روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

پہلی عالمی اینٹی فاشزم کانفرنس: ایک بھارتی مارکس وادی کا جائزہ - روزنامہ جدوجہد

پہلی عالمی اینٹی فاشزم کانفرنس: ایک بھارتی مارکس وادی کا جائزہ - روزنامہ جدوجہد

گیبریلا لیما

گیبریلا لیما کو دیے گئے انٹرویو میں سوشوان دھر 26 تا 29 مارچ کو پورٹو الیگرے (برازیل) میں منعقد ہونے والی پہلی بین الاقوامی اینٹی فاشسٹ کانفرنس کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ ایک متحد، بین الاقوامی اینٹی فاشسٹ اور اینٹی امپیریل اسٹ محاذ کی تعمیر میں ہونے والی پیش رفت، کمزوریوں اور چیلنجوں پر روشنی ڈالتے ہیں، اور 2027 میں ایشیا میں علاقائی کانفرنس کے امکانات پر بھی بات کرتے ہیں۔

سوشوان دھر کمیٹی فار دی ابولیشن آف الیجٹیمیٹ ڈیٹ (CADTM) کے بھارتی رکن ہیں، جنہوں نے پورٹو الیگرے کانفرنس اور اس کے بین الاقوامی روابط کی تنظیم میں مرکزی کردار ادا کیا۔ان کے انٹرویو کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

اس بین الاقوامی اینٹی فاشسٹ کانفرنس کا سیاسی و سماجی پس منظر کیا ہے؟ اور موجودہ عالمی حالات میں اس کانفرنس کی کیا اہمیت ہے؟

سوشوان دھر: یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ کانفرنس کس سیاسی لمحے میں منعقد ہوئی۔ آج ہم عالمی سطح پر ایک نہایت خطرناک اور عدم استحکام کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف انتہائی دائیں بازو کا ابھار ہے، دوسری جانب سامراجی جنگوں کی واپسی، اور ساتھ ہی سماجی و جمہوری حقوق پر عالمی سطح پر یلغار جاری ہے۔ آج دنیا بھر میں آمرانہ اور انتہائی دائیں بازو کی قوتیں مضبوط ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ اور ٹرمپ ازم، ارجنٹینا میں میلے، بھارت میں مودی، اسرائیل میں نیتن یاہو، یورپ میں دائیں بازو کا بڑھتا عروج، اور اسی طرح دنیا کے کئی حصوں میں روس اور چین جیسے آمرانہ نظام ہیں۔

یہ تمام رجحانات ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے بحران، بڑھتی ہوئی معاشی و سماجی نا برابری، اور عسکریت پسندی کے پھیلاؤ سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہم بڑی طاقتوں کے درمیان تنازعات کی نئی لہر دیکھ رہے ہیں۔ یوں یوکرین کی جنگ، فلسطین میں نسل کشی، ایران پر حملہ، مشرق وسطیٰ میں شدت پکڑتا بحران، اور ایشیا میں بڑھتی کشیدگی،یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جس کی خصوصیت استحکام کی بجائے ٹکراؤ ہے۔

اس پس منظر میں پورٹو الیگرے کانفرنس بین الاقوامی سطح پر ایک نئی انٹرنیشنلسٹ مزاحمت کی تعمیر کی اہم کوشش تھی۔ ورلڈ سوشل فورم کے زوال کے بعد عالمی سطح پر سیاسی ہم آہنگی یا رابطے کے لیے کوئی فعال بڑا پلیٹ فارم باقی نہیں رہا تھا۔ اس کانفرنس کا مقصد اسی کمی کو پورا کرنا اور ایک نئی حرکیات پیدا کرنا تھا، جس کا سب سے واضح ہدف ایک بین الاقوامی اینٹی فاشسٹ اور اینٹی امپیریل اسٹ محاذ کی از سر نو تعمیر تھا۔میرے خیال میں یہی اس کانفرنس کی سیاسی اہمیت کا بنیادی نقطہ ہے۔ یہ صرف ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ مستقبل کی عالمی ہم آہنگی کی تعمیر کا پہلا قدم تھا۔

کانفرنس کے منتظمین کا کہنا تھا کہ فاشزم کے عروج اور سامراجی جنگوں کی واپسی کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی سطح پر اتحاد ضروری ہے۔ یہ اتحاد کس طرح قائم کیا گیا؟ اور کیا واقعی بین الاقوامی سطح پر وسیع اینٹی فاشسٹ اتحاد قائم کرنا ممکن ہے؟

سوشوان دھر : یہ بات شروع ہی سے ہمارے لیے بالکل واضح تھی کہ عالمی سطح پر دائیں بازو کے ابھار کے مقابلے میں کوئی بھی تنظیم اکیلے کام نہیں کر سکتی۔ اس لیے ہمیں وسیع اتحاد قائم کرنا پڑا، چاہے اس میں نمایاں سیاسی اختلافات ہی کیوں نہ موجود ہوں۔ اس عمل نے مختلف النوع قوتوں کو یکجا کیا، جن میں سماجی تحریکیں، سیاسی تنظیمیں، ٹریڈ یونینز، فیمن اسٹ تحریکیں، بین الاقوامی نیٹ ورکس، اور کسان تنظیمیں شامل تھیں، جو بائیں بازو کی مختلف روایتوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہی تنوع ہماری طاقت بھی تھا، لیکن اسی نے کانفرنس کے اندر کچھ کشیدگیاں بھی پیدا کیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اتحاد کسی نظریاتی یکسانیت پر نہیں بلکہ عملی سطح پر اشتراک پر مبنی تھا۔

یہ اس لیے اہم ہے کہ ایک اینٹی فاشسٹ محاذ کے اندر مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ہر مسئلے پر مکمل اتفاق رائے پیدا کیا جائے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ایسے خطرے کے خلاف مشترکہ بنیاد تیار کی جائے جو ہم سب کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم اس اتحاد نے بین الاقوامی بائیں بازو کے اندر موجود تضادات کو بھی بے نقاب کیا، جو اس وقت کافی منتشر ہے۔ کچھ قوتیں اب بھی اینٹی امپیریل ازم کے بارے میں ’کیمپ اسٹ‘ نقطہ نظر رکھتی ہیں اور بعض آمرانہ ریاستوں،جیسے روس یا چین،کو صرف اس وجہ سے کم اہمیت دیتی ہیں کہ وہ مغربی طاقتوں کے ساتھ تصادم میں ہیں۔ اس قسم کے اتحاد نے اہم مباحث کو جنم دیا۔تاہم میرے خیال میں یہ ایک مثبت پہلو بھی ہے، کیونکہ کسی بھی بین الاقوامی اینٹی فاشسٹ محاذ کی تعمیر کے لیے سیاسی مباحث اور سنجیدہ بحثیں ناگزیر ہوتی ہیں۔مجموعی طور پر اس کانفرنس نے بین الاقوامی ہم آہنگی کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ایک حقیقی خواہش کا اظہار کیا، اگرچہ یہ عمل ابھی مزید ترقی کا متقاضی ہے۔ یہی اصل چیلنج ہے!

ہم آگے چل کر اینٹی امپیریل ازم کے ان اختلافات پر بات کریں گے۔ کیا آپ کانفرنس کے مجموعی نتائج اور پورٹو الیگرے میں منظور کی گئی حتمی قرارداد کے اہم نکات بیان کر سکتے ہیں؟

سوشوان دھر: کانفرنس مجموعی طور پر بڑی کامیابی رہی۔ مختلف براعظموں سے وسیع اور سرگرم شرکت دیکھنے میں آئی۔ اہم بات یہ تھی کہ اس کانفرنس نے ایسے گروہوں اور تنظیموں کے درمیان روابط قائم کیے جو پہلے ایک ساتھ نہیں کام کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ فاشزم کے عروج، جنگوں، اینٹی امپیریل ازم، قرضوں کے مسئلے، سماجی و فیمن اسٹ جدوجہد جیسے بڑے تذویراتی مباحث بھی کھل کر ہوئے۔حتمی اعلامیہ ان تمام مشترکہ نکات کی عکس بندی کرتا ہے۔یہ انتہائی دائیں بازوکے خلاف جدوجہد، فلسطین کے ساتھ یکجہتی، سامراجی جنگوں کی مخالفت، سماجی و جمہوری حقوق کا دفاع اور سب سے بڑھ کر بین الاقوامی یکجہتی کو مضبوط کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

تاہم جیسا کہ ایرک توساں نے اپنی رائے میں نشاندہی کی، یہ وسیع یکجہتی اپنی جگہ کچھ سیاسی ابہام بھی رکھتی ہے، جنہیں دور کرنا مستقبل کی مضبوط پیش رفت کے لیے ضروری ہوگا۔مختصر یہ کہ یہ کانفرنس ایک اہم سنگ میل تھی،لیکن اختتام نہیں،بلکہ یہ ایک آغازتھی۔

محدودیتوں کی طرف واپس آتے ہیں،بین الاقوامی بائیں بازو کے کچھ حلقوں کا خیال تھا کہ اس کانفرنس نے یہ تاثر دیا کہ دنیا بھر کی انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں کو بنیادی طور پر صرف مغربی سامراجی طاقتیں ہی سہارا دیتی ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ تنظیمی کمیٹی میں یہ بحث کس طرح ہوئی، خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جو ولادیمیر پیوٹن کے روس کو ان سامراجی طاقتوں میں شامل کرنے کی مخالفت کر رہے تھے جن کا مقابلہ ضروری ہے، حالانکہ روس گزشتہ چار سال سے یوکرین میں انتہائی وحشیانہ سامراجی جنگ لڑ رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر انتہائی دائیں بازو کی قوتوں کی کھلے عام حمایت کرتا ہے؟

سوشوان دھر: کانفرنس میں سب سے اہم مباحث میں سے ایک فطری طور پر روس، یوکرین کی جنگ، اور آج کے دور میں اینٹی امپیریل ازم کی تعریف کے سوال کے گرد گھومتا تھا۔ کچھ شرکا نے بجا طور پر مغربی سامراجی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور نیٹو، کے کردار پر زور دیا۔تاہم اسی دوران انہی میں سے کچھ قوتیں روس کو سامراجی طاقت قرار دینے یا گزشتہ چار برسوں سے جاری یوکرین پر روسی جارحیت کی واضح مذمت کرنے سے ہچکچا رہی تھیں یا انکار کر رہی تھیں۔یہ بحث بنیادی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اس کا تعلق خود بین الاقوامی اینٹی فاشسٹ اور اینٹی امپیریل اسٹ منصوبے کی ساکھ سے ہے۔ اگر ہم اینٹی امپیریلزم کا انتخابی تصور اختیار کریں گے تو ہم ’کیمپ اسٹ‘ منطق کا شکار ہو جائیں گے،یعنی ایسے آمرانہ ریاستی نظاموں کا ذکر ہی نہ کیا جائے جو مغربی طاقتوں سے متصادم ہوں، چاہے وہ خود سامراجی جارحیت میں ملوث ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ پیوٹن کا روس کئی برسوں سے یوکرین کے خلاف ایک سفاک جارحانہ جنگ چلا رہا ہے، جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی، جمہوری تحریکوں کا کچلاؤ، خطے بھر میں جارحانہ پالیسی، اور اپنے ملک میں ہر قسم کی مخالفت پر ریاستی پابندی شامل ہے۔ مزید یہ کہ روسی حکومت مختلف بین الاقوامی انتہائی دائیں بازو کی قوتوں سے تعلقات رکھتی اور انہیں تقویت دیتی ہے۔کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا اس کی ایک سیاسی کمزوری تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج بھی بین الاقوامی بایاں بازو، جو پہلے ہی شدید طور پر منتشر ہے، ایک کثیر قطبی دنیا میں اینٹی امپیریل ازم کی تعریف پر گہرے اختلافات رکھتا ہے۔ ہماری نظر میں موقف بالکل واضح ہونا چاہیے کہ اینٹی امپیریل ازم کسی ایک سمت کا نام نہیں۔سارے سامراج، چاہے وہ کوئی بھی ہوں، ان سب کی مخالفت ضروری ہے۔بصورت دیگر ہم اپنے انٹرنیشنل ازم کو کمزور کر دیتے ہیں۔

کیا آپ اس بات پر بھی روشنی ڈال سکتے ہیں کہ فورتھ انٹرنیشنل کے کارکنوں نے کانفرنس میں یوکرینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور روسی سامراج کی مذمت کے لیے کیا کوششیں کیں؟

سوشوان دھر:فورتھ انٹرنیشنل اور اس سے وابستہ تنظیموں کے کارکنوں نے کانفرنس کے انعقاد میں بھی اہم کردار ادا کیا اور ایک خود مختار بین الاقوامیت پسند موقف کے دفاع میں بھی۔ یہ انتہائی ضروری تھا۔ کئی تقاریر میں یوکرینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ ساتھ نیٹو اور گلوبل ملٹرائزیشن کی مخالفت کا ذکر بھی کیا گیا۔ یہ خودمختار موقف نہ مغربی طاقتوں کے ساتھ صف بندی کرتا ہے، نہ روسی سامراج کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ یہی بات ایک باوقار اور معتبر بین الاقوامیت پسندی کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے۔

کانفرنس میں یوکرین کی سماجی تحریکوں، ٹریڈ یونینز، فیمن اسٹ تنظیموں اور روس کے اندر جمہوری اپوزیشن کی جدوجہد پر بھی مباحث ہوئے۔ پیوٹن کے خلاف تنقید کی وجہ سے پابند سلاسل بورس کارگالیٹسکی کی بیٹی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے سب کو یاد دلایا کہ انٹرنیشنل اسٹ یکجہتی ریاستوں کے ساتھ نہیں، بلکہ عوام کے ساتھ استوار کی جاتی ہے۔یقینا یہ تمام کوششیں اختلافات کو مکمل ختم نہیں کر سکیں، مگر انہوں نے ایک اہم بحث کا دروازہ کھول دیا اور کانفرنس کے اندر ایک واضح، خود مختار اور بین الاقوامیت پسند موقف کو سامنے لایا۔

ہم یہ کیسے سمجھیں کہ ایران کی اسلامی جمہوریہ کا ایک نمائندہ،جو وہاں گزشتہ 40 برسوں سے جاری خونریز ترین جبر کا ذمہ دار ہے،اس کانفرنس میں مدعو کیا گیا اور اس نے فعال طور پر شرکت بھی کی؟ کیا 21ویں صدی کا اینٹی امپیریل ازم اور دنیا بھر میں انتہائی دائیں بازو کی آمرانہ حکومتوں کے خلاف جدوجہد کو یہ بات واضح طور پر نہیں کہنی چاہیے کہ محض اس وجہ سے کسی آمرانہ ریاست پر چشم پوشی نہ کی جائے کہ وہ مغربی سامراج کے ساتھ ٹکراؤ میں ہے؟

سوشوان دھر: یہ بالکل درست اور نہایت اہم سوال ہے۔ ایران کا نمائندہ اسی پینل میں موجود تھا جس میں میں شریک تھا، اور اس کی موجودگی کانفرنس کی ایک واضح کمزوری تھی۔ اس پر وہاں موجود لوگوں نے بھی بجا طور پر شدید تنقید کی اور بین الاقوامی سطح پر کامریڈوں نے بھی۔ ایرانی رژیم گزشتہ کئی دہائیوں سے سماجی تحریکوں، ٹریڈ یونینوں، خواتین، اور اقلیتوں پر انتہائی سفاک جبر کے لیے بدنام ہے۔ ’’زن، زندگی، آزادی‘‘ تحریک نے بہت واضح طور پر دکھا دیا ہے کہ عوام اس آمرانہ رژیم کے خلاف کتنی توانا مزاحمت کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں اس رژیم کے نمائندے کی اس کانفرنس میں شرکت ایک بہت سنگین سیاسی مسئلہ پیدا کرتی ہے۔

(بشکریہ: ’الٹرنیٹو ویوپوائنٹ‘، ترجمہ: حارث قدیر)

ماخذ: jeddojehad.com

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں