روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

پہاڑوں کا شہزادہ: آغا عبد الکریم اور ان کی گوریلا تحریک

پہاڑوں کا شہزادہ: آغا عبد الکریم اور ان کی گوریلا تحریک

قلندر بخش میمن

بلوچستان کی سیاست اور زندگی میں ریاست پاکستان کے خلاف گوریلا مزاحمت کی علامت کے طور پر پہاڑہمیشہ اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔’’پہاڑوں پر چلے جانا‘‘ایک ایسا استعارہ بن چکا ہے جو گوریلا جنگ شروع کرنے یا اس میں شامل ہونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 1948ء کے بعد سے بلوچستان میں کم از کم 6 بڑے’’پہاڑوں پر جانے‘‘کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

پہلا واقعہ 1948ء میں پیش آیا، جب پرنس عبد الکریم نے ریاست قلات کے پاکستان میں جبری انضمام کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔دوسرا واقعہ نوروز خان کی مزاحمت تھی، جو 1950ء کی دہائی میں بلوچستان کو پاکستان کے باقی حصوں کے ساتھ انتظامی طور پر ضم کرنے کے خلاف تھی۔تیسری تحریک شیر محمد مری کی قیادت میں 1960ء کی دہائی میں اٹھی، وہ بھی انہی وجوہات کے باعث تھی۔اس کے بعد بلوچ پیپلز لبریشن فرنٹ کی ایک منظم اور تقریباً 10 سال طویل بغاوت 1970ء کی دہائی میں چلی۔1980 اور 1990 کی دہائی نسبتاً خاموش رہی، مگر 2006ء میں بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب اکبر بگٹی جنرل مشرف کی آمریت سے نالاں ہو کر دوبارہ’’پہاڑوں پر چلے گئے‘‘۔ان کا کیمپ بمباری میں تباہ کر دیا گیا اور وہ مارے گئے۔ان کی موت نے بلوچستان میں گوریلا تحریکوں کی ایک نئی لہر کو جنم دیا جو آج تک جاری ہے۔

پہاڑوں پر جانے کی یہ روایت اور اس کا جواز شہزادہ عبد الکریم نے قائم کیا، جنہیں احتراماً آغا بھی کہا جاتا تھا۔اگرچہ وہ شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان کی زندگی کسی عیش و عشرت والی سلطنتی داستان سے نہیں، بلکہ جیلوں، قید و بند کی صعوبتوں اور بائیں بازو کے کارکنوں کے ساتھ عوامی جدوجہد سے عبارت تھی۔وہ ایک ایسے شہزادے تھے جنہیں محلوں سے زیادہ سیاسی تحریکوں کی صف اول میں رہنے، اور مظلوم بلوچ و دیگر محکوم قوموں کے حقوق کی خاطر لڑنے میں سکون ملتا تھا۔

عبدالکریم خان آف قلات کے چھوٹے بھائی تھے۔جب انہیں پتا چلا کہ خان نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا ہے، اور بعد ازاں پاکستان نے خان کی مرضی کے خلاف مکران کے علاقے کو بھی انتظامی طور پر ضم کر لیا ہے، تو وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ’’غائب‘‘ہو گئے اور سرحد پار افغانستان کے پہاڑی علاقے میں ایک کیمپ قائم کر لیا۔

وہاں سے انہوں نے اپنے بڑے بھائی خان آف قلات کو ایک خط لکھا۔یہ خط پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گیا، اس کا اردو ترجمہ کیا گیا اور بعد میں اسے بلوچستان آرکائیو (جو کہ کوئٹہ میں صوبائی حکومت کے زیرانتظام ایک سرکاری آرکائیو ہے) میں محفوظ کر دیا گیا۔

میرے ایک سابق طالب علم ذکی عباس نے وہاں سے اس خط کی ایک نقل حاصل کی ۔ ساتھ ہی تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل وہ سرکاری دستاویزات بھی لیں، جو پرنس عبد الکریم اور ان کی تحریک سے متعلق تھیں۔

زیادہ تر کاغذات میں سرکاری خفیہ رپورٹس تھیں جن میں کارکنوں کی نقل و حرکت اور حکومت پاکستان کے اقدامات کا ذکر تھا۔تاہم اگر ان سرکاری دستاویزات کو’’ریاستی بیانیے کے الٹ‘‘پڑھا جائے تو ان کے درمیان سے’’پہاڑوں کے شہزادے‘‘کی پوری داستان ابھر آتی ہے۔میں نے ان تمام فوٹو کاپی شدہ دستاویزات کو میز پر پھیلا دیا اور جوش کے عالم میں ہائی لائٹر ہاتھ میں لے کر ان کا مطالعہ شروع کیا۔

میں نے پرنس کے اپنے بھائی کو لکھے گئے خط سے آغاز کیا۔یہ خط بلوچ عوام کے ان تاریخی شکوؤں اور احساسات کو ظاہر کرتا ہے جو آج 70 سال بعد بھی گونج رہے ہیں۔پرنس لکھتے ہیں کہ بلوچستان میں حکومت پاکستان کے اقدامات نے’’ہر ایک کو بے چین کر دیا ہے‘‘اور آزادی خطرے میں ہے ۔بلوچ نہ صرف اس بات کو سمجھتے ہیں بلکہ اس کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:

’’آزادی کی خواہش نہ کوئی لغو بات ہے اور نہ ہی کوئی ایسی پیچیدہ چیز جسے سمجھنے کے لیے افلاطون کا دماغ درکار ہو۔یہ ایک فطری احساس ہے ، اور انتہائی سادہ بدو بھی اسے سمجھتا ہے۔اس کے چھینے جانے نے ہر روح کو بے چین کر دیا ہے۔جو یہاں (بغاوت کے کیمپ) تک پہنچ گئے، اور جو پیچھے رہ گئے ، ان سب کے دل مضطرب ہیں۔‘‘

وہ آگے لکھتے ہیں:

’’جب میں نے حکومت پاکستان کی پالیسی پر غور کیا تو فوراً اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہے۔یہ نہ دین اسلام کا احترام کرتی ہے، نہ قانون کا، نہ اخلاقیات کا۔ایسی حکومت سے کسی بھی وقت مذہبی، انتظامی اور ذاتی برائی کی توقع کی جا سکتی ہے۔آزادی کے دو ہی راستے تھے:(1) یا تو اتنی طاقت حاصل کی جائے کہ اپنے حقوق کا دفاع کیا جا سکے،(2) یا پھر اس کے پنجے سے نکل جایا جائے۔چنانچہ میں نے اس کی سرحد پار کر لی۔‘‘

عبدالکریم محمد علی جناح اور نو قائم شدہ ریاست پاکستان کے بارے میں خان آف قلات کے نظریات سے متفق نہیں تھے۔جہاں خان آف قلات یہ امید رکھتے تھے کہ گزشتہ دہائی میں ان کی جانب سے جناح اور مسلم لیگ کو دی جانے والی مالی اور اخلاقی حمایت کو پاکستان کے قیام کے بعد یاد رکھا جائے گا (لیکن انہیں سخت مایوسی ہوئی)، وہاں عبدالکریم کسی ایسے فریب میں مبتلا نہیں تھے۔اپنے خط میں انہوں نے ریاست پاکستان کی اصل نوعیت پر اپنی گہری بصیرت اور تجزیہ پیش کیا۔وہ لکھتے ہیں:

’’خان آف قلات کے خط میں کوئی ایسی بات نہیں جو مجھے اپنی ہجرت ترک کرنے پر آمادہ کر سکے۔کیا قلات کا جبری الحاق منسوخ کر دیا گیا ہے؟یا مکران کا صوبہ بحال کر کے اس اندھیرے میں کوئی روشنی کی کرن پیدا کی گئی ہے؟اگر نہیں، تو کیا قلات کے حقوق کی بحالی کے لیے کوئی آواز بلند کی گئی ہے تاکہ الحاق کے زخم کو کچھ مرہم مل سکے، اور میں دیکھ سکوں کہ’پنجابی فاشزم‘میں کتنی نرمی ہے؟اگر یہ بھی نہیں، بلکہ فوجی تعیناتی میں اضافہ، معاشی ناکہ بندی، پرامن راہ گیروں کی گرفتاری اور ان پر فائرنگ، اور پورے علاقے میں میرا نام کا لینا بھی جرم بن گیا ہے ، تو ان حالات میں، جو مجھے فکرمند رکھتے ہیں، میرا واپس جانا ممکن نہیں۔‘‘

خط کے آخر میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ پاکستانی ریاست آئندہ بھی’’سامراجی قوتوں پر انحصار کرے گی اور ان کے اشارے پر بلوچوں کے فطری قبائلی مطالبات کو تلوار کے زور پر دبائے گی۔‘‘

یوں پاکستان کے وجود کے پہلے ہی سال ریاستی جبر اور بلوچ مزاحمت کا ایک بنیادی خاکہ واضح ہو گیا تھا۔پرنس کا یہ تجزیہ ، کہ ریاست پاکستان’پنجابی فاشسٹوں‘کے ہاتھوں میں ہے جو بلوچ وسائل اور زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں ، آج بھی بلوچ قوم پرستوں کے موقف کی بنیاد ہے۔یہ اس تصور کی درست تشریح ہے جسے بعض نظریہ ساز’ریس کرافٹ‘(Racecraft) کہتے ہیں، یعنی اقتدار، دولت اور زندگی کی تقسیم کے لیے ایک نسلی یا لسانی درجہ بندی، جو ریاست کی تنظیمی بنیاد بن جاتی ہے۔

پرنس نے یہ نکتہ بھی واضح کیا تھا کہ پاکستان اور سامراجی طاقتوں (یعنی برطانیہ اور امریکہ) کے درمیان گہرا تعلق ہے، اور یہ تعلق وقت کے ساتھ بڑھے گا۔ پاکستان سامراجی سرمائے کے لیے ایک راستہ (conduit) بن جائے گا۔ان کا یہ اندازہ بھی بالکل درست ثابت ہوا۔انہوں نے بلوچ مزاحمت کے لیے ایک نئی روایت بھی قائم کی ، یعنی پہاڑوں کا رخ کرنا اور گوریلا جنگ کو اختیار کرنا۔

ریاستی ریکارڈز میں ان دستاویزات سے حکومت پاکستان کی انسدادبغاوت کی حکمت عملی پر بھی روشنی پڑتی ہے۔پرنس عبدالکریم نے اپنا کیمپ افغانستان کے اندر چند میل کے فاصلے پر ایک علاقے سارلتھ میں قائم کیا۔ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ وہاں بیٹھ کر بلوچ عوام اور حامیوں کے جمع ہونے کا انتظار کریں۔کئی لوگ ان سے ملنے جانا چاہتے تھے، لیکن حکومت پاکستان کی ایک کامیاب انسدادبغاوت کارروائی نے ان کے راستے بند کر دیے۔

برطانوی نوآبادیاتی دور کی انسداد بغاوت تکنیکیں وراثت میں پانے والی پاکستانی ریاست نے تیزی سے عبدالکریم کی حمایت توڑنا شروع کر دی۔قلات میں ان کے حامی وزیروں اور بااثر شخصیات کو معزول کر کے کوئٹہ جلا وطن کر دیا گیا، جہاں انہیں نظر بند رکھا گیا۔کوئٹہ میں خفیہ اداروں کے اہلکار ان پر دن رات نظر رکھتے، ان کی ملاقاتوں اور گفتگو کی رپورٹیں تیار کرتے۔

بلوچستان کے سیاسی ایجنٹوں نے پرنس سے نمٹنے کے لیے چار پلاٹون فوج طلب کی۔ اس فوج کو راستوں کی ناکہ بندی، رسد بند کرنے اور ان لوگوں کو روکنے کے لیے بھیجا گیا ،جو ان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے تھے۔حکومتی نمائندوں کو تمام بااثر سرداروں کے پاس بھیجا گیا تاکہ رشوت یا دھمکی کے ذریعے انہیں مجبور کیا جا سکے کہ وہ اپنے علاقوں کے لوگوں کو آغا عبدالکریم کے ساتھ جانے سے روکیں اور ان کے خلاف بیانات جاری کریں۔خفیہ رپورٹس میں یہ تفصیل بھی درج ہے کہ سارلتھ تک پہنچنے والے چار دروں پر چوکیاں قائم کر دی گئیں تاکہ خوراک، اسلحہ یا لوگ وہاں نہ پہنچ سکیں۔اسی دوران بلوچستان کے مختلف سیاسی ایجنٹوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ پرنس کے کسی بھی ممکنہ مددگار کی نشاندہی کریں اور انہیں ہر ممکن طریقے سے باز رکھیں ، خواہ لاجسٹک مدد ہو یا سیاسی۔

قلات اور بلوچستان کے اندر سے حمایت نہ ملنے پرپرنس عبدالکریم نے افغانستان کا رخ کیا۔انہوں نے دو نمائندے وہاں بھیجے تاکہ دیکھا جا سکے کہ کوئی مدد حاصل کی جا سکتی ہے یا نہیں،لیکن کوئی حمایت نہ ملی۔تقریباً دو ماہ تک سارلتھ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں قیام کے بعدپرنس نے فیصلہ کیا کہ وہ واپس بلوچستان جائیں گے اور اپنے بھائی کے ساتھ قلات واپسی پر مذاکرات کریں گے۔تاہم پاکستانی ریاست اس وقت تک پوری طرح تیار تھی۔

جیسے ہی شہزادہ عبدالکریم قلات کی حدود میں داخل ہوئے،پاکستانی فوج نے ان کے گروہ کو گھیر لیا اور اچانک حملہ کر دیا۔عبدالکریم کے ساتھیوں نے جوابی فائرنگ کی اور کچھ دیر کے لیے فوج کو پیچھے ہٹائے رکھا،لیکن وہ اسلحے سے لیس نہ تھے اور نہ ہی ان کا مقصد کوئی براہ راست مسلح تصادم کرنا تھا۔جب کیمپ میں کچھ لوگ زخمی ہو گئے اور پانی سمیت رسد ختم ہونے لگی،تو عبدالکریم نے پہاڑوں سے اتر کر قلات واپس آنے پر رضامندی ظاہر کی۔

یہ طے پایا کہ ان کے ساتھ ریاست قلات کے وزیر اعظم ہوں گے،مگر اب وہ وزیر اعظم پاکستانی ریاست کے ماتحت ہو چکے تھے۔لہٰذا جب پرنس اپنے ساتھیوں کے ساتھ نیچے اترے،تو ان کے استقبال کے لیے وزیر اعظم نہیں، بلکہ بریگیڈیئر احمد جان اور بلوچستان کے پولیٹیکل ایجنٹ موجود تھے۔

ایک سرکاری رپورٹ میں درج ہے کہ ’’انہیں غیر مسلح کر کے محافظوں کی نگرانی میں قلات لے جایا گیا۔‘‘قلات سے عبدالکریم کو مچھ جیل منتقل کیا گیا،جہاں ان پر فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔

عبدالکریم اور ان کے ساتھ موجود 127 گوریلوں پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے’’ریاست پاکستان کے خلاف جنگ کی سازش‘‘کی۔یہ مقدمہ انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 121A اورایف سی آڑ کی دفعہ 12(2) کے تحت قائم کیا گیا۔ان کا مقدمہ ایک ضلعی مجسٹریٹ اور ایک جرگے کے سامنے چلایا گیا ۔یہ جرگہ پاکستانی پولیٹیکل ایجنٹس کے ذریعے پہلے ہی ان کے خلاف تیار کیا گیا تھا۔

یہ ایک ڈرامائی مقدمہ تھا ۔ایسا مقدمہ جس کی مثال بلوچستان کے ترقی پسندوں کو آنے والے عشروں میں بارہا دیکھنا پڑی۔نتیجہ پہلے سے طے تھا۔125 ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا۔خفیہ ادارے کی رپورٹ میں سزاؤں کی تفصیل یوں درج ہے:

’’سازش کے دو مرکزی سرغناؤں ، یعنی عبدالکریم اور محمد حسین اونقہ کو 10،10سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا دی گئی۔باقی ملزمان میں سے تین کو 7 سال،8 کو 6 سال،ایک کو3 سال،27 کو دو سال،اور تین کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔‘‘

اس کے علاوہ تمام قیدیوں پر جرمانے عائد کیے گئے اور ان سے’’آئندہ اچھے برتاؤ کی ضمانت‘‘طلب کی گئی۔

عبدالکریم خطے کی ترقی پسند سیاست میں ایک مرکزی کردار بنے رہے۔وہ ریاست ملٹری اسٹ اور فاشسٹ رجحانات کے سخت مخالف تھے، اور پاکستان کے اندر محکوم قومیتوں اور طبقات کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔انہوں نے ون یونٹ اسکیم کی مخالفت کی، نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے ترقی پسند رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کیا، اور قوموں کے درمیان مساوات کے لیے بارہا جیل گئے اور واپس آئے۔

گوریلا فوکو (Foco) تھیوری کوعام طور پر چے گویرا اور فیڈل کاسترو سے منسوب کیا جاتا ہے۔اس نظریے کے مطابق ایک چھوٹا سا گروہ پہاڑوں میں جا کر کیمپ قائم کر سکتا ہے اور مزاحمت کی عملی مثال بن کر دوسروں کو اپنے ساتھ شامل ہونے کی ترغیب دے سکتا ہے۔یہ تھیوری یہ بھی کہتا ہے کہ اگر چند لوگ عملی طور پر مزاحمت کا مظاہرہ کریں اور مستقبل کی آزادانہ سماجی صورتوں کی جھلک پیش کریں تو عوام ان سے جڑ جاتے ہیں۔پرنس عبدالکریم نے بالکل یہی حکمت عملی نہ صرف بیان کی بلکہ چے اور فیڈل سے کئی دہائیاں پہلے اسے عملی طور پر اپنایا۔یہی ان کی اصل میراث ہے۔پہاڑوں پر جانا کوئی محض علامتی عمل نہیں، بلکہ مزاحمت کا ایک واضح اور منظم طریقہ ہے ۔یہ بلوچ تاریخ کی مزاحمتی گرامر (syntax of resistance) کا حصہ ہے،جسے دیگر مزاحمتی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کے شہزادے عبدالکریم نے بھی اپنے عمل سے رقم کیا۔

(بشکریہ: ’نیکڈ پنچ ‘; قلندر بخش میمن نیکڈ پنچ ریویو کے مدیر ہیں; ترجمہ :حارث قدیر)

Qalandar Bux Memon
ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں