قمرالزماں خاں
15 مئی 2026ء کو بھارتی عدالت عظمیٰ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران وہاں کے چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ ”بعض بے روزگار نوجوان کاکروچ کے مانند ہیں اور معاشرے کے طفیلی ہیں۔“ یہ توہین آمیز ریمارکس سماجی ناہمواری اور طبقاتی معیشت کی غارت گری سے ناآشنائی کا نمونہ تھے یا پھر دنیا بھر میں 86 ویں نمبر کی عدلیہ کے جج کا حقائق سے چشم پوشی کا اعتراف تھا۔ بے روزگاری اور غربت کے سمندر میں ڈوبا بھارتی سماج اسی منڈی کی معیشت کا خام مال ہے جس کے توسط سے امیر اورغریب کے فاصلے پاتال سے کوہ ہمالیہ کی چوٹی پر پہنچ چکے ہیں۔
دولت کی چکاچوند اور وسائل کی فراوانی کے حصار میں بے روزگار جوانیاں ہر لمحہ سلگ سلگ کر راکھ بنتی جاتی ہیں۔ اس کیفیت میں نوجوانوں کو دلاسہ دینے، ان کے مستقبل کے لیے روشن راہ نکالنے کی بجائے ان کو کاکروچ اور طفیلی قرار دینا افسوس ناک بھی ہے اور ردعمل کو شدت سے ابھارنے والا بھی۔
ان ریمارکس کے اگلے روز 26 مئی 2026ء کو ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع پر کاکروچ جنتا پارٹی نام سے اکاونٹ بنایا۔ تفریحاً اس نام سے پارٹی کے قیام کا اعلان بھی کر دیا، اور اسے تمام کاکروچوں (بے روزگار نوجوانوں)کا پلیٹ فارم قرار دیا۔ پھر ویب سائٹ بھی بن گئی، چند روز میں ہی اس ظالمانہ نظام اور اس کے اداروں کی حقارت کا شکارکروڑوں لوگ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے اس تحریک نما ”ردعمل“ سے جڑ گئے۔
اتنے مختصر عرصے میں اتنی زیادہ وابستگی کو ایک ریکارڈ مانا جا رہا ہے۔ یہ تعداد بھارت کی روایتی حکمران پارٹیوں کے سوشل پلیٹ فارمزسے وابستہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ اجتماعی سماجی ردعمل ہمیشہ ایک لمبے عرصے کی بے چینی اور اضطراب کا اظہار ہوتا ہے، جو راستہ پاتے ہی اذہان سے نمودار ہوجاتا ہے۔ چونکہ نئی بننے جارہی پارٹی صرف اضطرابی ردعمل کا اظہار ہے، اس لیے اس کے مقاصد اور منشور کے نکات بھی غیر سنجیدہ اور صرف جوابی حقارت پر مبنی ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ بھارت کے نوجوانوں کو عدالت کے جج کے ریمارکس کو دھتکار کر خود اپنی تحریک اور پارٹی کوانسانی عظمت اور محنت کش طبقے کی جدوجہد کے ساتھ منسوب کرنا چاہیے، نہ کہ حکمران طبقے کی گالی کو اپنا نام بنا کراپنانا چاہیے۔ حقیت یہ ہے کہ کاکروچ تو حکمران طبقہ ہے، نہ کہ محنت کش طبقہ اور نوجوان۔ ضرورت ہے کہ نوجوانوں کی طاقت اور عزم کو بامقصد منزل کی جانب رواں دواں کیا جاسکے۔ 2012ء میں اسی قسم کی ایک پارٹی عام آدمی کے نام سے بن چکی ہے۔ جس نے ابتداء میں صرف نعرہ بازی کی بنیاد پراسمبلی کی ڈھائی درجن سے زائد نشستیں بھی حاصل کر لی تھیں۔
معاشی زبوں حالی، سیاسی پابندیوں اور زوال پذیر سرمایہ داری نظام کی ناکام حاکمیتوں کے خلاف ”اضطرابی ردعمل“ نے سری لنکا میں تاج اچھلتے دیکھے۔ وزراء کو ننگ دھڑنگ نہروں اور کھائیوں میں گھسیٹا گیا اور اقتدار کے ایوانوں کو آگ لگا دی گئی۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی جمہوری آمریت کے خلاف عوامی نفرت نے اس”خاتون آھن“ کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے لیے جان کی قربانی کے عظیم الشان مظاہرے اور دلیری کی داستانیں رقم کی گئیں۔ یہ سب نوجوان کر رہے تھے جنہوں نے تحریک کو سوشل میڈیا پر آرگنائز کیا تھا۔
پھر نیپال میں بھی ستمبر2025ء میں سوشل میڈیا پابندیوں سے شروع ہونے والے ”ردعمل“نے جس تحریک کا آغاز کیا اس کا انت حکومت کی تبدیلی پر منتنج ہوا۔ جولائی 2024 میں کینیا میں فنانس بل کے خلاف نوجوانوں کا ”ردعمل“ پارلیمنٹ کو آگ لگانے سے شروع ہوا اور جلد ہی اس نے ایسی تحریک کی شکل اختیار کرلی، جس میں بڑے پیمانے پر اموات ہوئیں۔ ٹیکسوں میں اضافے کی اس تحریک کو صدر روتو نے ’غداری‘ قرار دیا، انٹرنیٹ سروس بند کی اور سخت اقدامات کی دھمکی دی مگر پھر اسے خود پی پسپا ہونا پڑا۔
مختلف براعظموں اور ممالک میں معاشی اور سیاسی دباؤ، بے روزگاری اور بے گانگی کی انتہاوں پر ”ردعمل“کی یہ ایک سیریز ہے۔ اس ردعمل میں نوجوانوں کی نئی نسل،جسے ’جین زی‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے،نے ثابت کیا کہ اس میں اتنا پوٹینشل ہے کہ وہ متحرک ہوسکتے ہیں، متحد ہوسکتے ہیں اور ریاستوں کی دیوہیکل ڈھانچوں کے پرتشدد اور گھمنڈ سے بھری طاقت کو شکست بھی دے سکتے ہیں۔ نوجوانوں نے ان تحریکوں کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف عوام دشمن اور ناپسندیدہ قوانین کو واپس کرا سکتے ہیں بلکہ حکومتوں کو بھی زمین بوس کر سکتے ہیں۔
کاکروچ پارٹی بنانے کا مذاق اس وقت سنگین سچ کی طرف گامزن ہے۔ آنے والے کچھ دنوں میں یہ مذاق ایک ایسی حقیقت میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس میں ایک طرف موجودہ حکمران طبقات سے نفرت، موجودہ سرمایہ دارانہ نظام سے بیزاری اور خود نوجوانوں کے مستقبل کی بے یقینی شامل ہے۔ یہ ساری صورتحال بذات خود بارود کا ایک ڈھیر ہے۔ مگر بارود کے اس ڈھیر میں آگ لگنے سے ہوگا کیا؟ طاقت کا استعمال ایک فیصلہ کن عمل ہے مگر اس عمل کو کس جگہ اور کیسے استعمال کیا جائے؟ یہ اہم بات نتائج کو مرتب کرتی ہے۔ یہ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ ردعمل سے آگے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا بھارت کا مسئلہ ایک نئی پارٹی بنانے میں پنہاں ہے؟
اس وقت بھارت میں 2520رجسٹرڈ اور نان رجسٹرڈ سیاسی پارٹیاں موجود ہیں۔ جن میں قومی دھارے پر معروف صرف 6 پارٹیاں ہیں، جب کہ ریاستی سطح پر 67پارٹیاں ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں سیاسی پارٹیاں ہونے کے باجود بھارت میں انتہا درجے کی غربت، پسماندگی، بے روزگاری، جہالت، ذات پات کے تعصبات، فرقہ ورانہ تشدد حتی کہ مختلف مذاہب اور قوموں میں نسلی صفایہ جیسی تحریکیں موجود ہیں۔ آخریہ روز بنتی اور تعداد میں بڑھتی ہی چلی جاتی سیاسی پارٹیاں بھارت کے معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل کا حل کیوں نہیں نکال پاتیں؟ جب بھی آزادانہ طور پر کوئی نئی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان ہوتا ہے تو وہ دراصل رائج الوقت سیاسی پارٹیوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔
جب سیاسی پارٹیاں اور حکمران طبقہ اپنے عہد کے لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جائیں تو ان کے اقدامات سے بحرانوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ان کے تمام اقدامات عوام کے لیے تکالیف کا باعث بنتے ہیں۔ اس صورتحال میں کسی نئی سیاسی قوت، پارٹی یا قیادت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسی لیے ناکام حاکمیتوں اور عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے والی پارٹیوں پر عدم اعتماد کا اعلان کرتے ہوئے گاہے گاہے نئی سیاسی پارٹیوں کے بننے کے اعلانات ہوتے رہتے ہیں۔ مگر پارٹیاں فقط افراد کے’اجتماع‘ کا نام نہیں ہوتا بلکہ ہر پرانی یا نئی بننے والی پارٹی کسی خاص نظریے اور فلسفے پر مبنی ہوتی ہے۔ مثلاً سیاسی پارٹی پیداواری ذرائع اور پیداواری رشتوں کی بنیاد پر اپنے معاشی اور سیاسی عزائم یا منشور کا تعین کرتی ہے۔ یہ منشور اس پارٹی کی نظریاتی اساس سے اخذ ہوتا ہے اور پھر وضاحت کرتا ہے کہ وہ اپنے عزائم (معاشی،سیاسی اور انتظامی پروگرام) پر کس طریقے سے عمل درآمد کرے گی۔ یہ غیر مبہم چارٹر ہوتا ہے۔ اگر پرانی اور نئی بننے والی سیاسی پارٹی یا پرانے نظام کے خلاف چلنے والی مخالف تحریک کے نظریات یعنی معاشی و سیاسی پروگرام اور عمل درآمد کا روڈ میپ مختلف ہو تو’نئی پارٹی‘واقعتانئی پارٹی ہوتی ہے۔ اگر پرانی اور نئی پارٹیوں یا حاکمیتوں کے فلسفیانہ نظریات، معاشی پروگرام، سیاسی نظام اور عمل درآمد کے طریقہ کار یکساں ہوں تو پھر بظاہر مخالفانہ سمتوں میں کھڑے ہونے کے باوجود کچھ بھی مختلف نہیں ہوتا۔
اس کا مطلب واضع ہے کہ اگر چیلنج کرنے والی نئی سیاسی پارٹی’پرانی پارٹیوں پر سبقت لے بھی جائے‘ یا نئی تحریکیں عوامی مقبولیت حاصل کرکے پہلے سے جمی ہوئی حاکمیت کے پرخچے بھی اڑا دیں تب بھی ”تبدیلی“ کا سوال وہیں پر موجود رہتا ہے، جہاں سے ردعمل شروع ہوتا ہے۔ سری لنکا، کینیا، بنگلہ دیش، نیپال میں نئی نسل نے اپنے ”ردعمل“ کا اظہار شدید انداز میں کیا مگر مڑ کر دیکھیں تو اتنا کچھ بدلنے کے باوجود کچھ بھی نہیں بدلا۔ سرسوں کا بیج جس ہاتھ سے بھی بویا جائے فصل سرسوں کی ہی اگتی ہے۔ یہ عمل ہم برصغیر کے بٹوارے سے دیکھتے آئے ہیں، جس میں کروڑوں انسانوں کی اپنے گھروں، علاقوں سے بے دخلی اور لاکھوں کے قتل کے بعد بھی جو خونی لکیر کھنچ کر ممالک بنائے گئے، وہاں دونوں طرف صرف حکمران بدلے، نظام وہی نوآبادیاتی رہا۔ اس دوران درجنوں حکومتیں بدلیں اور کئی پارٹیاں بنیں اور تحلیل ہوگئیں، اقتدار کی منزل پر پہنچ کر بھی عوام کو مکتی نہیں ملی نہ ہی حقیقی کرانتی۔
پچھلی دو تین دہائیوں میں سرمایہ داری کے تیز ترین بحران نے سوشل ڈیموکریسی کے چہرے سے بھی پردہ اتار کے ان پارٹیوں کے سرمایہ دارانہ اقدامات اور مضمرات کو واضع کردیا۔ اسی طرح بھارت کی منڈی کی معیشت پر یقین رکھنے والی کیمونسٹ پارٹیاں بھی اپنے تذبذب اور مرحلہ واریت کے عفریت کے ہاتھوں مسلسل تنزلی کا شکار ہوئیں۔ کیمونسٹ پارٹیوں کے اتحاد اور ٹریڈ یونینز کی طرف سے 24کروڑ مزدوروں کی ہڑتال کے بعد بھی اگلے دن وہی بھارت اور اس میں شدید استحصال رواں دواں ہوتا ہے۔ نظریاتی زوال پذیری اور واضع موقف یا متبادل کے بغیر کوئی تحریک کتنی بھی طاقت ور ہو وہ بنیادی تبدیلی نہیں لاسکتی۔ پچھلی دہائیوں میں یونان اور سپین میں نئی پارٹیاں بنیں اور تمام تر دعوؤں کو دھول میں چھوڑ کر تاریخ کے ناکام ابواب کا حصہ بن گئیں۔ اسی طرح امریکہ اور برطانیہ میں پرانی پارٹیوں میں ”نئی قیادتیں“ ادھورے سوشلسٹ نعروں کے دھندلکوں کی نذر ہوگئیں۔ ہر معذرت خواہانہ سوشلزم نامرادی کے بعد ایک ہی بات ثابت کرتا ہے کہ مارکس اور لینن کے سوشلزم کی راہ چھوڑ کر فیشنی سوشلزم(کچھ نئے کی نعرہ بازی)میں ناکامی اورخجالت کی نئی منزل ملتی ہے۔
متبادل اور اس کا راستہ واضع ہے۔ سرمایہ داری نظام اپنے داخلی تضادات اور ناکامیوں کے سبب سماجوں کو آگے بڑھانے، معاشی خوش حالی، روزگار کی فراہمی، علاج معالجہ، تعلیم اور امن فراہم نہیں کرسکتا۔ جتنا بحران بڑھتا جارہا ہے اتنی امیر اور غریب کی تفریق بڑھتی جارہی ہے۔ وسائل اور انسانی محنت کے اشتراک سے اب بھی ایک نئی دنیا تعمیر ہوسکتی ہے، بشرط یہ کہ اس اشتراک کی پیداوار اور حاصل پر محنت کرنے والی قوت کا حق تسلیم کیا جائے۔ یہ سب کچھ رضاکارانہ طریقہ سے ہونا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اصلاحات کے ذریعے۔ نوجوان نسل کی بے پناہ قوت سے حاکمیتوں کو اکھاڑنا ایک مرحلہ ہے اور وہ بھی ادھورا۔
پہلا اور بنیادی کام یہ تجزیہ کرنا ہے کہ موجودہ نظام کی ہیئت اور مقاصد کیا ہیں؟ وسائل پیدا کون کرتا ہے اور قبضہ کس طبقے کا ہے؟ تحریکوں کو حکومتیں اکھاڑنے اور حاکمیتوں کو شکست دینے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک متبادل معیشت اور سیاست کی تعمیر کے بغیر صرف چہرے اور نام بدلتے ہیں۔ پھر وہی ناکام نظام تحریکوں سے انتقام لے کر پہلے سے بھی بدتر حالات پیدا کرتا ہے۔ تحریکوں کا فریضہ ہے کہ وہ تمام وسائل پر محنت کش طبقے کے حق فائق سے ایک انچ بھی دست بردار نہ ہو۔ سیاسی نظام پر محنت کش طبقے کو خود فائز ہونا ہوگا۔ ہر جیتی ہوئی تحریک کی اگلی منزل اقتدار پر قبضہ ہوگی تووسائل کی منصفانہ تقسیم اور نئے نظام کا قیام عمل میں آسکے گا۔ ذاتی ملکیت اور منافع کی بجائے سانجھ اور شراکت کا نظام ہی سماجی اور معاشی تفریق کا خاتمہ کرکے برابری اور یکساں ترقی کا دروازہ کھول سکتا ہے۔