لاہور(جدوجہد رپورٹ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو پیر کے روز بتایا گیا کہ حکومت یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کی بندش کے بعد ملازمین اور وینڈرز کے واجبات کی مد میں 27 ارب روپے کی ادائیگی دو مراحل میں یقینی بنائے گی۔
’ڈان‘ کے مطابق اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ یو ایس سی کی بندش کا فیصلہ حتمی ہو چکا ہے ۔تاہم تقریباً 11 ہزار ملازمین کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کمیٹی نے واجبات کی تفصیلی تقسیم بندی طلب کی جو نجکاری کمیشن کو آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ یوٹیلٹی اسٹورز ماضی میں اس وقت تک منافع بخش رہے جب تک سبسڈیز فراہم کی جاتی رہیں، لیکن سبسڈی ختم ہونے کے بعد یہ ادارہ خسارے میں چلا گیا۔ اراکین کمیٹی نے ادارے کی نجکاری اور بندش کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات کو نظر انداز کر کے بندش کے عمل کو جاری رکھنا انتہائی تشویش ناک ہے۔
نجکاری کمیشن کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے جانچ پڑتال کا عمل شروع ہو چکا ہے اور کئی کاروباری گروپ اس میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل 2025 کی آخری سہ ماہی تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔پی آئی اے کی نجکاری کے نتیجے میں بھی بڑے پیمانے پر ملازمین روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔