روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

نالائق اور نکمی افسر شاہی کے ہاتھوں زخمی پاکستان

نالائق اور نکمی افسر شاہی کے ہاتھوں زخمی پاکستان

سیف الرحمان رانا

غلام رسول پاکستانی شجر کار دوست کی سوشل میڈیا پر شائع شدہ ایک پوسٹ چند روز قبل پڑھنے سے پتہ چلا کہ باغوں کے شہر لاہور میں ایک بار پھر خوبصورتی اور ترقی کی آڑ میں برگد کے درخت کاٹنے کی تیاری کی جا چکی ہے۔ اگر کوئی شخص لاہور کا باسی ہے تو وہ خوب جانتا ہے کہ نیلا گنبد کا علاقہ لاہور میں اپنی سب سے الگ بلکہ منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اسی مقام پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے عین سامنے کھلی جگہ پر لاہور کا سب سے بڑا فوارہ سر شام چلتے ہی لوگوں کہ توجہ اپنی جانب مبذول کروالیتا تھا۔ نیلا گنبد کے اردگرد پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس، مئیو ہسپتال، نئی و پرانی انارکلی بازار، سائیکل مارکیٹ، بینک اسکوائر، لاہور ہائی کورٹ اور جی پی او جیسے مصروف ترین ادارے اور بازار واقع ہیں۔ ان مقامات پر روزانہ ہزاروں لوگ روزمرہ کے کام کاج نمٹانے کے لیے آتے ہیں۔ ان سیاحوں کے لیے آج بھی نیلا گنبد کا علاقہ ایک پرسکون جگہ ہے۔ ہم نے بھی لاہور میں رہتے ہوئے بہت سے روز و شب میں اس جگہ کا نظارہ کیا ہے۔ آج سے کچھ عرصہ قبل فوارہ کے اردگرد واقع سبزہ زار میں کسی عظیم انسان نے برگد کے متعدد درخت لگا دیے اور یہ درخت پروان بھی چڑھ گئے۔ ان درختوں کے باعث پرندوں کو خوراک ، انسانوں کو سایہ ،جبکہ مشترکہ طور پر دونوں کو مفت میں آکسیجن سے بھری تازہ ہوا بھی نصیب ہوئی۔

اب حکام بالا کو نیلا گنبد کے چوک کی تزئین و آرائش کا خیال آیا تو نئے ڈیزائن میں سب سے پہلے برگد کے درختوں کے قتل عام کا فیصلہ ہوا ہے۔ سنا ہے کہ تعمیراتی کام شروع کردیا گیا ہے۔ اور اب یہ درخت کسی بھی صورت بچ نہیں پائیں گے۔ ہم وہ قوم ہیں جسے دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تیزی سے بڑھتی مقدار کے باعث موسمیاتی و ماحولیاتی بدترین تبدیلیوں کا سامنا ہے، جبکہ ہم ہیں کہ ان خطرناک موسمیاتی و ماحولیاتی آلودگی سے پیدا شدہ منفی اثرات کو کم کرنے والے سب سے بڑے عنصر درخت کو ختم ہی کرتے جارہے ہیں۔ یعنی اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی خود چلا رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں آفت تو قدرت کی جانب سے ہمارے لیے آزمائش ہے۔

مہذب دنیا میں درختوں کو کاٹنا یا ان کے وجود کو ختم کرنا سنگین ترین جرم شمار ہوتا ہے۔ وہاں سڑک پر موڑ بنادیا جائے گا لیکن درخت کو حتی المقدور بچایا جائے گا، لیکن اگر درخت کو اس کے مقام سے ہٹانا ضروری ہو تو اسے کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا اور ساتھ ہی مزید شجرکاری کی جائے گی۔ تاہم یہاں کے نااہل اور نکمے سرکاری لوگ کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ بنائیں تو سب سے پہلے درخت کاٹیں گے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ حکومت پاکستان کے قوانین کے تحت ہر ترقیاتی منصوبے کے لیے جو بھی رقم مختص کی جائے گی اس کا ایک فیصد حصہ شجرکاری اور سبزہ زاروں کے لیے مختص ہوگا۔ بدقسمتی سے یہ ساری رقم متعلقہ اداروں و افسروں کے پیٹ کے جہنم کا ایندھن بن جاتی ہے۔ آج لاہور میں برگد یعنی بوہڑ کا قتل عام ہونے لگا ہے، تو ہماری کوئی عدالت، کوئی ماحولیاتی ادارہ، کوئی میڈیا ہاؤس اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہیں کرے گا اور جو آواز احتجاج بلند کرے گا اس کی کوئی سنتا نہیں ہے۔ ہاں اگر کسی منصوبے سے پیسے کمانے کا نیا ذریعہ پیدا ہونے کا ایک فیصد بھی امکان ہو تو سب لٹیرے اکٹھے ہو کر اپنا اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے یکجا ہو جائیں گے۔

سب سے زیادہ آکسیجن پیدا کرنے والا، پرندوں و حشرات کے لیے سب سے زیادہ خوراک پیدا کرنے والا، سب سے زیادہ ٹھنڈک اور سایہ فراہم کرنے والا مقامی لوگوں کا بوہڑ ماضی قریب میں دوپہر کے اوقات میں سماجی میل جول کا سب سے بڑا مرکز بھی ہوتا تھا۔ جہاں یہ درخت اپنا سایہ پھیلاتا ،تو یہ سب کی مشترک میراث بن جاتا تھا۔ آج یہ ہمارے خطہ میں اجنبی درخت کا درجہ پا چکا ہے۔

ہاں مجھے شرمندگی ہے کہ میں نے درختوں کی ناجائز اور بے دریغ کٹائی کے خلاف اس وقت آواز کیوں بلند نہ کی جب پاکپتن کینال کے دونوں اطراف موجود ہزاروں درختوں کو سرکاری عملے نے کاٹ کر بیچ ڈالا۔ میں نے اس وقت آواز کیوں بلند نہ کی جب شجرکاری کے نام کر ہر سال کروڑوں بلکہ اربوں کے فنڈز کی خردبرد میری آنکھوں کے سامنے ہوتی رہی۔ میں نے اس ظلم کے خلاف اس وقت آواز کیوں بلند نہ کی جب جنگلات کے لیے مختص ہزاروں ایکڑ رقبے کو چٹیل میدانوں میں تبدیل کردیا گیا۔ میں نے قوم سے یہ حقائق کیوں چھپائے کہ ہر سال ہمارے جنگلات کا رقبہ مسلسل کم ہورہا ہے۔ دنیا میں 25 فیصد زمینی رقبے پر جنگلات ہونے چاہئیں لیکن ہمارے ہاں جنگلات والے رقبہ کی شرح تین فیصد سے بھی کم ہو چکی ہے۔

جب مجھے پتہ چلا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب ہمارے گلیشیرز تیزی سے پگھلنا شروع ہوچکے ہیں تو میں خاموش رہا۔ میں ایک عام شہری ہوں۔ اب حقائق آپ کے سامنے لانے سے میں قطعی طور پر ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوں گا۔ لہٰذا میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اس بدقسمت قوم کا حصہ ہوں جہاں مال کمانے کے لیے راوی کنارے جنگل بسانے کی بجائے کنکریٹ کا جنگل ترجیح ہے۔ میں اس قوم کا حصہ ہوں جہاں موسمیاتی و ماحولیاتی آلودگی سے پیدا شدہ منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے دنیا مفت میں 11 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کرتی ہے اور ہمارے سرکاری عمال بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس رقم کے استعمال کے لیے عملی منصوبہ بندی کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم آج میں روزنامہ ’جدوجہد ‘کے پلیٹ فار سے نیلا گنبد کے درخت کاٹنے کے خلا ف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ انہیں مت کاٹنا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں