کویتا کرشنن
(کویتا کرشنن بھارت کی ممتاز ترین مارکس وادی فیمن اسٹ اور کارکن ہیں۔ ان کا مندرجہ ذیل مضمون بھارت کی ایک معروف ویب سائٹ پر شائع ہوا مگر اس کی گونج عالمی سطح پر سنائی دے رہی ہے۔ اس اہم مضمون کا ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے: مدیران)
”میں نے ہر قسم کے لوگوں سے ملاقات کی ہے، جن میں بڑے جنگی مجرم بھی شامل ہیں۔ مجھے ان میں سے کسی سے ملنے پر کوئی افسوس نہیں۔“
یہ 2023 میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ممتاز عوامی دانشور نوم چومسکی کا جارحانہ ردعمل تھا، جب ان سے جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا۔
اس کے بعد ایپسٹین کی ای میلز منظر عام پر آئیں، جن سے چامسکی اور ان کی اہلیہ کے ساتھ ایپسٹین کی قریبی دوستی کا انکشاف ہوا۔
خاص طور پر ایک تعریفی تحریر قابل توجہ ہے (جس پر تاریخ درج نہیں، مگر یہ 2017 یا اس کے بعد لکھی گئی)، جو چامسکی نے ایپسٹین کے لیے لکھی۔ اس میں وہ ایپسٹین کے ساتھ اپنی 6 سالہ دوستی کو ایک ”قابل قدر“ اور”باعث مسرت“ تجربہ قرار دیتے ہیں، جس کی وجہ ایپسٹین کی فکری وسعت اور بصیرت بتائی گئی ہے۔
چامسکی لکھتے ہیں کہ”جیفری یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ فوراًاور موقع پر ہی سائنس اور ریاضی کے نمایاں ترین ماہرین، اور عالمی سیاست کی اہم شخصیات کے ساتھ نہایت نتیجہ خیز ملاقاتوں کا انتظام کر دیں،ایسے لوگ جن کے کام اور سرگرمیوں کا میں مطالعہ کر چکا تھا، مگر جن سے ملنے کی مجھے کبھی توقع نہیں تھی۔“
بدنامِ زمانہ بی بی سی نیوزنائٹ انٹرویو میں اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سے پوچھا گیا کہ یہ جاننے کے بعد کہ ایپسٹین ایک پیڈوفائل ہیں اور جنسی درندگی میں ملوث ہیں، وہ اپنی ان سے دوستی کے بارے میں کسی ”احساس جرم، ندامت یا شرمندگی“ کا شکار ہیں؟
شہزادہ اینڈریونے جواب دیا:”نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں سے میں ملا اور جو مواقع مجھے یا تو ان کے ذریعے یا ان کی وجہ سے سیکھنے کو ملے، وہ درحقیقت بہت مفید تھے۔۔۔(ان کے) کچھ نہایت فائدہ مند نتائج نکلے، جو ان جرائم سے بالکل الگ شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔“
چامسکی اور اینڈریو دونوں یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں ایپسٹین کا دوست ہونے پر کوئی پچھتاوا نہیں، کیونکہ اس دوستی کے ذریعے وہ مفید اور اہم لوگوں سے مل سکے۔شہزادہ اینڈریو پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ایک کم عمر لڑکی کی عصمت دری کی، جسے گسلین میکسویل اور ایپسٹین نے ٹریفک کیا تھا۔
میں یہاں اس بات پر زور دینا چاہتی ہوں کہ ایپسٹین کو جاننا یا ان سے ملنا کسی بھی طور پر اس بات کا ثبوت نہیں کہ چامسکی لڑکیوں اور عورتوں کے خلاف ان کے جرائم میں شریک تھے۔ میں نہ تو”تعلق کی بنیاد پر جرم“کا الزام لگا رہی ہوں اور نہ ہی چامسکی کو نشانہ بنانے کے لیے کسی کمزوری کی بنیاد پر انہیں پھنسانے میں دلچسپی رکھتی ہوں۔
تاہم میرے لیے اصل سوال یہ ہے کہ چامسکی کا ایپسٹین کے ساتھ تعلق ہمیں اس بارے میں کیا بتاتا ہے کہ کیاجنسی تشدد کا شکار ہونے والوں (survivors) کی اہمیت ہماری سیاست میں واقعی موجود ہے،بالخصوص بائیں بازو اور ترقی پسند سیاست میں؟
2005 میں حکام نے 36 نابالغ لڑکیوں، جن میں سے ایک 14 سال سے کم عمر تھی، کے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات شروع کی تھیں کہ جیفری ایپسٹین نے ان پر جنسی مساج کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اور انہیں دوسرے مردوں کے پاس ٹریفک کیا تھا۔ انہوں نے لڑکیوں کے الزامات کے حق میں بہت سارے ثبوتوں کا پتہ لگایا، اور بالآخر 2008 میں ایک مسودہ فرد جرم میں ایپسٹین پر وفاقی قانون کے تحت 60 جرائم کا الزام لگایا گیا، جو انہیں عمر قید کی سزا سنانے کے لیے کافی تھا۔
تاہم ایپسٹین کے خلاف،بدنام زمانہ طور، محض ایک ریپ کیس کا الزام لگا۔اس سے بھی ان کی جان چھوٹ گئی۔ ایک پلی بارگین سودے بازی میں ایپسٹین نے ایک نابالغ لڑکی کو جسم فروشی کے لیے طلب کرنے کے ایک معمولی الزام کا اعتراف کیا اور 13 مہینے کھلی جیل میں گزارے،جہاں وہ دن میں آزاد رہتے اور رات کو جیل واپس آجاتے۔مین اسٹریم میڈیا میں اس سب پر بڑے پیمانے پر بحث اور تنقید کی گئی۔
2023 میں چامسکی نے بتایا کہ نابالغ لڑکیوں کے خلاف جنسی جرائم کی سزا کے باوجود انہوں نے اور ان کی بیوی نے ایپسٹین سے دوستی کیوں کی۔ انکا کہنا تھا کہ ”جیفری ایپسٹین کے بارے میں جو کچھ معلوم تھا وہ یہ تھا کہ وہ ایک جرم کے مرتکب ہوئے تھے اور وہ اپنی سزا کاٹ چکے تھے۔موجودہ امریکی قوانین اور اصولوں کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ وہ اب ایک صاف انسان تھے۔“
آئیے چامسکی کے اس بیان کا تھوڑاکھل کر جائزہ لیتے ہیں۔
چامسکی ایک بائیں بازو کے قہر مان ہیں،جن کی تحریروں نے کئی نسلوں کو طاقت(پاور) کی نوعیت، طاقتور کے لیے استثنیٰ، اور اس پروپیگنڈے سے متعارف کرایا جو نظام میں موجود عدم مساوات، تشدد اور استثنیٰ کے لیے رضامندی پیدا کرتا ہے۔ اگر محنت کش طبقے کے بچوں نے ایک غلیظ امیر سی ای او کی طرف سے زہریلے اور خطرناک کام کرنے کے لیے اسمگل کیے جانے کی شکایت کی ہوتی اور سی ای او ریپ کر کے معمولی سزا کے ساتھ اپنا دامن بچا لیتاہے تو کیا چامسکی یہ دلیل پیش کرتے کہ اب وہ صاف ستھرا ہے؟
تاہم جب محنت کش طبقے کے بچے اور بالخصوص لڑکیاں زیر بحث ہوتی ہیں، انہیں فیکٹری میں مزدوری کے لیے نہیں بلکہ جنسی کام کے لیے اسمگل کیا جاتا ہے اور غلام بنایا جاتا ہے تو قوانین مختلف نظر آتے ہیں۔ چامسکی کی سیاسی دنیا میں جنسی شکار سے بچ جانے والے یہ انفرادی لوگ پوشیدہ ہیں۔
چامسکی کی تعریف میں کلیدی اصطلاح ”موجود اصول“ہے۔ اشارہ یہ ہے کہ می ٹو(MeToo)تحریک نے مروجہ اصولوں کو بدل دیا ہے اور چامسکی کی ایپسٹین کے ساتھ دوستی کو نئے حقوق نسواں کے اصولوں سے پرکھا نہیں جانا چاہیے، لیکن یہ غلط ہے۔
یہاں تک کہ پولیس حکام نے بھی عوامی طور پر ایپسٹین کی پلی بارگین کو انصاف کے مروجہ معیارات کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔ایسا ہی”مین اسٹریم“ میڈیا میں زیادہ تر تبصرہ نگاروں نے بھی کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ چامسکی پلی بارگین کے اصولوں کو قبول کرنے میں خوش کیوں تھے،جو کسی بھی معیار کے لحاظ سے شرمناک حد تک گر گئے تھے؟
2008 میں قصوروار ہونے کا اعتراف کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایپسٹین نے ایک چونکا دینے والی تشبیہ استعمال کی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعمال اور ”رائج قوانین اور سماجی اصولوں“کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔ایپسٹین نے ”اپنی مثال اس گلیور سے دی جو چھوٹے چھوٹے لوگوں کے دیس للی پٹ میں کشتی کے حادثے کا شکار ہو گیا ہو“، اور کہا کہ”گلیورکی شوخی کے بھی ناپسندیدہ نتائج نکلے۔ دولت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کے فائدے تو ہوتے ہیں مگر ساتھ ہی کچھ غیر متوقع بوجھ بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔“
یہاں ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایپسٹین کو بھیجی گئی اپنی ای میل میں اینڈریو نے اختتام ان الفاظ پر کیا تھاکہ ”بعد میں مزید کھیلیں گے۔“ایپسٹین اور ان کے حلقے میں بچوں کے خلاف جنسی درندگی کو ”کھیل“ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ایپسٹین خود کو ایک خاص اور برتر انسان سمجھتے تھے،ایسا شخص جسے دولت کی بدولت یہ حق حاصل ہے کہ وہ کم حیثیت، بے اختیار اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ”کھیل“سکے۔ ان کے نزدیک رائج قوانین اور اصول بھی انہی چھوٹے، تنگ نظر لوگوں نے بنائے تھے جو اپنی حیثیت سے کہیں اوپر موجود لوگوں کی ثقافت اور طرززندگی کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ایک عوامی دانشور کے طور پر چامسکی کو عموماً ”چھوٹے لوگوں“کا دفاع کرنے والا انسان سمجھا جاتا تھا۔ حقیقت مگریہ ہے کہ انہوں نے ایپسٹین سے دوستی کی، ان کی ضمانت دی،اور آج تک ان ”ننھے“ متاثرین کے حق میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
یہ بات بھی معنی خیز ہے کہ چامسکی نے ایپسٹین کی اس صلاحیت کی تعریف کی کہ وہ فون اٹھاتے ہی دنیا کے بڑے اور طاقتور لوگوں سے فوراً رابطہ قائم کر لیتے تھے۔ کیا چامسکی نے واقعی یہ نہیں سوچا کہ یہ صلاحیت، یہ تعلقات، ان کو ملنے والی ہلکی سزاسے کسی نہ کسی طرح جڑے ہو سکتے ہیں؟
پھر سوال یہ بھی ہے کہ چامسکی نے ایپسٹین کے حق میں وہ تعریفی تحریر آخر کیوں لکھی، جس کا آغاز ہی ”ٹو ہو م سو ایور اِٹ مے کنسرن“(To Whomsoever It May Concern) سے ہوتا ہے؟
ہمیں معلوم ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کے جرم میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد ایپسٹین نے اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے ایک بڑی پی آر مہم شروع کی تھی۔ اس مہم کا حصہ یونیورسٹیوں کو عطیات دینا اور دانشوروں و سائنس دانوں سے ملاقاتیں کرنا بھی تھا۔یہ سب کچھ داغدار شبیہ کو نکھارنے میں مددگار ثابت ہوا۔ کیا چامسکی نے یہ تعریفی تحریر ایپسٹین کی درخواست پر لکھی،یعنی اس پی آر مہم میں اپنا حصہ ڈالا؟
چامسکی نے یہ تحریر ایک عوامی شخصیت کے طور پر لکھی تھی۔اب وہ عوام کے سامنے اس بات کی وضاحت کے اخلاقی طور پر پابند ہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔
مسئلہ یہ ہے کہ چامسکی کوکوئی استثناء نہیں ہے۔ یہاں بھارت میں، میں نے ابھی محمود فاروقی کی ایک اسٹیج پرفارمنس ”داستانِ ریت سمادھی“ کی خوب تعریفیں پڑھیں، جو ہندی ناول ریت سمادھی کی ترتیب ہے (جس کے مصنفہ اور مترجمہ دونوں خواتین کو بوکر پرائز ملا ہے)۔ فاروقی کو ایک بار زیادتی کے الزام میں سزا ہوئی تھی لیکن بعد میں اعلیٰ عدالت نے اس سزا کو کالعدم قرار دے دیا۔
جس جج نے انہیں بری کیا، اس نے ٹرائل کورٹ کی اس تشخیص کو قبول کیا کہ متاثرہ خاتون کی بات قابل اعتماد ہے اور اس نے واقعی”ناں“کہا تھا۔”رائج“قانون کے حرف اور روح کے مطابق تو یہ کھلا اور واضح کیس ہے کہ یہ زیادتی ہے۔ جج نے مگرموجودہ قوانین اور اصولوں کی نفی کرتے ہوئے ایک نیا قانونی تصور وضع کیا، تاکہ ملزم کو بری کیا جا سکے۔ جج نے فیصلہ دیا کہ ایک”کمزور سی ناں“(feeble no) دراصل ہاں بھی ہو سکتی ہے۔
یہ جملہ ”کمزور سی ناں“ خود ایک یاد دہانی ہے کہ متاثرہ خاتون نے واقعی ”ناں“ کہا تھا، جو ثابت کرتا ہے کہ اس کی مرضی کے خلاف جنسی زیادتی ہوئی تھی۔ میں ترقی پسند دوستوں کو یہ کہتے سنتی ہوں کہ”وہ بری ہو چکا ہے، اس لیے وہ بے قصور ہے، تو ہم اسے کیوں نہ موقع دیں، ہم اسے ہمیشہ کے لیے سزا نہیں دے سکتے۔“
میں ان سب کو یہی کہتی ہوں کہ آپ فاروقی کو موقع دینے اور ان کی تعریف کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ جس اسٹیج اور پیج پر مگرآپ ایسا کرتے ہیں، آپ ایک بہت واضح پیغام دے اور اس کی تشہیر کر رہے ہوتے ہیں کہ ”کمزور سی ناں“ بھی ہاں کے برابر ہے۔ چامسکی کی طرح آپ بھی عدالتی اصولوں کی سب سے بھیانک اور مضحکہ خیز توہین کو اپنا کر خوش ہیں۔
”کمزور سی ناں“قرار دینے والے جج نے ایک تعلیم یافتہ عورت کے انکار کو زیادہ کڑے معیار پر پرکھا۔ گویا یہ عورت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی”ناں“اس قدر سخت اور واضح انداز میں کہے کہ مرد اسے سمجھ سکے۔ اسی جج نے مگرمرد کے لیے نہایت نرم معیار اپنایا۔ زبان، ادب، پرفارمنگ آرٹس اور سنیما پر عبور رکھنے کے باوجود اس مرد سے یہ توقع نہیں کی گئی کہ وہ یہ سمجھ سکے کہ ”ناں“دراصل”ناں“ہی ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی توقع نہیں کی گئی کہ اگر اسے کوئی شبہ ہو تو وہ اپنے الفاظ استعمال کرے اور عورت سے پوچھے کہ تم نے”ناں“کہا ہے، کیا تم چاہتی ہو کہ میں رک جاؤں؟
چامسکی،ایپسٹین اور ان کے ساتھ عشائیے میں شریک”عظیم فنکار“ووڈی ایلن (جن پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے اپنی کم سن بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کی) سے مرعوب تھے۔ بھارت کے ادبی اور ثقافتی ترقی پسند بھی اس شخص کی فنکاری سے مرعوب ہیں جس کے لیے”کمزورسی ناں“ایک پردہئ شرم بن گیا۔
اگر آپ کسی مرد کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات کو اس کی عقل، اس کے فن اور اس کے خیالات کے سیاسی تجزیے میں غیر متعلق سمجھتے ہیں، تو آپ ترقی پسند نہیں بلکہ بالکل رجعتی ہیں۔ سماجی اور اخلاقی معیارات آگے بڑھ چکے ہیں۔اب بہتر ہے کہ آپ بھی اس تبدیلی کے ساتھ قدم ملائیں، ورنہ پیچھے رہ جائیں گے۔
(ترجمہ: حارث قدیر، فاروق سلہریا)
