فاروق سلہریا
گیارہ ستمبر کے بعد سرمایہ دار امریکی میڈیا کا پسندیدہ جملہ تھا: دی یو ایس اے وِل نیور بی دی سیم اگین!
The USA will never be the same again!
امریکہ کی معیشیت ، سیاست، یونیورسٹی یا صحافت کو چھینک آئے تو دنیا کو بخار ہو جاتا ہے۔ کہیں پر کچھ بھی ہو جاتا ، یہ جملہ دہرایا جاتا :۔۔۔۔۔وِل نیور بی دی سیم اگین۔
افغانستان پر امریکی قبضہ ہوا تو کہا گیا: افغانستان وِل نیور بی دی سیم اگین۔
ہیٹی میں زلزلہ آیا تو کہا گیا: ہیٹی وِل نیور بی دی سیم اگین۔ احمدی نژاد والے صدارتی انتخاب میں،ایران میں انتخابی دھاندلی کے خلاف مہم چلی تو کہا گیا : ایران وِل نیور بی دی سیم اگین۔ عرب بہار آئی تو کہا گیا: تیونس، اجپٹ، سریا وِل نیور بی دی سیم اگین۔
پھر یہ فیشن ختم ہو گیا ۔ معلوم نہیں افغانستان سے لیکر تیونس تک، کچھ بدلا یا نہیں لیکن جو تحریک پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں چل رہی ہے وہ اس خطے کو بدل کر رکھ دے گی۔
ریاست جموں کشمیر کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایک عام ہڑتال مہینہ بھر سے جاری ہے۔ تاریخی دھرنے ایک مہینے سے جاری ہیں۔ برطانیہ میں مقیم جموں کشمیر کے تارکین وطن نے تاریخی جلسے کئے۔ پہلی بار دس ہزار لوگوں نے لندن میں مظاہرہ کیا تو گذشتہ ہفتے پچاس ہزار لوگوں نے برطانیہ کی پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کیا۔ دنیا بھر میں ،پاکستانی سفارت خانوں کے باہر مظاہرے معمول بن گئے ہیں۔ یہی ڈائسپورا پاکستانیوں سے زیادہ پاکستانی بنا ہوتا تھا۔ اب یہی تارکین وطن باغی بن گئے ہیں۔
ریاست کی تاریخ میں پہلی بار ہزاروں لاکھوں خواتین موبلائز ہوئی ہیں۔ پہلی بار وہ اتنی بڑی تعداد میں جلسوں میں شریک ہو رہی ہیں۔ لوگوں نے خوف کے بت توڑ دئیے ہیں۔
ادہر، پاکستانی ریاست تشدد، جبر اور قومی شاونزم کے ذریعے اس انتفادہ کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سب تدبیریں الٹی پڑ رہی ہیں۔
یہ درست ہے کہ دھرنا یا عام ہڑتال بہت لمبا عرصہ جاری نہیں رہ سکے گی۔ ممکن ہے ریاست پیچھے ہٹے۔ ممکن ہے جوائنٹ عوامی ایشن کمیٹی کو مطالبات منوائے بغیر فی الحال پسپائی اختیار کرنی پڑے، لیکن ایک بات طے ہے : جموں کشمیر ول ناٹ بی دی سیم اگین!
خواتین اب سیاست میں ہی نہیں، سماجی و معاشی زندگی میں بھی پہلے سے زیادہ نمایاں کردار ادا کریں گی۔ ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ والا پراپیگنڈـ ہ بیچنا اب لمبا عرصہ ممکن نہیں رہے گا۔ ریاست نے جو جبر کیا ہے، اس کی یاد سینہ بہ سینہ منتقل ہو گی۔ جموں کشمیر کے لوگ اپنی ریاستی شناخت پر زیادہ زور دیں گے ۔
پاکستانی ریاست نے جو طفیلی طبقہ ، کٹھ پتلی اشرافیہ اس خطے پر مسلط کر رکھی ہے، ان کے لئے الیکشن لڑنا تو دور کی بات، ووٹ مانگنا ممکن نہیں رہے گا۔ قانون ساز اسمبلی کے نام پر جو ڈھونگ رچایا جاتا تھا، اس کی اتنی ساکھ بھی نہیں بچے گی جتنی شہباز شریف کے ہائبرڈ رژیم کی ہے۔
شناخت کا سوال اور طبقاتی سوال ، گہرے ہوتے ہوئے ماحولیاتی بحران کے ساتھ مل کر اِس پار کے جموں کشمیر کی سیاست میں طغیانی کا باعث بنتے رہیں گے۔ عین ممکن ہے اگلی بار انتفادہ کی قیادت تاجر طبقے کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ جموں کشمیر کے بائیں بازو کے ہاتھ میں ہو۔
یوں جموں کشمیر جنوبی ایشیا کا کیوبا بن کر ابھرے نہ ابھرے، لیکن: جموں کشمیر ول نیور بی دی سیم اگین!