(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
ملیوکوف درست کہتا ہے کہ ماسکو اجلاس نے یہ واضح کر دیا کہ ’’ملک دو ایسے کیمپوں میں تقسیم تھا جن کے درمیان کوئی مصالحت یا مفاہمت نہیں ہو سکتی تھی‘‘ اور یوں حکومت کی حیثیت کو نقصان پہنچایا۔ اجلاس نے بورژوازی کے حوصلے بڑھا دئیے اور اُن کی بے صبری میں اضافہ کر دیا۔ دوسری طرف اِس نے عوام کی تحریک کو نیا دھکا بھی لگایا۔ ماسکو کی ہڑتال نے مزدوروں اور سپاہیوں کی بائیں طرف تیز گروہ بندی کے نئے مرحلے کا آغاز کر دیا۔ اِس کے بعد سے بالشویک ناقابلِ تسخیر ہو تے گئے۔اُن کے علاوہ صرف بائیں بازو کے سوشل انقلابی اور کسی حد تک بائیں بازو کے منشویک ہی عوام میں خود کو برقرار رکھ سکے۔ منشویکوں کی پیٹروگراڈ کی تنظیم نے شہری دوما کے امیداواروں کی فہرست میں سے سریتیلی کو نکال کر بائیں طرف اپنے بڑھتے ہوئے جھکاؤ کا اظہار کیا۔ 16 اگست کو سوشل انقلابیوں کے پیٹروگراڈ اجلاس نے ایک کے مقابلے میں 22 ووٹوں سے صدر دفترمیں ’افسران کی لیگ‘ کے خاتمے اور ردِ انقلاب کے خلاف دوسرے فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا۔ 18 اگست کو پیٹروگراڈ سوویت نے اپنے صدر سریتیلی کے اعتراض کو رد کرتے ہوئے سزائے موت ختم کرنے کے سوال کو موضوعِ بحث بنایا۔ رائے شماری سے پہلے سریتیلی نے سوال اٹھایا: ’’اگر تمہاری قرارداد کے نتیجے میں سزائے موت ختم نہیں کی جاتی ہے تو کیا تم سڑک پر ہجوم لے آؤ گے اور حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرو گے؟‘‘ جواب میں بالشویک چلّائے، ’’ہاں! ہم ہجوم بلائیں گے اور حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کی پوری کوشش کریں گے۔‘‘ سریتیلی بولا، ’’تمہارے سر آج کل کچھ زیادہ ہی اٹھنے لگے ہیں۔‘‘ بالشویکوں نے اپنے سر عوام کے ساتھ مل کر اٹھائے تھے۔ عوام کے سر اٹھنے کے بعد مصالحت پسندوں نے اپنے سر جھکا لئے تھے۔ سزائے موت کے خاتمے کی قرارداد 4 کے مقابلے میں 900 ووٹوں سے منظور ہو گئی۔ [مخالفت کا ووٹ دینے والے] چار لوگ سریتیلی، شکائدز، ڈین اور لائبر تھے! چار دنوں بعد منشویکوں اور اُن کے ہمدرد گروہوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں بنیادی سوالات پر مارٹوف کی مخالفت میں سریتیلی کی ایک قرارداد منظور ہوئی، لیکن سزائے موت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کسی بحث کے بغیر منظور کر لیا۔ سرتیلی اب دباؤ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا تھا، لہٰذا خاموش رہا۔
اِس گاڑھے ہوتے ہوئے سیاسی ماحول کو محاذ پر ہونے والے واقعات نے چیر دیا۔ 19 اگست کو اکسکل کے قریب روسی صفوں میں جرمنوں نے دراڑ ڈال دی۔ 21 تاریخ کو انہوں نے ریگا پر قبضہ کر لیا۔ کسی پیشگی سمجھوتے کی طرح کورنیلوف کی پیش گوئی کی تکمیل بورژوازی کے سیاسی حملے کے لئے اشارہ بن گئی۔ پریس نے ’’کام نہ کرنے والے مزدوروں‘‘ اور ’’جنگ نہ لڑنے والے سپاہیوں‘‘ کے خلاف اپنی مہم دس گنا بڑھا دی۔ ہر چیز کا قصور وار انقلاب کو ٹھہرایا جا رہا تھا: اُس نے ریگا میں ہتھیار ڈال دئیے تھے؛ وہ پیٹروگراڈ میں بھی ہتھیار ڈالنے کو تیار ہو رہا تھا۔ فوج پر ڈھائی ماہ پہلے جتنی ہی تندوتیز بہتان تراشی میں کسی جواز کا شائبہ تک نہیں تھا۔ جون میں تو سپاہیوں نے واقعی حملہ کرنے سے انکار کر دیا تھا: وہ محاذ کو بھڑکانا نہیں چاہتے تھے، جرمنوں کے سکوت کو توڑنا نہیں چاہتے تھے، لڑائی دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ریگا پر قبضے کے لئے پیش قدمی تو دشمن نے کی تھی اور سپاہیوں کا رویہ بالکل مختلف تھا۔ مزید برآں یہ 12ویں فوج کا پراپیگنڈا سے سب سے زیادہ متاثرہ حصہ ہی تھا جو کم ترین بوکھلاہٹ کا شکار ہوا۔
فوج کے کمانڈر جنرل پارسکی نے بلاوجہ شیخی نہیں بگھاری کہ پسپائی ’’ایک قابل تقلید ڈسپلن‘‘ کے ساتھ مکمل ہوئی اور اس کا موازنہ گالیشیا اور مشرقی پروشیا کی پسپائیوں سے نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کمیسار ووئٹنسکی نے اطلاع دی: ’’دراڑ والے علاقے میں ہمارے دستوں نے مقرر کردہ فرائض بڑے عالیشان اور بے داغ انداز سے نبھائے ہیں، لیکن وہ زیادہ دیر تک دشمن کا حملہ برداشت نہیں کر سکتے ہیں اور ایک وقت میں ایک قدم لے کر بھاری نقصانات اٹھاتے ہوئے پسپا ہو رہے ہیں۔میں لیٹویائی نشانچیوں کی غیر معمولی شجاعت کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں، جن کی باقیات کو مکمل تھکاوٹ کے باوجود دوبارہ لڑائی میں بھیج دیا گیا ہے… ‘‘ فوجی کمیٹی کے صدر، منشویک کُچن کی اطلاع اِس سے بھی زیادہ پرجوش تھی: ’’سپاہیوں کا جوش و جذبہ حیران کن تھا۔ کمیٹی کے اراکین اور افسران کے مطابق اُن کی ثابت قدمی بے نظیر تھی۔‘‘ اِسی فوج کے ایک اور نمائندے نے کچھ دنوں بعد مجلس عاملہ کے بیورو کے ایک اجلاس میں بتایا: ’’حملے کے مقام کے مرکز میں ایک لیٹویائی بریگیڈ موجود تھی، جو کم و بیش ساری کی ساری بالشویکوں پر مشتمل تھی… پیش قدمی کے احکامات ملنے پر بریگیڈ سرخ جھنڈوں اور بجتے ہوئے بینڈ کے ساتھ آگے بڑھی اور غیرمعمولی جرات سے لڑی۔‘‘ سٹینکیوچ نے بھی بعد ازاں یہی لکھا، ’’ فوجی صدر دفتر میں ایسے لوگ موجود ہوتے تھے جو ہر وقت سپاہیوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کا موقع ڈھونڈتے تھے، لیکن وہاں بھی نہ صرف لڑائی کے احکامات بلکہ کسی بھی قسم کے احکامات کی حکم عدولی کا کوئی ایک واقعہ بھی میرے علم میں نہیں آیا۔‘‘ سرکاری دستاویزت کے مطابق مونسنڈ آپریشن کے لئے خشکی پر اترنے والے بحری دستوں نے بھی نمایاں استقامت کا مظاہرہ کیا۔سپاہیوں، بالخصوص لیٹویائی نشانچیوں اور بالٹک کے جہازیوں کے مزا ج کے تعین میں اِس حقیقت نے اہم کردار ادا کیا تھا کہ اِس بار انقلاب کے دو مراکز، ریگا اور پیڑوگراڈ، کے براہ راست دفاع کا سوال تھا۔ زیادہ باشعور سپاہیوں نے یہ بالشویک خیال سمجھ لیا تھا کہ ’’ہتھیار ڈال دینے سے جنگ کا سوال حل نہیں ہو گا‘‘ اور امن کی جدوجہد کو اقتدار اور ایک نئے انقلاب کی جدوجہد سے الگ نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اگرچہ جرنیلوں کے حملے سے خوفزدہ ہو کر کچھ کمیساروں نے فوج کی بہادری کو مبالغہ آرائی سے پیش کیا،پھر بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ سپاہیوں اور جہازیوں نے احکامات پر عمل کیا اور اپنی جانیں دیں۔ وہ اِس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ دفاع کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ شاید بہت حیران کن لگے کہ بارہویں فوج کو بالکل بے خبری میں دبوچ لیا گیا۔ ہر چیز کی کمی تھی: آدمی، ہتھیار، فوجی رسد، گیس ماسک۔ خبر رسانی کا نظام ناقابل بیان حد تک ناقص تھا۔ جوابی حملے تاخیر کا شکار ہوئے کیونکہ روسی رائفلوں کے لئے جاپانی گولیاں بھیج دی گئی تھیں۔ یہ محاذ کا کوئی غیراہم حصہ نہیں تھا۔ ریگا کے ہاتھ سے نکل جانے کے گہرے مضمرات سے بالائی کمان بے خبر نہیں تھی۔ پھر دفاعی افواج اور بارہویں فوج کی رسد کی انتہائی خستہ حالت کی وضاحت کیسے کی جا سکتی ہے؟ سٹینکیوچ لکھتا ہے، ’’بالشویکوں نے پہلے ہی افواہیں پھیلانا شروع کر دی تھیں کہ شہر کو ایک مقصد کے تحت جرمنوں کے حوالے کیا گیا تھا، کیونکہ افسران بالشویزم کے اِس گڑھ اور تربیت گاہ سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ اِن افواہوں پر سپاہی یقین ہی کر سکتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ [ریگا کو بچانے کے لئے] بنیادی طور پر کوئی دفاع یا مزاحمت نہیں کی گئی تھی۔‘‘ یہ حقیقت ہے کہ دسمبر 1916ء میں ہی جنرل رسزکی اور بروسیلوف نے شکایت کی تھی کہ ریگا ’’شمالی محاذ کی بدبختی‘‘ اور ’’پراپیگنڈا کا گڑھ‘‘ تھا، جس سے صرف موت کی سزاؤں کے ذریعے ہی نبٹا جا سکتا تھا۔ ریگا کے مزدوروں اور سپاہیوں کو جرمنی کے عسکری قبضے کے تربیتی سکول میں بھیجنا یقینا شمالی محاذ کے کئی جرنیلوں کا خواب رہا ہو گا۔ تاہم کسی نے بھی گمان نہیں کیا کہ ریگا کو دشمن کے حوالے کرنے کا حکم سپہ سالار نے دیا تھا۔ لیکن کورنیلوف کی تقریر اور اُس کے چیف آف سٹاف لوکومسکی کا انٹریو سارے کمانڈروں نے پڑھا تھا۔ یوں باقاعدہ حکم دینے کی ضرورت ہی ختم ہو گئی۔ شمالی محاذ کے سپہ سالار جنرل کلیمبووسکی کا تعلق سازشیوں کے ایک اندرونی گروہ سے تھا، اسی لئے وہ ملک بچانے کی تحریک کے آغاز کے اشارے کے طور پر ریگا سے دستبرداری کا انتظار کر رہا تھا۔ مزید برآں یہ روسی جرنیل عام حالات میں بھی شکست اور پسپائی کو ہی ترجیح دیتے تھے۔ اِس موقع پرتو صدر دفتر نے اُنہیں ذمہ داری سے پیشگی مبرا کر دیا تھا اور اُن کے سیاسی مفادات بھی اُنہیں شکست خوردگی کے راستے پر دھکیل رہے تھے، ایسے میں انہوں نے دفاع کی کوشش تک نہیں کی۔ کیا اِس یا اُس جرنیل نے دفاع کے مجہول سبوتاژ میں کسی نقصان دہ کاروائی کا اضافہ کیا، یہ ایک ثانوی سوال ہے جسے حل کرنا مشکل ہے۔ تاہم یہ گمان کرنا بھولا پن ہو گا کہ جرنیلوں نے ایسی صورت میں شکست میں ہاتھ نہیں بٹایا ہو گا جب اُن کی غدارانہ سرگرمیاں کو سزا کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔
امریکی صحافی جان ریڈ، جو دیکھنا اور سننا جانتا تھا اور جس نے اکتوبر انقلاب کی واقعہ نگاری پر مبنی لازوال کتاب چھوڑی ہے، بلا ہچکچاہٹ تصدیق کرتا ہے کہ روس کے ملکیتی طبقات کا ایک بڑا حصہ جرمن فتح کو انقلاب کی فتح پر ترجیح دیتا تھا اور اِس کے برملا اظہار سے ہچکچاتا بھی نہیں تھا۔ ریڈ لکھتا ہے، ’’ایک شام میں نے ماسکو کے ایک تاجر کے گھر گزاری۔ چائے کے دوران میز پر موجود گیارہ لوگوں سے ہم نے پوچھا کہ وہ جرمن بادشاہ اور بالشویکوں میں سے کسے ترجیح دیتے ہیں۔ ایک کے مقابلے میں دس لوگوں نے جرمن بادشاہ کو ووٹ دیا۔‘‘ اِسی امریکی مصنف نے شمالی محاذ پر افسروں سے گفتگو کی، جنہوں نے ’’بے تکلفی سے سپاہی کمیٹیوں کے ساتھ کام کرنے پر ایک فوجی شکست کو ترجیح دی۔‘‘
بالشویکوں کے سیاسی الزام کی تصدیق کے لئے اتنا کافی ہے کہ ریگا کو دشمن کے حوالے کرنا سازشیوں کے منصوبے میں شامل تھا اور اُن کے منصوبے کا ایک اہم سنگ میل تھا۔ماسکو میں کورنیلوف کی تقریر سے یہ بالکل واضح تھا۔ بعد کے واقعات نے معاملے کا یہ پہلو مکمل طور پر عیاں کر دیا۔ لیکن ہمارے پاس ایک براہ راست گواہی بھی موجود ہے،جسے مذکورہ صورت میں گواہ کی شخصیت نے مسلمہ ساکھ عطا کر دی ہے۔ اپنی ’تاریخ‘ میں ملیوکوف کہتا ہے: ’’ماسکو میں کورنیلوف نے اپنی تقریر میں اُس لمحے کی نشاندہی کی تھی جس کے بعد ’ملک کو تباہی اور فوج کو انہدام سے بچانے‘ کے اقدامات کو موخر کرنے کا اُس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وہ لمحہ ریگا کا سقوط تھا، جس کی اُس نے پیش گوئی کی تھی۔ اُس کے خیال میں اِس واقعے نے حب الوطن اشتعال کا سیلاب لے آنا تھا… جیسا کہ کورنیلوف نے 13 اگست کو ماسکو میں ملاقات کے دوران مجھے ذاتی طور پر بتایا تھا کہ وہ یہ موقع گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ کیرنسکی حکومت کے ساتھ کھلے تصادم کا وقت اُس کے دماغ میں پہلے سے معین تھا: 27 اگست۔‘‘ کیا اِس سے زیادہ واضح انداز میں کچھ کہا جا سکتا ہے؟ پیٹروگراڈ پر چڑھائی کرنے کے لئے کورنیلوف کو مقررہ تاریخ سے کئی دن پہلے ریگا کے سقوط کی ضرورت تھی۔ ریگا کو مضبوط بنانے اور دفاع کے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کا مطلب ایک اور مہم کا منصوبہ ترک کرنا ہوتا، جو کورنیلوف کے لئے کہیں زیادہ اہم تھی [۱]۔ اگر پیرس کے لیے عشائے ربانی کی رسم ادا کی جا سکتی ہے تو حصولِ اقتدار کے لیے ریگا ایک معمولی قیمت ہے [۲]۔
ریگا کے سقوط اور کورنیلوف کی سرکشی کے درمیانی ہفتے کے دوران صدر دفتر فوج کے خلاف بہتان تراشی کا مرکزی ذخیرہ بن گیا۔ روسی پریس میں شائع ہونے والے روسی فوجی قیادت کے مراسلوں کی بازگشت فوراً اتحادی ممالک کی پریس میں سنائی دی۔ دی ٹائمز، لی توں (Le Temps) اور ’لی ماٹن‘ میں روسی فوج پر کی جانے والی لعن طعن کو روسی حب الوطن اخباروں نے بھی بڑے جوش و خروش سے دوبارہ شائع کیا۔محاذ پر سپاہی خفگی، طیش اور حقارت سے لرز اٹھے۔حتیٰ کہ مصالحت پسند اور حب الوطن کمیساروں اور کمیٹیوں کو بھی شدید دھچکا لگا۔ ہر طرف مظاہرے ہونے لگے ۔ رومانیہ کے محاذ کی عاملہ کمیٹی اور اوڈیسا کی ضلعی فوج کے خطوط بالخصوص دھار دار تھے، رمچروڈ کہلائے جانے والے بحر سیاہ کے بیڑے نے مطالبہ کیا کہ مجلس عاملہ ’’سارے روس کے سامنے اُن سپاہیوں کی شجاعت اور وقف شدہ بہادری کو واضح کرے جو ہر روز انقلابی روس کے دفاع کی بے رحم لڑائیوں میں ہزاروں کے حساب سے جان دے رہے ہیں… ‘‘ نیچے سے ہونے والے اِن احتجاجوں کے زیر اثر مصالحت پسند رہنماؤں کو بھی اپنی چپ توڑنی پڑی۔ ’ازوستیا‘ نے اپنے سیاسی اتحادیوں کے بارے میں لکھا، ’’یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ایسی غلاظت نہیں ہے جو انقلابی فوج پر یہ بورژوا اخبار نہیں اچھالیں گے۔‘‘ لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔ فوج پر بہتان تراشی اُس ساز ش کا لازمی جزو تھی جس کا مرکز صدر دفتر تھا۔
ریگا سے دستبردار ہو جانے کے فوراً بعد کورنیلوف نے تار کے ذریعے حکم دیا کہ کچھ سپاہیوں کو سڑک پر سب سے سامنے گولی مار دی جائے تاکہ باقیوں کے لئے ایک مثال قائم ہو۔ کمیسار ووئٹنسکی اور جنرل پارسکی نے اطلاع دی کہ سپاہیوں کا طرز عمل ایسے اقدامات کا کسی طور پر بھی متقاضی نہیں تھا۔ کورنیلوف نے صدر دفتر میں کمیٹی نمائندگان کے ایک اجلاس میں اعلان کیا کہ وہ ووئٹنسکی اور پارسکی کا کورٹ مارشل کرے گا، کیونکہ وہ فوج کی صورتحال کی غلط رپورٹیں دے رہے ہیں۔ سٹینکیوچ وضاحت کرتا ہے کہ اِس کا مطلب تھا ’’کیونکہ وہ سارا الزام سپاہیوں پر نہیں تھونپ رہے ہیں۔‘‘ تصویر کو مکمل کرنے کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ اسی دن کورنیلوف نے فوجی افسروں کو حکم دیا تھا کہ بالشویک افسروں کی فہرست ’افسران کی لیگ‘ کی سربراہ کمیٹی کو فراہم کی جائے، یعنی کیڈٹ نوووسلٹسیف کی قیادت میں چلنے والی اُس ردِ انقلابی تنظیم کو فراہم کی جائے جو سازش کا کلیدی مرکز تھی۔ یہ سپہ سالار اعلیٰ اور ’’انقلاب کا اول سپاہی‘‘ کچھ ایسا تھا!
پردے کا چھوٹا سا کونا اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ’ازوستیا‘ نے لکھا: ’’بالائی کمان کے حلقوں کے انتہائی قریب کوئی پراسرار گروہ اشتعال انگیزی کے خوفناک کام میں مصروف ہے… ‘‘ ’’پراسرار گروہ‘‘ کے الفاظ سے اُن کی مراد کورنیلوف اور اُس کے عملے سے تھی۔ آنے والی خانہ جنگی کی کڑکتی ہوئی بجلیاں نہ صرف آج بلکہ گزرے ہوئے کل کی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالنے لگیں۔ اپنی جان بچانے کے لئے مصالحت پسند اب جون کے حملے کے دوران بالائی فوجی قیادت کی مشکوک سرگرمیوں کو بھی بے نقاب کرنے لگے۔ ڈویژنوں اور رجمنٹوں کے افسران کی جانب سے غلیظ بہتان تراشی کی زیادہ سے زیادہ تفصیلات پریس میں نمودار ہونے لگیں۔ ’ازوستیا‘ نے لکھا، ’’روس کو یہ مطالبہ کرنے کا حق ہے کہ جولائی کی شکست کا سارا کچا چٹھا اُس کے سامنے کھولا جائے۔‘‘ اِن الفاظ کو سپاہیوں، جہازیوں اور مزدوروں نے بڑے اشتیاق سے پڑھا، خاص کر اُنہوں نے جنہیں محاذ پر بربادی کا ذمہ دار ٹھہرا کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا تھا۔ دو روز بعد ’ازوستیا‘ اِس سے بھی زیادہ کھل کر یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوا: ’’فوج کا صدر دفتر اپنے بیانات کے ذریعے عبوری حکومت اور انقلابی جمہوریت کے خلاف ایک واضح سیاسی کھیل کھیل رہا ہے۔‘‘ اِن سطور میں حکومت کو صدر دفتر کے منصوبوں کا معصوم شکار بنا کر پیش کیا گیا ہے، لیکن حکومت کے پاس جرنیلوں کو لگام دینے کا پورا موقع تھا۔ اگر اُس نے ایسا نہیں کیا تو اِس لئے کہ وہ ایسا کرنا ہی چاہتی نہیں تھی۔
سپاہیوں کو طعنے دینے کے خلاف مذکورہ بالا احتجاج میں رمچروڈ نے اِس حقیقت پر خصوصی غم وغصے کا اظہار کیا کہ ’’صدر دفتر کے بیانات افسران کی شجاعت پر تو خوب زور دے رہے ہیں لیکن انقلاب کے دفاع کے لئے سپاہیوں کی جانثاری کی دانستہ طور پر تحقیر کی جا رہی ہے۔‘‘ رمچروڈ کا احتجاج 22 اگست کو پریس میں شائع ہوا۔ اگلے دن کیرنسکی کا خصوصی بیان شائع ہوا، جس میں ’’انقلاب کے پہلے دنوں سے اپنی حق تلفی برداشت کرنے والے‘‘ افسروں کی خوب ستائش کی گئی اور ’’اپنی بزدلی کو خیال پرستانہ نعروں تلے چھپانے والے‘‘ سپاہیوں کی تضحیک کی گئی۔ ایک ایسے وقت میں جب سٹینکیوچ اور ووئٹنسکی جیسے اُس کے قریب ترین معاونین بھی سپاہیوں پر افسروں کی الزام تراشی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، کیرنسکی خود بھی اِس الزام تراشی میں شامل ہو گیا اور اِسے وزیر جنگ اور حکومت کے سربراہ کے طور پر شہ دینے لگا۔ کیرنسکی نے بعد ازاں تسلیم کیا کہ جولائی کے آخر سے ہی اُس کے پاس صدر دفتر کے گرد منظم افسروں کی سازش کے بارے میں ’’مستند معلومات‘‘ موجود تھیں۔ کیرنسکی کے الفاظ میں، ’’افسروں کی لیگ کی سربراہ کمیٹی نے اپنے میں سے متحرک سازشیوں کو تعینات کیا تھا اور اِس کے اراکین مختلف علاقوں میں سازش کے آلہ کار تھے۔ اُنہوں نے لیگ کی قانونی کاروائیوں کو ضروری لہجہ دیا۔‘‘ یہ بالکل درست ہے۔ ہمیں صرف یہ اضافہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ’’ضروری لہجہ‘‘ درحقیقت فوج، کمیٹیوں اور انقلاب کے خلاف بہتان تراشی کا لہجہ تھا، یعنی کہ یہ بالکل کیرنسکی کے 23 اگست کے فرمان کا لہجہ تھا۔
یہ گتھی کیسے سلجھائی جا سکتی ہے؟ یہ بالکل مسلمہ ہے کہ کیرنسکی کی کوئی مستقل اور سوچی سمجھی حکمت عملی نہیں تھی ۔ اُس کی گردن پر چھری چلانے کی افسروں کی سازش کا علم رکھتے ہوئے بھی وہ سازشیوں کی پردہ پوشی کی کوشش ہوش و حواس میں تو نہیں کر سکتا تھا۔ پہلی نظر میں ناقابل فہم معلوم ہونے والے کیرنسکی کے اِس طرز عمل کی وضاحت بالکل سادہ ہے: اُس وقت تک وہ خود بھی فروری انقلاب کے چکرائے ہوئے نظام حکومت کے خلاف سازش کا حصہ تھا۔
جب انکشافات کرنے کا وقت آیا تو کیرنسکی نے خود بتایا کہ کاسک حلقوں، افسروں اور بورژوا سیاست دانوں کی جانب سے ایک سے زیادہ بار ایک انفرادی آمریت کی تجاویز اُس کے سامنے پیش کی گئی تھیں۔ ’’لیکن یہ تجاویز بنجر زمین پر گریں… ‘‘ بہرحال اُس وقت کیرنسکی کی کیفیت کچھ ایسی تھی کہ ردِ انقلاب کے رہنما کسی خدشے کے بغیر اُس کے ساتھ ایک کُو کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ ڈینیکن کے مطابق، ’’ایک آمریت کے موضوع پر ابتدائی گفتگو‘‘ جون کے آغاز، یعنی حملے کی تیاریوں کے دوران شروع ہوئی ۔ کیرنسکی بھی اکثر اِس گفتگومیں حصہ لیتا تھا اور بالخصوص خود کیرنسکی کی جانب سے یہی فرض کیا جاتا تھا کہ آمر وہی بنے گا۔کیرنسکی کے بارے میں سوخانوف درست کہتا ہے: ’’وہ ایک کورنیلوفسٹ تھا، لیکن صرف اِس شرط پر کہ کورنیلوفسٹوں کا سربراہ اُسے ہی ہونا چاہئے۔‘‘ حملے کی ناکامی کے دوران کیرنسکی نے کورنیلوف اور دوسرے جرنیلوں سے اپنی اوقات سے بڑھ کر وعدے کر ڈالے تھے۔ جنرل لوکومسکی بتاتا ہے، ’’محاذ کے دوروں کے دوران کیرنسکی اکثر ڈینگیں مارتا تھا اور اپنے ساتھیوں سے ایک مضبوط اقتدار کی تخلیق، مجلسِ نظامت کی تشکیل اور اقتدار ایک آمر کے حوالے کرنے پر تبادلہ خیال کرتا تھا۔ اپنی شخصیت کے عین مطابق، کیرنسکی ایسی گفتگو میں بے شکلی، لاپرواہی اور عطائیوں والے عناصر بھی شامل کر دیتا تھا۔ دوسری طرف جرنیل ایک عسکری درستگی کی طرف مائل ہوتے تھے۔
جرنیلوں کے ساتھ کیرنسکی کی ایسی بے تکلفانہ گفتگو نے ایک فوجی آمریت کے خیال کو کسی حد تک قانونی رنگ دے دیا تھا، جسے ابھی تک نہ کچلے گئے انقلاب کے سامنے احتیاط برتتے ہوئے وہ زیادہ تر ’’مجلسِ نظامت‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ بتانا مشکل ہو گا کہ تھرمیڈور [۳] کے بعد فرانس کی حکومت سے متعلق تاریخی یادداشتوں نے یہاں کیا کردار ادا کیا۔ لیکن صرف الفاظ کا بھیس بدلنے سے قطع نظر، ’مجلس نظامت‘ کا سب سے مسلمہ فائدہ یہ تھا کہ یہ ذاتی ہوس پر پردہ ڈال رہی تھی۔ نہ صرف کیرنسکی اور کورنیلوف بلکہ ساونکوف، فلونینکو اور بالعموم ’’آہنی عزم‘‘ والے سارے لوگ خود کو اِس ’مجلس نظامت‘ کا امیدوار سمجھتے تھے۔ اُن میں سے ہر کوئی دل ہی دل میں سوچتا تھا کہ بعد ازاں آمریت کو اجتماعی سے انفرادی میں بدل دے گا۔
یوں صدر دفتر کے ساتھ سازشی مول تول میں کیرنسکی کو کوئی فوری تبدیلی کرنے کی ضرورت نہیں تھی: جو کچھ شروع ہو چکا تھا اُسے بڑھانا اور جاری رکھنا ہی کافی تھا۔ مزید برآں اُس کا خیال تھا کہ وہ جرنیلوں کی سازش کو مناسب سمت دے کر نہ صرف بالشویکوں بلکہ کچھ مخصوص حدود میں اپنے اتحادیوں اور تکلیف دہ سرپرستوں، یعنی مصالحت پسندوں کے سروں پر بھی وار کر سکتا تھا۔ کیرنسکی نے کچھ اس طرح سے چال چلی کہ سازشیوں کو مکمل طور پر بے نقاب کئے بغیر وہ اُنہیں کافی حد تک خوفزدہ کر کے اپنے منصوبے میں شامل کر سکتا تھا۔ اس سارے عمل میں وہ اُس حد تک جا پہنچا جس سے آگے حکومت کا سربراہ ایک غیرقانونی سازشی بن جاتا ہے۔ ٹراٹسکی نے ستمبر کے آغاز میں لکھا، ’’کیرنسکی کو اپنے اوپر سرمایہ دار گروہوں، اتحادی ممالک کے سفارتخانوں اور بالخصوص صدر دفتر کی جانب سے بھرپور دباؤ کی ضرورت تھی، تاکہ خود کو بالکل بری الذمہ کر سکے۔ کیرنسکی چاہتا تھا کہ جرنیلوں کی بغاوت کو اپنی آمریت کو مستحکم کرنے کے لئے استعمال کرے۔‘‘
ریاستی اجلاس ایک نازک مرحلہ تھا۔ ذاتی ناکامی کے شرمناک احساس کے ساتھ ماسکو سے واپس آتے ہوئے کیرنسکی نے آخر کار فیصلہ کیا کہ تمام ہچکچاہٹ کو جھٹک کر اپنی پوری ’’قدو قامت‘‘ کے ساتھ اُن کے سامنے نمودار ہو گا۔ لیکن ’’اُن‘‘ سے اُس کی کیا مراد تھی؟ ہرکوئی، لیکن سب سے بڑھ کر بالشویک، جنہوں نے اُس کے زرق برق قومی ڈرامے کے نیچے عام ہڑتال کی بارودی سرنگ رکھ دی تھی۔ اِس کام میں وہ دائیں بازو والوں کے ساتھ، اُن تمام گچکوف اور ملیوکوف جیسوں کے ساتھ بھی حساب کتاب چکتا کرے گا جو اُسے سنجیدہ نہیں لیتے تھے، اُس کا مذاق اڑاتے تھے اور اُس کے اقتدار کو اقتدار کی پرچھائی سمجھتے تھے۔ آخر میں وہ ’’اُن‘‘ مصالحت پسند استادوں کی بھی خوب دُھلائی کرے گا… وہ نفرت انگیز سریتیلی، جو ہر وقت اُس کیرنسکی کو ہدایات جاری کرتا رہتاتھا جسے پوری قوم نے، حتیٰ کہ ریاستی اجلاس نے منتخب کیا تھا۔ کیرنسکی حتمی اور زور دار انداز سے ساری دنیا کو دکھا دینا چاہتا تھا کہ وہ کسی طور بھی ایک ’’باولا‘‘، ایک ’’مداری‘‘، ایک ’’رقاصہ‘‘ نہیں تھا، جیسا کہ محافظ اور کاسک افسران اُسے زیادہ سے زیادہ کھل کر پکارنے لگے تھے، بلکہ ایک آہنی آدمی تھا، جس نے اُس تھیٹر کی نامعلوم خوبصورت عورت کی دُہائی کے باوجود اپنے دل کے دروازے بند کر کے چابی سمندر میں پھینک دی تھی۔
سٹینکیوچ نے تبصرہ کیا کہ اُن دنوں کیرنسکی میں ’’ہمہ گیر تشویش اور ملکی اضطراب کے جواب میں کوئی نئی بات کہنے کی خواہش جاگ اُٹھی تھی۔ کیرنسکی… نے فوج میں تادیبی سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ کیا تھا؛ غالباً وہ حکومت کو دوسرے فیصلہ کن اقدامات تجویز کرنے کو بھی تیار تھا۔‘‘ سٹینکیوچ اپنے سربراہ کے صرف اُنہی ارادوں سے آگاہ تھا جو اُس نے خود اُسے بتائے تھے۔ لیکن کیرنسکی کے منصوبے اُس وقت تک بہت آگے بڑھ چکے تھے۔ وہ کورنیلوف کے پروگرام پر عمل درآمد کرتے ہوئے اُسی کے پیروں تلے سے زمین کھینچ کر بورژوازی کو اپنے ساتھ جوڑنے کا ارادہ کر چکا تھا۔ گچکوف سپاہیوں کو محاذ پر لے جانے میں ناکام رہا تھا؛ کیرنسکی نے یہ کام کر دکھایا تھا۔ کورنیلوف کے پروگرام پر کورنیلوف عمل درآمد نہیں کر پائے گا؛ کیرنسکی کر لے گا! یہ درست ہے کہ ماسکو کی ہڑتال نے اُسے یاد دلایا تھا کہ اِس راستے میں رکاوٹیں آئیں گی، لیکن جیسا کہ جولائی کے دنوں نے واضح کیا تھا اِن پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ اب ایک بار پھر ضرورت اس امر کی تھی کہ کام کو مکمل کیا جائے اور بائیں طرف کے دوستوں کو اپنے کوٹ کا پچھلا سِرا نہ پکڑنے دیا جائے۔ سب سے پہلے پیٹروگراڈ گیریزن کو یکسر تبدیل کرنا ضروری تھا: انقلابی رجمنٹوں کو ایسے ’’صحت مند‘‘ دستوں سے تبدیل کیا جائے جو ہر وقت سوویتوں کی طرف نہ دیکھتے رہتے ہوں۔اِس منصوبے پر مجلس عاملہ سے تو بالکل بھی بات نہیں ہو سکتی تھی۔ ویسے بھی اِس کی ضرورت ہی کیا تھی؟ حکومت کو [سوویتوں سے] آزاد تسلیم کر لیا گیا تھا اور ماسکو میں تاجپوشی بھی ہو گئی تھی۔ یہ درست ہے کہ مصالحت پسند اِس آزادی کو صرف رسمی معنوں میں اور لبرلوں کو ٹھنڈا کرنے کی ایک واردات کے طور پر ہی لیتے تھے۔ لیکن کیرنسکی کو اِس رسمی تاجپوشی کو حقیقت میں تبدیل کرنا تھا۔ اُس نے ایسے ہی تو ماسکو میں اعلان نہیں کیا تھا کہ وہ نہ تو دائیں طرف والوں کے ساتھ تھا نہ ہی بائیں طرف والوں کے ساتھ۔ اب وہ اِسے عمل میں ثابت کرے گا!
ماسکو اجلاس کے بعد کیرنسکی اور مجلس عاملہ کے خطوط ایک دوسرے سے دُور ہٹتے چلے گئے تھے: مصالحت پسندوں کو عوام کا خوف تھا، کیرنسکی کو ملکیتی طبقات کا۔ عوام محاذ پر سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے؛ کورنیلوف، کیڈٹ اور اتحادی ممالک کے سفارتخانے اسے عقب میں بھی متعارف کروانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
19 اگست کو کورنیلوف نے وزیر اعظم کیرنسکی کو تار بھیجا: ’’میں بھرپور زور دیتا ہوں کہ پیٹروگراڈ فوجی ڈسٹرکٹ کو میرے حوالے کیا جائے۔‘‘ صدر دفتر کھلے عام اپنا ہاتھ دارالحکومت کی طرف بڑھا رہا تھا۔ 24 اگست کو مجلس عاملہ نے ہمت پکڑ کے مطالبہ کیا کہ حکومت ’’ردِ انقلابی طریقوں‘‘ کا خاتمہ کرے اور ’’کسی تاخیر کے بغیر اور بھرپور توانائی سے‘‘ جمہوری تبدیلی کو عملی جامہ پہنائے۔ یہ ایک نئی زبان تھی۔ کیرنسکی کے سامنے دو ہی راستے تھے: اپنی مطابقت ایک جمہوری پلیٹ فارم سے قائم کرے، جو اپنی تمام تر کمزوری کے باوجود لبرلوں اور جرنیلوں سے پھوٹ پر منتج ہو سکتا تھا، یا پھر کورنیلوف کا پروگرام اپنائے، جو ناگزیر طور پر سوویتوں کے ساتھ تصادم پر منتج ہوتا۔ کیرنسکی نے کورنیلوف، کیڈٹوں اور اتحادی ممالک کی طرف ہاتھ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ ہر قیمت پر دائیں طرف ایک کھلے تصادم سے بچنا چاہتا تھا [۴]۔
یہ درست ہے کہ 21 اگست کو اعلیٰ نواب میخائل الیگزینڈرووچ اور پاویل الیگزینڈرووچ کو نظر بند کر دیا گیا تھا اور کچھ دوسرے لوگوں کو نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ لیکن اِس میں کچھ بھی سنجیدہ نہیں تھا، کیرنسکی کو گرفتار شدگان کو فوراً رہا کرنا پڑا۔ وہ بعد ازاں کورنیلوف کے معاملے پر اپنے بیان میں کہتا ہے، ’’ہمیں دانستہ طور پر غلط سمت میں لگا دیا گیا تھا۔‘‘ صرف یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ ’’ہمارا اپنا تعاون بھی اِس میں شامل تھا۔‘‘ یہ بالکل واضح تھا کہ سنجیدہ سازشیوں، یعنی ماسکو اجلاس کے سارے دائیں بازو کے لئے یہ بادشاہت کو بحال کرنے کا نہیں بلکہ عوام پر بورژوازی کی آمریت مسلط کرنے کا سوال تھا۔ اسی لحاظ سے کورنیلوف اور اُس کے سارے ساتھیوں نے بڑے غصے سے ’’ردِ انقلابی‘‘ (یعنی شاہ پرستانہ) منصوبوں کے الزامات کو مسترد کیا۔ سابقہ حکام، ملکہ کی خادمائیں، بلیک ہنڈرڈ درباری، جادو ٹونہ کرنے والے، جوگی اور رقاصائیں اِدھر اُدھر سرگوشیاں کر رہے تھے۔ تاہم اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بورژوازی صرف ایک فوجی آمریت کی شکل میں ہی فتح یاب ہو سکتی تھی۔ بادشاہت کا سوال مستقبل کے کسی مرحلے میں ہی ابھر سکتا تھا، وہ بھی راسپیوٹن کی خادماؤں کی نہیں بلکہ ایک بورژوا ردِ انقلاب کی بنیاد پر۔
موجودہ وقت میں کورنیلوف کے پرچم تلے بورژوازی کی عوام کے خلاف تگ و دو ہی حقیقی چیز تھی۔ اِس کیمپ کے ساتھ اتحاد کا خواہش مند کیرنسکی خود کو بائیں بازو والوں کے شکوک و شبہات سے بچانے کے لئے اعلیٰ نوابوں کی جعلی گرفتاری پر بالکل تیار تھا۔ یہ چال اتنی واضح تھی کہ ماسکو کے بالشویک پرچے نے اُس وقت لکھا: ’’رومانوف خاندان کی دو احمق کٹھ پتیلوں کی گرفتاری اور کورنیلوف کی سربراہی میں فوجی کمانڈروں کے ٹولے کو کھلی چھوٹ، اِس کامطلب ہے کہ عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے… ‘‘ بالشویکوں سے اِس وجہ سے بھی نفرت کی جاتی تھی کہ وہ ہر چیز پر نظر رکھتے تھے اور اُس کے بارے میں بلند آواز اٹھاتے تھے۔ اُن دنوں کیرنسکی کا روح رواں اور رہنما ساونکوف تھا، مہم جوئی کا متلاشی اور شوقیہ قسم کا ایک انقلابی، جس نے انفرادی دہشت گردی کی درسگاہ میں عوام سے نفرت ہی سیکھی تھی۔ ساونکوف نے خود کو ایک عمل پسند آدمی کے طور پر کیرنسکی پر اور تاریخی نام والے حقیقی انقلابی کے طور پر کورنیلوف پر مسلط کیا تھا۔ ملیوکوف کے پاس اِس کمیسار اور جرنیل کے درمیان پہلی ملاقات کی دلچسپ کہانی ہے، جو ساونکوف نے خود ہی سنائی ہے۔ ساونکوف نے کہا، ’’جنرل صاحب، مجھے پتا ہے کہ اگر کبھی ایسے حالات پیدا ہوئے کہ آپ کو مجھے گولی مارنا پڑی تو آپ مار دیں گے۔‘‘ لمبے وقفے کے بعد اُس نے مزید کہا: ’’لیکن اگر ایسے حالات پیدا ہوئے کہ مجھے آپ کو گولی مارنا پڑی تو میں بھی مار دوں گا۔‘‘ ساونکوف لٹریچر کا بڑا شوقین تھا، کورنیل (Corneille)اور ہیوگو (Hugo) سے واقفیت رکھتا تھا اور صنفِ ارفع کی طرف مائل تھا۔ کورنیلوف کسی کلاسیکی اور رومانوی ضابطوں کا لحاظ رکھے بغیر انقلاب سے جان چھڑانا چاہتا تھا، لیکن وہ بھی ’’ٹھوس جمالیاتی انداز‘‘ کی دلکشی سے ناواقف نہیں تھا۔ سابقہ دہشت گرد ساونکوف کے الفاظ یقینا بلیک ہنڈرڈ کے سابقہ رکن کورنیلوف کے سینے میں دفن سورمائی اصولوں کو گدگداتے ہوں گے۔
بعد کے ایک اخباری مضمون میں، جو ساونکوف سے متاثر ہو کر یا شاید اُسی کی جانب سے لکھا گیا تھا، اُس کے اپنے منصوبے بڑی وضاحت سے بیان کئے گئے: مضمون کے مطابق، ’’جب ساونکوف ابھی کمیسار ہی تھا تو اِس نتیجے پر پہنچا کہ عبوری حکومت ملک کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے قابل نہیں تھی۔ یہاں دوسری قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنا تھا۔ تاہم اِس سمت میں تمام تر کام صرف عبوری حکومت، بالخصوص کیرنسکی کے پرچم تلے ہی کیا جا سکتا تھا۔ ایک آہنی ہاتھ والی انقلابی آمریت درکار تھی۔ ساونکوف یہ آہنی ہاتھ جنرل کورنیلوف میں دیکھ رہا تھا۔‘‘ یعنی کیرنسکی ایک ’’انقلابی‘‘ لبادے کے طور پر، کورنیلوف ایک آہنی ہاتھ کے طور پر۔ مضمون میں ایک تیسرے فریق کے کردار سے متعلق کچھ نہیں کہا گیا ہے، لیکن اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وزیر اعظم کے ساتھ سپہ سالار کی مصالحت کروانے والا ساونکوف اِن دونوں کو فارغ کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہا تھا۔ ایک وقت میں تو یہ اَن کہا خیال سطح کے اتنا قریب آگیا ہے کیرنسکی نے ماسکو اجلاس سے بالکل پہلے اور کورنیلوف کے احتجاج کے برخلاف ساونکوف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ تاہم اِس معاملے کی ہر دوسری چیز کی طرح یہ استعفیٰ بھی بے نتیجہ ہی ثابت ہوا۔ فلونینکو بتاتا ہے، ’’17 اگست کو اعلان کیا گیا کہ ساونکوف اور میں اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے اور وزیر اعظم نے جنرل کورنیلوف، ساونکوف اور میری رپورٹ میں پیش کیا گیا پروگرام اصولی طور پر تسلیم کر لیا ہے۔‘‘ ساونکوف، جسے کیرنسکی نے 17 اگست کو ’’عقب میں اٹھائے جانے والے مجوزہ اقدامات کا قانون مرتب کرنے کے احکامات دئیے‘‘، نے اِس مقصد کے لئے جنرل اپشکن کی صدارت میں ایک کمیشن قائم کیا۔ ساونکوف سے واقعی ڈرنے کے باوجود کیرنسکی نے اُسے اپنے بڑے منصوبے کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، نہ صرف وزارت جنگ میں اُس کا عہدہ برقرار رکھا بلکہ وزارت بحریہ میں بھی ایک اضافی عہدہ دے دیا۔ ملیوکوف کے مطابق اِس کا مطلب تھا کہ حکومت کے خیال میں ’’کچھ کرنے کا وقت آ چکا تھا، چاہے اس کے لئے بالشویکوں کو سڑکوں پر لانے کا خطرہ ہی کیوں نہ مول لینا پڑتا۔‘‘ اِس موضوع پر ساونکوف نے ’’بے تکلفی سے بتایا کہ بالشویکوں کی بغاوت کو کچلنے اور بالشویک تنظیموں کو توڑنے کے لئے دو رجمنٹیں ہی کافی ہوں گی۔‘‘
لیکن بالخصوص ماسکو اجلاس کے بعد کیرنسکی اور ساونکوف کو اچھی طرح معلوم تھا کہ مصالحت پسندانہ سوویتیں کسی صورت بھی کورنیلوف کا پروگرام قبول نہیں کریں گی۔ ابھی کل ہی محاذ پر سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی پیٹروگراڈ سوویت سزائے موت کو عقب تک پھیلانے کے خلاف دوہری قوت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہو گی۔ یوں خطرہ اِس بات کا تھا کہ کیرنسکی جس کُو کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اُس کے خلاف تحریک کی قیادت بالشویک نہیں بلکہ سوویتیں کریں گی۔ تاہم ہمیں اس وجہ سے رُکنا نہیں ہے: یہ تو ملک کو بچانے کا سوال ہے!
کیرنسکی لکھتا ہے، ’’22 اگست کو میری ہدایت پر ساونکوف صدر دفتر گیا تاکہ جنرل کورنیلوف سے مطالبہ کرے کہ ایک گھڑسوار کور (Cavalry Corps) کو حکومت کے اختیار میں دیا جائے۔‘‘ جب خود کو عوام کے سامنے حق بجانب قرار دینے کی باری آئی تو خود ساونکوف نے اپنے مشن کو کچھ یوں بیان کیا: ’’جنرل کورنیلوف سے ایک گھڑ سوار کور لینے گیا تا کہ پیٹروگراڈ میں مارشل لا کا حقیقی آغاز کیا جا سکے اور عبوری حکومت کا دفاع کیا جا سکے، بالخصوص بالشویکوں کے ممکنہ حملے کے خلاف … جو غیر ملکی خفیہ پولیس سے ملنے والے معلومات کے مطابق جرمن محاصرے کے سلسلے میں ایک نئے حملے اور فن لینڈ میں سرکشی کی تیاری کر رہے تھے۔‘‘ خفیہ پولیس کی اِن جعلی معلومات کا استعمال اِس حقیقت کو چھپانے کے لئے کیا گیا کہ ملیوکوف کے الفاظ میں خود حکومت ’’بالشویکوں کو سڑکوں پر لانے کا خطرہ‘‘ مول لے رہی تھی۔ یعنی وہ ایک سرکشی کو مشتعل کرنے کے لئے بالکل تیار تھی۔ چونکہ فوجی آمریت کے قیام کا حکم جاری کرنے کے لئے اگست کے آخری دن چنے گئے تھے، لہٰذا ساونکوف نے اِنہی تاریخوں میں متوقع سرکشی کو بھی شامل کر دیا۔
25 اگست کو بالشویک جریدے ’پرولتاری‘ پر کسی بیرونی سبب کے بغیر پابندی عائد کر دی گئی۔’پرولتاری‘ کی جگہ شائع ہونے والے ’مزدور‘ (The Worker) نے اعلان کیا کہ اُس کے پیش رو جریدے نے ’’جب ریگا کے محاذ پر پڑنے والی دراڑ کے حوالے سے مزدوروں اور سپاہیوں سے خود پر قابو رکھنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی استدعا کی تو ایک ہی دن بعد اُسے بند کر دیا گیا۔ وہ کون سا ہاتھ ہے جو چاہتا ہے کہ مزدور یہ نہ جان سکیں کہ پارٹی اُنہیں ایک اشتعال انگیزی سے خبردار کر رہی ہے۔‘‘ سوال بالکل جائز تھا۔ بالشویک پریس کے مقدر کا فیصلہ کرنے والا ہاتھ درحقیقت ساونکوف کا تھا۔ اُسے پرچے پر پابندی کے دو فائدے تھے: اِس سے عوام بھڑکے اور ساتھ ہی پارٹی بھی اس قابل نہ رہی کہ اُنہیں اِس اشتعال انگیزی سے بچا سکے جو اِس بار حکومت کے اعلیٰ ایوانوں سے کی جانی تھی۔
صدر دفتر کی یادداشتوں کے مطابق ساونکوف نے کورنیلوف کو آگاہ کیا: ’’تمہارے مطالبات چند ہی دنوں میں پورے ہو جائیں گے۔ لیکن حکومت کو خطرہ ہے کہ اِس کے پیٹروگراڈ میں سنجیدہ مضمرات ہوں گے… تمہارے مطالبات کی اشاعت سے بالشویک باہر نکل آئیں گے۔ یہ نہیں پتا کہ اِس نئے قانون پر سوویتوں کا طرز عمل کیا ہو گا۔ہو سکتا ہے وہ حکومت کی مخالفت کریں۔ اِس لئے میں تمہیں یہ حکم جاری کرنے کی درخواست کرتا ہوں کہ تیسری گھڑ سوار کور کو اگست کے آخر تک پیٹروگراڈ بھیجا جائے اور عبوری حکومت کے اختیار میں دیا جائے۔ اگر سوویتوں کے اراکین اور بالشویک باہر نکلتے ہیں تو ہمیں اُن کے خلاف کاروائی کرنا ہو گی۔‘‘ کیرنسکی کے اس نمائندے نے مزید کہا کہ کاروائی فیصلہ کن اور بے رحم ہونی چاہئے، جس پر کورنیلوف نے جواب دیا، ’’میں کسی اور طرح کی کاروائی کو جانتا ہی نہیں ہوں۔‘‘ بعد ازاں جب خود کو حق بجانب ثابت کرنا ضروری ہو گیا تو ساونکوف نے اضافہ کیا، ’’… اگر بالشویکوں کی سرکشی کے وقت سوویتیں بالشویک ہو ئیں تو ہی [اُن کے خلاف کاروائی کی جائے]۔‘‘ لیکن یہ بڑی بھونڈی سی چال ہے۔ کیرنسکی کے کُو کا اعلان اگلے تین یا چار دنوں میں ہونا تھا۔ یوں یہ مستقبل کی سوویتوں کا نہیں بلکہ اگست کے آخر میں موجود سوویتوں کا سوال تھا۔ کوئی غلط فہمی نہ ہو اور بالشویک کہیں ’’مناسب وقت سے پہلے‘‘ باہر نہ نکل آئیں، یہ یقینی بنانے کے لئے مندرجہ ذیل تسلسل پر اتفاق ہوا: پہلے گھڑ سوار کور کو پیٹروگراڈ میں مجتمع کیا جائے، پھر دارالحکومت میں مارشل لا کا اعلان کیا جائے، اس کے بعد ہی وہ نئے قوانین جاری کئے جائیں جنہوں نے ایک بالشویک سرکشی کو مشتعل کرنا تھا۔ ’’اِس مقصد کے لئے کہ عبوری حکومت کو پتا ہو کہ پیٹروگراڈ میں مارشل لا کا اعلان کب کرنا ہے اور نیا قانون کب جاری کرنا ہے، یہ ضروری ہے کہ جنرل کورنیلوف اُسے (ساونکوف) تار کے ذریعے گھڑ سوار کور کے پیڑوگراڈ پہنچنے کے وقت سے مطلع رکھے۔‘‘
سٹینکیوچ کے مطابق سازشی جرنیلوں کو پتا تھا کہ ’’فوجی قیادت کی مدد سے ساونکوف اور کیرنسکی کوئی کُو کرنا چاہتے تھے۔بس اتنا ہی کافی تھا۔ اُنہوں نے فوراً ساری شرائط اور مطالبات مان لئے۔‘‘سٹینکیوچ، جو کیرنسکی کا وفادار تھا، اعتراض کرتا ہے کہ صدر دفتر والے غلط طور پر کیرنسکی کو ساونکوف کے ساتھ جوڑ رہے تھے۔ لیکن اُن دونوں کو الگ کیسے کیا جا سکتا تھا، جبکہ کیرنسکی کی ہدایات لے کر ساونکوف آیا تھا؟ خود کیرنسکی لکھتا ہے: ’’25 اگست کو ساونکوف صدر دفتر سے واپس آیا اور مجھے بتایا کہ ہدایات کے مطابق عبوری حکومت کے اختیار میں دینے کے لئے دستے بھیج دئیے جائیں گے۔‘‘ عقب میں اقدامات کے مجوزہ قانون کی منظوری، جسے گھڑ سوار کور کی فیصلہ کن کاروائی کا نقطہ آغاز بننا تھا، کے لئے 26 تاریخ کی شام کا انتخاب کیا گیا۔ ہر چیز تیار تھی۔ صرف بٹن دبانے کی دیر تھی۔
دستاویزات، واقعات ، شرکا کے بیانات اور کیرنسکی کا اپنا اعتراف، متفقہ طور پر گواہی دیتے ہیں کہ اپنی ہی حکومت کے ایک حصہ کے علم میں لائے بغیر، جن سوویتوں نے اُسے اقتدار دیا تھا اُن کی پیٹھ پیچھے اور جو پارٹی اُسے اپنا رکن سمجھتی تھی اُس سے خفیہ طور پر، وزیر اعظم کیرنسکی نے مسلح افواج کی مدد سے ریاستی اقتدار میں گہری تبدیلی لانے کے لئے فوج کے اعلیٰ جرنیلوں سے ساز باز کی تھی۔کم از کم اُن صورتوں میں جب کوشش کامیاب نہیں ہو پاتی، فوجداری قانون کی زبان میں اِس طرح کی سرگرمی کا ایک واضح نام ہوتا ہے۔ کیرنسکی کی پالیسی کے ’’جمہوری‘‘ کردار اور تلوار کے زور پر حکومت کو بچانے کے اُس کے منصوبے کے درمیان تضاد صرف ایک سطحی نظر میں ہی ناقابل حل معلوم ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ گھڑسوار منصوبہ ناگزیر طور پر مصالحت پسندانہ پالیسی میں سے ہی برآمد ہوا تھا۔ اِس عمل کے قانون کی تشریح میں نہ صرف کیرنسکی کی شخصیت بلکہ قومی سماجی ماحول کی خصوصیات کی تجرید بڑی حد تک کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک انقلاب کے حالات میں مصالحت پسندی کی معروضی منطق کا سوال ہے۔
جرمنی کے صدر، مصالحت پسند اور جمہوریت پسند فریڈرک ایبرٹ نے نہ صرف جرمن بادشاہت کے جرنیلوں کے ایما پر اپنی ہی پارٹی کی کاروائی کی تھی، بلکہ دسمبر 1918ء کے آغاز میں اُس فوجی سازش کا براہ راست شریک بن گیا تھا جس کا مقصد سب سے اعلیٰ سوویت ادارے کی گرفتاری اور خود ایبرٹ کو جمہوریہ کا صدر قرار دینا تھا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ کیرنسکی نے بعد ازاں ایبرٹ کو ایک مثالی سیاست کار قرار دیا تھا۔
بعد ازاں جب کیرنسکی، ساونکوف اور کورنیلوف کے سارے منصوبے ناکام ہو ئے تو کیرنسکی، جسے پیروں کے نشان مٹانے کا مشکل کام کرنا تھا، نے بیان دیا: ’’ماسکو اجلاس کے بعد سے ہی مجھے پتا تھا کہ حکومت پر اگلا حملہ بائیں طرف سے نہیں بلکہ دائیں طرف سے ہو گا۔‘‘ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ کیرنسکی فوجی سازشیوں کے لئے فوج کے صدر دفتر اور بورژوازی کی ہمدردی سے ڈرتا تھا؛ لیکن بات یہ ہے کہ کیرنسکی نے ضروری سمجھا کہ صدردفتر کے خلاف جدوجہد کسی گھڑ سوار کور کے ذریعے نہیں بلکہ کورنیلوف کا ہی پروگرام اپنے نام سے نافذ کر کے کی جائے۔ کیرنسکی کا دو چہروں والا ساتھی [ساونکوف] کوئی معمولی کام نہیں کر رہا تھا۔ وہ تو ایک ثالث کے طور پر کیرنسکی اور کورنیلوف کی مصالحت کروانے، اُن کے منصوبوں کو یکجا کرنے اور یوں کُو کے ہر ممکن حد تک قانونی طور پر آگے بڑھنے کو یقینی بنانے کے لئے [پیٹروگراڈ سے صدر دفتر] گیا تھا۔ کیرنسکی نے گویا ساونکوف کے ذریعے پیغام بھیجا تھا: ’’آگے بڑھو، لیکن میرے منصوبے کی حدود کے اندر رہتے ہوئے۔ یوں تم خدشات سے بچے رہو گے اور تقریباً وہ سب کچھ حاصل کر لو گے جو تم چاہتے ہو۔‘‘ ساونکوف نے اپنی طرف سے اِس اشارے کا اضافہ کر دیا: ’’وقت سے پہلے کیرنسکی کے منصوبے سے آگے نہ بڑھنا۔‘‘ نامعلوم مقداروں والی یہ مخصوص مساوات ایسی ہی تھی۔ صرف اسی طرح سے ساونکوف کے ذریعے صدر دفتر سے کیرنسکی کی گھڑ سوار کور کی درخواست کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یوں سازشیوں کا واسطہ ایک بلند مقام پر بیٹھے سازشی سے تھا، جو اپنی قانونیت کو بچا رہا تھا اور خود سازش کی قیادت میں آنے کا خواہش مند تھا۔
ساونکوف کو دی جانے والی ہدایات میں سے صرف ایک ایسی تھی جو واقعی دائیں طرف کے سازشیوں کے خلاف ایک اقدام معلوم ہوتی تھی: یہ ’افسران کی لیگ‘ کی سربراہ کمیٹی سے متعلق تھی، جس کے خاتمے کا مطالبہ کیرنسکی کی پارٹی کے پیٹروگراڈ اجلاس نے کیا تھا۔ لیکن یہاں بھی حکم کی تشکیل قابل توجہ ہے: ’’… جہاں تک ممکن ہو سکے افسران کی لیگ کا خاتمہ کیا جائے۔‘‘ اس سے بھی زیادہ قابل توجہ یہ حقیقت ہے کہ نہ صرف ساونکوف کو ایسا کوئی امکان نہیں ملا بلکہ اُس نے ڈھونڈنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس سوال کو بے وقت قرار دے کر دبا دیا گیا۔ یہ حکم صرف اس لئے دیا گیا تھا کہ بائیں بازو والوں کے سامنے معقول نظر آنے کے لئے کاغذات میں کچھ موجود ہو۔ ’’جہاں تک ممکن ہوسکے‘‘ کے الفاظ کا مطلب ہی یہ تھا کہ حکم عمل درآمد کے لئے نہیں تھا۔ اس حکم کے زیبائشی کردار پر زور دینے کے لئے اِسے سر فہرست رکھا گیا تھا۔
اس حقیقت کے خوفناک مطلب کو دھندلانے کے لئے کہ دائیں طرف سے حملے کی توقع کے باوجود اُس نے انقلابی رجمنٹوں کو دارالحکومت سے ہٹا دیا تھا اور ساتھ ہی کورنیلوف سے ’’قابل اعتماد‘‘ دستوں کی استدعا بھی کی، کیرنسکی نے بعد ازاں تین مقدس شرائط کا حوالہ دیا جو اُس نے گھڑ سوار دستے بلاتے وقت رکھی تھیں۔ اُس نے پیٹروگراڈ فوجی ڈسٹرکٹ کو کورنیلوف کے تابع کرنے کی شرط یہ رکھی تھی کہ دارالحکومت اور اِس کے قریبی مضافات کو پیٹروگراڈ فوجی ڈسٹرکٹ سے علیحدہ کر دیا جائے، تاکہ حکومت مکمل طور پر فوج کے صدر دفتر کے ہاتھوں میں نہ ہو۔ وگرنہ جیسا کہ کیرنسکی نے اپنے دوستوں کے درمیان اظہار خیال کیا: ’’ہم کو نگل لیا جائے گا۔‘‘ یہ شرط صرف یہی ظاہر کرتی ہے کہ جرنیلوں کو اپنے منصوبوں کے تابع کرنے کے لئے کیرنسکی کے پاس خصی فریب کاری کے سوا کوئی ہتھیار نہ تھا۔ دوسری دو شرائط بھی اس سے بڑھ کر نہ تھیں: کورنیلوف کو مہماتی کور میں کاکیشیائی پہاڑی باشندوں پر مشتمل نام نہاد ’’وحشی ڈویژن‘‘ شامل نہیں کرنا تھا اور کور کی کمان جنرل کرائموف کو نہیں دینا تھی۔ جہاں تک جمہوریت کے سوالات کا تعلق تھا تو یہ اونٹ کو نگلنے اور مچھر کو گلے میں پھنسانے والی بات تھی۔ لیکن جہاں تک انقلاب پر پوشیدہ وار کرنے کا تعلق تھا تو کیرنسکی کی شرائط بہت بامقصد تھیں۔ پیٹروگراڈ کے مزدوروں کے خلاف روسی زبان نہ بولنے والے کاکیشیائی پہاڑی باشندے بھیجنا بہت غیر محتاط ہوتا؛ حتیٰ کہ اپنے وقتوں میں زار بھی یہ فیصلہ نہیں کر پایا تھا! جنرل کرائموف، جس کے بارے میں مجلس عاملہ کافی واضح معلومات رکھتی تھی، کی تعیناتی کی عدم مناسبت کو ساونکوف نے صدر دفتر میں مشترکہ مفاد کی بنیاد پر بیان کیا: ’’یہ نامناسب ہو گی، پیٹروگراڈ میں انتشار کی صورت میں اس انتشار کو جنرل کرائموف کو کچلنا ہو گا۔ عوامی رائے شاید اس کے نام کے ساتھ وہ عزائم بھی جوڑ دے جو اُس کے نہیں ہیں… ‘‘ حکومت کے سربراہ کی جانب سے دارالحکومت میں فوجی دستے بلاتے وقت یہ عجیب درخواست کہ ’وحشی ڈویژن‘ نہ بھیجا جائے اور کرائموف کو تعینات نہ کیا جائے، انتہائی واضح طور پر کیرنسکی کا جرم ثابت کرتی ہے کہ اُسے نہ صرف سازش کے عمومی منصوبے بلکہ تعزیری مہم کے اجزا کا بھی پیشگی علم تھا۔
یہ بالکل واضح تھا کہ کورنیلوف کے گھڑ سوار دستے ’’جمہوریت‘‘ کے دفاع کے لئے کسی کام کے نہیں تھے۔ اس کے برعکس کیرنسکی کو پورا یقین تھا کہ فوج کے سارے یونٹوں میں سے یہ کور انقلاب کے خلاف سب سے قابل اعتماد ہتھیار ثابت ہو گی۔ کیرنسکی، جو خود کو دائیں اور بائیں بازو کے اوپر بلند کررہا تھا، کے لئے پیٹروگراڈ میں اپنے وفادار دستے رکھنا اچھا ہوتا۔ لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ ایسے دستوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ انقلاب کے خلاف لڑنے کے لئے کورنیلوف کے بندوں کے سوا کوئی نہ تھا اور کیرنسکی اُنہی سے مدد طلب کر رہا تھا۔
یہ فوجی تیاریاں سیاسی تیاری کا حصہ تھیں۔ ماسکو اجلاس سے کورنیلوف کی سرکشی تک کے دو ہفتوں کے دوران عبوری حکومت کی عمومی روش یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ کیرنسکی دائیں بازو کے خلاف جدوجہد کی نہیں بلکہ عوام کے خلاف دائیں بازو کے ساتھ مشترکہ محاذ بنانے کی تیاری کر رہا تھا۔ حکومت نے اِس ردِ انقلابی حکمت عملی کے خلاف مجلس عاملہ کے احتجاجوں کو نظر انداز کرتے ہوئے 26 اگست کو زمینداروں سے ملنے اور اناج کی قیمت کو دوگنا کرنے کا بے باک قدم اٹھایا۔ یہ نفرت انگیز اقدام، جو مزید برآں روڈزیانکو کے مطالبے پر اٹھایا گیا تھا، حکومت کی جانب سے دانستہ طور پر بھوکے عوام کو مشتعل کرنے کے مترادف تھا۔ کیرنسکی واضح طور پر ماسکو اجلاس کے انتہائی دائیں بازو کو ایک بھاری رشوت کے ذریعے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہا تھا۔ فروری انقلاب کی باقیات پر گھڑسوار حملے سے پہلے وہ زمینداروں کے سامنے چلّااُٹھا، ’’میں تمہارا ہوں!‘‘
بعد ازاں اپنے ہی مقرر کردہ تفتیشی کمیشن کے سامنے کیرنسکی کی گواہی بڑی شرمناک تھی۔ ایک گواہ کے طور پر پیش ہونے کے باوجود حکومت کا یہ سربراہ خود کو ملزمان کا سربراہ اور رنگے ہاتھوں پکڑا جانے والا مجرم محسوس کر رہا تھا۔ تجربہ کار عدالتی اہلکار، جو واقعات کی میکانیات کو خوب اچھی طرح سمجھتے تھے، حکومت کے سربراہ کی وضاحتوں کو سنجیدہ لینے کا ناٹک کر رہے تھے، لیکن دوسرے تمام لوگ، جن میں کیرنسکی کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی شامل تھے، بڑی بے تکلفی سے خود سے پوچھ رہے تھے کہ ایک ہی گھڑ سوار کور بھلا کُو کرنے اور اُسے روکنے کے کام کیسے آ سکتی ہے؟ یہ ایک ’’سوشل انقلابی‘‘ کے لئے بڑی عاقبت نااندیشی تھی کہ وہ دارلحکومت میں ایک ایسی فوج لے آئے جو اس کا گلا گھونٹنے کے لئے تشکیل دی گئی ہو۔ یہ درست ہے کہ ٹرائے کے لوگ (Trojans) ایک مرتبہ ایک دشمن دستے کو اپنے شہر کی حدود میں لے آئے تھے، لیکن اُنہیں کم از کم یہ نہیں پتا تھا کہ لکڑی کے گھوڑے کے پیٹ میں کیا تھا [۵]۔
اگرچہ شاعر کی اِس کہانی سے ایک قدیم تاریخ دان اختلاف کرتا ہے،ـلیکن پوسینیس (Pausanius) کی رائے میں آپ ہومر کا یقین اِسی صورت میں کر سکتے ہیں اگر ٹرائے والوں کو ’’عقل کی روشنی سے عاری اور جاہل ‘‘ سمجھیں۔ یہ بوڑھا بھلا کیرنسکی کی گواہی کے بارے میں کیا کہتا؟
*****
[۱] ریگا کی شکست دانستہ تھی جسے بورژوا پریس خوب بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی تھی تاکہ کورنیلوف کی قیادت میں فوجی آمریت قائم کرنے اور انقلاب کو کچلنے کا جواز پیدا کیا جا سکے۔
[۲] پیرس کے تخت کی خاطر ہنری چہارم اپنا پروٹسٹنٹ مذہب ترک کر کے رومن کیتھولک بن گیا تھا، عشائے ربانی کی رسم مخصوص رومن کیتھولک عبادت ہے۔
[۳] فرانسیسی جمہوریہ کیلنڈر کا گیارہواں مہینہ، جس میں ردِ انقلاب شروع ہوا اور روبسپیر اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا گیا۔اس کے بعد ’’مجلس نظامت‘‘ کے نام سے ایک نئی ردِ انقلابی حکومت قائم کی گئی۔ یہ انقلابِ فرانس کا آخری مرحلہ تھا۔ کیرنسکی اور کورنیلوف وغیرہ بھی ڈھکے چھپے انداز میں ایک ردِ انقلابی آمریت کے لئے ’’مجلس نظامت‘‘ کا لفظ ہی استعمال کر رہے تھے۔
[۴] کیرنسکی ایک کُو کے ذریعے کورنیلوف کی بجائے اپنی آمریت مسلط کرنا چاہتا تھا۔ اِس مقصد کے لئے ایک طرف وہ بورژوازی کا اعتماد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا تو دوسری طرف مصالحت پسندوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جیسا کہ باب میں آگے بیان کیا گیا ہے اِس مقصد کے لئے اُس نے ایک تیسرے بندے (ساونکوف) کو بیچ میں ڈال کر کورنیلوف سے کچھ ’قابل اعتماد‘ دستے پیٹروگراڈ بھیجنے کی استدعا کی، تاکہ بالشویکوں اور سوویتوں کی متوقع مزاحمت کو بوقت ضرورت کچلا جا سکے۔ ساونکوف بیچ میں اپنا کھیل کھیل رہا تھا۔یوں کورنیلوف اور کیرنسکی کے درمیان مسلسل چالبازی اور کشمکش چل رہی تھی۔اگلے باب میں چیزیں مزید واضح ہوں گی۔
[۵] قدیم یونانی شاعر ہومر کی نظموں میں پیش کیا گیا ایک قصہ، جس میں یونان والوں نے لکڑی کے ایک گھوڑے کے پیٹ میں اپنے سپاہی چھپا کر اُنہیں ٹرائے شہر میں گھسا دیا تھا۔