کونال چھتوپادھائے
امریکہ کے سامراجی حملے کے بعد بہت سے لوگ اس کی وجہ پوچھتے ہیں۔اوباما سے لے کر ٹرمپ تک ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز امریکی صدورنے کہا ہے کہ وینزویلا میں ایک خطرناک منشیات کارٹیل ہے جس کی غیر قانونی منشیات کی برآمدات امریکی شہریوں کو تباہ کر رہی ہیں۔
حقیقت میں وینزویلا ایک دو طرفہ بحران میں ہے۔ جب ہوگو شاویز 1998 میں صدر منتخب ہوئے تو وینزویلا کی سیاست اور معاشرہ ایک نئے موڑ پر آ گئے۔ وینزویلا ایک تیل سے مالا مال ملک ہے۔ وینزویلا کو 1821 میں ہسپانوی سلطنت سے آزادی ملی، لیکن اس کے بعد ملک کو وسیع پیمانے پر غربت اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ 1914 میں تیل کی دریافت کے ساتھ ہی سامراجی دخل اندازی وینزویلا کی معیشت میں بڑھ گئی۔ اس وقت صدر نے غیر ملکی اور خاص طور پر امریکی تیل کی کمپنیوں کی مدد کی۔ 1958 تک عملاً ایک کے بعد ایک فوجی پشت پناہی والی حکومتیں برسراقتدار رہیں۔ 1958 میں ایک عوامی بغاوت نے مارکوس پیریز جمنیز کی حکومت کو ختم کیا اور لبرل جمہوریت قائم کی۔ یہ وقت تھا جب دو بڑی بورژوا پارٹیوں، ڈیموکریٹک ایکشن اور کمیٹی آف انڈیپنڈنٹ الیکٹورل پولیٹیکل آرگنائزیشنز کے درمیان تعاون تھا۔ 1976 میں عالمی تیل کے بحران کے دوران صدر کارلوس آندرَیس پیریز نے تیل کو قومی ملکیت میں لے لیا، اور ایک سرکاری ادارہ، پی ڈی وی ایس اے، قائم کیا گیا، لیکن یہ ادارہ غیر ملکی کمپنیوں اور ملکی اشرافیہ کے ہاتھوں میں تھا۔ بدعنوانی اور بحران کی ایک اور دہائی نے بغاوت کا ماحول پیدا کیا۔
1989-1998-2002
1989 میں کارلوس آندریس پیریز دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے، اور فوراً بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ذریعے تجویز کردہ ’’ساختی اصلاحات‘‘پر عمل شروع کیا، یعنی اخراجات میں کٹوتی، نجکاری، اور کرنسی کی قدر میں کمی کی گئی۔ خوراک، ایندھن اور نقل و حمل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔
فروری 27 کو دارالحکومت کاراکاس میں ایک بہت بڑا مظاہرہ ہوا۔ سپر مارکیٹیں لوٹی گئیں، بسیں جلا دی گئیں، اور سرکاری دفاتر پر حملے کیے گئے۔ حکومت نے کئی لڑائیاں لڑ کر اپنی طاقت برقرار رکھی۔ 3ہزار سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے۔ ہزاروں کو گرفتار کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
یونین میں شامل ایک متاثرہ شخص فوجی میجر ہوگوشاویز فریاس تھے۔ سیمون بولیوار کے نظریات سے متاثر شاویز چاہتے تھے کہ دولت کم از کم جزوی طور پر عام لوگوں میں تقسیم ہو۔ شاویز اور ان کے ہم منصب افسران نے ایک خفیہ تنظیم ایم بی آر 200 قائم کی۔ فروری 1992 میں شاویز، جو اس وقت کرنل تھے، نے پیریز کے خلاف ایک بغاوت کی کوشش کی۔ یہ بغاوت ناکام رہی اورشاویز نے پوری ذمہ داری قبول کی۔ انہوں کہا کہ’’اب تک‘‘ان کے مقاصد پورے نہیں ہوئے ہیں۔ انہیں قید کی سزا دی گئی، مگر عوامی تحریک کے دباؤ میں دو سال کے اندر رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ ملک بھر میں اپنے سیاسی نظریات کو فروغ دینے کے لیے گھومتے رہے اور 1997 میں ایک تنظیم ’’ففتھ ریپبلک موومنٹ‘‘قائم کی۔ انہوں نے سیمون بولیوار (جو جنوبی امریکہ کو ہسپانوی حکومت سے آزاد کروانے کے مرکزی ہیرو تھے)، سوشلزم، انقلاب اور یسوع کے نظریات کو ملاتے ہوئے ایک نظریہ پیش کیا۔
شاویز نے خود کو صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کیا۔ ان کی حمایت میں بہت سے ’بولیوارین سرکلز‘نچلی سطح پر قائم کیے گئے۔ انہوں نے نیا آئین بنانے کی تجویز دی اور کہا کہ وینزویلا کے تیل کے وسائل کو غریبوں کے سماجی منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے استعمال کیا جائے۔ اہم بورژوا پارٹیوں نے ان کی مخالفت کے لیے اتحاد قائم کیا، لیکن 6 دسمبر 1998 کو وہ 56 فیصد ووٹ لے کر صدرمنتخب ہوگئے۔ اپریل 1999 میں 87.75 فیصد ووٹرز نے نئے آئین کے حق میں ووٹ دیا۔ آئین ساز اسمبلی نے اجلاس کیا اور طویل بحث اور عوامی رائے کے مشورے کے بعد جو آئین اپنایا گیا وہ بورژوا دائرہ کار میں تو تھا، لیکن پہلے سے کہیں زیادہ جمہوری اور ترقی پسند تھا۔ ریاست نے قدرتی وسائل خاص طور پر تیل پر کنٹرول رکھا اور آئینی طور پر پی ڈی وی ایس اے کی نجکاری کو ممنوع قرار دیا۔ خواتین کے مساوی حقوق کی ضمانت دی گئی، اور براہ راست جمہوریت کے عناصر، بشمول ریفرنڈمز، متعارف کرائے گئے۔ صحت اور تعلیم کے مفت حق کو تسلیم کیا گیا۔ مقامی قبائل اور افرووینزویلائی لوگوں کی زمین، زبان اور ثقافتی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی۔ مسودہ آئین کو ریفرنڈم میں 71.78 فیصد ووٹرز نے منظور کیا۔
جولائی 2000 میں نئے آئین کے تحت صدارتی اور دیگر منتخب عہدوں کے لیے انتخابات ہوئے۔ شاویز 59.76 فیصد ووٹ لے کر منتخب ہوئے۔ نومبر 2001 میں نیشنل اسمبلی نے انہیں ایک سال کے لیے مخصوص معاملات میں فرمان کے ذریعے قانون سازی کرنے کا اختیار دیا۔ اس حق کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے 49 فرمان جاری کیے جن میں زمین کی تقسیم کا قانون اور ہائیڈروکاربنس کا قانون شامل تھے، جس سے ریاست کی تیل سے آمدنی میں اضافہ ہوا۔ سامراجیوں اور مقامی اشرافیہ میں شدید غصہ پایا جانے لگا۔ انہوں نے شاویز کو ’’کمیونسٹ‘‘اور’’آمر‘‘کہنا شروع کر دیا، حالانکہ وہ نہ کمیونسٹ تھے اور نہ آمر۔ سب سے امیر کمپنیوں اور خاندانوں کے اتحاد نے ضروری اشیاء جیسے کھانے کے تیل اور چاول کو ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کی۔ انہوں نے کارخانے بند کرنا شروع کر دیے، ملک سے سرمایہ نکالا، اور سرمایہ کاری سے انکار کیا۔ ان کے پیچھے سی آئی اے تھی۔
اپریل 2002 میں ایک بغاوت ہوئی۔ فوج کی اعلیٰ سطحوں نے بغاوت کی اور صدارتی محل کو فوجیوں نے گھیر لیا۔ جب شاویز نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تو امریکی مدد سے انہیں ملک سے باہر ایک جزیرے پر قید کر دیا گیا۔ اس لیے مادوروکا تختہ الٹنا وینزویلا کی حالیہ تاریخ میں کوئی نیا واقعہ نہیں تھا۔ تاہم2002 میں عوام کا جوش و جذبہ کہیں زیادہ تھا۔ 12 اپریل کو پیڈرو کارمونا، جو ردانقلابیوں کے نمائند ہ تھے،نے صدر کے طور پر حلف اٹھایا اور انہیں جارج بش کی حکومت نے فوراً تسلیم کر لیا۔ کارمونا نے جمہوریت کی بحالی کے نام پر تمام جمہوری اداروں اور طریقہ کار کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ شاویز کے وزراء کو چھپنے پر مجبور کر دیا گیا، لیکن عام لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ 13 اپریل کو کاراکاس کے مرکز میں چاروں طرف سے لوگوں کے ہجوم اکٹھے ہو گئے۔ فوج کے وہ حصے جو شاویز کے حق میں تھے، سازش کرنے والوں کے خلاف ہو گئے۔ کچھ سازش کرنے والے گرفتار ہوئے، جبکہ باقی فرار ہو گئے۔ شاویز کو 14 اپریل کو واپس لایا گیا۔ یہ لاطینی امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ امریکہ کی مدد سے ہونے والی بغاوت عوامی انقلابی جدوجہد کے سامنے ناکام ہوئی۔
پرانی ریاستی مشین تباہ ہو چکی تھی۔ مزدور اور دیگر غریب لوگ سڑکوں پر قابض تھے۔ فوج کی نچلی سطحیں انقلاب کے حق میں تھیں۔ اگر شاویز چاہتے تو انقلاب کو سوشلزم کی طرف بڑھایا جا سکتا تھا۔ وہ کارخانوں اور بڑی جاگیروں پر قبضے، سامراجی املاک کی ضبطگی، غیر ملکی قرضوں کی منسوخی کا مطالبہ کر سکتے تھے۔ وہ مسلح عوامی ملیشیا بنانے کا بھی اعلان کر سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے سب سے امن قائم رکھنے اور اپنے گھروں کو واپس جانے کا مطالبہ کیا۔ اس واقعے سے متعلق اب تک کسی کو سزا نہیں دی گئی۔
پیٹروسوشلزم اور اس کی ناگزیر حدود
ردانقلابیوں نے ایک جنگ ہاری، مگر ان کی طاقت ختم نہیں ہوئی۔ شاویز نے ان کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی۔ مالکوں نے دسمبر 2002 میں تیل کی صنعت کو لاک آؤٹ کر کے حکومت کو ایک بڑے اقتصادی بحران کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی۔ وینزویلا سے باہر ہیوسٹن سے چلنے والے کمپیوٹر بند کر دیے گئے، اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔
محنت کش طبقہ لڑ رہاتھا۔ پی ڈی وی ایس اے کے ایک بڑے حصے سے بیوروکریسی کو ختم کر دیا اور کارکنوں نے کنٹرول سنبھال لیا۔ آنے والے سالوں میں کارکنوں نے لاک آؤٹ یا فیکٹریوں کی بندش کے جواب میں بہت سی فیکٹریاں قبضے میں لے لیں۔ پرانی کرپٹ یونینوں کو چھوڑ کر ایک بڑی جمہوری مزدور یونین قائم کی گئی جسے یو این ٹی یعنی نیشنل لیبر یونین کہا گیا۔
شاویز کا اصلاحات کا راستہ قابل ذکر تھا۔ گروسری شاپس میں سبسڈیز دی گئیں، سرکاری تعلیم کو فروغ دیا گیا، مفت تعلیم متعارف کرائی گئی۔ غریب محلوں اور دور دراز دیہاتوں میں بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کی گئیں، اور کیوبا سے تیل کے بدلے ڈاکٹروں کو بھیجا گیا۔ زمین غریب کسانوں میں تقسیم کی گئی، اور سستی رہائش کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ یہ پروگرام لاکھوں لوگوں کے لیے ایک بنیادی تبدیلی تھا۔ یہاں تک کہ وینزویلا کی سرکاری کمپنی سیٹگو نے امریکہ میں مقیم مقامی امریکیوں کو تیل معمولی قیمتوں پر فراہم کیا۔
یقینی طور پر سامراج خاموش نہیں بیٹھا۔ اس نے کولمبیا کے دائیں بازو کے کرایہ داروں کے ذریعے حملے منظم کیے۔ سرکاری دفاتر اور سینئر سرکاری اہلکاروں کی گاڑیوں پر بم پھینکے گئے۔ بورژوا پارٹیوں نے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ 2004 میں انہوں نے وینزویلا کے آئین کی منفرد جمہوری خصوصیت کا استعمال کرتے ہوئے صدر کے خلاف ریفرنڈم کا مطالبہ کیا، لیکن شاویز نے ریفرنڈم میں 59 فیصد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ ان تجربات کے بعد شاویز نے فیصلہ کیا کہ سوشلزم کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ (برازیل کے شہر)پورٹو الیگرے میں ورلڈ سوشل فورم میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زمین پر جنت قائم کرنے کے لیے سوشلزم ضروری ہے۔
2006 کے صدارتی انتخاب میں 78 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، اور شاویز نے کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 62 فیصد حاصل کیے۔ کئی بین الاقوامی مبصرین، جن میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر بھی شامل تھے، کومجبور ہو کر کہنا پڑا کہ یہ انتخاب آزاد تھا، مگر سامراجی میڈیا نے شاویز کو ایک آمرانہ حکمران قرار دیا۔
2007 میں انہوں نے نئی پارٹی’یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینزویلا‘ کی بنیاد رکھی ۔ چند ہفتوں میں 5 لاکھ ممبران شامل ہو گئے۔ تقریباً 1200 اداروں کو قومی ملکیت میں لینے کی تجویز پیش کی گئی۔تاہم حقیقت میں چند ہی ادارے قومی ملکیت میں آئے، اور وہ بھی بیوروکریٹک انتظامیہ کے زیر انتظام تھے، کارکنوں کے کنٹرول میں نہیں تھے۔ ان کی مشکلات پرانی بورژوا ریاست کی بیوروکریسی پر انحصار کی وجہ سے مزید بڑھ گئیں۔ نتیجتاً وینزویلا کا سوشلزم بتدریج صرف ایک ’’پیٹروسوشلزم‘‘ بن کر رہ گیا۔
معیار زندگی میں بہتری آئی مگر یہ بہتری ورکنگ کلاس کے کنٹرول میں وسائل لانے کی بجائے، ریاست کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں سے حاصل ہونے والے منافع کو اہم ضروریات کی سبسڈی میں لگانے سے آئی۔ جب 2014 کے بعد قیمتیں گریں، تو کسی بھی پیداواری قوت پر انحصار کا موقع نہ رہا۔ یعنی انہوں نے نہ تو سرمایہ داری کو ختم کیا اور نہ ورکروں کی جمہوریت قائم کی، بلکہ معیشت میں متبادل بھی تلاش نہیں کیے۔ تمام صنعتی مصنوعات درآمد کی جا رہی تھیں، لیکن 2014 کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے اتنی زیادہ درآمد ممکن نہیں رہی۔
ہوگو شاویز 5 مارچ 2013 کو طویل کینسر سے جدوجہد کے بعد وفات پا گئے۔ وہ بلا شبہ ایک ایماندار انقلابی اور عوام دوست تھے۔۔۔ اگرچہ وہ سوشلزم کی بات کرتے تھے، مگر بورژوا ریاستی مشین کو توڑنے اور بورژوا طبقے کی معاشی طاقت ختم کرنے کی اہمیت کو سمجھ نہیں سکے۔
نکولس مادورو کی حکومت نے براہ راست شاویز کی حکومت کے نقش قدم پر عمل نہیں کیا۔ اس حکومت کی اپنی خصوصیات ہیں۔ ایک طرف وہ اسٹالن اورماؤ طرز کی تقریریں کرتی جو انہیں بین الاقوامی یکجہتی حاصل کرنے میں مدد دیتی، اور دوسری طرف وینزویلا کے اندر اختلاف رکھنے والے بائیں بازو والوں پر حملے بھی کرتی۔ جب مزدور یونینیں اجرتوں میں اضافے اور بہتر زندگی کا مطالبہ کرتیں تو ان پر حملے ہوتے۔ کئی نئی شروعات بھی کی گئیں۔ امریکی کمپنیوں نے تیل کم قیمت پر بیچنا شروع کر دیا۔ بہت سی صنعتیں جو قومی ملکیت میں لائی گئی تھیں، انہیں پھر سے نجی ملکیت میں دے دیا گیا۔ 2024 کے انتخابات کے قریب ملک کے بائیں بازو کے ایک حصے نے مادورو کی حکومت کی مخالفت کی۔
سامراجی دباؤ
امریکی سامراج کی طرف سے وینزویلا پر دباؤ اور کھلے حملے آج کے حالات نہیں ہیں۔ ہم اس تاریخ کو دو حصوں میں دیکھ سکتے ہیں ،20ویں صدی سے پہلے، اور 20ویں صدی میں۔
ایدوآرڈو گالیانو نے اپنی 1971 کی کتاب The Open Veins of Latin America میں لکھا کہ لاطینی امریکہ سے امریکی سرمایہ داروں کی طرف سے لوٹے گئے تمام منافع کا نصف وینزویلا سے آتا ہے۔ وینزویلا کے سیاستدان ڈومنگو البرٹو رینگل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اتنی مختصر مدت میں دنیا کے سرمائے میں اتنا زیادہ اضافہ نہیں کرسکا ۔ وینزویلا سے ہونے والا سرمائے کا انخلا اس سے زیادہ ہے جتنا ہسپانویوں نے پوٹوسی (چاندی کے ذخائر سے مالا مال بولیویا کا شہر)سے لیا، یا انگریزوں نے بھارت سے۔
یہ جارحانہ امریکی پالیسی ٹرمپ، اوباما یا یہاں تک کہ تھیوڈور روزویلٹ (صدر 1901-1908) سے شروع نہیں ہوئی۔ یہ 1823 میں اس وقت شروع ہوئی جب جیمز مونرو صدر تھے۔ مونرو نے ایک نئی امریکی پالیسی کا اعلان کیا، جس میں شمالی پیسیفک ساحل پر روس کے دعوے اور طاقتور یورپی طاقتوں کے ممکنہ حملے سے لاطینی امریکی ممالک کی حفاظت کو مدنظر رکھا گیا۔ یورپی طاقتیں مغربی نصف کرہ میں مداخلت نہیں کر سکتیں، اور امریکہ میں کوئی نئی نوآبادیات قائم نہیں ہو سکتیں۔ ابتدا میں اس میں کچھ جمہوری پہلو بھی تھے، لیکن جیسے جیسے صنعتی انقلاب نے امریکہ میں سرمایہ داری کو مضبوط کیا، ’’مونرو ڈاکٹرائن‘‘ اس بات کا اظہار بن گیا کہ امریکہ ہی دونوں امریکہ کے خطوں میں واحد سلطنت ہوگا۔ سب سے واضح مثال 1845-1848 کی جنگ تھی جس میں امریکہ نے موجودہ ٹیکساس، کیلیفورنیا، نیواڈا، یوٹاہ، اریزونا، نیو میکسیکو، کولوراڈوکے علاقے، واؤمنگ، کینساس، اور اوکلاہوما کے حصے میکسیکو سے چھین لئے ۔
1902 میں وینزویلا کے صدر سیپریانو کاسترو نے اعلان کیا کہ غیر ملکی قرضہ غیر منصفانہ ہے۔ جواب میں برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے مشترکہ بحری بیڑا بھیجا۔ صدر تھیوڈور روزویلٹ نے پھر مونرو کی پالیسی کو واضح کیا کہ لاطینی امریکہ میں مداخلت ہو سکتی ہے، مگر صرف امریکہ کرے گا۔ تب سے مختلف ممالک میں بار بار امریکی فوجی مداخلتیں ہوئی ہیں، فوجی بغاوتوں کی حمایت کی گئی، جمہوری اور بائیں بازو کی حکومتوں کو ختم کیا گیا، وغیرہ۔
1908 میں امریکیوں نے فوجی بغاوت کے ذریعے کاسترو کو ہٹا دیا اور ان کے نائب صدر اور سابق حامی، خوان ویسینٹے گومز کو صدر بنا دیا (جو آج کے حالات سے مشابہ لگتا ہے)۔ گومز نے امریکیوں سے ملک کو پرسکون رکھنے کی درخواست کی اور بدلے میں انہوں نے 25 سال کی آمریت نافذ کی۔ امریکی رسالے ’ٹائم‘ نے اس آمریت کو ہٹلر، موسولینی اور اسٹالن کے دور سے مشابہ قرار دیا ۔
یہ بھی سچ ہے کہ امریکی لالچ وینزویلا کے حوالے سے کبھی ختم نہیں ہوئی، لیکن ہم یہاں صرف شاویز اور مادورو کے دور کا جائزہ لیں گے۔
اپریل 2002 کی بغاوت میں امریکہ کے کردار کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ 2010 کی دہائی میں امریکی حکومت نے مختلف سول سوسائٹی گروپوں کو بڑی رقم فراہم کی ،تاکہ وہ حکومت کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سرگرمی سے کام کریں۔ 2014 کی ہنگاموں کے بعد جب حکومت نے مظاہرین کو گرفتار کیا، تو امریکی حکومت نے مختلف ’’پابندیاں‘‘یعنی اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔ 2015 میں اوباما نے وینزویلا کو امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے لیے ایک منفرد خطرہ قرار دیا۔ 2017 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے عشائیے میں صدر ٹرمپ نے کئی لاطینی امریکی رہنماؤں کے ساتھ وینزویلا پر امریکی حملے کے امکانات پر کھل کر بات کی۔ 2017 سے 2020 تک وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنیوں پر امریکی سخت پابندیوں نے تیل کی پیداوار میں 75 فیصد کمی کی، اور ملک کی فی کس حقیقی مجموعی ملکی پیداوار 62 فیصد کم ہو گئی۔ 23 جنوری 2019 کو امریکہ نے یکطرفہ طور پر خوان گوایدو کو ’’عارضی صدر‘‘کے طور پر تسلیم کر لیا۔ 28 جون کو امریکہ نے وینزویلا کے 7 ارب ڈالر کے اثاثے ضبط کیے اور گوایدو کو ان سے کچھ اخراجات کرنے کا اختیار دیا۔
شاویز اگرچہ مارکسی نہیں تھے، لیکن مسلسل جمہوری عمل پر زور دیتے رہے۔ تاہم شاویز کی وفات کے بعد مادورو کومعمولی اکثریت سے صدر منتخب کیا گیا، اور 2015 میں دائیں بازو کی اپوزیشن نے قانون ساز انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی۔ 2017 سے 2023 کے درمیان، اپوزیشن نے کئی بار اقتدار پر قبضے کی کوششیں کیں، جن میں گوایدو کا عارضی صدر کے طور پر اعلان بھی شامل ہے، جسے 10 لاطینی امریکی ممالک اور یورپی یونین کے بیشتر ممالک نے قبول کیا۔
بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انتخابات میں ووٹرز کی شرکت کم ہوتی گئی کیونکہ اپوزیشن حصہ نہیں لے رہی تھی۔ فوج کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا۔ تیل اور کان کنی کے نجی مفادات مسلسل بڑھنے لگے۔ مادورو نے 2023 میں معاشی پابندیوں سے بچنے کے لیے بارباڈوس معاہدے پر دستخط کیے۔ صدارتی انتخاب 2024 میں طے پایا تھا۔ انتہائی دائیں بازو نے ابتدائی طور پر ماریا کورینا ماچادو کو نامزد کیا۔ شاویز کی اتحادی جماعتوں ،جیسے وینزویلا کی کمیونسٹ پارٹی اور فادرلینڈ فار آل نے 2024 میں اینریک مارکیز کی حمایت کی۔ ماچادو کی امیدواریت کو مسترد کر دیا گیا اور دائیں بازو کے امیدوار ایڈمندو گونزالیز تھے۔ انتخابات 28 جولائی کو ہوئے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مادورو نے 51 فیصد ووٹ حاصل کیے، لیکن دائیں بازو کی اپوزیشن نے انٹرنیٹ پر وہ نتائج شائع کیے جو انہوں نے وینزویلا کے انتخابی قانون کے مطابق ہر پولنگ بوتھ سے حاصل کیے تھے۔ بظاہر وہی جیتنے والے تھے۔ وینزویلا کے دیرینہ حلیف ممالک برازیل، کولمبیا اور چلی کے صدور نے بھی نتائج قبول کرنے سے انکار کیا ،جب تک حکومت کوئی ثبوت فراہم نہ کرے۔ انتخابات کے بعد احتجاجی طور پر سڑکوں پر نکلنے والے لوگ زیادہ تر مزدور اور غصے میں دائیں بازو کی بجائے بائیں بازو کے لوگ تھے۔ سینکڑوں ٹریڈ یونین رہنما، مقامی انتخابی نگران اور محلے کے سماجی کارکن بغیر مقدمہ چلائے گرفتار کیے گئے یا جلاوطنی پر مجبور کیے گئے۔ ہزاروں مظاہرین کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اینریک مارکیز کو بھی گرفتار کیا گیا۔
تاہم عوامی حمایت میں کمی کی اصل وجہ امریکی معاشی جارحیت اور شاویز اور مادورو کی غلط پالیسیاں تھیں۔
شاویز کی غلطی یہ تھی کہ وہ صرف تیل کی آمدنی پر انحصار کرتے رہے اور یہاں تک کہ ترقی پسند کینزین ماہرین معاشیات سے بھی مشورہ نہیں کیا۔ 2017 میں جب پہلی بار ٹرمپ انتظامیہ نے پابندیاں لگائیں، تب سے بین الاقوامی مالیاتی نظام کی مدد سے معیشت کو زندہ رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایک سال یعنی ،2018 میں مہنگائی ایک لاکھ فیصد سے تجاوز کر گئی۔ 7 ملین وینزویلا ئی باشندے ملک چھوڑ گئے۔گزشتہ چند سالوں میں مادورو کی حکومت نے بحران پر قابو پانے کی کوشش کی، مگر یہ کوشش دائیں بازو کی اصلاحات کے راستے پر چلتے ہوئے نجکاری کی طرف لوٹ گئی، ریاستی شعبے کو کم کیا، یعنی اپنی عوامی بنیاد کو نقصان پہنچایا۔
بولیوارین انقلاب کے آخری چند سالوں میں معاشی بحران اور جمہوریت کے زوال نے اتنا بڑا اثر ڈالا کہ عوامی تحریک اتنی کمزور ہو گئی کہ سامراجیت ملک پر قابض ہو سکی۔ اگر سامراجیت کامیاب ہوئی ہے تو یہ وینزویلا کے عوام کی خواہش کی وجہ سے نہیں، بلکہ قیادت کی ناکامی، فوسل کیپٹل کے شکنجے سے باہر نکلنے کی نااہلی، اور انقلابی ابتدائی دور کی جمہوریت کو برقرار نہ رکھ پانے کی وجہ سے ہوا۔
طارق علی نے حال ہی میں ایک مضمون میں لکھا کہ جب 2004 کے ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج آئے، میں نے شاویز سے پوچھا کہ’’کامریڈ، اگر ہم ہار گئے تو کیا کریں گے؟‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’اگر ہار گئے تو کیا کرتے ہیں؟ آپ عہدہ چھوڑ دیتے ہیں اور باہر سے دوبارہ لڑتے ہیں، یہ سمجھاتے ہوئے کہ کیوں وہ غلط تھے۔‘‘ان کا اس بارے میں بہت مضبوط جذبہ تھا۔ اسی لیے شاویز کے حامیوں کو شروع سے ہی غیر جمہوری کہنے کا الزام غلط ہے۔ شاویز کے دور میں اپوزیشن کے اخبارات اور ٹی وی چینلز مسلسل پروپیگنڈہ کرتے رہے اور حکومت پر حملے کرتے رہے -96 ایسی صورت حال آپ برطانیہ یا امریکہ میں نہیں دیکھ سکتے۔
تاہم لڑائی ختم نہیں ہوئی۔ امریکی سامراجیت کا منصوبہ کیا ہے؟
کیا یہ تیل کے لیے جنگ ہے؟
اگر ہم وینزویلا پر حملے کو صرف تیل کے لیے حملہ کہیں، تو سچائی کا مکمل احاطہ نہیں ہوگا۔ سامراج تیل کے لیے مختلف راستے اختیار کرتا ہے۔ اس حملے کے پیچھے وجوہات پر تفصیل سے بات کرنا ضروری ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے آخری چند مہینوں میں امریکہ نے وینزویلا پر پابندیاں دوبارہ عائد کیں، جو کہ 2024 کے متنازعہ انتخابات کے خلاف امریکی ردعمل کا حصہ تھیں۔ شروع میں ٹرمپ انتظامیہ نے حملے سے پیچھے ہٹنا شروع کیا۔ رچرڈ گرینل صدر کے نمائندے کے طور پر وینزویلا گئے۔ شیورون کو وینزویلا کا تیل براہ راست پیدا کرنے اور امریکہ برآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔ امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات بہتر ہوتے نظر آئے، لیکن اچانک حالات بدل گئے۔ آئیے پہلے واقعات کی تفصیلات دیکھتے ہیں۔
اگست 2025 کے وسط میں امریکہ نے کیریبین سمندر میں ایک بڑی بحریہ تعینات کی۔ ان کا مرکزی ہدف وینزویلا کا ساحل تھا۔ 1902-1903 کے بعد وینزویلا کے گرد اتنی بڑی بحریہ پہلی بار نظر آئی۔ آئیوو جیما ریڈی گروپ (ایمفیبیئن)،22 ویں میرینز، کچھ تباہ کن جہاز، ایک کروز، ایک نیوکلیئر آبدوز، P-8 پوسائیڈن طیارے، اور فوجی ہیلی کاپٹر جمع کیے گئے۔ 15 اگست کو یہ فورس نارفوک، ورجینیا سے روانہ ہوئی۔ 27 اگست کو رپورٹ ہوئی کہ یہ جنوبی کیریبین سمندر میں وینزویلا کے ساحل کے قریب گشت کر رہے ہیں۔ وینزویلا کی حکومت نے میڈیا مہم شروع کی۔ پہلے کہا گیا کہ سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو ٹرمپ کو دھوکہ دے رہے ہیں، یعنی وہ ٹرمپ سے براہ راست مقابلے سے بچنے کی مضحکہ خیز کوشش کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے 2009 سے قائم ملیشیاؤں کو فعال کیا، قومی یکجہتی کا نعرہ لگایا، مگر شاہی قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کیا۔ وہ اپنی نیولبرل پالیسی سے بھی پیچھے نہیں ہٹے۔
2 ستمبر کو امریکہ نے ’’آپریشن سدرن اسپیر‘‘ کا اعلان کیا۔ اس کا مقصد وینزویلا سے ہونے والا نام نہاد ’’نارکوٹیررازم‘‘ تھا۔ اسی دن امریکی حملے میں ایک موٹر بوٹ ڈوب گیا جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔ حملے جاری رہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ مادورو حکومت نے کہا کہ وینزویلا تیار ہے۔مادورو نے اعلان کیا کہ ضرورت پڑی تو وہ مسلح جمہوریہ کا اعلان کریں گے۔ 10 ستمبر کو امریکی وزیر دفاع پیٹر ہیگسیتھ نے مشترکہ منشیات روک تھام فورس بنانے کا اعلان کیا۔ مزید 10 کشتیوں کو نقصان پہنچا۔ اکتوبر میں وینزویلا کی حکومت نے فوجی مشقیں شروع کیں، مگر ملک میں بحران موجود تھا۔ زیادہ تر لوگ امریکی حملے کی حمایت نہیں کر رہے تھے، لیکن شاویز کے دور کی طرح خود بخود لوگ سڑکوں پر نہیں نکلے۔ نومبر میں امریکہ نے مزید جنگی جہاز بھیجے جن میں ایک طیارہ بردار جہاز بھی شامل تھا۔ نومبر کے آخر تک ہلاک شدگان کی تعداد 83 ہو چکی تھی۔ ان میں سے کوئی گرفتار نہیں ہوا، کوئی مقدمہ نہیں چلا، اور کوئی منشیات سمگلنگ میں ثابت بھی نہیں ہوئی۔ 21 نومبر کو امریکہ نے بغیر ثبوت کے کہا کہ ایک منشیات اسمگلنگ تنظیم ’’کارٹیل ڈی لوس سولس‘‘ موجود ہے، اور مادورو خود اس میں ملوث ہیں۔ نومبر کے آخر میں وینزویلا پر براہ راست حملے کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔
وینزویلا کی حکومت کے نقطہ نظر سے یہ حملہ اچانک اور غیر ضروری تھا۔ مختصر وضاحتوں اور حوالوں کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ مادورو حکومت پچھلے ایک سال میں کتنا انتہائی دائیں بازو کی ہو گئی ہے۔ انہوں نے شاویز کے دور سے قومی آمدنی میں مزدوروں کا حصہ بہت کم کر دیا ہے (https://ilostat.ilo.org/data/country-profiles/ven/)۔ حکومت نے انتہائی سخت اخراجات میں کمی کی پالیسی نافذ کی ہے (https://www.ilostat.ilo.org/data/country-profiles/ven/) ۔ انہوں نے اپنی پولیس کو ایک زبردست اینٹی ورکر فورس میں تبدیل کر دیا (http://imf.org/external/datamapper/rev@FPP/VEN)۔ بائیں بازو کی پارٹیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے اور شاویز کے دور کے جمہوری حقوق ختم کر دیے گئے ہیں (https://links.org.au/what-happened-venezuelas- )۔ ماحولیات کے کارکنوں اور قبائلی سماجی کارکنوں پر حملے کیے گئے، کیونکہ وہ جرمنی کی دی لنکے پارٹی کی روزا لکسیمبرگ فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر کام کرتے تھے اور انہیں سامراجی ایجنٹ کہا گیا (https://links.org.au/venezuelas-authoritarian-turn-and-)، اور ٹرانس جینڈر افراد پر بھی سخت حملے کیے گئے (https://x.com/i/status/1785120397102362915)۔
تاہم یہ واضح ہے کہ ٹرمپ کو اس میں دلچسپی نہیں تھی۔ اس کا اصل مقصد وینزویلا پر براہ راست کنٹرول قائم کرنا ہے۔ 1991 سے امریکی سامراج اور دیگر سامراجی طاقتوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم بین الاقوامی نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔روس کے زوال پذیر بیوروکریٹک سوویت یونین سے ابھرنے، اور پیوٹن دور میں روسی سرمایہ داری کی سامراجی بڑھوتری، چین کی مضبوط سرمایہ دارانہ معیشت کا امریکہ کے مقابلے میں ابھرنا، چین، بھارت، برازیل، جنوبی افریقہ کے متبادل اقتصادی اتحاد بنانے کی کوششیں، اور یورپ کی جغرافیائی سیاسی و فوجی تنزلی نے عالمی سیاست اور معیشت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائی ہیں۔
ان عوامل میں سے ایک امریکہ کی معیشت کا زوال بھی ہے۔ جب یورپ کو دوسری عالمی جنگ نے تباہ کر دیا تھا، تو امریکی سرمائے نے یورپ کی مدد کی تاکہ وہ دوبارہ کھڑا ہو سکے ، یہ خیرات کے طور پر نہیں بلکہ امریکی سرمائے کے مفاد کے لیے تھا۔ اس وقت ڈالر دنیا کی اہم کرنسی تھا، لیکن حالیہ دہائیوں میں یہ صورتحال بدل گئی ہے۔ 1974 میں عالمی تیل کے بحران کے دوران پیٹرو ڈالر کا نظام بنایا گیا، جو امریکہ اور سعودی عرب کے معاہدے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ معاہدے کے مطابق دنیا کی تیل کی مارکیٹ ڈالر میں چلائی جائے گی، اور بدلے میں امریکہ سعودی عرب کو بھاری فوجی امداد دے گا۔
21ویں صدی میں امریکہ نے ان کے خلاف سخت کارروائی کی ، جنہوں پیٹرو ڈالر کی اجارہ داری کو چیلنج کیا۔ صدام حسین چاہتے تھے کہ یورپ کے ساتھ تیل کا لین دین یورو میں ہو۔ اس میں براہ راست یورپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ 2003 میں امریکہ نے عراق پر جھوٹے بہانوں سے حملہ کر دیا۔ 2009 میں لیبیا کے قذافی نے ایک متبادل کرنسی کی تجویز دی۔ ہلیری کلنٹن کے لیک ہوئے ای میلز سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی لیبیا پر حملے کی وجوہات میں سے ایک تھی۔
کئی سالوں سے چین نے ڈالر کے متبادل، یعنی ڈالر پر مبنی عالمی کرنسی نظام (SWIFT) کے متبادل کی کوشش کی ہے۔ چین اور وینزویلا کے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں۔ وینزویلا پر حملے کے بعد مارکو روبیو نے این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’’ہم امریکہ کے مخالفین کو وینزویلا کی تیل کی صنعت کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘ اس موقع پر انہوں نے چین، روس اور ایران کا ذکر کرتے ہوئے بلاجھجھک کہا کہ ’’مغربی نصف کرہ ہمارا ہے۔‘‘ اس مطالبے میں رکاوٹ اس حقیقت کی وجہ سے آئی کہ وینزویلا بیجنگ کا ایک اہم تجارتی ساتھی تھا۔ 2000 سے چین نے وینزویلا کو 6 ارب ڈالر کے قرضے دیے ہیں۔چین کی معیشت کو مغربی نصف کرہ میں داخل ہونے سے روکنا، اور اس کے ذریعے چین کے مجموعی اثر و رسوخ کو محدود کرنا، امریکہ کے حملے کی بڑی وجہ ہے، صرف تیل نہیں۔
ہر کوئی جانتا ہے کہ وینزویلا کے پاس بہت زیادہ تیل کے ذخائر ہیں، لیکن وینزویلا کے خام تیل کی ریفائننگ مہنگی ہے۔ 300 ارب بیرل کے ذخیرے کا 75 فیصد اورینوکو خام تیل ہے، جس میں سلفر کی مقدار زیادہ ہے، اور اسے ریفائن کرنے کے لیے وینزویلا کی تیل کی صنعت کو اگلے 6 سالوں میں 85 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اس کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مکمل اعتماد درکار ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا امریکی ادارے بھی اس پر اعتماد کریں گے یا نہیں۔
ٹرمپ کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہوگی کہ وہ چین کو اس تیل سے محروم کر دیں۔ چین روزانہ وینزویلا سے 6لاکھ بیرل تیل خریدتا ہے۔ اگر یہ خریداری بند ہو گئی، تو انہیں کہیں اور سے زیادہ قیمت پر تیل خریدنا پڑے گا، ممکن ہے وہ بھی ڈالر میں۔
وینزویلا کی خودمختاری پر حملے کو ایک وسیع تر سیاق و سباق میں رکھنا بھی ضروری ہے۔ حالیہ ماضی میں لاطینی امریکہ وہ براعظم رہا ہے جہاں بائیں بازو کی عوامی تحریکیں اور بائیں بازو کی حکومتوں کے انتخاب کی شرح سب سے زیادہ رہی ہے۔ مونرو ڈکٹرائن کی اس جارحانہ انداز میں دوبارہ تصدیق کا مقصد ان تمام ملکوں کو خبردار کرنا ہے کہ اگر وہ امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچائیں، یا امریکہ کے نزدیک دشمن طاقتوں کے ساتھ مل جائیں، تو ان کی خودمختاری کو پس پشت ڈالنا پڑے گا، اور امریکہ ہتھیار بند کشتیوں، ہیلی کاپٹروں، کمانڈو دستوں کے ذریعے مداخلت کے لیے تیار ہے، اور بین الاقوامی سطح پر مافیا طرز کے طریقے اختیار کرے گا۔
خاص طور پر یہ کبھی نہ چھوڑی جانے والی امریکہ کی کیوبا کے خلاف جنگ کا بھی حصہ ہے۔ کیوبا نے کافی حد تک وینزویلا کے تیل پر انحصار کیا ہوا تھا۔ ان کے لیے اس کا کٹ جانا چین کی نسبت ایک معمولی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک بہت سنگین حملہ ہوگا۔ مزید یہ کہ اگر ٹرمپ وینزویلا میں حکومت پر قابض ہو گیا تو امریکہ کو کیوبا پر جبری قبضے اور حکومت کی تبدیلی کے لیے ہمت ملے گی۔ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ وہی امریکہ جو فلسطینی آبادی کو یہوددشمن قرار دے کر گلا گھونٹتا ہے،اس میں کیوبائی آبادی کے انتہاپسند دائیں بازو کا گروہ بھی موجود ہے ، جس میں روبیو بھی شامل ہیں، اور یہ لوگ طاقت اور دولت کے مقامات پر موجود ہیں۔
مادورو کا ہٹایا جانا اور مزاحمت
مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ لے جایا گیا جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات لگائے گئے۔ مادورو نے جواب دیا کہ وہ جنگی قیدی ہیں اور دشمن عدالت میں ان کا مقدمہ نہیں ہو سکتا۔ ٹرمپ اور ان کی ٹیم پہلے ہی سمجھ چکے ہیں کہ دائیں بازو کی اپوزیشن کم از کم فی الحال حکومت میں نہیں آ سکتی۔ وینزویلا کی سپریم کورٹ نے نائب صدر کو 90 دن کے لیے عبوری صدر مقرر کر دیا ہے۔ ٹرمپ مادورو کے سابق اتحادیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے حق میں کام کریں،لیکن مزاحمت موجود ہے۔
امریکی نوآبادیات کے خلاف وسیع قومی اتحاد کی پہلی شرط یہ ہے کہ کیا ایسا اتحاد مادورو اور ان کی بیوی کی رہائی کے لیے لڑے گا؟ وہ اتنی آسانی سے گرفتار ہو گئے کہ فطری طور پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا فوج اور ملک کی انتظامیہ نے انہیں دھوکہ دیا ہے؟ نئی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ غداروں کو بے نقاب کرے اور ان کے خلاف کارروائی کرے۔ مادورو کے ساتھ منسلک فوجیوں کے اعصاب کو مضبوط بنانا ضروری ہے، کیونکہ اگرچہ ان میں سے کئی جان کی بازی ہار چکے ہیں، لیکن حملہ آوروں میں سے کوئی بھی نہیں مرا۔ ٹرمپ بار بار کہہ چکے ہیں کہ روڈریگز کی حکومت ان کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ اگر وہ اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے، تو ان کے گرد کوئی مزاحمت قائم نہیں ہو سکے گی۔
ملک میں مزاحمت کی ذہنیت موجود ہے، لیکن کوئی واضح قیادت نہیں ہے۔ وہ بائیں بازو کی اپوزیشن، جو اب تک مادورو کے خلاف جمہوریت کے لیے لڑتی رہی ہے، اس کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ جمہوریت کی مانگ کو ترک کر کے’’اصولی تضاد‘‘ کا انتخاب کرے گی، یا اتحاد کی شرط جمہوریت کی توسیع ہوگی۔
بین الاقوامی ردعمل اور بھارت
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے سب سے پہلے امریکی کارروائی پر بین الاقوامی قانون کی ممکنہ خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا اور تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پابندی کریں۔تاہم حکومتوں کے ردعمل میں بہت تنوع پایا گیا ہے۔کچھ نے کھلے عام مذمت کی ہے ،جبکہ کچھ نے خاموشی سے حمایت کی ہے، اور بعض ممالک نے طریقہ کار پر سوال اٹھائے مگر نتیجے کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ مختلف ردعمل ایک گہرے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے ۔ سالوں کی منتخب تعمیل (Selective Compliance)نے بین الاقوامی قانون کی اتھارٹی کو کمزور کر دیا ہے، جو تقریباً 1945 سے 1991 کے درمیان کسی حد تک قبول شدہ تھا۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کسی دوسرے ملک کے خلاف طاقت کا استعمال ممنوع ہے، سوائے سیلف ڈیفنس یا سکیورٹی کونسل کی اجازت کے۔ اس معاملے میں دونوں شرائط لاگو نہیں ہوتیں۔ پھر بھی اعلامیوں کی حد تک کی مذمت سے آگے بین الاقوامی نظام زیادہ تر بے بس دکھائی دیتا ہے۔ سکیورٹی کونسل نے کولمبیا کی درخواست پر 6 جنوری کو ہنگامی اجلاس بلایا۔ چین، روس، وینزویلا، برازیل اور خود کولمبیا نے،جن کے صدر کو بھی امریکی دھمکیاں ملی ہیں کہ وہ مادورو کی طرح ہو سکتا ہے،سب سے سخت مذمت کی اور امریکی مداخلت کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔ زیادہ تر یورپی ممالک نے تشویش ظاہر کی لیکن اسے غیر قانونی قرار دینے سے گریز کیا۔ کوئی قرارداد سامنے نہیں آئی، جو کہ متوقع تھا کیونکہ امریکہ کے ویٹو کا امکان تھا۔
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے مادورو کے خاتمے کا خیرمقدم کیا، برطانیہ کے وزیر اعظم کیر سٹارمر نے اب تک اس آپریشن کی مذمت سے انکار کیا، جبکہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی براہ راست ٹکراؤ سے گریز کیا اور اسے اپنے وزراء کے حوالے کر دیا۔
ملایشیااور جنوبی افریقہ نے کھل کر امریکی مداخلت کی مذمت کی اور وینزویلا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، لیکن نئی دہلی کا بیان غیر جانبدار رہا اور کسی فریق کا ساتھ نہیں دیا۔ تو بھارت، جو خود کو گلوبل ساؤتھ کا رہنما کہتا ہے، اس نے سختی سے ردعمل کیوں نہیں دیا؟ جنوبی ایشیائی سیاست کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ اس کی وجہ حقیقت پسندی (pragmatism) ہے۔
امریکی کارروائی کے اگلے دن بھارت کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں وینزویلا میں حالیہ واقعات پر ’’گہری تشویش‘‘کا اظہار کیا۔بیان میں کہا گیا کہ ’’وینزویلا میں حالیہ پیش رفت گہری تشویش کا باعث ہے۔ ہم وہاں بدلتی ہوئی صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں‘‘۔
منگل کو لگسمبرگ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی یہی موقف دہرایا۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وینزویلا کے عوام کی فلاح و سلامتی کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم حالیہ پیش رفت پر فکر مند ہیں، اور تمام اطراف سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسی صورتحال پیدا کریں جو وینزویلا کے عوام کی فلاح و سلامتی کے حق میں ہو۔‘‘
دوسرے الفاظ میں بھارت ایک لین دین پر مبنی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ آپریشن سندور کے دوران بھارت کو امریکی حمایت کم ملی۔ ممکن ہے کہ مودی کی یہ سوچ ہو کہ وینزویلا میں امریکہ کی مذمت سے گریز کر کے بھارت اپنی اگلی کشیدگی، چاہے وہ پاکستان کے ساتھ ہو یا کسی اور پڑوسی کے ساتھ، کے لیے امریکی حمایت حاصل کر رہا ہے۔
یہ جھکاؤ شاید زیادہ عملی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ ٹرمپ بھارت کو سفارتی معاملات میں کسی بھی طرح کا برابر یا قریب برابر ساتھی نہیں سمجھتے۔
