روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

’انقلاب روس کی تاریخ‘: دوسری اور تیسری جلد کا تعارف

’انقلاب روس کی تاریخ‘: دوسری اور تیسری جلد کا تعارف

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

روس اپنے بورژوا انقلاب کی تکمیل میں اتنا تاخیر زدہ تھا کہ اِسے پرولتاری انقلاب میں تبدیل کرنے پر مجبور ہو گیا۔ دوسرے الفاظ میں: روس دوسرے ممالک سے اِتنا پیچھے تھا کہ کم از کم کچھ شعبوں میں اُنہیں پچھاڑ دینے پر مجبور ہو گیا۔ یہ بے ربط محسوس ہوتا ہے، لیکن تاریخ ایسے متناقضوں (Paradoxes) سے بھری پڑی ہے۔ سرمایہ دارانہ برطانیہ دوسرے ممالک سے اِتنا آگے تھا کہ اُسے اُن کے پیچھے گھسٹنا پڑا۔ کتاب پرست سمجھتے ہیں کہ جدلیات کوئی ذہن کا فضول کھیل ہے۔لیکن درحقیقت یہ ارتقا کے اُس عمل کو ہی نقل کرتی ہے جو تضادات کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔
اِس کتاب کی پہلی جلد کو واضح کردینا چاہئے کہ زارشاہی کی جگہ لینے والا جمہوری نظام حکومت بالکل ناقابل عمل کیوں ثابت ہوا۔ موجودہ جلدیں بالشویکوں کے برسر اقتدار آنے کے لئے وقف ہیں۔ یہاں بھی بنیادی چیز طرز بیان ہے۔ خود حقائق سے ہی قاری کو نتائج اخذ کرنے میں کافی مدد ملنی چاہئے۔
اِس سے مصنف کی مراد یہ نہیں ہے کہ اُس نے سماجی عمومیت کاریوں سے پرہیز کیا ہے۔ تاریخ اگر کچھ سکھانہ پائے تو اِس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی۔ انقلاب ِ روس کا دیوہیکل خاکہ، اِس کے مراحل کا تسلسل، عوام کا بے رحم دباؤ، سیاسی گروہ بندیوں کی کاملیت، نعروں کا اختصار… یہ سب کچھ بالعموم انقلاب اور اُس کے ساتھ انسانی سماج کی سمجھ کو عمدہ انداز میں پروان چڑھاتا ہے۔ہم اِسے تاریخ کی ساری روش سے ثابت شدہ سمجھ سکتے ہیں کہ داخلی تضادات سے پھٹا ہوا سماج ایک انقلاب کے دوران نہ صرف اپنی جسمانی ساخت بلکہ اپنی ’’روح‘‘ کو بھی فیصلہ کن انداز سے ظاہر کرتا ہے۔
ایک زیادہ فوری انداز میں موجودہ تصنیف کو سوویت یونین کے کردار کی سمجھ کو پروان چڑھانا چاہئے۔ ہمارا موضوع نہ صرف اِس لئے بروقت ہے کہ اکتوبر انقلاب اُس نسل کی نظروں کے سامنے برپا ہوا جو ابھی تک زندہ ہے، بلکہ اِس لئے بھی کہ انقلاب سے برآمد ہونے والا نظام حکومت ابھی زندہ ہے، نمو پا رہا ہے اور انسانیت کے سامنے مسلسل نئے معمے رکھ رہا ہے۔ ساری دنیا میں سوویت ملک کا سوال ایک لمحے کے لئے بھی غائب نہیں ہوتا۔ تاہم کسی بھی موجود چیز کو اُس کے ماخذ کے ابتدائی معائنے کے بغیر سمجھنا ناممکن ہوتا ہے۔ بڑے پیمانے کی سیاسی پرکھ کے لئے تاریخی تناظر لازمی ہوتا ہے۔
فروری سے اکتوبر 1917ء تک انقلاب کے آٹھ ماہ کے لئے تین جلدیں درکار تھیں۔ ناقدین نے ہم پر طوالت کا الزام نہیں لگایا ہے۔ تصنیف کی وسعت کی وضاحت کسی حد تک مواد کے بارے میں ہمارے نکتہ نظر سے ہوتی ہے۔ ہاتھ کی تصویر ایک صفحے پر پیش کی جا سکتی ہے، لیکن اِس کے بافتوں کا خوردبینی جائزہ پیش کرنے کے لئے ایک جلد درکار ہوتی ہے۔ اپنی تحقیق کے مکمل ہونے یا اِس کی کاملیت کے بارے میں مصنف کو کوئی خوش فہمی نہیں ہے۔ تاہم کئی صورتوں میں اُسے ایسے طریقے استعمال کرنے پڑے جو کیمرے سے زیادہ خوردبین سے مشابہ تھے۔
بعض اوقات جب ہمیں محسوس ہوا کہ ہم قاری کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں تو ہم نے بڑی سخاوت سے کچھ گواہان کے بیانات، کسی شریک کے اعتراف یا کسی ثانوی واقعے کو کاٹ دیا، لیکن جو کچھ کاٹا تھا بعد ازاں اُس میں سے کافی کچھ اکثر اوقات بحال کر دیا۔ تفصیلات کی اِس جدوجہد میں ہماری رہنمائی یہ خواہش کر رہی تھی کہ انقلاب کے حقیقی عمل کو جہاں تک ممکن ہو سکے ٹھوس انداز سے واضح کریں۔ تاریخ میں زندگی کا رنگ بھرنے کی کوشش نہ کرنا بالخصوص ناممکن تھا۔
ذاتی رومانس کی کسی نئی شکل، دل شکستہ لوگوں کے پس و پیش یا پھر آرزو مندوں کے کاروبارِ زندگی کی کوئی داستان پیش کرنے والی ہزاروں کتابیں ہر سال منڈی میں پھینکی جاتی ہیں۔پروست [۱] کی ہیروئن کو یہ محسوس کرنے کے لئے بڑی نفاست سے لکھے ہوئے کئی صفحات درکار ہوتے ہیں کہ وہ کچھ محسوس نہیں کر رہی۔ کم از کم اتنے ہی انصاف سے اجتماعی تاریخی ڈراموں کے اُس سلسلے کی طرف بھی توجہ کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے جس نے اقوام کا کردار تبدیل کرتے ہوئے اور انسانیت کی زندگی میں ہمیشہ کے لئے در آتے ہوئے دسیوں لاکھ انسانوں کو عدم وجود سے نکالا۔
پہلی جلد میں ہمارے حوالوں اور اقتباسات کی صداقت پر ابھی تک کسی نے سوال نہیں اٹھایا ہے: ایسا کرنا یقینا مشکل ہو گا۔ ہمارے مخالفین نے خود کو زیادہ تر اِس موضوع تک محدود رکھا ہے کہ ذاتی تعصب اپنا اظہار حقائق اور عبارات کے جانبدارانہ اور مصنوعی انتخاب میں کیسے کر سکتا ہے۔اپنے اندر ناقابل تردید ہونے کے باجود یہ مشاہدات زیر بحث تصنیف کے بارے میں کچھ نہیں کہتے ہیں اور اِس کے سائنسی طریقوں کے بارے میں تو بالکل بھی کچھ نہیں کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم زور دے کر کہہ سکتے ہیں کہ موضوعیت کی وسعت اور حدود کا تعین اور اس کی پرکھ مورخ کے مزاج سے نہیں بلکہ اس کے طریقہ کار کے انداز سے ہوتی ہے۔
خالصتاً نفسیاتی طبقہ فکر ، جو واقعات کی بافت کو افراد اور اُن کی گروہ بندیوں کی آزادانہ سرگرمیوں کے طور پر دیکھتا ہے، محقق کے بہترین ارادوں کے باوجود من مرضی کی وسیع گنجائش پیدا کر دیتا ہے۔ مادی طریقہ کار تاریخ دان کو پابند کرتا ہے اور اُسے سماجی ڈھانچے کے بھاری حقائق کو اپنا نقطہ آغاز بنانے پر مجبور کرتا ہے۔ہمارے لئے طبقات ہی تاریخی عمل کی بنیادی قوتیں ہیں؛ سیاسی پارٹیاں اُن پر منحصر ہوتی ہیں؛ معروضی مفادات کی ریزگاری کے طور پر نظریات اور نعرے برآمد ہوتے ہیں۔ تحقیق کی ساری روش معروضی سے موضوعی، سماجی سے انفرادی اور بنیادی سے ضمنی کی طرف جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار مصنف کی من مرضی پر سخت حدود عائد کر دیتا ہے۔
جب کانکنی کا کوئی انجینئر کسی غیر تحقیق شدہ علاقے میں ڈرلنگ کے ذریعے مقناطیسی کچ دھات دریافت کرتا ہے تو یہ فرض کرنا ہمیشہ ممکن ہوتا ہے کہ یہ کوئی خوشگوار حادثہ تھا؛ [صرف اِس دریافت کی بنیاد پر] ایک کان کی تعمیر کی تجویز بمشکل ہی دی جا سکتی ہے۔ لیکن جب یہی انجینئر ایک مقناطیسی سوئی کے رُخ موڑ لینے کی بنیاد پر اِس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ زمین میں کچ دھات کا ذخیرہ موجود ہے اور بعد ازاں علاقے میں مختلف جگہوں سے واقعتا کچ دھات نکالتا بھی ہے تو انتہائی معترض اور شکی مزاج انسان بھی اِسے حادثہ قرار دینے کی جرات نہیں کر سکتا۔ عمومی (General) کو خصوصی (Particular) کے ساتھ جوڑنے والا نظام ہی ہے جو قائل کر دیتا ہے۔
سائنسی معروضیت کا ثبوت تاریخ دان کی آنکھوں یا اُس کے لہجے میں نہیں بلکہ خود طرز بیان کی داخلی منطق میں تلاش کیا جانا چاہئے۔ واقعات، بیانات، ہندسے اور اقتباسات اگر اُس کے سماجی تجزئیے کی سوئی کی سمت سے ہم آہنگ ہوں تو اُس کے نتائج سائنسی طور پر پختہ ہونے کی بھاری ضمانت قاری کے پاس موجود ہے۔ زیادہ ٹھوس انداز میں کہا جائے تو: موجودہ مصنف معروضیت سے اُسی قدر مخلص رہا ہے جس قدر اُس کی کتاب اکتوبر انقلاب کی ناگزیریت اور اِس کی فتح کی وجوہات کو آشکار کرتی ہے ۔
قاری کو پہلے ہی پتا ہے کہ ایک انقلاب میں ہم سب سے پہلے سماج کے مقدر میں عوام کی براہ راست مداخلت کو دیکھتے ہیں۔ ہم واقعات کے پیچھے اجتماعی شعور میں ہونے والی تبدیلیوں کو آشکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم تحریک کے ’’خودروی‘‘ کے حوالوں کو بالکل مسترد کرتے ہیں، جو زیادہ تر صورتوں میں کچھ بھی واضح نہیں کرتے۔انقلابات مخصوص قوانین کے تحت رونما ہوتے ہیں۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سرگرم عوام کو انقلاب کے قوانین کا پتا ہوتا ہے، لیکن اِس کا یہ مطلب ضرور ہے کہ عوامی شعور میں تبدیلیاں حادثاتی نہیں بلکہ اُس معروضی ضرورت کے تابع ہوتی ہیں جو نظریاتی طور پر قابلِ تشریح ہوتی ہے اور یوں پیش بینی اور قیادت، دونوں کو ممکن بنا دیتی ہے۔
شاید حیران کن لگے کہ کچھ سرکاری سوویت تاریخ دانو ں نے ہمارے خیال کو خیال پرستانہ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔مثلاً پروفیسر پوکرووسکی کا اصرار ہے کہ ہم نے انقلاب کے معروضی عوامل کو اہمیت نہیں دی ہے۔ ’’فروری اور اکتوبر کے درمیانی عرصے میں دیوہیکل معاشی انہدام ہوا۔‘‘ ’’اِس عرصے کے دوران کسان … عبوری حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔‘‘ پوکرووسکی کہتا ہے کہ متذبذب نفسیاتی عوامل کی بجائے اِن ’’معروضی تبدیلیوں‘‘ کو انقلاب کی قوت محرکہ کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔کلیہ سازی کی قابل تعریف کاٹ کی بدولت پوکرووسکی بڑے کمال سے تاریخ کی اُس بیہودہ معاشی تشریح کی بیکاری کو بے نقاب کر دیتا ہے جسے اکثر و اوقات مارکسزم سمجھا جاتا ہے۔
ایک انقلاب کی روش میں آنے والے گہرے موڑ خود واقعات کے دوران ابھرنے والی معاشی گڑبڑ کا نہیں بلکہ اُن بنیادی تبدیلیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں جو پچھلے پورے عرصے میں سماج کی بنیادوں میں مجتمع ہو چکی ہوتی ہیں۔ فروری اور اکتوبر کے درمیانی عرصے کی طرح بادشاہت کے دھڑن تختے کے وقت بھی معاشی انہدام مسلسل گہرا ہو رہا تھا اور عوام میں بے چینی کو ابھار رہا تھا، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جو ہماری توجہ سے محروم نہیں رہی ہے۔ لیکن یہ گمان کرنا فاش غلطی ہوگی کہ پہلے انقلاب کے آٹھ ماہ بعد دوسرا انقلاب اِس لئے مکمل ہوا کہ روٹی کی راشن بندی کو ڈیڑھ سے کم کر کے تین چوتھائی پاؤنڈ کر دیا گیا تھا۔ اکتوبر انقلاب کے فوری بعد کے سالوں میں عوام کی خوراک کی صورتحال مسلسل بدتر ہوتی گئی۔ پھر بھی ایک نئی بغاوت کی ردِ انقلابی سیاستدانوں کی امیدیں ہر بار نامراد ثابت ہوئیں۔ یہ صورتحال صرف اُسے ہی اُلجھن بھری محسوس ہو سکتی ہے جو عوام کی سرکشی کو کسی ریوڑ کی ایسی ’’خودرو‘‘ بغاوت سمجھتا ہو جسے رہنما اپنے مقصد کے لئے مصنوعی طور پر استعمال کرتے ہیں۔ درحقیقت ایک سرکشی کے لئے محض محرومیاں ہی کافی نہیں ہوتیں؛ اگر ایسا ہوتا تو عوام ہر وقت بغاوت کر رہے ہوتے۔بلکہ ایک سرکشی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایک سماجی نظامِ کا دیوالیہ پن قطعی طور پر آشکار ہو کر محرومیوں کو ناقابل برداشت بنا دے اور نئے تضادات اور نئے نظریات ایک انقلابی نجات کا امکان کھول دیں۔ ایسے میں عوام جن عظیم مقاصد کا تصور کرلیتے ہیں اُن کی خاطر دوہری اور تہری محرومیاں برداشت کرنے کے اہل ثابت ہوتے ہیں۔
ایک دوسرے ’’معروضی عنصر‘‘ کے طور پر کسانوں کی بغاوت کا حوالہ ایک زیادہ واضح غلط فہمی کی نشاندہی کرتا ہے۔جس حد تک ایک طبقے کی سرگرمی دوسرے طبقے کے شعور کے لئے ایک بیرونی تحریک بن سکتی ہے، اُس حد تک پرولتاریہ کے لئے کسان جنگ یقینا ایک معروضی صورتحال تھی۔ لیکن خود کسان بغاوت کی براہ راست وجہ دیہاتوں کے شعور میں آنے والی تبدیلیوں میں مضمر تھی؛ اِس کتاب کے ایک پورے باب کا مواد اِنہی تبدیلیوں کے کردار کی دریافت پر مبنی ہے۔ ہمیں بھولنا نہیں چاہئے کہ انقلابات کو عوام برپا کرتے ہیں، اگرچہ وہ بے نام ہوتے ہیں۔ مادیت ایک محسوس کرنے والے، سوچنے والے اور عمل کرنے والے انسان کو نظر انداز نہیں کرتی ہے، بلکہ اُس کی وضاحت کرتی ہے۔ ایک تاریخ دان کا اور کام ہی کیا ہوتا ہے؟
جمہوری کیمپ کے کچھ ناقدین نے مصالحت پسند رہنماؤں کی طرف مصنف کے ’’طنزیہ‘‘ رویے کو ایسی نامناسب موضوعیت کا مظہر قرار دیا ہے جو اُس کی تشریح کے سائنسی کردار کو بگاڑ رہی ہے۔ ہم اِس کسوٹی کو نامعقول گردانتے ہیں۔سپائنوزا [۲] کا ’’ہنسنے یا رونے کی بجائے سمجھنے‘‘ کا ا صول نامناسب قہقہے اور بے قت آنسوؤں کے خلاف تنبیہ کرتا ہے۔ لیکن جب مواد کی درست پرکھ اجازت دے تو یہ ایک انسان ، اگرچہ وہ تاریخ دان ہی کیوں نہ ہو، کو اپنے حصے کے آنسوؤں اور قہقہے سے محروم نہیں کرتا۔ وہ خالصتاً انفرادی طنز جو بے حسی کے دھویں کی طرح انسانیت کی ساری جدوجہد اور مقصد پر پھیلی ہوئی ہے،گھمنڈ پرستی کی بدترین شکل ہے۔ فنی تخلیقات اور تاریخ کی تصانیف میں یہ برابر کھوٹی ثابت ہوتی ہے۔ لیکن زندگی کے تعلقات کی گہرائی میں بھی ایک طنز پوشیدہ ہے۔ فنکار کی طرح تاریخ دان کی ذمہ داری ہے کہ اِسے سطح پر لائے۔
زندگی اور فن، دونوں میں موضوعی اور معروضی کے درمیان ربط کی ناکامی ہی مضحکہ خیزی اور المناکی کا بھی ماخذ ہے۔ اِس قانون کی عملداری سے سیاست کا شعبہ کسی بھی دوسرے شعبے سے کم مستثنیٰ ہے۔ پارٹیاں اور لوگ اپنے اندر نہیں بلکہ اپنے حالات سے تعلق میں جرات مندانہ یا پھر مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔ جب انقلابِ فرانس اپنے فیصلے کن مرحلے میں داخل ہوا تو سب سے نمایاں گیرونڈسٹ [۳] رحم دِل اور مضحکہ خیز بن گئے۔ 1792ء کے پس منظر میں لیونزکے فیکٹری انسپکٹر کے طور پر جین- میری رونالڈ کی معزز شخصیت ایک زندہ مضحکہ خیز نقل لگتی ہے۔ اِس کے برعکس جیکوبن واقعات کے معیار پر پورا اترے۔ وہ مخالفت، نفرت اور ہیبت کو تو ابھار سکتے ہیں، لیکن طنز کو نہیں ۔
چارلس ڈکنز کی ہیروئن، جس نے لہر کو ایک جھاڑو سے روکنے کی کوشش کی تھی، مقصد اور طریقہ کار کے درمیان مہلک عدم مطابقت کی وجہ سے ایک تسلیم شدہ مضحکہ خیز کردار ہے۔اگر ہم دعویٰ کریں کہ یہ شخصیت انقلاب میں مصالحت پسند پارٹیوں کی پالیسیوں کی علامت ہے تو یہ شاید بے جا مبالغہ آرائی لگے۔ پھر بھی دوہرے اقتدار کے نظامِ حکومت کا حقیقی روح رواں سریتیلی ایک لبرل رہنما نابوکوف کے سامنے اعتراف کرتا ہے: ’’اُس وقت ہم نے جو کچھ بھی کیا وہ تباہ کن عناصر کے سیلاب کو لکڑی کے مٹھی بھر معمولی ٹکڑوں سے روکنے کی ناکام کوشش تھی۔‘‘ یہ الفاظ کینہ پرور طنز معلوم ہوتے ہیں، لیکن یہ مصالحت پسندوں کی جانب سے خود اپنے بارے میں بولے گئے سچے ترین الفاظ ہیں۔ انقلاب کو لکڑی کے ٹکڑوں سے روکنے کی کوشش کرنے والے ’’انقلابیوں‘‘ کی منظر کشی میں طنز کو ترک کرنا حقیقت کو غارت کرنے اور کتاب پرستوں کے مفاد میں معروضیت سے بے وفائی کے مترادف ہوگا۔
سابقہ مارکسسٹوں-08 میں شامل شاہ پرست پیٹر سٹرو نے بطور تارکِ وطن لکھا تھا: ’’صرف بالشویزم ہی انقلاب کے بارے میں منطقی اور اِس کی اساس سے مخلص تھا، اِسی لئے یہ انقلاب میں فتح مند رہا۔‘‘ لبرلزم کے لیڈر ملیوکوف نے بھی تقریباً یہی بیان دیا ہے: ’’اُنہیں معلوم تھا کہ وہ کس طرف گامزن ہیں، وہ ایسی سمت میں گامز ن تھے جو اُنہوں نے ایک ہی بار منتخب کی تھی، ایک ایسے نصب العین کی طرف جو مصالحت پسندی کے ہر نئے اور ناکام تجربے کے ساتھ قریب سے قریب تر آتا گیا۔‘‘ آخر میں ایک سفید تارکِ وطن، جو زیادہ مشہور نہیں ہے، نے اپنے انداز میں انقلاب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے کچھ یوں اظہار خیال کیا ہے: ’’صرف آہنی لوگ ہی یہ راستہ منتخب کر سکتے تھے… صرف ایسے لوگ جو اپنے ’پیشے‘ کے لحاظ سے ہی انقلابی تھے اور جنہیں شورش اور بغاوت کا بھوت بیدار کردینے کا کوئی خوف نہیں تھا۔‘‘ جو کچھ اوپر جیکوبنوں کے بارے میں کہا گیا ہے وہ بالشویکوں کے بارے میں زیادہ انصاف کے ساتھ کہا جا سکتا ہے۔ وہ عہد اور اِس کے فرائض کے لئے کافی تھے؛ اُن کی طرف لعنتوں کی بھرمار ہوتی تھی، لیکن طنز اور ستم ظریفی اُن کے ساتھ چپک نہیں سکتی تھی، کیونکہ اُس کے پاس پکڑ کرنے کے لئے کوئی چیز ہی نہیں تھی۔
پہلی جلد کے تعارف میں واضح کیا گیا تھا کہ مصنف نے واقعات کے ایک شریک کے طور پر اپنے لئے صیغہ حاضر کی بجائے صیغہ غائب میں بات کرنا کیوں مناسب سمجھا۔ دوسری اور تیسری جلدوں میں بھی برقرار رکھی گئی یہ ادبی شکل بذات خود تو موضوعیت کے خلاف دفاع مہیا نہیں کرتی ہے، لیکن کم از کم یہ موضوعیت کو ضروری نہیں بناتی۔ درحقیقت یہ موضوعیت سے بچنے کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔
کئی مواقع پر ہم کافی دیر ہچکچاتے رہے کہ واقعات کے بہاؤ میں مصنف کا کردار بیان کرنے والے اِس یا اُس ہم عصر کا حوالہ دیں یا نہ دیں۔ایسے حوالوں سے دستبردار ہونا بہت آسان ہوتا ، اگر مسئلہ صرف خوش بیانی تک محدود ہوتا۔ اِس کتاب کا مصنف اُس وقت پیٹروگراڈ سوویت کا صدر تھا جب بالشویکوں نے وہاں اکثریت حاصل کی،بعد ازاں وہ اُس ’عسکری انقلابی کمیٹی‘ کا صدر تھا جس نے اکتوبر کی سرکشی کو منظم کیا۔ یہ حقائق وہ تاریخ سے مٹانا چاہتا ہے نہ مٹا سکتا ہے۔ اِس وقت سوویت یونین میں حکمران دھڑے نے مصنف کے لئے کئی مضامین اور کتب مخصوص کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اُس کی سرگرمی باقاعدگی سے انقلاب کے مفادات کے برخلاف تھی۔ اِس سوال کا جواب بہرحال نہیں مل پایا کہ بالشویک پارٹی نے انتہائی نازک سالوں میں سب سے ذمہ دار عہدوں پر ایسے کٹر ’’دشمن‘‘ کو کیوں براجمان رکھا۔ ماضی سے متعلقہ اِن لڑائیوں سے خاموش قطع نظر کسی حد تک واقعات کی حقیقی روش کو ثابت کرنے سے دستبرداری کے مترادف ہو گا۔ غیرجانبداری کا بہانہ کرنے کی ضرورت صرف اُسے ہوتی ہے جس کا مقصد اپنے قارئین کے ذہن میں چپکے سے ایسے نتائج ڈالنا ہو جو حقائق سے برآمد نہیں ہوتے۔ ہم چیزوں کو اُن کے اصلی ناموں سے ہی پکارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ہم اِس حقیقت کو چھپانے کی کوشش نہیں کریں گے کہ یہاں ہمارے لئے سوال صرف ماضی کا نہیں ہے۔ ایک آدمی کے وقار پر حملہ آور ہوتے ہوئے دشمن اُس کے پروگرام پر ضرب کاری کر رہے ہیں، لہٰذا ایک واضح پروگرام کے لئے جدوجہد اُس آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ واقعات میں اپنا حقیقی مقام بحال کرے۔جہاں تک اُن لوگوں کا سوال ہے جو ایک آدمی کی عظیم مقاصد اور پرچم تلے اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد میں سوائے خودنمائی کے کچھ بھی دیکھنے سے قاصر ہیں تو ہم اُن پر شاید افسوس تو کریں لیکن اُنہیں قائل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ بہرکیف ہم نے یہ خیال رکھنے کے لئے اقدامات کئے ہیں کہ ’’ذاتی‘‘ سوالات اِس کتاب میں اُس سے زیادہ جگہ نہ لیں جتنی کے وہ مستحق ہیں۔
سوویت یونین کے دوستوں (ایک اصطلاح جس سے مراد موجودہ سوویت طاقتوں کے دوست ہیں، وہ بھی تب تک جب تک وہ طاقتیں ہیں) میں سے کچھ نے بالشویک پارٹی یا اِس کے انفرادی رہنماؤں کی طرف مصنف کے تنقیدی رویے پر اُس کو ملامت کی ہے۔تاہم کسی نے بھی واقعات کے دوران پارٹی کی کیفیت کی پیش کردہ تصویر کو درست کرنے یا جھٹلانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اکتوبر انقلاب میں بالشویکوں کے کردار کا دفاع کرنے کے لئے ہمارے خلاف خود کو بلایا گیا سمجھنے والے اِن ’’دوستوں‘‘ کی اطلاع کے لئے تنبیہ کرتے چلیں کہ ہماری کتاب یہ نہیں بتاتی کہ ایک انقلاب کے فتح مند ہو جانے کے بعد اُس کی متعارف کروائی گئی افسر شاہی کی شکل میں اُس سے کیسے پیار کیا جائے، بلکہ صرف یہ بتاتی ہے کہ ایک انقلاب کیسے تیار ہوتا ہے، کیسے پنپتا ہے اور کیسے فتح یاب ہوتا ہے۔پارٹی ہمارے لئے کوئی مشین نہیں ہے جس کی بے گناہی کا دفاع جبر کے ریاستی اقدامات کے ذریعے کیا جائے، بلکہ ایک ایسا پیچیدہ نامیاتی جسم ہے جو تمام زندہ اشیا کی طرح تضادات سے نمو پاتا ہے۔قیادت کے تذبذب اور غلطیوں سمیت اِن تمام تضادات پر سے پردہ اٹھانا ہماری نظر میں اُس دیوہیکل تاریخ فریضے کی اہمیت کو ذرہ برابر بھی کم نہیں کرتا جو تاریخ میں سب سے پہلے بالشویک پارٹی نے اپنے کندھوں پر اٹھایا۔
لیون ٹراٹسکی
پرنکیپو
13 مئی 1932ء

*****

[۱] مارسل پروست (1871-1922ء) فرانس کا مشہور ناول نگار تھا، جو بیسویں صدی کے بااثر لکھاریوں میں شمار ہوتا ہے۔
[۲] سپائنوزا (Baruch Spinoza) سولہویں صدی کا مشہور عقلیت پسند فلسفی تھا۔
[۳] ’گیرونڈن‘ یا ’گیرونڈسٹ‘ انقلاب فرانس کے دوران جیکوبنوں کا دایاں بازو اور مصالحت پسند رجحان تھے۔ وہ بورژوازی کے مفادات کی نمائندگی کرتے تھے۔ اُن کے مقابلے میں جیکوبنوں کا بایاں بازو تھا، جس کا رہنما روبسپیر تھا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں