لاہور(جدوجہد رپورٹ) فورتھ انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو بیورو کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے ابتدائی 6ماہ مکمل ہونے کے موقع پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کا انتخاب دنیا کے سب سے بڑے سامراجی ملک میں ایک نیوفاشسٹ قیادت کے برسراقتدار آنے کی نمائندگی کرتا ہے، جو فلسطینی عوام کی نسل کشی کو سرگرمی سے ہوا دے رہی ہے۔ یہ انتخاب عالمی طاقتوں کے توازن میں مزید دائیں بازو کی طرف جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے، اور اوربان، مودی، میلونی، بولسونارو جیسے رہنماؤں کو تقویت دیتا ہے۔
19 جنوری 2025 کو قریبی فرق سے انتخاب جیتنے اور عوامی ووٹ کا صرف ایک تناسب حاصل کرنے کے بعد اقتدار سنبھالنے والی ٹرمپ حکومت نے ایک گہرے رجعتی ایجنڈے پر عمل کیا ہے ،جو امریکہ میں جمہوری حقوق اور دنیا بھر کے لیے جارحیت کے خطرات کو بڑھاتا ہے۔
ٹرمپ امریکہ کے مزدور طبقے اور دنیا بھر کے محکوم عوام کے لیے خاص طور پر ایک زہریلا خطرہ ہیں۔ ان کے حملوں کا ایک خاص مرکز LGBTIQ* افراد بالخصوص ٹرانس جینڈر افراد ہیں، جو کہ عالمی سطح پر دائیں بازو کی بڑی قوتوں، بشمول پیوٹن، کے رجعتی نظریات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
یہ ٹرمپ کے عمومی رجعتی سماجی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس میں نسلی اقلیتوں، خواتین کے تولیدی حقوق، تارکین وطن، ماحولیاتی تبدیلی کی حقیقت، جمہوری حقوق، عدم تشدد کے اصول، قانونی توازن و احتساب اور اقتدار کے کلی اختیار کے خلاف سنگین حملے شامل ہیں۔
تجارتی محصولات کا عام اطلاق ٹرمپ کی نظریاتی ضد ہے، اور ان کا اعلان اس کے اقتدار کے پہلے دنوں میں ہی امریکی سامراجی طاقت کے اظہار کے طور پر سامنے آیا۔ تاہم اندرونی معاشی اثرات اور بالخصوص ’برکس ‘ممالک کی جانب سے ردعمل کے خدشے نے واشنگٹن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جو امریکی سامراج کے غلبے کے بحران میں مزید اضافہ کا باعث بنا۔
ریپبلکن پارٹی اور امریکی عدلیہ کے ایک حصے کی حمایت سے ٹرمپ کا مطلق العنان اقتدار کی طرف رجحان انہیں ایک آمر اور نیوفاشسٹ بناتا ہے، اور عالمی سطح پر دائیں بازو کی قوتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ اگرچہ مخالفین پر پابندی نہیں لگی اور جمہوری حقوق مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے،جو نیوفاشزم کے پیمانے ہوتے ہیں،لیکن اس سمت میں رجحان واضح ہے۔
امریکہ طویل عرصے سے دنیا میں سب سے زیادہ فوسل فیول استعمال کرنے والا ملک رہا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے عالمی ماحولیاتی تنظیم COP سے علیحدگی اختیار کی، تیل کمپنیوں کو مزید ایندھن نکالنے کی اجازت دی گئی، اور سرکاری دستاویزات سے ماحولیاتی تبدیلی کا ذکر حذف کر دیا گیا۔
ٹرمپ حکومت نے لاکھوں تارکین وطن، بالخصوص لاطینی امریکیوں اور جنوبی ایشیائیوں کے خلاف ایک بے رحم پولیس/فوجی مہم کا آغاز کیا۔مہاجر مزدوروں کو مجرم قرار دے کر ایل سیلواڈور کو گوآنتانامو جیسے جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ مہم امریکہ کے اندر سفید فام بالادستی کی انتہائی رجعتی قوتوں کو مزید جرأت بخشتی ہے۔
ٹرمپ نے امریکی جامعات پر جو حملے کیے ہیں، ان میں فلسطین سے اظہار یکجہتی کو ’یہود مخالف‘کہہ کر ان پر پابندیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس قسم کا جبر فلسطین سے اظہار یکجہتی کی تحریک اور آزادی اظہار کے حقوق کو منجمد کرتا ہے۔ فلسطین کے حامی مظاہروں کو ’یہود دشمن‘قرار دینا اصل میں ٹرمپ کی نسل پرستانہ سیاست اور حقیقی یہود دشمنی کو چھپانے کی چال ہے۔
حال ہی میں ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں نے ایک رجعتی بجٹ پاس کیا ہے جو امیر ترین طبقے کو بے پناہ ٹیکس رعایتیں دیتا ہے، اور یہ براہ راست میڈیکیڈ (غریب افراد کے لیے صحت کا سرکاری پروگرام) اور خوراک کے کوپن (فوڈ اسٹامپ) جیسے غریب عوام کے منصوبوں میں کٹوتی کے ذریعے پورا کیا گیا ہے۔ اس وقت 7 کروڑ 10 لاکھ افراد میڈیکیڈ سے مستفید ہوتے ہیں۔
ٹرمپ کی پانامہ نہر، کینیڈا، اور گرین لینڈ کو’ضم‘کرنے کی دھمکیاں، 19ویں صدی کی برہنہ سامراجیت کی واپسی کی نمائندگی کرتی ہیں۔
یوکرین کے مسئلے پر ٹرمپ پیوٹن کے ساتھ ایک لوٹ مار پر مبنی سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں، تاکہ نوآبادیاتی جنگ کا شکار یوکرین کے عوام کی قیمت پر اثر و رسوخ کے علاقے بانٹے جا سکیں۔
یورپی ممالک کو ٹرمپ کی نیٹو سے لاتعلقی کی بیان بازی نے چونکا دیا، لیکن جلد ہی اس اتحاد کو اس کے تاریخی مقام یعنی یورپ کی اطاعت گزاری پر واپس لایا گیا۔ٹرمپ نے اس اتحاد کو امریکہ کے احکامات پر یورپی دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔
اگرچہ ’امریکہ سب سے پہلے‘کی پالیسی ٹرمپ کی اپنے اتحادیوں کے خلاف جارحیت کی بنیاد ہے، لیکن ایران پر حالیہ حملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جہاں مفادات کو خطرہ ہو،وہاں امریکہ فوجی طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔
ٹرمپ اسرائیل کی نسل کشی کو بدستور حمایت دے رہے ہیں، جیسا کہ تمام امریکی صدور کرتے آئے ہیں۔ غزہ کی پٹی کو اس کے باشندوں سے خالی کرا کے ایک ’لگژری ریزورٹ‘میں بدلنے کی ٹرمپ کی دھمکی دنیا کی تاریخ کا ایک خوفناک جرم ہو گا۔
ڈیموکریٹک پارٹی نے ٹرمپ کی مخالفت میں مکمل نااہلی دکھائی ہے، کیونکہ یہ پارٹی بھی ریپبلکنز کی طرح 1 فیصد امیر طبقے کی ہی نمائندہ ہے۔
AOC اور برنی سینڈرز کی ریلیوں میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد ٹرمپ مخالف جذبات کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ نیو یارک میں ممدانی کی حالیہ پرائمری میں فتح ڈیموکریٹک اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک چیلنج ہے۔ ان کا ترقی پسند اور سرمایہ داری مخالف ایجنڈا اس بات کی علامت ہے کہ کیسے ایسے عوامی نمائندے منتخب کیے جا سکتے ہیں جو عوامی مفادات کی نمائندگی کرتے ہوں۔
پچھلے کچھ مہینوں میں امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف ایک بھرپور عوامی تحریک سڑکوں پر ابھری ہے۔ لاکھوں افراد نے ملک کے ہزاروں شہروں اور قصبوں میں مظاہروں میں شرکت کی ہے۔ ان میں مہاجر مزدور سب سے آگے ہیں۔ یہ مظاہرے دنیا بھر میں دائیں بازو کی حکومتوں کا مقابلہ کرنے والوں کو حوصلہ دیتے ہیں۔
فورتھ انٹرنیشنل کا بیورو ابھرتی ہوئی ٹرمپ مخالف تحریک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتا ہے۔
ٹرمپ حکومت مردہ باد!
امریکی جارحیت اور دھمکیوں کا خاتمہ ہو!
لاس اینجلس کی بہادر احتجاجی تحریک کو سلام!
فوسل فیول کی امریکی توسیع بند کرو!
تارکین وطن پر جنگ بند کرو!
یوکرین کے عوام کو حق خودارادیت دو!
غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی امریکی حمایت بند کرو!