فاروق سلہریا
تحقیق کے نقطہ نظر سے پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ اپنا بہت سا ریکارڈ اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کر دیاہے۔اس ویب سائٹ پر، تاریخ کے خانے میں جائیں تو قائدین ِحزب اختلاف کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ اس فہرست کا آغاز حسین شہید سہروردی سے ہوتا ہے جو 1955 تا 1956 تک اپوزیشن رہنما رہے۔ (ضمنی طور پر یہ ذکر کرنا نا مناسب نہ ہو گا کہ سہروردی کے انگریزی اسپیلنگ غلط درج ہیں۔ امید ہے اگر یہ تحریر کبھی کسی متعلقہ شخص تک پہنچی تو املا کی یہ غلطی درست کر لی جائے گی)۔
کرن شنکر راو اور دھریندر ناتھ دت کا اس سیکشن میں کوئی ذکر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے پہلے قائد حزب اختلاف، کم از کم وکی پیڈیا کے مطابق،کرن شنکر راو تھے(مزید بات ذیل میں کی جائے گی)۔ وہ ایک سال تک یہ کردار نبھاتے رہے۔ بعد ازاں، وہ ہندوستان منتقل ہو گئے۔1948 سے لے کر 1955تک، سات سال کے لئے قائد حزبِ اختلاف دھریندر ناتھ دت تھے۔ معلوم نہیں کیوں قومی اسمبلی نے ان کا نام تاریخ سے حذف کر دینا مناسب جانا؟ یہاں دھریندر ناتھ دت کا تھوڑا ساتذکرہ ضروری ہے۔ وہ پچاس کی دہائی میں،مشرقی پاکستان میں کابینہ کے رکن بھی رہے۔ ایوب مارشل لا نے ایبڈو کے تحت جن سیاستدانوں پر پابندی لگائی،ان میں دھریندر ناتھ دت بھی شامل تھے۔ 1971 میں جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں آپریشن شروع کیا تو ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں دورانِ حراست تشدد سے ہلاک کر دیا گیا۔ وہ کومیلہ میں جہاں رہتے تھے، اس گھر کے باہر سڑک ان کے نام سے منسوب ہے۔
پاکستان نیشنل کانگریس کو تاریخ سے کیسے مٹا دیا گیا اس کا مختصر ساجائزہ بعد میں لیتے ہیں۔پہلے ذرا ان اراکین کانگریس بارے بات کر لی جائے جو پہلی دستورساز اسمبلی کا حصہ تھے۔ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر مندرجہ ذیل ہندو ارکان دستور سازاسمبلی کا ذکر ملتا ہے:
۱۔ پریم ہاری برما
۲۔پروفیسر راج کمار چکرورتی
۳۔سریس چندر چٹو پادھیائے
۴۔اکھشے کمار داس(ویب سائٹ پر موجود،اسمبلی ریکارڈ میں ان کا نام بھی غلط درج ہے)
۵۔دھریندر ناتھ دت (دوسرے قائد حزب اختلاف)
۶۔ جوگندر چندرموجمدار
۷۔برت چندر منڈل
۸۔جوگندر ناتھ منڈل(ملک کے پہلے وزیر قانون،جن کا تھوڑا بہت ذکر لبرل بیانئے میں جناح کو سیکولر ثابت کرنے کے لئے آتا رہتا ہے)
۹۔ سریس دھننجائے رائے
۰۱۔بھویش چندر نندی (ان کا نام ویکیپیڈیا پر بھویش چندر نندی ہے مگر قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر شائد املا کی غلطی کی وجہ سے Maudi, Bhakesh Chanda درج ہے)۔
۱۱۔ہرنندر کمار سر
۲۱۔کاویوی کریوار دت
۳۱۔گنگا سرن(مغربی پنجاب)
(اسمبلی ریکارڈ کے مطابق پہلے بارہ ارکان کا تعلق مشرقی پاکستان سے بتایا گیا ہے)۔
وکی پیڈیا پر پاکستان نیشنل کانگریس بارے ایک پیج موجود ہے جس میں کرن راو کو بھی پہلی دستور ساز اسمبلی کا رکن بتایا گیا ہے لیکن اسمبلی ریکارڈ کے مطابق وہ رکن نہیں ہیں۔ اسی طرح وکی پیڈیا پر مغربی پنجاب سے رائے بہادر لال کا بھی ذکر ہے مگر ان کا نام اسمبلی ریکارڈ سے غائب ہے۔
مذکورہ ریکارڈ میں مغربی پنجاب کی فہرست میں بعض نام موجود نہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ رفیق افضل نے اپنی کتاب ”پولیٹیکل پارٹیز اِن پاکستان“ میں جو ایک پیراگراف پاکستان نیشنل کانگریس بارے لکھا، اس میں اس جماعت کے گیارہ ارکان دستورساز اسمبلی کی بات کی گئی ہے(ناموں کی فہرست نہیں دی گئی)۔
قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر دی گئی فہرست میں ارکان اسمبلی کا پتہ درج ہے مگر جماعتی وابستگی نہیں بتائی گئی۔ میں نے اپنے ایک سورس سے پاکستان نیشنل کانگریس کے اراکین کانگریس کی تفصیلات قومی اسمبلی سے حاصل کرنے کی کوشش کی تو مجھے انہوں نے ۹ ارکان کی فہرست دی جن کا تعلق پاکستان نیشنل کانگریس سے تھا۔ کیا پہلی دستور ساز اسمبلی میں سب ہندو اراکین کا تعلق پاکستان نیشنل کانگریس سے تھا؟ کیا کرن راو پہلے قائد حزب اختلاف تھے؟ ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا ابھی باقی ہے۔ امید ہے آنے والے دنوں میں میں کسی نتیجے پر پہنچ جاوں گا۔ امید ہے بعض دیگر محققین بھی اس سوال کا جواب تلاش کریں گے (یا کر چکے ہوں اور میری نظر سے نہ گزرا ہو۔امید ہے اس بابت آئندہ کبھی لکھوں گا کیونکہ میں اس موجوع پر ابھی تحقیق کر رہا ہوں اور کافی کام باقی ہے)۔اب ذرا مختصر سی بات کرتے ہیں تاریخ پاکستان سے پاکستان نیشنل کانگریس کو وائٹ واش کرنے بارے۔
تاریخ پاکستان سے پاکستان نیشنل کانگریس کا غائب صفحہ
پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر پہلا پہلا عالمانہ کام 1978 میں نیشنل کمیشن آن ہسٹوریکل اینڈ کلچرل ریسرچ،قائد اعظم یونیورسٹی کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ ایک کتاب تو کے کے عزیز کی تھی(اس کے ایڈیشن بعد ازان سنگ میل لاہور کے زیر اہتمام بھی شائع ہوئے)۔اس کتاب کا ذکر پچھلی قسط میں ہوا۔ تین جلدوں پر مبنی،دوسری کتاب رفیق افضل کی تھی (جو یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے پر مبنی ہے)۔ اوپر اس کتاب کا ذکر ہو چکا۔
اگر رفیق افضل نے پاکستان نیشنل کانگریس پر کوئی باب ہی درج نہیں کیا (محض ایک پیراگراف ہے) تو کے کے عزیز کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے ایک سیکشن پاکستان نیشنل کانگریس بارے لکھا۔ دونوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی یہ ہندووں کی جماعت تھی۔ کے کے عزیز نے اسے sectarian body لکھا۔ کانگریس ایک سیکولر جماعت تھی نہ کہ مذہبی۔
کے کے عزیز مزید لکھتے ہیں کہ کانگریس یہ شک دور نہ کر سکی کہ وہ ملک دشمن جماعت ہے۔اپنی کتاب میں لئے گئے جائزے میں وہ یہ بتاتے ہیں کہ مشرقی پاکستان سے ہندووں نے سرمایہ ہندوستان منتقل کر دیا اور یہ کہ اسمگلنگ وغیرہ کے دھندے میں بھی ہندو شامل تھے جس سے پاکستان کی معیشیت کا نقصان ہوا۔ وہ کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے کہ کیا یہ سب پاکستان نیشنل کانگریس کروا رہی تھی؟ پاکستان نیشنل کانگریس بارے،اگر اکیڈیمک نقطہ نظر سے کے کے عزیز کے اس مختصر سے کام کو دیکھا جائے تو اپنا سر ہی پیٹا جا سکتا ہے۔وہ اسے ملک دشمن با کر تو پیش کرتے ہیں مگر کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے۔
2020 میں مریم چغتائی،سحر شفقت اور نیلوفر صدیقی نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں بارے ایک اکیڈیمک کتاب شائع کی(Pakistan’s Political Parties: Surviving Between Dictatorship and Democracy)۔یہ کتاب عصر حاضر کی سیاسی جماعتوں بارے تھی۔ اس لئے شائد اس کتاب پر تنقید نہیں کی جا سکتی کہ اس میں پاکستان نیشنل کانگریس کا تذکرہ کیوں نہیں۔یہی بات اردو میں تحریر کی گئی ضخیم، 1988 میں شائع ہونے والی، کتاب بعنوان”پاکستان کی سیاسی جماعتیں“از پروفیسر محمد عثمان،مسعود اشعر (سنگ میل،لاہور) بارے کہی جا سکتی ہے کہ انہوں نے اسی کی دہائی میں متحرک جماعتوں بارے تحقیق کی
۔۔۔مگر نوے کی دہائی میں شائع ہونے والی حافظ تقی الدین کی کتاب ”پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور تحریکیں“ تنقید سے مبرا نہیں۔اس میں قبل از تقسیم سے موجود سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کا ذکر ہے اور نوے کی دہائی تک جائزہ لیا گیا ہے مگر پاکستان نیشنل کانگریس پر کوئی باب شامل نہیں۔
درسی نصاب سے غائب
میں نے پنجاب کی تین مختلف جامعات میں پاکستان اسٹڈیز کے نام پر پڑھائے جانے والے تین کورسز کے نصاب دیکھے۔موضوعات اور Set Readings یعنی ان موضوعات کے لئے مقرر کی گئی نصابی تحریروں کا جائزہ لیا۔ کسی کورس میں پاکستان نیشنل کانگریس کا تذکرہ نہیں ملتا۔
مصیبت یہ ہے کہ پاکستان اسٹڈیز بارے کورس کا فیصلہ ایچ ای سی کرتی ہے۔ بعض اساتذہ اس میں ہلکا پھلکا رد و بدل کر لیتے ہیں لیکن عام طور پر کورس جوں کے توں ہی پڑھا دئیے جاتے ہیں۔ میں نے خود پہلی جماعت سے ایم اے تک،پاکستان میں پڑھا ہے۔ میں نے بی اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ ایم اے پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ سکول تو خیر معاف کیا جا سکتا ہے،کالج اور یونیورسٹی میں بھی نہ تو کبھی پاکستان نیشنل کانگریس بارے پڑھا سنا۔ کبھی کسی استاد نے اس کا ذکر کیا ہو، مجال ہے۔ اس کی ایک وجہ شائد یہ تھی کہ نوے کی دہائی تک، جب میں کالج یونیورسٹی پہنچا، پاکستان میں گاندھی واد کو وائٹ واش کیا جا چکا تھا۔
میں نے سٹیزنز آرکائیوز آف پاکستان سے رابطہ کیا۔ مجھے بتایا گیا کہ پاکستان نیشنل کانگریس بارے کوئی سیکشن موجود نہیں۔ ابھی مجھے اسلام آباد کی نیشنل آرکائیوز جانا ہے،ممکن ہے وہاں کچھ مل جائے لیکن اس تحقیق کے سلسلے میں میرے ساتھ شامل آصف البصیر (جو اینٹ ورپ یونیورسٹی،بلجئیم سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور نارتھ ساوتھ یونیورسٹی ڈھاکہ میں پڑھاتے ہیں) نے مجھے بتایا کہ ڈھاکہ میں قائم نیشنل آرکائیوز میں بھی اس پارٹی بارے کوئی سیکشن موجود نہیں۔
قصہ مختصر،ہندتوا نے جو کام بھارت میں پچھلے دس بیس سال میں شروع کیا،پاکستان میں جناح وادی وہ کام اَسی کی دہائی تک مکمل کر چکے تھے۔ اب اگر اہل پاکستان ٹی ایل پی اور طالبان کو بھگت رہے ہیں تو اس کی ایک وجہ تاریخ میں کئے گئے وائٹ واش بھی ہیں۔ مایوسی اور غصے کے بعض لمحوں میں،اس سورت حال کو دیکھ کر یہ شعر ہی یاد آتا ہے:
ہم جیسے دلبروں کو جہنم میں ڈال کر
بیٹھے رہو، بہشت کو ویراں کئے ہوئے
Farooq Sulehria
فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

