روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

پاکستان میں ایک چوتھائی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین روزگار سے محروم

پاکستان میں ایک چوتھائی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین روزگار سے محروم

لاہور(جدوجہد رپورٹ) پاکستان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین میں بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، اور تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہر چار میں سے ایک پڑھی لکھی خاتون بے روزگار ہے۔

’دی نیوز‘ کے مطابق تازہ تجزیے میں گیلپ پاکستان نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے لیبر فورس سروے 2024-25 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جوں جوں خواتین کی تعلیمی سطح بلند ہوتی ہے، بے روزگاری کی شرح بھی بڑھتی جاتی ہے۔یہ ایک ایسا رجحان ہے جو اس عام مفروضے کو چیلنج کرتا ہے کہ زیادہ تعلیم زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بغیر کسی رسمی تعلیم کے خواتین میں بے روزگاری کی شرح 4.7فیصد ہے، میٹرک سے کم تعلیم والی خواتین میں 9.0فیصد، میٹرک پاس خواتین میں 15.5فیصدہے۔ تاہم لیکن اعلیٰ سطح پر یہ شرح کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔انٹرمیڈیٹ پاس خواتین میں بیروزگاری کی شرح 23.6فیصد،بیچلرز ڈگری رکھنے والی خواتین میں 23.8فیصد،ماسٹرز، ایم فل یا پی ایچ ڈی ہولڈرز میں 23.9فیصد بیروزگاری کی شرح ہے۔

اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہر چار میں سے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کو نوکری نہیں مل رہی۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کا مطلب نہیں کہ تعلیم روزگار کے امکانات کو کم کرتی ہے، بلکہ یہ پاکستان کی لیبر مارکیٹ میں موجود ساختی مسائل کو ظاہر کرتا ہے، جن کی وجہ سے تعلیم یافتہ خواتین کے لیے مناسب ملازمتیں دستیاب نہیں۔

مرکزی وجوہات میں مناسب وائٹ کالر نوکریوں کی کمی، تعلیم اور مارکیٹ کی طلب کے درمیان مہارتوں کا عدم مطابقت،ہائی پروڈکٹیویٹی سیکٹرز کا محدود پھیلاؤ،اور سماجی و ثقافتی پابندیاں شامل ہیں،جو خواتین کی نقل و حرکت اور ملازمتوں تک رسائی محدود کرتی ہیں۔

تجزیے کے مطابق حالیہ برسوں میں خواتین کی تعلیمی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں معیشت نے اعلیٰ مہارت والی نوکریاں پیدا نہیں کیں۔

رپورٹ تجویز کرتی ہے کہ خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت بڑھانے کے لیے اعلیٰ مہارت والے شعبوں میں ہدفی ملازمتوں کی تخلیق،نجی کاروبار کے فروغ، بہتر ورک پلیس سیفٹی، اورتعلیم سے پیشہ ورانہ میدان تک موثر منتقلی کے مضبوط نظام کی ضرورت ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں