالیاں بجیں، لیکن اجلاس کے صرف بائیں حصے کی جانب سے۔ کیرنسکی بار بار خود کو ’’سربراہِ اعلیٰ‘‘ قرار دیتا رہا: اُسے اِس خیال کی ضرورت تھی۔ ’’جو لوگ یہاں محاذ سے آئے ہیں، آپ سے میں، آپ کا وزیر جنگ اور اعلیٰ رہنما، کہتا ہوں کہ عبوری حکومت کے عزم اور طاقت سے بلند کوئی عزم اور طاقت فوج میں نہیں ہے۔‘‘ جمہوریت پسند تو ایسے پٹاخوں پر خوشی سے پاگل ہو رہے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ اس طرح سے وہ معاملے کو گولیوں تک پہنچ جانے سے روک سکتے تھے۔
حکومت کے سربراہ نے زور دے کر کہا، ’’عوام اور فوج کی تمام بہترین قوتوں کی نظر میں محاذ پر ہمارے ہتھیاروں کی فتح ہی انقلابِ روس کی فتح ہے، لیکن ہماری امیدوں کو مجروح کیا گیا ہے اور ہمارے اعتماد پر تھوکا گیا ہے۔‘‘اُس نے کچھ اِس طرح سے جون کے حملے کا شاعرانہ خلاصہ پیش کیا۔ روسی مفادات کی قیمت پر امن (یہ خیال پوپ نے 4 اگست کی امن تجاویز میں پیش کیا تھا) کے خطرے پر بات کرتے ہوئے کیرنسکی نے اپنے اتحادی ممالک کی عالی شان وفاداری کو خراج تحسین پیش کیا [۱]۔جس میں اُس نے اضافہ کیا: ’’عظیم روسی عوام کی طرف سے میں صرف ایک بات کہوں گا: ہمیں کسی اور چیز کی توقع نہیں تھی اور ہم کسی اور چیز کی توقع کر بھی نہیں سکتے۔‘‘ ماسوائے کچھ انٹرنیشلسٹوں اور ٹریڈ یونینوں کے مندوبین کے طور پر آنے والے تنہا بالشویکوں کے، اتحادی ممالک کے سفارتکاروں کو پیش کئے گئے خراج تحسین پر تمام لوگ کھڑے ہو گئے۔ افسران کی نشستوں میں سے کوئی چلّایا: ’’مارٹوف، تم بھی کھڑے ہو جاؤ!‘‘ مارٹوف کے اعزاز میں بتاتے چلیں کہ اتحادی ممالک کی تعظیم نہ کرنے کی ہمت اُس میں تھی۔
اپنے مقدر کی تعمیر نو کرنے کی انتھک کوشش کرنے والی روس کی محکوم قومیتوں کے لئے کیرنسکی نے اتوار کا دھمکیوں بھرا خطبہ پیش کیا۔ ’’زار شاہی کی زنجیروں میں تڑپتے اور مرتے ہوئے‘‘، اس طرح وہ اُن زنجیروں کا سہرا اپنے سر باندھ رہا تھا جو دوسروں نے پہنی تھیں، ’’ہم نے تمام اقوام کی فلاح کے لئے خون دیا تھا۔‘‘ یعنی اظہار تشکر کے ساتھ وہ محکوم قومیتوں سے کہہ رہا تھا کہ اُنہیں اب ایک ایسی حکومت کو برداشت کرنا چاہئے جو اُنہیں حقوق سے محروم کرے۔
راستہ کیا تھا؟ ’’کیا تم اپنے اندر اس دیوہیکل شعلے کو محسوس کر تے ہو؟‘‘… ’’ کیا تم خودمیں نظم وضبط،قربانی اور محنت کی یکجا قوت اور عزم کو محسوس نہیں کرتے ہو؟‘‘… ’’ کیا تم قوم کی یکجا قوت کا مظاہرہ پیش نہیں کر رہے ہو؟‘‘ یہ الفاظ ماسکو کی ہڑتال کے دن اور کورنیلوف کے گھڑ سواروں کی مشکوک حرکات کے اوقات میں ادا کئے گئے۔ ’’ہم اپنی روحوں کو تباہ کر دیں گے، لیکن ہم ریاست کو بچائیں گے۔‘‘ انقلاب کی اِس حکومت کے پاس بس لوگوں کو دینے کے لئے یہی کچھ تھا۔
ملیوکوف لکھتا ہے، ’’بہت سے صوبائی لوگوں نے کیرنسکی کو پہلی بار اِس ہال میں دیکھا تھا اور وہ نیم مایوسی اور نیم غصے کی حالت میں وہاں سے چلے گئے۔ اُن کے سامنے ایک تکلیف زدہ زرد چہرے والا جوان آدمی کھڑا تھا، جو کسی اداکار کی طرح اپنی سطور پڑھ رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے یہ آدمی سب کو ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا اور پرانے انداز میں طاقت اور قوت کا تاثر سب پر قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ درحقیقت وہ صرف ترس کا احساس ہی پیدا کر پایا۔‘‘
حکومت کے باقی اراکین کی تقاریر نے ذاتی دیوالیہ پن سے زیادہ مصالحتی نظام کا دیوالیہ پن بے نقاب کیا۔ وزیر داخلہ ایوکسنٹیف نے جو بڑی تجویز ملک کے سامنے پیش کی وہ ’’سفری کمیساروں‘‘ کی تھی۔ وزیر صنعت نے سرمایہ داروں کو نصیحت کی کہ وہ تھوڑے منافع پر مطمئن ہوں۔ وزیر مالیات نے بالواسطہ ٹیکس بڑھا کر ملکیتی طبقات پر براہ راست ٹیکس کم کرنے کا وعدہ کیا۔ دایاں بازو اتنا غیر محتاط تھا کہ اِن اعلانات پر طوفانی تالیاں بجاتا رہا، جسے بعد ازاں کچھ شرمساری سے سریتیلی نے قربانی کے جوش و جذبے کا فقدان قرار دیا۔ وزیر زراعت چرنوف کو کہا گیا کہ بالکل خاموش بیٹھا رہے، تاکہ دائیں بازو کے اتحادی زمین کی ضبطی کے خوف سے پریشان نہ ہوں۔ قومی تحاد کے مفادات کی خاطر یوں ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جیسے زرعی سوال کا وجود ہی نہیں تھا۔ مصالحت پسندوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ کسان کی مستند آواز ایک بار بھی چبوترے سے سنائی نہیں دی۔ تاہم اگست کے اِنہی دنوں میں زرعی تحریک پورے ملک میں پھیل رہی تھی اور موسم خزاں میں ایک ناقابل تسخیر کسان جنگ کی شکل میں پھٹ پڑنے کے لئے تیار ہو رہی تھی۔
دونوں طرف قوتوں کو آزمانے اور متحرک کرنے میں گزرنے والے ایک دن کے وقفے کے بعد 14 تاریخ کی نشست کا آغاز انتہائی تناؤ بھرے ماحول میں ہوا۔ جب کورنیلوف اپنی نشست پر نمودار ہوا تو دائیں طرف کے حصے نے کھڑے ہو کر اُس کا شاندار استقبال کیا، بایاں حصہ کم و بیش سارے کا سارا بیٹھا رہا۔ افسروں کی نشستوں کی طرف سے ’’کھڑے ہو جاؤ‘‘ کی چیخ و پکار کے ساتھ معمولی گالیاں بھی سنی گئیں۔ جب حکومت نمودار ہوئی تو بائیں حصے نے کھڑے ہو کر کیرنسکی کا طویل استقبال کیا، جس میں ملیوکوف کے مطابق ’’دائیں طرف والوں نے بھی اُسی طرح شامل ہونے سے قطعاً انکار کر دیا اور اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔‘‘ تالیوں اور نعروں کی اِن مخالف لہروں کے تصادم میں قریب آتی ہوئی خانہ جنگی کی جھڑپیں سنی جا سکتی تھیں۔ اِس دوران منقسم ہال کے دونوں حصے سٹیج پر حکومت کے عنوان سے بیٹھے رہے۔ صدر، جس نے سپہ سالار کے خلاف خفیہ فوجی اقدامات کئے تھے، ایک لمحے کے لئے بھی اپنی شخصیت میں ’’روسی عوام کے اتحاد‘‘ کو مجسم شکل دینا نہ بھولا۔ اِس کردار کو نبھانے کے لئے کیرنسکی نے اعلان کیا: ’’میں سفارش کرتا ہوں کہ یہاں موجود سپہ سالارِ اعلیٰ کی وساطت سے ہم اپنی فوج کو سلام پیش کریں، جو آزادی اور مادرِ وطن کے لئے جرات مندی سے قربانیاں دے رہی ہے۔‘‘ اسی فوج کے بارے میں اُس نے پہلی نشست میں کہا تھا: ’’ہماری امیدوں کو مجروح کیا گیا ہے اور ہمارے اعتماد پر تھوکا گیا ہے۔‘‘ لیکن کوئی بات نہیں! بچاؤ کا ایک جملہ ڈھونڈ لیا گیا تھا۔ سارا ہال کھڑا ہو گیا اور کورنیلوف اور کیرنسکی کے لئے طوفانی تالیاں بجیں۔ قوم کا اتحاد ایک بار پھر بچ گیا!
حکمران طبقات، جنہیں ایک تاریخی ضرورت نے گلے سے آن دبوچا تھا، تاریخی منافقت پر اتر آئے تھے۔انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ اگر وہ اپنی تمام تر تبدیلیوں کے ساتھ ایک بار پھر عوام کے سامنے کھڑے ہو پائے تو زیادہ اہم اور مضبوط ہو جائیں گے۔ قومی منشا کے ماہرین کے طور پر وہ چاروں ریاستی دوماؤں کے نمائندگان کو سٹیج پر لے آئے تھے۔ اُن کے آپسی اختلافات، جو کبھی بہت گہرے تھے، غائب ہو چکے تھے۔ سال 1906ء کی پہلی دوما کی جانب سے کیڈٹ نابوکوف نے ’’علیحدہ امن کے امکان کے خیال تک کو‘‘ مسترد کیا۔ اسی لبرل سیاست دان نے بعد ازاں اپنی یادداشتوں میں بتایا کہ کیسے وہ اور اُس کے ساتھ کئی کیڈٹ رہنماایک علیحدہ امن کو ہی نجات کا واحد راستہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح زارشاہی کی دوسری دوماؤں کے نمائندگان نے بھی انقلاب سے خون کے نذرانے کا تقاضا کیا۔
’’جنرل! اب آپ بات کریں!‘‘ نشست اب اپنے نازک مرحلے کو پہنچ چکی تھی۔ سپہ سالار نے اب کیا کہنا تھا، جب کہ کیرنسکی نے ناکام اصرار کیا تھا کہ وہ محض عسکری صورتحال بیان کرنے تک خود کو محدود رکھے۔ چشم دید گواہ کی حیثیت سے ملیوکوف لکھتا ہے: ’’وحشت بھری چھوٹی سیاہ آنکھوں کے ساتھ چھید کر دینے والی نظروں کے تیر برساتی ہوئی، ایک منگول شکل و صورت والے آدمی کی پست قد لیکن مضبوط شخصیت سٹیج پر نمودار ہوئی۔ ہال تالیوں اور نعروں سے گونج اٹھا۔ تمام لوگ برجستہ کھڑے ہو گئے سوائے… سپاہیوں کے۔‘‘کھڑے نہ ہونے والے مندوبین کے لئے دائیں طرف سے گالیوں کے ساتھ طیش بھری چیخ و پکار بلند ہوئی۔ ’’جاہلو، کھڑے ہو جاؤ!‘‘ نہ کھڑے ہونے والے مندوبین نے جواب دیا: ’’غلامو!‘‘ شور شرابا ایک طوفان میں تبدیل ہو گیا۔ کیرنسکی نے مطالبہ کیا کہ سب لوگ خاموشی سے ’’عبوری حکومت کے اول سپاہی‘‘ کی بات سنیں۔ ملک کو بچانے کا ارادہ رکھنے والے جرنیل کے لئے مخصوص ایک تیز، ٹوٹے ہوئے اور متکبر لہجے میں کورنیلوف نے ایک تحریر پڑھی، جو اُس کے لئے مہم جو زاووئکو نے مہم جو فلونینکو کی املا پر لکھی تھی۔ لیکن اِس تحریر میں پیش کیا گیا پروگرام اُس منصوبے کی نسبت بہت معتدل تھا جس کا یہ تعارف پیش کر رہا تھا۔ کورنیلوف فوج کی کیفیت اور محاذ کی صورتحال کو انتہائی سیاہ رنگوں میں پیش کرنے سے نہ ہچکچایا، جس کا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا تھا۔ اُس کی تقریر کا مرکزی نکتہ عسکری پیشگوئی تھا: ’’دشمن پہلے ہی ریگا کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے، اگر ہماری فوج کے عدم استحکام کی وجہ سے اُسے ریگا کی خلیج پر روکنا ممکن نہ ہوا تو پھر پیڑوگراڈ تک کا راستہ کھلا ہے۔‘‘یہاں کورنیلوف رُکا اور حکومت پر ضرب لگائی: ’’فوج کی روح اور فہم سے بیگانہ افراد کی جانب سے انقلاب کے بعد اٹھائے گئے قانونی اقدامات نے فوج کو ایک ایسے کاہل ہجوم میں بدل دیا ہے جو صرف اپنی زندگی بچانے کے لئے کانپ رہا ہے۔‘‘ نتیجہ بالکل واضح تھا: ریگا کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے، سپہ سالار کھلے عام للکار کر ساری دنیا کے سامنے یہ کہہ رہا ہے، گویا جرمنوں کو اِس نہتے شہر پر قبضہ کرنے کی دعوت دے رہا ہو۔ اور پیٹروگراڈ؟ کورنیلوف کا خیال کچھ یوں تھا: اگر مجھے اپنے پروگرام پر عملدرآمد کا اختیار دیا جاتا ہے تو شاید پیٹروگراڈ کو بچالیا جائے، لیکن جلدی کرو! ماسکو کے بالشویک پرچے نے لکھا: ’’یہ کیاہے، تنبیہ یا دھمکی؟ تھارنوپول کی شکست نے کورنیلوف کو سپہ سالار بنایا تھا، ریگا کی شکست شاید اُسے آمر بنا دے۔‘‘ [کورنیلوو کو اختیارات دینے کی] اِس تجویز کی سازشیوں کے منصوبوں سے مطابقت انتہائی شکّی بالشویکوں کے اندازوں سے بھی بڑھ کر تھی۔
کورنیلوف کے شاندار استقبال میں شمولیت کے بعد کلیسا کی کونسل نے سپہ سالار کی حمایت میں اپنے سب سے رجعتی رکن آرچ بشپ پلاٹون کو بھیجا۔ ’زندہ قوتوں‘ کے اِس نمائندے کا کہنا تھا، ’’آپ نے ابھی ہماری فوج کی تباہ کن تصویر دیکھی ہے، میں یہاں اِس چبوترے سے روس کو کہنے آیا ہوں: پریشان مت ہو پیارے۔ ڈرو نہیں… اگر روس کی نجات کے لئے ایک معجزہ ضروری ہے تو اپنے کلیسا کی دعاؤں کے جواب میں خدا یہ معجزہ ضرور کرے گا… ‘‘ تاہم کلیسا کی زمینوں کی حفاظت کے لئے یہی پادری کچھ تگڑے کاسک دستوں پر انحصار کو ترجیح دیتے تھے۔ بہرحال تقریر کا مرکزی نکتہ یہ نہیں تھا۔ آرچ بشپ کو شکایت یہ تھی کہ حکومتی اراکین کی تقاریر میں اُس نے ’’غلطی سے بھی ایک بار خدا کا لفظ نہیں سنا۔‘‘ جیسے کورنیلوف نے انقلابی حکومت پر فوج کا حوصلہ پست کرنے کا الزام لگایا تھا، ویسے ہی پلاٹون نے ’’ خدا سے محبت کرنے والے ہمارے عوام کے نئے رہنماؤں‘‘ پر خدا کو نہ ماننے کا الزام لگا دیا۔ یہ پادری، جو راسپیوٹن کے تلوے چاٹتے تھے، اب اتنے بے باک ہو چکے تھے کہ انقلابی حکومت پر سرعام الزام لگا رہے تھے۔
12ویں کاسک فوج کا اعلامیہ جنرل کالیڈن نے پڑھا، جس کا تذکرہ اس عرصے میں فوج کے طاقتور ترین لوگ مسلسل کر رہے تھے۔ اُس کے ایک مداح کے الفاظ میں، ’’کالیڈن ہجوم کو خوش کرنا نہ تو جانتا تھا نہ ہی کرنا چاہتا تھا، اِسی بنیاد پر اُس کی جنرل بروسیلوف سے نہ بن پائی اور چونکہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھا اس لئے کمان سے ہٹا دیا گیا۔‘‘ مئی کے آغاز میں ڈان واپسی پر اِس کاسک جرنیل کو فوراً ڈان فوج کا سردار (Ataman) چن لیا گیا اور سب سے پرانی اور مضبوط ترین کاسک افواج کے سربراہ کے طور پر مراعت یافتہ بالائی کاسک حلقوں کا پروگرام پیش کرنے کا فریضہ سونپا گیا۔ ردِ انقلابیت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اُس کے اعلامیے نے سوشلسٹ وزیروں کو سختی سے یاد دلایا کہ کیسے خطرے کی گھڑی میں وہ بالشویکوں کے خلاف مدد لینے کے لئے کاسکوں کے پاس آئے تھے۔ لیکن اِس بدمزاج جرنیل نے گرجدار لہجے میں غیر متوقع طور پر وہ لفظ ادا کر کے جمہوریت پسندوں کے دل جیت لئے جسے بولنے کی جرات کیرنسکی بھی نہیں کر سکا تھا: ’’جمہوریہ ‘‘ (Republic)۔ ہال کی اکثریت نے عمومی اور وزیر چرنوف نے خصوصی جوش و جذبے سے کاسک جرنیل کے لئے تالیاں بجائیں، جو سنجیدگی سے اُس جمہوریہ کا مطالبہ کر رہا تھا جو مطلق العنانیت دینے کے قابل نہیں رہی تھی۔ نپولین نے پیش گوئی کی تھی یورپ یا تو جمہوری بنے گا یا پھر کاسک۔ کالیڈن اس شرط پر روس کو جمہوری دیکھنے پر راضی تھا کہ وہ کاسک بھی رہے۔ یہ الفاظ پڑھنے کے بعد کہ ’’حکومت میں شکست پسندوں (Defeatists) کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے‘‘، ناشکرا جرنیل بھدے اور گستاخ انداز سے بدقسمت چرنوف کی طرف مڑا۔ لبرل پریس کی رپورٹ نے تبصرہ کیا: ’’تمام نظریں چرنوف پر جم گئیں، جس کا سر میز پر جھکا ہوا تھا۔‘‘ کسی سیاسی موقف کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کالیڈن نے رجعت کا مکمل عسکری پروگرام پیش کیا: ’’کمیٹیوں کا خاتمہ کیا جائے، کمانڈروں کی طاقت بحال کی جائے، محاذ اور عقب کو یکساں کیا جائے، سپاہیوں کے حقوق پر از سر نو غور کیا جائے، یعنی کہ اُنہیں یکسر ختم کر دیا جائے۔ (یہاں دائیں طرف والوں کی تالیوں میں بائیں طرف والوں کے احتجاجی نعرے اور سیٹیاں شامل ہو گئیں۔) ’’پرامن اور منظم کاوشوں کے لئے‘‘ آئین ساز اسمبلی ماسکو میں بلائی جائے۔ اجلاس سے پہلے تیار کی گئی اس تقریر کو کالیڈن نے عام ہڑتال کے ایک دن بعد پڑھا تھا، جس نے ماسکو میں ’’پرامن‘‘ کاوشوں کے جملے کو مذاق بنا دیا۔ اِس کاسک جمہوریت پسند کی تقریر نے ہال کے درجہ حرارت کو نقطہ ابال تک پہنچا دیا اور کیرنسکی کو اپنی عملداری ثابت کرنے پرمجبور کر دیا: ’’موجودہ اجلاس میں حکومت سے مطالبات کرنا نامناسب ہے۔‘‘ لیکن پھر اجلاس بلایا ہی کیوں تھا؟ بلیک ہنڈرڈ کا ایک مشہور رکن پرشکیوچ اپنی نشست پر سے چلّایا: ’’ہم حکومت کے نگران ہیں۔‘‘ دو مہینے پہلے تک یہ بلوائی اپنا منہ دکھانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔
جمہوریت کا باضابطہ اعلامیہ، ایک نہ ختم ہونے والی دستاویز جو تمام سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کرتی تھی اور کسی ایک کا جواب بھی نہیں دیتی تھی، مجلس عاملہ کے صدر شکائدز نے پڑھا، جس کا بائیں طرف سے گرمجوش استقبال کیا گیا۔ ’’انقلابِ روس کا رہنما زندہ باد‘‘ کے اُن کے نعروں نے یقینا اِس اعتدال پسند کاکیشیائی کو شرمسار کیا ہو گا جو خود کو رہنما گمان کرنے والا دنیا کا آخری انسان تھا۔ اپنی صفائی پیش کرنے کے لہجے میں جمہوریت نے اعلان کیاکہ وہ ’’اقتدار کی بھوکی نہیں تھی اور اپنی اجارہ داری نہیں چاہتی تھی۔‘‘وہ ملک اور انقلاب کے مفادات کا تحفظ کرنے والی ہر طاقت کی حمایت کرنے کو تیار تھی۔ لیکن سوویتیں ختم نہیں کی جانی چاہئیں: صرف وہی جنگ کے تسلسل کی ضامن بن سکتی ہیں۔ کچھ معاملات میں مراعت یافتہ طبقات کو سارے عوام کے مفادات میں کام کرنا ہو گا۔ تاہم جبری قبضوں سے زمینداروں کے مفادات کا تحفظ کیا جانا چاہئے۔ قومیتی سوالوں کے حل کو آئین ساز اسمبلی تک ملتوی کر دینا چاہئے۔ تاہم کچھ زیادہ فوری اصلاحات کرنا ضروری ہے۔ امن کی حکمت عملی پر اِس اعلامیے میں ایک لفظ نہیں کہا گیا۔ بالعموم یوں معلوم ہوتا تھا جیسے دستاویز کو بورژوازی کو مطمئن کئے بغیر عوام کا غم و غصہ ابھارنے کے لئے خصوصی طور پر مرتب کیا گیا تھا۔
ایک مبہم اور بے رنگ تقریر میں کسانوں کی مجلس عاملہ کے نمائندے نے اپنے سامعین کو ’’زمین اور آزادی‘‘ کا نعرہ یاد دلایا، جس کے خاطر ’’ہمارے بہترین جنگجو قربان ہوئے ہیں۔‘‘ ماسکو کے اخباری ریکارڈوں میں ایک واقعہ درج ہے جو سرکاری رپورٹ سے نکال دیا گیا تھا: ’’سارے ہال نے کھڑے ہو کر وہاں موجود سشسل برگ[۲] کے قیدیوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا ۔‘‘ کس حیران کن انداز سے انقلاب کا چہرہ مسخ کیا گیا! ’’سارے ہال‘‘ نے سخت مشقت کی سزا پانے والے اُن چند قیدیوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہیں وہاں موجود الیگزیف، کورنیلوف، کالیڈن، آرچ بشپ پلاٹون، روڈزیانکو، گچکوف اور ملیوکوف کی بادشاہت جیلوں میں پھانسی چڑھانے میں کامیاب نہیں ہو پائی تھی! یہ لوگ، جو خود جلاد تھے یا جلادوں کے ساتھی تھے، اپنے مقتولین کی شہادت کا نورانی تاج اپنے سر رکھنا چاہتے تھے!
پندرہ سال قبل اِس ہال کے داہنے نصف حصے کے رہنما، سشسل برگ قلعے پر پیٹر اول کے قبضے کی دو سویں سالگرہ منا رہے تھے۔ سوشل ڈیموکریسی کے انقلابی دھڑے کے جریدے ’اسکرا‘ (Iskra) نے اُن دنوں لکھا تھا: ’’ اِس لعنتی جزیرے پر حب الوطن جشن کے بارے میں سوچ کر سینے میں کیسی آگ بھڑکتی ہے جو میناکوف، مائشکن، روگاچیف، سٹرومبرگ، الیانوف، گینیرا لوف، اوسیپانوف، چیویریف اور انڈری اشکن [جیسے انقلابیوں] کی سزائے موت کی جگہ رہا ہے؛ پتھر کے اِن پنجروں میں کلیمنکو نے ایک رسی سے اپنا گھلا گھونٹ لیا تھا، گراچیوسکی نے خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا لی تھی، سوفیا گنسبرگ نے قینچی گھونپ کر اپنی جان لے لی تھی؛ اِن دیواروں کے سائے میں شدرین، یوواچیف، کوناشیوچ، پوخیٹونوف، ایوانوف، ارونچک اور ٹیخونووچ پاگل پن کی سیاہ رات میں ڈوب گئے۔ دوسرے بے شمار لوگ تھکاوٹ، سکروری اور تپ دق سے ہلاک ہو گئے۔ شراب پی کے حب الوطنی کا اُودھم مچا لو، کیونکہ تم لوگ ابھی تک سشسل برگ کے آقا ہو!‘‘ ’اِسکرا‘ [۳] کا عنوان ہی [زار شاہی کے خلاف 1825ء کی] ڈیکابرسٹ بغاوت کے ایک سخت مشقتی قیدی کے پشکنکے نام خط کے ایک جملے سے ماخوذ تھا: ’’یہ چنگاری ایک شعلہ بھڑکائے گی۔‘‘ شعلہ بھڑک چکا تھا۔ اِس نے بادشاہت اور سشسل برگ کے سخت مشقتی قید خانے کو جلا کر راکھ کر ڈالا تھا۔ اب اس ریاستی اجلاس کے ہال میں کل تک کے جیلر اپنے اُن متاثرین کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے جن کی زنجیریں انقلاب نے توڑ ڈالی تھیں۔ لیکن سب سے ستم ظریف حقیقت یہ تھی کہ ’اسکرا‘ کے سابقہ مدیر اعلیٰ لینن، مندرجہ بالا سطور کے مصنف ٹراٹسکی، بالشویکوں، باغی مزدوروں اور آج جمہوریہ کی جیلوں میں بھرے سرکش سپاہیوں کے خلاف مشترکہ نفرت کے احساس نے کل کے جیلروں اور اُن کے قیدیوں کو متحد کر دیا تھا۔
تیسری دوما کے صدر اور قومی لبرل گچکوف ، جس نے اپنے وقت میں بائیں بازو کے نمائندوں کو دفاعی کمیٹیوں میں شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس کے صلے میں مصالحت پسندوں کی جانب سے انقلاب کا پہلا وزیر جنگ نامزد ہوا تھا، نے سب سے دلچسپ تقریر کی۔ تاہم یہ ایک ایسی تقریر تھی جس میں مایوسی کے خلاف ستم ظریقی ایک ناکام جدوجہد کر رہی تھی: کیرنسکی کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے اُس نے کہا، ’’لیکن پھر کیوں… کیوں حکومت کے نمائندے ہمارے پاس ’جان لیوا تشویش‘، پاگل پن جیسے ’جان لیوا خوف‘اور مایوسی کی چیخ و پکار کے ساتھ آئے ہیں؟ اِنہیں ہماری روحوں میں قریب المرگ لوگوں کی اذیت جیسی اپنائیت بھری چبھتی ہوئی تکلیف کیوں ملتی ہے؟‘‘ ماسکو کا یہ بڑا تاجر کل تک حکمرانی کرنے والے سزا و جزا کے مالکوں کی طرف سے ’’قریب المرگ لوگوں کی اذیت‘‘ کے احساس کا اعتراف سرعام کر رہا تھا۔اُس نے کہا، ’’یہ حکومت اقتدار کی پرچھائی سے زیادہ کچھ نہیں۔‘‘ گچکوف درست کہہ رہا تھا۔ لیکن سٹولیپن کا یہ سابقہ ساتھی خود بھی اپنی پرچھائی سے زیادہ کچھ نہیں رہا تھا۔
اجلاس کے آغاز کے دن گورکی کے پرچے میں خبر شائع ہوئی کہ روڈزیانکو کیسے رائفلوں کے دستوں کے لئے گھٹیا لکڑی سپلائی کر کے امیر ہوا تھا۔ مستقبل کے سوویت سفارتکار کاراخان، جسے اُس وقت کوئی نہیں جانتا تھا، کے اس بے وقتی انکشاف کے باوجود بھی اِس شاہی کاردار نے اجلاس میں پورے اعتماد سے فوجی رسد کے صنعتکاروں کے حب الوطن پروگرام کے دفاع میں خطاب کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ تمام بدبختیوں کی وجہ یہ حقیقت تھی کہ عبوری حکومت کندھے سے کندھا ملا کر ریاستی دوما کے ساتھ نہیں چلی، جو ’’روس کی واحد، قانونی اور کل قومی نمائندہ اسمبلی‘‘ تھی۔ یہ کچھ زیادہ ہی محسوس ہوتا تھا۔ بائیں طرف سے قہقہے گونجے۔ آوازیں بلند ہوئیں: ’’تین جون!‘‘ ایک وقت تھا جب 3جون1907 ء کا دن، جب بادشاہت نے اپنا ہی بنایا ہوا آئین پیروں تلے روند دیا تھا، بادشاہت اور اس کی حمایتی پارٹیوں کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ تھا [۴]۔ تاہم یہ سب اب ایک مبہم یادداشت بن چکا تھا۔ لیکن گرجدار آواز والا بھاری بھرکم اور دیوہیکل روڈزیانکو بھی چبوترے پر کسی سیاسی شخصیت کی بجائے ماضی کا مزار لگ رہا تھا۔
اندرونی حملوں کے خلاف حکومت کافی عرصہ پہلے باہر سے ملنے والی آشیر آباد لے آئی۔ کیرنسکی نے امریکی صدر ولسن کی جانب سے بھیجا گیا تسلیمات کا ایک تار پڑھا، جس میں ’’خود غرض مقاصد سے پاک دونوں اقوام کو متحد کرنے والے مشترکہ نصب العین میں کامیابی کی خاطر روسی حکومت کے لئے ہر قسم کی مادی اور اخلاقی حمایت‘‘ کا وعدہ کیا گیا تھا۔سفارتی نشستوں کے لئے دوبارہ بجائی جانے والی تالیاں اس تشویش کو نہ مٹا سکیں جو واشنگٹن کے اس تار کی وجہ سے اجلاس کے داہنے حصے میں پھیل چکی تھی۔ روسی سامراجیوں کی بے لوثی کی تعریف کا مطلب عام طور پر فاقے کاٹنے کی نصیحت ہی ہوتا تھا۔
مصالحت پسندانہ جمہوریت کی طرف سے اس کے مستند رہنما سریتیلی نے سوویتوں اور فوجی کمیٹیوں کا دفاع کیا، جیسے کوئی کسی ہارے ہوئے نصب العین کا دفاع محض عزت بچانے کی خاطر کرتا ہے۔ ’’جب تک آزاد انقلابی روس کا مندر تعمیر نہیں ہو جاتا، ہم اِن مچانوں کو ہٹا نہیں سکتے… انقلاب کے بعد عوام نے اپنے سوا کسی پر اعتماد نہیں کیا تھا…‘‘ صرف مصالحت پسندانہ سوویتوں نے ہی ممکن بنایا تھا کہ ملکیتی طبقات اوپر ٹِک سکیں، اگرچہ شروع میں اُنہیں اپنی کچھ آسائشوں سے محروم ہونا تھا۔ سریتیلی نے سوویتوں کے سر خصوصی سہرا باندھا کہ اُنہوں نے ’’تمام ریاستی امور مخلوط حکومت کے حوالے کئے تھے۔‘‘ اُس نے پوچھا کہ کیا یہ قربانی ’’جمہوریت سے طاقت کے زور پر لی گئی تھی؟‘‘ یہ مقرر قلعے کے ایک ایسے کمانڈر جیسا تھا جو سرعام اِس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ کسی مزاحمت کے بغیر ہی ہتھیار ڈال گیا ہے… اور پھر جولائی کے دنوں میں ’’کون تھا جو انتشار کے خلاف ملک کے دفاع کے لئے سامنے آیا تھا؟‘‘ دائیں طرف سے آواز گونجی: ’’کاسک اور جنکر تھے۔‘‘ اِن الفاظ نے کسی کوڑے کی ضرب کی طرح جمہوری لفاظی کے تسلسل کو کاٹ دیا۔ اجلاس کا بورژوا دھڑا اِن مصالحت پسندوں کی خدمات سے بہت اچھی طرح واقف تھا، لیکن تشکر کوئی سیاسی احساس نہیں ہوتا۔ بورژوازی نے اپنے لئے مصالحت پسندوں کی خدمات سے فوری نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کا باب ختم ہو رہا ہے، آگے کاسکوں اور جنکروں کا باب شروع ہو گا۔
سریتیلی نے اقتدار کے مسئلے پر خصوصی احتیاط سے بات کی۔ حالیہ مہینوں میں شہری دوماؤں اور مقامی حکومت کے اداروں کے انتخابات عام حقِ رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے تھے۔ کیا نتیجہ نکلا تھا؟ اِن جمہوری خود اختیاری کے اداروں کے نمائندگان اِنہی سوشل انقلابی اور منشویک پارٹیوں کی قیادت میں سوویتوں کے شانہ بشانہ ریاستی اجلاس کے بائیں گروہ میں بیٹھے تھے۔ اگر کیڈٹ اپنے اِس مطالبے پر اصرار کرتے ہیں کہ جمہوریت پر حکومت کا انحصار ختم کیا جائے تو پھر آئین ساز اسمبلی کا کیا فائدہ ہو گا؟ سریتیلی نے بس اپنی دلیل کے خدو خال ہی واضح کئے، کیونکہ اِسے حتمی نتیجے تک لے جایا جاتا تو یہ کیڈٹوں کے ساتھ اتحاد کی حکمت عملی کو ہی رد کر دیتی۔ اُس نے کہا کہ وہ امن کے بارے میں حد سے زیادہ تقاریر کرنے کا الزام انقلاب پر لگا رہے ہیں، لیکن کیا ملکیتی طبقات کو معلوم نہیں کہ امن کا نعرہ ہی اب وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے جنگ جاری رکھی جا سکتی ہے؟ بورژوازی کو یہ اچھی طرح معلوم تھا۔ وہ تو بس جنگ کو جاری رکھنے کے اِس طریقے کے ساتھ ساتھ اقتدار بھی اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتے تھے۔ سریتیلی نے مخلوط حکومت کی حمد بیان کرتے ہوئے اپنی بات ختم کی۔ اُس تقسیم شدہ اجلاس میں، جسے اپنے مسائل کا کوئی حل نہیں مل رہا تھا، اُس کی مصالحت پسندانہ روایتی باتوں نے آخری بار امید کی ایک کرن پیدا کر دی۔ لیکن سریتیلی بھی درحقیقت اپنے آپ کی پرچھائی بن چکا تھا۔
ہال کے دائیں نصف کی طرف سے ملیوکوف نے جمہوریت کو جواب دیا، جو اُن طبقات کا مایوس کن حد تک مہذب نمائندہ تھا جن کے لئے تاریخ نے ایک مہذب حکمت عملی کو ناممکن بنا دیا تھا۔ اپنی ’’تاریخ‘‘ میں لبرلزم کے اِس رہنما نے ریاستی اجلاس میں اپنی تقریر نقل کی ہے۔ ’’ملیوکوف نے ’انقلابی جمہوریت‘ کی غلطیوں کا مختصر جائزہ لیا اور اُن کا خلاصہ پیش کیا: … ’فوج کو جمہوری بنانے‘ کے سوال پر اطاعت، جس میں گچکوف کو فارغ کر دیا گیا؛ ’زمروالڈسٹ‘ خارجہ پالیسی کے سوال پر اطاعت، جس میں وزیر خارجہ (ملیوکوف) کو فارغ کر دیا گیا؛ محنت کش طبقے کے یوٹوپیائی مطالبات کی اطاعت، جس میں کونووالوف (وزیر صنعت و تجارت) کو فارغ کر دیا گیا؛ قومی اقلیوں کے انتہائی مطالبات کے سامنے اطاعت، جس میں باقی کیڈٹ فارغ ہو گئے۔ زرعی مسئلے میں عوام کے براہ راست عمل کی طرف رجحان کی پانچویں اطاعت کی وجہ سے عبوری حکومت کا پہلا سربراہ شہزادہ لووف فارغ ہو گیا ہے۔‘‘ یہ سارے معاملے کی کوئی بری تاریخ نہیں تھی۔ لیکن جب حل پیش کرنے کی باری آئی تو ملیوکوف کا فہم پولیس اقدامات سے آگے نہیں جا سکا: ہمیں بالشویکوں کا گلا گھونٹنا ہوگا۔ اُس نے مصالحت پسندوں کو لعن طعن کی، ’’واضح حقائق کے پیش نظر زیادہ معتدل گروہ بھی ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ بالشویکوں میں مجرم اور غدار موجود ہیں۔ لیکن وہ ابھی تک یہ نہیں مانے ہیں کہ پرانتشار لڑاکا عمل کے اِن حمایتیوں کو متحد کرنے والا بنیادی نظریہ ہی مجرمانہ ہے (تالیاں)۔‘‘
انتہائی اطاعت شعار چرنوف ابھی تک مخلوط حکومت کو انقلاب سے جوڑنے والی کڑی معلوم ہو رہا تھا۔ کالیڈن، کیڈٹ میکلاکوف، کیڈٹ ایسٹروف سمیت دائیں بازو کے تقریباً سبھی مقررین نے چرنوف پر حملہ کیا، جسے پہلے سے خاموش رہنے کا حکم دیا گیا تھا اور جس کا دفاع کسی نے بھی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ملیوکوف نے یہ حقیقت یاد دلائی کہ یہ وزیر زراعت ’’بذات خود [جنگ مخالف انٹرنیشنلسٹوں کی] زمر والڈ اور کینتھل کانفرنسوں میں موجود تھا اور وہاں انتہائی شدید قراردادیں پیش کی تھیں۔‘‘ یہ سیدھا منہ پر طمانچہ تھا۔ ایک سامراجی جنگ کا وزیر بننے سے پہلے چرنوف نے واقعی زمروالڈ والے بائیں بازو، یعنی لینن کے دھڑے کی کچھ دستاویزات پر اپنے دستخط کئے تھے۔
ملیوکوف نے یہ حقیقت اجلاس سے نہیں چھپائی کہ وہ شروع سے ہی مخلوط حکومت کے خیال کے خلاف تھا اور سمجھتا تھا کہ ’’یہ انقلاب سے برآمد ہونے والی حکومت‘‘، یعنی گچکوف اور ملیوکوف کی حکومت’’ کی نسبت مضبوط نہیں بلکہ زیادہ کمزور ہی ہو گی۔‘‘ اب وہ ’’بری طرح خوفزدہ ہے کہ افراد اور جائیداد کی حفاظت کی ضمانت موجودہ حکام نہیں دے سکتے۔‘‘ تاہم پھر بھی ملیوکوف نے ’’کسی بحث کے بغیر رضاکارانہ طور پر‘‘ حکومت کی حمایت کرنے کا وعدہ کیا۔ اِس عالی ظرف وعدے کا فریب اگلے دو ہفتوں میں بالکل واضح ہو جائے گا۔ فی الوقت اُس کی تقریر نے کسی جوش و خروش کو جنم دیا نہ کسی طوفانی احتجاج کو۔ اِس مقرر کو خشک قسم کی تالیوں نے خوش آمدید کہا اور رخصت کیا۔
سریتیلی کی دوسری تقریر صرف وعدوں، دعووں اور چیخ و پکار تک ہی محدود تھی: کیا تم اِس بات کو نہیں سمجھ رہے ہو کہ یہ سوویتیں، کمیٹیاں، جمہوری پروگرام، امن کے نعرے، یہ سب کچھ تمہارے لئے ہی تو ہے، یہ سب کچھ تمہاری حفاظت کے لئے ہے؟ ’’انقلابی روسی ریاست کے سپاہیوں کو کون متحرک کر سکتا ہے، وزیر جنگ گچکوف یا وزیر جنگ کیرنسکی؟‘‘ یہاں وہ لینن کے الفاظ کو لفظ بہ لفظ دہرا رہا تھا، اگرچہ انقلاب کا رہنما جس چیز کو غداری سمجھتا تھا مصالحت کا یہ رہنما اُسے ایک خدمت قرار دے رہا تھا۔حتیٰ کہ اِس مقرر نے بالشویکوں کے ساتھ اپنی ضرورت سے زیادہ نرمی پر معافی بھی مانگ ڈالی: ’’میں آپ کو بتاتا چلوں کہ بائیں بازو کے انتشار کے خلاف مزاحمت میں انقلاب نا تجربہ کار تھا (دائیں طرف سے بھرپور تالیاں بجیں)۔‘‘ لیکن بعد ازاں ’’اپنے پہلے اسباق حاصل‘‘ کر لینے کے بعد انقلاب نے اپنی غلطی سدھاری: ’’ایک غیر معمولی قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔‘‘ عین انہی لمحات کے دوران سارا ماسکو چھ لوگوں (دو منشویک، دو بالشویک اور دو سوشل انقلابی) پر مبنی ایک ہڑتالی کمیٹی کے کنٹرول میں تھا، جو اُن لوگوں کے اقتدار پر قبضے کے خلاف اِس کا دفاع کر رہی تھی جن سے بالشویکوں کو کچل ڈالنے کا وعدہ مصالحت پسند کر رہے تھے۔
اجلاس کے آخری دن کا نقطہ عروج جنرل الیگزیف کی تقریر تھی، جو پرانے فوجی حکام کی اوسط درجے کی صلاحیتوں کی مجسم شکل تھا۔ دائیں طرف کے بھرپور جوش و خروش میں نکولس دوم کے اِس سابقہ سپہ سالار اور روسی فوج کی شکستوں کے منتظم نے اُن تباہ کن کرداروں کے بارے میں بات کی ’’جن کی جیبوں میں جرمن پیسوں کی چھن چھن سنی جا سکتی ہے۔‘‘ فوج کی بحالی کے لئے ڈسپلن ضروری ہے؛ ڈسپلن کے لئے کمانڈروں کی عملداری ضروری ہے؛ اور اِس کے لئے پھر ڈسپلن ضروری ہے۔’’ڈسپلن کو آہنی کہو، شعوری یا پھر حقیقی… یہ تینوں طرح کے ڈسپلن نیچے سے بالکل ایک ہی ہیں۔‘‘ الیگزیف کی نظر میں ساری تاریخ بس ملازمت کے ملکی قوائد و ضوابط پر ہی مشتمل تھی۔ ’’حضرات، کیا یہ بہت مشکل ہے کہ [سپاہیوں کی] اِن تنظیموں کو کچھ مخصوص وقت کے لئے قربان کر دیا جائے؟ (بائیں طرف شور شرابا اور احتجاجی نعرے)۔‘‘ یوں اِس جرنیل نے زور دیا کہ انقلاب کو غیر مسلح کر کے اُس کی تحویل میں دے دیا جائے، ہمیشہ کے لئے نہیں، بلکہ صرف ’’کچھ مخصوص وقت کے لئے!‘‘ اُس نے وعدہ کیا کہ جنگ کے اختتام پر سارا سازوسامان بغیر کسی نقصان کے واپس کر دے گا۔ لیکن الیگزیف نے جس پرمغز قول پر اپنی بات ختم کی وہ غلط نہیں تھا: ’’ہمیں نیم اقدامات کی نہیں بلکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔‘‘ یہ الفاظ شکائدز کے اعلامیے، عبوری حکومت، مخلوط حکومت اور فروری کے سارے نظام حکومت پر ایک ضرب تھے۔ نیم اقدامات نہیں بلکہ اقدامات! بالشویک بھی اِس سے دلی اتفاق کرتے تھے۔
جنرل الیگزیف کی تقریر کو ماسکو اور پیٹروگراڈ کے بائیں بازو کے افسران کے نمائندوں نے فوراً متوازن کر دیا، جو ’’ہمارے سربراہِ اعلی، وزیر جنگ کیرنسکی‘‘ کے حق میں بولے۔ اس کے بعد ’’ریاستی اجلاس میں محاذ کا نمائندہ‘‘، پرانا منشویک لیفٹنٹ کُچن اُن دسیوں لاکھ سپاہیوں کی طرف سے بولا جو اِس مصالحت پسندی کے آئینے میں خود کو بمشکل ہی پہچان پا رہے ہوں گے۔ ’’ہم سب نے تمام اخبارات میں چھپنے والا جنرل لوکومسکی کا انٹرویو پڑھا ہے، جس میں وہ کہتا ہے کہ اگر اتحادیوں نے ہماری مدد نہ کی تو ریگا ہاتھ سے نکل جائے گا… ‘‘ بالائی فوجی قیادت، جس نے آج تک ہمیشہ اپنی ناکامیاں اور شکستیں چھپائی ہیں، کو اب یاس اور نا امیدی دکھانے کی کیا ضرورت پڑی ہے؟ بائیں طرف سے ’’شرم کرو‘‘ کی آوازیں جنرل کورنیلوف پر کسی گئیں، جس نے ایک دن پہلے اجلاس میں اِس خیال کا اظہار کیا تھا۔ کُچن نے ملکیتی طبقات کی سب سے دکھتی رگ کو چھیڑ دیا۔معاشی، سیاسی اور فوجی، تینوں میدانوں میں بورژوازی کے بالائی حلقے، فوجی قیادت اور ہال کا سارا دایاں نصف حصہ ایسے شکست خوردگی کے رجحانات سے لبریز تھے۔ اِن معزز اور بے حس حب الوطنوں کا نصب العین یہ بن چکا تھا: جتنا برا ہو اُتنا ہی اچھا ہے! لیکن اس مصالحت پسند مقرر نے فوراً یہ موضوع ترک کر دیا جو اُس کے اپنے پیروں کے نیچے سے زمین کو کھوکھلا کر سکتا تھا۔ کُچن نے کہا، ’’یہ تو ہمیں نہیں پتا کہ ہم فوج کو بچا پائیں گے یا نہیں، لیکن اگر ہم ناکام ہو جاتے ہیں تو فوجی قیادت بھی اِسے بچا نہیں پائے گی… ‘‘ افسران کی نشستوں سے آواز آئی، ’’بچا لے گی۔‘‘ کُچن: ’’نہیں، نہیں بچا سکے گی۔‘‘ بائیں طرف سے تالیوں کی بوچھاڑ ہوئی۔ یوں کمانڈروں اور کمیٹیوں، جن کی جعلی آپسی یکجہتی پر فوج کی بحالی کا سارا پروگرام منحصر تھا، نے اپنی مخاصمت کی گرج پورے ہال میں پھیلا دی۔ اِس اجلاس، جس نے ’’ایک دیانتدارانہ اتحاد‘‘ کی بنیادیں قائم کرنا تھیں، کے دونوں حصے باہم متصادم تھے۔ یہ تصادم اُن تضادات کی محض کمزور، دبی ہوئی اور پارلیمانی بازگشت تھے جنہوں نے پورے ملک میں افرا تفری مچا رکھی تھی۔ اپنی بونا پارٹسٹ ہدایات کو بجا لاتے ہوئے، ایک دوسرے کے بعد آنے والے دائیں اور بائیں بازو کے مقررین نے ہر ممکن حد تک ایک دوسرے کو جواب دیا۔اگر قدامت پرست کلیسا کی کونسل کے عہدیداروں نے کورنیلوف کی حمایت کی تو پروٹسٹنٹ عیسائی پادریوں نے عبوری حکومت کا ساتھ دیا۔ مقامی حکومت کے دیہی اداروں اور شہری دوماؤں کے مندوبین نے جوڑوں میں تقاریر کیں، اکثریت سے تعلق رکھنے والوں نے شکائدز کے اعلامیے کا ساتھ دیا، اقلیت سے تعلق رکھنے والوں نے ریاستی دوما کے اعلامیے کی حمایت کی۔
محکوم قومیتوں کے نمائندگان نے حکومت کو اپنی حب الوطنی کا یقین دلایا، لیکن اُس سے مزید دھوکہ نہ دینے کی التجا کی: ہمارے علاقوں میں وہی حکام، وہی قوانین اور وہی جبر ہے۔ ’’تم کو مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے، کوئی بھی قوم صرف وعدوں پر زندہ نہیں رہ سکتی۔‘‘ انقلابی روس کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ’’اپنی تمام اقوام کی سوتیلی نہیں بلکہ سگی ماں ہے۔‘‘ اِن خائف شکووں اور عاجز قسموں کو ہال کی بائیں طرف سے بمشکل ہی کوئی ہمدردانہ جواب مل پایا۔ محکوم قومیتوں کے سوال پر ایک دیانتدارانہ حکمت عملی کسی طور بھی ایک سامراجی جنگ کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتی۔
جارجیا والوں کی طرف سے منشویک چینکیلی نے اعلان کیا، ’’آج تک کاکیشیا [۵] سے پرے کی قومیتوں نے کوئی ایک بھی علیحدگی پسندانہ حرکت نہیں کی ہے، وہ مستقبل میں بھی نہیں کریں گی۔‘‘ یہ وعدہ، جس پر سب نے تالیاں بجائیں، بہت جلد غلط ثابت ہونے والا تھا: اکتوبر انقلاب کے فوراً بعد یہی چینکیلی علیحدگی پسند رہنما بن گیا۔ تاہم یہاں کوئی تضاد نہیں تھا: جمہوریت پسندوں کی حب الوطنی کبھی بورژوا نظام کی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتی۔
اس دوران ماضی کے کچھ زیادہ المناک بھوت سٹیج پر نمودار ہو رہے تھے؛ جنگی معذور اپنی آواز بلند کررہے تھے۔ وہ بھی یکجا نہیں تھے۔ ہاتھوں، ٹانگوں سے معذوراور اندھوں کی بھی اپنی اشرافیہ اور اپنی عوام تھی۔ ’’سینٹ جارج کے گھڑ سواروں کی وسیع اور دیوہیکل لیگ‘‘ کی طرف سے ایک معذور افسر نے کورنیلوف کی حمایت کی (دائیں طرف سے تالیاں)۔ معذور جنگجوؤں کی کُل روس لیگ کے مندوب نے شکائدز کے اعلامیے کا ساتھ دیا (بائیں طرف سے تالیاں)۔ کچھ ہی عرصہ قبل منظم ہونے والی ریلوے مزدور یونین کی مرکزی کمیٹی، جس نے وکزھل (Vikzhel) کے مختصر نام سے اہم کردار ادا کرنا تھا، نے مصالحت پسندوں کے اعلامیے سے اتفاق کیا۔ وکزھل کے معتدل جمہوریت پسند اور انتہائی حب الوطن صدر نے ریلوے لائنوں پر ردِ انقلابی تخریب کاری کی واضح تصویر کشی کی: مزدوروں پر شدید حملے، بڑے پیمانے پر معطلیاں، آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کی من مانی خلاف ورزیاں، گرفتاریاں اور مقدمے۔ اُس نے کہا کہ پوشیدہ مگر بااثر مراکز سے ہدایات حاصل کرنے والی زیر زمین قوتیں کوشش کر رہی ہیں کہ بھوکے ریلوے مزدوروں کولڑائی پر اکسائیں۔ دشمن کا ابھی تک پتا نہیں چل پایا۔ ’’خفیہ پولیس محو خواب ہے اور سرکاری وکیل کے انسپکٹر سو رہے ہیں۔‘‘ اعتدال پسندوں میں سب سے اعتدال پسند نے بھی اپنی تقریر ایک دھمکی پر ختم کی: ’’اگر ردِ انقلاب کے سانپ نے سر اٹھایا تو ہم نکلیں گے اور اپنے ہاتھوں سے اس کا سر کچل دیں گے۔‘‘
یہاں ریلوے کے ایک سیٹھ نے فوراً جوابی الزامات دھر دئیے: ’’انقلاب کے شفاف چشمے میں زہر ملا دیا گیا ہے۔‘‘ کیوں؟ ’’کیونکہ انقلاب کے اصولی مقاصد کی جگہ اب مادی مقاصد نے لے لی ہے (دائیں طرف سے تالیاں)۔‘‘ اسی طرح ایک کیڈٹ زمیندار روڈیچیف نے بھی فرانس کا ’’شرمناک نعرہ: امیر ہو جاؤ!‘‘ اپنانے پر مزدوروں کی مذمت کی۔ بالشویک بہت جلد روڈیچیف کے اِس کلیے کو غیرمعمولی کامیابی سے نوازیں گے، لیکن اُس طرح نہیں جیسے مقرر کو امید تھی۔ ایک خالص سائنسی آدمی اور زرعی بینکوں کا مندوب پروفیسر اوزیروف چلّایا: ’’مورچوں میں سپاہی کو زمین کی تقسیم کی بارے میں نہیں بلکہ جنگ کے بارے میں سوچنا چاہئے۔‘‘ یہ حیران کن نہیں تھا: نجی زمین کی ضبطی کا مطلب بینکوں کے سرمائے کی ضبطی تھا۔ یکم جنوری 1915ء کو نجی زمین مالکان کا قرضہ 3.25 ارب روبل سے زیادہ تھا۔
دائیں طرف سے اعلیٰ افسران، صنعتی لیگ، ایوان بینک و تجارت، گھوڑے پالنے والوں کی تنظیم اور سینکڑوں مراعت یافتہ لوگوں پر مشتمل تنظیموں کے نمائندگان نے بات کی۔ بائیں طرف سے سوویتوں، فوجی کمیٹیوں، ٹریڈ یونینوں، جمہوری بلدیاؤں اور کوآپریٹو تنظیموں کے نمائندے نمودار ہوئے، جن کے پیچھے ایک بعید پس منظر میں کروڑوں گمنام لوگ تھے۔ عام حالات میں لیور کا چھوٹا بازو برتر ہوتا۔ سریتیلی نے تبلیغ کی، ’’بالخصوص اِن حالات میں اُن لوگوں کے زیادہ اضافی وزن اور اہمیت سے انکار ناممکن ہے جو جائیداد کی ملکیت کی وجہ سے مضبوط ہیں۔‘‘ لیکن ماجرا یہ تھا کہ اس وزن کو تولنا زیادہ سے زیادہ مشکل ہوتا چلا جا رہا تھا۔ جس طرح وزن اشیا کی داخلی خاصیت نہیں بلکہ اُن کے درمیان باہمی تعلق ہوتا ہے، اِسی طرح سماجی وزن بھی لوگوں کی قدرتی خاصیت نہیں بلکہ وہ طبقاتی خاصیت ہوتی ہے جو دوسرے طبقات اُن میں پہچاننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تاہم انقلاب اُس نہج تک پہنچ چکا تھا جہاں وہ حکمران طبقات کی اِس انتہائی بنیادی ’’خاصیت‘‘ کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہا تھا۔اسی وجہ سے لیور کے چھوٹے بازو پر مراعت یافتہ اقلیت کی حالت غیر ہوتی جا رہی تھی۔مصالحت پسندوں کی پوری کوشش تھی کہ توازن برقرار رہے، لیکن وہ بے بس تھے: لمبے بازو پر عوام ناقابل مزاحمت دباؤ ڈال رہے تھے۔ یہ بڑے بڑے زرعی ماہرین، بینکار اور صنعتکار اپنے مفادات کے دفاع میں بولنے میں کتنی احتیاط سے کام لے رہے تھے! کیا وہ ان کا دفاع کر بھی رہے تھے؟ تقریباً نہیں۔ وہ تو اصول پرستانہ حقوق، ثقافت کے مفادات اور مستقبل کی آئین ساز اسمبلی کے استحقاق کی باتیں کر رہے تھے۔ بھاری صنعتوں کے رہنما وون ڈٹمار نے تو اپنی تقریر کا اختتام ’’آزادی، مساوات، اخوت‘‘ [۶] کے حق میں ایک گیت پر کر ڈالا۔ منافعوں کے بھاری سُر اور زمین کے کرائیوں کے نچلے سُر اب کدھر چلے گئے تھے؟ وہ اُنہیں کہاں چھپا آئے تھے؟ بے لوثی کی ضرورت سے زیادہ میٹھی اور اونچے سُروں والی دھنیں ہی سارے ہال میں گونج رہی تھیں۔ لیکن ذرا سنو: اِس سارے شہد کے نیچے کتنا زہر اور کتنی ترشی تھی! کتنے غیر متوقع انداز میں یہ سُر تال ایک تلخی آمیز شور میں بدل جاتی تھی! انتشار کے خلاف قانون کے دفاع میں مراسلہ جاری کرنے پر کُل روس ایوان زراعت کا صدر کپاٹسنسکی ’’ہمارے پُر خلوص سریتیلی‘‘ کا شکریہ ادا کرنا نہیں بھولتا۔
یوں محسوس ہو گا جیسے سماجی علامتیت اب مکمل ہو گئی تھی۔ لیکن یہاں کیرنسکی پر ایک خوشگوار الہام نازل ہوا۔ اُس نے تجویز پیش کی کہ مزید ایک گروہ کو بولنے کا موقع دیا جائے، ’’روسی تاریخ میں سے ایک گروہ، یعنی بریشکو بریشکووسکایا، کروپوٹکن اور پلیخانوف ۔‘‘ یوں روسی نرودنکزم، روسی انارکزم اور روسی سوشل ڈیموکریٹزم نے اپنی پرانی نسل کی شکل میں بات کی، انارکزم اور مارکسزم تو اپنے سب سے ممتاز بانیوں کی شکل میں تھے [۷]۔
کروپوٹکن نے کہا کہ اپنی آواز ’’صرف اُن آوازوں کے ساتھ ملائے گا جو سارے روسی عوام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زمروالڈ ازم [ جنگ مخالفت] کو مسترد کرنے کو کہہ رہی ہیں۔‘‘ یوں ریاست کی عدم موجودگی کے اس پیامبر نے فوراً اجلاس کے دائیں بازو کی حمایت کر دی۔وہ چلّایا کہ شکست سے ہمیں صرف وسیع علاقوں کے نقصان اور ہرجانوں کا خطرہ ہی نہیں ہے، بلکہ ’’آپ کو معلوم ہونا چاہئے ساتھیو، اِس سے بدتر بھی ایک چیز ہے، وہ چیز ایک شکست خوردہ قوم کی نفسیات ہے۔‘‘ شکست خوردہ قوم کی نفسیات کو یہ پرانا انٹرنیشنلسٹ سرحد کے اُس پار دیکھنا چاہتا تھا۔ یہ یاد کرتے ہوئے کہ ایک مفتوح فرانس کیسے روسی زاروں کے سامنے ذلیل ہوا تھا، وہ یہ نہیں دیکھ پا رہا تھا کہ ایک فاتح فرانس کیسے امریکی بینکاروں کے سامنے ذلیل ہو گا۔ اُس نے دہائی دی: ’’کیا ہم بھی اسی تجربے سے گزرنے والے ہیں؟ کسی صورت نہیں!‘‘ اُس کے لئے سارے ہال نے تالیاں بجائیں۔ پھر اُس نے بتایا کہ جنگ سے کیسے رنگین امکانات کھلنے والے تھے: ’’سب لوگ اب سمجھنے لگے ہیں کہ ہمیں سوشلسٹ اصولوں پر ایک نئی زندگی تعمیر کرنا ہوگی… برطانوی وزیر اعظم لائڈ جارج تو سوشلسٹ رجحان میں ڈوبی ہوئی تقاریر کر رہا ہے… برطانیہ، فرانس اور اٹلی میں زندگی کا نیا ادراک جنم لے رہا ہے، جو سوشلزم سے تَر ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ ریاستی سوشلزم ہے۔‘‘ اگر لائڈ جارج اور فرانسیسی وزیر اعظم پونکارے نے ’’بدقسمتی‘‘ سے ابھی تک ریاستی اصول ترک نہیں کیا ہے تو بھی کوئی بات نہیں، کروپوٹکن نے ہی اپنا موقف ریاستی سوشلزم کے حق میں بدل لیا ہے ۔ اُس نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ ہم آئین ساز اسمبلی کو اس کے کسی اختیار سے محروم نہیں کریں گے، میں بالکل تسلیم کرتا ہوں کہ ایسے سوالوں کی حتمی فیصلہ سازی اسی کو کرنی چاہئے…‘‘ کروپوٹکن نے ایک نیم وفاقی (Confederative) جمہوریہ پر اصرار کیا۔ ’’ہمیں امریکہ جیسا وفاق چاہئے۔‘‘ باکونن کا آزاد کمیونوں کا وفاق اب اِس نہج کو پہنچ چکا تھا! کروپوٹکن نے بات ختم کرتے ہوئے کہا، ’’آئیے ہم سب آخر کار ایک دوسرے سے وعدہ کریں کہ ہم اب اِس ہال کے دائیں اور بائیں حصوں میں بٹے نہیں رہیں گے۔ ہم سب کا وطن ایک ہے اور ہمیں اس کے لئے اکٹھے کھڑے ہونا ہے، یا اگر ضرورت پڑے تو اکٹھے مرنا ہے، دائیں والوں اور بائیں والوں، دونوں کو۔‘‘ زمینداروں، صنعتکاروں، جرنیلوں، سینٹ جارج کے گھڑ سواروں اور تمام زمروالڈ مخالفوں نے انارکزم کے اِس پیامبر کو اُس کا خوب محنت سے کمایا ہوا خراج تحسین پیش کیا۔
لبرلزم کے اصول صرف ایک پولیس نظام کے ذریعے ہی حقیقی وجود قائم رکھ سکتے ہیں۔ انارکزم درحقیقت لبرلزم کو پولیس سے پاک کرنے کی ایک کوشش ہے۔ لیکن جیسے خالص آکسیجن میں سانس نہیں لیا جا سکتا، اسی طرح پولیس کے بغیر لبرلزم کا مطلب سماج کی موت ہے۔ لبرلزم کی مضحکہ خیز نقل ہونے کی وجہ سے بحیثیت مجموعی انارکزم کا انجام بھی اُسی جیسا ہوتا ہے۔ لبرلزم کو قتل کرنے کے بعد طبقاتی تضادات کے ارتقا نے انارکزم کو بھی قتل کر دیا ہے۔ انسانی سماج کے حقیقی ارتقا کی بجائے اِس کے کسی ایک جزو کی نامعقول محدودیت پر اپنی تعلیمات کو استوار کرنے والے ہر فرقے کی طرح، انارکزم اُسی لمحے صابن کے بلبلے کی طرح پھٹ جاتا ہے جب سماجی تضادات جنگ یا انقلاب کے نقطے پر پہنچتے ہیں۔ کروپوٹکن کا پیش کردہ ا نارکزم ریاستی اجلاس کے تمام آسیبوں میں سب سے زیادہ آسیبی تھا۔
باکونن ازم کے کلاسیکی ملک سپین میں سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے انارکسٹ درحقیقت روسی منشویکوں کی حکمت عملی ہی دوہرا رہے ہیں۔ جس لمحے اقتدار اپنی کھال تبدیل کرتا ہے، ریاست کے یہ سب سے جوشیلے منکر اُس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ پرولتاریہ کو اقتدار کے لالچ سے خبردار کر کے وہ بڑی بے لوثی سے ’’بائیں بازو‘‘ کی بورژوازی کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ پارلیمانیت کے ناسور پر لعنت بھیج کے وہ اپنے پیروکاروں کو چپکے سے بیہودہ جمہوریت پسندی کا انتخابی بیلٹ تھما دیتے ہیں۔ سپین کا انقلاب جیسے بھی آگے بڑھے، یہ کم از کم انارکزم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر ڈالے گا۔
پلیخانوف کا خیرمقدم سارے اجلاس نے طوفانی تالیوں سے کیا تھا، بائیں بازو والے اپنے پرانے رہنما اور دائیں بازو والے اپنے نئے اتحادی کو عزت بخش رہے تھے، جو اُس ابتدائی روسی مارکسزم کی نمائندگی کرتا تھاجس کا زاویہ نگاہ کئی دہائیوں کے عرصے میں سیاسی آزادی کی حدود میں ہی مقید ہو کے رہ گیا تھا۔ بالشویکوں کے لئے انقلاب ابھی شروع ہی ہوا تھا، پلیخانوف کے لئے وہ ختم بھی ہو چکا تھا۔ صنعتکاروں کو ’’محنت کش طبقے سے مفاہمت‘‘ کی نصیحت کرتے ہوئے پلیخانوف نے جمہوریت پسندوں کو مشورہ دیا: ’’تمہارے لئے انتہائی ضروری ہے کہ تجارتی اور صنعتی طبقے کے نمائندگان کے ساتھ مطابقت پیدا کرو۔‘‘ خوفناک مثال کے طور پر پلیخانوف نے ’’لینن کی ناخوشگوار یاد‘‘ متعارف کروائی، جو اِس حد تک گر چکا تھا کہ پرولتاریہ کو ’’سیاسی اقتدار پر فوری قبضے‘‘ کا کہہ رہا تھا۔ اقتدار کی جدوجہد کے خلاف اِسی تنبیہ کے لئے ہی اجلاس کو پلیخانوف کی ضرورت تھی، جس نے انقلاب کی دہلیز پر ایک انقلابی کی زرہ بکتر کی آخری شے بھی ترک کر دی تھی۔
’’روسی تاریخ‘‘ کے مندوبین کے خطاب کے دن کی شام کو کیرنسکی نے ایوانِ زراعت اور گھوڑوں کی افزائش نسل والوں کی یونین کے ایک نمائندے، جس کا نام کروپوٹکن ہی تھا، کو بولنے کا موقع دیا، جو ایک پرانے رئیس خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور اُس کے شجرہ نسب پر یقین کیا جائے تو روسی تخت پر اُس کا حق رومانوف خاندان سے زیادہ بنتا تھا۔ اِس جاگیردار نے کہا، ’’میں کوئی سوشلسٹ تو نہیں ہوں، لیکن حقیقی سوشلزم کی قدر کرتا ہوں۔ لیکن جب میں قبضے، ڈاکہ زنی اور تشدد دیکھتا ہوں تو کہنے پر مجبور ہو جاتا ہوں… کہ حکومت کو ایسے لوگوں کو ملک کی تعمیر نو کے فریضے سے علیحدہ کر دینا چاہئے جو خود کو سوشلزم سے وابستہ کر رہے ہیں۔‘‘ چرنوف پر پھبتی کسنے والے اِس دوسرے کروپوٹکن کو لائڈ جارج یا پھر پونکارے جیسے سوشلسٹوں سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ انارکسٹ کروپوٹکن کی طرح اِس شاہ پرست کروپوٹکن نے بھی زمروالڈ، طبقاتی جدوجہد اور زمین پر قبضوں کی مذمت کی، افسوس وہ اس سب کو ’’انارکی‘‘ کہنے کا عادی تھا۔ بدقسمتی سے تاریخی دستاویزات یہ نہیں بتاتیں کہ اِن دونوں کروپوٹکنوں نے ایک دوسرے کے لئے تالیاں بجائیں یا نہیں۔
نفرت سے زنگ آلود اِس اجلاس میں اتحاد کی اتنی باتیں کی گئیں کہ اتحاد کو ایک لمحے کے لئے ناگزیر علامتی مصافحے میں حقیقت بننا ہی تھا۔ منشویک پرچہ اس واقعے کو وجدانی الفاظ میں بیان کرتا ہے: ’’ببلیکوف کی تقریر کے دوران ایک واقعہ رونما ہوا جس نے اجلاس کے سارے اراکین پر گہرا اثر ڈالا… ببلیکوف نے کہا، ’کل انقلاب کے ایک عظیم الشان رہنما سریتیلی نے کاروباری دنیا کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا، میں اُسے بتانا چاہتا ہوں کہ وہ ہاتھ ہوا میں خالی نہیں لٹک رہا ہے…‘‘‘ جب ببلیکوف نے بات ختم کی تو سریتیلی آیا اور اُس کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ طوفانی خیرمقدم۔
کتنے خیر مقدم ہو رہے تھے! کچھ زیادہ ہی ہو رہے تھے۔ اِس بیان کئے گئے منظر سے صرف ایک ہفتہ قبل یہی ببلیکوف، جو ریلوے کا ایک بڑا سیٹھ تھا، صنعتکاروں کی ایک کانگریس میں سوویت رہنماؤں کے خلاف چیخ رہا تھا: ’’ ہمیں تباہی کی طرف لے جانے والے یہ سارے بددیانت اور جاہل لوگ دفع ہو جائیں!‘‘ اُس کے الفاظ ابھی تک ماسکو کی فضا میں گونج رہے تھے۔ ایک ٹریڈ یونین کے مندوب کے طور پر اجلاس میں شرکت کرنے والے پرانے مارکسسٹ ریازانوف نے بڑی مناسبت سے لیون (Lyon) کے بڑے پادری لامورٹ کے بوسے [۸] کو یاد کیا ہے، ’’وہ بوسہ جس کا تبادلہ قومی اجلاس کے دو حصوں کے درمیان ہوا، مزدوروں اور بورژوازی کے درمیان نہیں، بلکہ بورژوازی کے دو حصوں کے درمیان… اور آپ کو تو پتا ہے کہ اس بوسے کے بعد جدوجہد کس شدت سے پھٹتی ہے۔‘‘ ملیوکوف غیر روایتی بے تکلفی سے تسلیم کرتا ہے کہ صنعتکاروں کی طرف سے یہ اتحاد ’’پرخلوص نہیں تھا، لیکن اُس طبقے کے لئے عملی طور پر ضروری تھا جس کے پاس کھونے کو بہت کچھ تھا۔‘‘
کیا اجلاس کے اراکین کی اکثریت اِن مصافحوں اور سیاسی بوسوں کی قوت پر یقین رکھتی تھی؟ کیا اُنہیں خود پر بھی یقین تھا؟ اُن کے منصوبوں کی طرح اُن کے احساسات بھی متضاد تھے۔ بالخصوص صوبوں کی طرف سے کی جانے والی کچھ انفرادی تقاریر میں شروع کی بے خودی، امیدوں اور خوش فہمیوں کی کڑکڑاہٹ ابھی تک سنی جا سکتی تھی۔ لیکن ایک ایسے اجلاس میں جہاں بایاں حصہ مایوس اور پست حوصلہ تھا اور دایاں حصہ طیش سے بھرا تھا، مارچ کے دنوں کی یہ بازگشت ایک ایسے منگیتر جوڑے کی گفتگو جیسی تھی جن کی علیحدگی کا مقدمہ سر عام چل رہا ہو۔ پرچھائیوں کی سلطنت میں رخصت ہو چکے یہ سیاستدان ایک آسیبی نظام حکومت کو آسیبی اقدامات کے ذریعے بچا رہے تھے۔ ’’زندہ قوتوں‘‘ کے اِس اجلاس پر مایوسی کی جان لیوا ٹھنڈی آہ منڈلا رہی تھی۔
اجلاس کے بالکل آخر میں ایک واقعہ رونما ہوا، جس نے اتحاد اور ریاست سے وفاداری کا نمونہ سمجھے جانے والے گروہ، یعنی کاسکوں میں بھی گہری پھوٹ کو عیاں کر دیا۔ سوویت وفد میں موجود ایک نوجوان کاسک افسر ناگائیف نے اعلان کیا کہ محنت کش کاسک کالیڈن کے حمایتی نہیں تھے۔ اُس نے کہا کہ محاذ پر موجود کاسک ، کاسک رہنماؤں پر اعتماد نہیں کرتے۔ یہ ایک حقیقت تھی، جس نے اجلاس کی سب سے دکھتی رگ کو چھیڑ دیا۔ اخباری خبریں یہاں اجلاس کے سب سے طوفانی منظر کی اطلاع دیتی ہیں۔ بائیں طرف والوں نے ناگائیف کے لئے زور دار تالیاں بجائیں اورنعرے سنے گئے: ’’انقلابی کاسکوں کے لئے آہا!‘‘ دائیں طرف غضبناک احتجاج ہوا: ’’تمہیں اِس کا جواب دینا پڑے گا!‘‘ افسروں کی نشستوں سے آواز آئی: ’’جرمن پیسہ!‘‘ حب الوطنی کی آخری دلیل کے طور پر اِن الفاظ کی ناگزیریت کے باوجود اُنہوں نے ایک پھٹتے ہوئے بم جیسا اثر پیدا کیا۔ پورا ہال ناقابل برداشت شور سے بھر گیا۔ سوویت مندوبین نے افسروں کی نشستوں کی طرف دھمکی آمیز مُکّے لہراتے ہوئے اپنی نشستوں سے چھلانگ لگا دی۔ ’’تخریب کار!‘‘ کی آوازیں بلند ہوئیں۔ صدر کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ ’’یوں محسوس ہو رہا تھا کہ کسی بھی لمحے لڑائی شروع ہو جائے گی۔‘‘
یہ سب ہو جانے کے بعد کیرنسکی نے اپنی اختتامی تقریر میں اعلان کیا: ’’میرا خیال ہے اور مجھے معلوم بھی ہے… کہ ہم نے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے، ہم نے ایک دوسرے کی زیادہ عزت حاصل کر لی ہے۔‘‘ فروری کے نظام حکومت کی منافقت اِس سے قبل جھوٹ کی اِتنی مکروہ اور حقیر بلندیوں تک کبھی نہیں پہنچی تھی۔ خود اپنے لہجے کو برقرار رکھنے میں ناکام مقرر اپنے اختتامی جملوں کے درمیان اچانک دھمکی اور مایوسی کی آہ و زاری کے ساتھ پھٹ پڑا۔ جیسا کہ ملیوکوف بیان کرتا ہے: ’’ٹوٹی ہوئی آواز کے ساتھ، جو پاگلوں جیسی چیخ و پکار اور افسوسناک سرگوشی کے درمیان جھول رہی تھی، کیرنسکی اپنی سلگتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ سارے ہال میں ایک خیالی دشمن تلاش کرتے ہوئے اُسے دھمکیاں دے رہا تھا… ‘‘ ویسے ملیوکوف سب سے بہتر جانتا تھا کہ اُس کا دشمن خیالی نہیں تھا۔کیرنسکی کچھ یوں بھڑکا: ’’روسی سرزمین کے شہریو، آج کے بعد میں خواب نہیں دیکھوں گا … کاش میرا دل پتھر ہو جائے… انسانیت کے اِن سارے پھولوں اور خوابوں کو سوکھ جانے دو۔ (گیلری میں سے ایک خاتون کی آواز: ’تم ایسا نہیں کر سکتے۔ تمہارا دل ہی تمہیں اجازت نہیں دے گا۔‘) پیارے لوگو، میں نے اپنے دل کی چابی بہت دور پھینک ڈالی ہے۔ مجھے صرف ریاست کا خیال ہے۔‘‘
اس بار ہال کے دونوں حصے دم بخود رہ گئے۔ ریاستی اجلاس کی سماجی علامت ایک سنسنی ناٹک کی ناقابل برداشت خود کلامی پر اختتام پذیر ہوئی۔ دل کے پھولوں کو بچانے کے لئے بلند ہونے والی اُس خاتون کی آواز تاباں، پرامن اور بے خون فروری انقلاب کی طرف سے مدد کی آخری پکار کی طرح بلند ہوئی۔ ریاستی اجلاس پر پردہ گر گیا!

*****

[۱] روس کی پیٹھ پیچھے جرمنی کے ساتھ باقی اتحادی ممالک کے امن معاہدے کی اس تجویز پر کسی نے کان نہیں دھرا تھا، جس پر کیرنسکی اتحادی ممالک کے سفارتکاروں کی خوب حمد و ثنا بیان کر رہا تھا۔
[۲] یہ قلعہ زار کا انتہائی خوفناک اور اذیت ناک جیل خانہ تھا، جہاں انقلابیوں کو سخت مشقت کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ زیادہ تر قیدی پاگل ہو جاتے تھے یا خودکشی کر لیتے تھے۔
[۳] ’اِسکرا‘ کا لفظی مطلب ’چنگاری‘ ہے۔ یہ روسی سوشل ڈیموکریسی کا جریدہ تھا جس کا پہلا شمارہ 1900ء میں شائع ہوا۔ اِس کے بانیوں میں لینن، پلیخانوف، ایکسلروڈ وغیرہ شامل تھے۔1903ء میں منشویکوں اور بالشویکوں میں پھوٹ کے بعد یہ پرچہ منشویکوں کے پاس چلا گیا، لینن نے مجلس ادارت سے استعفیٰ دے دیا۔
[۴] زار نے 1905ء کے انقلاب کے دباؤ کے تحت کچھ اصلاحات متعارف کروائی تھیں، جن میں کچھ جمہوری حقوق کی ضمانت دینے والا آئین بھی شامل تھا۔ تاہم انقلاب کو کچلنے کے بعد جون 1907ء میں اِس آئین کو منسوخ کر کے دوسری ریاستی دوما کو بھی تحلیل کر دیا گیا تھا۔
[۵] یورپ اور ایشیا کا سرحدی علاقہ جو بحرِ سیاہ اور کیسپئن کے درمیان واقع ہے۔اِسے ’قفقاز‘ یا ’کوہ قاف‘ بھی کہا جاتا ہے۔
[۶] انقلاب فرانس کا نعرہ، جو انقلاب کے رہنما روبسپیر نے اپنی 5 دسمبر 1890ء کی تقریر میں لگایا۔
[۷] پلیخانوف روسی مارکسزم کے بانیوں میں شمار ہوتا تھا۔ وہ فریڈرک اینگلز کا رفیق بھی رہا اور لینن کا استاد شمار ہوتا تھا۔ تاہم اپنی زندگی کے آخری سالوں میں وہ انتہائی دائیں طرف چلا گیا تھا۔ جنگ میں اُس نے مارکسی بین الاقوامیت کا موقف اپنانے کی بجائے جرمنی کے خلاف اتحادی ممالک کا ساتھ دیا اور کٹر روسی قوم پرست بن گیا۔ اسی طرح کروپوٹکن انتہائی بزرگ انارکسٹ رہنما تھا، لیکن پلیخا نوف کے مارکسزم کی طرح اُس کا انارکزم بھی برائے نام ہی بچا تھا۔
[۸] 7 جولائی 1792ء کو ایب لامورٹ نے فرانس کی قانون ساز اسمبلی کے مختلف دھڑوں کو اپنے اختلافات ایک طرف رکھنے پر قائل کر لیا تھا اور شاہ پرست، آئین پرست، جرناڈسٹ، جیکوبن اور ’اورلیئین اسٹ‘ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے تھے اور بادشاہ دیکھ کر دکھیا گیا کہ ’’یہ عیسائی کس طرح ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ لیکن یہ مصالحت کھوکھلی اور بے بنیاد تھی۔ لامورٹ کے بوسے کا مطلب ایسی مصالحت ہے جہاں اختلافات اپنی جگہ موجود رہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں