روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

اسلامی جمہوریہ ایران، سامراج دشمنی اور بایاں بازو

اسلامی جمہوریہ ایران، سامراج دشمنی اور بایاں بازو

آراز باغبان

اسلامی جمہوریہ ایران (آئی آر آئی) نے 1979 کے انقلاب سے پیدا ہونے والے سامراج مخالف ماحول کے دباؤ میں ایک امریکہ مخالف خارجہ پالیسی اپنائی، اور ساتھ ہی فلسطینی کاز کی حمایت بھی ایک اسلام پسند نقط نظر سے جاری رکھی۔ تب سے اسلامی جمہوریہ امریکہ اور اسرائیل دونوں کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔

آئی آر آئی نے خطے میں ’مزاحمت کا محور‘ (Axis of Resistance) تشکیل دے کر ایک علاقائی طاقت کے طور پر ابھرنا شروع کیا۔اس کا آغاز لبنان میں حزب اللہ کے قیام ،اوراس کے بعد فلسطین میں حماس کے عروج اور بشار الاسد کے شام کے ساتھ اتحاد سے ہوا۔ امریکہ کی افغانستان اور عراق پر چڑھائی کے بعد ایران بظاہر گھیراؤ میں آ گیا تھا، مگر اس نے عراق میں شیعہ برادری کے ساتھ تعلقات کے ذریعے اثر و رسوخ حاصل کیا۔ بعد ازاں شامی خانہ جنگی کے دوران، روس اور حزب اللہ کی حمایت سے اسد کو اقتدار میں طویل عرصے تک برقرار رکھ کر ایران نے اپنا دائرہ اثر مزید بڑھایا۔ اس دور کو’مزاحمت کے محور‘کا عروج کہا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ مسلسل تکفیری جہادیوں کے حملوں کی زد میں رہا۔

تاہم 7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کی جنگی مشین نے تقریباً حماس اور حزب اللہ کو غیر موثر کر دیا۔ اسرائیل کے حملوں نے مزاحمت کے محور کو بری طرح کمزور کر دیا، اور جہادی قوتوں کے لیے ایک ایسا میدان مہیا کر دیا جس میں وہ شام میں اسد کی پہلے سے کمزور حکومت کو گرا سکیں۔ بالآخر اسرائیل نے امریکہ کی براہ راست حمایت سے ایران پر حملے کیے، اس کے عسکری اور صنعتی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا، اور یوں خطے میں طاقت کا توازن سامراجی قوتوں کے حق میں فیصلہ کن طور پر تبدیل ہو گیا۔

داخلی تضادات

ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے یہ بھی توقع کی تھی کہ ایران پر ان کے حملے کے نتیجے میں ایرانی عوام اسلامی جمہوریہ کے خلاف کوئی بڑی عوامی بغاوت کریں گے۔ ایسی بغاوت تو نہیں ہوئی، لیکن عوام نے حکومت کی حمایت میں بھی کوئی واضح ردعمل نہیں دیا۔ اس بات پر زور دینا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ کی جانب سے منظم کردہ جنازوں اور مظاہروں میں بڑی تعداد کو عوامی حمایت تصور نہیں کیا جا سکتا۔

فطری طور پر اس جنگ کے دوران عالمی سوشلسٹ تحریک سے وابستہ جماعتوں اور تنظیموں نے حملوں کی مذمت میں بیانات اور اعلامیے جاری کیے۔ مجموعی طور پر سوشلسٹ تحریک کے ایک دھڑے نے براہ راست ایران کی حمایت کی، اور بعض نے تو سوشلسٹ اور محنت کش طبقے کی تنظیموں سے اسلامی جمہوریہ کے دفاع کی اپیل بھی کی۔ تاہم ایک دوسرا دھڑا سامراجی جارحیت کے خلاف ایرانی عوام کے دفاع کا حامی تھا، مگر ساتھ ہی ایک آزاد جدوجہد کی ضرورت پر زور دیتا رہا۔

ایرانی سوشلسٹوں کی اکثریت کی مانند میں بھی سمجھتا ہوں کہ ایران پر اس سامراجی حملے کے خلاف ایک خودمختار جدوجہد منظم کی جانی چاہیے۔ ایرانی سوشلسٹ تحریک سے وابستہ مختلف جماعتوں اور تنظیموں نے اس جدوجہد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بیانات دیے ہیں۔ میری یہ بات کسی زعم پر مبنی نہیں کہ ’چونکہ ایرانی سوشلسٹ بہتر سمجھتے ہیں، اس لیے عالمی سوشلسٹ تحریک کو ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔‘میں بلکہ یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہ موقف ایرانی سوشلسٹوں میں عمومی اتفاق کی بنیاد کیوں بن چکا ہے، اور اس کے پس منظر میں اسلامی جمہوریہ کی اصل نوعیت کیا ہے۔

وہ حلقے جو سوشلسٹ اور محنت کش طبقے کی قوتوں سے اسلامی جمہوریہ کا دفاع کرنے کی اپیل کرتے ہیں، وہ عام طور پر یہ موقف اپناتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت، چاہے یہ ایک جابرانہ حکومت کی طرف سے ہو، ایک ترقی پسندانہ پہلو رکھتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ موقف ایک یک رخے اور محض سامراج دشمن نظریاتی فریم ورک پر قائم ہے۔ اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ اسلامی جمہوریہ صرف ایک عام جابرانہ ریاست نہیں، بلکہ داخلی اور خارجی دونوں حوالوں سے ایک واضح طور پر رجعتی کردار ادا کرتی ہے۔ میری کوشش ہے کہ اسلامی جمہوریہ اور ایرانی سوشلسٹ تحریک کے درمیان محض مخالفت سے آگے بڑھ کر یہ واضح کیا جائے کہ ایران کو ایک سامراج دشمن قوت یا صرف ایک ایسی جغرافیائی طاقت سمجھنا جو سامراج کو روک سکتی ہے، ایک محدود تصور ہے۔ ایران کے داخلی خدوخال نہ صرف علاقائی تنازعات کے نتائج کو متعین کرتے ہیں، بلکہ براہ راست 9 کروڑ ایرانیوں کی تقدیر پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ کی نوعیت

اس سے پہلے کہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بطورریاست نوعیت کا تعین کرنے کی کوشش کروں، میں چاہوں گا کہ پہلے مختصراً جائزہ لیا جائے کہ ایرانی سوشلسٹ تحریک کی چند نمایاں تنظیمیں اس کے ڈھانچے کو کس طرح بیان کرتی ہیں۔ میں بعد از انقلاب کے ابتدائی دور کی تعریفات کا حوالہ نہیں دوں گا بلکہ موجودہ ادوار کی توجیہات پر توجہ مرکوز کروں گا۔

آئیے آغاز کرتے ہیں ایران کی سب سے پرانی سیاسی جماعت تودہ پارٹی آف ایران سے۔ 2014 میں 1979کے انقلاب کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر تودہ پارٹی نے ایک بیان جاری کیا ،جس میں اسلامی جمہوریہ کو مجموعی طور پر ایک سرمایہ دارانہ تھیوکریٹک آمریت کے طور پر بیان کیا گیا۔ تنظیم فدائیان (اقلیت) بھی اسلامی جمہوریہ کو ایک سرمایہ دارانہ مذہبی آمریت قرار دیتی ہے۔ یوم مئی کے اعلامیوں اور ’ژینا بغاوت‘کے دوران جاری بیانات میں وہ ’فاشسٹ اسلامی جمہوریہ‘کی اصطلاح بھی استعمال کرتے ہیں۔

کمیونسٹ پارٹی آف ایران (مارکس اسٹ لینن اسٹ ماؤاسٹ) اس حکومت کو تھیوکریٹک فاشزم قرار دیتی ہے۔ ان کے بیانات میں اسلامی جمہوریہ کی جابرانہ، مذہبی اور استحصالی فطرت کو اجاگر کیا جاتا ہے، اور ریاست کی منظم پرتشدد حکمت عملی کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ وہ یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ ایران کا سرمایہ دارانہ معاشی نظام نہ تو سامراج مخالف ہے اور نہ ہی اس سے آزاد، بلکہ بین الاقوامی سامراجی نظام پر سٹرکچرل انحصار کرتا ہے۔دوسری جانب کمیونسٹ پارٹی آف ایران اسلامی جمہوریہ کو نوآبادیاتی، شاؤنسٹ اور سرمایہ دارانہ ریاستی ڈھانچے کے طور پر بیان کرتی ہے۔

ان مثالوں سے واضح ہے کہ ایرانی سوشلسٹ تحریک مجموعی طور پر اسلامی جمہوریہ کو ایک سرمایہ دارانہ ریاست سمجھتی ہے، اور ساتھ ہی اس کے مذہبی، پدرشاہی اور جابرانہ خدوخال کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ ’فاشزم‘کی اصطلاح بھی ان تنظیموں کی جانب سے استعمال کی جاتی ہے، اگرچہ اکثر یہ اصطلاح کلاسیکی تعریف کی بجائے وسیع معنوں میں استعمال ہوتی ہے ، یعنی ریاست کے منظم تشدد، مذہبی، پدرشاہی اور قوم پرستانہ نظریات پر انحصار کی طرف اشارہ کرنے کے لیے۔

میں اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک آمرانہ سرمایہ دار ریاست کے طور پر بیان کرتا ہوں، جسے مذہبی علما اور عسکری قوتوں کی شراکت میں چلایا جاتا ہے۔ ایران کی معیشت کا ایک بڑا حصہ تیل اور قدرتی گیس کے شعبے میں جڑا ہوا ہے، جسے سرکاری ادارے چلاتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ معیشت مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد کچھ نیشنلائزیشن سے یہ تاثر ضرور پیدا ہوا تھا، مگر 1990 کی دہائی میں شروع ہونے والے نجکاری کے اقدامات نے اس تاثر کو ختم کر دیا۔ زیادہ تر صنعتی ادارے اور تجارتی ادارے یا تو براہ راست نجی شعبے کو دے دیے گئے یا نیم ریاستی اداروں ،جیسے کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) اور ’بنیاد ‘کے حوالے کر دیے گئے، جو درحقیقت نجی اداروں کی مانند کام کرتے ہیں۔

نتیجتاً بینک، کارخانے، شہری جائیداد اور دیہی زرعی زمینیں ان افراد، اداروں، اور بنیادوں کے درمیان تقسیم ہو گئیں جو حکمران اشرافیہ سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔ تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی اسلامی جمہوریہ کے اقتدار کے ستونوں کو مستحکم کرنے میں صرف کی جانے لگی۔ اس عمل نے ایک نئی بورژوازی کو جنم دیا، جس نے قومی وسائل پر قبضہ جما لیا۔ یوں ایک بار پھر ایران کی دولت چند ہاتھوں میں سمٹ گئی۔یہ دولت اور غربت کی تقسیم صرف انفرادی سطح پر ہی نہیں بلکہ جغرافیائی اور شہری منظرنامے پر بھی ظاہر ہوئی۔ چند بڑے شہر دولت اور وسائل کے مراکز بن گئے، جب کہ ملک کے وسیع علاقے شدید غربت کا شکار رہے، جہاں بنیادی حقوق اور بنیادی ڈھانچے کی بھی شدید کمی تھی۔

اسلامی جمہوریہ ایک آمرانہ حکومت بھی ہے۔ اس کے آئینی ڈھانچے کے مطابق رہبر اعلیٰ (سپریم لیڈر)براہ راست عوامی ووٹ سے منتخب نہیں ہوتا بلکہ ماہرین کی مجلس کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے، جو کہ 88 علما پر مشتمل ایک ادارہ ہے جسے خود رژیم منظور کرتی ہے۔ عدلیہ ایک ایسے عالم دین کے ذریعے چلائی جاتی ہے جسے رہبر اعلیٰ مقرر کرتا ہے۔ یوں عدالتی طاقت مکمل طور پر اعلیٰ ترین مذہبی اتھارٹی کے تابع رہتی ہے۔

قانون ساز یا انتظامی اداروں میں انتخاب لڑنے کے خواہشمند تمام امیدواروں کو پہلے ان اداروں سے منظوری لینی ہوتی ہے جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر رہبر اعلیٰ کے ماتحت ہوتے ہیں۔ صرف اس فلٹر سے گزرنے کے بعد ہی وہ ان نام نہاد انتخابات کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ میڈیا مکمل طور پر یا تو ریاست کے کنٹرول میں ہے یا ایسے دھڑوں اور اداروں کے ہاتھ میں ہے جو حکومت کے وفادار ہیں۔

وہ سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی کی تنظیمیں یا مزدور یونینیں جو حکومت کی منظوری کے بغیر سرگرم ہوتی ہیں، ان پر سخت پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ جو آزاد گروہ وجود میں آتے ہیں، انہیں مسلسل جبر، گرفتاریوں یا مکمل طور پر منظر عام سے ختم کر دینے جیسے ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مختصراً یہ کہ ایران میں عدالتی، قانون ساز، انتظامی، عسکری، ثقافتی، اور معاشی تمام اختیارات رہبر اعلیٰ اور اس کے گرد قائم طاقت کے جال کے کنٹرول میں مرکوز ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران ایک مذہبی آمریت بھی ہے ۔یہ ایک ایسا سیاسی نظام ہے،جہاں مذہب اور ریاست مکمل طور پر ایک دوسرے میں مدغم ہیں۔ اسلامی جمہوریہ کے آئین کے مطابق اثناعشری شیعہ اسلام ریاستی مذہب ہے، اور تمام قوانین کو اسلامی اصولوں کے مطابق وضع کیا جاتا ہے۔ عدالتی نظام شیعہ علما کی فقہی تشریحات کے تحت کام کرتا ہے، جن کی اتھارٹی منتخب اداروں اور عوامی رائے پر بھی فوقیت رکھتی ہے۔

یہ مذہبی ڈھانچہ قانونی اور سیاسی سطح پر عوام کو جنس، مذہب، اور عقیدے کی بنیاد پر غیر مساوی طبقات میں تقسیم کرتا ہے۔ حقوق اور آزادیوں کو صرف اس حد تک تسلیم کیا جاتا ہے جہاں وہ ’اسلامی اصولوں‘سے متصادم نہ ہوں۔ اس طرح آئین مذہب کو ایک ذاتی معاملے سے ریاستی کنٹرول کے آلے میں بدل دیتا ہے۔ریاست کے تمام ادارے اس مذہبی نظریے کو مستحکم کرنے کے لیے متحرک کیے گئے ہیں۔ میڈیا، تعلیمی نظام، اور ثقافت جیسے شعبوں کو رژیم نے اپنے مذہبی نظریے کو مسلط کرنے اور پھیلانے کے لیے استعمال کیا ہے، تاکہ پورے سماج میں دنیا کو دیکھنے کے اپنے مذہبی اطوارکو رائج کیا جا سکے۔

اسلامی جمہوریہ ایران اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی، پاسداران انقلاب) پر انحصار کرتا ہے، جو حکومت کا بنیادی دباؤ اور تحفظ کا آلہ ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، ایران میں افراد اور برادریوں کو جنس، نسل، اور مذہب کی بنیاد پر منظم امتیاز کا سامنا ہے۔ ہر سال سیکڑوں افراد کو پھانسی دی جاتی ہے ۔ ان میں خصوصی طور پر کرد، عرب اور بلوچ شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کو سیاسی وجوہات کی بنا پر، اور کئی کو صرف غیر فارسی یا غیر شیعہ اقلیت سے تعلق رکھنے کی بنا پرسزائیں دی جاتی ہیں۔

محنت کش طبقے کو آزاد یونین بنانے یا تنظیم سازی جیسے بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں۔ بہتر تنخواہوں یا کام کے حالات کی کوششوں کا سامنا شدید ریاستی جبر سے ہوتا ہے۔ آئی آر جی سی اس جبر و استحصال کے نظام کا مرکزی ستون ہے ۔ نہ صرف ملک کے اندر بلکہ خطے میں ہونے والے تنازعات میں بھی اس کا مرکزی کردار ہے۔

آئی آر جی سی کے بنیادی کردار، اس کے اندرونی و بیرونی پالیسیوں پر گہرے اثرات، اور امریکہ کے خلاف اس کی مزاحمتی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے، اسے سمجھے بغیر اسلامی جمہوریہ کے طاقت کے ڈھانچے کو سمجھنا ناممکن ہے۔ اسی لیے اب ہم دیکھیں گے کہ آئی آر جی سی کس طرح وجود میں آئی اور کس طرح وہ ریاست کی عسکری و سیاسی طاقت کا مرکز بن گئی۔

اسلامی جمہوریہ میں آئی آر جی سی کا مقام

آئی آر جی سی کو انقلاب 1979 کے فوراً بعد قائم کیا گیا، اس مقصد کے ساتھ کہ مذہبی آمریت کو مضبوط کیا جائے اور بائیں بازو اور جمہوری قوتوں کو ختم کیا جائے۔ اس کا قانونی فرض یہ ہے کہ رہبر اعلیٰ کی اتھارٹی اور نام نہاد ’اسلامی انقلاب‘کا دفاع کرے، اور اس وجہ سے یہ ادارہ کسی بھی پابندی سے مبرا ہے۔

آج اس کا مسلح ونگ بری، فضائی، بحری، اور قدس فورس پر مشتمل ہے۔ قدس فورس بیرون ملک کارروائیوں کی ذمہ دار ہے،اور گزشتہ دو دہائیوں میں بہت زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔ تاہم آئی آر جی سی محض ایک فوجی ادارہ نہیں ہے۔ یہ ایک سکیورٹی ایجنسی، انٹیلی جنس ادارہ، سماجی نگرانی اور جبر کا نظام، ثقافتی ادارہ، اور مالی و صنعتی اجارہ دار بھی ہے۔ اس کا اثر معاشرے کے تقریباً ہر پہلو میں گہری جڑیں رکھتا ہے، اور یہی اسے اسلامی جمہوریہ کا سب سے طاقتور ادارہ بناتا ہے۔

آئی آر جی سی کے مسلح دستوں کے علاوہ اس کا نیم فوجی ونگ ’بسیج‘بھی ہے، جو رضاکار ملیشیا کو منظم کرتا ہے۔ عام طور پر یہ مقامی مساجد کے ذریعے بھرتی ہوتے ہیں، اور انہیں حکومت مخالف تحریکوں کو دبانے اور سماجی کنٹرول قائم رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ نوجوانوں کو نظریاتی تربیت دینے کے لیے آئی آر جی سی کی ثقافتی مہمات میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

آئی آر جی سی کا اپنا انٹیلی جنس ادارہ بھی ہے، جو اکثر ریاست کی باقاعدہ وزارت اطلاعات کے متوازی اور آزاد طریقے سے کام کرتا ہے۔ یہ ایجنسی سیاسی مخالفین کو اغواء، خاموش اور بعض صورتوں میں ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ میڈیا اور پروپیگنڈے کے میدان میں آئی آر جی سی ’فارس‘ اور ’تسنیم‘ جیسی موثر نیوز ایجنسیوں کو کنٹرول کرتی ہے، اور ایسے ڈاکومنٹری اور ٹی وی سیریلز تیار کرواتی ہے جو عوامی رائے کو مسخ کر کے ریاستی بیانیہ مسلط کریں۔

معاشی میدان میں آئی آر جی سی ایک ایسی وسیع و عریض اجارہ داری کی شکل اختیار کر چکی ہے جو تعمیرات، توانائی، صنعت، ٹیلی کمیونیکیشن، بینکاری، اور مالیاتی شعبوں میں سرگرم ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایران کے نجی شعبے کی سب سے بڑی آجر ہے، جس کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ملازمین اور 800 سے زائد رجسٹرڈ کمپنیاں ہیں۔

قانونی معیشت سے ہٹ کرآئی آر جی سی غیر قانونی تجارت ، جیسے الیکٹرانکس، شراب، سگریٹ، اور دیگر اشیاء کی سمگلنگ پر بھی مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ساحلی علاقوں، بندرگاہوں اور گودیوں پر اس کا قبضہ اتنا مکمل ہے کہ ایران کی کوئی بڑی درآمد یا برآمد اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ ان غیر قانونی تجارتوں کے مالی لین دین بھی ان بینکوں اور اداروں کے ذریعے ہوتے ہیں جو آئی آر جی سی کی ملکیت میں ہیں ۔ یوں ایران کی معیشت پر اس کا غلبہ مکمل ہو چکا ہے۔

ایسا ادارہ جو معاشرے کے ہر شعبے میں گہرا اثر رکھتا ہو، وہ سیاست سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا۔تاہم ایک روایتی فوجی ادارے کے برعکس آئی آر جی سی محض فوجی بغاوت کی دھمکی پر انحصار نہیں کرتی، بلکہ یہ فوجی طاقت اور وسیع معاشی قوت کے امتزاج سے اپنا سیاسی اثرورسوخ قائم رکھتی ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ ریاستی ڈھانچے کا حصہ ہے، مگر عملی طور پر یہ ایک آزاد اور متوازی طاقت کا ڈھانچہ ہے۔ اپنی گہری جڑوں کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ کے کسی بھی ادارے میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ آئی آر جی سی کو جوابدہ بنا سکے یا اس پر کنٹرول قائم کر سکے۔

اسلامی جمہوریہ اور سامراج دشمنی

اسلامی جمہوریہ کی نوعیت اور اسے تحفظ فراہم کرنے والا فوجی ادارہ ’آئی آر جی سی ‘ خود اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ہمیں بین الاقوامی تنازعات میں کس پوزیشن پر کھڑا ہونا چاہیے۔ اس موقف کو الجھا دینے والی بات یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ طویل عرصے سے سامراجی طاقتوں اور ان کے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تصادم میں ہے۔ تاہم اس تصادم کی نوعیت ترقی پسندانہ ہرگز نہیں۔

یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اسلامی جمہوریہ نے 1979 کے انقلاب کے دوران سامراج دشمن موقف اپنایا تھا اور بعد میں اس راہ سے ہٹ گیا۔ حقیقت میں سامراجی قوتوں خصوصاً امریکہ نے اسلام پسند تحریک کو سوویت اثر و رسوخ کو روکنے اور انقلابی قوتوں کو دبانے کا ایک موثر ذریعہ سمجھا۔ خمینی نے ایران واپسی سے قبل امریکی حکام سے رابطہ کیا تاکہ اسلامی تحریک کے خلاف فوجی بغاوت کو روکا جا سکے، مگر عوامی دباؤ اور انقلابی تنظیموں کی مزاحمت نے اسلامی جمہوریہ کو وقتی طور پر امریکہ مخالف بیانیہ اپنانے پر مجبور کیا۔

اس کے بعد جب ریاست نے انقلابیوں کا قتل عام کر کے انہیں ایران کے سیاسی منظرنامے سے مٹا دیا، تو اس نے سامراج دشمنی کا بیانیہ مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیا۔ یوں ایران کے علاقائی مفادات آہستہ آہستہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تذویراتی اہداف سے ٹکرانے لگے۔ اس تضاد کو سنبھالنے کی کوشش میں اسلامی جمہوریہ ایک طرف ان تنازعات کو ختم کرنے کی جدوجہد کرتا رہا، اور دوسری طرف روس اور چین جیسی عالمی طاقتوں پر انحصار میں بھی اضافہ کرتا چلا گیا۔
دوسری جانب اگرچہ ایران کو 1980 کی دہائی سے مختلف قسم کی پابندیوں کا سامنا ہے، لیکن اس کی معیشت اب بھی عالمی سرمایہ دارانہ منڈیوں اور اداروں سے گہری جڑی ہوئی ہے۔ ان معاشی روابط کا مطلب یہ ہے کہ ایران کو سامراجی طاقتوں کے زیر اثر سیاسی و معاشی عالمی نظام کی پاسداری کرنی پڑتی ہے۔

مثلاً، اگرچہ اسلامی جمہوریہ خود کو عالمی سطح پر ایک خودمختار قوت کے طور پر پیش کرتا ہے،لیکن اس نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ہدایات کے مطابق پالیسیاں اپنائی ہیں۔ 1990 کی دہائی میں شروع کی جانے والی نجکاری کی مہم بھی آئی ایم ایف کی رہنمائی میں کی گئی، جس میں بنیادی اشیاء پر سبسڈی کا خاتمہ بھی شامل تھا۔ مزید برآں ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر سامراجی قوتوں سے مسلسل مذاکرات کیے ہیں۔ تاہم اسلامی جمہوریہ کے اندرونی اقتداری تضادات ان مذاکرات کو اکثر سبوتاژ کر دیتے ہیں، جس کے باعث یہ تنازعات کسی دیرپا حل تک نہیں پہنچتے۔

رہبر اعلیٰ کے گرد موجود افراد اور گروہ مختلف ادارہ جاتی ڈھانچوں کے ذریعے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ سیاسی تنوع محض ’اصولی پسند‘اور ’اصلاح پسند‘ کی سادہ تقسیم سے کہیں آگے کا معاملہ ہے۔ یہاں میں تین الگ الگ دھڑوں کو اجاگر کرنا چاہتا ہوں۔

علماء کا دھڑا ،جنہیں عمومی طور پر’ملا‘ کہا جاتا ہے، اسلامی جمہوریہ کے اندر سرایت شدہ ہے اور مذہبی نظام کے تحت براہ راست فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ ایک مکمل استحصالی نظام کی نگرانی کرتا ہے جو عدلیہ، مذہبی بنیادوں، مدارس اور مذہبی اداروں کے ذریعے کام کرتا ہے۔ ’بنیاد‘ وہ چینل ہیں جن کے ذریعے مالی وسائل کی ترسیل ہوتی ہے، جب کہ دیگر طاقتور ادارے اس نظام کی بیوروکریٹک مشینری کو چلاتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر کسی بھی بڑی تبدیلی سے یہ پورا نیٹ ورک متاثر یا کمزور ہو سکتا ہے۔

آئی آر جی سی اس کی سیاسی اور معاشی طاقت کا بڑا حصہ امریکہ کے ساتھ جاری تنازع سے جنم لیتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں قدس فورس ایران کی سب سے نمایاں خارجہ پالیسی کا آلہ بن چکی ہے۔ آئی آر جی سی کسی بھی طرح سے ترقی پسند قوت نہیں بلکہ یہ خطے کی سیاست اور جنگوں میں صرف اپنی بالادستی اور استحصالی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ملوث ہے۔ یہ کبھی کبھار اپنے سخت گیر موقف کو نرم کر سکتی ہے، لیکن ایسا کرنا ایران کی اندرونی سیاست میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔

تیسرااصلاح پسند جھکاؤ رکھنے والا ایک دھڑا ہے۔ یہ نسبتاً کمزور اور بعض اوقات غیر موثر ہوتا ہے، مگر یہ بھی اسلامی جمہوریہ کے اندر ہی کام کرتا ہے۔ یہ دھڑا ایران کی داخلی خرابیوں کی وجہ خارجہ پالیسی کو قرار دیتا ہے۔ ان کے نزدیک ایران کی کمزور معیشت، وسیع غربت، اور عوامی بے چینی کی بنیادی وجہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تصادم ہے۔ یہ گروہ امریکہ اور دیگر سامراجی قوتوں سے ’نارمل تعلقات‘کو مسئلے کا حل سمجھتا ہے، اور موجودہ بحران کو داخلی بدعنوانی، لوٹ کھسوٹ اور دہائیوں کی حکومتی ناکامیوں کا نتیجہ سمجھنے کی بجائے اسے بین الاقوامی تنازعے سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔

مختصراً یہ کہ اسلامی جمہوریہ کا سامراج دشمن بیانیہ محض ظاہری مخالفت ہے، جس کا مقصد اپنے اندرونی اقتدار کو محفوظ رکھنا، معاشی مفادات کو مستحکم کرنا، اور عوامی تحریکوں کو دبانا ہے۔ اس لیے بائیں بازو کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ تو اسلامی جمہوریہ کو ایک حقیقی سامراج دشمن قوت سمجھے، اور نہ ہی اس کی مخالفت میں سامراجی مداخلت کو قبول کرے ، بلکہ ایک آزاد، مزدور دوست، اور عوامی مزاحمت کی بنیاد پر اپنا موقف تشکیل دے۔

تیسری راہ کے مباحث

ایرانی سوشلسٹ تحریک کے ایک بڑے طبقے کے نزدیک اسلامی جمہوریہ نہ صرف ایک جابرانہ حکومت ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک رجعتی تسلسل بھی ہے۔ اسی وجہ سے وہ ایران اور امریکہ یا اسرائیل کے درمیان تصادم کو بذات خود ترقی پسند نہیں سمجھتے۔ یقینا ایران اور امریکہ یا اسرائیل کو رجعت پسندی کی سطح پر برابر نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی انہیں یکساں برتاؤ کا مستحق سمجھنا چاہیے۔ تاہم یہ حقیقت کہ ایک فریق دوسرے سے زیادہ رجعتی ہے، خودبخود دوسرے کو ترقی پسند ثابت نہیں کرتی۔ سامراجیت کا مقابلہ کرنا اسٹریٹجک طور پر اہم ہو سکتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کے نتائج ترقی پسند ہوں یا اس سے سامراجی بالادستی کمزور ہو۔ ہم نے افغانستان میں اس کی مثال دیکھی۔

طبیعیات میں کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ایک پیچیدہ، کثیر الجہتی مساوات جس میں کئی نامعلوم عناصر شامل ہوں، کو مختلف مفروضات کے ذریعے آسان کر کے یک سمتی مساواتوں میں بدل دیا جاتا ہے تاکہ مسئلہ آسانی سے حل ہو سکے۔ تاہم اکثر یہ حل اتنے زیادہ تخمینوں پر مبنی ہوتے ہیں کہ وہ اس نظام کے حقیقی طرز عمل کو درست طور پر ظاہر نہیں کر پاتے، اور نتیجتاً پیش گوئیاں غلط ہو جاتی ہیں۔ میرے خیال میں ہم ایران اور امریکہ واسرائیل کے درمیان تصادم کو بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔ چونکہ ہم چاہتے ہیں کہ سامراجیت کو پیچھے دھکیل دیا جائے، اس لیے ہم اس مساوات کے دیگر تمام عوامل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم صورت حال کو ایک سادہ، یک سمتی مسئلہ بنا کر دیکھتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی پوزیشن طے کرتے ہیں۔

اس حقیقت کے علاوہ کہ اسلامی جمہوریہ نے مشرق وسطیٰ کو مستقل رجعتی جنگوں کی آماجگاہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے،اس مساوات میں ہم آخر کس چیز کو نظر انداز کر رہے ہیں؟ میں ایک اور پہلو کی نشان دہی کرنا چاہتا ہوں۔وہ یہ کہ ہم 9 کروڑ افراد کی قسمت کو ایک رجعتی حکومت کے سپرد کر دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ محض ’انسانی حقوق‘یا اس بات کا نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایک جابرانہ ریاست ہے، بلکہ ہم یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ عوام خود اپنی تقدیر کا تعین نہیں کر سکتے۔ نتیجتاً لوگ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، اور انہیں لگنے لگتا ہے کہ آزادی صرف بیرونی مداخلت سے ہی ممکن ہے۔ اس عمل میں ہم غیر ارادی طور پر سامراجی قوتوں کی مرضی کو ان پر تھوپ دیتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ کا حالیہ دفاع، جو سوشلسٹ تحریک کے بعض حلقوں کی جانب سے سامنے آیا ہے، محض ایک وقتی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک گہری نظریاتی سمت کا اظہار ہے۔ یہاں تک کہ جب مزدور طبقہ بے روزگاری اور غربت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے، یا ایرانی عوام اپنے بنیادی جمہوری حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، تب بھی یہ سوشلسٹ ان تحریکوں کو امریکہ یا اسرائیل کی سازش قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ ایران کے خلاف سامراجی جارحیت کے تناظر میں دفاعی جبلت کو وقتی حکمت عملی کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، لیکن ہر خودمختار جدوجہد کے امکان کی مکمل نفی دراصل ایک گہری نظریاتی رکاوٹ کی نشان دہی کرتی ہے۔

ہم ان لوگوں کی بات کر رہے ہیں جنہوں نے کبھی اٹھ کر امریکہ کو اپنے وطن سے نکال باہر کیا تھا۔ یہ اسلامی جمہوریہ نہیں بلکہ ایرانی عوام ہی تھے جنہوں نے واقعی امریکہ کو پیچھے دھکیلا، لیکن جب ان کا انقلاب ہائی جیک کر لیا گیا اور برسوں کی جدوجہد کو اسلامی جمہوریہ نے سفاکی سے کچل دیا، تو وہ تھک ہار کر مایوسی کا شکار ہو گئے۔ پھر بھی اس تھکن کے باوجود وہ گزشتہ دہائی میں کم از کم تین بڑی عوامی بغاوتوں کے ذریعے اسلامی جمہوریہ کی بنیادیں ہلا چکے ہیں۔ ان میں سے دو بغاوتیں غریب عوام کی تھیں جو اپنی بھوک تک نہیں مٹا سکتے تھے، اور تیسری خواتین کی قیادت میں حجاب کے جبری قوانین کے تحت ہونے والے قتل کے خلاف ایک شدید ردعمل تھا۔

جب میں تھکن کی بات کرتا ہوں تو میرا مقصد مایوسی پھیلانا نہیں۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ترقی پسند قوتوں کو اس جبر کو ختم کرنے اور حالات کو بدلنے کے لیے ایک خودمختار جدوجہد منظم کرنی چاہیے۔ اگر آج کی سماجی مزاحمتی قوتیں اسلامی جمہوریہ سے آزاد راستہ اختیار نہ کریں تو پھر وہ اپنے لیے کون سا راستہ تراشیں گی؟ کیا ہم 1979 کے انقلاب کو مکمل تاریخ سمجھ کر دفن کر چکے ہیں؟ کیا ایران میں اس انقلاب کا کوئی نیا، ترقی پسند مرحلہ ممکن نہیں؟ اور اگر ہے، تو کیا وہ آئی آر جی سی کے ساتھ اتحاد کے ذریعے حاصل ہو گا؟ اگر کوئی فرد نام نہاد’ مزاحمت کے محور‘ کی بائیں بازو کی صف میں شامل نہیں، جو زیادہ تر اسلامی جمہوریہ سے مالی معاونت پر چلتے ہیں، تو یہ سوال ہی نہیں اٹھنا چاہیے۔ ایک ایرانی سوشلسٹ کے لیے فرض ہے کہ وہ امید کی اس مدھم سی روشنی کو تھامے رکھے، چاہے وہ زندگی اور موت کے درمیان مدہم سی چمک ہی کیوں نہ ہو۔

آج اگرچہ ایران سامراجی حملے کی زد میں ہے، لیکن اسلامی جمہوریہ کو عوامی سطح پر وسیع حمایت حاصل نہیں کیونکہ اصلی سامراج مخالف قوتوں کو ختم کر دیا گیا ہے، اور سامراج مخالف جذبہ روزمرہ کی زندگی سے مٹ چکا ہے۔ نتیجتاً خطے میں کوئی حقیقی سامراج مخالف جدوجہد تبھی ممکن ہو گی جب اسلامی جمہوریہ کو اندرونی سماجی مزاحمت کے ذریعے ختم کیا جائے۔ یہ صورت حال ایرانی سوشلسٹ تحریک کو کم از کم نظریاتی سطح پر مجبور کرتی ہے کہ وہ ایران کے اندر ایک خودمختار جدوجہد منظم کرے۔ البتہ یہ بحث اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا ایک ایسی سوشلسٹ تحریک جو جبر کا شکار ہو اور تنظیمی طور پر کمزور ہو، حقیقتاً ایک خودمختار سامراج مخالف جدوجہد منظم کرنے کی عملی صلاحیت رکھتی بھی ہے یا نہیں۔ تاہم اس امکان کی عدم موجودگی، اس جدوجہد کی ناگزیر ضرورت کو ختم نہیں کرتی۔

(بشکریہ: ’دی لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Araz Bağban
ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں