اداریہ جدوجہد
بلوچستان میں عسکری کارروائیوں کے بعد ایک بار پھر تنازعے کی وجوہات کو جاننے کی کوشش کرنے کی بجائے فوجی حل نکالنے کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔ عسکریت کا راستہ روکنے کے نام پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت ہر طرح کی اختلافی آوازوں، سیاسی اور جمہوری آزادیوں پر پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پر امن سیاسی آوازوں کو دبانے کے لیے ان عسکری حملوں کو ایک جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ سیاسی قیادت کی بجائے عسکری قیادت جنگی نقطہ نظر سے اس مسئلے کو حل کرنے کی ضد پر قائم و دائم ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بلوچستان میں نوآبادیاتی جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو کچلنے کے لیے جنگی حکمت عملی کا سہارالیا جا رہا ہے، بلکہ پاکستان کے قیام سے اب تک جب بھی بلوچستان میں قومی اور معاشی محرومیوں کے خلاف آواز اٹھی ہے اسے بندوق کے زورپر دبانے کی کوشش ہی کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تنازع حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہی ہوتا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو اپنے دیگر 36سے زائد ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ ان گرفتاریوں کے خلاف بلوچستان میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے ساتھ احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی گزشتہ جمعرات سے لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی دھرنا دیے ہوئے تھے۔ اس دھرنے کو پہلے پولیس نے بزور طاقت اکھاڑنے کی کوشش کی اور اس دوران احتجاج میں شامل 3افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ لاشوں سمیت دھرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تو پولیس نے ایک بار پھر حملہ کر کے دھرنے کے شرکاء کو لاشوں سمیت گرفتار کر لیا۔
بعد ازاں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق پولیس نے ایم پی او کے تحت گرفتار کیے گئے ماہ رنگ بلوچ اور ساتھیوں کے خلاف ان تین افراد کے قتل کا مقدمہ بھی درج کر لیا، جو دھرنے پر پولیس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ تینوں افراد مظاہرین پر ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران پولیس کی براہ راست فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک اور زخمی ہوئے۔ درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق یہ ہلاکتیں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ’بلوائیوں‘ کی فائرنگ کی وجہ سے ہوئیں۔
ریاست کی جانب سے ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ جعفر ایکسپریس حملے میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی لاشیں حوالے نہ کرنے اور کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور ریاست مخالف نعرے لگا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ماہ رنگ بلوچ سمیت ڈیڑھ سو افراد کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس مقدمے کہ مطابق سول ہسپتال کے مردہ خانے سے 5مبینہ عسکریت پسندوں کی لاشوں کو زبردستی لے جایا گیااور توڑ پھوڑ کی گئی۔
ماہ رنگ بلوچ کو وکلاء سے ملنے کا حق بھی نہیں دیا جارہا اور انہیں مختلف تھانوں میں گرفتار رکھنے کے بعد جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان میں ’بی بی سی اردو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 13ایسی قبریں سامنے آئی ہیں، جن کے بارے میں بلوچستان کی صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان میں ان عسکریت پسندوں کی تدفین کی گئی ہے جو جعفر ایکسپریس حملے کے دوران مارے گئے۔ تاہم ان کی شناخت سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ عسکری ادارے کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں 33عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم 5لاشیں سول ہسپتال کے مردہ خانے میں تھیں، جن کو زبردستی لے جانے کا مظاہرین پر الزام ہے، جبکہ 13نامعلوم افراد کی لاشیں رات کی تاریکی میں دفن کر دی گئی ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا موقف ہے کہ اگر یہ مارے گئے عسکریت پسندوں کی لاشیں تھیں تو پھر انہیں میڈیا کی موجودگی میں تدفین کے مرحلے سے گزارنا چاہیے تھا۔ رات کی تاریکی میں تدفین سے یہ بات صاف ہو رہی ہے کہ یہ ان لاپتہ افراد کی لاشیں ہیں، جنہیں دوران حراست تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف ایک منظم مہم بھی سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر چلائی جا رہی ہے، جس میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اورماہ رنگ بلوچ بی ایل اے کی عسکری کارروائیوں کی حمایت میں یہ سب کر رہی ہیں۔ ماہ رنگ بلوچ کے خلاف ایک اخلاق باختہ مہم بھی مسلسل چلائی جا رہی ہے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی اور اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو عدالتوں میں ان کا ٹرائل کرنے کے مطالبے کی حمایت کی بجائے یہ ریاستی پروپیگنڈہ بھرپور طریقے سے چلایاجارہا ہے کہ کوئی شخص لاپتہ نہیں ہے،جو لوگ بی ایل اے یا دیگر عسکری تنظیموں کے ساتھ جڑ چکے ہیں، انہیں لاپتہ قرار دے کر مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ پروپیگنڈہ کرتے ہوئے ان مسخ شدہ لاشوں کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچ خاندانوں کا مقدر بن چکی ہیں۔
بلوچستان میں ایف آئی اے کے ذریعے کریک ڈاؤن کو بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ روایتی میڈیا پر بلوچستان سے متعلق خبریں صرف آئی ایس پی آر کی منظوری سے ہی نشر ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والے حقائق کو دبانے کے لیے کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں ریاست کی کارروائیوں سے کسی بھی سطح کی ویڈیو یا تحریری پوسٹ کرنے والوں کو بی ایل اے کا حمایتی قرار دے کر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
عسکری کارروائیوں میں دونوں اطراف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں ہوتی ہیں اوروار پروپیگنڈے کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ایک سیاسی مسئلے کے عسکری سرگرمیوں تک پہنچنے کے حالات، تضادات اور ذمہ داران کا تعین کیے بغیر عسکری سرگرمیوں کے نتائج پر بحث کرنا اور ان کی بنیاد پر رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کرنا درحقیقت ان حالات کے ذمہ داروں کی حمایت سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
بلوچستان وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور یہی وسائل بلوچستان میں بسنے والے عوام کی زندگیوں کو ان تلخ حالات میں پہنچانے کی بھی وجہ ہیں۔ آج بلوچستان میں کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کیا بات کرے گا تو کس گولی کا شکار ہو گا۔ جہاں بلوچستان پر قومی اور معاشی جبر کے خلاف سیاسی اور عسکری بغاوت موجود ہے، وہیں بلوچستان میں مختلف سامراجی ملکوں کے درمیان پراکسی وار بھی موجود ہے۔
ریاست کی جانب سے مذہبی عسکریت پسندی اور ڈیتھ سکواڈز کی پشت پناہی اگر موجود ہے، تو وہیں سعودی عرب، یو اے ای اور ایران کے مابین ایک لڑائی بھی موجود ہے۔ اسی طرح امریکہ اور بھارت کی چین کے منصوبوں کے خلاف ایک بھرپور مداخلت بھی موجود ہے۔ یہ ساری سامراجی لڑائی بلوچستان کے وسائل اور تذویراتی اہمیت کی بنیاد پر لڑی جا رہی ہے۔ تاہم اس کا شکار براہ راست بلوچ عوام ہو رہے ہیں۔
پرامن سیاسی آوازوں کو دبانے،جبری طور پر لاپتہ کر کے مسخ شدہ لاشیں لوٹانے کے عمل کے خلاف ایک نفرت اور حقارت موجود ہے۔ نوجوان ایک ایسی زندگی کا شکار ہیں، جہاں انہیں اگلے لمحے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ جبری طورپر اٹھایا جا سکتا ہے، ان کی آنکھیں، دانت اور ناخن نکال کر، ان کے جسموں پر ڈرل مشین سے سوراخ کر کے انہیں اذیت ناک اور دردناک موت کا شکار بنایا جا سکتا ہے۔ ڈیتھ سکواڈ کی گولی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے، یا پھر کسی خود کش حملے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ جس گھر میں ایسی مثالیں باپ، بھائی یا خاندان کے کسی اور فرد کی موجود ہوں، اس گھر کا نوجوان اس ظلم کے خلاف کیسے ردعمل دے گا، اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔
بلوچ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اب عسکریت کی جانب راغب ہو رہی ہے۔ انہیں یہ بے موت مرنے کی بجائے آزادی کے لیے لڑتے ہوئے مرنے جیسا مقدر اپنانا اپنے لیے بہتر لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں سرداروں کے زیر سایہ چلنے والی عسکری تحریک کی قیادت اب درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے عام بلوچ نوجوان کر رہے ہیں۔ پڑھے لکھے بلوچ نوجوان مرد و خواتین اپنے آپ کو خودکش بمبار کے طور پر رجسٹرڈ کروا رہے ہیں۔ ریاست کی جانب سے مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کی بجائے اس کا فوجی حل نکالنے کی کوشش مزید نوجوانوں کو انہی راہوں کا راہی بناتی چلی جا رہی ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ آج کے عہد میں قومی آزادی کی جدوجہد کو ابتدائی مراحل میں عسکری محاذ کے ذریعے منظم کرنے کے بھیانک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔گوریلا کارروائیوں میں عام لوگ مارے جاتے ہیں۔وار پروپیگنڈے میں برتری سمیت ریاست کو بڑے پیمانے پر قتل عام کرنے، قوموں کے درمیان نفرت کو بھڑکانے اور عسکری کارروائیوں کو دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے بڑے آپریشن کرنے جیسے مواقع میسر آتے ہیں۔ ریاست کے یہ اقدامات جہاں محکوم قوم کے اندر نوآبادیاتی جبر کے خلاف نفرت کو تیز کرتے ہیں، وہاں بڑے پیمانے پر تباہ کن ثابت ہوتے ہیں اور یہ جدوجہد آگے بڑھنے کی بجائے مزید کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دی جاتی ہے۔ یہ صورتحال کسی حد تک بلوچستان میں حالیہ واقعات کے بعد نظر بھی آرہی ہے۔ تاہم محکوم کے آزادی کے لیے جدوجہد کے طریقہ کار کے انتخاب کو اس کی آزادی کی حمایت یا مخالفت کے جواز کے طو رپر نہیں لیا جا سکتا۔
ماضی میں بلوچستان کی قومی آزادی کی جدوجہدمیں انقلابی مارکسزم کے نظریات کا ایک حاوی اثر موجود تھا۔ تاہم بتدریج قوم پرستانہ نظریات غالب آتے گئے۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کی دیگر قوموں اور بالخصوص پنجاب سے بلوچستان پر ہونے والے مظالم کے ساتھ یکجہتی کے فقدان کا غالب عنصر ہے۔ آج بھی ریاستی ایماء پر پنجابی قوم پرستی، وفاقیت پرستی اور پاکستانی شاؤنزم کے استعمال کے ذریعے بلوچ عوام کے خلاف نفرت انگیز مہم بھرپور طریقے سے چلائی جا رہی ہے۔ ماضی ہی کی طرح آج بھی بائیں بازو کے چند وفاقیت پرست، معیشت پرست اور موقع پرست عناصر بلوچستان کے مسئلے پر براہ راست یا بالواسطہ طور پر ریاست کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔
آج ایک بار پھر وقت یہ موقع فراہم کر رہا ہے کہ بلوچستان پر نوآبادیاتی قبضے کی مخالفت کی جائے اور بلوچ عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے۔ ریاستی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا جائے اور بلوچ نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ ریاستوں کے نوآبادیاتی کردار کو محکوم قوموں سے زیادہ حاکم قوموں کے محنت کشوں کے منظم رد عمل کی بنیاد پر چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان میں نوجوانوں اور محنت کشوں کا قومی آزادی کی جدوجہد کو انقلابی مارکسزم کے نظریات کی بنیاد پر طبقاتی بنیادوں پر منظم کرنے کے لیے آگے بڑھنا ناگزیر ہے، تاہم اس عمل میں دیگر قوموں اور بالخصوص پنجاب سے محنت کش طبقے کی ہر اول پرتوں اور قیادتوں کا یکجہتی کے لیے آگے بڑھنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ محنت کشوں کا اتحاد اور سامراجیت پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ہی قوموں کی آزادی کی ضمانت کے ساتھ ایک رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کا ضامن بن سکتا ہے۔