روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

ابھرتی ہوئی لہر

ابھرتی ہوئی لہر

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

بہتان تراشی کا طاقتور ہتھیار دو دھاری ثابت ہوا۔ اگر بالشویک جرمن جاسوس ہیں تو یہ خبر زیادہ تر ایسے ذرائع سے ہی کیوں موصول ہو رہی ہے جو عوام کے لیے سب سے زیادہ قابل نفرت ہیں؟ مزدوروں اور سپاہیوں پر گھٹیا ترین عزائم رکھنے کے الزامات لگانے والی کیڈٹ پریس ہی بالشویکوں پر الزام تراشی میں پیش پیش کیوں ہے؟ وہ نگران یا انجینئر، جو انقلابی سرکشی کے بعد سے کسی کونے کھدرے میں گھسا ہوا تھا، اب اچانک باہر نکل کر بالشویکوں کو لعن طعن کیوں کرنے لگا ہے؟ انتہائی رجعتی افسران اپنی رجمنٹوں میں اکڑنے کیوں لگے ہیں؟ اور ’’لینن اینڈ کمپنی‘‘ پر الزامات لگاتے ہوئے وہ اپنی مٹھیاں سپاہیوں کے چہروں پر کیوں لہراتے ہیں، گویا غدار [بالشویک نہیں بلکہ] وہ ہیں؟
ہر فیکٹری کے اپنے بالشویک تھے۔ کوئی فٹنگ کرنے والا مزدور یا کوئی ترکھان، جس کی ساری داستان حیات محنت کشوں کو معلوم ہوتی تھی، پوچھتا تھا، ’’لڑکو، میں تمہیں کوئی جرمن جاسوس دِکھتا ہوں؟‘‘ بعض اوقات ردِ انقلابی یلغار کے خلاف جدوجہد میں مصالحت پسند بھی اپنے ارادے سے آگے بڑھ جاتے تھے اور لاشعوری طور پر بالشویکوں کا راستہ ہموار کر دیتے تھے۔ سپاہی پیریکو بتاتا ہے کہ کیسے ایک سپاہیوں کے اجلاس میں پلیخانوف کے ایک پیروکار، فوجی ڈاکٹر مارکووِچ نے لینن کے خلاف جاسوسی کے الزامات کی تردید کی، تاکہ زیادہ موثر انداز میں اُس کے سیاسی نظریات کو بے ربط اور تباہ کن قرار دے سکے۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا! سپاہیوں نے اجلاس کے بعد کہا، ’’اگر لینن ذہین ہے، کوئی جاسوس یا غدار نہیں ہے اور امن قائم کرنا چاہتا ہے تو پھر ہم اُس کے ساتھ ہیں۔‘‘
عارضی ٹھہراؤ کے بعد بالشویزم دوبارہ اپنے پر پھیلانے لگا۔ ٹراٹسکی نے اگست کے وسط میں لکھا، ’’تلافی بہت جلد ہو رہی ہے۔ ہماری دھتکاری ہوئی، ستائی ہوئی اور بہتان زدہ پارٹی حالیہ دنوں میں اتنی تیزی سے پہلے کبھی نہیں بڑھی ہے۔ یہ عمل جلد ہی دارالحکومت کے بعد صوبوں اور شہروں کے بعد دیہاتوں اور فوج میں بھی شروع ہو جا ئے گا… نئی آزمائشیں آنے پر ملک کے تمام محنت کش عوام اپنے مقدر کو ہماری پارٹی کے مقدر سے یکجا کرنا سیکھ چکے ہوں گے۔‘‘
پہلے کی طرح پیٹروگراڈ سبقت لے گیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے فیکٹریوں میں کوئی دیوہیکل جھاڑو چل رہا تھا اور ہر کونے کھدرے سے مصالحت پسندوں کے اثرورسوخ کا صفایا کر رہا تھا۔ بالشویک پرچے نے کہا، ’’ڈیفنسزم کے آخری قلعے مسمار ہو رہے ہیں… کیایہ بہت پرانی بات ہے کہ دیوہیکل اوبوخووسکی فیکٹری کے مختار کُل یہ ڈیفنسسٹ معززین تھے؟ … اب اس فیکٹری میں وہ منہ دکھانے کی جرات نہیں کر سکتے۔‘‘ 20 اگست کو پیٹروگراڈ شہری دوما کے انتخابات میں 550,000 ووٹ ڈالے گئے، یہ شہری دوماؤں کے جولائی کے انتخابات سے کافی کم تھے۔3 لاکھ75 ہزار سے زیادہ ووٹ کھونے کے باوجود سوشل انقلابیوں نے 2 لاکھ یا کل تعداد کے 37 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ کیڈٹوں نے کل تعداد کا 1/5 حاصل کیا۔ سوخانوف لکھتا ہے، ’’ہمارے منشویک بیلٹ کے لیے قابل افسوس 23 ہزار ووٹ ہی ڈالے گئے۔‘‘ ہر کسی کے لیے غیرمتوقع طور پر بالشویکوں نے تقریباً 2 لاکھ یا کل تعداد کے 1/3 ووٹ حاصل کئے۔
ڈیڑھ لاکھ مزدوروں کو یکجا کرنے والی ٹریڈ یونینوں کا علاقائی اجلاس اگست کے وسط میں یورال کے علاقے میں منعقد ہوا، جس میں تمام سوالات پر بالشویک انداز کی قراردادیں منظور کی گئیں۔ کیف میں 20 اگست کو کارخانہ اور فیکٹری کمیٹیوں کے ایک اجلاس میں 13 لوگوں کے ووٹ سے گریز اور 35 اختلافی ووٹوں کے مقابلے میں 161 ووٹوں کی اکثریت سے بالشویک قرارداد منظورکی گئی۔ کورنیلوف کی بغاوت کے وقت ہونے والے ایوونو وو-وزنیسنسک کی شہری دوما کے جمہوری انتخابات میں بالشویکوں نے 102 میں سے 58، سوشل انقلابیوں نے 24 اور منشویکوں نے 4 نشستیں حاصل کیں۔ کرونسٹٹ میں سوویت کا صدر ایک بالشویک بریکمان اور بلدیہ کا صدر ایک بالشویک پوکرووسکی منتخب ہوا۔ اگست کے دوران ملک کے طول و عرض میں بالشویزم نمو پا ر ہا تھا۔
کورنیلوف کی بغاوت نے عوام کی ریڈیکلائزیشن کو طاقتور تحریک دی۔ سلٹسکی نے اِس موضوع پر مارکس کی ایک بات یاد دلائی ہے: ایک انقلاب کو وقتاً فوقتاً ردِ انقلاب کے کَوڑے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ خطرے نے نہ صرف توانائی بلکہ فراست کو بھی بیدار کر دیا تھا۔ اجتماعی سوچ تناؤ کی بلند تر سطح پر سرگرم تھی۔ نتائج اخذ کرنے کے لیے مواد کی کمی نہیں تھی۔ انقلاب کے دفاع کے لیے مخلوط حکومت کو ضروری قرار دیا گیا تھا اور اسی مخلوط حکومت کا ایک رفیق ردِ انقلاب کا ساتھی نکل آیا تھا۔ ماسکو اجلاس کو قومی یکجہتی کا ازسر نو ملاحظہ قرار دیا گیا تھا۔ صرف بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی نے خبردار کیا تھا: ’’یہ اجلاس… ناگزیر طور پر ردِ انقلابی سازش کا اوزار بن جائے گا۔‘‘ واقعات نے اِس کی تصدیق کر دی تھی۔ اب کیرنسکی اعلان کر رہا تھا: ’’ماسکو اجلاس … یہ 27 اگست کی تمہید تھا… یہاں قوتوں کا حساب کتاب لگایا گیا تھا… یہاں روس کو پہلی بار مستقبل کے آمر کورنیلوف سے متعارف کروایا گیا تھا… ‘‘ گویا اِس اجلاس کا آغاز کنندہ، منتظم اور صدر خود کیرنسکی نہیں تھا، گویا وہی نہیں تھا جس نے کورنیلوف کا تعارف ’’انقلاب کے اول سپاہی‘‘ کے طور پر کروایا تھا، گویا یہ عبوری حکومت نہیں تھی جس نے کورنیلوف کو سپاہی کے خلاف سزائے موت سے مسلح کیا تھا، گویا بالشویکوں کے انتباہ کو جوش خطابت قرار دے کر مسترد نہیں کیا گیا تھا۔
پیٹروگراڈ گیریزن کو یاد تھا کہ کورنیلوف کی شورش سے دو دن قبل بالشویکوں نے سپاہیوں کے ایک اجلاس میں شک ظاہر کیا تھا کہ ترقی پسند رجمنٹوں کو ردِ انقلابی ارادوں کے تحت دارالحکومت سے ہٹایا جا رہا تھا۔ اِس پر منشویکوں اور سوشل انقلابیوں نے دھمکی آمیز مطالبے سے جواب دیا تھا: جنرل کورنیلوف کے عسکری احکامات پر بحث کا خطرہ مول نہ لو۔اِس کے لیے ایک قرار داد بھی پیش کی گئی۔ ’’لگتا ہے کہ بالشویک ہوائی بات نہیں کر رہے تھے۔ ‘‘ کسی پارٹی سے غیروابستہ مزدور اور سپاہی اب خود سے یہی کہہ رہا ہو گا۔
خود مصالحت پسندوں کے تاخیر زدہ الزام کے مطابق اگر سقوطِ ریگا کے ساتھ ساتھ جولائی کی دراڑ میں بھی جرنیل قصور وار تھے تو پھر بالشویکوں کو لعن طعن اور سپاہیوں کو سزائے موت کیوں دی جائے؟ اگر 27 اگست کو مزدوروں اور سپاہیوں کو سڑکوں پر لانے کی کوشش فوجی تخریب کاروں نے کی تھی تو پھر کیا 4 جولائی کے خونریز تصادموں میں بھی اُنہوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا ہو گا؟ مزید برآں اِس ساری تاریخ میں کیرنسکی کا کیا کردار ہے؟ اُس نے تیسری گھڑسوار کور کو کس کے خلاف طلب کیا تھا؟ اُس نے ساونکوف کو گورنر جنرل اور فلونینکو کو اُس کا نائب کیوں نامزد کیا تھا؟ اور مجلس نظامت کا یہ امیدوار فلوننکو آخر ہے کون؟ بکتربند گاڑی ڈویژن کی طرف سے ایک غیرمتوقع جواب آیا: فلوننکو، جس نے اُن کے ساتھ بطور لیفٹنٹ خدمات انجام دی تھیں، سپاہیوں کی بد ترین تضحیک کرتا رہا تھا۔یہ مشکوک اداکار زاووئکو کہاں سے آیا ہے؟ اعلیٰ ترین عہدوں کے لیے ایسے جعلسازوں کے انتخاب کا کیا مطلب ہے؟
حقائق بالکل سادہ تھے، سب کو یاد تھے، سب کی پہنچ میں تھے، ناقابل تردید اور مہلک تھے۔ وحشی ڈویژن کے دستے، ٹوٹی ہوئی پٹریاں، صدر دفتر اور سرما محل کی آپسی الزام تراشی، ساونکوف اور کیرنسکی کے بیانات، سب کچھ خود بول رہا تھا۔ مصالحت پسندوں اور اُن کے نظام ِحکومت پر کیسی ناقابل تردید فردِ جرم عائد ہوئی! بالشویکوں پر لعن طعن کا مطلب بالکل واضح ہو چکا تھا: یہ ایک کُو کی تیاری کا ناگزیر عنصر تھا۔ مزدور اور سپاہی جب یہ دیکھنے لگے تو شرم کے گہرے احساس میں جکڑے گئے۔ لینن روپوش ہے، صرف اِس لیے کہ انہوں نے اُس پر خبیث بہتان لگائے ہیں۔ کیڈٹوں، بینکاروں اور اتحادی ممالک کے سفارتکاروں کو خوش کرنے کے لیے باقیوں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ بالشویکوں کو عہدوں کی ہوس نہیں ہے، اُوپر والے اُن سے اِسی لیے نفرت کرتے ہیں کہ وہ اِس مخلوط حکومت نامی کھلواڑ کا حصہ نہیں بننا چاہتے ہیں! مزدور، سادہ عوام اور محکوم لوگ اِسی نتیجے پر پہنچے۔ بالشویکوں کے سامنے شرمندگی کے احساس سے وابستہ اِن مزاجوں میں سے پارٹی کے ساتھ ناقابل تسخیر وفاداری اور اِس کے رہنماؤں پر اعتماد برآمد ہوا۔
بوڑھے سپاہیوں، فوج کے متحرک عناصر، توپچیوں اور نان کمیشنڈ افسروں کے عملے نے اپنی پوری قوت سے آخری دنوں تک مزاحمت کی۔ وہ اپنی تمام تر لڑاکا محنتوں، قربانیوں اور شجاعت کے کارناموں پر کانٹا نہیں لگانا چاہتے تھے: کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ بے کار اور بے مقصد تھا؟ لیکن جب اُن کا آخری آسرا بھی ٹوٹ گیا تو وہ تیزی سے بالشویکوں کی طرف مڑے۔ اب انہوں نے اپنی رائے قطعی طور پر انقلاب کے حق میں بدل لی۔ اُنہیں جنگ میں بیوقوف بنایا گیا تھا، لیکن اب کی بار اُنہوں نے کام مکمل کرنا تھا۔
فوجی اور سول، دونوں حکام کی رپورٹوں میں ہر قسم کی عوامی سرگرمی، ہر فیصلہ کن مطالبے، استحصال کے خلاف ہر مزاحمت اور ہر پیش قدمی کا مترادف ’بالشویزم‘ بن چکا تھا، مختصر الفاظ میں یہ انقلاب کا ہی دوسرا نام بن گیا تھا۔ کیا اس کا مطب ہے کہ یہ سب چیزیں ہی بالشویزم ہیں؟ ہڑتالی، احتجاج کرنے والے جہازی، سپاہیوں کی بے چین بیویاں اور بغاوت پر اترے مزارعے خود سے یہی سوال پوچھتے تھے۔ یوں سمجھئے کہ عوام کو اوپر سے مجبور کر دیا گیا تھا کہ اپنے خیالات اور مطالبات کی شناخت بالشویزم کے نعروں میں کریں۔ یوں انقلاب اپنے خلاف اٹھایا گیا ہتھیار ہی اپنے استعمال میں لے آیا۔ تاریخ میں نہ صرف معقول چیزیں حماقت بن جا تی ہیں بلکہ جب کبھی ارتقا کی روش کو ضرورت ہوتی ہے تو حماقت بھی معقول ہو جا تی ہے۔
سیاسی ماحول میں تبدیلی نے 30 اگست کے مجالس عاملہ کے مشترکہ اجلاس میں اپنا واضح اظہار کیا، جب کرونسٹٹ کے مندوبین نے مطالبہ کیا کہ اُنہیں اِس بالائی ادارے میں نشستیں دی جائیں۔ کیا یہ ممکن تھا کہ جہاں ان بے لگام کرونسٹٹ والوں کو مذمتوں اور بائیکاٹ کا نشانہ بنایا گیا تھا وہاں اُن کے نمائندگان نے اب نشستیں لینا تھیں؟ لیکن اُنہیں انکار کیسے کیا جا سکتا تھا؟ ابھی کل ہی تو کرونسٹٹ کے سپاہی اور جہازی پیٹروگراڈ کے دفاع کو آئے تھے۔ ’آرورا‘ کے جہازی تو اب بھی سرما محل کی حفاظت کر رہے تھے۔ آپس میں سرگوشیاں کرنے کے بعد رہنماؤں نے کرونسٹٹ والوں کو بات کرنے کے اختیار کے ساتھ لیکن ووٹ دینے کے اختیار کے بغیر چار نشستوں کی پیشکش کی۔ اس مراعت کو روکھے انداز میں شکرانے کے کسی تاثر کے بغیر قبول کر لیا گیا۔
ماسکو گیریزن کا ایک سپاہی چینی نوف بتاتا ہے، ’’کورنیلوف کے اقدام کے بعد سارے سپاہی بالشویک رنگ میں رنگ گئے تھے… جس انداز میں بالشویکوں کا یہ بیان درست ثابت ہوا تھا کہ جنرل کورنیلوف جلد ہی پیٹروگراڈ کے دروازوں پر ہوگا، اس پر سب ششدر تھے۔‘‘
کورنیلوف کی مہم کے دن جیل سے رہا ہونے والا اینٹونوف فوراً ہلسنگفورس گیا۔ وہ کہتا ہے، ’’عوام میں ایک گہری تبدیلی رونما ہو چکی تھی۔‘‘ فن لینڈ کی سوویتوں کی علاقائی کانگریس میں دائیں بازو کے سوشل انقلابی ایک چھوٹی سی اقلیت تھے؛ بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کے ساتھ الحاق میں بالشویک سبقت لے چکے تھے۔ سوویت کی علاقائی کمیٹی کے صدر کے طور پر انہوں نے سملگا کو منتخب کیا، جو اپنی انتہائی کم عمری کے باوجود بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی کا رکن تھا [۱]۔وہ بائیں طرف بھرپور زور رکھنے والا آدمی تھا، جس نے اپریل کے دنوں میں عبوری حکومت کو گرانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ہلسنگفورس کی سوویت کے صدر کے طور پر شینیمین کو منتخب کیا گیا۔وہ ایک بالشویک اور سوویت سٹیٹ بینک کا مستقبل کا سربراہ تھا، ایک محتاط اور افسرشاہانہ وضع قطع والا آدمی تھا، لیکن اُس وقت دوسرے رہنماؤں کے شانہ بشانہ آگے بڑھ رہا تھا۔اِس علاقائی کمیٹی نے فن لینڈ سے کچھ فوجی یونٹ ہٹانے کے عبوری حکومت کے احکامات پر عمل درآمد سے انکار کر دیا۔ درحقیقت بالشویکوں نے فن لینڈ میں سوویتوں کی آمریت پہلے ہی قائم کر دی تھی۔
ستمبر کے آغاز میں ایک بالشویک پرچے نے لکھا: ’’روس کے کئی شہروں سے خبریں موصول ہوئی ہیں کہ ہماری پارٹی کی تنظیم حالیہ عرصے میں بے انتہا پھیل چکی ہے، لیکن اِس سے بھی زیادہ اہم وسیع تر مزدوروں اور سپاہیوں میں ہمارے اثرورسوخ کی بڑھوتری ہے۔‘‘ ایکاٹیرینوسلاف سے بالشویک ایورن لکھتا ہے، ’’کورنیلوف کے دنوں میں ایسے پلانٹوں کے مزدور بھی ہمارے ساتھ تھے جہاں پہلے ہماری بات سننے سے بھی انکار کر دیا جاتا تھا۔‘‘ ساروٹوف کے بالشویکوں کا ایک رہنما اینٹونوف لکھتا ہے، ’’جب کورنیلوف کی سرکشی نے اِس افواہ کی تصدیق کر دی کہ کالیڈن کاسکوں کو زارٹسائناور ساروٹوف کے خلاف متحرک کر رہا تھا تو عوام نے اپنے سابقہ تعصبات کو چند ہی دنوں میں جھٹک دیا۔‘‘
کیف میں بالشویک پرچے نے 19 ستمبر کو اعلان کیا: ’’سوویتوں کے انتخابات میں اسلحہ خانے سے بارہ کامریڈ منتخب ہوئے، سارے بالشویک تھے۔ تمام منشویک امیدواروں کو شکست ہوئی۔ کئی دوسرے پلانٹوں میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔‘‘ اب کے بعد سے مزدور پریس کے صفحات پر ایسے کئی مراسلے دیکھے جا سکتے تھے۔ مخالف پریس نے بالشویکوں کی بڑھوتری کو کم دکھانے یا دبانے کی ناکام کوشش کی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ آگے کی طرف چھلانگ لگا کر عوام سابقہ تذبذب، ہچکچاہٹ اور عارضی پسپائیوں کی کسر پوری کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک ہمہ گیر، سرکش اور ناقابل مزاحمت سیلابی لہر تھی۔
بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی کی ایک رکن باربرا یاکوولیوا[۲]، جس سے جولائی اور اگست میں ہم نے ماسکو کے علاقے میں بالشویکوں کی شدید کمزوری کے بارے میں سنا تھا، اب ایک اچانک تبدیلی کی گواہی دیتی ہے۔ وہ اجلاس کو بتاتی ہے، ’’ستمبر کے دوسرے نصف حصے میں پارٹی کے علاقائی بیورو کے کارکنان نے علاقے کے دورے کئے… اُن کے تاثرات بالکل یکساں تھے: تمام صوبوں میں ہر جگہ پر عوام کی عمومی ’بالشیوائزیشن‘ کا عمل جاری تھا۔ ہر کسی نے مشاہدہ کیا کہ دیہات بھی بالشویکوں کے طالب تھے… ‘‘ جن علاقوں میں جولائی کے دنوں کے بعد پارٹی کی تنظیم ٹوٹ کر بکھر گئی تھی، اب دوبارہ پیدا ہو چکی تھی اور تیزی سے پھیل رہی تھی۔ جن علاقوں میں بالشویکوں کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی، وہاں اب پارٹی مرکزے اچانک ابھر رہے تھے۔ حتیٰ کہ ٹامبووسک اور ریازان جیسے پسماندہ صوبے، جو منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کے گڑھ تھے اور جہاں پہلے بالشویکوں کو شدیدمایوسی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اب ایک حقیقی انقلاب کی لپیٹ میں تھے۔ بالشویکوں کا اثرورسوخ دن دوگنا رات چوگنا ہو رہا تھا اور مصالحت پسندانہ تنظیمیں تحلیل ہو رہی تھیں۔
کورنیلوف کی شورش کے ایک ماہ بعد اور بالشویکوں کی سرکشی سے ایک ماہ پہلے، ماسکو کے بالشویک اجلاس کے مندوبین کی رپورٹیں اعتماد اور جوش و جذبے سے بھری ہیں۔نزھنی نووگوروڈ میں دو ماہ کی تنزلی کے بعد پارٹی ایک بار پھر بھرپور زندگی جی رہی تھی۔ سوشل انقلابی مزدور سینکڑوں کی تعداد میں بالشویکوں کی طرف آ رہے تھے۔ ٹویر میں کورنیلوف کے دنوں کے بعد سے وسیع پارٹی کام تشکیل پایا۔ مصالحت پسند پاش پاش ہو رہے تھے؛ کوئی اُن کی بات نہیں سنتا تھا؛ اُنہیں بھگایا جا رہا تھا۔ ولادیمیر صوبے میں بالشویک اتنے مضبوط ہو چکے تھے کہ سوویتوں کی صوبائی کانگریس میں صرف پانچ منشویک اور تین سوشل انقلابی تھے۔ روس کے مانچسٹر کا درجہ رکھنے والے ایوانوو-ووزنیسنسک میں سوویتوں، دوما اور بلدیہ کا سارا کام بالشویکوں کے ہاتھ آ گیا تھا۔
پارٹی تنظیمیں بڑھ رہی تھیں، لیکن کشش کی قوت اِس سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ بالشویکوں کے تکنیکی وسائل اور اُن کے اضافی سیاسی وزن کے درمیان عدم مطابقت نے اپنا اظہار پارٹی اراکین کی کم تعداد کے مقابلے میں پارٹی کے اثرورسوخ میں دیوہیکل اضافے میں کیا۔ واقعات اتنی تیزی اور شدت سے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے کہ مزدوروں اور سپاہیوں کے پاس خود کو پارٹی میں منظم کرنے کا وقت نہیں تھا۔ حتیٰ کہ اُن کے پاس کسی خصوصی پارٹی تنظیم کی ضرورت کو سمجھنے کا وقت بھی نہیں تھا۔ وہ اُسی طرح فطری طور پر بالشویک نعروں کو پی جاتے تھے جیسے ہوا میں سانس لیتے تھے۔ پارٹی ایک پیچیدہ تجربہ گاہ ہوتی ہے جس میں یہ نعرے اجتماعی تجربے کی بنیا پر ہی تشکیل پاتے ہیں، یہ بات ابھی اُن کے ذہنوں میں واضح نہیں تھی۔ سوویتوں میں دو کروڑ سے زائد لوگوں کی نمائندگی ہوتی تھی۔ ایک ایسی پارٹی جس کے اکتوبر انقلاب کے وقت صرف 240,000 اراکین تھے، زیادہ سے زیادہ اعتماد سے ٹریڈ یونینوں، فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیوں اور سوویتوں کے وسیلے سے دسیوں لاکھ کی رہنمائی کر رہی تھی۔
انواع و اقسام کے مقامی حالات اور ارتقا کے سیاسی درجات رکھنے والا یہ وسیع و عریض ملک گہرائیوں تک جھنجھوڑا جا چکا تھا۔ہر روز دوماؤں، بلدیاؤں، سوویتوں، کارخانہ و فیکٹری کمیٹیوں، ٹریڈ یونینوں، فوج اور زمین کمیٹیوں کے انتخابات ہو رہے تھے۔ اِن تمام انتخابات میں کسی سرخ دھاگے کی طرح ایک غیرمتغیر حقیقت نمودار ہوئی: بالشویکوں کی بڑھوتری۔ ماسکو کی ضلعی دوماؤں کے انتخابات نے عوام کے مزاج میں گہری تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہوئے سارے ملک کو حیران کر دیا۔ سوشل انقلابیوں کی ’’عظیم‘‘ پارٹی ستمبر کے آخر میں جون کے 375,000 ووٹوں میں سے صرف 54,000 ہی برقرار رکھ پائی۔منشویک 76,000 سے 16,000 پر جا گرے۔ کیڈٹوں نے صرف 8,000 کے نقصان سے 101,000 حاصل کئے۔ دوسری طرف بالشویک 75,000 سے بڑھ کر 198,000 تک جا پہنچے۔ جون میں سوشل انقلابیوں نے 58 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے، ستمبر میں بالشویکوں نے تقریباً 52 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ 90 فیصد گیریزن نے بالشویکوں کو ووٹ دیا؛ کئی دستوں میں 95 فیصد سے بھی زیادہ۔ بھاری توپخانے کے کارخانوں میں بالشویکوں نے 2347 میں سے 2286 ووٹ حاصل کئے۔ مجموعی طور پر ڈالے جانے والے ووٹوں کی تعداد میں کمی اِس حقیقت کی وجہ سے تھی کہ بہت سے عام شہری لوگ، جو اپنی ابتدائی خوش فہمیوں کے ابال میں مصالحت پسندوں میں شامل ہو گئے تھے، جلد ہی واپس سیاسی عدم وجود میں جا گرے۔ منشویک مکمل طور پر پگھل رہے تھے؛ سوشل انقلابیوں نے کیڈٹوں کی نسبت نصف ووٹ حاصل کئے؛ کیڈٹوں نے بالشویکوں کی نسبت نصف ووٹ حاصل کئے۔ بالشویکوں نے ستمبر کے یہ ووٹ تمام دوسری پارٹیوں کے خلاف تلخ جدوجہد میں حاصل کئے تھے۔ یہ ٹھوس ووٹ تھے۔ اِن پر انحصار کیا جا سکتا تھا۔ درمیانے گروہوں کا صفایا، بورژوا کیمپ کا معنی خیز استحکام، سب سے زیادہ نفرت کا نشانہ بننے والی اور سب سے زیادہ ستائی جانے والی پرولتاری پارٹی کی دیوہیکل بڑھوتری… یہ سب ایک انقلابی بحران کی مسلمہ علامات تھیں۔ سوخانوف، جس کا اپنا تعلق منشویکوں کی تباہ ہو جانے والی پارٹی سے تھا، لکھتا ہے، ’’ہاں، بالشویکوں نے انتھک اور پرجوش جدوجہد کی۔ وہ ہر روز اور ہروقت عوام کے درمیان اور فیکٹریوں میں ہوتے تھے… وہ عوام کی پارٹی بن گئے تھے کیونکہ وہ ہمیشہ موجود ہوتے تھے اور فیکٹریوں اور بیرکوں کے چھوٹے بڑے ہر معاملے میں رہنمائی کرتے تھے ۔ عوام بالشویکوں کے ساتھ سانس لے رہے تھے اور جی رہے تھے۔ وہ مکمل طور پر لینن اور ٹراٹسکی کی پارٹی کے ہاتھوں میں تھے۔‘‘
محاذ پر سیاسی تصویر زیادہ رنگ برنگ تھی۔ ایسی رجمنٹیں اور ڈویژن تھے جنہوں نے ابھی کسی بالشویک کو دیکھا یا سنا تک نہیں تھا۔ اُن میں سے کئی پر جب بالشویزم کا الزام لگتا تھا تو وہ واقعی ہکے بکے رہ جاتے تھے۔ دوسری طرف ایسے ڈویژن بھی تھے جو ’بلیک ہنڈرڈ اِزم‘ کی آمیزش کے ساتھ اپنے انارکسٹ رویوں کو ہی خالص بالشویزم سمجھتے تھے۔ محاذ کا مزاج ایک سمت میں گامزن ہو رہا تھا، لیکن مورچوں کو اپنی گزرگاہیں بنا دینے والے اِس دیوہیکل سیاسی سیلاب میں کئی بھنور اور کئی مخالف دھارے تھے۔ گدلا پن بھی کچھ کم نہ تھا۔
ستمبر میں بالشویکوں نے گھیرا توڑ کر اُس محاذ تک رسائی حاصل کر لی جس سے اُنہیں پچھلے مہینوں کے دوران بالکل کاٹ دیا گیا تھا۔ ابھی بھی سرکاری پابندی ہٹائی نہیں گئی تھی۔ مصالحت پسندانہ کمیٹیوں نے بالشویکوں کو اپنے یونٹوں سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی؛ لیکن ساری کوششیں ناکام رہیں۔ سپاہیوں نے اپنے ’’بالشویزم‘‘ کے بارے میں اتنا کچھ سن رکھا تھا کہ وہ سب کے سب ایک زندہ بالشویک کو دیکھنے اور سننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ کسی بالشویک کی آمد کی خبر ملنے پر باضابطہ رکاوٹوں، تاخیروں اور کمیٹی والوں کی پیدا کردہ پیچیدگیوں کو سپاہیوں کا اصرار مٹا ڈالتا تھا۔ پرانی انقلابی ایفگینیا بوش ، جس نے یوکرائن میں بہت کام کیا تھا، نے قدیم سپاہی جنگل میں اپنے بے باک سفروں کی شاندار یادداشتیں چھوڑی ہیں۔ اُس کے مخلص اور غیر مخلص، دونوں طرح کے دوستوں کا خوفزدہ انتباہ ہر جگہ غلط ثابت ہوا۔ بالشویکوں کے انتہائی مخالف قرار دئیے جانے والے ڈویژنوں میں بھی اِس بہت محتاط مقرر کو جلد ہی معلوم پڑتا تھا کہ سامعین اُس کے ساتھ تھے۔’’سپاہی سامعین میں کھانسی، کھنکار اور ناک سڑکنے جیسی بوریت کی ابتدائی علامات کہیں نظر نہیں آئیں؛ خاموشی اور نظم و نسق کامل تھا۔‘‘ جلسوں کا اختتام اِس بے باک ایجی ٹیٹر کے اعزاز میں طوفانی تالیوں اور نعروں پر ہوتا تھا۔ ایفگینا بوش کا محاذ پر سارا سفر ایک طرح کا فاتحانہ جلوس تھا۔ دوسرے کم ممتاز ایجی ٹیٹروں کا تجربہ تھوڑا کم دلیرانہ، کم موثر لیکن بنیادی طور پر ایسا ہی تھا۔
مورچوں کی جمود زدہ زندگی میں نئے نظریات یا نئے انداز میں قائل کرنے والے نظریات، نئے نعرے اور نئے عمومی نتائج تیزی سے داخل ہو رہے تھے۔ دسیوں لاکھ سپاہیوں کے ذہن واقعات کا نچوڑ نکال کر کے سیاسی تجربہ حاصل کر رہے تھے۔ پارٹی پرچے کے مدیر کو محاذ سے ایک سپاہی لکھتا ہے، ’’پیارے کامریڈ مزدورو اور سپاہیو، اِس بد بخت لفظ ’ک‘ کو کھلی چھوٹ نہ دو جس نے ساری دنیا کو خونریز قتل و غارت گری میں جھونک دیا ہے۔ اِس میں پہلا قاتل کوکلا (نکولس دوم)، کیرنسکی، کورنیلوف، کالیڈن، کیڈٹ اور ’ک‘ والے سب شامل ہیں۔ کاسک بھی ہمارے لیے خطرناک ہیں… (سیدور نکولائیف)۔‘‘ یہاں توہم پرستی کو نہ دیکھیں: یہ محض سیاسی حافظے کا ایک طریقہ تھا۔
صدر دفتر سے شروع ہونے والی سرکشی سپاہیوں کے وجود کے رگ و پے کو جھنجھوڑ ہی سکتی تھی۔ بیرونی ڈسپلن، جسے بحال کرنے کے لیے کتنی زندگیاں ضائع کر دی گئی تھیں، ایک بار پھر ہر طرف پاش پاش ہو رہا تھا۔ مغربی محاذ کے فوجی کمیسار زھڈانوف نے اطلاع دی: ’’عمومی مزاج مضطرب، افسران کے بارے میں مشکوک اور منتظر ہے؛ احکامات نہ ماننے کی وضاحت اِس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ یہ کورنیلوف کے احکامات ہیں اور مانے نہیں جانے چاہئیں۔‘‘ سٹینکیوچ، جس نے اعلیٰ کمیسار کے عہدے پر فلونینکو کی جگہ لی، یہی لکھتا ہے: ’’سپاہی عوام خود کو ہر طرف سے غداری میں گھرا ہوا محسوس کرتے تھے… جو کوئی بھی اُنہیں منع کرنے کی کوشش کرتا تھا وہ بھی غدارہی معلوم ہوتا تھا۔‘‘
افسروں کے لیے کرونیلوف کی مہم جوئی کے انہدام کا مطلب اُن کی آخری امید کا انہدام تھا۔ اِس سے پہلے بھی افسروں کی خوداعتمادی کچھ زیادہ شاندار نہیں تھی۔ ہم نے اگست کے آخری دنوں میں پیٹروگراڈ میں فوجی سازشیوں کو شراب میں دھت، شیخی خوار اور مایوس دیکھا ہے۔ افسران اب خود کو بالکل ناپسندیدہ اور مسترد محسوس کرتے تھے۔ اُن میں سے ایک لکھتا ہے، ’’اِس نفرت، اِس لعن طعن، اِس بالکل بیکاری اور ہر وقت گرفتاری اور شرمناک موت کے خوف نے افسروں کو شراب خانوں، نجی طعام گاہوں اور ہوٹلوں میں دھکیل دیا تھا… افسران اِس بدمستی میں غرق ہو چکے تھے۔‘‘ اِس کے برعکس سپاہی اور جہازی ہمیشہ سے زیادہ ہوش و حواس میں تھے۔ اُنہیں ایک نئی امید نے جکڑ لیا تھا۔
سٹینکیوچ کے مطابق، ’’بالشویک سر اٹھانے لگے اور خود کو فوج میں مختارِ کُل محسوس کرنے لگے۔ نچلی کمیٹیاں بالشویک مرکزوں میں تبدیل ہونے لگیں۔ فوج میں ہر انتخاب ایک حیران کن بالشویک بڑھوتری کی غمازی کرتا تھا۔ مزید برآں اِس حقیقت کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے کہ نہ صرف شمالی محاذ بلکہ سارے روسی محاذ پر سب سے بہترین اور سب سے منظم فوج، پانچویں فوج نے سب سے پہلے ایک بالشویک فوجی کمیٹی کو منتخب کیا۔‘‘
بحری بیڑہ اِس سے بھی زیادہ واضح، تیز اور رنگین انداز میں بالشویک ہو رہا تھا۔ 8 ستمبر کو بالٹک کے جہازیوں نے پرولتاریہ اور کسانوں کو اقتدار کی منتقلی کی لڑائی پر آمادگی کی علامت کے طور پر اپنے جہازوں پر جنگی پرچم لہرا دئیے۔ بیڑے نے تمام محاذوں پر جنگ بندی، زمین کی کسان کمیٹیوں کو منتقلی اور پیداوار پر مزدوروں کا کنٹرول قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ تین دن بعد بحرِ سیاہ کے بیڑے کی مرکزی کمیٹی، جو کم باشعور اور زیادہ معتدل تھی، نے بالٹک کے جہازیوں کی حمایت کر دی اور ’اقتدار سوویتوں کے پاس‘ کا نعرہ اپنا لیا۔ یہی نعرہ ستمبر کے وسط میں بارہویں فوج کی 23 سائبیریائی اور لیٹویائی پیادہ رجمنٹوں نے اپنا لیا۔ دوسرے ڈویژنوں نے بھی بتدریج پیروی کی۔ ’اقتدار سوویتوں کے پاس‘ کا نعرہ فوج یا بحری بیڑے کے فوری مطالبات میں سے دوبارہ کبھی غائب نہیں ہوا۔
سٹینکیوچ کہتا ہے، ’’جہازیوں کے دس میں سے نو اجلاس صرف بالشویکوں پر مبنی ہوتے تھے۔‘‘اِس نئے اعلیٰ کمیسار کو ریوال کے جہازیوں کے سامنے عبوری حکومت کا دفاع کرنا پڑ گیا۔ اُس نے پہلے چند الفاظ میں ہی اِس کوشش کی نامرادی کو بھانپ لیا۔ صرف ’’حکومت‘‘ کا لفظ ہی سامعین کو مخالفت میں یکجا کر دیتا تھا: ’’طیش، نفرت اور عدم اعتماد کی ایک لہر نے سارے ہجوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔یہ واضح، ٹھوس، پرجوش اور ناقابل مزاحمت تھا اور ایک متفقہ نعرے میں پھٹ پڑاـ : حکومت مردہ باد!‘‘ ہم اِس قصہ گو کی تعریف میں ایک لفظ کی بھی کمی نہیں کر سکتے جو جان لیوا حد تک اپنے مخالف ہجوم کے حملے میں بھی خوبصورتی دیکھنا نہیں بھولا۔
اِن دو مہینوں تک زیر زمین ڈال دیا جانے والا امن کا سوال اب دس گنا قوت کے ساتھ ابھر آیا۔ پیٹروگراڈ سوویت کے ایک اجلاس میں محاذ سے آنے والے افسر ڈوباسوف نے اعلان کیا: ’’تم لوگ یہاں جو مرضی کہتے رہو، سپاہی اب مزید نہیں لڑیں گے۔‘‘ جواب میں آوازیں اٹھیں: ’’یہ بات تو بالشویک بھی نہیں کرتے ہیں!‘‘ لیکن افسر، جو ایک بالشویک نہیں تھا، واپس آیا: ’’میں تمہیں وہ بتا رہا ہوں جو مجھے پتا ہے اور جو سپاہیوں نے مجھے تمہیں بتانے کو کہا ہے۔‘‘ محاذ سے آنے والے ایک اور آدمی، مورچوں کی غلاظت سے لتھڑے لمبے کوٹ میں ملبوس ایک سپاہی نے بھی ستمبر کے اِنہی دنوں میں پیٹروگراڈ سوویت کے سامنے اعلان کیا کہ سپاہیوں کو امن کی ضرورت تھی، کسی بھی طرح کا امن، حتیٰ کہ ’’کوئی نامعقول امن بھی۔‘‘ سپاہی کے اِن سخت الفاظ نے سوویت کو ڈرا دیا۔ چیزیں اس نہج تک پہنچ چکی تھیں! محاذ پر لڑنے والے سپاہی چھوٹے بچے نہیں تھے۔ وہ بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ موجودہ ’’جنگی نقشے‘‘ کے ساتھ امن صرف ایک ظالم کا امن ہی ہو سکتا تھا۔ اپنے اِسی فہم کی وجہ سے مورچوں کے اِس مندوب نے دانستہ طور پر ہر ممکن حد تک سخت ترین الفاظ کا انتخاب کیا اور جرمن بادشاہت کے امن کے لیے بھرپور نفرت کا اظہار کیا۔ لیکن اپنی سوچ کی اسی عریانی سے سپاہی نے اپنے سامعین کو یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا کہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، کہ جنگ کے ہاتھوں فوج کی ہمت تھک کر ناتواں ہو چکی تھی ، کہ ہر قیمت پر ایک فوری امن ضروری تھا۔ بورژوا پریس نے مورچے کے مقرر کے الفاظ کو خبیث خوشی سے پکڑ لیا اور انہیں بالشویکوں سے منسوب کر دیا۔ اس کے بعد سے ’نامعقول امن‘ کے بارے میں یہ فقرہ عوام کی وحشیانہ حالت اور بد کرداری کے انتہائی اظہار کے طور پر مسلسل اچھالا گیا!

*****

سیاسی عطائی سٹینکیوچ کی طرح مصالحت پسند بالعموم اِس ابھرتی ہوئی لہر کی خوبصورتیوں کی تعریف کرنے پر مائل نہیں تھے جو سیاسی میدان سے اُن کاصفایا کرنے کے درپے تھی۔ اُنہیں ہر روز حیرانی اور خوف کے عالم میں معلوم پڑتا تھا کہ اب مزاحمت کی مزید طاقت اُن کے پاس نہیں تھی۔ درحقیقت انقلاب کی شروعات سے ہی مصالحت پسندوں پر عوام کے اعتماد کے نیچے ایک غلط فہمی پوشیدہ تھی، جو تاریخی طور پر ناگزیر لیکن دیرپا نہیں تھی۔ اسے دور کرنے کے لیے چند مہینے ہی درکار تھے۔ مصالحت پسند اُس سے بالکل مختلف زبان میں مزدوروں اور سپاہیوں سے بات کرنے پر مجبور تھے جو وہ مجلس عاملہ یا سرما محل میں استعمال کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کے ذمہ دار رہنما زیادہ خوفزدہ ہو گئے تھے اور مبہم جملوں کی مدد سے عوام کی سماجی انقلابیت سے مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یا پھر وہ سنجیدگی سے فیکٹریوں، کانوں اور بیرکوں کے مزاج سے متاثر ہو کر اُن کی زبان بولنے لگتے تھے اور جلد ہی اپنی پارٹیوں سے الگ ہو جاتے تھے۔
جہازی خوورن اپنی یادداشتوں میں بتاتا ہے کہ کیسے خود کو سوشل انقلابی سمجھنے والے جہازی درحقیقت بالشویک پلیٹ فارم کا دفاع کرتے تھے۔ یہ عمل ہر جگہ دیکھا جا سکتا تھا۔ عوام کو معلوم تھا کہ وہ کیا چاہتے تھے، لیکن وہ اس کا نام نہیں جانتے تھے۔ یہ ’’غلط فہمی‘‘، جو فروری انقلاب کی داخلی اساس سے تعلق رکھتی تھی، ایک عالمگیر عوامی کردار کی حامل تھی، بالخصوص دیہاتوں میں، جہاں یہ شہروں کی نسبت دیر تک برقرار رہی۔ صرف تجربہ ہی اس انتشار میں نظم متعارف کروا سکتا تھا۔ چھوٹے اور بڑے واقعات مسلسل عوامی پارٹیوں کو جھنجھوڑ رہے تھے اور اُن کی رکنیت کو اُن کے اشتہاری تختوں کی بجائے اُن کی پالیسی سے مطابقت میں لا رہے تھے۔
مصالحت پسندوں اور عوام کے درمیان اِس مغالطے کی بہترین مثال ایک حلف میں ملتی ہے، جو جولائی کے آغاز میں ڈونٹس کے علاقے میں دو ہزار کان کنوں نے پانچ ہزار کے ہجوم کے سامنے اٹھایا۔ ’’ہم اپنے بچوں، خدا، زمین و آسمان اور دنیا کی ہر مقدس چیز کی قسم اٹھاتے ہیں کہ 28 فروری 1917ء کو خون سے حاصل کی گئی آزادی سے دستبردار نہیں ہوں گے؛ سوشل انقلابیوں اور منشویکوں پر پورا اعتماد کرتے ہوئے ہم قسم اٹھاتے ہیں کہ لینن اسٹوں کی بات نہیں سنیں گے، کیونکہ یہ بالشویک- لینن اسٹ اپنی ایجی ٹیشن سے روس کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں، جبکہ ایک یکجا اتحاد میں متحد سوشل انقلابی اور منشویک کہتے ہیں: زمین کسی معاوضے کے بغیر عوام کی ہے؛ جنگ کے بعد سرمایہ دارانہ ڈھانچہ گرنا چاہئے اور سرمایہ داری کی جگہ ایک سوشلسٹ ڈھانچہ ہونا چاہئے… ہم حلف دیتے ہیں کہ اِن پارٹیوں کی قیادت میں آگے بڑھیں گے اور موت بھی ہمیں نہیں روک سکتی۔‘‘ بالشویکوں کے خلاف کان کنوں کا یہ حلف درحقیقت سیدھا بالشویک انقلاب پر منتج ہوا! اِس معصومانہ اور پرخلوص منظر میں فروری کے خول میں اکتوبر کا گُودا اتنا واضح ہے کہ ایک طرح سے انقلابِ مسلسل کا سارا مسئلہ ہی حل کر دیتا ہے۔
ستمبر تک ڈونٹس کے یہی کان کن خود سے یا اپنے حلف سے غداری کئے بغیر مصالحت پسندوں کی طرف پیٹھ پھیر چکے تھے۔ یورال کے کان کنوں کی سب سے پسماندہ پرتوں نے بھی یہی کیا۔ مجلس عاملہ کے ایک رکن، سوشل انقلابی اوزھیگوف، جو یورال کے علاقوں کا نمائندہ تھا، نے اگست کے اوائل میں اپنی ازھیوسکی فیکٹری کا دورہ کیا۔ وہ اپنی غمگین رپورٹ میں لکھتا ہے، ’’میں اپنی غیرموجودگی میں رونما ہونے والی گہری تبدیلیوں پر ششدر رہ گیا۔ سوشل انقلابی پارٹی کی تنظیم، جو اپنی تعداد (8 ہزار اراکین) اور سرگرمیوں کی وجہ سے یورال کے سارے علاقے میں جانی جاتی تھی… ٹوٹ کر بکھر چکی تھی اور غیر ذمہ دار ایجی ٹیٹروں کی وجہ سے پانچ سو لوگوں تک محدود ہو گئی تھی ۔‘‘
اوزھیگوف کی رپورٹ نے مجلس عاملہ کو کوئی غیرمتوقع خبر نہیں سنائی: یہی منظر پیٹروگراڈ میں بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ اگر جولائی کے حملوں کے بعد سوشل انقلابی عارضی طور پر فیکٹریوں میں سامنے آ گئے تھے اور کچھ جگہوں پر اپنا اثرورسوخ بھی بڑھا لیا تھاتو بعد میں اُن کا زوال اتنا ہی تیز تھا۔ بعد میں سوشل انقلابی زینزینوف نے لکھا، ’’کیرنسکی حکومت اُس وقت تو یقینا فتح یاب ہو گئی، بالشویک مظاہرین منتشر ہو گئے اور بالشویکوں کے قائدین گرفتار ہو گئے، لیکن یہ ایک ایسی فتح تھی جس کا نقصان فاتح کو زیادہ ہوا۔‘‘ یہ بالکل درست ہے: شاہ پیرھس (King Pyrrhus) کی طرح مصالحت پسندوں نے بھی یہ فتح اپنی فوج کی قیمت پر حاصل کی تھی۔ پیٹروگراڈ کا مزدور سکورنکو لکھتا ہے، ’’3-5 جولائی سے قبل تو منشویک اور سوشل انقلابی کئی جگہوں پر استردادی سیٹیوں کے خطرے کے بغیر مزدوروں کے سامنے آ سکتے تھے، لیکن اب ایسی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ بالعموم اُن کے پاس کوئی بھی ضمانتیں نہیں بچی تھیں۔‘‘
سوشل انقلابی پارٹی نہ صرف اپنا اعتماد کھو چکی تھی بلکہ اپنا سماجی حلقہ انتخاب بھی بدل چکی تھی۔ انقلابی مزدور یا تو بالشویکوں کی طرف جا چکے تھے یا پھر تبدیلی کے عمل کے دوران داخلی بحران سے گزر رہے تھے۔ دوسری طرف دکانداروں، کولاکوں اور چھوٹے افسروں کے بیٹے، جو جنگ کے دوران فیکٹریوں میں چھپے ہوئے تھے، اب جان چکے تھے کہ اُن کے لیے بہترین جگہ سوشل انقلابی پارٹی تھی۔ تاہم ستمبر تک وہ بھی خود کو سوشل انقلابی کہنے سے ڈرنے لگے تھے، کم از کم پیٹروگراڈ میں ایسا ہی تھا۔مزدور، سپاہی اور کچھ صوبوں میں ابھی سے کسان بھی اِس پارٹی کو چھوڑ چکے تھے۔ اس میں صرف قدامت پسند، افسرشاہانہ اور فرسودہ پرتیں ہی باقی بچی تھیں۔
جب انقلاب سے بیدار ہو جانے والے عوام نے سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کو اپنا اعتماد دیا تھا تو دونوں پارٹیاں عوام کی ذہانت کے گن گاتے نہیں تھکتی تھیں۔ جب اِنہی عوام نے واقعات کی درسگاہ سے گزر کر بالشویکوں کی طرف رجو ع شروع کیا تو مصالحت پسندوں نے اپنی نامرادی کا دوش عوام کی جہالت کو دینا شروع کر دیا۔ لیکن عوام اِس بات سے اتفاق نہیں کرتے تھے کہ وہ زیادہ جاہل ہو چکے تھے۔ بلکہ اس کے برعکس اُنہیں لگتا تھا کہ جو کچھ وہ پہلے نہیں سمجھ پائے تھے اب سمجھ چکے تھے۔
سوشل انقلابی پارٹی جوں جوں کمزور اور پژمردہ ہوتی گئی، سماجی خطوط پر بھی تقسیم ہونے لگی اور اِس عمل میں اپنے اراکین کو مخالف کیمپوں میں پھینکنے لگی۔ کھیتوں اور دیہاتوں کے سوشل انقلابیوں نے حکومت میں بیٹھے سوشل انقلابیوں کے حملوں کا مقابلہ بالشویکوں کے شانہ بشانہ اور بالعموم اُن کی قیادت میں کیا۔ اِن دو سوشل انقلابی دھڑوں کے درمیان تیز ہوتی ہوئی جدوجہد نے ایک درمیانی گروہ کو جنم دیا۔ چرنوف کی قیادت میں اِس گروہ نے ظالم او ر مظلوم کے درمیان اتحاد برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ یہ گروہ درمیان میں ہی الجھ گیا، مایوس کن اور مضحکہ خیز تضادات کا شکار ہو گیا اور پارٹی کی ساکھ کو مزید نقصان ہی پہنچایا۔ عوامی جلسوں میں نمودار ہونے کے لئے سوشل انقلابی مقررین خود کو ’’بائیں بازو والے‘‘ اور انٹرنیشنلسٹ قرار دینے پر مجبور ہو چکے تھے۔ جولائی کے دنوں کے بعد بائیں بازوکے سوشل انقلابی کھلی مخالفت میں سامنے آ گئے، پارٹی سے باضابطہ طور پر الگ تو نہیں ہوئے لیکن بالشویکوں کے نعرے اور دلائل اپنا لئے۔ 21 ستمبر کو ٹراٹسکی نے پیٹروگراڈ سوویت کے ایک اجلاس میں واضح کیا کہ ’’بالشویکوں کے لئے بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کے ساتھ کسی مفاہمت پر پہنچنا آسان سے آسان تر‘‘ ہوتا جا رہا تھا۔ آخر کار یہ لوگ ایک آزادانہ پارٹی کی شکل میں الگ ہو گئے اور انقلاب کی کتاب کے سب سے انوکھے ابواب میں سے ایک باب رقم کیا۔ یہ اِس خود کفیل دانشورانہ انقلابیت کا آخری بھڑکاؤ تھا، اکتوبر کے کچھ مہینوں بعد ایک راکھ کے ڈھیر کے سوا اِس کا کچھ باقی نہیں بچا۔
منشویکوں میں بھی ایک گہری تقسیم موجود تھی۔ اُن کی پیٹروگراڈ کی تنظیم اپنی مرکزی کمیٹی کے ساتھ گہرے تصادم میں آ گئی۔ سریتیلی کی قیادت میں اُن کا درمیانی مرکزہ، جس کے پاس سوشل انقلابیوں کے برعکس کوئی کسان ذخیرہ بھی نہیں تھا، سوشل انقلابیوں سے بھی پہلے پگھلنے لگا۔ درمیانی سوشل ڈیموکریٹک گروہ، جو دو کلیدی کیمپوں میں سے کسی سے وابستہ نہیں تھے، ابھی تک منشویکوں اور بالشویکوں کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہے تھے: وہ ابھی تک مارچ والی خوش فہمیاں پال رہے تھے، جب سٹالن تک بھی سریتیلی کے ساتھ اتحاد چاہتا تھا اور یقین رکھتا تھا کہ ’’چھوٹے موٹے اختلافات ہم پارٹی کے اندر سلجھا لیں گے۔‘‘ اگست کے آخری حصے میں اتحاد کے اِن وکیلوں کے ساتھ منشویکوں کا ادغام ہو گیا۔ اُن کے مشترکہ اجلاس میں دائیں بازو کو غلبہ حاصل تھا اور بورژوازی کے ساتھ اتحاد کی سریتیلی کی قرارداد کو 79 کے مقابلے میں 117 ووٹ ملے۔پارٹی میں سریتیلی کی فتح نے محنت کش طبقے میں پارٹی کی شکست کو تیز تر کر دیا۔ منشویک مزدوروں کی پیٹروگراڈ کی چھوٹی سی تنظیم مارٹوف کے ساتھ تھی۔ وہ اُسے آگے دھکیلتے رہے اور اُس کے تذبذب سے تنگ آ کر بالشویکوں سے جا ملنے کی تیاری کرنے لگے۔ ستمبر کے وسط میں واسیلی جزیرے کی تقریباً ساری منشویک تنظیم بالشویکوں میں شامل ہو گئی۔ اس سے دوسرے علاقوں اور صوبوں میں ایجی ٹیشن تیز ہو گئی۔ مشترکہ اجلاسوں میں منشویزم کے مختلف رجحانات کے رہنماؤں نے ایک دوسرے پر پارٹی کو تباہ کرنے کے تند و تیز الزامات عائد کئے۔ منشویکوں کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گورکی کے پرچے نے ستمبر کے آخر میں کہا کہ منشویک پارٹی کی پیٹروگراڈ کی تنظیم، جس کے اراکین کی تعداد کچھ ہی عرصہ قبل 10 ہزار تھی، ’’عملی طور پر وجود کھو چکی ہے… کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اس کا آخری اجلاس نہیں ہو پایا۔‘‘
پلیخانوف منشویکوں پر دائیں طرف سے حملے کر رہا تھا۔ اُس نے کہا، ’’سریتیلی اور اُس کے دوست انجانے میں اور نہ چاہتے ہوئے لینن کی راہ ہموار کر رہے تھے۔‘‘ ستمبر کی لہر کے دنوں میں خود سریتیلی کی سیاسی کیفیت کی غمازی کیڈٹ نابوکوف کی یادداشتوں میں واضح طور پر کی گئی ہے: ’’اُس وقت اُس کے مزاج کی سب سے اہم خاصیت بالشویکوں کی ابھرتی ہوئی لہر کا خوف تھا۔ مجھے یاد ہے کہ کیسے اُس نے بالشویکوں کے اقتدار پر قبضے کا خطرہ میرے سامنے ظاہر کیا تھا۔ اُس نے کہا، ’ظاہر ہے وہ دو یا تین ہفتے بھی نہیں نکال پائیں گے، لیکن صرف یہ سوچو کہ اِس کا مطلب کیسی تباہی ہوگا۔ ہر قیمت پر اِس سے بچنا ہوگا۔‘ اُس کی آواز میں ایک خالص اور دہشت ناک تشویش کا پیغام تھا۔‘‘ اکتوبر سے پہلے سریتیلی بالکل اُسی مزاج کے تجربے سے گزر رہا تھا جس سے نابوکوف فروری کے دنوں سے ہی واقف تھا۔

٭٭٭٭٭

سوویتیں وہ میدان تھے جن میں بالشویک‘ سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کے ساتھ ساتھ سرگرم تھے، اگرچہ وہ اُن کے ساتھ مسلسل متصادم تھے۔ سوویتوں میں پارٹیوں کی نسبتی طاقت میں تبدیلی، یقینا فوری طور پر تو نہیں لیکن ناگزیر وقفوں اور مصنوعی تاخیروں سے سوویتوں کی بناوٹ اور اُن کے سماجی کردار میں اپنا اظہار ضرور کرتی تھی۔
بہت سی صوبائی سوویتیں جولائی کے دنوں سے پہلے ہی اقتدار کے ادارے بن چکی تھیں۔ ایوانو وو -وزنیسنسک، لوگانسک، زارٹسائن، خیرسن، ٹومسک، ولادی ووسٹوک وغیرہ میں اگر رسماً نہیں تو کم از کم درحقیقت اور اگر ہمیشہ نہیں تو کم از کم اکثر و بیشتر یہی کیفیت تھی۔ کراسنویارسک سوویت نے بالکل آزادانہ طور پر ذاتی استعمال کی اشیا کی خریداری کے لیے کارڈوں کا ایک نظام متعارف کروایا۔ ساراٹوف میں مصالحت پسندانہ سوویت معاشی تصادموں میں مداخلت، صنعتکاروں کی گرفتاری، مزدوروں کا کنٹرول متعارف کروانے اور بند فیکٹریوں میں پیداوار شروع کروانے پر مجبور تھی۔ یورال کے علاقوں میں، جہاں 1905ء سے ہی بالشویکوں کو غالب سیاسی اثرورسوخ حاصل تھا، سوویتوں نے اکثر و بیشتر انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتیں لگائیں، کئی فیکٹریوں میں اپنی ملیشیا تشکیل دی، مزدوروں کی جانب سے معائنہ کاری کا نظام متعارف کروایا، پیداوار کی فروخت کی نگرانی کی اور اجرتوں کا پیمانہ مقرر کیا۔ وہاں کئی علاقوں میں سوویتوں نے زمینداروں سے زمین لے کر اس پر اجتماعی کاشت کاری کی۔ سمسک میں دھاتکاری کے شعبے میں سوویتوں نے ایک علاقائی فیکٹری انتظامیہ منظم کی، جس نے ساری انتظامیہ، خزانے، حساب کتاب اور فروخت کاری کے شعبے کا انتظام سنبھال لیا۔ اس عمل سے سمسک کے دھاتکاری کے شعبے کی نیشنلائزیشن کم و بیش مکمل ہو گئی۔ و۔اِلٹسنلکھتا ہے، ’’جولائی میں ہی نہ صرف یورال کی فیکٹریوں میں سب کچھ بالشویکوں کے اختیار میں تھا، بلکہ بالشویک ابھی سے ہی سیاسی، معاشی اور زرعی مسائل کے حل میں رہنمائی کر رہے تھے۔‘‘
جولائی کے دنوں نے پارٹی یا ٹریڈیونین کی نسبت کہیں زیادہ بھاری ضرب سوویتوں پر لگائی تھی، کیونکہ اس وقت جدوجہد بنیادی طور پر سوویتوں کی زندگی یا موت کی تھی۔ پارٹی اور ٹریڈیونینوں نے ’’پرامن‘‘ عرصے کے ساتھ ساتھ رجعت کے مشکل وقتوں میں بھی اپنی اہمیت برقرار رکھی۔ اُن کے فرائض اور طریقے بدل جاتے تھے، لیکن بنیادی مقاصد نہیں بدلتے تھے۔ تاہم سوویتیں صرف ایک انقلابی صورتحال کی بنیاد پر ہی زندہ رہ سکتی تھیں اور اِس کے ساتھ ہی غائب ہو جاتی تھیں۔ محنت کش طبقے کو یکجا کر کے انہوں نے اُسے ایک ایسے مسئلے کے سامنے لا کھڑا کیا جو افراد، گروہوں، اجرت کے مسئلے اور بالعموم اصلاحات اور بہتریوں کے مسئلے سے بلند تر تھا۔ یہ اقتدار پر قبضے کا مسئلہ تھا۔ لیکن یوں محسوس ہوا جیسے ’’سارا اقتدار سوویتوں کے پاس‘‘ کا نعرہ جولائی کے مظاہرے کے ساتھ ہی ٹوٹ کر بکھر گیا ہو۔ سوویتوں میں بالشویکوں کو کمزور کر نے والی اِس شکست نے ریاست میں سوویتوں کو اِس سے کہیں زیادہ کمزور کیا۔ ’’نجات دہندہ حکومت‘‘ کا مطلب ایک آزادانہ افسر شاہی کا دوبارہ ابھار تھا۔ سوویتوں کی جانب سے اقتدار سے دستبرداری کا مطلب اُن کی کمیساروں کے سامنے تذلیل، اُن کی نقاہت اور اُن کا رفتہ رفتہ صفایا تھا۔
مجلس عاملہ کی اہمیت میں کمی کو ایک واضح بیرونی اظہار ملا: حکومت نے مصالحت پسندوں کو کہا کہ وہ ٹاؤرائڈ محل خالی کر دیں کیونکہ آئین ساز اسمبلی کی تیاریوں کے لیے اِسے مرمت کی ضرورت تھی۔ جولائی کے پہلے نصف حصے کے دوران سمولنی کی عمارت، جہاں پہلے اشرافیہ کی لڑکیوں کو تعلیم دی جاتی تھی، سوویتوں کے لیے مخصوص کر دی گئی۔ بورژوا پریس اب ’’سفید فاختاؤں‘‘ کے مسکن کی سوویتوں کو حوالگی کے بارے میں لکھ رہی تھی، بالکل اُسی طرح جیسے کشیسنسکایا کے محل پر بالشویکوں کے قبضے کی باتیں کی جاتی تھیں۔ ضرورت کی عمارات پر قابض ٹریڈ یونینوں سمیت بہت سی انقلابی تنظیموں کو رہائش کے مسئلے کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ یہ مزدوروں کے انقلاب کو اُن وسیع عمارات سے نکال باہر کرنے کا سوال تھا جن پر اُس نے بورژوا سماج کے اندر قبضہ کر لیا تھا۔ ’عوام کی غارتگری‘ اور اُن کی جانب سے ’نجی و ریاستی ملکیت کے حقوق کو پیروں تلے روند ڈالنے‘ پر کیڈٹ پریس کے غصے کی کوئی انتہا نہ تھی۔ لیکن جولائی کے آخر میں طباعت کے مزدوروں نے ایک غیرمتوقع حقیقت بے نقاب کی۔ بدنام زمانہ ’ریاستی دوما کی کمیٹی‘ کے گرد گروہ بند پارٹیوں نے بہت عرصہ قبل ہی ریاستی چھاپہ خانے، اُس کی ارسالی سہولیات اور اُس کی بلامعاوضہ ترسیل کی مراعات پر قبضہ جما لیا تھا۔یوں کیڈٹ پارٹی کی اشتہاری تحریریں نہ صرف مفت چھپ رہی تھیں بلکہ ٹنوں کے حساب سے مفت تقسیم بھی ہو رہی تھیں، وہ بھی پورے ملک میں ترجیحی بنیادوں پر ۔ مجلس عاملہ کو اِس الزام کے معائنے کے بعد اِس کی تصدیق کرنا پڑی۔ کیڈٹ پارٹی کو غصہ نکالنے کے لیے نیا موضوع مل گیا: تخریبی مقاصد کی خاطر حکومتی عمارات پر قبضے اور ریاست کے عظیم ترین خزانوں کے دفاع کے لئے اُس کی املاک کے استعمال کو بھلا ایک ہی زمرے میں لایا جا سکتا ہے؟ دوسرے الفاظ میں اگر ہم معزز لوگوں نے ریاست کو لُوٹا ہے تو یہ اُس کے اپنے فائدے کے لیے ہے۔ لیکن یہ دلیل سب کو معقول نہیں لگتی تھی۔ محنت کشوں کو کامل یقین تھا کہ حکومتی چھاپہ خانے پر کیڈٹوں کے حق سے زیادہ ایک عمارت پر اُن کی ٹریڈ یونین کا حق تھا۔ یہ اختلاف حادثاتی نہ تھا: یہ سیدھا دوسرے انقلاب کی طرف لے جا رہا تھا۔ بہرحال کیڈٹوں کو اپنی زبان تھوڑی بند کرنی پڑ گئی۔
اگست کے دوسرے نصف حصے میں مجلس عاملہ کے بھیجے گئے ایک اہلکار نے روس کے جنوب میں، جہاں شمال کی نسبت بالشویک کافی کمزور تھے، سوویتوں کے دورے کرنے کے بعد اپنے پریشان کن مشاہدوں کی خبر دی: ’’سیاسی مزاج واضح طور پر بدل رہے ہیں… عبوری حکومت کی حکمت عملی کے نتیجے میں عوام کے بالائی حلقوں میں ایک انقلابی مزاج پنپ رہا ہے… عوام میں انقلاب کی طرف بے حسی اور تھکاوٹ محسوس کی جا سکتی ہے۔ سوویتوں کی طرف ایک واضح بے مروتی ہے… سوویتوں کے امور کم ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ عوام اپنے جمہوری ثالثوں کے پس و پیش سے اکتا رہے تھے، لیکن وہ انقلاب کی طرف نہیں بلکہ سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کی طرف بے مروت ہو رہے تھے۔ یہ صورتحال اُن علاقوں میں بالخصوص ناقابل برداشت تھی جہاں تمام تر منصوبوں کے باوجود اقتدار درحقیقت مصالحت پسندانہ سوویتوں کے پاس تھا۔ رہنما اِس اقتدار کو استعمال کرنے کی جرات نہیں کرتے تھے اور بس عوام کی نظروں میں سوویتوں کو گرا ہی رہے تھے۔ مزید برآں روزمرہ کے عام کام کا بڑا حصہ سوویتوں سے جمہوری بلدیاؤں کو منتقل ہو چکا تھا، اِس سے بھی بڑا حصہ ٹریڈ یونینوں اور فیکٹری و کارخانہ کمیٹیوں کو۔ اِس سوال کا جواب کم سے کم واضح ہوتا گیا: کیا سوویتیں قائم رہ پائیں گی؟ اور اُن کا مستقبل کیا ہو گا؟
اپنے وجود کے پہلے مہینوں میں سوویتوں نے دوسری تمام تنظیموں پر سبقت لے جاتے ہوئے ٹریڈ یونینوں، فیکٹری کمیٹیوں اور کلبوں کی تخلیق کا بیڑا اٹھایا تھا اور اُن کے کام میں رہنما کردار ادا کیا تھا۔ لیکن اپنے پیروں پر کھڑی ہو جانے کے بعد یہ مزدور تنظیمیں بالشویکوں کے زیر قیادت آنے لگیں۔ ٹراٹسکی نے اگست میں لکھا، ’’فیکٹری و کارخانہ کمیٹیاں عارضی اجلاسوں میں سے تخلیق نہیں پاتیں۔ عوام اِن کمیٹیوں میں اُن لوگوں کو منتخب کرتے ہیں جنہوں نے فیکٹری کی روز مرہ زندگی میں اپنی ثابت قدمی، مہارت اور مزدوروں کے مفادات سے خلوص کا مظاہرہ کیا ہوتا ہے۔اِنہی فیکٹری کمیٹیوں کی وسیع اکثریت بالشویکوں پر مشتمل ہے۔‘‘ اب فیکٹری کمیٹیوں اور ٹریڈ یونینوں پر مصالحت پسندانہ سوویتوں کی سرپرستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس کے برعکس اُن کے درمیان ایک تلخ جدوجہد جاری تھی۔ عوام کے فوری مسائل کے معاملے میں ٹریڈ یونینوں اور فیکٹری کمیٹیوں کے مد مقابل آنے کی صلاحیت سوویتیں کھوتی جا رہی تھیں۔ مثلاً ماسکو کی ٹریڈ یونینوں نے سوویتوں کے فیصلے کے برخلاف عام ہڑتال کی تھی۔ کم واضح شکل میں ایسے ہی تصادم ہر جگہ ہو رہے تھے جن میں ہمیشہ سوویتیں ہی فتح مند نہیں ہوتی تھیں۔
اپنی حکمت عملی کے نتیجے میں بند گلی میں پہنچ جانے والے مصالحت پسندوں کو سوویتوں کے ہنگامی امور ’’سوچنے‘‘، اُنہیں ثقافتی میدان میں منتقل کرنے اور درحقیقت اُنہیں بہلانے پر مجبور ہونا پڑا۔ سوویتیں اقتدار کی جدوجہد کے لیے تخلیق کی گئی تھیں؛ دوسرے کاموں کے لیے دوسری موزوں تنظیمیں موجود تھیں۔ ساراٹوف کا بالشویک اینٹونوف لکھتا ہے، ’’منشویک اور سوشل انقلابی راستوں پر گامزن ہماری سوویت کا سارا کام بے معنی ہو چکا تھا… مجلس عاملہ کے اجلاس میں ہم بوریت سے جمائیاں لیتے تھے۔ سوشل انقلابی-منشویک باتونی چکی خالی اور بیکار تھی۔‘‘
غیر صحتمند سوویتیں اپنے پیٹروگراڈ مرکز کے سہارے کا کردار ادا کرنے میں نااہل ہوتی جا رہی تھیں۔ سمولنی اور علاقوں کے درمیان خط و کتابت زوال پذیر تھی: لکھنے کو، تجویز پیش کرنے کو کچھ تھا ہی نہیں؛ کوئی توقعات اور کوئی فرائض باقی نہیں بچے تھے۔ عوام سے علیحدگی کا واضح اظہار مالیاتی بحران میں ہو رہا تھا۔ صوبوں میں مصالحت پسندانہ سوویتوں کے اپنے پاس کوئی وسائل نہیں تھے، اِس لیے وہ سمولنی میں اپنی قیادت کو بھی کوئی مدد نہیں دے سکتی تھیں۔دوسری طرف بائیں بازو کی سوویتوں نے مجلس عاملہ کو مالی امداد دینے سے صاف انکار کر دیا تھا، کیونکہ اُس نے ردِ انقلاب کے کام میں شامل ہو کر خود کو رسوا کر لیا تھا۔
تاہم سوویتوں کے مٹ جانے کے اِس عمل کو کسی حد تک متضاد کردارکے حامل ایک اور عمل نے روک دیا۔ دور دراز کے سرحدی علاقے، پسماندہ اضلاع اور پہنچ سے باہر گوشے بیدار ہو رہے تھے اور اپنی سوویتیں تخلیق کر رہے تھے۔ یہ سوویتیں مرکز کے حوصلہ شکن اثرورسوخ یا حکومتی جبر کا شکار ہونے سے پہلے انقلابی تازگی کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ سوویتوں کی مجموعی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ اگست کے آخر میں مجلس عاملہ کے سیکرٹریٹ نے 600 سوویتوں کا شمار کیا، جن کے پیچھے دو کروڑ تیس لاکھ رائے دہندگان کھڑے تھے۔ یہ سرکاری سوویت نظام ایک ایسے انسانی سمندر پر ابھرا تھا جو موج مار رہا تھا اور اپنی لہروں کو بائیں طرف دھکیل رہا تھا۔
سوویتوں کی ’بالشیوائزیشن ‘ کے ساتھ ہونے والی اُن کی سیاسی بحالی نیچے سے شروع ہوئی۔ پیٹروگراڈ میں 21 جولائی کو سوویتوں کے ایک بین العلاقائی اجلاس کے وفد نے مجلس عاملہ کے سامنے مطالبات کی فہرست پیش کی: ریاستی دوما کو تحلیل کیا جائے، حکومتی حکم نامے کے ذریعے فوجی تنظیموں کی حرمت کی تصدیق کی جائے، بائیں بازو کی پریس کو بحال کیا جائے، رجمنٹوں کو تحلیل کرنے اور محاذ پر سزائے موت کا خاتمہ کیا جائے۔ جولائی کے مظاہرے کے مقابلے میں مطالبات میں کمی بالکل واضح ہے؛ لیکن یہ بیماری کے بعد صحت کی بحالی کی طرف پہلا قدم تھا۔ نعروں کو گھٹا کر علاقے اپنی بنیاد کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مجلس عاملہ کے رہنماؤں نے بڑی عیاری سے علاقائی سوویتوں کی ’’حساسیت‘‘ کا خیر مقدم کیا، لیکن اپنا ردِ عمل اس اصرار تک محدود رکھا کہ ساری بدبختیوں کی وجہ جولائی کی سرکشی تھی۔ دونوں اطراف شائستگی لیکن سرد مہری سے جدا ہو گئیں۔
علاقائی سوویتوں کے اِس پروگرام کی بنیاد پر ایک اہم مہم جاری کی گئی۔ ’ازوستیا‘ نے سوویتوں، ٹریڈ یونینوں، فیکٹریوں، جنگی جہازوں اور فوجی یونٹوں کی روز مرہ کی قراردادیں شائع کیں، جن میں ریاستی دوما کی تحلیل اور بالشویکوں پر جبر اور ردِ انقلاب سے لاڈ پیار کے خاتمے کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ اِس عمومی پس منظر میں کچھ زیادہ ریڈیکل آوازیں بھی سنی جا سکتی تھیں۔ 22 جولائی کو صوبہ ماسکو کی سوویت، جو خود ماسکو سوویت سے کافی زیادہ آگے تھی، نے اقتدار کی سوویتوں کو منتقلی کے حق میں ایک قرارداد منظور کی۔ 26 جولائی کو ایوانووو- ووزنیسنسکسوویت نے بالشویک پارٹی کے خلاف مزاحمت کے طریقے کو ’’ذلت آمیز‘‘ قرار دیا اور ’’انقلابی پرولتاریہ کے نمایاں رہنما‘‘ لینن کو سلام بھیجا۔ جولائی کے آخر اور اگست کے آغاز میں ملک کے بیشتر حصوں میں ہونے والے انتخابات سوویتوں میں بالشویک دھڑوں کی مضبوطی کا باعث بنے۔ کرونسٹٹ کی نئی سوویت میں 100 بالشویک، 75 بائیں بازو کے سوشل انقلابی، 12 منشویک انٹرنیشنلسٹ، 7 انارکسٹ اور 90 کسی پارٹی سے غیر وابستہ ایسے افراد تھے جن میں سے کسی نے بھی مصالحت پسندوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کی جرات نہیں کی۔18 اگست کو شروع ہونے والی یورال کے علاقوں کی سوویتوں کی ایک علاقائی کانگریس میں 86 بالشویک، 40 سوشل انقلابی اور 23 منشویک تھے۔بورژوا پریس کی خصوصی نفرت کا نشانہ زارٹسائن بنا، کیونکہ وہاں نہ صرف سوویت بالشویک بن گئی بلکہ مقامی بالشویکوں کا رہنما مینن بلدیہ کا صدر منتخب ہو گیا۔ کیرنسکی نے زارٹسائن کے خلاف ایک تعزیری مہم روانہ کر دی، جس کا واحد مقصد انقلابی گڑھ کو تباہ کرنا تھا۔ پیٹروگراڈ، ماسکو اور تمام صنعتی مراکز میں بالشویک تجاویز پر زیادہ سے زیادہ ہاتھ اٹھنے لگے تھے۔
اگست کے آخر کے واقعات نے سوویتوں کا امتحان لیا۔ خطرے کے سائے تلے تیزی سے داخلی گروہ بندی ہوئی؛ نسبتاً کم بحث کے ساتھ یہ ہر جگہ ہوئی۔ پیٹروگراڈ کی طرح صوبوں میں بھی بالشویک، سرکاری سوویت نظام کے یہ سوتیلے بچے، اگلی صفوں میں آ گئے۔ لیکن ’’مارچ والے‘‘ سوشلسٹوں کی مصالحت پسند پارٹی میں بھی وزارتی اور سرکاری سیاستدانوں کو زیر زمین تحریک میں پختہ ہونے والے زیادہ لڑاکا عناصر نے پیچھے دھکیل دیا۔ قوتوں کی اِس نئی گروہ بندی کے لیے ایک نئی تنظیمی شکل درکار تھی۔ انقلابی دفاع کی قیادت کہیں بھی عاملہ کمیٹیوں کے ہاتھوں میں مجتمع نہیں تھی۔ کورنیلوف کی سرکشی کے وقت وہ جس شکل میں تھیں، اس میں اُن کا کچھ خاص فائدہ نہیں تھا۔چنانچہ ہر جگہ خصوصی دفاعی کمیٹیاں اور انقلابی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ وہ سوویتوں پر منحصر تھیں، اُنہیں ہی جواب دہ تھیں، لیکن عناصر کے نئے چناؤاور فریضے کی انقلابی نوعیت کے مطابق کاروائی کے نئے طریقہ کار کی نمائندگی کرتی تھیں۔
ریاستی اجلاس کے دنوں کی طرح ماسکو سوویت نے چھ افراد پر مشتمل ایک لڑاکا گروہ تشکیل دیا۔ صرف اُسی کے پاس مسلح قوتوں کی صف آرائی اور گرفتاریاں کرنے کا اختیار تھا۔ اگست کے آخر میں ہونے والی کیف کی علاقائی کانگریس نے مقامی سوویتوں کو سفارش کی کہ فوجی اور سول، دونوں طرح کے ناقابل اعتماد حکام کو تبدیل کرنے سے نہ ہچکچائیں، ردِ انقلابیوں کو فوراً گرفتار کریں اور مزدوروں کو مسلح کریں۔ ویاٹکا میں سوویت کمیٹی نے مسلح افواج کے نظم و نسق سمیت کئی غیرمعمولی اختیارات حاصل کرلیے۔ زارٹسائن میں ساری طاقت سوویت قیادت کے پاس چلی گئی۔ نزھنی نووگوروڈ میں انقلابی کمیٹی نے ڈاک اور ٹیلی گراف دفاتر میں سنتری تعینات کر دئیے۔ کراسنویارسک سوویت نے فوجی اور سول، دونوں اختیارات اپنے ہاتھوں میں مجتمع کر لئے۔
مختلف انداز اور بعض اوقات اہم تبدیلیوں کے ساتھ یہی منظر ہر جگہ نقل ہو رہا تھا۔ یہ کسی طور محض پیٹروگراڈ کی تقلید نہیں تھی۔ سوویتوں کی عوامی ساخت نے اُن کے داخلی ارتقا کو ایک عمومی قانون کا کردار عطا کر دیا اور کسی بھی بڑے واقعے پر اُن سب کو ایک جیسا ردِ عمل ظاہر کرنے پر مجبور کر دیا۔ جب مخلوط حکومت کے دونوں حصوں کو ایک خانہ جنگی کے محاذ نے تقسیم کر رکھا تھا، سوویتوں نے واقعی اپنے گرد قوم کی تمام زندہ قوتوں کو جمع کر لیا تھا۔ اِس دیوار سے ٹکرا کر جرنیلوں کی جارحیت خاک میں مل گئی۔ اِس سے زیادہ نصیحت آمیز سبق کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسی موضوع پر بالشویکوں کا اعلامیہ کہتا ہے، ’’حکام کی جانب سے سوویتوں کو نکال باہر کرنے اور اُنہیں طاقت سے محروم کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود کورنیلوف کی بغاوت کو کچل کر سوویتوں نے عوام کے بے باک عزم اور پیش قدمی کا اظہار کیا ہے۔ اِس نئے تجربے کو کوئی بھی چیز مزدوروں، سپاہیوں اور کسانوں کے شعور سے محو نہیں کر سکتی۔اِس تجربے کے بعد سے انقلاب کے بالکل آغاز میں بلند کی گئی ہماری پارٹی کی پکار ’تمام اقتدار سوویتوں کے پاس‘ سارے انقلابی ملک کی آواز بن چکی ہے۔‘‘
شہری دومائیں، جنہوں نے سوویتوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی تھی، خطرے کے دنوں میں مر گئیں۔ پیٹروگراڈ دوما نے ’’عمومی صورتحال کی وضاحت اور رابطہ قائم کرنے کے لیے‘‘ بڑی عاجزی سے اپنا وفد سوویت کے پاس بھیجا۔ بظاہر ایسا لگے گا جیسے شہری آبادی کے ایک حصے کی منتخب کردہ سوویتوں کے پاس اِن دوماؤں سے کم طاقت اور اثرورسوخ ہونا چاہئے جنہیں ساری آبادی نے منتخب کیا تھا۔ لیکن انقلابی عمل کی جدلیات واضح کرتی ہے کہ کچھ مخصوص تاریخی حالات میں کُل (Whole) کی نسبت جزو (Part) بہت بڑا ہو جاتا ہے۔ حکومت کی طرح دوما میں بھی مصالحت پسندوں نے بالشویکوں کے خلاف کیڈٹوں کے ساتھ اتحاد بنایا اور اِس اتحاد نے حکومت کی طرح دوما کو بھی مفلوج کر دیا۔ دوسری طرف سوویت نے بورژوازی کے حملے کے خلاف مصالحت پسندوں اور بالشویکوں کے درمیان دفاعی معاونت کی قدرتی شکل کو ثابت کر دیا۔
کورنیلوف کے دنوں کے بعد سوویتوں کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ پیٹروگراڈ سوویت نے بالشویکوں کی طرف اتنا تیز جھکاؤ ظاہر کیا کہ دایاں اور بایاں، دونوں کیمپ ششدر رہ گئے۔ ابھی تک منشویک شکائدز کی صدارت میں ہونے کے باوجود یکم ستمبر کی رات کو سوویت نے مزدوروں ا ور کسانوں کی حکومت کے حق میں ووٹ دے دیا۔ مصالحت پسندانہ دھڑوں کے عام اراکین نے کم و بیش ٹھوس انداز میں بالشویکوں کی اِس قرارداد کی حمایت کی۔ سریتیلی کی مخالف تجویز کو صرف 15 ووٹ ملے۔ مصالحت پسندانہ صدارتی انتظامیہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا تھا۔ دائیں بازو نے حاضری (Roll Call) کا مطالبہ کیا، جو رات تین بجے تک جاری رہی۔ اپنی پارٹیوں کے خلاف کھلے عام ووٹ ڈالنے سے بچنے کے لیے بہت سے مندوبین گھروں کو چلے گئے۔ لیکن پھر بھی، دباؤ کے تمام طریقوں کے باوجود بالشویکوں کی قرارداد کو 115 کے خلاف 279 ووٹ ملے۔ یہ ایک بڑی حقیقت تھی۔ یہ اختتام کا آغاز تھا۔ صدارتی انتظامیہ ششدر رہ گئی اور اعلان کیا کہ وہ مستعفی ہو جائے گی۔
2 ستمبر کو فن لینڈ کے روسی سوویت اداروں کے ایک مشترکہ اجلاس میں 13 اختلافی ووٹوں اور 36 افراد کے ووٹ ڈالنے سے گریز کے مقابلے میں 700 ووٹوں سے سوویتوں کی حکومت کے حق میں ایک قرارداد منظور ہوئی۔ 5 ستمبر کو ماسکو سوویت نے پیٹروگراڈ کی پیروی کی۔ 254 کے خلاف 355 ووٹوں سے اِس نے نہ صرف عبوری حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور اسے ردِ انقلاب کا اوزار قرار دیا، بلکہ مجلس عاملہ کی اتحادی حکمت عملی کی بھی مذمت کی۔ صدارتی انتظامیہ، جس کا سربراہ منشویک خنچک تھا، نے اعلان کیا کہ مستعفی ہو جائے گی۔ مرکزی سائبیریا کی سوویتوں کی ایک کانگریس نے 5 ستمبرکو بالشویک قیادت کی مکمل پیروی کی۔ 8 تاریخ کو مزدور نمائندگان کی کیف سوویت میں 66 کے خلاف 130 کی اکثریت سے بالشویک قرارداد منظور ہوئی، اگرچہ باضابطہ بالشویک دھڑے میں صرف 95 نمائندگان تھے۔ 10 تاریخ کو منعقد ہونے والی سوویتوں کی فن لینڈ کانگریس میں ڈیڑھ لاکھ جہازیوں اور سپاہیوں اور روسی مزدوروں کی نمائندگی 69 بالشویک، 48 بائیں بازو کے سوشل انقلابی اور کچھ آزاد افراد کر رہے تھے۔ صوبہ پیٹروگراڈ کی کسان نمائندگان کی سوویت نے بالشویک سرگیف کو ’جمہوری اجلاس‘ کا مندوب منتخب کیا۔ یہاں ایک بار پھر پتا چلا کہ ایسی صورتوں میں جہاں پارٹی مزدوروں اور سپاہیوں کی وساطت سے دیہاتوں کے ساتھ فوری رابطے میں آنے کے قابل تھی، کسان شوق سے اس کے پرچم تلے جمع ہوئے۔
9 ستمبر کے تاریخی اجلاس نے پیٹروگراڈ سوویت میں بالشویک پارٹی کے غلبے پر مہرتصدیق ثبت کی۔ تمام دھڑوں نے اپنے اراکین کو پوری کوشش سے گھیرا تھا: ’’یہ سوویتوں کے مقدر کا سوال ہے۔‘‘ تقریباً ایک ہزار مزدور اور کسان نمائندگان جمع ہوئے۔ کیا [بالشویکوں کے حق میں] یکم ستمبر کا ووٹ اجلاس کی حادثاتی ترکیب کا نتیجہ تھا، یا پھر اِس کا مطلب سوویت کی روش میں یکسر تبدیلی تھا؟ سوال کو کچھ اس طرح سے پیش کیا گیا۔ اِس خوف سے کہ وہ مصالحت پسندانہ صدارتی انتظامیہ کے خلاف اکثریت اکٹھی نہیں کر پائیں گے، بالشویک دھڑے نے تجویز پیش کی کہ صدارتی انتظامیہ کو سوویت میں ہر پارٹی کے تناسب کی بنیاد پر منتخب کیا جائے۔ اِس تجویز، جس نے اصولوں سے متعلقہ اختلاف کی شدت کو کسی حد تک دھندلا دیا اور اس وجہ سے لینن کی کھری مذمت کا نشانہ بھی بنی، کا تدبیری فائدہ یہ تھا کہ یہ متذبذب عناصر کی حمایت کو یقینی بناتی تھی۔ لیکن سریتیلی نے اِس مصالحت کو مسترد کر دیا۔ اُس نے کہا کہ صدارتی انتظامیہ جاننا چاہتی ہے کہ کیا واقعی سوویت نے اپنی سمت بدل لی ہے: ’’ہم بالشویکوں کی چالبازیوں کی تعمیل نہیں کر سکتے۔‘‘ دائیں بازو کی طرف سے پیش کردہ قرارداد میں دعویٰ کیا گیا کہ یکم ستمبر کا ووٹ سوویت کی سیاسی روش سے مطابقت نہیں رکھتا اور سوویت کو پہلے کی طرح اپنی صدارتی انتظامیہ پر مکمل اعتماد ہے۔ بالشویکوں کے پاس اِس چیلنج کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور انہوں نے بڑی خوشی سے اِسے قبول کیا۔ جیل سے رہائی کے بعد ٹراٹسکی پہلی بار نمودار ہوا، اجلاس کے بڑے حصے نے بڑی گرمجوشی سے اُس کا استقبال کیا، دونوں اطراف اندر ہی اندر تالیوں کی پیمائش کر رہی تھیں: یہ اکثریت ہے یا نہیں؟ اُس نے ووٹ سے قبل ایک وضاحت کا مطالبہ کیا: کیا کیرنسکی اب بھی صدارتی انتظامیہ کا رکن ہے؟ ایک لمحے کی ہچکچاہٹ کے بعد صدارتی انتظامیہ نے اثبات میں جواب دیا۔ یوں پہلے سے ہی گناہوں کے بوجھ تلے دبی ہونے کے باوجود اُس نے چکی کا ایک اور باٹ اپنی گردن کے گرد باندھ لیا۔ ٹراٹسکی نے کہا، ’’ہمیں پورا یقین تھا کہ کیرنسکی کو صدارتی انتظامیہ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لیکن ہم غلطی پر تھے۔ اب کیرنسکی کا بھوت ڈین اور شکائدز کے درمیان بیٹھتا ہے… جب آپ کو اِس صدارتی انتظامیہ کی سیاسی روش کی توثیق کرنے کا کہا جائے گا تو یہ مت بھولیں کہ آپ کیرنسکی کی پالیسیوں کی توثیق کریں گے۔‘‘ اجلاس انتہائی تناؤ میں آگے بڑھا۔ نظم و ضبط صرف اِس لئے قائم تھا کہ وہاں موجود ہر فرد کسی دھماکے سے بچنا چاہ رہا تھا۔ ہر کوئی جلد از جلد اپنے دوستوں اور دشمنوں کی گنتی کرنا چاہتا تھا۔ سب کو معلوم تھا کہ اقتدار، جنگ اور انقلاب کے مقدر کا فیصلہ ہو رہا تھا۔ کمرے سے نکلنے کے طریقہ کار کے ذریعے رائے شماری کا فیصلہ کیا گیا۔ صدارتی انتظامیہ کا استعفیٰ قبول کرنے والے باہر چلے جائیں: اکثریت کی نسبت اقلیت کے لیے باہر جانا آسان ہوتا ہے۔ ہال کے ہر کونے کھدرے میں ایک جذباتی لیکن سرگوش ایجی ٹیشن شروع ہو گئی۔ پرانی صدارتی انتظامیہ یا نئی؟ مخلوط حکومت یا سوویت اقتدار؟ لوگوں کا ایک بڑا ہجوم دروازے کی طرف بہتا محسوس ہوا ۔ بالشویک رہنماؤں نے حساب لگایا کہ اُنہیں اکثریت سے 100 ووٹ کم پڑیں گے۔ اُنہوں نے خود کو پیشگی مطمئن بھی کیا، ’’پھر بھی یہ بہترین کارکردگی ہو گی۔‘‘ تاہم مزدور اور سپاہی دروازے کی طرف بہتے چلے گئے۔ آوازوں کی دبی ہوئی گونج تھی، جس میں بلند تکرار کے مختصر دھماکے ہو رہے تھے۔ ایک طرف سے آواز بلند ہوئی: ’’کورنیلوف کے حمایتی!‘‘ دوسری طرف سے: ’’جولائی کے سورما!‘‘ یہ عمل تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا۔ اَن دیکھے پیمانے پر ہاتھ آگے پیچھے حرکت کر رہے تھے۔ اپنی بے قراری کو بمشکل ضبط کرتے ہوئے صدارتی انتظامیہ پورا گھنٹہ چبوترے پر براجمان رہی۔ آخر کار نتیجے کا شمار ہوا: صدارتی انتظامیہ اور مخلوط حکومت کے حق میں 414 ووٹ؛ مخالفت میں 519؛ ووٹ ڈالنے سے گریز 67! نئی اکثریت نے ایک طوفان کی طرح بے خودی اور غضبناکی سے نعرے بلند کئے! اُس کو یہ حق حاصل تھا۔ یہ فتح بھاری قیمت پر ملی تھی۔ پیچھے ایک طویل سفر تھا۔
شکست خوردہ رہنما لٹکے ہوئے چہروں کے ساتھ چبوترے سے اتر گئے۔ سریتیلی ایک آخری خوفناک پیش گوئی کرنے سے باز نہیں رہ پایا۔ جاتے ہوئے مڑکر چلّایا، ’’ہم اِس چبوترے سے اِس آگہی کے ساتھ دستبردار ہو رہے ہیں کہ چھ ماہ تک ہم نے انقلاب کا پرچم عمدگی سے سربلند رکھا۔ یہ پرچم اب تمہارے ہاتھ آ گیا ہے۔ ہم صرف خواہش ہی کر سکتے ہیں تم اِس پرچم کو اِسی طرح اِس سے نصف عرصے کے لیے بھی تھام سکو!‘‘ ہر چیز کی طرح سریتیلی اپنی تاریخوں کے معاملے میں بھی بالکل غلط تھا۔
تمام دوسری سوویتوں کی ماں پیٹروگراڈ سوویت اب کے بعد سے اُن بالشویکوں کے زیر قیادت آ گئی جو کل تک ’’فتنہ انگیزوں کا معمولی سا گروہ‘‘ تھے۔ چبوترے سے ٹراٹسکی نے صدارتی انتظامیہ کو یاد کروایا کہ بالشویکوں پر جرمن فوجی قیادت کے آلہ کار ہونے کا الزام ابھی تک واپس نہیں لیا گیا ہے۔ ’’ملیوکوف اور گچکوف جیسے ذرا اپنی زندگی کے شب و روز کی کہانی سنائیں۔ وہ کبھی بھی نہیں سنا سکتے۔ لیکن ہم اپنی سرگرمیوں کا حساب دینے کو تیار ہیں۔ روسی عوام سے چھپانے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے… ‘‘ ایک خصوصی قرارداد میں پیٹروگراڈ سوویت نے ’’بہتان تراشی کے مصنفین، تقسیم کنندگان اور مبلغین کی شدید مذمت کی۔‘‘
بالشویکوں نے اب اپنے ترکے کا اختیار سنبھالا۔ یہ بیک وقت دیوہیکل اور انتہائی مہین ثابت ہوا۔ اپنے اچھے وقتوں میں مجلس عاملہ نے پیٹروگراڈ سوویت سے اِس کے دو اخبارات، تمام انتظامی دفاتر، ٹائپ رائٹروں اور سیاہی دانوں سمیت تمام تکنیکی سامان اور تمام فنڈ چھین لیے تھے۔ بے شمار موٹر گاڑیاں، جو فروری انقلاب کے دنوں سے سوویت کے اختیار میں تھیں، سب کی سب مصالحت پسندوں کی ملکیت میں دے دی گئی تھیں۔ نئے رہنماؤں کے پاس نہ کوئی خزانہ تھا، نہ اخبارات، نہ دفتری مشینری، نہ ذرائع نقل و حمل، نہ قلم، نہ پنسل۔ خالی دیواروں اور مزدوروں اور سپاہیوں کے سلگتے ہوئے اعتماد کے سوا کچھ نہیں تھا۔ یہ بھی کافی ثابت ہوا۔
سوویت کی روش میں اِس بنیادی تبدیلی کے بعد مصالحت پسندوں کی صفیں اور بھی تیزی سے پگھلنے لگیں۔ 11 ستمبر کو پیٹروگراڈ سوویت کے سامنے ڈین نے ایک مخلوط حکومت کا دفاع کیا اور ٹراٹسکی نے ایک سوویت حکومت کی وکالت کی۔ مخلوط حکومت کو 10 کے مقابلے میں تمام ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔ اِسی دن ماسکو سوویت نے متفقہ طور پر بالشویکوں پر جبر و تشدد کی مذمت کر دی۔ مصالحت پسندوں نے جلد ہی خود کو دائیں طرف ایک چھوٹے سے کونے میں پایا، جو بالکل ویسا ہی تھا جس پر انقلاب کی شروعا ت میں بائیں طرف بالشویک قابض تھے۔ لیکن کتنا فرق تھا! سوویتوں کی نسبت عوام میں بالشویک ہمیشہ سے ہی مضبوط تھے۔ اس کے برعکس مصالحت پسندوں کے پاس عوام کی نسبت سوویتوں میں ایک وسیع جگہ تھی۔ اپنی کمزوری کے عرصے میں بالشویکوں کے پاس ایک مستقبل تھا۔ مصالحت پسندوں کے پاس ماضی کے سوا کچھ نہیں بچا تھا، ماضی بھی ایسا جس پر فخر کرنے کی کوئی وجہ اُن کے پاس نہیں تھی۔
اپنی روش میں تبدیلی کے ساتھ پیٹروگراڈ سوویت نے اپنی بیرونی شکل بھی بدل لی۔ مصالحت پسند رہنما اُفق سے بالکل غائب ہو گئے اور مجلس عاملہ میں مورچے سنبھال لئے۔ سوویت میں دوسرے اور تیسرے درجے کے ستاروں نے اُن کی جگہ لے لی۔ سریتیلی، چرنوف، ایوکسنٹیف اور سکوبیلیف کے غائب ہو جانے کے بعد اِن جمہوری وزرا کے دوست اور مداح بھی نظر آنا بند ہو گئے، جن میں نامور شخصیات، ریڈیکل مزاج افسران اور بیگمات، نیم سوشلسٹ لکھاری وغیرہ شامل ہوتے تھے ۔ سوویت زیادہ یکساں، زیادہ بالغ، زیادہ تلخ اور زیادہ سنجیدہ ہو گئی۔

٭٭٭٭٭

[۱] سملگا (Smilga) کی عمر 1917ء میں صرف 25 سال تھی اور وہ اپریل میں پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا رُکن منتخب ہوا تھا۔ اُس کے باپ کو 1905ء کے انقلاب میں حکومتی فوج نے قتل کر دیا تھا۔ اکتوبر انقلاب کے بعد اُس نے خانہ جنگی میں اہم کردار ادا کیا اور اس کے بعد سوویت ریاست میں کلیدی عہدوں پر فائز رہا۔ بہت سے دوسرے بالشویکوں کی طرح اُسے بھی 1938ء میں سٹالن نے قتل کروا دیا۔
[۲] باربرا یاکوولیوا (Barbara Yakovleva) ایک کلیدی بالشویک رہنما تھی۔ جس پارٹی اجلاس میں اکتوبر انقلاب کی تاریخ طے ہونا تھی اُس کے نوٹس باربرا نے ہی لئے تھے۔ انقلاب کے بعد وہ خفیہ پولیس، محکمہ خوراک اور محکمہ تعلیم میں اہم عہدوں پر فائز رہی۔ سٹالنسٹ افسر شاہی کے خلاف ٹراٹسکی کا ساتھ دیا جس کی پاداش میں اُسے بعد ازاں جیل میں ڈال دیا گیا اور 1941ء یا 1944 ء میں قتل کر دیا گیا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں