روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

محلاتی انقلاب کا خیال

محلاتی انقلاب کا خیال

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

آخر خود کو انقلاب سے بچانے کی کوشش میں مصروف حکمران طبقات نے زار اور اُس کے حلقے سے جان چھڑانے کی کوشش کیوں نہ کی؟وہ چاہتے ضرور تھے، لیکن ہمت نہیں کر پائے۔ اُن میں اپنے مقصد پر اعتماد اور عزم، دونوں کی کمی تھی۔ محلاتی انقلاب [۱] کا خیال ریاستی انقلاب کے وقت تک ہر جگہ زیر بحث رہا۔ ہمیں یہاں رک کر انقلابی دھماکے سے بالکل پہلے بادشاہت، اشرافیہ کے بالائی حلقوں، افسر شاہی اور بورژوازی کے آپسی تعلقات کا جائزہ لینا ہو گا۔
ملکیتی طبقات اپنے مفادات، عادات اور بزدلی کے لحاظ سے بالکل شاہ پرست تھے۔ لیکن اُنہیں راسپیوٹن کے بغیر بادشاہت چاہئے تھی۔ بادشاہت کا جواب تھا: میں جیسی ہوں مجھے قبول کرو۔ ایک مہذب حکومت کے مطالبات کے جواب میں زارینہ نے زار کو صدر دفتر میں راسپیوٹن کے ہاتھ کا سیب بھیجا اور زور دیا کہ اسے کھائے تاکہ قوت ارادی مضبوط ہو سکے۔ اُس نے قسم اٹھا کر کہا، ”یاد رکھو کہ جناب فِلپ (دربار کا ایک فرانسیسی شعبدے باز) نے بھی کہا ہے کہ تمہیں آئین جاری نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ اِس کا مطلب تمہاری اور روس کی تباہی ہو گا…“ ”عظیم پیٹر، ہیبت ناک آئیون اور شہنشاہ پال جیسے بنو۔ دشمنوں کو اپنے پیروں تلے کچل کے رکھ دو!“
ملک سے بیگانگی، توہم پرستی اور خوف کا کیسا مکروہ آمیزہ تھا! یقینا ایسا لگے گا کہ اقتدار کی بلندیوں پر زار کا خاندان تنہا نہیں ہوگا۔ درحقیقت راسپیوٹن ہمیشہ شاہی خواتین کے جھرمٹ میں گھرا رہتا تھا اور بالعموم حکمران اشرافیہ میں پیری فقیری خاصی مقبول ہوتی ہے۔ لیکن خوف سے جنم لینے والا یہ تصوف لوگوں کو متحد نہیں بلکہ تقسیم کرتا ہے۔ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنا آپ بچائے۔ اشرافیہ کے کئی گھرانوں کے پیر فقیروں کا ایک دوسرے سے مقابلہ ہوتا تھا۔ پیٹروگراڈ کی اشرافیہ کی محفلوں میں زار کا خاندان بدظنی اور عداوت میں یوں گھرا ہوتا تھا جیسے طاعون زدہ افراد کو باقیوں سے الگ کردیا گیا ہو۔ شاہی خادمہ وائروبووا یاد کرتی ہے: ”اپنے پیارے زار اور زارینہ کے ارد گرد موجود تمام لوگوں کی اُن سے عداوت سے میں خوب واقف تھی۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ یہ عداوت خوفناک رخ اختیار کر جائے گی۔“
جنگ کے خون آشام پس منظر میں بھی، جب زیرزمین زلزلے کی لرزش واضح طور پر سنی جا سکتی تھی، مراعت یافتہ طبقات نے ایک لمحے کے لئے بھی زندگی کے مزے نہیں چھوڑے، بلکہ اُنہیں زیادہ لوٹنے لگے۔ لیکن اُن کی ضیافتوں میں ایک ڈھانچہ نمودار ہوتا تھااور اپنی انگلیوں کی ہڈیاں ہلانے لگتا تھا۔ اُنہیں یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ اُن کی تمام تر بدبختی کی وجہ ”آلکس“ (Alix)کا یہ مکروہ کردار، زار کی دغاباز کمزوری، لالچی احمق عورت وائروبووا اور سر پر نشان والا سائبیریا کا وہ مسیح تھا۔ کچھ برا ہو جانے کے ناقابل برداشت احساس کی لہریں حکمران طبقے میں سے گزر کر مرکز تک جانے لگیں اور زارسکوئی سیلو کے بالائی حلقے کو زیادہ سے زیادہ تنہا کرتی گئیں۔ وائروبووا کی یادداشتیں، جن میں ویسے زیادہ تراُس نے جھوٹ ہی بولا ہے، اُس وقت بالائی حلقے کے تاثرات کو واضح کرتی ہیں:”… سو بار میں نے خود سے پوچھا کہ پیٹروگراڈ کے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے۔ کیا یہ سب لوگ روحانی طور پر بیمار ہیں یا انہیں جنگ سے پھیلنے والی کوئی بیماری لگ گئی ہے؟ یہ سمجھنا مشکل ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب کے سب خلاف معمول جذباتی حالت میں تھے۔“ وسیع رومانوف خاندان انتہائی لالچی اور بدتمیز نوابوں اور بیگمات پر مشتمل تھا، جن کے دماغ خراب ہو چکے تھے اور ہر کوئی اُن سے نفرت کرتا تھا۔ موت سے خوفزدہ ہو کر وہ اپنے ارد گرد سکڑتے ہوئے دائرے سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ شاہی جوڑے کے بارے میں سرگوشیاں کرتے تھے اور ایک دوسرے کو اور اُن ارد گرد کے سارے لوگوں کواکساتے تھے۔ بڑے مرتبوں والے انکل زار کو نصیحتوں بھرے خط لکھتے تھے، جن کی عزت بھری سطور میں غرانے اور دانت پیسنے کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں۔
اکتوبر انقلاب کے بعد پروٹوپوپوف نے اگر عالمانہ انداز میں نہیں تو رنگین انداز میں بالائی حلقوں کا مزاج خوب بیان کیا: ”انقلاب سے پہلے انتہائی اعلیٰ طبقات بھی ’باغی‘ ہو چکے تھے: بڑے کلبوں اور دیوان خانوں میں حکومت کی پالیسیوں پر تلخ اور جارح تنقید ہوتی تھی۔ زار کے خاندان میں جو تعلقات تشکیل پا چکے تھے اُن پر باتیں اور تجزئیے ہوتے تھے۔ سربراہِ ریاست کے چٹکلے سنائے جاتے تھے۔ شعر بنائے جاتے تھے۔ بہت سے بڑے نواب کھلے عام اِن محافل میں بیٹھتے تھے اور اُن کی موجودگی عوام کی نظر میں اِن قصے کہانیوں پر مہر تصدیق ثبت کر دیتی تھی جو نفرت بھری مبالغہ آرائیوں اور پھبتیوں پر مبنی ہوتے تھے۔ آخری لمحے تک اس کھیل میں کسی نے خطرہ محسوس نہیں کیا۔“
درباری مشیروں پر جرمن دوستی، حتیٰ کہ دشمن کے ساتھ براہ راست تعلقات کے الزامات اِن افواہوں کو زیادہ تند و تیز کر دیتے تھے۔ روڈزیانکو، جو شور مچاتا تھا اور زیادہ گہرا نہیں سوچتا تھا، یقین سے کہتا ہے: ”عزائم کی مماثلت اور باہمی تعلق منطقی طور پر اتنا واضح ہے کہ مجھے جرمن فوج اور راسپیوٹن کے حلقے کی آپسی معاونت پر کوئی شک نہیں ہے: کوئی بھی اِس پر شک نہیں کر سکتا۔“”منطقی“ وضاحت کا حوالہ ہی اِس بیان کے یقینی لہجے کو بڑی حد تک کمزدور کر دیتا ہے۔ انقلاب کے بعد جرمن فوج اور راسپیوٹن کے حلقے کے آپسی تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ نام نہاد ”جرمن دوستی“ کا معاملہ اِس کے برعکس تھا۔ ظاہر ہے یہ جرمن زارینہ، وزیر اعظم سٹرومر، بیگم کلین مچل، شاہی وزیر فریڈرکس اور جرمن ناموں والے اشرافیہ کے دوسرے افراد کی قومی ہمدردی یا دشمنی کا سوال نہیں تھا۔ سازش کرنے میں ماہر کلین مچل کی کلبی یادداشتیں بالکل واضح کرتی ہیں کہ کثیر القومی کردار تمام یورپ کی اشرافیہ کی محفلوں کا خاصہ تھا، جو پیدائش، وراثت، اپنے سے نیچے کے تمام لوگوں کی طرف حقارت اور سب سے آخر میں لیکن سب سے بڑھ کر پرانے محلات، پرتعیش ساحلوں اور یورپ کے درباروں میں ایک دوسرے سے بدکاری کے رشتوں میں بندھے ہوئے تھے۔ اِس سے کہیں بڑھ کر شاہی خاندان کی جمہوریہ فرانس کے خوشامدی وکلا سے نفرت اور حقیقی روسی روح والی برلن سرکار سے ہمدردی تھی، جو اُنہیں اپنی تاؤ دار مونچھوں، فوجی افسروں والے آداب اور خود اعتماد حماقت سے بڑا متاثر کرتی تھی۔
لیکن یہ فیصلہ کن عنصر نہیں تھا۔ صورتحال کی اپنی منطق خطرناک تھی، دربار کے پاس علیحدہ امن کی کوشش کے سوا کوئی راستہ نہ تھا، جوں جوں صورتحال خطرناک ہوتی گئی، یہ کوشش بھی بڑھتی گئی۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ لبرلزم برسر اقتدار آنے کے لئے علیحدہ امن قائم کرنے کا یہ موقع خود حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اِسی وجہ سے اُس نے لوگوں کو گمراہ اور دربار کو خوفزدہ کرنے والی تند و تیز قوم پرستانہ ایجی ٹیشن کی۔ معاملے کی نزاکت کے پیش نظر شاہی مشیر اپنا حقیقی چہرہ دکھانے کی جرات نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کے برعکس وہ بھی عمومی حب الوطنی کا لہجہ اپنانے پر مجبور تھے، جبکہ عین اسی وقت علیحدہ امن کا راستہ بھی ڈھونڈ رہے تھے۔
راسپیوٹن کے حواریوں میں شامل پولیس کا سابقہ سربراہ جنرل کرلوف اپنے سرپرست کے جرمنوں کے ساتھ تعلق یا اُن سے ہمدردی کی تردید کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی لکھتا ہے: ”ہم سٹرومر کو اِس موقف پر دوشی نہیں ٹھہرا سکتے کہ جرمنی کے ساتھ جنگ روس کی سب سے بدترین بدبختی تھی اور اِس کا کوئی سنجیدہ سیاسی جواز نہیں تھا۔“یہ بھولنا شاید ممکن نہیں کہ اس دلچسپ موقف کے باوجود سٹرومر ایک ایسے ملک کی حکومت کا سربراہ تھا جو جرمنی کے خلاف جنگ کر رہا تھا۔ زار کا آخری وزیر داخلہ حکومت میں شمولیت سے بالکل قبل سٹاک ہوم میں جرمن سفارتکار واربرگ کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا اور زار کو بھی مطلع کر رہا تھا۔ اسی کرلوف کے مطابق خود راسپیوٹن ”جرمنی کے ساتھ جنگ کو روس کی بڑی بدبختی سمجھتا تھا۔“اور آخر میں ملکہ، جس نے زار کو 5 اپریل 1916ء کو لکھا: ”… اُن میں یہ کہنے کی جرات نہیں کہ راسپیوٹن کا جرمنوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ بالکل مسیح کی طرح اچھا ہے اور سب کے ساتھ عالی ظرف ہے، چاہے کسی کا مذہب کوئی بھی ہو۔ ایک اچھے عیسائی کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔“ عین ممکن ہے کہ اِس اچھے عیسائی، جو تقریباً ہر وقت شراب کے نشے میں دھت رہتا تھا، کی خدمات نوسر بازوں، سود خوروں اور شہزادیوں کے ساتھ ساتھ جرمنی کے جاسوسوں نے بھی حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔ اس طرح کے ”روابط“ خارج از امکان نہیں ہوتے۔ لیکن حزب مخالف کے حب الوطنوں نے معاملے کو زیادہ سیدھا اور کھلا کر دیا: انہوں نے براہ راست زارینہ پر ہی غداری کا الزام لگا دیا۔ کافی عرصے بعد لکھی گئی اپنی یادداشتوں میں جنرل ڈینیکن تصدیق کرتا ہے: ”فوج میں ہر طرف اور ہر جگہ شور تھا۔ ملکہ کی جانب سے علیحدہ امن کے مسلسل مطالبات اور فیلڈ مارشل کچنر [۲] کے معاملے میں اُس کی غداری کی باتیں ہو رہی تھیں… اِن حالات نے بادشاہت اور انقلاب کی طرف فوج کے رویے کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔“یہی ڈینیکن بتاتا ہے کہ کیسے انقلاب کے بعد جب جنرل الیگزیف سے ملکہ کی غداری کے بارے میں صاف صاف پوچھا گیا تو اُس نے ”ابہام اور ہچکچاہٹ بھرا“ جواب دیا تھا کہ کاغذات کی چھان بین کے دوران اُنہیں زارینہ کے پاس سے ایک نقشہ ملا تھا، جس میں پورے محاذ پر فوجوں کی تفصیل درج تھی اور یہ کہ اِس واقعے نے الیگزیف کو بڑا مایوس کیا تھا۔ ڈینیکن مزید کہتا ہے، ”وہ ایک لفظ اور نہیں بولا اور موضوع تبدیل کر دیا۔“زارینہ کے پاس یہ پراسرار نقشہ تھا یا نہیں، لیکن نامراد جرنیل اپنی شکست کی ذمہ داری اُس کے سر ضرور ڈالنا چاہتے تھے۔ دربار پر غداری کا الزام فوج میں اوپر سے نیچے سرایت کرتا گیا اور اس کا آغاز نا لائق جرنیلوں سے ہوا۔
لیکن اگر خود زارینہ، جس کی ہر بات زار مانتا تھا، فوجی راز اور اتحادی سپہ سالاروں کی معلومات جرمنی کو دے رہی تھی تو شاہی جوڑے کے خاتمے کے سوا کیا چارہ تھا؟ اور چونکہ فوج اور جرمن مخالف دھڑے کا سربراہ اعلیٰ نواب نکولائی نکولائیوچ تھا تو کیا محلاتی انقلاب کی قیادت کی ذمہ داری اُس پر عائد نہیں ہوتی تھی؟ یہی وجہ ہے کہ زار نے راسپیوٹن اور زارینہ کے اصرار پر اِس اعلیٰ نواب کو ہٹا دیا اور فوج کی کمان اپنے ہاتھ لے لی۔ لیکن زارینہ کمان کی منتقلی کے لئے زار اور اُس کے بھتیجے ]اعلیٰ نواب نکولائی نکولائیوچ ] کی ملاقات سے بھی خوفزدہ تھی۔ اُس نے زار کو صدر دفترمیں لکھا، ”میری جان محتاط رہنے کی کوشش کرو اور خود کو نکولاشا کے کسی جھانسے میں نہ آنے دینا۔ یاد رکھو کہ گریگوری نے تمہیں اُس سے اور اُس کے بُرے لوگوں سے بچایا ہے… یاد رکھو کہ روس کے نام پر وہ تمہیں بے دخل کرنا چاہتے تھے (یہ کوئی افواہ نہیں ہے، آرلوف کے پاس سارے کاغذات پڑے ہیں) اور مجھے کسی خانقاہ پر بٹھا دینا چاہتے تھے۔“
زار کے بھائی مائیکل نے روڈزیانکو سے کہا: ”سارے خاندان کو پتا ہے کہ الیگزینڈرا کتنی خطرناک ہے۔ اُس کے ارد گرد غداروں اور میرے بھائی کے علاوہ کوئی نہیں ہوتا۔ سارے دیانتدار لوگ چلے گئے ہیں۔ اِس صورتحال میں کیا کیا جانا چاہئے؟“ سوال بالکل یہی تھا: کیا کیا جانا چاہئے؟
اعلیٰ بیگم ماریا پیولوونا نے اپنے بیٹوں کی موجودگی میں اصرار کیا کہ روڈزیانکو ”زارینہ کو ہٹانے“ کی طرف پہلا قدم اٹھائے۔ روڈزیانکو نے مشورہ دیا کہ سمجھا جائے کہ ایسی کوئی بات ہوئی ہی نہیں، بصورت دیگر اپنے حلف نامے کی پاسداری میں اُسے یہ رپورٹ زار کو دینا ہو گی کہ اعلیٰ بیگم دوما کے صدر کو اکسا رہی ہے کہ وہ زارینہ کو تباہ کردے۔ یوں زار کے حاضر دماغ خادم نے زارینہ کے قتل کے سوال کو مہمان خانے کا مذاق بنا دیا۔
بعض اوقات حکومت زار کے ساتھ گہرے تصادم میں آ جاتی تھی۔ انقلاب سے ڈیڑھ سال پہلے 1915ء میں حکومتی محفلوں میں ایسی باتیں کھلے عام ہوتی تھیں جو اب بھی ناقابل یقین لگتی ہیں۔ وزیر جنگ پولیوانوف: ”معاشرے کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی ہی بچا سکتی ہے۔ موجودہ لرزتے ہوئے بند اِس سیلاب کو نہیں روک سکیں گے۔“وزیرِ بحریہ گریگورووچ: ”یہ کوئی راز نہیں ہے کہ فوج ہم پر اعتماد نہیں کرتی اور تبدیلی کا انتظار کر رہی ہے۔“ وزیر خارجہ امور سازونوف: ”عوام کی نظر میں زار کی مقبولیت اور عملداری بڑی حد تک لڑکھڑا چکی ہے۔“ وزیر داخلہ شہزادہ شیرباٹوف: ”جو حالات بن رہے ہیں اِن میں ہم سارے روس کو چلانے کے قابل نہیں ہیں… یہاں یا آمریت ہونی چاہئے یا پھر مفاہمتی پالیسی“ (21 اگست 1915ء کا اجلاس)۔اِن میں سے کوئی حربہ اب نہ کام آ سکتا تھا نہ اپنایا جا سکتا تھا۔ آمریت کا فیصلہ زار کر نہیں سکا؛ مفاہمتی پالیسی کو اُس نے مسترد کر دیا اور اُن وزرا کے استعفے قبول نہیں کئے جو خود کو نااہل تصور کرتے تھے۔ ریکارڈ رکھنے والا ایک اعلیٰ اہلکار اِن وزیروں کی تقاریر پر تبصرہ کرتا ہے:”لگتا ہے کہ ہمیں چوراہوں میں لٹکنا پڑے گا۔“
جب ایسے تاثرات چھائے ہوں تو کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ افسر شاہی کے حلقوں میں بھی بڑھتے ہوئے انقلاب کو روکنے کے لئے محلاتی شورش کی ضرورت کی باتیں ہوں گی۔ ایسے مکالموں کا ایک شریک یاد کرتا ہے: ”اگر میں اپنی آنکھیں بند کر لیتا تو شاید مجھے یوں لگتا کہ میں بے دھڑک انقلابیوں کی محفل میں بیٹھا ہوں۔“
جنوبی روس میں فوج کی خصوصی جانچ کرنے والا فوجی پولیس کا ایک کرنل اپنی رپورٹ میں بڑی سیاہ تصویر کشی کرتا ہے: زار اور زارینہ کی جرمن دوستی کے پراپیگنڈے کی وجہ سے فوج محلاتی انقلاب کے خیال کے لئے تیار ہے۔ ”ایسی باتیں افسروں کے درمیان کھلے عام ہوتی ہیں اور اعلیٰ قیادت بھی اِس کی ضروری روک تھام نہیں کرتی۔“ پروٹوپوپوف تصدیق کرتا ہے، ”فوج کے اعلیٰ افسران کی بڑی تعداد کُو (Coup) کے خیال سے ہمدردی رکھتی تھی: کچھ افراد نام نہاد ترقی پسند الحاق کے رہنماؤں سے رابطے میں تھے اور اُن سے ہمدردی رکھتے تھے۔“
بعد ازاں جب بدنام زمانہ ایڈمرل کولچاک کی فوجوں کو سرخ فوج کے ہاتھوں شکست ہو گئی تو اُس نے سوویت تفتیشی کمیشن کے سامنے تسلیم کیا کہ وہ دوما کے حزب مخالف کے کئی اراکین کے ساتھ رابطے میں تھا اور اُن کی تقاریر کا خیرمقدم کرتا تھا، کیونکہ ”انقلاب سے پہلے کی مروجہ قوتوں کی طرف اُس کا رویہ مخاصمانہ تھا۔“ تاہم جہاں تک محلاتی انقلاب کے منصوبے کا تعلق ہے تو کولچاک کو اِس کا علم نہیں تھا۔
راسپیوٹن کے قتل اور اعلیٰ نوابوں کی برطرفی کے بعد محلاتی انقلاب کے بارے میں اشرافیہ کی آواز زیادہ بلند ہو گئی۔ شہزادہ یسوپوف بتاتا ہے کہ کیسے جب اعلیٰ نواب دمتری کو محل سے گرفتار کیا گیا تو کئی رجمنٹوں کے افسران آگئے اور فیصلہ کن کاروائی کا منصوبہ تجویز کیا، ”جس سے ظاہر ہے کہ وہ متفق نہیں ہو سکتا تھا۔“
اتحادی سفارتکار، خصوصاً برطانوی سفارتکار، اِس سازش میں شریک سمجھے جاتے تھے۔ برطانوی سفارتکار کو روسی لبرلوں کی جانب سے کاروائی کے آغاز کا بڑا یقین تھا اور اُس نے اپنی حکومت سے پیشگی منظوری لینے کے بعد جنوری 1917ء میں زار پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ زار نے بڑی توجہ اور شائستگی سے اُسے سنا، اُس کا شکریہ ادا کیا اور دوسرے معاملات پربات کرنے لگا۔ پروٹوپوپوف نے نکولس کو برطانوی سفارتکار بچانن اور ترقی پسند اتحادی کے رہنماؤں کے آپسی تعلقات کے بارے آگاہ کیا اور تجویز دی کہ برطانوی سفارتکار کو نگرانی میں رکھا جائے۔ نکولس کو تجویز پسند نہ آئی، ایک سفیر کی نگرانی کو اُس نے ”بین الاقوامی روایات کے برخلاف“ قرار دیا۔دوسری طرف کرلوف نے یہ بیان دیتے ہوئے کسی تامل کا مظاہرہ نہیں کیا کہ ”خفیہ پولیس کیڈٹ پارٹی کے رہنما ملیوکوف اور برطانوی سفیر کے آپسی تعلقات کا مشاہدہ روزانہ کرتی ہے۔“ یہاں بین الاقوامی روایات راہ میں حائل نہیں تھیں۔ لیکن روایات کی یہ خلاف ورزی بھی زیادہ کام نہ آئی: کوئی محلاتی سازش دریافت نہیں ہوئی۔
کیا اس کا واقعی کوئی وجود تھا؟ کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ”سازش“ کچھ زیادہ وسیع تھی۔اِس میں اِتنے زیادہ اور اِتنے وسیع حلقے شامل تھے کہ اِسے ’سازش‘ نہیں کہا جا سکتا تھا۔ پیڑوگراڈ کے حکمران حلقوں کے مزاج، نجات کے ایک متذبذب خیال اور یاس کے ایک نعرے کے طور پر یہ ہوا میں معلق تھی۔ لیکن یہ نیچے اتر کر کسی عملی منصوبے کی حد تک گاڑھی نہیں ہو سکی۔
اٹھارہویں صدی میں بالائی اشرافیہ نے ایک سے زیادہ مرتبہ پریشان کن بادشاہوں کو قید کر کے یا اُن کا گلا گھونٹ کر جانشینی کی عملی تصحیح کی تھی: آخری بار یہ آپریشن 1801ء میں پال پر انجام دیا گیا تھا ]۳]۔ اس لئے یہ کہنا ناممکن ہے کہ ایک محلاتی انقلاب روسی بادشاہت کی روایات کے برخلاف تھا۔ بلکہ یہ تو اِن روایات کا ایک مستقل عنصر تھا۔ لیکن حکمران اشرافیہ نے کافی عرصہ قبل ہی خود کودِل سے مضبوط محسوس کرنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ زار اور زارینہ کا گلا گھونٹنے کے اعزاز سے بورژوازی کے حق میں دستبردار ہو گئی تھی۔ تاہم بورژوازی کے رہنماؤں نے کسی خاص عزم کا مظاہرہ نہیں کیا۔
انقلاب کے بعد ایک سے زیادہ مرتبہ لبرل سرمایہ داروں گچکوف اور ترشچینکو، اور جنرل کرائموف،جو اِن دونوں کے قریب تھا، کا حوالہ محلاتی سازشیوں کے مرکزے کے طور پر دیا گیا ہے۔گچکوف اور ترشچینکو نے خود بھی اِس کی تصدیق کی ہے، لیکن غیر واضح انداز میں۔ برطانیہ کے خلاف بوئرز کی فوج کا سابقہ رضاکار اور یکیکی لڑنے والا (Duelist) گچکوف، جو ایک خار دار لبرل تھا، بالعموم ”سماجی رائے“ میں تو سازش کے لئے موافق شخصیت لگتی ہوگی۔ لیکن یقینا باتونی پروفیسر ملیوکوف ایسا نہیں لگتا ہو گا! بلاشبہ گچکوف کو ایک سے زیادہ بار ایک زور دار جھٹکے پر مشتمل وار کا خیال آیا، جس کے ذریعے ایک رجمنٹ انقلاب کی جگہ لے کر انقلاب کا راستہ روک دے۔گچکوف سے نفرت کرنے والا وٹّ اپنی یادداشتوں میں اُسے نامناسب سلطان سے جان چھڑانے کے ’نوجوان ترک‘(Young Turk) طریقوں کا مداح قرار دیتا ہے۔لیکن اپنی جوانی میں بھی نوجوان ترکوں [۴] والی بے باکی دکھانے میں ناکام گچکوف اب کافی بوڑھا ہو چکا تھا۔ سٹولیپن کا یہ حواری روس اور ترکی کے حالات کا فرق لازمی دیکھتا ہو گا اور خود سے پوچھتا ہو گا: کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ حقیقی انقلاب کا راستہ روکنے کی بجائے ایک محلاتی انقلاب سارے نظام کے تابوت میں آخری کیل بن جائے؟کہیں ایسا نہ ہو کہ علاج بیماری سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو؟
فروری انقلاب کی تیاری کے بارے لکھے گئے لٹریچر میں محلاتی انقلاب کا تذکرہ ایک تسلیم شدہ حقیقت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ملیوکوف لکھتا ہے: ”فروری میں یہ عملی جامہ پہننے ہی والا تھا۔“ڈینیکن اس عملی جامے کو مارچ میں منتقل کر دیتا ہے۔ دونوں ایک ”منصوبے“ کا ذکر کرتے ہیں، جس میں زار کی ٹرین کو راستے میں روک کر تخت سے دستبرداری کا مطالبہ کیا جانا تھا اور انکار کی صورت میں، جو کہ ناگزیر سمجھا جا رہا تھا، اُسے ”جسمانی طور پر مٹا“دیا جاناتھا۔ ملیوکوف مزید کہتا ہے کہ ایک ممکنہ انقلاب کی پیش بینی کرتے ہوئے ترقی پسند الحاق کے رہنما، جو منصوبے میں شامل نہیں ہوئے اور جنہیں اِس کی تیاری کے بارے میں ”ٹھیک طرح“ بتایا نہیں گیا تھا، ایک چھوٹے سے حلقے میں بحث کر رہے تھے کہ کُو کی کامیابی کی صورت میں اِسے اپنے مفادات کے لئے کیسے استعمال کریں۔ حالیہ برسوں میں کئی مارکسی تحقیقات بھی کُو کی عملی تیاری کی کہانی پر یقین کرتی نظر آتی ہے۔ اِس مثال سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ کتنی آسانی اور مضبوطی سے دیومالائی کہانیاں تاریخی سائنس میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔
منصوبے کے سب سے اہم ثبوت کے طور پر اکثر روڈزیانکو کی ایک رنگین کہانی پیش کی جاتی ہے، جو درحقیقت یہ ثابت کرتی ہے کہ ایسا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ اِس کہانی کے مطابق جنوری 1917ء میں جنرل کرائموف محاذ سے واپس آیا اور دوما کے اراکین کے سامنے شکایت کی کہ چیزیں اس طرح لمبا عرصہ نہیں چل سکتیں: ”اگر آپ اس انتہائی اقدام (زار کی تبدیلی) کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہم آپ کی حمایت کریں گے۔“ اگر آپ فیصلہ کرتے ہیں! اکتوبرسٹ پارٹی کا شیڈلووسکی غصے میں آگ بگولا ہوا: ”اُس پر ترس کھانے یا اسے چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں، وہ روس کو تباہ و برباد کر رہا ہے۔“ اس ہنگامہ خیز مباحثے میں بروسیلوف کے یہ حقیقی یا خیالی الفاظ بھی نقل کئے جاتے ہیں: ”اگر ضروری ہے تو زار یا روس میں سے ایک کا انتخاب کرو۔ میں تو روس کا انتخاب کروں گا۔“ ’اگر‘ ضروری ہے! نوجوان کروڑ پتی ترشچینکو بے لچک انداز میں زار کے قتل کے حق میں بولا۔ کیڈٹ شنگاریف بولا: ”جنرل ٹھیک کہہ رہا ہے، تختہ الٹنا ضروری ہے… لیکن یہ کرے گا کون؟“ یہی سوال تھا: یہ کرے گا کون؟یہی روڈزیانکو،جو خود تختہ الٹنے کے خلاف بولا تھا، کی اِس ساری کہانی کا نچوڑ ہے۔ اگلے کئی ہفتوں تک منصوبہ ایک انچ آگے نہیں بڑھا۔ وہ زار کی ٹرین روکنے کی باتیں کرتے رہے، لیکن یہ پتا نہیں تھا کہ یہ کام کس نے سرانجام دینا تھا؟
روسی لبرلزم اپنی نوجوانی میں انقلابی دہشت گردوں کی حمایت اپنی ہمدردی اور پیسے کے ساتھ اس امید سے کرتا تھا کہ وہ اپنے بموں سے ہانک کر بادشاہت کو اِس کے ہاتھوں میں دے دیں گے۔ اِن عزت دار شریف زادوں میں سے کوئی بھی اپنی جان داؤ پر لگانے کو تیار نہیں تھا۔ تاہم یہاں کلیدی کردار ذاتی نہیں بلکہ طبقاتی خوف نے ادا کیا: وہ دلیل دیتے تھے کہ چیزیں ابھی بری ہیں، لیکن وہ بدترین ہو سکتی ہیں۔ بہرحال اگر گچکوف، ترشچینکو اور کرائموف سنجیدہ طور پر تختہ الٹنے کی طرف بڑھتے، یعنی عملی طور پر اِس کی تیاری کی ہوتی اور ضروری قوتوں اور وسائل کو متحرک کیا ہوتا، تو انقلاب کے بعد یقینی اور درست طور پر اِس کا پتا چل جاتا۔ کیونکہ شرکا، بالخصوص متحرک نوجوان لوگ، جن کی کوئی کم تعداد اِس کاروائی کے لئے درکار نہیں تھی، کے پاس اِس ”تقریباً“ تکمیل شدہ کام کے بارے میں انقلاب کے بعد اپنا منہ بند رکھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ فروری کے بعد یہ اُن کے اچھے کیرئیر کی یقینی وجہ ہی بن سکتا تھا۔ تاہم کسی نے کوئی انکشاف نہیں کیا۔ یہ بالکل واضح ہے کہ کرائموف اور گچکوف کا سارا ماجرا شراب اور سگاروں کے ساتھ حب الوطنی کی ٹھنڈی آہوں سے آگے نہیں بڑھ پایا۔ دھن راج کے بھاری بھرکم مخالفوں کی طرح اشرافیہ کے اِن غیر سنجیدہ باغیوں کے پاس بھی اپنے عمل سے نامساعد مقدر کا رخ موڑنے کا دل گردہ نہیں تھا۔
مئی 1917ء میں اِسی دوما کے نجی اجلاس میں جس کا صفایا انقلاب نے بادشاہت کے ساتھ ہی کر دینا تھا، سب سے زیادہ خوش گفتار اور بے مغز لبرلوں میں شامل میکلاکوف رو رہا تھا: ”اگر آنے والی نسلیں اِس انقلاب پر لعنت بھیجتی ہیں تو وہ ہم پر بھی اِس انقلاب کو روکنے کے لئے اوپر سے انقلاب برپا نہ کر پانے پر لعنت بھیجیں گی۔“اِس کے بھی بعد جب کیرنسکی [۵] جلا وطن تھا، وہ میکلاکوف ہی کی طرح پیٹتے ہوئے کہتا ہے: ”ہاں، زارشاہی روس اوپر سے بر وقت کُو کرنے میں بڑا سست تھا (جس کی باتیں بہت ہوئیں اور جس کی تیاری (؟) بھی بہت ہوئی)۔ وہ ر یاست کے اچانک دھماکے کو روکنے میں بڑا سست تھا۔“
چیخ و پکار پر مبنی یہ دو بیانات تصویر کو مکمل کرتے ہیں کہ کیسے جب انقلاب کی ناقابل تسخیر قوتیں بے لگام ہو چکی تھیں تب بھی پڑھے لکھے جاہل سوچ رہے تھے کہ شاہی کٹھ پتلیوں کو ”بر وقت“ تبدیل کر کے انقلاب کو روکا جا سکتا تھا۔
”بڑے“ محلاتی انقلاب کے لئے عزم کی کمی تھی۔ لیکن اس میں سے چھوٹے محلاتی انقلاب کا منصوبہ برآمد ہوا۔ لبرل سازشیوں میں بادشاہت کے کلیدی اداکار کو ہٹانے کی ہمت تو نہیں تھی، لیکن اعلیٰ نوابوں نے اُسے اکسانے والے کو ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ راسپیوٹن کے قتل کے ذریعے اُنہوں نے شاہی سلسلے کو بچانے کی آخری کوشش کی۔
شہزادے یسوپوف، جس کی شادی رومانوف خاندان کی ایک عورت سے ہوئی تھی، نے اس معاملے میں اعلیٰ نواب دمتری پاولووچ اور دوما کے شاہ پرست رکن پرشکیوچ کو شامل کر لیا۔ اُنہوں نے قتل کو ایک ”کل قومی“ کردار دینے کے لئے لبرل میکلاکوف کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی۔ اِس مشہور وکیل نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کر دیا، تاہم سازشیوں کو زہر فراہم کر دیا۔ یہ بھی ایک خصوصی اعزاز تھا! سازشیوں نے حساب لگایا کہ قتل کے بعد لاش کو لے جانے کے لئے رومانوف خاندان کی گاڑی استعمال کی جائے گی۔ شاہی نشان والی یہ نوابی گاڑی آخر کار کسی کام تو آئی۔ باقی سب کچھ بد ذوق لوگوں کے لئے بنائی گئی کسی فلم کے پلاٹ کی طرح کیا گیا۔ 16-17 دسمبر کی درمیانی رات راسپیوٹن کو ایک چھوٹی سی دعوت پر بلا کر یسوپوف کے نجی گھر میں قتل کر دیا گیا [۶]۔
درباری مشیروں کے ایک چھوٹے سے حلقے اور مریدوں کے علاوہ حکمران طبقات کی اکثریت نے راسپیوٹن کے قتل کا خیرمقدم نجات کے اقدام کے طور پر کیا۔ قتل کروانے والے اعلیٰ نواب کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا، زار کے مطابق اُس کے ہاتھ ایک کسان کے خون سے رنگے تھے۔ راسپیوٹن اگرچہ مسیح تھا،لیکن رہا پھر کسان ہی! پیٹرز برگ میں موجود تمام شاہی خاندانوں کے افراد اعلیٰ نواب سے اظہار یکجہتی کے لئے اُس کے گھر گئے۔ زارینہ کی اپنی بہن، جو اعلیٰ نواب سرگی کی بیوہ تھی، نے تار بھیجا کہ وہ قاتلوں کے لئے دعا کر رہی تھی اور اُن کے اِس حب الوطن اقدام پر رحمت کی طلبگار تھی۔ اخباروں نے خوشی بھرے مضامین لکھے، تاآنکہ اُنہیں روک نہیں دیا گیا۔ تھیٹروں میں لوگوں نے قاتلوں کے اعزاز میں مظاہرے کرنے کی کوشش کی۔ سڑکوں پر ایک دوسرے کے پاس سے گزرتے ہوئے لوگ مبارکباد دیتے تھے۔ یسوپوف بتاتا ہے، ”نجی گھروں، دفتروں کے اجلاسوں اور ریستورانوں میں لوگوں نے ہماری صحت کے جام نوش کئے؛ فیکٹریوں میں مزدوروں نے ہمارے لئے ’آہا‘ کے نعرے لگائے۔“ہم یہ تو مان سکتے ہیں کہ مزدوروں کو راسپیوٹن کے قتل بارے سن کر کوئی افسوس نہیں ہوا ہو گا، لیکن اُن کے ’آہا!‘ کے نعروں کا شاہی خاندان کے نئے جنم کی امید سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ راسپیوٹن کا ٹولہ نظروں سے اوجھل ہو گیا اور انتظار کرنے لگا۔ زار، زارینہ، زار کی بیٹی اور وائروبووا کے علاوہ دنیا میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ راسپیوٹن کو کہاں دفن کیا گیا۔ ’مقدس دوست‘،جو اعلیٰ نوابوں کے ہاتھوں قتل ہونے والا ایک گھوڑا چور تھا، کی لاش کے گرد زار کا خاندان خود اپنی نظروں میں کتنا بے یارومددگار لگتا ہو گا۔ تاہم دفن ہونے کے بعد بھی راسپیٹون کو سکون نہیں ملا۔فروری انقلاب کے بعد، جب نکولس اور الیگزینڈرا رومانوف نظر بند تھے، زارسکوئی سیلو کے سپاہیوں نے اُس کی قبر کھودی اور تابوت کھولا۔ مقتول کے سر پر ایک نشان آویزاں تھا جس پر الیگزینڈرا، اولگا، ٹاٹیانا، ماریا، اناستاسیا اور انیا کے دستخط درج تھے۔ عبوری حکومت نے قاصد بھیج کر کسی وجہ سے لاش کو پیٹروگراڈ لانے کو کہا۔ لیکن ہجوم نے مزاحمت کی اور قاصدکو راسپیوٹن کی لاش موقع پر ہی جلانی پڑی۔
اپنے ”دوست“ کے قتل کے بعد بادشاہت بس دس ہفتے ہی باقی رہی۔ لیکن یہ تھوڑا سا وقت بھی ابھی تک اُسی کا تھا۔ راسپیوٹن تو نہیں بچا تھا، لیکن اُس کا سایہ حکومت کرتا رہا۔ سازشیوں کی تمام توقعات کے برعکس شاہی جوڑے نے قتل کے بعد خصوصی لگن سے راسپیوٹن کے ٹولے کے سب سے حقارت آمیز رُکن کو ابھارنا شروع کر دیا۔ راسپیوٹن کے قتل کے بدلے میں اِس بدنام زمانہ بدذات شخص کو وزیر انصاف بنا دیا گیا۔ کئی اعلیٰ نوابوں کو دارالحکومت سے نکال دیا گیا۔ یہ افواہ بھی سننے کو ملی کہ پروٹوپوپوف نے روحانیت اپنا لی اور راسپیوٹن کی روح بلانے لگا۔ مایوسی کا پھندا تنگ ہوتا جا رہا تھا۔
راسپیوٹن کے قتل نے بڑا کردار ادا کیا، لیکن اُس سے بہت مختلف جس کی توقع اِسے کروانے والوں اور اُنہیں جوش دلانے والوں نے کی تھی۔ اِس نے بحران کو کم نہیں بلکہ شدید تر کر دیا۔ لوگ قتل کی باتیں ہر جگہ کرتے تھے: محلات، دفتروں، فیکٹریوں اور کسانوں کے جھونپڑوں میں۔ نتیجہ خودبخود نکلا: حتیٰ کہ اعلیٰ نوابوں کے پاس بھی زہر اور پستول کے سوا کوڑھ زدہ مشیروں کا کوئی علاج نہیں ہے۔ شاعر بلاک نے راسپیوٹن کے قتل پر لکھا: ”اُسے قتل کرنے والی گولی حکمران شاہی خاندان کے دل تک پہنچی۔“
روبسپیر نے ایک بار قانون ساز اسمبلی کو یاد دلایا تھا کہ اشرافیہ کی مخالفت نے بادشاہت کو کمزور کر کے بورژوازی اور اُس کے پیچھے عوام کو ابھارا تھا۔ اُس نے تنبیہ بھی کی تھی کہ باقی ماندہ یورپ میں فرانس کی سی تیزی سے انقلاب نہیں پنپ سکتا، کیونکہ باقی ممالک کے مراعت یافتہ طبقات فرانسیسی اشرافیہ کے تجربے سے سبق سیکھ کر انقلابی اقدام نہیں اٹھائیں گے۔ یہ قابل قدر تجزیہ پیش کرتے ہوئے روبسپیر نے صرف ایک غلطی اپنے اِس مفروضے میں کی کہ اپنی مخالفانہ بے پروائی سے فرانسیسی اشرافیہ نے دوسرے ممالک کو ہمیشہ کے لئے سبق دے دیا تھا۔ روس نے 1905ء اور پھر 1917ء میں دونوں مرتبہ ثابت کیا کہ مطلق العنان و نیم جاگیردارانہ ریاست اور اشرافیہ کے خلا ف انقلاب کو اپنے پہلے قدم پر بے نظم اور غیر مستقل لیکن بڑی حقیقی معاونت نہ صرف اشرافیہ کے عام افراد بلکہ اس کے سب سے مراعت یافتہ بالائی حلقوں، حتیٰ کہ شاہی خاندان کے افراد کی جانب سے بھی ملی۔ یہ غیر معمولی تاریخی مظہر بظاہر سماج کے طبقاتی نظرئیے کی نفی کرتا ہے، لیکن در حقیقت وہ اِس نظرئیے کی بیہودہ تشریح کی ہی نفی کرتا ہے۔
ایک انقلاب تب پھٹتا ہے جب سماج کے تمام تضادات اپنے بلند ترین تناؤ پر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ لیکن ایسے میں حالات پرانے سماج کے اُن طبقات کے لئے بھی ناقابل برداشت بن جاتے ہیں جنہیں ٹوٹ کر بکھرنا ہوتا ہے۔ میں حیاتیات (Biology) کی تمثیل کو اگرچہ اس سے زیادہ وزن نہیں دینا چاہتا جتنی کہ وہ حقدار ہے، لیکن اس حقیقت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ پیدائش کا قدرتی عمل بھی ایک خاص لمحے پر جا کر جنم دینے والے جسم اور جنم لینے والے جسم، دونوں کے لئے اتنا ہی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مراعت یافتہ طبقات کی مزاحمت اُن کے روایتی سماجی رتبے کی مزید معاشرتی ترقی کے تقاضوں کے ساتھ تضاد کا اظہار ہوتی ہے۔ ہر چیز حکمران افسر شاہی کے ہاتھ سے پھسلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ خود کو عمومی نفرت کے محور میں پانے والی اشرافیہ سارا الزام افسر شاہی پر لگا دیتی ہے، افسر شاہی سارا الزام اشرافیہ کو دیتی ہے اور پھر وہ دونوں اکٹھے یا الگ الگ اپنی بے چینی کا رخ اپنے اقتدار کے شاہی تاج کی طرف کر دیتے ہیں۔
اشرافیہ کے وراثتی اداروں میں اپنی طویل ملازمت سے حکومت میں طلب کیا جانے والا شہزادہ شیرباٹوف کہتا ہے:”سمارن اور میں اپنے صوبوں میں اشرافیہ کے سابقہ سربراہ ہیں۔ آج تک کسی نے ہمیں بائیں بازو کا نہیں سمجھا اور نہ ہی ہم خود سمجھتے ہیں۔ لیکن ہم دونوں میں سے کوئی بھی ریاست میں ایسی صورتحال کو نہیں سمجھ سکا ہے جس میں بادشاہ اور اُس کی حکومت خود کو تمام معقول سماج، یعنی اشرافیہ، تاجروں، شہروں، مقامی حکومت کے اداروں، حتیٰ کہ فوج کے ساتھ بھی بنیادی اختلاف میں پاتے ہیں۔ اگر اوپر والے ہماری رائے سننا نہیں چاہتے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم الگ ہو جائیں۔“
اشرافیہ کی نظر میں اُس کی تمام بدبختی کی وجہ یہ حقیقت ہے کہ بادشاہت اندھی ہو گئی ہے یا عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے۔ مراعت یافتہ پرت اِس بات پر یقین نہیں کر سکتی کہ ایسی کوئی پالیسی ممکن نہیں ہے جو پرانے سماج کی مصالحت نئے کیساتھ کروا سکے۔ دوسرے الفاظ میں اشرافیہ اپنی موت قبول نہیں کر سکتی اور اپنی موت کے خوف اور ماندگی کو پرانے نظام کی سب سے مقدس طاقت، یعنی بادشاہت کی مخالفت میں بدل دیتی تھی۔ اشرافیہ کی مخالفت کی شدت اور غیر ذمہ داری کی وضاحت یوں ہوتی ہے کہ تاریخ نے اشرافیہ کے بالائی حلقوں کو بگڑے ہوئے بچے بنا دیا ہے اور انقلاب کا خوف اُن کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اشرافیہ کی بے نظم اور غیر مستقل بے چینی کی وضاحت اِس حقیقت سے ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسے طبقے کی مخالف ہے جس کا کوئی مستقبل ہی نہیں ہے۔ لیکن جیسے کہ ایک دیا بجھنے سے پہلے دھواں دارلیکن زیادہ دمکتی روشی کے ساتھ بھڑک اُٹھتا ہے، ویسے ہی اشرافیہ بھی غائب ہو جانے سے پہلے ایک مخالفانہ شعلے میں بھڑکتی ہے، جو اُس کے جانی دشمن [محنت کش طبقے] کے لئے انتہائی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ یہی اِس عمل کی جدلیات ہے، جو نہ صرف سماج کے طبقاتی نظرئیے سے مطابقت رکھتی ہے، بلکہ اِسی نظرئیے کے تحت اِس کی وضاحت ہو سکتی ہے۔

*****

[۱] محلاتی انقلاب سے مراد زار، زارینہ اور اُن کے گرد درباریوں اور مشیروں کے حلقے کے خلاف کُو (Coup) کا منصوبہ ہے۔ اِس کُو، جو کبھی عملی طور پر نہ ہو سکا، کا مقصد مسائل کو گھمبیر کرنے والے اِن لوگوں کو ہٹا کر پورے نظام کو بچانے کی کوشش تھا۔
[۲] فیلڈ مارشل کچنر (Kitchner) برطانیہ کا فوجی افسر تھا اور دورے کے لئے بحری راستے سے روس آ رہا تھا کہ جرمنی کی ایک سمندری بارودی سرنگ کا نشانہ بن گیا۔
[۳] زار پال کو مارچ 1801ء میں درباری اشرافیہ کے ایک دھڑے نے اُس کے کمرے میں قتل کروا دیا تھا۔
[۴] ’نوجوان تُرکوں‘سے مراد ترکی میں سلطنت عثمانیہ کو آئینی حکومت سے تبدیل کرنے والی فوجی افسران، طلبہ اور ریاستی ملازمین وغیرہ کی تحریک ہے۔ بنیادی طور پر یہ ترک بادشاہت کے خلاف فوجی افسران کا کُو تھا۔
[۵] الیگزینڈر کیرنسکی انقلابِ روس کے واقعات میں ایک اہم سیاسی شخصیت ہے۔ وہ دوما میں سوشل انقلابیوں کے ’ترودووک‘ دھڑے کا اہم نمائندہ تھا۔ بالعموم دوسرے منشویک اور سوشل انقلابی رہنماؤں کی طرح بائیں بازو کا اصلاح پسند تھا۔ اُس کا سیاسی کردار فروری انقلاب کے بعد کھل کر سامنے آیا، جب وہ عبوری حکومت کے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچ گیا۔ اکتوبر انقلاب کے وقت تک وہی عبوری حکومت کا وزیر اعظم تھا۔کتاب کے آگے کے ابواب میں اُس کا کردار کھل کر سامنے آئے گا۔
[۶]راسپیوٹن کے قتل کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ اُسے زہر کھلا کر، گولی مار کر، سر پر کلہاڑی کے وار کر کے اور بعد ازاں ہاتھ پاؤں باندھ کر پانی میں ڈبو کر قتل کیا گیا۔لطیفہ مشہور ہے کہ جب اس کی لاش نکالی گئی تو پتا چلا کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے ہاتھ پاؤں کھولنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں