روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

کامن سینس دانش مندی کی پست ترین شکل ہوتی ہے: ٹراٹسکی

کامن سینس دانش مندی کی پست ترین شکل ہوتی ہے: ٹراٹسکی

(مندرجہ ذیل اقتباس لیون ٹراٹسکی کے معروف کتابچے’دئیر مورلز اینڈ آورز‘ (Their Morals and Ours)سے لیا گیا ہے۔ ترجمہ: فاروق سلہریا)

محض جمہوریت اور ”عمومی طور پر تسلیم کی گئی“ اخلاقیات ہی سامراج کا شکار نہیں بنے۔ سامراج کے ہاتھوں شہید ہونے والا تیسرا شہید ”عالمگیر“ کامن سینس (عام فہم) ہے۔ کامن سینس دانش مندی کی سب سے پست شکل ہوتی ہے جو نہ صرف ہر طرح کے حالات میں ضروری ہوتی ہے بلکہ بعض حالات میں کامن سینس ہی کافی ہوتی ہے۔کامن سینس کا بنیادی سرمایہ وہ عالمگیر اسباق ہیں جو تجربات کی روشنی میں سیکھے گئے ہیں:آگ میں ہاتھ مت ڈالو، ہر ممکن حد تک سیدھے راستے پر چلو، باولے کتے کو مت چھیڑو۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔

مستحکم سماجی حالات میں کامن سینس سودے بازی، دوادارُو، مضامین لکھنے کے لئے،ٹریڈ یونین کی قیادت کرنے، پارلیمانی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے، شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ہاں البتہٰ جب کامن سینس اپنی جائز حدود سے تجاوز کرتے ہوئے پیچیدہ گتھیاں سلجھانی کی کوشش کرتی ہے،تو کامن سینس مخصوص عہد کے مخصوص طبقے کے تعصبات کے ایک لوتھڑے کے طور پر بے نقاب ہو جاتی ہے۔

سرمایہ دارانہ بحران معمولی سا بھی بڑھ جائے تو کامن سینس بند گلی میں پہنچ جاتی ہے جبکہ انقلاب، رد انقلاب اور جنگ جیسی تباہ کاریوں کے مقابل تو کامن سینس بالکل احمق ثابت ہوتی ہے۔ ”عمومی“ حالات کے مقابلے پر جب خوفناک حد تک غیر معمولی واقعات رونما ہوتے ہیں تو ان سے نپٹنے کے لئے دانش مندی کی اعلیٰ سطحی خصوصیات درکار ہوتی ہیں۔ اس اعلیٰ سطحی دانش مندی کا آج تک واحد فلسفیانہ اظہار صرف اور صرف جدلیاتی مادیت ہے۔

میکس ایسٹ مین (۱)، جس نے ”کامن سینس“ کی انتہائی دل کش مرصع کاری کی کامیاب کوشش کی ہے، اس نے جدلیات کے خلاف جدوجہد کو بطور پیشہ ہی اپنا لیا ہے۔ میکس ایسٹ مین نے کامن سینس کی انتہائی رجعت پسند اور بے ذوق باتوں کو اپنے خوب صورت انداز تحریر کی مدد سے ”انقلاب کی سائنس“ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

کامن سینس کی مدح سرائی کرنے والے خود پسندوں کی حمایت کرتے ہوئے میکس ایسٹ مین انسانیت کو اس لاجواب یقین دہانی کے ساتھ یہ کلیہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر ٹراٹسکی مارکسی ڈاکٹرائن کی بجائے کامن سینس سے کام لیتا تو اقتدار سے ہاتھ نہ دھونا پڑتا۔ تاریخ میں آج تک جتنے بھی انقلاب آئے ہیں ان کی اندرونی جدلیات ان انقلابوں کے طے شدہ مرحلوں میں ناگزیر سلسلہ بن کر سامنے آئی لیکن میکس ایسٹ مین کے لئے اندرونی جدلیات کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

میکس ایسٹ مین کے مطابق انقلاب کے مقابلے پر رجعت اس لئے ابھرتی ہے کہ کامن سینس کو وہ اہمیت نہیں بخشی گئی جس کی وہ مستحق تھی۔ میکس ایسٹ مین یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ در اصل،ایک طرح سے تاریخی معنوں میں، سٹالن کامن سینس کا شکار بنا۔۔۔یعنی کامن سینس کے نا کافی پن کا کیونکہ اس کے پاس جو طاقت ہے وہ بالشویک انقلاب کے مقاصد سے متصادم ہے۔

اس کے برعکس، مارکسی ڈاکٹرائن نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا کہ ہم تھرمیڈورین(۲) نوکر شاہی سے بر وقت علیحدہ ہو گئے اور عالمی سوشلزم کے مقاصد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

ہر سائنس،ان معنوں میں ”انقلاب کی سائنس“ بھی تجربے کی مدد سے کنٹرول ہوتی ہے۔ میکس ایسٹ مین چونکہ جانتا ہے کہ عالمی ردِ انقلاب کے اِن حالات میں انقلابی اقتدار کیسے قائم رکھا جا سکتا ہے،تو ہمیں امید ہے کہ اسے یہ بھی معلوم ہو گا کہ اقتدار پر قبضہ کیسے کرنا ہے۔ یہ انتہائی نیک اقدام ہو گا اگر وہ اپنا یہ راز ہم سب پر افشا کر دیں۔ کیا ہی اچھی بات ہو اگر وہ یہ راز ”انقلابی جماعت کے لئے ڈرافٹ پروگرام“ کی شکل میں شائع کر دیں اور اس ڈرافٹ پروگرام کا عنوان ہو: ”اقتدار پر کیسے قبضہ کرنا اور برقرار رکھنا ہے؟“۔

ہمیں ڈر ہے کہ کامن سینس کے پیشِ نظر میکس ایسٹ مین ایسی کسی پر خطر حرکت سے پرہیز ہی فرمائیں گے۔اگر میکس ایسٹ مین نے پرہیز سے کام لیا تو سمجھئے اس بار کامن سینس سے کام لینا عین درست عمل تھا۔

مارکسی ڈاکٹرائن،افسوس جو میکس ایسٹ مین کو کبھی سمجھ نہ آ سکا، نے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ مخصوص تاریخی حالات میں سویت تھرمیڈور اور اس کے بے تحاشا جرائم نا گزیر ہیں۔ اسی ڈاکٹرائن نے عرصہ ہوا، بورژوا جمہوریت اور اس کی اخلاقیات کے زوال کی پیش گوئی کی تھی۔ کامن سینس کا ڈاکٹرائن در اصل انجانے میں سٹالنزم اور فاشزم کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔

ایک ایسی دنیا جس میں صرف تبدیلی غیر متغیر ہو وہاں کامن سینس غیر متغیر پیمانے پر عمل درآمد کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔ اس کے بر عکس،جدلیات ہر طرح کے مظاہر،ادارہ جات، ابھرتے ہوئے معمولات، ارتقا اور زوال کو پیش ِنظر رکھتی ہے۔ کامن سینس کی نظر میں اخلاقیات کا جدلیاتی انداز میں طبقاتی جدوجہد کے تابع ہونا،اور ان اخلاقیات کی عبوری حیثیت درا صل ”بد اخلاقی“ کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔مگر کیا کیجئے کہ کامن سینس کے اخلاقی ضابطوں سے زیادہ جامد،خود پسند، شکی مزاج اور بے جان اور کوئی چیز نہیں۔

وضاحت

۱۔میکس ایسٹ مین امریکی سوشلسٹ تھے۔ سٹالن کے خلاف ٹراٹسکی کی قیادت میں لیفٹ اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ بعد ازاں، ٹراٹسکی سے بھی اختلاف ہو گئے اور کیمونزم کے شدید ناقد بن گئے۔ مترجم۔

۲۔تھرمیڈور(Thermidor) انقلاب فرانس کے بعد ترتیب دئیے گئے کیلنڈر کا گیارہوں مہینہ تھا۔ اس مہینے رابس پئیر کی انقلابی حکومت کا خاتمہ کر کے رد انقلاب کامیاب ہوا۔ انقلاب روس کے بعد، تھرمیڈور پر بہت بحث تھی۔ بحث اس بابت تھی کہ سویت روس میں رد انقلاب کی کیا شکل ہو گی۔ ٹراٹسکی نے سٹالنزم کی شکل میں ابھرنے والی حکومت کو تھر میڈور قرار دیا: مترجم۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں