لاہور(جدوجہد رپورٹ)کینیڈا کی تیل و گیس کی صنعت میں حالیہ ایک تحقیق نے یہ واضح کیا ہے کہ امریکی سرمایہ کار بڑی رقمیں نکال رہے ہیں، جبکہ وہاں کے مزدور اور ملک کی اقتصادی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔
’جیکوبن‘ کے مطابق البرٹا فیڈریشن آف لیںر نے انکشاف کیا کہ کینیڈا کے چار بڑے تیل اور گیس کے کارپوریشنز میں تقریباً 60 فیصد شیئرز امریکی سرمایہ کاروں کے زیرِملکیت ہیں، جبکہ صرف 28 فیصد شیئرز کینیڈا کے پاس ہیں۔
دوسری بات یہ کہ ان چار کمپنیوں نے 2022 سے 2023 تک تقریباً 135 ارب امریکی ڈالر کا آپریٹنگ منافع حاصل کیا، جن میں سے صرف 43 ارب ڈالر مزدوروں کو گئے۔ اس دوران انہوں نے 58 ارب ڈالر سے زائد منافع امریکی مالکان کو ڈیویڈنڈز اور اسٹاک بائی بیکس کی صورت میں ادا کیے، یعنی یہ رقم ملک سے باہر گئی اور مقامی کارکنان کو اس کا فائدہ کم ہوا۔
مزید یہ کہ سرمایہ کاری کم ہوئی، ملازمتیں اور اجرتیں مستحکم رہیں، جبکہ کمپنیوں نے کئی مقامات پر ملازمین کی تعداد کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مثلاً امپیریل آئل نے بتایا ہے کہ وہ 2028 کے آخر تک کیلگری میں اپنی ورک فورس کا تقریباً 20 فیصد حصہ ختم کر دے گی، یعنی تقریباً 900 ملازمین کی برطرفی متوقع ہے۔
یہ سب اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسئلہ صرف منافع کی گردش کا نہیں، بلکہ ملک کی معاشی خودمختاری کا بھی ہے۔ امریکی سرمایہ کاری اور ملکیت نے فیصلہ سازی، پالیسی کی سمت اور وسائل کے استعمال پر اثر ڈالا ہے، اور یہ کینیڈا کے شہریوں اور کارکنان کے مفاد میں کم ہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ تیل و گیس کا شعبہ کینیڈا کے جی ڈی پی کا صرف چند فیصد حصہ ہے، مگر اس کا اثر اہم ہے۔ اس صنعت کی تحقیقاتی رپورٹ نے یہ تجویز دی ہے کہ زیادہ منافع کارکنوں کو واپس جانا چاہیے، اور اس بات پر غور ہونا چاہیے کہ آیا امریکی کیپٹل کے بدلے میں کینیڈا کو ملنے والا فائدہ اس کے اپنے مفادات کے مطابق ہے یا نہیں۔