اداریہ
۱۔پاکستان نے افغانستان کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ تازہ فضائی کاروائیوں کو آپریشن غضب للحق کا نام دیا گیا ہے۔ اس بار کابل سمیت دیگر دو شہروں پر حملے کیے گئے ہیں۔ ایک ہفتے کے دوران یہ دوسری فضائی مہم تھی۔ یہ اعلان جنگ اچانک نہیں ہوا۔ اس کی پیشگی تیاری کی گئی۔ یہ حملے اس بات کا بھی اظہار تھے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری ممکن نہیں رہی۔ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی دونوں ممالک کے مابین شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔ وقتی جنگ بندی کے بعد قطر، ترکی،چین اور سعودی عرب وغیرہ کی وساطت سے مذاکرات کے 65 دور ہوئے۔ لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس دوران پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ گزشتہ سال پاکستان میں دہشت گردی کی ایک ہزار کاروائیاں ہوئیں جن میں سے اکثریت کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی۔ ان واقعات میں مارے جانے والے سکیورٹی اہلکاروں اور عام لوگوں کی تعداد سینکڑوں (یا شاید ہزاروں) میں ہے۔یہ صورتحال تازہ اعلانِ جنگ کا فوری پس منظر ہے۔
۲۔یہ بات اب ریاست کے نمائندے خود تسلیم کرتے ہیں کہ طالبان (اپنے تمام تر ناموں اور شکلوں سمیت) وہ مونسٹر ہے جو پاکستانی ریاست نے بطور فرینکنسٹائن ڈالر جہاد کے دوران تخلیق کیا تھا۔ حتیٰ کہ ڈالر جہاد سے خوب مستفید ہونے والے مولانا فضل الرحمان جیسے سسٹم کے نیم سرکاری ترجمان بھی ببانگ دہل کہتے ہیں کہ طالبان مونسٹر سامراجی و ریاستی فرینکنسٹائنز نے تخلیق کیا۔ یوں یہ کئی دہائیوں کی ریاستی پالیسیاں ہی ہیں جنہوں نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا ہے۔ جیسا کہ انگریزی میں کہتے ہیں”:The chickens have come home to roost.“
۳۔ندیم فاروق پراچہ یا اس نوع کے دوسرے لبرل دانشور ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فرینکنسٹائن مونسٹر والی تھیوری پرانی ہو چکی۔ حالات بدل چکے ہیں اور ریاست اب اس مونسٹر سے نجات حاصل کرنا چا ہتی ہے۔ مین اسٹریم میڈیا میں افغانستان میں رژیم چینج کی ہلکی پھلکی بانسری بھی بجائی جا رہی ہے۔ لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ فرینکنسٹائن تھیوری کے ترک کیے جانے کے حوالے سے بات کر لی جائے۔ ریاستی فرینکنسٹائن نے یہ طالبان مونسٹر ابتدائی طور پر امریکی سی آئی اے کے افغان جہاد کے لئے تخلیق کیا تھا لیکن بعد ازا ں اسے بھارت کیخلاف اور تذویراتی گہرائی اور داخلی سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ اس پالیسی کو بعد ازاں گڈ طالبان بیڈ طالبان کی شکل میں نیا رنگ دیا گیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب اور پاکستان کے زیر اہتمام جموں کشمیر میں گڈ طالبان (ان گروہوں کا نام اور ظاہری شکل جو بھی ہو) سرکاری سر پرستی میں سر گرم عمل ہیں۔ مسجد و مدرسہ نیٹ ورکس، تبلیغی جماعت، جہادی یوٹیوبرز اور جہادی میڈیا وغیرہ وہ نرسریاں ہیں جہاں سے اسلامی بنیاد پرستی جنم لیتی ہے۔ یہ سارا عمل ملک میں موجود غربت، بیروزگاری، لمپنائزیشن اور کالے دھن کی معیشت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ایک نیو لبرل ریاست ہے جس نے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقی کی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار دے رکھا ہے اور ایک ایسی بحران زدہ معیشت چلا رہی ہے جس میں بہت سے پسے ہوئے اور بے سہارا لوگوں کے پاس یہی متبادل بچتا ہے کہ وہ اسلامی بنیاد پرستوں کی تعمیر کی ہوئی متبادل ریاست سے رجوع کریں۔ یہ ’متبادل ریاست‘ مدارس اور خیراتی اداروں کی شکل میں لوگوں کو تھوڑی بہت تعلیم،صحت، روزگار اور سماجی سہارا تو فراہم کرتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ طالبان جیسے گروہوں کے لیے فُٹ سولجرز بھی مہیا کرتی ہے۔ گڈ بیڈ طالبان والی پالیسی نیو لبرل لاجک کے تحت اس بات کی غماز ہے کہ ایسے مونسٹر تخلیق کیے جاتے رہیں گے۔ یہ عمل ایک طرح سے پاکستانی سرمایہ داری میں رچ بس گیا ہے۔ وہ یہ سلسلہ روکنا نہیں چاہتے۔ بہرحال بوقت ضرورت ایسے گروہوں کی کانٹ چھانٹ کی جاتی ہے‘ کچھ لوگوں یا دھڑوں کو کچل بھی دیا جاتا ہے اور یوں اپنے کنٹرول میں یہ عمل جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
۴۔ شاید پاکستان کابل میں رژیم چینج لے آئے۔ اس کے لیے یا تو طالبان کا کوئی دھڑا (اکثر حقانی نیٹ ورک کا نام لیا جاتا ہے) بغاوت کر سکتا ہے یا شمالی اتحاد کے سر پر ہاتھ رکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے اور کامیابی کے امکانات معمولی ہیں۔ لیکن بالفرض ایسا ہو جائے تو بھی پاکستانی ریاست ٹی ٹی پی اور داعش جیسے گروہوں کو لگام نہیں دے سکے گی۔ امریکی قبضے کے دوران اگر اربوں ڈالر کے زور پر افغانستان میں کوئی صحتمند‘ مرکزی حکومت قائم نہیں ہو سکی تو پاکستانی معیشت کیسے ایسا کوئی آپریٹس کا بل میں متعین کر سکتی جو پورے ملک پر اپنی رِٹ اور تسلط قائم کر سکے۔ پاکستان کی معیشت اس کی اجازت ہی نہیں دیتی۔
۵۔ طالبان کی تخلیق یا پرورش میں تذویراتی گہرائی کی پالیسی کو مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ لہٰذا جب تک تذویراتی گہرائی پاکستانی ریاست کے سر پر سوار رہے گی‘ افغانستان جلتا رہے گا۔ اور جب تک افغانستان میں آگ لگی رہے گی‘پاکستان میں بارود کی بو اور دھواں اٹھتا رہے گا۔ طورخم کے دونوں جانب بے بس‘ بے گناہ لوگ جہنم جیسی زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے۔ اسی طرح مغربی سرحد کا امن مشرقی سرحد کے امن سے جڑا ہوا ہے (جہاں بی جے پی کی فسطائیت کسی بہتری کے امکانات کو مزید مشکل بنا رہی ہے)۔ دہشت گردی کے خلاف کاروائی کے نام پر افغانستان کے خلاف اعلانِ جنگ کر کے پاکستان نے بیانئے کے نقطہ نظر سے بھی اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ بی جے پی سرکار نے بھی اسی بہانے پہلے پلوامہ واقعے کے بعد اور پھر آپریشن سندور کی شکل میں پاکستان پر حملے کیے۔ کل کلاں اگر کسی عالمی فورم پر بھارت نے یہ نقطہ اٹھایا کہ اگر ٹی ٹی پی کو روکنے کے لیے پاکستان کابل پر حملہ کر سکتا ہے تو لشکر طیبہ کے ٹھکانوں پر بھارت کیوں حملہ نہیں کر سکتا؟
۶۔ اگر افغانستان میں طالبانائزیشن کو شکست دینی ہے تو پاکستان میں اسلامی بنیادپرستی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔اس کی ابتدا ایک ایسی جمہوری‘ سیکولر ریاست کی تعمیر سے ہو سکتی ہے جو نیو لبرل‘ سامراجی سرمایہ دارانہ معاشی پالیسیوں کی بجائے معاشی منصوبہ کے ذریعے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کو ترجیح دے، غربت کا خاتمہ کرے اور تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار کی ذمہ داری لے۔ تا کہ وہ معروضی حالات تبدیل ہوں جو مدرسوں کی سہولت کاری کرتے ہیں اور مذہبی نفرت و ہیجان کو پروان چڑھاتے ہیں۔ لیکن موجودہ حکمران ریاست و اشرافیہ سے ایسی امیدیں وابستہ نہیں کی جاسکتیں۔ نہ تو ان کے طبقاتی مفاد اس کی اجازت دیتے ہیں‘ نہ نظریاتی میلان۔
۷۔ کابل کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان نے تیاری کے بعد آپریشن غضب للحق شروع کیا ہے تو طالبان نے بھی کچھ نہ کچھ تیاری کی ہو گی۔ اس سلسلے میں انہوں نے نئی دہلی سے بھی تعلقات استوار کیے ہیں۔ جبکہ ان کے ایک نمائندے (مولانا بلخی) نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل سے بھی مدد مانگ سکتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان کی فوجی طاقت پاکستان کے مقابلے میں بہت پست ہے۔ مگر ان کی حکمت عملی غیر روایتی‘ طویل المدتی جنگ (دہشت گردی ا ور گوریلا حملے وغیرہ) پر مبنی ہو گی۔ رژیم چینج کی گونج وہاں بھی سنائی دی ہو گی۔ اس کے لیے بھی پیش بندی کی گئی ہو گی۔ غیر سرکاری طور پر طالبان رژیم پاکستان میں خود کش حملوں کی دھمکیاں پہلے سے دے رہی ہے۔ یوں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس تنازعے کو محض جنگ سے نپٹا دینا آسان نہ ہو گا۔ مستقبل میں یہ خون خرابہ بڑھ سکتا ہے۔ یعنی کوئی شارٹ کٹ موجود نہیں ہے۔
۸۔ اس تنازعے نے ایک طرف پاکستانی شاونزم کو نئی مہمیز بخشی ہے تو دوسری طرف بہت سے پشتون قوم پرست‘ تنگ نظر قوم پرستی یا جوابی شاونزم کا شکار ہو کر طالبان کی حمایت کرنے لگے ہیں۔ بطور سوشلسٹ ہم شاونزم کے ان دونوں رجحانات کے خلاف ہیں جو بظاہر ایک دوسرے سے متصادم ہیں لیکن اصل میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں (تاہم ہم یہ ہرگز نہیں کہہ رہے کہ پشتون قوم پرست وہی وزن رکھتے ہیں جو پاکستانی شاونزم کو حاصل ہے)۔ طالبان جیسے رجعتی، متعصب اور خونی پراجیکٹ کو پشتون قوم پرستی کے نام پر حمایت دینا اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح پاکستانی قوم پرستی کے نام پر ریاستی جنگی جنون اور جبر کی حمایت کرنا (جیسا کہ بعض لبرل اور نام نہاد ترقی پسند لوگ بھی کر رہے ہیں) در اصل حکمران طبقے کے ہاتھ میں کھیلنے کے مترادف ہے۔ ہم طالبان کو ایک وحشی اور عورت دشمن رژیم قرار دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب پاکستانی ریاست کی کاسہ لیسی نہیں ہے۔ ہماری طالبان مخالفت افغان عوام سے یکجہتی اور ہمدردی پر مبنی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان تنازعوں کا خاتمہ جنگوں سے نہیں‘ پاک افغان عوام کی جمہوری‘ سوشلسٹ‘ طبقاتی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔ چاہے اسے تعمیر کرنے کی جدوجہد میں کتنا بھی وقت کیوں نہ لگے۔
۹۔ طالبان پاکستان کے حملوں کو افغانستان کی ملکی سلامتی اور خود مختاری پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبان افغانستان کی سلامتی اور خود مختاری پر خود سب سے بڑا حملہ ہیں۔ اس رژیم کو پاکستان یا قطر نے بھی تسلیم نہیں کیا۔ علاوہ ازیں ٹی ٹی پی سمیت پورے خطے بلکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے والوں کو سہولت اور محفوظ پناہ گاہیں دینے والوں کے منہ سے سلامتی یا خودمختاری کی باتیں بالکل اچھی نہیں لگتیں۔ کیونکہ پاکستان بھی ٹی ٹی پی کے حملوں کو اپنی خود مختاری پر حملہ قرار دیتا ہے۔اسی قسم کے تحفظات افغانستان کے دوسرے ہمسایہ ممالک کے بھی ہیں۔ یوں ہر دو فریقوں پر یہ قول صادق آتا ہے کہ دوسروں کے گناہ آپ کو ولی نہیں بنا دیتے۔
١٠۔کیا کیا جائے؟ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ایک طرف اگر پاکستان میں بنیادی پرستی کے خلاف جدوجہد اور ڈی طالبانائزیشن ابتدائی قدم ہے تو دوسری طرف افغانستان میں طالبان رژیم کا خاتمہ بھی لازم ہے (کسی بیرونی حملے کے ذریعے نہیں بلکہ افغان عوام کے اپنے عمل سے)۔ جو پاکستان اور ایران میں محنت کشوں اور طلبہ کے انقلابی تحرک اور طالبان کے خلاف افغان عوام کی جدوجہد کی معاونت اور یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔ علاوہ ازیں ایسے مذہبی جنونی اور دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ مسلح عوام (عوامی ملیشیا) ہی کر سکتے ہیں۔ جس کے لئے ان کی معاشی بنیادوں، کالے دھندوں اور فنڈنگ کو بند کرنا بھی لازم ہے۔ اسی طور پر سے قابل اعتبار اور اچھی ساکھ اور اتھارٹی کے حامل مقامی و غیر ملکی مبصرین کی نگرانی میں عام انتخابات کرائے جائیں۔ جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے تمام مجرم (نام نہاد مجاہدین، وار لارڈز، طالبان اور ان سب کے علاقائی و عالمی سرپرست) ایسی بین الاقوامی عدالت میں پیش کیے جائیں جس پر افغان عوام کے منتخب نمائندے اعتبار کرتے ہوں۔ سامراجی ممالک اور علاقائی طاقتیں، جنہوں نے افغانستان کو پچھلے 40 سال میں برباد کیا ہے، ملک کی تعمیر نو کے لیے فنڈ (بلکہ جرمانے) دیں۔ جنوب ایشیا سے شروع کر کے عالمی سطح پر افغانستان سے یکجہتی کی ویسی ہی تحریک منظم کی جائے جیسی فلسطین یا کردستان وغیرہ کے معاملے میں نظر آتی ہے۔