لاہور(جدوجہد رپورٹ)برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق وینزویلا کی موجودہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز اور ان کے بااختیار بھائی جارج روڈریگز نے صدر نکولاس مادورو کی امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری سے قبل خفیہ طور پر امریکہ اور قطر کو یقین دہانی کرائی تھی کہ مادورو کے منظر سے ہٹتے ہی وہ تعاون کے لیے تیار ہوں گے۔
چار اعلیٰ سطحی ذرائع کے مطابق یہ رابطے گزشتہ سال کے موسم خزاں میں شروع ہوئے، جب ڈیلسی روڈریگز نائب صدر تھیں، اور یہ سلسلہ اس اہم ٹیلی فون کال کے بعد بھی جاری رہا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے مادورو سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں، جسے مادورو نے مسترد کر دیا۔
ذرائع کے مطابق دسمبر تک ڈیلسی روڈریگز نے امریکی حکام کو یہ پیغام دے دیا تھا کہ”مادورو کو جانا ہوگا“اور وہ ”بعد از مادورو“صورتحال سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے مادورو کا تختہ الٹنے میں براہ راست مدد کرنے سے انکار کیا۔ ان کا موقف تھا کہ وہ صرف مادورو کے ہٹنے کے بعد استحکام میں کردار ادا کریں گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ابتدا میں امریکی وزیر خارجہ و قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو اس طرح کے رابطوں کے مخالف تھے، مگر بالآخر انہیں یقین ہو گیا کہ ڈیلسی روڈریگز کی یقین دہانیاں مادورو کے بعد ملک میں انتشار روکنے کا بہترین راستہ ہیں۔
امریکی خفیہ اور سفارتی چینلز کے ذریعے ہونے والی ان بات چیت میں قطر نے اہم کردار ادا کیا۔ قطر کے حکمران خاندان سے ڈیلسی روڈریگز کے قریبی تعلقات نے خفیہ مذاکرات کے دروازے کھولے۔ قطر کی وساطت سے ڈیلسی نے گزشتہ سال ایک عبوری حکومت کی تجویز بھی دی تھی، جس کی وہ سربراہی کرنا چاہتی تھیں، لیکن منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔
اسی عرصے میں مادورو خود بھی امریکی عہدیدار رک گرینیل سے ملاقات کر چکے تھے، جس کے نتیجے میں واشنگٹن میں قید امریکی شہریوں کی رہائی عمل میں آئی۔ دوسری جانب امریکی حکام اور روڈریگز بہن بھائیوں کے درمیان باقاعدہ رابطے بھی جاری رہے، خصوصاً امریکہ سے وینزویلا واپس بھیجے جانے والے شہریوں کی پروازوں اور سیاسی قیدیوں کے معاملات پر۔
ذرائع کے مطابق ڈیلسی روڈریگز نے امریکی تیل کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی، جس نے واشنگٹن میں ان کے لیے مزید اعتماد پیدا کیا۔
جب 5 جنوری کو امریکی ہیلی کاپٹروں نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا، اس وقت ڈیلسی روڈریگز منظر سے غائب تھیں۔ افواہیں تھیں کہ وہ ماسکو جا چکی ہیں، لیکن دو ذرائع کے مطابق وہ وینزویلا کے تفریحی علاقے مارگیریتا آئی لینڈ پر موجود تھیں۔
امریکی حکام کا بنیادی مقصد مادورو کی روانگی کے بعد خانہ جنگی یا ریاستی انتشار سے بچنا تھا۔ ڈیلسی روڈریگز کی طرف سے تعاون کی یقین دہانی نے اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔