روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نشستیں، تحریک آزادی اور حق نمائندگی

مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نشستیں، تحریک آزادی اور حق نمائندگی
حارث قدیر
 
کوئی بھی سیاسی مطالبہ جب عوامی مقبولیت حاصل کر لیتا ہے تو مروجہ نظام کے اندر اس کو حل کرنے کی راہ بھی سادہ سے پیچیدہ ہوتی جاتی ہے۔ یہی صورتحال مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی اسمبلی میں موجود12 نشستوں کے حوالے سے بھی بن چکی ہے۔ جب یہ محض سیاسی مطالبہ تھا تو تقریباً تمام ہی سیاسی جماعتوں کی قیادتیں ان نشستوں پر معترض ہوتی تھیں اور ان کے خاتمے کے مطالبہ کیا جاتا تھا۔ تاہم عام عوام میں یہ مطالبہ اس طرح سے نہ مقبول تھا اور نہ ہی اس مطالبے کے لیے کوئی بڑا احتجاج اس نوعیت تک پہنچ سکا تھا کہ ان نشستوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ناگزیر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نشستوں کے خاتمے اور مستقبل کے حوالے سے باریک سوال اور ان کے جواب تلاشنے کی ضرورت بھی کسی کو محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
 
اب چونکہ یہ مطالبہ ایک ایسی کنکریٹ شکل میں پہنچ چکا ہے کہ ان نشستوں کے حوالے سے کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ناگزیر ہے تو تقریباً تمام ہی سیاسی مکاتب فکر اس حوالے سے شش و پنج کا شکار نظر آتے ہیں۔ اگر، مگر کی اس گردان میں مختلف تجاویز پیش کی جا رہی ہیں اور مختلف تاویلیں بھی تراشی جا رہی ہیں۔ مختلف سیاسی اور دانشورانہ حلقے اپنی سیاسی سمجھ یا جانبداری کی بنیاد پر 12نشستوں کے اس ہاتھی کی وضاحت ان اندھوں کی طرح کر رہے ہیں، جنہیں ہاتھی کا جو حصہ ہاتھ میں آیا، ہاتھی کی بناوٹ کو ویسا ہی پیش کرنے کی کوشش کی۔ مہاجرین جموں کشمیر کی تاریخ اور مختلف ادوار اور مقامات پر ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کی تفصیلات کا ذکر آئندہ تحریر میں کیا جائے گا۔یہاں محض 12نشستوں کے خاتمے کے مطالبے اور ان نشستوں کے حق میں دی جانے والی مختلف دلیلوں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے اور متبادل تجاویز کو زیر غور لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
 
حق نمائندگی اور حق باشندگی
حق نمائندگی کو حق باشندگی سے الجھایا جاتا ہے۔ حق باشندگی ہر صورت میں حق نمائندگی کا ضامن نہیں ہوتا۔ اسی طرح حق نمائندگی بھی حق باشندگی سے ضروری نہیں کہ ہر حالت میں مشروط رکھا جائے۔ حق باشدنگی کسی بھی شخص کے مقامی (انڈیجنس) ہونے کا حق ہے۔ جموں کشمیر کے تناظر میں وہ تمام افراد باشندہ ریاست ہیں، جو 1947میں جموں کشمیر کی تقسیم اور عالمی تنازعہ بننے کے وقت جموں کشمیر میں رہائش پذیر تھے۔ جب بھی مسئلہ جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا ان افراد کو اپنے اپنے آبائی علاقوں میں جانے کا حق حاصل ہوگا اور یہ اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے رائے دینے کے حق دار ہونگے۔
 
حق نمائندگی کا مطلب ہے کہ کوئی بھی فرد کسی علاقے کے سیاسی،معاشی اور سماجی فیصلوں میں ووٹ دے سکے، ووٹ لے سکے یا اپنے نمائندے منتخب کر سکے۔ یعنی اگر کوئی آبادی مستقل طور پر کسی علاقے میں رہتی ہے، ٹیکس دیتی ہے، مقامی قوانین کے تحت زندگی گزارتی ہے اور ریاستی فیصلوں سے متاثر ہوتی ہے تو اسے کسی نہ کسی سطح پر سیاسی نمائندگی بھی ملنی چاہیے۔ اسی اصول کو اکثر اوقات ’نو ٹیکسیشن ودآؤٹ ری پریزنٹیشن“ یا ”نمائندگی کے بغیر ٹیکس سے انکار“ کے تصور سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
 
یوں حق نمائندگی کے اصول کے تحت وہ فرد حق نمائندگی کا اہل نہیں ہو سکتا، جو کسی علاقے میں رہائش پذیر نہیں، وہاں ٹیکس نہیں دیتا، وہاں کے قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، وہاں کے ریاستی فیصلے اسے متاثر نہیں کرتے۔ تاہم اگر ایسا شخص اس علاقے کا انڈیجنس، یا مقامی باشندہ ہے، اور جبری طور پر اپنا آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوا ہے تو اس کا حق باشندگی اس وقت تک نہیں چھینا جا سکتا، جب تک اسے آزادانہ طور پر اپنے آبائی علاقے اور جائے ہجرت میں سے کسی ایک یا دونوں کا انتخاب کرنے کا حق نہیں مل جاتا، اور اس کے نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جاتا۔
 
معاشی تارکین وطن کا حق نمائندگی
 
اس معاملے کو اکثرپاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے اوورسیز باشندوں کے ساتھ بھی جوڑنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معاشی مسائل کی وجہ سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں روزگار سے منسلک ہیں، یا پھر یورپ، امریکہ، افریقہ اور ایشیا کے مختلف ملکوں میں آباد ہیں۔ ان میں سے ایک مخصوص تعداد یورپی اور امریکی ملکوں کی شہریت بھی حاصل کر چکی ہے اور وہاں نمائندگی کا حق بھی انہیں حاصل ہے۔ تاہم انہیں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیرمیں بھی حق نمائندگی حاصل ہے۔ ان معاشی مہاجرین کو یہاں یہ حق اس لیے حاصل ہونا چاہیے کہ ان کے خاندان یہاں رہائش پذیر ہیں، ان کی مستقل سکونت بھی یہیں ہے اور وہ نہ صرف بڑے پیمانے پر زرمبادلہ یہاں ارسال کرتے ہیں، بلکہ ان کے خاندان اس زرمبادلہ کو خرچ کرتے ہوئے ٹیکس دیتے ہیں۔ اسی طرح یہاں ہونے والے ریاستی فیصلے پر ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کو جموں کشمیر کے ان حصوں سے جبری طور پر پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہونے والوں کی طرز پر حق نمائندگی سے محروم کرنے یا حق دار ٹھہرانے کی بات نہیں کی جا سکتی۔
 
باشندگان ریاست سے انصاف کا پیمانہ
 
مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں حق نمائندگی سے محروم کرنے کو باشندگان ریاست کے لیے امتیازی رویہ اور ناانصافی بھی قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم انصاف کا پیمانہ دونوں جانب برابر رکھنے سے یہاں بھی اجتناب برتا جاتا ہے۔ مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کو پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلی میں حق نمائندگی حاصل ہے، تاہم پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے جو لوگ پاکستان میں بھی مقیم ہیں، ماسوائے متاثرین منگلا، وہ اگر پاکستان میں اپنا ووٹ رجسٹر کرواتے ہیں تو انہیں جموں کشمیر سے اپنا ووٹ خارج کروانا پڑتا ہے۔ یعنی وہ پاکستان اور جموں کشمیرمیں سے کسی ایک ہی جگہ پر حق نمائندگی حاصل کر سکتے ہیں۔ یوں یہ انصاف نہیں بلکہ ناانصافی ہے کہ ایک باشندہ ریاست تین جگہوں،یعنی متعلقہ صوبے، پاکستانی وفاق اور جموں کشمیر میں حق نمائندگی حاصل کرتا ہے، بلکہ ایک باشندے کو پاکستان اور جموں کشمیر میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
 
یہی معاملہ روزگار کا بھی ہے۔ پاکستان کے وفاقی محکموں میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہریوں کو ملازمت اور تعلیم کے لیے جو معمولی کوٹہ دیا جاتا ہے وہ مرکزی ٹیکس سسٹم میں ان سے بطور صوبہ سلوک روا رکھے جانے کی وجہ سے ان کے ٹیکس شیئر کو بنیاد بنا کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہری پاکستان کے وفاقی اور صوبائی محکموں میں ملازمت کا حق استعمال نہیں کر سکتے، تاوقتیکہ وہاں کے مستقل سکونتی نہ ہوں۔تاہم مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان صوبوں اور وفاق پاکستان میں پاکستانی شہریت کی بنیاد پر ملازمت اور تعلیمی داخلے برابری کی بنیاد پر حاصل کر سکتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ وہاں کے سکونتی بھی ہیں اور ٹیکس بھی وہاں دیتے ہیں، جس کی وجہ سے آئین پاکستان کے مطابق شہری ہونے کی بناء پر یہ ان کا حق ہے۔
 
یوں باشندگی کی بنیاد پر مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں حق نمائندگی دینا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بجائے باشندگان درمیان امتیاز روا رکھنے کے مترادف ہے۔
 
’آزاد حکومت‘ میں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی شمولت
 
یہ بات درست ہے کہ پاکستانی زیرا نتظام جموں کشمیر کی حکومت، جسے ’آزاد حکومت‘ بھی کہا جاتا ہے، کے قیام کے وقت سے لے کر مختلف ادوار میں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے نمائندگان نہ صرف حکومتوں کا حصہ رہے، بلکہ سربراہان حکومت بھی رہے ہیں۔ تاہم ان کی اس شمولیت کو انصاف کے تقاضوں پر مبنی قرار دینے کے لیے محض یہی ایک شرط کافی نہیں کہ وہ اس حکومت کا مختلف ادوار میں حصہ رہے ہیں۔ ایک سوال البتہ یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا لمبا عرصہ اس حکومت کا حصہ رہنے کے باوجود یہ نمائندگان مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کو سیاسی طور پر کس حد تک اس خطے اور مقامی حکومت کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔ جواب یقینا نفی میں ہے۔
 
موجودہ آئینی ڈھانچہ اور بھارتی مقبوضہ علاقوں کی نمائندگی
 
موجودہ آئینی و سیاسی فریم ورک کے اندر بظاہر’اعلان آزادی‘ کے تحت قائم ہونے والی اس حکومت کا سیاسی و آئینی ڈھانچہ معاہدہ کراچی کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ معاہدہ کراچی کے مطابق حکومت پاکستان نے مہاجرین کی بحالی و آباد کاری کی ذمہ خود اٹھایا ہے۔مظفرآباد حکومت مقامی انتظامیہ اور مالیاتی انتظامات کی ذمہ دار ٹھہرائی گئی ہے۔اسی تسلسل میں مختلف قانونی اور آئینی ڈھانچوں کے ارتقائی پراسیس میں اب یہ آئینی ڈھانچہ عبوری آئین1974(ایکٹ74) کے تحت چل رہا ہے۔ ایکٹ 74میں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نشستوں کو آئینی تحفظ دیتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ 6نشستیں مظفرآباد، اننت ناگ اور بارہمولہ سے ہجرت کر کے پاکستان میں رہائش اختیار کرنے والے باشندوں کے لیے ہونگی، جبکہ 6نشستیں جموں، کٹھوعہ، ریاسی، ادھم پور، پونچھ ریاست اور میرپور سے ہجرت کر کے پاکستان میں آباد ہونے والوں، اور منگلا ڈیم کے متاثرین مقیم پاکستان کے لیے ہوں گی۔
 
یوں ان نشستوں کی تقسیم سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جموں کشمیر کے دیگر منقسم حصوں کی نمائندگی کے لیے نہیں ہیں، بلکہ محض ان لوگوں کی نمائندگی کے لیے ہیں، جو تقسیم کے وقت پاکستان میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ان میں سے بھی جموں کے 4اضلاع اور ریاست پونچھ کے دو اضلاع سے نقل مکانی کرنے والے تو مجبوری میں پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے، لیکن وادی کشمیر سے نقل مکانی کرنے والے بہتر مستقل کے انتخاب کے تحت پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے یہاں سے گزر کر پاکستان کے شہروں میں داخل ہوئے۔
 
اس کے ساتھ ساتھ اسی عبوری آئین میں ’آزاد جموں کشمیر‘ کی حدود ان علاقوں کو قرار دیا گیا ہے، جو 1947میں راجہ ہری سنگھ کے شخصی راج سے آزاد ہوئے تھے۔ یوں وہ افراد جو اس عبوری آئین کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، وہ اس آئین کے تحت قانون سازی کر نے کے اہل قرار دیے گئے ہیں، جو اسی آئین کی روح سے ہی متصادم ہے۔ یہ اقدام باشندگان ریاست کے درمیان امتیاز برتنے کے بھی مترادف ہے، کیونکہ جو ٹیکس نہیں دیتا وہ ملازمت، ترقی، تعلیم اور نمائندگی جیسے حقوق حاصل کر کے ٹیکس دہندگان کے حقوق متاثر کرنے کا باعث بنتا ہے۔
 
مسئلہ جموں کشمیر سے نشستوں کا تعلق
 
معاہدہ کراچی کی ہی روح سے موجودہ آئینی ڈھانچے میں مسئلہ کشمیر اور خارجہ امور حکومت پاکستان نے اپنے ذمے لے رکھے ہیں۔ یوں مقامی حکومت کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک ایڈوائزری کردار متعین تو کیا گیا ہے، لیکن وہ بھی حاصل نہیں ہے۔اس طرح مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کا مسئلہ جموں کشمیر سے تعلق تو کوئی ختم نہیں کر سکتا، لیکن مظفرآباد اسمبلی میں ان کی نشستوں کا مسئلہ جموں کشمیر اور سرکاری یا غیر سرکاری تحریک آزادی سے بھی کوئی تعلق نہیں بنتا۔
 
کیا ان نشستوں کا کردار سامراجی ہے؟
 
مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نشستوں اور ملازمتوں میں کوٹے کو اگر تاریخی تسلسل میں دیکھا جائے تو ان کا تعلق براہ راست سامراجی تسلط کو قائم رکھنے سے ہی رہا ہے۔ ابتدا میں متوازی بلکہ نگران حکومت کے طور پر چوہدری غلام عباس اور ان کے ساتھیوں کو اس حکومت پر ایک نوآبادیاتی کنٹرول قائم رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ بعد ازاں ان نشستوں اور ملازمتوں کو ایک تسلسل کے ساتھ لینٹ افسران اور وزارت امور کشمیر کی ایک ایکسٹینشن کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
 
براہ راست منتخب نمائندگان میں سے 26فیصد پہلے سے حکومت پاکستان کے کنٹرول میں اس لیے ہوتے ہیں کہ وہاں الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ہی نہیں، نہ الیکشن کمیشن وہاں انتخابات منعقد کروا سکتا ہے۔ پاکستان کے کئی قومی اسمبلی کے حلقوں کو ملا کر یہ ایک نشست بنتی ہے، کچھ نشستوں کے لیے انتخاب ایک سے زائد صوبوں میں کروایا جاتا ہے۔ اس لیے 26فیصد نشستوں کی ایڈوانس موجودگی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی پری پول دھاندلی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
 
اسی طرح ملازمتوں میں 19فیصد کوٹہ مقرر تھا، جو حکومت پاکستان کو براہ راست یہاں انتظامی معاملات میں لینٹ افسران کو سپورٹ مہیا کرنے سمیت خفیہ اداروں کے اثاثوں کے طور پر مہیا ہوتی ہیں۔ اب اس کوٹے کو ختم کر کے باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر اوپن میرٹ مقررکر دیا گیا ہے۔اس طرح ملازمتوں اور تعلیمی اداروں کے داخلوں میں پاکستان کے بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان19فیصد سے بھی زائد حصہ حاصل کرنے میں باآسانی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ حالیہ میڈیکل کالجوں اور جامعات کے داخلوں میں یہ صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔ اسی طرح باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کی نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے طلبہ کے داخلے نہیں ہو سکے ہیں۔
 
اسی تسلسل میں پھر جعلی سٹیٹ سبجیکٹ (باشندہ ریاست) سرٹیفکیٹ بنانے کا عمل بھی ہے، جس کے ذریعے ڈیموگرافی تبدیل کرنے کا عمل اور نوآبادیاتی تسلط کو مزید گہرا کرنے کا عمل بھی آگے بڑھایا جاتا ہے۔
 
کیا حکومت پاکستان نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں؟
 
مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی بحالی اور آبادکاری کی ذمہ داری تو حکومت پاکستان نے لی لیکن ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ انہیں مستقل الاٹمنٹس پہلے پہل نہیں دی گئیں، بھارت کی دیگر ریاستوں سے آئے مہاجرین اور جموں کشمیر کے مہاجرین کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیا گیا۔
 
بھارت سے آئے مہاجرین کو ان کی اپنے آبائی علاقوں میں موجود شہری اور دیہی املاک اور زمینوں کے برابر پاکستان میں الاٹمنٹس کی گئیں، یہاں تک کہ جعلی دستاویزات پر بھی الاٹمنٹس کی گئیں۔ تاہم جموں کشمیر کے مہاجرین کو فی کس 9کنال زمینیں الاٹ کی گئیں۔
 
اس وقت البتہ پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر میں 60کنال فی کنبہ کے حساب سے مہاجرین جموں کشمیر کو الاٹمنٹس کی جا رہی تھیں، تاہم جموں سے پنجاب میں داخل ہونے والے مہاجرین جموں کشمیر کی اکثریت پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر آکر الاٹمنٹس لینے میں مختلف وجوہات کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کی ایک وجہ دوران سفر لوٹ لیے جانے کا خطرہ تھی۔ راستوں سے ناواقف ہونا، اتنا سفر کرنے کے لیے مالی وسائل نہ ہونا، یا خاندانوں کو چھوڑ کر اتنی دور الاٹمنٹس کے لیے کئی دن کا سفر کرنے سے دیگر خطرات و خدشات بھی رکاوٹ بنے۔ اس کے علاوہ سب سے بڑی وجہ یہ امید تھی کہ جلد حالات بہتر ہو جائیں گے اور انہیں واپس اپنے آبائی علاقوں اور زمینوں پر جانے کی اجازت مل جائے گی۔ تاہم ایسا بوجوہ نہ ہو سکا، اور پاکستان میں یہ الاٹمنٹس مستقل ہوتے 50سال سے زائد کا عرصہ لگا۔
 
سیاسی نمائندے کیا کرتے رہے؟
 
اس دوران مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے نام پر چوہدری غلام عباس، میرواعظ یوسف شاہ، خورشید حسن خورشید،خان عبدالحمید سے لے کر آج ماجد خان اور جاوید بٹ تک بے شمار سیاسی رہنما پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومتوں میں اہم ذمے داریوں پر رہے۔ ایک وقت میں متوازی ہی نہیں بلکہ اس حکومت سے زائد اختیارات بھی چوہدری غلام عباس کو حاصل رہے۔ تاہم وہ پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کے مقامی حکمران اشرافیہ کے نمائندوں ہی کی طرح مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے حق کی بازیابی کی بجائے اپنے اقتدار کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ ساز باز میں ہی مصروف رہے۔ یہاں تک کہ جموں کشمیر کے حوالے سے اہم فیصلوں، یعنی سندھ طاس معاہدے، منگلا ڈیم کی تعمیر، شملہ اور تاشقند معاہدوں،کے دوران جموں کشمیرکے عوامی کی نمائندگی کرنے کی بجائے پاکستان کے ریاستی اور تذویراتی مفادات کی ہی نمائندگی کرتے رہے۔ حکومت بنانے اور گرانے کے لیے ایک اہم تعداد رکھنے کی وجہ سے اہم وزارتوں پر بھی یہی لوگ براجمان رہے۔ جنگلات، لائیو سٹاک، خوراک اور خزانہ جیسی وزارتوں پر رہتے ہوئے مقامی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کا موجب بھی یہی نمائندگان بنتے رہے ہیں۔
 
حل کیا ہے؟
 
یوں یہ مطالبہ بالکل قرین انصاف ہے کہ مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نشستیں اور ملازمتوں میں کوٹہ ختم ہونا چاہیے۔ کوٹہ سسٹم ختم ہونے کی صورت میں بھی سٹیٹ سبجیکٹ کے ساتھ ڈومیسائل یا سکونتی سرٹیفکیٹ کی شرط بھی عائد ہونی چاہیے۔ موجودہ ڈھانچے کے اندر اگر مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نمائندگی رکھنا انتہائی ناگزیر ہے تو سٹیٹ سبجیکٹ کی اجرائیگی جیسے مسائل کے حل کے لیے ایک مشیر کی تقرری، یا آئینی ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کونسل میں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے لیے نشستیں مقرر کی جاسکتی ہیں۔ اسی ترمیم میں کشمیر کونسل کے منتخب اراکین کو صدارتی انتخاب میں ووٹ کا حق دیا جا سکتا ہے، تاہم وزیراعظم کے انتخاب اور قانون سازی جیسے اختیارات دینا قرین انصاف نہیں ہے۔
 
مستقل حل یہی ہے کہ جموں کشمیر کے اس حصے کے لوگوں کو اس نوآبادیاتی ڈھانچے سے نجات دلائی جائے۔ آئین ساز اسمبلی کا حق تسلیم کیا جائے۔معاہدہ کراچی سمیت پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو وضح کرنے والے تمام معاہدے، نوٹیفکیشن اور سرکلرز منسوخ کیے جائیں۔لینٹ افسران واپس بلائے جائیں، کشمیر کونسل ختم کی جائے، وزارت امور کشمیر ختم کی جائے اور نئی منتخب ہونے والی آئین ساز اسمبلی کو یہ حق دیا جائے کہ وہ مسئلہ جموں کشمیر کے مستقل حل سے قبل حکومت پاکستان کے ساتھ معاشی اور سیاسی تعلقات کے حوالے سے آزادانہ اور برابری کی بنیادوں پر حکومت پاکستان سے معاملات طے کر سکے۔
 
وہی آئین ساز اسمبلی ہی مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان اور جموں کشمیر کے دیگر حصوں کے سیاسی نمائندوں اور عوام سے تعلقات استوار کرنے کے حوالے سے بھی آزادانہ طور پر حکمت عملی بنا سکتی ہے، اور جموں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو بھی نوآبادیاتی پراکسی کی بجائے خودانحصاری کی بنیاد پر استوار کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔
 
حتمی طور پر جموں کشمیر کی مکمل آزادی، خودمختاری اور تمام علاقائی وسیاسی شناختوں کی آزادانہ رائے کی بنیاد پر ایک سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کے ذریعے ہی جموں کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں