روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

میلکم ایکس کیوں خطرناک تھے؟

میلکم ایکس کیوں خطرناک تھے؟

دونتے ایل اسٹال ورتھ

رواں ہفتے میلکم ایکس کے نام سے شہرت پانے والے الحاج ملک الشہباز کی 100ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ جب ہم اُن کی جدوجہد کو یاد کرتے ہیں، تو ضروری ہے کہ ہم اُس غصے سے بھرے سیاہ فام انقلابی کے عام خاکے سے آگے بڑھیں جو عمومی طور پر مرکزی دھارے کے بیانیے میں پیش کیا جاتا ہے۔ اصل میلکم ایکس ایک بصیرت افروز شخصیت تھے، جن کی انقلابی تبدیلی نے دنیا کو حیران بھی کیا اور متاثر بھی۔

ان کا سفر نیشن آف اسلام اور سیاہ فام علیحدگی پسندی سے شروع ہوا اور ایک عالمی انقلابی کے طور پر اختتام پذیر ہوا۔ ان کی جدوجہد سامراجیت کے خلاف اور دنیا بھر کے مظلوموں سے یکجہتی کے لیے وقف تھی۔ ان کا سفر آج کے دور میں بھی ہمارے لیے گہرے اسباق رکھتا ہے۔ میلکم کی یہ تبدیلی محض سیاسی نہیں تھی، بلکہ روحانی اور فکری بھی تھی۔ ابتدا میں وہ نیشن آف اسلام کے خود انحصاری اور نسلی علیحدگی کے نظریے سے متاثر تھے۔

عام بیانیہ یہ ہے کہ 1964 میں نیشن آف اسلام سے علیحدگی کے بعد میلکم نے حج کے دوران ایک گہری تبدیلی کا سامنا کیا۔ مکہ میں مختلف نسلوں کے مسلمانوں کے ساتھ عبادت کے بعد انہوں نے ایک زیادہ جامع اور ہم آہنگ نظریہ اپنا لیا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ میلکم ایکس کی عالمی یکجہتی سے وابستگی حج سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔ وہ ایک گارویائی گھرانے میں پلے بڑھے، جہاں ان کے والدین یونیورسل نیگرو امپروومنٹ ایسوسی ایشن کے رکن تھے۔ اسی ابتدائی تربیت نے اُن کے 1959 کے افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے سفر کو تشکیل دیا، جہاں انہوں نے سامراجی جدوجہد کو گہرائی سے سمجھا۔ 1961 میں پیٹریس لوممبا کا قتل ان کی امریکی خارجہ پالیسی پر تنقید کو مزید تیز کر گیا۔ اسی سال میلکم نے ’محمد اسپیکس‘کے نام سے ایک اخبار کی بنیاد رکھی، جو نوآبادیاتی نظام کے خلاف عالمی جدوجہد پر مبنی بین الاقوامی سیاست اور سیاہ فام آزادی کی آواز بن گیا۔

ستمبر 1964 میں میلکم ایکس نے غزہ کا دورہ کیا، جو اس وقت مصری انتظامیہ کے تحت تھا۔ اس سفر میں اُن کی ملاقات فلسطینی شاعر ہارون ہاشم رشید سے ہوئی، جنہوں نے 1956 کے خان یونس قتل عام میں بال بال بچنے کا ذکر کیا، جب اسرائیلی افواج نے 275 فلسطینیوں کو شہید کیا تھا۔ رشید کی نظم ’ہمیں واپس آنا ہے‘ میلکم نے اپنی ڈائری میں نقل کی۔ یہ نظم فلسطینی مزاحمت کی روح اور نوآبادیاتی ظلم کے خلاف عالمی جدوجہد کا ایک پراثر اظہار تھی۔

افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے سفر کے دوران میلکم ایکس انقلابیوں سے ملے جو سامراج اور امریکہ کی حمایت یافتہ آمرانہ حکومتوں کے خلاف برسرِپیکار تھے۔ ان ملاقاتوں نے ان کے اس شک کو یقینی بنا دیا کہ امریکہ جمہوری نہیں بلکہ ایک سامراجی طاقت ہے۔

میلکم نے 1964 میں ملیٹنٹ لیبر فورم میں کہاکہ ”تم سرمایہ داری کو نسل پرستی کے بغیر قائم نہیں رکھ سکتے۔“

ان کے مطابق امریکہ میں سیاہ فاموں کا استحصال کوئی اتفاقی بات نہیں، بلکہ ایک وسیع تر عالمی نظام کا حصہ تھا۔ ایک ایسا نظام جو ہارلم سے کانگو، میسیسیپی سے فلسطین، اور امریکی گھیٹوز تک دنیا کی ہر نوآبادیاتی نظام کا شکار قوم کی سامراجیت مخالف جدوجہد کو جوڑتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ”وہی بغاوت، وہی بے صبری، وہی غصہ جو افریقہ اور ایشیا کے سیاہ فام لوگوں کے دلوں میں ہے، وہی غصہ اس ملک کے 20 ملین سیاہ فاموں کے دلوں میں بھی موجود ہے۔“

میلکم ایکس نے امریکی خارجہ پالیسی کو بے نقاب کیا کہ وہ پرتشدد، نسل پرستانہ اور سامراجی ہے۔ انہوں نے امریکہ پر صرف سیاہ فام شہریوں کے ساتھ سلوک کے لیے تنقید نہیں کی، بلکہ اُن اقدامات پر بھی تنقید کی جو وہ دوسرے ممالک میں کرتا ہے۔ سی آئی اے کی افریقہ و لاطینی امریکہ میں قتل و بغاوتوں میں شمولیت، جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کی حمایت کو بے نقاب کیا، اور اس دوہرے معیار کو بھی،جس میں آزادی کا دعویٰ بیرونِ ملک کیا جاتا ہے، جبکہ ملک کے اندر جبر قائم رکھا جاتا ہے۔

آج بھی ان کی تنقید افسوسناک حد تک درست معلوم ہوتی ہے۔

میلکم ایکس کی وارننگز آج امریکہ کی اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری کی حمایت میں سنائی دیتی ہیں، جہاں پورے پورے خاندان امریکی ہتھیاروں سے تباہ کیے جا رہے ہیں۔ فلسطینیوں کی غیر انسانی تصویر کشی کرتے ہوئے انہیں مزاحمت کار نہیں بلکہ ’دہشت گرد‘ کہنا، بھی بالکل وہی پروپیگنڈا ہے جو میلکم ایکس نے امریکہ میں سیاہ فاموں کے خلاف ہونے والے تشدد کی وضاحت کے لیے رد کیا تھا۔ جیسا کہ میلکم ایکس نے امریکی پالیسی کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا، جو کچھ کے لیے انسانی حقوق، اور دوسروں کے لیے قبضے پر مبنی ہے، ویسے ہی آج غزہ میں ہونے والے مظالم اسی سامراجی منطق کو آشکار کرتے ہیں جس کے خلاف میلکم ایکس اپنی زندگی میں لڑتے رہے۔

ہم یہ منطق ہیٹی میں دیکھتے ہیں، جہاں امریکی پشت پناہی سے قائم حکومتوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ہم اسے ایک ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ میں دیکھتے ہیں، جو ڈرون حملے، بغاوتیں، اور دنیا بھر میں سینکڑوں فوجی اڈوں کو چلانے کے لیے صرف ہوتا ہے، جبکہ امریکہ کے اندر غریب طبقے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور لاکھوں افراد تنخواہ بہ تنخواہ زندگی گزارتے ہیں۔

داخلی طور پر میلکم ایکس کا نسلی تعصب پر تجزیہ آج پہلے سے زیادہ متعلقہ ہے۔ وہ پولیس کو سیاہ فام علاقوں میں ’قابض فوج‘کہتے تھے۔ یہ ایک ایسی زبان ہے جو آج بھی فرگوسن سے منیاپولس تک کے مظاہروں میں استعمال ہوتی ہے۔ انہوں نے اس وقت ہی قید و بند کے اس نظام کو سمجھا تھا جب ’اجتماعی قید‘(ماس انکارسریشن)کی اصطلاح بھی موجود نہ تھی۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ سزا دینے کے یہ نظام سیاہ فام لوگوں کو سدھارنے یا تحفظ دینے کے لیے نہیں، بلکہ انہیں قابومیں رکھنے اور محدود کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”یہی مطلب ہوتا ہے، جب یہ لااینڈ آرڈر کی بات کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمہیں اور مجھے قابو میں رکھنا چاہتے ہیں۔“

جیسے ہی میلکم ایکس حج کے بعد مکہ سے واپس امریکہ پہنچے تو انہوں نے جے ایف کے ایئرپورٹ پر ایک پریس کانفرنس کی۔ وہ اس دوران مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے دورے کے دوران مختلف رہنماؤں اور دانشوروں سے ملاقات کر چکے تھے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنی سوچ میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کیا اور افریقی نژاد امریکیوں کی جدوجہد کو انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر پیش کرنے کا تصور متعارف کروایا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ امریکہ کے خلاف سیاہ فام لوگوں کے ساتھ اس کے سلوک کی وجہ سے مقدمہ چلانے کے لیے کام کریں گے۔

دو ہفتے بعد ایف بی آئی کے ڈائریکٹرجے ایڈگر ہوور نے نیو یارک دفتر کو ایک خفیہ ہدایت بھیجی، جس میں لکھا تھا کہ ’میلکم ایکس کے بارے میں کچھ کریں۔‘

انسانی حقوق کے لیے میلکم ایکس کی بین الاقوامی جدوجہد، اور مختلف نظریات و نسلوں سے اتحاد بنانے کی ان کی صلاحیت، انہیں ایف بی آئی کی نظر میں ایک خطرناک شخصیت بنا چکی تھی۔ خاص طور پر اس وقت جب COINTELPRO پروگرام کے تحت سیاہ فام قیادت اور تنظیموں کو غیرقانونی طریقوں سے نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

میلکم ایکس کا انٹرنیشنل ازم خطرناک تھا کیونکہ وہ سچ بیان کرتا تھا۔ وہ یہ ظاہر کرتا تھا کہ امریکہ محض ایک ناکام جمہوریت نہیں بلکہ عالمی نسل پرستانہ سرمایہ داری کا مرکز ہے۔ اس لحاظ سے میلکم ایکس کے خیالات اپنے وقت کے بیشتر ہم عصروں سے زیادہ انقلابی اور زیادہ درست تھے، لیکن وہ اکیلے نہ تھے۔

اپنی زندگی کے آخری سالوں میں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر بھی میلکم ایکس کے قریب تر ہونے لگے تھے۔ انہوں نے ویت نام جنگ، فوجی صنعتی نظام، اور امریکی سرمایہ داری کی مذمت کی۔ 1967 کی“Beyond Vietnam”تقریر میں انہوں نے واشنگٹن کو”آج دنیا میں سب سے بڑا تشدد پھیلانے والا“قرار دیا۔ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر بھی میلکم ایکس کی طرح جلد ہی قتل کر دیے گئے۔

میلکم ایکس 1965 میں قتل کر دیے گئے۔ یہ عین اُس وقت کیا گیا،جب اُن کی سیاست ایک عالمی انقلاب کی طرف بڑھ رہی تھی۔ 6 دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ان کا تجزیہ چونکا دینے والی حد تک متعلقہ ہے۔

امریکی طاقت کے بارے میں ان کی وارننگز، نسل پرستانہ سرمایہ داری، تشدد پر انحصار، اور عالمی غلبہ، ہر ڈرون حملے، ہر پولیس کے ہاتھوں قتل، ہر ہتھیاروں کے سودے، اور ہر نظر انداز شدہ محلے میں سچ ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح ان کا عالمی یکجہتی کا پیغام بھی آج تک گونجتا ہے کہ ’اصلاحات کی بھیک مانگنے کی بجائے، پورے ظلم کے نظام کو الٹ دینا ضروری ہے۔‘

انہوں نے 1964میں کہا کہ ”تم ایسا کوئی انقلاب نہیں کر رہے جس میں تم استحصالی نظام سے درخواست کر رہے ہو کہ وہ تمہیں اس میں شامل کر لے، انقلابات نظاموں کو الٹ دیتے ہیں۔“

میلکم ایکس نے کبھی سچ بولنے سے انکار نہیں کیا، چاہے وہ کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔ وہ ہارلم سے کانگو، میسیسیپی سے فلسطین تک مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہے۔ ایسا انہوں نے داد حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے کیا کہ انصاف یہی تقاضا کرتا تھا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ”میں سچ کے ساتھ ہوں، چاہے وہ کوئی بھی کہے۔ میں انصاف کے ساتھ ہوں، چاہے وہ کسی کے لیے ہو یا کسی کے خلاف۔میں سب سے پہلے ایک انسان ہوں، اور اسی لیے میں اُن کے ساتھ ہوں، اور اُن چیزوں کے ساتھ ہوں، جو مجموعی انسانیت کے لیے فائدہ مند ہوں۔“

ان کی میراث صرف تقاریر یا تصویروں میں نہیں، بلکہ تحریکوں میں زندہ ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف عالمی غم و غصے میں، ہیٹی میں امریکی مداخلت کی مخالفت میں، اور قید خانوں سے لے کر رفح تک انسانی وقار کے لیے جاری جدوجہد میں میلکم ایکس زندہ ہیں۔

میلکم کو یاد کرنا، لیکن ان جدوجہد کو نظر انداز کرنا، اُس سیاست سے غداری ہے جس نے انہیں مغربی طاقت کے لیے خطرہ بنایا۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ یکجہتی صرف اخلاقی فریضہ نہیں، بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔ سرحدوں سے پرے، سکون سے پرے، پروپیگنڈا سے پرے اور یہ کہ مظلوموں کا ساتھ دینا انتخاب نہیں فرض ہے۔

(بشکریہ: ’جیکوبن‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Donté L. Stallworth
ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں