لاہور(جدوجہد رپورٹ) ڈیجیٹل رائٹس کی تنظیم ’ایکسس ناؤ‘اور سول سوسائٹی تنظیموں کے ہیش ٹیگ کیپ اٹ آن کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال2024کے دوران54ملکوں میں 296بار انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ریکارڈ کیے گئے۔ 2023میں 39ملکوں میں 283بار انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ریکارڈ کیا گیاتھا۔
اس فہرست میں میانمار پہلے جبکہ بھارت دوسرے نمبر پر رہا ہے۔ میانمار میں گزشتہ سال کے دوران85بار انٹرنیٹ بند کیا گیا ہے،جبکہ بھارت میں 84بار انٹرنیٹ بند کیا گیا ہے۔ میانمار ایک فوجی آمریت سے گزر رہا ہے،تاہم اعداد و شمار کا میانمار کے قریب تر ہونا بھارتی جمہوریت پربھی کئی سوال اٹھا رہا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت گزشتہ6سالوں سے عالمی سطح پر سب سے زیادہ انٹرنیٹ بند کرنے والا ملک رہا ہے۔ گزشتہ سال میانمار نے بھارت پر معمولی سبقت حاصل کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال2024ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کے لیے ایک ریکارڈ قائم کرنے والا سال رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ عالمی سطح پر سب سے زیادہ بلاک ہونے والا پلیٹ فارم رہا ہے۔ سگنل اور ٹک ٹاک پر بھی گزشتہ سال میں زیادہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق2022کے مقابلے میں گزشتہ سال متاثرہ ملکوں کی تعداد میں 35فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 7ملکوں نے پہلی بار شٹ ڈاؤن نافذ کیا۔
حکام نے رابطے میں خلل ڈالنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے ہیں۔ آلات کو جام کرنا، کیبل کو کاٹنا، بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا، انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو نقصان پہنچانا اور مختلف ذرائع سے انٹرنیٹ کی رفتار کو سست کرنا ان طریقوں میں شامل رہا ہے۔
بھارت میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن منی پور، ہریانہ اور جموں کشمیر میں نافذ کیے گئے۔ 2024میں ملک کی16ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 84انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کیے گئے۔ منی پور میں سب سے زیادہ21، ہریانہ میں 12اور جموں کشمیر میں 12انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ہوئے۔ 41شٹ ڈاؤن احتجاج کو روکنے کے لیے تھے، جبکہ 23فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کے لیے کیے گئے۔ سال 2023کے دوران بھارت میں 116انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ریکارڈ کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں بھی احتجاج کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ بند کرنا ایک معمول ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال کے دوران سب سے زیادہ 21بار انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کیا گیا، روس میں 19بار انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ہوا۔