روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

ہندو ارکان پر مبنی پہلی اپوزیشن بوجھل سیاسی ورثہ تھی سو فراموش کر دی گئی: طاہر کامران

ہندو ارکان پر مبنی پہلی اپوزیشن بوجھل سیاسی ورثہ تھی سو فراموش کر دی گئی: طاہر کامران

فاروق سلہریا

گذشتہ دنوں روزنامہ جدوجہد میں پاکستان نیشنل کانگریس بارے دو قسطوں پر مبنی مضمون شائع کیا گیا (پہلی قسط ، دوسری قسط

پاکستان نیشنل کانگریس (پی این سی)انڈین نیشنل کانگریس کی جانشین تھی۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں پی این سی کے بارہ ارکان پر مبنی اس پہلی سرکاری اپوزیشن نے ایک زبردست پارلیمانی کردار ادا کیا۔ پی این سی مشرقی پاکستان میں قانون ساز اسمبلی کا بھی حصہ رہی۔ پاکستان کی تاریخ سے اس کا ذکر لگ بھگ غائب کر دیا گیا ہے۔ پی این سی کے پاکستانی تاریخ میں اس’ عدم وجو‘بارے روزنامہ جدوجہد نے ڈاکٹر طاہر کامران سے ایک انٹرویو کیا۔

ڈاکٹر طاہر کامران کا شمار پاکستان کے اہم ترین تاریخ دانوں اور اکیڈیمکس میں ہوتا ہے۔ ان دنوں وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔وہ بطور ڈین گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ریٹائر ہوئے۔وہ کیمبرج یونیورسٹی میں پانچ سال علامہ اقبال چئیر بھی ہولڈ کرتے رہے۔ بے شمار کتابیں،تراجم اور مقالے شائع کرنے کے علاوہ وہ ’دی نیوز آن سنڈے‘ کے لئے ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل گفتگو انگریزی زبان میں ہوئی ۔انگریزی میں یہ انٹرویو ترقی پسند ویب سائٹ Alternative Viewpoint  پر گذشتہ جمعے کے دن پوسٹ ہوا۔

پاکستان نیشنل کانگریس (پی این سی)، انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کے جانشین کے طور پر پاکستان کی پہلی پارلیمان یعنی دستور ساز اسمبلی میں پہلی باقاعدہ اپوزیشن تھی۔ تاہم پاکستان کی تاریخ کی کتابوں میں، چاہے وہ مین سٹیم ہوں یا متبادل بیانیہ پیش کر رہی ہوں، پی این سی کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔پی این سی کی تاریخ میں اس غیر موجود حیثیت کی کیا وضاحت ہے؟

طاہر کامران: پاکستان نیشنل کانگریس (پی این سی) کی پاکستان کی تاریخ کی کتابوں میں غیر موجودگی کو اس سخت گیر سیاسی ثقافت کے تناظر میں بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے جو ملک کے قیام کے ساتھ ہی جڑ پکڑ چکی تھی۔ پاکستان کے ابتدائی سیاسی ڈھانچے میں اختلاف رائے یا متبادل آوازوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی تھی۔ مسلم لیگ بطور بانی جماعت عملاً یک جماعتی حکمرانی کا تصور لے کر آئی ، اور ایسے تمام سیاسی بیانیے جو خاص کراس کی نظریاتی مخالف انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ تھے، انہیں ناپسندیدگی بلکہ دشمنی کی نظر سے دیکھا گیا۔

پی این سی چونکہ انڈین نیشنل کانگریس کی جانشین جماعت تھی، لہٰذا وہ ابتدا ہی سے ایک جذباتی اور سیاسی طور پر بوجھل ورثہ بن کر سامنے آئی۔ ۔ مسلم لیگ اور اس کے ہاتھ میں موجود ریاستی مشینری کے نزدیک یہ جماعت ایک جائز اپوزیشن نہیں بلکہ یہ تقسیم ہند کی مخالفت کرنے والی جماعت کی باقیات تھی۔

اس غیر قبولیت کا مظاہرہ 1949 کی قراردادمقاصد پر ہونے والی بحث کے دوران کھل کر سامنے آیا، جہاں پی این سی نے مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کو ایک سیکولر اور جامع ریاست بنانے کا مطالبہ کیا، مگر ان کے اعتراضات کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے حقارت سے رد کر دیا گیا۔

ایسے سیاسی ماحول میں یہ حیرت کی بات نہیں کہ پی این سی کو دانستہ طور پر قومی بیانیے سے نکال دیا گیا۔ دستور ساز اسمبلی میں بطور پہلی باضابطہ اپوزیشن جماعت اس کا کردار اس لیے مٹا دیا گیا کہ اس کی موجودگی مسلم لیگ کے یک جماعتی مسلم شناخت کے نظریے سے متصادم تھی۔ پی این سی کو تاریخ سے خارج کرنے کی حکمت عملی کا مطلب ہے ریاست اختلاف رائے کو بطور ادارہ یاریاست کے کسی متبادل وژن کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھی۔

سوشل سٹڈیز اور مطالعہ پاکستان کی درسی کتابوں میں پی این سی کا ذکر مکمل طور پر غائب ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

طاہر کامران: جیسا کہ اے ایچ نیر اور احمد سلیم نے اپنی کتاب ’The Subtle Subversion‘میں لکھا ہے، پاکستان نے ابتدا ہی سے اپنے قومی بیانیے سے شمولیت پسندی اور تکثیریت کی ہر گنجائش کو ختم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ یہ ایک ایسی ریاستی سوچ کا نتیجہ تھا جس نے پاکستان کو ایک یکساں اسلامی ریاست کے طور پر متعین کیا، جوبھارت کے برعکس تھی۔بھارت پاکستانی اشرافیہ کی نظر میں ایک ہندو راشٹر تھا۔بھارت کے بارے میں خوف اور دشمنی پاکستان کے نظریاتی وجود کی بنیاد بن گئی، اور اس سوچ نے اندرونی سیاسی مخالفت کے لیے بھی کوئی جگہ نہ چھوڑی۔

اسی تناظر میں دستور ساز اسمبلی میں پہلی باضابطہ اپوزیشن جماعت پی این سی کو محض نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ شعوری طور پر تاریخ سے مٹا دیا گیا۔ خصوصاً سوشل سٹڈیزاور مطالعہ پاکستان کی درسی کتابوں میں اس جماعت کا کوئی ذکر تک نہیں ملتا۔درسی کتب میں پی این سی کے وجود اور خدمات کو مکمل طور پر صاف کر دیا گیا۔ اس کی وجہ سیاسی بھی ہے اور نظریاتی بھی۔

پی این سی چونکہ انڈین نیشنل کانگریس کی جانشین تھی، اس لیے وہ سیکولرازم، تکثیریت، اور مشترکہ ہندومسلم ورثے کا تسلسل سمجھی جاتی تھی۔ یہ وہ اقدار تھیں جو پاکستان کے حکمران طبقے کے اسلامی ریاستی بیانیے سے ٹکراتی تھیں۔اگر درسی کتب میں پی این سی کو شامل کیا جاتا تو یہ تسلیم کرنا پڑتا کہ پاکستان کے ابتدائی دنوں میں سیکولر، اقلیت دوست اور اختلافی آوازیں موجود تھیں ، اور یہی وہ اعتراف تھا جسے ریاستی اشرافیہ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

لہٰذادرسی کتب میں پی این سی کی مکمل عدم موجودگی دوہرا مقصد پورا کرتی ہے۔ یہ اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ پاکستان آغاز سے ہی نظریاتی طو رپر یکجا تھا، اور یہ اس بیانیے کو برقرار رکھتی ہے کہ بھارت کے ساتھ ایک دائمی نظریاتی مخالفت موجود ہے۔ اس عمل کے ذریعے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح تاریخی یادداشت کو استبدادی رجحانات کو سہارا دینے اور جمہوری عمل کو دبانے کے لیے تشکیل دیا گیا۔ پی این سی کو غیر مرئی بنا دینا محض ایک تاریخی کوتاہی نہیں بلکہ نظریاتی انجینئرنگ کا شعوری عمل ہے۔

آپ نے 2024 میں ایک کتاب شائع کی جس کا عنوان تھا’Chequered Past, Uncertain Future: The History of Pakistan (2024)‘۔ اس کتاب میں جوگندر ناتھ منڈل کا ذکر ملتا ہے، جو کہ پی این سی کے اہم رہنما اور پارلیمنٹرین تھے، لیکن پی این سی کو بطور ایک موضوع نہیں چھیڑا گیا۔ کیا یہ خودساختہ سنسرشپ تھی، یا ریاستی سنسرشپ؟ یا پھر یہ سمجھا گیا کہ پی این سی پاکستانی مورخین کے لیے غیر متعلق ہے؟

طاہر کامران: میری کتاب میں پاکستان نیشنل کانگریس پر مفصل بحث کی عدم موجودگی نہ تو خود ساختہ سنسرشپ کا نتیجہ تھی اور نہ ہی کسی بیرونی دباؤ یا سینسر کی وجہ سے ایسا ہوا۔ درحقیقت یہ ایک غیر شعوری کوتاہی تھی اور اس سے بھی بڑھ کر یہ پاکستانی مورخین کی دہائیوں پر محیط تاریخی غفلت کے عمومی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

صاف بات یہ ہے کہ کتاب کا دائرہ کار بہت وسیع تھا،جس میں پاکستان کے سیاسی، سماجی اور آئینی ارتقاء کی کئی پرتوں کا احاطہ کیا گیا،اور اس میں کئی اہم ادارتی فیصلے لینا ناگزیر تھا۔ تاریخی لحاظ سے اہم ہونے کے باوجود کچھ موضوعات کو وہ جگہ یا وہ گہرائی نہیں دی جا سکی جس کے وہ مستحق تھے، کیونکہ جگہ اور موضوعاتی حدود آڑے آ گئیں۔پی این سی کا ذکر کتاب میں جوگندر ناتھ منڈل جیسی شخصیات کے حوالے سے موجود ہے، لیکن اسے ایک مکمل موضوع کے طور پر شامل نہیں کیا جا سکا۔ یہ اس لیے نہیں ہوا کہ میں اسے غیر متعلق سمجھتا ہوں، بلکہ اس لیے کہ پاکستان میں غالب تاریخی روایت نے اسے ایک طویل عرصے سے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کیا ہے۔

مرکزی تاریخی مکالمے سے پی این سی کو نکال دینا بذات خود ایک بڑے مسئلے کا حصہ ہے۔ جیسا کہ نیئر اور سلیم نے ’The Subtle Subversion‘ میں اشارہ دیا ہے، پاکستان کا قومی بیانیہ ایک ایسی اخراجی منطق کے تحت تشکیل دیا گیا ہے جو تکثیریت کو دباتی ہے اور اختلافی آوازوں کو کنارے لگاتی ہے۔

پی این سی ایک ایسی جماعت تھی جو مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتی تھی اور اکثر ریاست کے نظریاتی رخ سے متصادم خیالات رکھتی تھی، اسی لیے اسے خاموشی کے ساتھ درسی کتابوں، آرکائیوز، اور بالآخر اجتماعی قومی یادداشت سے نکال باہر کیا گیا۔

لہٰذا اگرچہ میری کتاب میں اس جماعت کا نہ ہونا ایک بڑے رجحان کے تسلسل کی طرح محسوس ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی دانستہ دباؤ یا سنسرشپ کا عمل نہیں تھا۔ تاہم یہ ضرور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ پاکستانی مورخین،جن میں خود میں بھی شامل ہوں،کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ہم اپنی تاریخی ترجیحات میں کن آوازوں کو جگہ دے رہے ہیں اور کن کو خاموش کر رہے ہیں۔

پی این سی جیسی جماعتوں اور متبادل اداروں کو نظر انداز کرنا کوئی فطری بات نہیں تھی،بلکہ یہ ایک منصوبہ بند عمل تھا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس خاموشی کو توڑنے کا عمل شروع کریں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پی این سی پر تحقیق ہونی چاہیے، اس پر بات ہونی چاہیے، اور اسے درسی کتابوں اور اعلیٰ تعلیم کے تاریخ کے نصابات میں شامل کیا جانا چاہیے؟ اگر ہاں، تو کیوں؟

طاہر کامران:جی ہاں، بالکل پی این سی پر تحقیق ہونی چاہیے، اس پر کھل کر بات ہونی چاہیے، اور اسے سنجیدگی سے نہ صرف درسی کتابوں میں بلکہ اعلیٰ تعلیمی سطح پر تاریخ کے نصابوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔پی این سی کو شامل کرنا محض تاریخ کی درستگی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک جمہوری ضرورت ہے۔

رائے کی تکثیریت اور متنوع بیانیے کسی بھی ایسے معاشرے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں جو جمہوری اقدار کو سنجیدگی سے اپنانا چاہتے ہوں۔ پاکستان کی ابتدائی سیاسی تصویر، جو زیادہ تر درسی کتابوں میں بیان کی جاتی ہے، درحقیقت یکجہتی کا ایک مصنوعی تاثر دیتی ہے، جب کہ حقیقت میں اُس وقت کی سیاست کہیں زیادہ پیچیدہ، متضاد اور متنوع تھی۔

پی این سی بطور پہلی باقاعدہ اپوزیشن جماعت اور اقلیتوں کی ترجمان، ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کرتی تھی جو شمولیت پر مبنی، سیکولر حکمرانی اور آئینی اصولوں پر استوار ہو۔ اس آواز کو نظر انداز کرنا، دراصل پاکستان کی سیاسی بنیادوں کی تفہیم کو مسخ کرنا ہے۔پی این سی کا مطالعہ طلبہ اور محققین کو یہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ پاکستان کی شناخت کی تشکیل کس قدر متنازعہ اور کشمکش زدہ عمل تھی۔یہ مطالعہ اس تاریخ کے یک رخی بیانیے کو چیلنج کرتا ہے اور ان فیصلوں پر سنجیدہ تنقیدی سوچ کی گنجائش فراہم کرتا ہے ،جو پاکستان کے قیام کے ابتدائی سالوں میں کیے گئے۔یہ عمل نہ صرف تاریخی سچائی کے لیے اہم ہے بلکہ جمہوری شعور کو نئی نسلوں میں پیدا کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

پی این سی کو تعلیمی مکالمے میں شامل کرنا ان افراد اور گروہوں کی تاریخی حیثیت کو بحال کرنے کی کوشش ہے جنہیں منظم طریقے سے سیاسی طور پر اور تاریخی ریکارڈ میں حاشیے پر دھکیل دیا گیا۔یہ ایک علامتی قدم ہوگا کہ پاکستان اپنے تکثیری ماضی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے،اور اس کے ذریعے وہ ایک زیادہ جامع اور مساوی مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں اور کون سے اہم سیاسی پراجیکٹ ایسے ہیں جنہیں تاریخ سے غائب کر دیا گیا ہے،یا تاریخ میں ایک حاشئے کی حیثیت دے دی گئی ہے؟

طاہر کامران: پاکستان کی تاریخ میں بہت سے ایسے اہم سیاسیپراجیکٹ اور تحریکیں ہیں جنہیں منظم طریقے سے غائب کیا گیا، مسخ کیا گیا یا فٹ نوٹ بنا دیاگیا ہے۔عام طور پر اس لیے کہ وہ ریاست کے غالب بیانیے سے ہم آہنگ نہیں تھے۔

ایسی تمام آوازیں، بالخصوص وہ جو بائیں بازو کی تھیں، نسلی تنوع پر مبنی تھیں، یا نظریاتی طور پر متنوع تھیں، انہیں پاکستان کے قومی مکالمے میں کبھی بھی خاطر خواہ جگہ نہیں دی گئی۔اس طرح کے اخراج نے تاریخ کو سیکھنے، یاد رکھنے اور اسے ادارے کی شکل دینے کے حوالے سے یہ مسئلہ کھڑا کر دیا ہے کہ پاکستانی تاریخ میں خطرناک حد تک یک طرفہ پن پیدا ہو گیا ہے۔
پی این سی کے علاوہمندرجہ ذیل سیاسی تحریکیں اور منصوبے بھی اسی انجام سے دوچار ہوئے:

کمیونسٹ اور بائیں بازو کی تحریکیں

کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (سی پی پی )، مزدور کسان پارٹی، اور بعد میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) جیسے بائیں بازو کے گروہوں کا کردار یا تو مسخ کر دیا گیا یا مکمل طور پر غائب کر دیا گیا، کیونکہ انکا کردار مزدوروں کے حقوق، سامراج مخالف فکر، اور جمہوری جدوجہد میں کلیدی رہاہے ۔ درسی کتابوں اور عوامی یادداشت میں ان کا کوئی خاص ذکر موجود نہیں۔

نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)

یہ قوم پرست اور سوشلسٹ جماعت بلوچ، پشتون، سندھی اور بنگالی اقوام کی ترجمانی میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ 1975 میں اس پر پابندی لگا دی گئی اور اس کے رہنماؤں کو غدار قرار دیا گیا ، جو اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ ریاست نے نسلی تکثیریت اور بائیں بازو کی سیاست کو دبایا۔

بنگالی خودمختاری کی تحریک

اگرچہ مشرقی پاکستان 1971 تک آبادی کے لحاظ سے ملک کا اکثریتی حصہ تھا، مگر بنگالی قوم پرستی اور شیخ مجیب الرحمان کے 6 نکات کو مین اسٹریم بیانیے میں کبھی سنجیدگی یا گہرائی سے پیش نہیں کیا گیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کے پورے سیاسی سیاق و سباق کو سادہ الفاظ میں ’بھارتی سازش‘ قرار دے کر اس میں موجود ساختیاتی ناانصافیوں اور سیاسی جبر کو نظر انداز کر دیا گیا۔

سندھی اور بلوچ قوم پرست تحریکیں

ایسے سیاسی اقدامات، جنہوں نے زیادہ صوبائی خودمختاری یا مرکز کی مداخلت کے خلاف مزاحمت کی ، انہیں یا تو علیحدگی پسند خطرہ بنا کر پیش کیا گیا یا مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا، حالانکہ ان کی بنیاد جمہوری مطالبات اور آئینی وفاقیت میں تھی۔ان میں جئے سند تحریک یا مختلف بلوچ قوم پرست جدوجہدیں شامل ہیں۔

خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی تحریکیں

خاص طور پر جنرل ضیاء الحق کے دور میں خواتین کی مزاحمتی تحریکیں (جیسے ویمن ایکشن فورم) اور مذہبی اقلیتوں کی مساوی شہریت کے لیے جدوجہد، رسمی تاریخی بیانیے میں کم کم ہی شامل ہو سکی ہیں۔

یہ تمام مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ریاست نے کس طرح نظریاتی ہم آہنگی اور داخلی تنوع کے خوف کی بنیاد پر ایک خاص یادداشت تشکیل دی، جو شدید یک رخے اور آمرانہ رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔ان متنوع سیاسی منصوبوں کو نظر انداز کر کے ریاست نے نہ صرف بے شمار طبقات کی جدوجہد کو مٹا دیا بلکہ خود کو ایک زیادہ جامع اور جمہوری معاشرے میں ڈھالنے کا موقع بھی ضائع کر دیا۔ان بیانیوں کو دوبارہ سامنے لانا، ایک زیادہ ایماندار اور مربوط قومی شناخت کی تشکیل کے لیے لازمی قدم ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ: حارث قدیر، فاروق سلہریا)

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں