فاروق سلہریا
میں نے ذولفقار علی بھٹو کی کوئی تحریر بچپن میں پڑھی تھی جس کا عنوان اب یاد نہیں۔اس تحریر میں بھٹو نے دعویٰ کیا تھا کہ بانی پاکستان محمد علی جناح بھی ملک میں اسلامی سوشلزم چاہتے تھے اور لیاقت علی خان بھی۔میری نظر سے ابھی تک کوئی ایسا بیان نہیں گزرا جس میں جناح نے اسلامی سوشلزم کی بات کی ہو۔ حسن عسکری رضوی کا ایک کالم”ڈان“ میں شائع ہوا تھا (جو25 دسمبر2014 کو شائع ہوا تھا) جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جناح کے ایک بیان کو بنیاد بنا کر،جس میں مغربی سرمایہ داری پر تنقید اور مساوت کی بات کی گئی تھی، بعض ترقی پسند جناح کو اسلامی سوشلزم کا حامی ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ حسن عسکری رضوی شائد کہنا چاہتے تھے کہ ایسا کوئی بیان موجود نہیں۔
لیاقت علی خان کے حوالے سے البتہٰ مجھے حال ہی میں ان کے اسلامی سوشلسٹ خیالات پڑھنے کا موقع ملا۔ کچھ عرصہ قبل، مجھے لیونارڈ بائنڈر کی کتاب،جو ساٹھ کی دہائی میں شائع ہوئی،”ریلیجن اینڈ پالیٹکس ان پاکستان“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
وہ لکھتے ہیں:”دوسرے اسلامی جمہوریت یا تھیو ڈیموکریسی کی اصطلاح استعمال ر رہے تھے،لیاقت اسلامی سوشلزم کی بات کر رہے تھے۔اسلامی سوشلزم سے ان کی کیا مراد تھی،واضح نہیں۔وہ کم و بیش اسے ایک نعرے کے طور پر لگا رہے تھے۔کبھی کبھی تو لگتا وہ جس اسلامی سوشلزم کی بات کر رہے ہیں وہ اسلام سے بھی میل نہیں کھاتا اور سوشلزم سے بھی مختلف ہے۔مثال کے طور پر ایک دفعہ انہوں نے کہاکہ ”میں صرف ایک ازم پر یقین رکھتا ہوں اور وہ ہے اسلامی سوشلزم“۔ بعض موقعوں پر وہ اسلامی کا اضافی لفظ بھی سوشلزم کے ساتھ استعمال نہ کرتے:”ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ سوشلسٹ خطوط پر چلیں، اسلام بھی انہی خطوط پر چلنے کی تلقین کرتا ہے“(بحوالہ:ص 185)۔
چند روز قبل ہم نے ان صفحات پر پاکستانی آئین ساز اسمبلی میں پہلی اپوزیشن جماعت،پاکستان نیشنل کانگریس،بارے لکھا۔ پاکستان نیشنل کانگریس در اصل انڈین نیشنل کانگریس تھی جس نے اپنا نام تبدیل کر لیا تھا اور اس کے پہلی آئین ساز اسمبلی میں کم از کم بارہ ارکان تھے۔ پاکستان نیشنل کانگریس نے جو پارٹی آئین بنایا اس میں سوشلسٹ اور جمہوری پاکستان کی تعمیر کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اس مضمون کا مقصد ہرگز یہ ثابت کرنا نہیں ہے کہ لیاقت علی خان کوئی سوشلسٹ تھے۔ کانگریس کے پیش نظر ایک سوشل ڈیموکریٹک پروگرام تھا نہ کہ انقلابی سوشلزم۔ ہم صرف یہ نقطہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ (اول)جب کسی سوچ کو عالمی سطح پر مقبولیت حاصل ہو جیسا کہ قیام پاکستان کے وقت سوشلزم عالمی سطح پر ایک مقبول نظریہ تھا، تو پاکستان جیسے ملکوں میں بھی حکومت کو سوشلزم کی بات کرنا پڑتی ہے؛(دوم) حکومت اور حزب اختلاف،دونوں کا سوشلزم کی بات کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشلسٹ نظریات ابتدا سے ہی اس ملک میں مقبول تھے۔ ستر کی دہائی تک، سوشلزم ایک ہیگمونک(hegemonic) نظریہ بن چکا تھا۔
یہ کہنا کہ پاکستان میں سوشلزم کے نظریات پنپ نہیں سکتے،دراصل اس ملک کی تاریخ سے لا علمی کے سوا کچھ نہیں۔
Farooq Sulehria
فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔
