روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

پاکستان کا زوالِ مسلسل

پاکستان کا زوالِ مسلسل

ایس اکبر زیدی

پاکستان شدید،واضح اور تیز رفتار زوال کا شکار ہے۔ اس زوال کا اظہار اس کے معاشی، سماجی اور انسانی ترقی کے اشاریوں میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ یہ زوال ایک طرف تو ان دوسرے قابل ِتقابل ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں ہے،جو اب متعدد اشاریوں کے مطابق مستقل اور تیزی سے پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں؛ اور دوسری طرف خود پاکستان کے ان اشاریوں کے مقابلے میں بھی ہے جو کبھی ماضی میں ہوا کرتے تھے۔

دوسرے الفاظ میں: معیشت،اور اس سے جڑے دیگر ذیلی شعبے، خصوصاً انسانی اور سماجی ترقی آج اس حالت میں ہیں جو چند برس یا دہائیاں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہے۔ صورت حال کو مزید سنگین یہ امر بناتا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیاسی معیشت کی تنظیم نو، مرکزیت اور اقتدار کا ارتکاز اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ اشاریے آئندہ مزید بگڑیں گے۔

معاشی ترقی کا سب سے سادہ اور بنیادی اشاریہ، یعنی حقیقی مجموعی قومی پیداوار (ریئل جی ڈی پی) کی شرح نمو، گزشتہ چار دہائیوں کے دوران مسلسل گرتی رہی ہے۔ یہ امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے کہ جی ڈی پی میں اس طویل المدتی گراوٹ کو کسی نمایاں حد تک پلٹا جا سکے۔ سالانہ تقریباً 6فی صد سے زائد کی بلند شرح سے شروع ہونے والا یہ مسلسل زوال اب محض تین فی صد شرح نمو تک آ چکا ہے۔ درحقیقت صرف گزشتہ 6برسوں میں سے دو برس ایسے رہے ہیں جن میں جی ڈی پی کی شرح نمو منفی رہی، 2019-20 میں شرح نمومنفی 1.3 فی صد، اور حال ہی میں 2022-23 میں ایک بار پھر منفی 0.2 فی صدرہی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں آبادی اوسطاً سالانہ 2.6 فی صد کی شرح سے بڑھتی رہی ہے، لہٰذا حقیقی معنوں میں پاکستانیوں کی حالت بدتر ہو رہی ہے۔ مزید یہ کہ محض 25 برسوں میں پاکستان دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔ کم از کم ایک پہلو ایسا ہے جس میں غیر معمولی”ترقی“ہوئی ہے، اور وہ یہ کہ ہماری آبادی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے آبادی میں اضافے کی شرح معاشی ترقی کی شرح سے کہیں زیادہ رہی ہے۔

ان نہایت بنیادی اعداد و شمار، یعنی معاشی شرح نمو اور آبادی کے رجحانات سے آگے بڑھیں تو صورت حال اور بھی تشویش ناک ہو جاتی ہے۔ جب انسانی ترقی پر غور کیا جائے تو پاکستان کی 25 کروڑ آبادی کے معیار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی ترقی کے اشاریے (ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس) کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی بتدریج نیچے آتی گئی ہے۔ 2020-21 میں پاکستان کا نمبر 161 تھا، 2023-24 میں یہ 164 پر آ گیا، اور تازہ ترین اشاریے میں یہ مزید گر کر 168ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے، جو واضح طور پر ایک نہایت سنگین اور تیز رفتار زوال کی علامت ہے۔

اصل اور فیصلہ کن نکتہ یہ ہے کہ خواتین کے معاملے میں، جو ہر ترقیاتی اور سماجی و معاشی پالیسی کی بنیاد ہوتی ہیں، حالات پہلے سے بھی زیادہ بگڑ گئے ہیں۔گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2025 کے مطابق پاکستان آخری یعنی 148 میں سے 148ویں نمبر پر ہے، 2024 کے مقابلے میں اس کی درجہ بندی مزید تین درجے نیچے آ چکی ہے۔ پاکستان کو نچلے متوسط آمدنی والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں اس سے کہیں زیادہ غریب 16 ممالک شامل ہیں۔ اس کے باوجود صنفی برابری کے لحاظ سے پاکستان کی درجہ بندی ان سب ممالک سے بھی نیچے ہے اور 148 ممالک میں سب سے بدترین ہے۔ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت بدستور انتہائی کم ہے، جبکہ مالی وسائل تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ خواتین کو ہر پالیسی اور حکمت عملی کے مرکز میں رکھنے میں تاخیر کے باعث پاکستان کے زوال میں مزید شدت آتی جائے گی۔

ہر سرکاری عہدیدار مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آنے والے انقلاب کے لیے تیار ہونے کے دعوے دہراتا ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق ایسے تصورات کا حوالہ دیا جاتا ہے جنہیں اکثر لوگ خود بھی پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان میں ثانوی تعلیم میں داخلے کی شرح وہی ہے جہاں جنوبی کوریا کی 1972 میں تھی، جبکہ اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح آج وہی ہے جہاں جنوبی کوریا 1979 میں تھا۔ یہ اعداد و شمار حیران کن ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ انسانی سرمائے کے اعتبار سے، جو انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کے عہد میں نہایت اہم ہے، پاکستان جنوبی کوریا سے پورے 50برس پیچھے ہے۔ جب بنیادی خواندگی، مطالعہ اور حسابی مہارتیں تک مفقود ہوں تو ہم دوسرے ممالک سے دہائیوں پیچھے رہ جاتے ہیں، اور آئندہ چند برسوں میں یہ فاصلہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

وزیراعظم نے حال ہی میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت”مشکلات سے نکل چکی ہے“اور بحران ختم ہو گیا ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آج پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فی صد ہے، جو گزشتہ 21 برسوں میں بلند ترین سطح ہے۔ کل 59 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، جن میں سے 46 لاکھ ناخواندہ ہیں۔ مزید یہ کہ جو لوگ نوجوان آبادی کی موجودگی کو ’آبادیاتی منافع‘ (Demographic Dividend) قرار دیتے ہیں، انہیں یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ سب سے زیادہ بے روزگاری 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں پائی جاتی ہے، اور ہر سال 35 لاکھ نوجوان مرد و خواتین روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں۔ مزید برآں، تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ ملازمت میں ہیں، ان کے لیے بھی گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان میں حقیقی اجرتوں میں تقریباً 20 فی صد کمی واقع ہو چکی ہے۔ مجموعی سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب محض 13 فی صد رہ گیا ہے، جو 1973 کے بعد کم ترین سطح ہے، اور یہ بھی مسلسل گرتا جا رہا ہے۔ لہٰذا معیشت کی بحالی کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔ واضح طور پر وزیراعظم کسی اور ہی معییشیتکی بات کر رہے ہیں۔

اپنے ہم پلہ اور ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں پاکستان مزید پیچھے رہتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں منعقد ہونے والی ”ڈان میڈیا کانفرنس برائے آبادی“ میں ماہرین معاشیات نے ایسے اعداد و شمار پیش کیے جنہوں نے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی معیشت کی ناگفتہ بہ حالت کو نمایاں کیا۔ ڈاکٹر حامد مختار نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 1990 میں پاکستان کی فی کس آمدنی بنگلہ دیش سے دوگنا اور بھارت سے 56 فی صد زیادہ تھی، لیکن 2024 میں بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی پاکستان سے 53 فی صد زیادہ ہو چکی ہے، جبکہ بھارت کی فی کس آمدنی پاکستان سے 71 فی صد زیادہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں فی کس جی ڈی پی کی سالانہ شرح نمو بنگلہ دیش کے مقابلے میں 3.5 فی صد کم، اور بھارت کے مقابلے میں 3.2 فی صد کم رہی ہے۔

یہ بڑے اور معنی خیز فرق آئندہ مزید بڑھیں گے، اور ان کا ازالہ کرنے کی کوئی بھی کوشش ہمارے اردگرد اور خطے کے دیگر تمام ممالک کی تیز رفتار ترقی کے باعث ناکام ہوتی نظر آئے گی۔ پاکستان نہ صرف اپنے ماضی کے مقابلے میں، بلکہ ان ممالک کے مقابلے میں بھی مسلسل خسارے میں جا رہا ہے جو کبھی پاکستان سے کم ترقی یافتہ تھے۔

سب کے سب زوال کی طرف اشارہ کرتے ان تمام رجحانات کو مدنظر رکھا جائے، اور ایسے بے شمار دیگر ڈیٹا سیٹس بھی موجود ہیں جو اس مجموعی تصویر کو مزید واضح کرتے ہیں، تو بہت سے ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ حالات شاید کبھی بھی اس قدر خراب نہیں رہے۔ ماضی میں ہم متعدد مواقع پر ’نازک موڑ‘ یا ’بحران‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں، مگر شاید آج کے انتہائی عالمگیر اور مسابقتی دنیا میں صورت حال اس سے پہلے کبھی اس مقام تک نہیں پہنچی تھی۔ استحکام اب جمود میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پاکستان کی سیاسی معیشت کو چلانے والوں اور فیصلے کرنے والوں کی ترجیحات کو دیکھتے ہوئے اس بات پر کوئی اعتماد نہیں رہتا کہ ان کے پاس نہ تو ان رجحانات کو پلٹنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وژن۔

(بشکریہ: ڈان۔ ترجمہ: حارث قدیر،فاروق سلہریا)

Akbar Zaidi

مصنف آئی بی اے کراچی کے ڈائریکٹر اور معروف ماہر معیشت ہیں۔ وہ ’ایشیوز ان پاکستانز اکانومی‘ (Issues in Pakistan's Economy: A Political Economy Perspective)اور ’میکنگ اے مسلم‘ (Making a Muslim: Reading Publics and Contesting Identitiesin Ninteenth-Century India) کے مصنف ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں