روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

چین امریکہ: ایک تاریخی اور بین الاقوامی تناظر میں غیر متوازن رقابت

چین امریکہ: ایک تاریخی اور بین الاقوامی تناظر میں غیر متوازن رقابت

سن ہوانگ

سن ہوانگ برکلے (کیلی فورنیا) میں طالب علم ہیں اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امیریکہ (ڈی ایس اے) کے فعال رکن ہیں،جہاں وہ بریڈ اینڈ روزز رجحان کی مشترکہ قیادت کرتے ہیں۔ انہوں نے چین امریکہ رقابت کے حوالے سے ایرک توسان کا انٹرویو کیا، جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

کیا آپ چین اور امریکہ کے درمیان تنازع کے بنیادی عناصر کی وضاحت کر سکتے ہیں؟ یہ تنازع کہاں سے پیدا ہوا؟

ایرک توساں:آج ہم دو سپر پاورز کے درمیان ایک تنازع کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ تاہم میں یہ دلیل دوں گا کہ یہ دونوں مختلف نوعیت کی سامراجیت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ چین ایک ابھرتی ہوئی سامراجیت ہے، جب کہ امریکہ ایک مستحکم اور قائم شدہ سامراجیت ہے، جو اس وقت نسبتاً زوال کا شکار ہے اور جس میں خاصی جارحیت دیکھنے کو ملتی ہے۔

چین اور امریکہ کے تعلقات کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ 1949 کے چینی انقلاب کے بعد امریکہ نے جنرل چیانگ کائی شیک کی قومی حکومت کی حمایت کی، جو تائیوان منتقل ہو چکی تھی۔ اس نے ماؤ زے تنگ کی قیادت میں قائم عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، جو سوشلسٹ منتقلی کے عمل سے گزر رہی تھی۔

کوریا کی جنگ کے دوران تعلقات خاص طور پر کشیدہ تھے۔ 1960 کی دہائی کے اوائل میں چین نے ان مختلف ممالک میں مسلح جدوجہد کی حمایت کی جنہیں امریکہ اپنے لیے اسٹریٹجک طور پر اہم سمجھتا تھا۔ خاص طور پر بیجنگ نے ہو چی منہ کی قیادت میں شمالی ویت نام اور جنوبی ویت نام کے نیشنل لبریشن فرنٹ (این ایل ایف)کی مدد کی، جسے ویت کانگ بھی کہا جاتا ہے۔

ویت نام جنگ میں بند گلی میں پھنسے امریکہ نے ایک اسٹریٹجک موڑ لیا اور چین کے قریب ہونا شروع ہوا۔ اس قربت کی علامت 1970 کی دہائی کے اوائل میں رچرڈ نکسن اور ماؤ زے تنگ کی تاریخی ملاقات تھی، جسے 1972 کے ان کے مصافحے کی معروف تصویر سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس ملاقات سے قبل ہی امریکہ بیجنگ حکومت کو چین کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم کر چکا تھا۔ بعد ازاں امریکہ نے تائیوان کی سفارتی حیثیت واپس لے لی اور یہ اصول قبول کر لیا کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔

اس تبدیلی کے ٹھوس نتائج سامنے آئے۔ 1971 تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین کی نمائندگی تائیوان کرتا تھا، مگر سینو امریکن(چین امریکہ) سمجھوتے کے بعد چین کی یہ نشست عوامی جمہوریہ چین کو دے دی گئی۔ کچھ برس بعد 1980 میں بیجنگ نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں بھی تائیوان کی نشست کی جگہ لے لی۔

اس وقت چین اب بھی سوشلسٹ ٹرانزیشن کے عمل میں تھا، جس کی خصوصیات انتہائی بیوروکریٹائزیشن اور گہرے تضادات پر مبنی تھیں۔ یہ تضادات خاص طور پر 1966 میں شروع ہونے والے ثقافتی انقلاب کے دوران شدید طور پر سامنے آئے تھے۔ 1980 کی دہائی میں ڈینگ شیاوپنگ نے اصلاحات شروع کیں، جنہوں نے بتدریج چین میں سرمایہ داری کی بحالی کی راہ ہموار کی۔

چین کی سیاسی معیشت کی ترقی اور عالمی نظام میں اس کی حیثیت کی تبدیلی واقعی قابل ذکر ہے۔جیسا کہ آپ نے ابھی واضح کیا کہ امریکہ نے ہمیشہ چین کو اپنا بنیادی اسٹریٹجک حریف نہیں سمجھا۔مزید یہ کہ 1990 کی دہائی سے لے کر 21ویں صدی کی پہلی دہائی تک، امریکی حکمران طبقہ چین کو ایک اہم معاشی شراکت دار سمجھتا تھا، جس سے اسے منافع حاصل ہو سکتا تھا،اور اسے ایک ایسے عالمی نظام میں ضم کیا جا سکتا تھا جس پر امریکہ کی بالادستی ہو۔

ایرک توساں:2000 کی دہائی سے چین غیر ملکی سرمایہ کاری، خصوصاً امریکی سرمایہ کاری کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ایپل، مائیکروسافٹ اور دیگر بڑی امریکی کمپنیوں نے چین کے خصوصی اقتصادی زونز میں اپنی فیکٹریاں قائم کیں۔ برسوں تک امریکی حکومت اور بڑی ملٹی نیشنلز سمجھتی رہیں کہ اس بندوبست سے انہیں بے پناہ منافع حاصل ہو رہا ہے۔وہ کم اجرت لینے والی چینی قوت محنت سے فائدہ اٹھا رہی تھیں،جو انتہائی سخت حالات کار کا سامنا کررہی تھا،ساتھ ہی ان یہ کارپوریشنیں اس پیداوار سے بڑی مقدار میں قدرافزودہ نچوڑ رہی تھیں۔

کارل مارکس کے نظریات کی روشنی میں اسے غیر مساوی تجارت کے ذریعے قدر کی منتقلی کہا جا سکتا ہے۔اس میں وہ قدرافزودہ بھی شامل ہے جو چینی مزدور پیدا کرتے ہیں مگر اسے امریکی سرمایہ دار اپنے منافع میں بدل لیتے ہیں۔اسی وقت، چین کی بڑی برآمدات کے باعث اس نے بھاری تجارتی سرپلس جمع کیا اور ڈالر کے بڑے زر مبادلہ ذخائر قائم کیے۔یہ ذخائر 3 ٹریلین ڈالر سے بھی تجاوز کر گئے، جو 2025 میں فرانس کے جی ڈی پی کے برابر ہے۔2013 تک چین نے ان ذخائر میں سے 1.3 ٹریلین ڈالر امریکی ٹریژری بانڈز میں لگا رکھے تھے،یعنی چین اپنی کمائی کا ایک حصہ امریکہ کو قرض فراہم کرنے کے لیے واپس امریکہ میں ہی لگا رہا تھا۔بعد ازاں چین نے ٹریژری بانڈز کی خریداری میں کمی کی، اور 2025 تک اس کے پاس 700 ارب ڈالر کے قریب ایسے بانڈز باقی رہنے کا اندازہ ہے۔

1990 کی دہائی سے 2014-962015 تک امریکا سمجھتا تھا کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات سے بہت فائدہ اٹھا رہا ہے۔تاہم 2014 سے، جب چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) شروع کیا، تو چین صرف مصنوعات برآمد کرنے پر اکتفا کرنے کی بجائے اپنا سرمایہ بیرون ملک بھیجنے لگا،اور بڑی مقدار میں کئی ممالک کو قرضے دینے لگا،یورپ، لاطینی امریکا، افریقہ اور حتیٰ کہ امریکا میں بھی بنیادی ڈھانچے، کاروبار اور قدرتی وسائل میں سرمایہ کاری کرنے لگا۔

اس کے بعد چین کی معاشی طاقت اس سطح تک پہنچ گئی کہ امریکہ اوباما کی دوسری مدت کے آخر سے، اور خاص طور پر 2016-2017 سے،یہ محسوس کرنے لگا کہ اب یہ تعلق پہلے جیسا فائدہ مند نہیں رہا۔امریکہ نے تحفظاتی اقدامات شروع کر دیے اور چین کے اردگرد اپنی عسکری موجودگی کو مضبوط کیا۔یہ صورتحال عسکری محاصرے کا واضح نمونہ ہے۔جنوبی کوریا میں 20 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی،جاپان میں 50 ہزار سے زیادہ،جزیرہ گوام پر 10 ہزار کے قریب،اس کے علاوہ دیگر جگہوں پر تعینات فوجی،اور تائیوان کے ساتھ عسکری اتحاد، جس کے تحت اسے جدید اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔چین کے نقطہ نظر سے امریکہ اس کے اپنے خطے میں اس کا گھیراؤ کر رہا ہے۔

امریکا کے نقطہ نظر سے چین ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی سرمایہ دارانہ حریف طاقت بن چکا ہے، جو عالمی منڈیوں میں حصہ بڑھا رہا ہے اور کئی براعظموں پر مضبوط اور دیرپا پوزیشن بنا رہا ہے،جن میں وہ خطے بھی شامل ہیں جنہیں ٹرمپ ’’مغربی نصف کرے‘‘ کہتے ہیں، یعنی گرین لینڈ اور کینیڈا سے لے کر جنوبی ارجنٹینا اور چلی تک۔

مثال کے طور پرچین پیرو کی اہم ترین بندرگاہ پر کنٹرول رکھتا ہے،اور کئی ممالک میں کان کنی اور تیل کی نکاسی کی کمپنیوں کا مالک ہے۔امریکہ کے نزدیک اس کی تاریخی بالادستی کا علاقہ اب خطرے میں پڑنا شروع ہو گیاہے۔ٹرمپ کے دور میں یہ منطق کھل کر اپنانا شروع کر دی گئی ہے۔امریکا یہ حق جتاتا ہے کہ اپنے نصف کرے میں آزادانہ طور پر مداخلت کرے،وینزویلا پر تیل کے لیے حملہ کرے اور اسے اپنے قبضے میں لے،وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو نیویارک میں اغوا اور یرغمال بنا کر رکھے،گرین لینڈ، کینیڈا اور پاناما کینال پر اثرورسوخ بڑھائے،اور چین سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ اس خطے میں اپنی پوزیشن چھوڑ دے۔

ٹرمپ قومی سلامتی حکمت عملی این ایس ایس 2025 میں چین کو کیسے بیان کرتے ہیں؟کیا آپ اپنے مضمون ’’واشنگٹن نے چین کو اپنا مرکزی اسٹریٹجک حریف کیوں بنایا؟‘‘ کا خلاصہ بیان کرنا چاہیں گے؟

ایرک توساں:دسمبر 2025 کے اوائل میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شائع ہونے والی قومی سلامتی حکمت عملی (این ایس ایس)کی دستاویز واضح طور پر چین کو امریکہ کا مرکزی اسٹریٹجک دشمن قرار دیتی ہے۔ واشنگٹن کا ہدف یہ ہے کہ وہ مغربی نصف کرے میں چین کی موجودگی کو محدود کرے اور انڈوپیسیفک خطے میں چین کے گرد فوجی گھیرا تنگ کرے۔

امریکی حکومت کے مطابق اس خطے میں 3لاکھ75ہزار امریکی فوجی اور عسکری سول اہلکار تعینات ہیں، 66 مستقل فوجی اڈے اور 80 سے زائد غیر مستقل اڈے موجود ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی طور پر بہت بڑی فوجی موجودگی ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر اگرچہ چین نے اب تک معاشی اور پرامن توسیع پر مبنی حکمت عملی اپنائی ہے، تاہم امکان ہے کہ چین کی سیاسی قیادت کے اندر کچھ حلقے اثر و رسوخ بڑھا رہے ہوں جو امریکہ کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کی تیاری کے حق میں ہیں، اور اسے اپنے دفاع کی بنیاد پر درست قرار دیتے ہیں۔ نتیجتاً ہم ایک انتہائی نازک مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
تاریخی طور پر ٹرمپ کی پالیسی ان پالیسیوں سے مشابہت رکھتی ہے جو 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے آغاز میں امریکہ نے اپنائیں، جب واشنگٹن نے اپنے اثر و رسوخ کے دائرے کو بڑھانے کے لیے براہ راست فوجی مداخلتیں کیں۔ نمایاں مثالوں میں 1847 کی میکسیکو جنگ شامل ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ نے ٹیکساس، نیو میکسیکو اور کیلیفورنیا پر قبضہ کر لیاتھا۔1898 میں ہسپانوی نوآبادیاتی سلطنت کے خلاف جنگ بھی شامل ہے، جس کے بعد امریکہ نے کیوبا، پورٹو ریکو اور فلپائن پر کنٹرول حاصل کر لیاتھا۔1915 سے ہیٹی پر امریکی قبضہ بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد بھی امریکہ نے اپنی جارحانہ خارجہ پالیسی جاری رکھی۔ 1950کی دہائی میں کوریا کی جنگ، 1960سے1975کے دوران ویت نام کی جنگ ، جس میں امریکا نے پانچ لاکھ تک فوجی بھیجے، 1991کی گلف وار،2001 سے طالبان حکومت والے افغانستان میں فوجی مداخلت،2003 میں عراق پر حملہ وغیرہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔

21ویں صدی میں ہم ایک بار پھر کلاسیکی سامراجی پالیسیوں کی واپسی دیکھ رہے ہیں،جن پالیسیوں کا تجزیہ لینن، ٹراٹسکی، ہلفر ڈنگ، بخارن اور روزا لکسمبرگ نے کیا تھا۔ ان مارکسی مفکرین نے ثابت کیا کہ سامراجی طاقتوں کے درمیان مقابلہ لازماً تصادم پیدا کرتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اگرچہ کوریا اور ویت نام کی جنگیں نہایت خونریز تھیں اور کئی ممالک اس میں شامل تھے، مگر یہ عالمگیر جنگ میں تبدیل نہیں ہوئیں۔ تاہم ،خصوصاً ٹرمپ کی پالیسیوں کے زیر اثرآج کی صورتحال ایسی سمت میں بڑھ رہی ہے کہ ایک نئی عالمی جنگ کا خطرہ دوبارہ حقیقی ہوتا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کو یہ تاثر کیسے ملا کہ چین کو’قابو‘کیا جا سکتا ہے؟

ایرک توساں:میرا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ مختلف اقتصادی، تجارتی، سفارتی اور عسکری حکمت عملیوں کے ذریعے چین کی عالمی معاشی توسیع کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقتصادی اور تجارتی تحفظ پسندی میں اضافہ اورمختلف رکاوٹوں کے نفاذجیسی حکمت عملیاں شامل ہیں، تاکہ چینی درآمدات میں کمی کی جائے،اور اس کے مقابلے میں امریکی مصنوعات کی عالمی برآمدات کو فروغ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ امریکی مصنوعات خریدیں، اور امریکہ سمیت دیگر ملکوں کی کمپنیوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ یا تو اپنی پیداوار امریکہ کے اندر بڑھائیں یا اپنی پیداوار کو امریکہ واپس منتقل کریں۔

دیگر اقدامات میں امریکی کمپنیوں کو زیادہ سبسڈیز دینا،مغربی نصف کرے اور دیگر خطوں میں علاقوں اور قدرتی وسائل پر کنٹرول مضبوط کرنا، اور چین کے ساتھ سخت مذاکرات جیسے اقدامات شامل ہیں،تاکہ چین کواپنی سرحدوں سے باہر معاشی توسیع کم کرنے پر آمادہ کیا جائے۔

جہاں تک عسکری اقدامات کا تعلق ہے، اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں کہ ٹرمپ سیدھے طور پر چین کے ساتھ جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔اصل مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیجنگ کو اپنی غالب فوجی برتری دکھا کر مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ اگر کبھی مسلح تصادم ہوا تو موجودہ امریکی فوجی گھیرا بندی،خواہ وہ انڈوپیسیفک میں ہو یا عالمی سطح پر،کے تحت چین کی کامیابی کے امکانات نہایت محدود ہوں گے۔

اس طرح امریکہ یہ مفروضہ بنائے ہوئے ہے کہ وہ چین کی قیادت کو ڈرا دھمکا کر اس کی معاشی توسیع کو محدود کر سکتا ہے۔تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ چین دباؤ میں آ کر اپنے اسٹریٹجک اور معاشی اہداف کم کر دے گا۔الٹا امکان یہ ہے کہ بیجنگ براہ راست فوجی تصادم نہیں چاہے گا، مگر امریکہ کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں اور عسکری تیاریوں کے باعث اسے بالآخر ایسے تصادم کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔

اس تناظر میں ٹرمپ کی حکمت عملی نہایت خطرناک دکھائی دیتی ہے۔یہ صرف چین امریکہ تعلقات کے لیے نہیں بلکہ امریکی عوام، چینی عوام اور مجموعی طور پر دنیا بھر کی آبادی اور پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

آپ اس وقت چین اور امریکہ کے درمیان طاقت کے توازن کو کیسے دیکھتے ہیں، اور اس صورتحال میں روس کا کیا مقام ہے؟

ایرک توساں:موجودہ بین الاقوامی منظرنامے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ روس اور یورپ دونوں کی صورتحال کا تجزیہ شامل کیا جائے۔

ٹرمپ کا بنیادی مقصد روس اور چین کے درمیان دراڑ ڈالنا ہے۔ گزشتہ 15برسوں میں ولادیمیر پوتن اور شی جن پنگ کے درمیان تعلقات بہت زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ اس قربت کے نتیجے میں برکس (BRICS)جیسے ڈھانچے وجود میں آئے اور روس و چین کے درمیان تجارتی، مالیاتی اور عسکری تعاون مزید بڑھا، ایساخاص طور پر 2014 میں کریمیا کے انضمام کے بعد روس پر مغربی طاقتوں کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے بعدہوا۔ یہ پابندیاں 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد مزید سخت ہو گئیں۔

ان پابندیوں نے روس کو عملاً چین کے مزید قریب کر دیا۔ اس صورتحال کے پیش نظر ٹرمپ نے ایک مخصوص حکمت عملی اپنائی ہے۔ وہ پوتن کو خاموشی سے ایک سودے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ پیغام کچھ یوں ہے کہ’ تم اپنے علاقائی ماحول،یعنی سابق سوویت ریاستوں کے علاقے میں ویسے ہی عمل کر سکتے ہو جیسے میں مغربی نصف کرے میں کرتا ہوں۔‘سادہ لفظوں میں ٹرمپ خود کو وینزویلا یا لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک میں مداخلت کرنے کا حق دیتے ہیں، اور اسی کے بدلے روس کو اپنے خطے میں اسی قسم کی گنجائش کا جوازدینا چاہتے ہیں۔

اس منطق کے تحت ٹرمپ پوتن کو ایک ’’ڈیل‘‘ پیش کر رہے ہیں کہ روس بشمول یوکرین اپنے خطے میں اپنے مقاصد حاصل کرے، اور اس کے بدلے چین سے فاصلہ اختیار کرے۔یعنی امریکہ کی اصل اسٹریٹجی یہ ہے کہ روس اور چین کے اتحاد کو توڑ کر چین کو تنہا کیا جائے، جبکہ روس کو اس کی سامراجی خواہشات کے بارے میں کچھ یقین دہانی کرائی جائے۔

واضح رہے کہ آج روس ایک انتہائی جارحانہ سرمایہ دار سامراجی طاقت بن چکا ہے۔ اس طرح ہم دو سامراجی طاقتوں کے درمیان ممکنہ مفاہمت دیکھ رہے ہیں، جن میں روس ایک جارحانہ مگر ثانوی درجے کی طاقت ہے،جبکہ امریکہ ایک غالب اور حد سے زیادہ جارح سامراجی طاقت ہے۔یہ اتفاق چین کو کمزور کرنے اور اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔

تاہم اس حکمت عملی کی کامیابی یقینی نہیں۔ٹرمپ کے اس وقت پوتن کے ساتھ نرم لہجے کی واضح مثال 21 اور 22 جنوری کو ڈیووس میں منعقدہ ’’ورلڈ پیس کونسل‘‘ میں پوتن کو دعوت دینا ہے، لیکن یہ نرم لہجہ کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔ اگر پوتن چین سے فاصلہ بڑھانے سے انکار کر دیتے ہیں یا یوکرین کے معاملے میں اپنی پوزیشن کمزور کرنے پر راضی نہیں ہوتے، تو امریکہ کا موقف اچانک بدل جانا بالکل ممکن ہے۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ امریکہ اورچین کے تعلقات کو روس کے کردار سے الگ کر کے سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔امریکی سامراج فعال طور پر روسی حکومت کے ساتھ ایسا معاہدہ تلاش کر رہا ہے جو چین کے اقتصادی، سیاسی اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو کم کر سکے۔

ہمیں کون سی بین الاقوامی انقلابی پوزیشن اختیار کرنی چاہیے؟

ایرک توساں:اس صورتحال میں بطور انقلابی اور بین الاقوامیت پسند ہمارے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟ہمارا جواب بالکل واضح ہے کہ ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، اور بڑی طاقتوں کی سازشوں، ان کے تصادموں اور ہر قسم کی سامراجی جارحیت کے خلاف ہیں۔

عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم روس اور یوکرین کے ان محنت کشوں کی حمایت کرتے ہیں جو روس کی یوکرین پر جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ہم چین کے محنت کشوں، طلبہ اور سماجی تحریکوں کی حمایت کرتے ہیں جو اپنے حقوق، بہتر زندگی اور وسیع سیاسی آزادیوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ہم امریکہ کے محنت کشوں اور عوام کی بھی حمایت کرتے ہیں جو ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ہم مغربی نصف کرے اور دنیا کے دوسرے علاقوں کے ممالک کی خودمختاری کا دفاع کرتے ہیں، جنہیں امریکہ کی جارحانہ سامراجی حکمت عملی سے خطرات لاحق ہیں۔

ہم عوام کے خود ارادیت اور اپنے قدرتی وسائل پر اختیار کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔ہم اس کے منبع سے قطع نظر ہر قسم کی سامراجی اور نوآبادیاتی جارحیت کی مخالفت کرتے ہیں۔

یورپ میں ہم حکومتوں کی سامراجی اور نوآبادیاتی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کی اس مجرمانہ شراکت داری کی مذمت کرتے ہیں جو وہ نیتن یاہوکی نیو فسطائی حکومت کے ساتھ کر رہے ہیں،وہ ایک ایسی حکومت ہے جو فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کر رہی ہے۔

ہم دنیا بھر کی حکومتوں کی ان غیر انسانی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں جو وہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کے ساتھ روا رکھتی ہیں۔ہم تمام بین الاقوامی یکجہتی کی سرگرمیوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ہم ایک حقیقی بین الاقوامی نقطہ نظر کا دفاع کرتے ہیں۔ہم مظلوم عوام کے ساتھ اور ظالموں کے خلاف کھڑے ہیں۔

ہم دیگر قوتوں کے ساتھ مل کر فسطائیت مخالف اورسامراجیت مخالف کانفرنس کی تیاری اور تنظیم سازی میں سرگرم ہیں، جو پورٹو الیگرے، برازیل میں 26 سے 29 مارچ 2026 تک منعقد ہو رہی ہے۔ہم فسطائیت مخالف اور سامراج مخالف عالمی کارروائیوں کے استحکام کے بین الاقوامی مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔

(بشکریہ: ’لنکس‘، ترجمہ : حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں