روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

مراکش کی بندرگاہوں پر اسرائیل سے اسلحہ لے جانے والے جہازوں کے خلاف مظاہرے

مراکش کی بندرگاہوں پر اسرائیل سے اسلحہ  لے جانے والے جہازوں کے خلاف مظاہرے

لاہور(جدوجہد رپورٹ)اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد سے مراکش میں جاری عوامی احتجاج نے نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ حالیہ دنوں میں ملک کی بندرگاہوں پر مظاہرین نے اسرائیل کو فوجی سازوسامان لے جانے والے جہازوں کے خلاف مظاہرے کیے ہیں، جن میں درجنوں افراد نے شرکت کی۔

’اے پی‘ کے مطابق قنیطرہ کی بندرگاہ پر ہونے والے ایک احتجاج میں مظاہرین نے فلسطینی پرچم تھامے ”Reject the ship” کے نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ ان جہازوں کو مراکشی بندرگاہوں تک رسائی نہ دی جائے۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز امریکہ سے اسرائیلی جنگی طیاروں کے پرزے لے کر آتے ہیں، جو اسرائیلی فوجی تنصیبات میں استعمال ہوتے ہیں۔

احتجاج کی قیادت کرنے والے 34 سالہ زرعی انجینئر اسماعیل لغزاؤئی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون مراکش کی پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے، جو تاریخی طور پر فلسطینی عوام کی حمایت کرتی رہی ہیں۔

مظاہرین نے بالخصوص ڈنمارک کی شپنگ کمپنی Maersk کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو امریکی کمپنی Lockheed Martin کے تیار کردہ ایف35جنگی طیاروں کے پرزہ جات اسرائیل تک پہنچانے میں شامل ہے۔ ان پرزوں کی ترسیل امریکی محکمہ دفاع کے تحت Security Cooperative Participant Program کے ذریعے ہوتی ہے، جو اتحادی ممالک کو فوجی سازوسامان فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

احتجاجی مظاہروں میں شریک کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ مراکشی بندرگاہی حکام اسپین کی طرز پر ایسے جہازوں کے داخلے کو روکیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال اسپین میں مزدور یونینز نے اسرائیلی اسلحہ لے جانے والے جہازوں کے خلاف کامیاب مہم چلائی تھی۔

مراکش نے دسمبر 2020 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا تھا، جس کے بدلے میں امریکہ نے مغربی صحارا پر مراکشی حاکمیت کو تسلیم کیا تھا۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف عوامی سطح پر مخالفت مسلسل جاری ہے، اور مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔

مراکش کی مختلف سیاسی و سماجی تنظیمیں بھی ان مظاہروں کی حمایت کر رہی ہیں اور حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ عسکری تعاون ختم کرے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تعلقات نہ صرف فلسطینیوں کے خلاف ہیں بلکہ مراکش کی خودمختاری اور عوامی امنگوں کے بھی منافی ہیں۔

حکومتی سطح پر اس احتجاج کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ البتہ بندرگاہی حکام کا کہنا ہے کہ وہ قانونی تقاضوں کے مطابق کام کر رہے ہیں اور کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں ہونے دی جائے گی۔

ادھر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ان مظاہروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور حکومتی اقدامات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ بندرگاہوں پر ہونے والے احتجاج مستقبل میں بڑے مزدور تحریکوں کی بنیاد بن سکتے ہیں، خاص طور پر اگر فوجی سازوسامان کی نقل و حمل میں مراکشی تنصیبات کا کردار بڑھتا رہا۔

یہ احتجاج ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب خطے میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور عرب ممالک میں عوامی سطح پر فلسطینیوں کے لیے ہمدردی میں اضافہ ہوا ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں