روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

جموں کشمیر سے ہجرتوں کی تاریخ

جموں کشمیر سے ہجرتوں کی تاریخ

حارث قدیر

انسانی تاریخ ہجرتوں سے بھری پڑی ہے۔ سخت موسمی حالات سے بچاؤ، خوراک کی تلاش، جنگوں و بحرانوں کے نتیجے میں ہجرتوں کی ایک لمبی تاریخ ہے، جس سے گزر کر نسل انسان آج کے اس جدید اور ترقی یافتہ عہد تک کا سفر طے کر پائی ہے۔ آج بھی ہجرتوں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہاں تک کہ آج دنیا بھرمیں مہاجرین کا بحران ایک سلگتا ہوا سوال بن کر ایک بار پھر نسل انسان کے سامنے ہے۔ موجودہ ہجرتوں کی وجوہات میں سامراجی جنگیں، معاشی بدحالی، ماحولیاتی بحران اور دہشت گردی جیسے مسائل شامل ہیں۔

جموں کشمیر کے مختلف حصوں میں بسنے والے انسانوں کی ہجرتوں کی بھی ایک طویل تاریخ ہے۔ تاہم 1947میں برصغیر کی تقسیم کے وقت ہونے والی جبری ہجرت کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اسی طرح1837میں لاہور دربار کی نمائندگی کرتے ہوئے راجہ گلاب سنگھ کی فوجوں کی جانب سے پونچھ پر فوج کشی کے دوران ہونے والے قتل عام اور لوٹ مار کے بعد قحط جیسی صورتحال کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی۔ قحط سالی جیسی صورتحال کے باعث اس سے قبل بھی متعدد علاقوں سے ہجرتیں ہو چکی ہیں۔ 1947کے بعد پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے بڑے پیمانے پر معاشی ہجرت ہوئی ہے۔ میرپور سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے برطانیہ کا رخ کیا۔ بعد ازاں میرپور، پونچھ اور دیگر اضلاع سے بڑے پیمانے پر خلیجی ملکوں، یورپ، امریکہ اور برطانیہ کا رخ کیا۔ محتاط اندازوں کے مطابق15لاکھ سے زائد افراد بیرون ملک معاشی مہاجرین کے طور پر موجود ہیں۔

1947ء میں شخصی راج کے خلاف حق حکمرانی کی پرامن جدوجہد جب مسلح بغاوت میں تبدیل ہوئی تو پاکستانی ریاست کی اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے اس بغاوت کو اپنے حق میں استعمال کرنے اور جموں کشمیر کو ہتھیانے کے لیے استعمال کرنے کے لیے باضابطہ قبائلی لشکر کے ذریعے حملے کی تیاریاں شروع کر دیں۔دوسری جانب راجہ ہری سنگھ اور بھارت کی ہندو اشرافیہ نے بھی وادی کشمیر میں جاری ’کشمیر چھوڑ دو تحریک‘ اور پونچھ میں ٹیکس مخالف تحریک سمیت دوسری عالمی جنگ سے بڑے پیمانے پر واپس آنے والے برطانوی فوجیوں کے اندر پنپتی بغاوت کو دیکھتے ہوئے جموں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے اور ہندو اور سکھ انتہاء پسند تنظیموں کے ذریعے جموں کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔

نتیجہ یہ نکلا کے پاکستانی قبائلیوں کے حملے کے نتیجے میں مظفرآباد ڈویژن سے بڑے پیمانے پر ہندوؤں اور سکھوں کا قتل عام کیا گیا اور جو بچ گئے وہ بھاگ کر بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں چلے گئے۔ پونچھ سے میرپور تک بھی بڑے پیمانے پر ہندوؤں اور سکھوں کا قتل عام ہوا اور جو بچ گئے وہ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر چلے گئے۔

دوسری جانب جموں میں بھی ایسے ہی فسادات ہوئے، جن کے حوالے سے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پونچھ اور مظفرآباد کے واقعات کا ردعمل تھے۔ تاہم جموں کے مسلم اور ہندو تاریخ دانوں کے مطابق جموں میں ڈیموگرافی تبدیل کرنے اور مسلمانوں کے قتل عام کی تیاری بہت پہلے سے چل رہی تھی۔ انہی فرقہ وارانہ حملوں میں شدت کے نتیجے میں جموں سے مسلمان ہجرت پر مجبور ہوئے اورپھر دوران ہجرت بھی 6نومبر1947 کو بڑے پیمانے پر ان کا ایک منظم قتل عام کیا گیا۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقوں سے جانے والے ہندوؤں اور سکھوں کی بڑی تعداد جموں اور پونچھ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی اور بعد ازاں ایک بڑی تعداد بھارتی ریاستوں دہلی اور ہریانہ میں منتقل ہو گئی۔ بھارتی زیر انتظام علاقوں میں سے بڑی ہجرت جموں سے ہوئی۔ جموں، کٹھوعہ، ریاسی اورادھم پور سے ہجرت کرنے والوں کی بڑی تعداد مغربی پنجاب کے سیالکوٹ، شکر گڑھ اور نارووال سمیت دیگر علاقوں میں آباد ہوئی، جبکہ پونچھ ریاست سے ہجرت کرنے والے زیادہ تر لوگ اور جموں کے اضلاع کے کچھ لوگ پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کے علاقوں پونچھ اور میرپور میں آباد ہوئے۔

مغربی پنجاب کے ان علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں ہندو اور سکھ فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے ہجرت کر کے جموں کے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ انہیں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں مغربی پاکستان کے مہاجرین کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس دوران وادی کشمیر کے مختلف اضلاع اننت ناگ، بارہمولہ اور مظفرآباد(موجود پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کا دارالحکومت) سے بھی بڑی تعداد میں لوگ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہجرت کر گئے۔

جموں سے ہجرت کرنے والوں کو قریب ترین محفوظ مقام پاکستان کا سیالکوٹ ڈویژن تھا، تاہم وادی کشمیر کے اضلاع سے ہجرت کرنے والے افراد پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے مختلف شہروں میں بہتر مستقبل کی غرض سے جا کر آباد ہوئے۔

ہجرتوں کا یہ سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا، 1965، 1971اور 1989میں بھی بڑے پیمانے کی ہجرتیں ہوئیں، تاہم یہ زیادہ ترلوگ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیرمیں ہی آباد ہوئے۔ 1989کے مہاجرین 42ہزار خاندان پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے مختلف اضلاع کے اندر مہاجر کیمپوں میں آج بھی انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اسی طرح بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کی بھی ہجرت ہوئی، جو جموں اور بھارت کی مختلف ریاستوں میں آباد ہوئے۔

جموں کشمیر کے مہاجرین کے ساتھ ہر دو اطراف امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔ پاکستان میں بھارتی ریاستوں سے ہجرت کر کے آنے والے خاندانوں کو ان کی ترک کی گئی شہری اور دیہی زمینوں اور جائیدادوں کے برابر یہاں زمینیں اور املاک الاٹ کی گئیں۔بعض صورتوں میں جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بھی یہ زمینیں اور جائیدادیں الاٹ کی گئیں۔ تاہم جموں کشمیر کے مہاجرین کو فی فرد 9کنال عارضی الاٹمنٹس کی گئیں۔ یہ تمام تر دیہی زمینیں تھیں، جہاں انہوں نے عارضی گھروندے بنا کر رہائش اختیار کی۔ ان کی یہ الاٹمنٹس مستقل ہوتے ہوئے 50سال سے زائد کا عرصہ لگا۔ ان میں کئی ایسے مہاجرین بھی تھے، جو جموں میں 500ایکڑ سے زائد کی زرعی زمینیں اور جائیدادیں چھوڑ کر آئے تھے، لیکن پاکستان میں انہیں دیہی علاقوں میں عارضی فی فرد9کنال زمینیں پر زندگی دوبارہ سے تعمیر کرنا پڑی۔پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں آباد ہونے والے مہاجرین کو البتہ فی کنبہ60کنال اراضی الاٹ کی گئی، تاہم ان کی تعداد انتہائی کم تھی۔

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر جانے والے مہاجرین کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک بڑی تعداد پونچھ اور جموں میں آباد ہوئی، تاہم مغربی پاکستان، یعنی پنجاب سے جانے والے مہاجرین اور جموں کشمیر سے جانے والے مہاجرین کو ایک ہی صف میں رکھا گیا۔ ایک بڑی تعداد دہلی اور ہریانہ میں بھی آباد ہوئی۔ آرٹیکل 370کو غیر متعلق کرنے اورآرٹیکل 35اے کے خاتمے کے بعد یونین ٹیرٹری میں مہاجرین جموں کشمیر اور مہاجرین مغربی پاکستان مقیم بھارت کے لیے مخصوص نشستیں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی اسمبلی میں مختص کی گئی ہیں۔ اس اقدام کو جموں کشمیر میں ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی ایک سازش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

1989میں ایک طرف بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر سے بڑی تعداد میں مہاجرین پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں آئے۔ 1990میں کشمیری پنڈتوں کو ہجرت کر کے جموں اور بھارت کے مختلف شہروں میں پناہ لینی پڑی۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ان 42ہزار خاندانوں کو مختلف کیمپوں میں رہائش دی گئی۔ ان کے لیے ملازمتوں اور تعلیم میں 6فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا۔ تاہم انہیں جو مکان یا فلیٹ الاٹ کیے گئے تھے، وہاں آبادی میں اضافے کے بعد رہائش ناممکن ہو چکی ہے۔ انہیں زمینیں الاٹ کر کے مستقل آبادکاری اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی آبادی میں ضم کرنے جیسے اقدامات کرنے سے تاحال گریز برتا گیا ہے۔ اس وجہ سے مہاجرین1989انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب کشمیری پنڈت بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار رہے۔ اب ان کے لیے بھی بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی اسمبلی میں ایک مخصوص نشست مقرر کی گئی ہے۔ تاہم کشمیری پنڈت اپنے آبائی حلقوں میں ووٹ دینے کے بھی اہل ہیں۔ ان کے لیے ان کی جائے ہجرت پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے جاتے رہے ہیں، تاکہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

ہر دو اطراف مہاجرین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال بھی کیا گیا اور ان کا استحصال بھی کیا گیا۔ تاہم ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے نام پر آج بھی سیاست عروج پر ہے۔ معاہدہ کراچی میں حکومت پاکستان نے مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی بحالی اور آبادکاری کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی۔ تاہم وہ ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے ان مہاجرین کو آج بھی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں نوآبادیاتی تسلط برقرار رکھنے کے لیے ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا جاتارہا ہے۔ آج تک ان مہاجرین کی آبادی کے درست اعداد و شمار تک مرتب کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی جا سکی ہے۔ جعلی سٹیٹ سبجیکٹ بنوا کر البتہ مختلف لوگوں کو نوکریاں دلوانے اور مظفرآباد کی اسمبلی کو اپنے قابومیں رکھنے کے لیے بھیجا جاتا رہا ہے۔

مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی آبادی کے درست اعداد و شمار مرتب کیے جانے چاہئیں۔ از سرنو تمام باشندہ ریاست سرٹیفکیٹس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں۔ جعلی سرٹیفکیٹس منسوخ کیے جانے چاہئیں اور جو حقیقی مہاجرین جموں کشمیر ہیں، ان کو باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہوئے ان کے شناختی کارڈز میں خصوصی نشاندہی کی جانی چاہیے، تاکہ ان کا جموں کشمیر کے ساتھ تعلق برقرار رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی آبادکاری، روزگار، تعلیم اور دیگر مسائل کے حل کے لیے ترجیحی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

دوسری جانب مہاجرین 1989کو زمینیں الاٹ کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری سرپرستی میں مکانات تعمیر کرنے کے لیے رقوم مہیا کی جانی چاہئیں، تاکہ انہیں برابر کے شہریوں کا درجہ مل سکے اور وہ معاشرے میں ضم ہو سکیں۔ مہاجرین کی پسماندگی اور غیر محفوظ حالت کا فائدہ اٹھا کر انہیں حساس اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا سلسلہ ترک ہونا چاہیے۔

حتمی طور پر جموں کشمیر سے جبری طور پر اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کیے جانے والے تمام افراد کو اپنے آبائی علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، تاکہ وہ اس اذیت ناک زندگی سے نجات حاصل کرتے ہوئے محفوظ طریقے سے اپنی زندگیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں