روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

مسئلہ جموں کشمیر سے متعلق ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش اور امیدیں!

مسئلہ جموں کشمیر سے متعلق ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش اور امیدیں!

حارث قدیر

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے عسکری حملے کے بعدبھارت اور پاکستان کے مابین بننے والی جنگی صورتحال کا خاتمہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پر 10مئی کو ہوا۔ امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا بیانات اور تقاریر میں مسئلہ جموں کشمیر کا بارہا تذکرہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی اظہار کیا کہ وہ مسئلہ جموں کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کرنے پر تیار ہیں۔

حکومت پاکستان نے صدر ٹرمپ کی اس پیش کش پر خصوصی شکریہ ادا کیا ہے، جبکہ بھارتی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان سے بات ہوگی تو پھر ’پی او کے‘ یعنی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے متعلق ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پانی اور خون اکٹھے نہیں بہہ سکتے، دہشت گردی اور بات چیت بھی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ تاہم ٹرمپ کے دعوؤں کی تردید نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ نہ صرف جنگ بندی پرٹرمپ کی مداخلت کا کلیدی کردار ہے، بلکہ وہ مذاکرات کے حوالے سے بھی مستقبل میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پر پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکمران اشرافیہ کی جانب سے بھی شکریہ ادا کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی جموں کشمیر میں سیز فائر لائن کے ہر دو اطراف آزادی پسند اور الحاق نواز سیاسی کارکنوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے ایک بار پھر مسئلہ جموں کشمیر کے حل کے لیے امریکی صدر سے امیدیں لگانا شروع کر دی ہیں۔ قوم پرست تنظیموں کے کچھ حصوں کی جانب سے اقوام متحدہ اور امریکہ سے مسئلہ جموں کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے بھی اپیلیں کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

پاکستانی ریاست کے مبہم بیان کی پذیرائی

ادھر پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف چوہدری کی جانب سے بھی جموں کشمیر کو دو ملکوں کے درمیان تنازعہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔ یہ پاکستان کا روایتی موقف رہا ہے، لیکن اس میں اتنے ابہام موجود ہیں کہ عام عوام اور سیاسی اصطلاحات و تاریخ کو گہرائی میں نہ سمجھنے والے سیاسی کارکنان بھی اس موقف کو پذیرائی بخشتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جموں کشمیر کا مسئلہ دو ملکوں کے درمیان کوئی سرحدی یا زمینی تنازعہ نہیں ہے، بلکہ جموں کشمیر میں بسنے والے انسانوں کے حق خودارادیت اور حق آزادی کا مسئلہ ہے۔ آسان لفظوں میں جموں کشمیر میں بسنے والے انسانوں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ گزشتہ 76سالوں سے زیر التواء ہے۔ جموں کشمیر کے لوگوں کو ہی یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں، لیکن یہ حق اور اختیار کسی بھی سامراجی معاہدے کے تحت محدود یا مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں جموں کشمیر کے لوگوں کو یہ محدود حق دیا گیا ہے، کیونکہ جموں کشمیر کے لوگوں کی وہاں نمائندگی ہی موجود نہیں تھی اور سامراجی بنیادوں پر ان کے مقدر کا یہ فیصلہ لکھا گیا۔

بھارت و پاکستان کا موقف

اس خطے پر دونوں ملک دعویدار ہیں اور دونوں کا موقف مختلف طرز کا ہے۔بھارتی ریاست کا موقف ہے کہ جموں کشمیر بھارت کا ’اٹوٹ انگ‘(ایسا حصہ جسے الگ نہ کیا جا سکے)ہے، لہٰذا پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقوں کو بھی بھارت کے حوالے کیا جائے۔ بھارت کا یہ موقف اس بنیاد پر ہے کہ اس خطے کے سابق برطانوی سامراج کے زیر سایہ شخصی حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ جموں کشمیر کا عارضی الحاق اس وقت کیا تھا، جب پونچھ میں بغاوت کے بعد پاکستانی قبائلیوں اور فوجیوں نے اس خطے پر حملہ کر لیا تھا۔

پاکستانی ریاست کا موقف ہے کہ جموں کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے رائے شماری کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ قراردادوں میں جموں کشمیر کے لوگوں کے پاس پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا اختیار ہے۔ جموں کشمیر چونکہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے، اس لیے پاکستانی ریاست کا یہ خیال ہے کہ اس صورت میں بھارت کا انتخاب کرنے کی بجائے مسلم اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرے گی۔

اقوام متحدہ کی قراردادیں اور اختیار

تاہم یہ قراردادیں اقوام متحدہ کے چارٹر کے چیپٹر 6کے تحت منظور کی گئی ہیں۔ چیپٹر 6کے تحت اقوام متحدہ کی حیثیت سفارشات اور سہولت کاری تک ہی محدود ہے۔ فریقین آپسی رضامندی کے تحت ہی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ مسئلہ جموں کشمیر پر اقوام متحدہ میں فریقین صرف بھارت اورپاکستان ہیں، جموں کشمیر کے لوگ فریق ہی نہیں ہیں۔ لہٰذا اقوام متحدہ اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کرواسکتا۔

اقوام متحدہ چیپٹر 7کے تحت منظور کی گئی قراردادوں پر زبردستی یا فوجی مداخلت کے ذریعے عملدرآمد کروا سکتا ہے۔ تاہم فلسطین کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی قراردادیں مختلف چیپٹرز کے تحت ہیں، جن میں سے اہم ترین قراردادیں چیپٹر 7کے تحت بھی ہیں، لیکن ان پر بھی اقوام متحدہ زبردستی یا فوجی مداخلت کے ذریعے عملدرآمد نہیں کروا سکا ہے۔ یوں مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کی رضامندی کے بغیر کوئی کردار ادا کر ہی نہیں سکتا۔ فلسطین سمیت دیگر تنازعات میں اقوام متحدہ کے کردار کو سامنے رکھا جائے تو چیپٹر 7کے تحت بھی تاریخی طور پر اقوام متحدہ سامراجی ضروریات کے مطابق ہی مداخلت کر پایا ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے پیچھے جموں کشمیر کے لوگوں کی امیدیں وابستہ کرنا، دراصل انہیں جدوجہد آزادی کے لیے حقیقی راستے سے بھٹکانے کے مترادف ہے۔

ثالثی اور دباؤ کے تحت مذاکرات

مسئلہ جموں کشمیر پرعالمی سطح پر اور اقوام متحدہ میں بحث ہوتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے1948سے 1971کے دوران 18 قراردادیں مسئلہ جموں کشمیر پر منظور کی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے مابین بھی مسئلہ کشمیر پر اعلانیہ اور غیر اعلانیہ مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ76سال سے وقفے وقفے سے جاری رہا ہے۔ تاہم 7ایسے ادوار رہے ہیں، جن میں عالمی دباؤ کے تحت دونوں ملک مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ 1947میں جموں کشمیر پرقبضے کے لیے شروع ہونے والی جنگ اقوام متحدہ کی مداخلت کے بعد1948میں روکی گئی تھی اور اقوام متحدہ نے 1971تک مسئلہ جموں کشمیر کے حوالے سے دونوں ملکوں کے مابین کوئی حل ڈھونڈنے کی کوشش جاری رکھی۔

اس دوران 1963ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان خفیہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، لیکن معاملات حل ہونے کی بجائے 1965ء کی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ سوویت یونین کی مداخلت اور دباؤ کے تحت تاشقند میں دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ معاہدہ تاشقند کے تحت جنگ بندی تو ہوگئی، لیکن مسئلہ جموں کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

1971ء کی جنگ کے بعد 1972میں دونوں ملکوں کے درمیان پھر مذاکرات ہوئے اور نتیجہ شملہ معاہدہ کی صورت میں برآمد ہوا۔ اس معاہدہ کے تحت دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ مسئلہ جموں کشمیر پر بھی ایک پیش رفت ہوئی، جس کے تحت اقوام متحدہ کے سفارشی کردار کو بھی ختم کر کے اس مسئلے کو دو طرفہ مسئلہ قرار دے دیا گیا۔ سیز فائر لائن کو بھی اس معاہدے کے تحت ’لائن آف کنٹرول‘ قرار دے دیا گیا۔ اس معاہدے کے بعد مسئلہ جموں کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں آنا بھی بند ہو گئیں۔

1997ء میں دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا اور جمو ں کشمیر سمیت 8نکاتی ایجنڈا ترتیب دیا گیا۔ کچھ معاملوں پر اتفاق تو ہوا لیکن مسئلہ جموں کشمیر پر پھر کوئی بات نہیں ہو سکی۔ جنوری 1999ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لاہور اعلامیہ پر دستخط ہوئے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق ہوا۔ تاہم اس اعلامیہ کے 4ماہ بعد دونوں ملکوں کے درمیان کارگل کے محاذ پر جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ کا اختتام ایک بار پھر امریکی صدر کے دباؤ کے نتیجے میں ہوا۔ اس وقت بھی امریکی صدر نے مسئلہ جموں کشمیر پر بات چیت کی پیشکش کی، لیکن بھارت نے صاف انکار کر دیا۔

2001میں ایک بار پھر امریکی دباؤ پر مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ آگرہ سربراہی اجلاس ہوا، لیکن کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ اس کے بعد2004میں ایک بار پھر امریکہ اور برطانیہ کے دباؤ کے تحت جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک بار پھر 8نکاتی ایجنڈا تشکیل پایا۔ بیک چینل ڈپلومیسی کا آغاز ہوا اور جموں کشمیر کے مسئلے کو 4نکاتی فارمولے تحت حل کرنے کے لیے بات چیت شروع کی گئی۔

اس منصوبے کے تحت جموں کشمیر کے ایک علاقے بالخصوص وادی کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت دے کر مشترکہ انتظام کے تحت نظام حکومت چلانے سمیت دیگر تجاویز دی گئی تھیں۔ اسی دوران بیک چینل ڈپلومیسی کے تحت لائن آف کنٹرول میں نرمی لاتے ہوئے آر پار سفری اور تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا۔ تاہم مسئلہ جموں کشمیر پرکوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور مذاکرات کا یہ سلسلہ 2008کے ممبئی حملوں کے بعد ایک بار پھر ختم ہو گیا۔ 2015سے2019کے دوران بھی بھارت اور پاکستان کے مابین بیک ڈور ملاقاتیں ہوتی رہیں، تاہم یہ سلسلہ بھی نتیجہ خیز نہیں ہوسکا۔

ٹرمپ کی ثالثی میں مذاکرات کا امکان اور نتائج

ماضی کے تمام تر تجربات کی روشنی میں یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ عالمی طاقتوں اور دونوں ملکوں کے حکمران طبقات کی ان تمام تر کوششوں کے بعدبھی مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب جموں کشمیر کے منقسم حصوں کے پاس جو سیاسی اور مالیاتی اختیارات تھے، یا مسئلہ جموں کشمیر کی عالمی سطح پر جو حیثیت تھی، ان سب میں کمی ہی آتی رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس کاوش کو امریکی صدر کے گزشتہ اقتدار اور موجودہ اقتدار کے ابتدائی ایام میں کیے گئے اقدامات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ سلسلہ محض گفتگو سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اگر اس دباؤ اور سامراجی ضرورت کے تحت مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو بھی جاتا ہے تو مسئلہ جموں کشمیر پر وہی روایتی موقف اپنایا جائے گا اور کوئی پیش رفت نہیں ہو پائے گی۔

اگر کسی طرح کی کوئی تبدیلی یا پیش رفت ہو سکتی بھی ہے تو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ سامراجی ضروریات اور اہداف کی تکمیل کے لیے مسئلہ جموں کشمیر کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی ناگزیر ہو۔ ایسی کیفیت میں امریکہ اور چین کے تعلقات کی نوعیت اور بھارت کی ابھرتی مارکیٹ کی سامراجی طاقتوں اور عالمی اجارہ داریوں کے لیے اہمیت کی بنیاد پر ہی کچھ لے دے ہو سکتی ہے۔ تاہم ایسی کسی بھی پیش رفت کا مقصد جموں کشمیر کے عوام کے مسائل کا حل اور ان کو حق آزادی دینانہیں ہوسکتا۔سامراجی ضرورتوں کے مطابق ہی جموں کشمیر کو نہ صرف تقسیم کیا گیا، بلکہ 76سال سے اس خطے کے لوگوں کو حق آزادی سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس لیے سامراجی ضروریات کی تبدیلی کی صورت جموں کشمیر کے عوام کی سیاسی حیثیت میں ہونے والی کوئی بھی تبدیلی جموں کشمیر کی آزادی کی ضامن کسی صورت نہیں ہو سکے گی۔

حل کیا ہے؟

جموں کشمیر برطانوی سامراج کے زیر سایہ قائم شاہی ریاست میں شامل علاقوں پر مشتمل ہے۔ ان علاقوں میں مختلف قوموں، نسلوں، مذاہب اورثقافتوں کے لوگ آباد ہیں، جو تاریخی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ بھی رہے ہیں اور مختلف جغرافیوں میں بھی رہتے آئے ہیں۔ تاہم تاریخی طور پر دنیا بھر کی طرح اس خطے میں بھی جغرافیائی تبدیلیاں جبر اور جنگوں کی بنیادوں پر ہی ہوتی رہی ہیں۔ جدید عہد میں بھی اس خطے کے لوگوں کو جمہوری اور سیاسی آزادی کے تحت اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں مل سکا ہے۔

گزشتہ 76سال سے اس خطے کے لوگ منقسم حصوں میں نوآبادیاتی نظام کی مختلف شکلوں کے تابع زندگی گزار رہے ہیں۔ یوں جموں کشمیر دوملکوں کے درمیان زمین کی ملکیت کایا سرحدی تنازع نہیں ہے، نہ ہی یہ مذہبی مسئلہ ہے اور نہ ہی یہ کسی جاگیر کا مسئلہ ہے۔ جموں کشمیر کا مسئلہ اس خطے میں بسنے والے پونے دو کروڑ انسانوں کے حق آزادی کا مسئلہ ہے۔ اس خطے سے سامراجی قبضے کے خاتمے اور اس خطے میں بسنے والی قوموں کو اپنے سیاسی و معاشی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیے جانے کا مسئلہ ہے۔

اس لیے جموں کشمیر کی قومی آزادی کا سوال اپنی اساس میں بین الاقوامی نوعیت کا ہے۔ جموں کشمیر کے منقسم حصوں میں بسنے والی قوموں کی اس غلامی میں جہاں سامراجی ریاستوں کے حکمرانوں کا ایک کردار ہے، وہیں ان قوموں کی اپنی حکمران اشرافیہ کی شمولیت، مرضی اور سہولت کاری کے بغیر بھی یہ سلسلہ ممکن نہیں ہے۔ اس خطے میں بسنے والی قوموں کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا۔ مشترکہ طور پر تمام منقسم حصوں میں نوآبادیاتی نظام اور اس نظام سے مستفید ہونے والی حکمران اشرافیہ کے خلاف جدوجہد کو منظم کرنا ہوگا۔ تمام قوموں کے حق آزادی اورحق خودارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے آزاد اور خودمختار قوموں کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کی جدوجہد کرنا ہوگی۔ آزاداور خودمختار قوموں کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے ذریعے ہی جموں کشمیر کے لوگوں کو حقیقی آزادی اور انسانی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں