روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ: گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں 71 لاکھ افراد خطرے میں

گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ: گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں 71 لاکھ افراد خطرے میں

لاہور(جدوجہد رپورٹ)پاکستان کے محکمہ موسمیات نے شمالی علاقہ جات کے لیے فروری تا اپریل کی موسمی صورتحال کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں درجہ حرارت معمول سے مسلسل زیادہ رہنے کے باعث گلشیائی جھیل پھٹنے کابہت زیادہ خدشہ موجود ہے۔

’ڈان‘ کے مطابق برفانی جھیلوں سے پانی اور ملبے کے اچانک اخراج کا یہ عمل پہاڑی علاقوں میں آباد کمیونٹیز کی جان و مال اور معاش کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 71 لاکھ سے زائد افراد اس خطرے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

محکمہ موسمیات کی تازہ آؤٹ لک میں بتایا گیا کہ بارشوں میں کمی اورمسلسل صاف موسم کے باعث یکم فروری سے 22 فروری تک پاکستانی زیر انتظام گلگت بلتستان اور جموں کشمیرکے درجہ حرارت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ کے مطابق دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 3 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ معمول سے زیادہ رہا، جبکہ رات کے وقت کم سے کم درجہ حرارت 1 سے 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ 1981تا2010 کی اوسط سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔سب سے زیادہ درجہ حرارت میں اضافہ گلگت اور بونجی میں دیکھا گیا

محکمہ موسمیات نے کہا کہ”چلاس اور بونجی میں کم سے کم درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے رات کے وقت دوبارہ برف جمنا کم ہو گیا ہے۔“

رپورٹ کے مطابق معمول سے زیادہ درجہ حرارت برف اور گلیشیئر پگھلنے کی رفتار کو تیز کر رہے ہیں، خصوصاً درمیانے اور نچلے پہاڑی علاقوں میں۔رات کے وقت کم ٹھنڈک بھی پگھلے ہوئے پانی کے بہاؤ میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے یہ پانی گلشیائی جھیلوں میں جمع ہو رہا ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ تیز برف پگھلنے کی یہ صورتحال مورین اور گلیشیئر سے بند جھیلوں میں پانی کے جمع ہونے میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے نشیبی وادیوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے فلیش فلڈ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

اگر یہ گرمی برقرار رہی توگلگت، غذر، ہنزہ، بونجی، چلاس اور استور جیسے حساس علاقوں میں برف پگھلنے اور ممکنہ گلوف کے واقعات کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں 13ہزار32 سے زائد گلیشیئر موجود ہیں، جو قطبی علاقوں کے بعد دنیا کا سب سے بڑا برفانی ذخیرہ ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق چترال اور گلگت بلتستان کے تقریباً 10ہزار گلیشیئر موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے تیزی سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں