روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

اکتوبر کی سرکشی

اکتوبر کی سرکشی

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف ’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

انقلاب پر مادی تمثیلات اتنے فطری طور پر منطبق ہوتی ہیں کہ اُن میں سے کچھ تو گھِس پِٹ چکے استعاروں میں بدل چکی ہیں: ’’آتش فشاں کا پھٹنا‘‘، ’’نئے سماج کی پیدائش‘‘، ’’نقطہ ابال‘‘ …یہاں ایک سادہ سی ادبی تصویر کشی کے نیچے جدلیات کے قوانین، یعنی ارتقا کی منطق کا وجدانی ادراک پوشیدہ ہے۔
ایک مسلح سرکشی کا انقلاب سے وہی تعلق ہوتا ہے جو انقلا ب کا بحیثیت مجموعی ارتقا سے ہوتا ہے، یعنی وہ فیصلہ کن نقطہ جب مقدار ایک دھماکے سے معیار میں بدل جاتی ہے۔ لیکن خود سرکشی بھی کوئی یکساں اور ناقابلِ تقسیم عمل نہیں ہوتی: اِس میں بھی کئی فیصلہ کن نقات، داخلی بحرانات اور اسراع ہوتے ہیں۔
’’نقطہ ابال‘‘ سے بالکل پہلے کا عرصہ، یعنی سرکشی سے عین پہلے کا وقت غیرمعمولی سیاسی و نظریاتی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ فزکس بتاتی ہے کہ نقطہ ابال سے پہلے درجہ حرارت میں ہونے والا مسلسل اضافہ اچانک رُک جاتا ہے؛ مائع کچھ وقت تک اُسی درجہ حرارت پر رہتا ہے اور حرارت کی اضافی مقدار جذب کرنے کے بعد ہی ابلتا ہے۔ روز مرہ کی زبان میں بھی کسی دھماکے سے پہلے کے بظاہر پرسکون ارتکاز کی کیفیت کو ’’طوفان سے پہلے کے سکوت‘‘سے عبارت کیا جاتا ہے۔
جب پیٹروگراڈ کے مزدوروں اور سپاہیوں کی وسیع اکثریت بالشویکوں کیساتھ مل گئی تھی تو ابال کا درجہ حرات حاصل ہو چکا تھا۔ یہ وہی وقت تک جب لینن نے فوری سرکشی کی ضرورت کا اعلان کر دیا تھا۔ لیکن یہ بہت حیران کن ہے: سرکشی کے لئے اتنا کافی نہیں تھا۔ مزدوروں اور بالخصوص سپاہیوں کو اضافی انقلابی توانائی جذب کرنے کی ضرورت تھی۔
عوام کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوتا، لیکن کوئی سادہ سی ہڑتال ہو یا پھر سرکشی، قول سے فعل تک پہنچتے ہوئے داخلی رگڑ اور سالماتی گروہ بندیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں: کچھ آگے بڑھتے ہیں، کچھ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ایک خانہ جنگی کے ابتدائی مراحل شدید تذبذب سے دوچار ہوتے ہیں۔ دونو ں کیمپ ایک ہی قومی زمین میں پیوست ہوتے ہیں؛ وہ داخلی گروہ بندیوں اور مصالحت کے مزاج والے اپنے ہی ماحول سے ناطہ توڑ نہیں پا رہے ہوتے ہیں ۔
نچی صفوں میں طوفان سے پہلے کے سکوت نے رہنما پرتوں میں بھی ایک اچانک تذبذب پیدا کردیا تھا۔ وہ ادارے اور گروہ جو تیاری کے نسبتاً پرسکون عرصے (جنگ کی طرح انقلاب میں بھی امن اور سکون کے عرصے آتے ہیں) میں تشکیل پائے تھے، سب سے پختہ پارٹی میں بھی کلی یا جزوی طور پر انقلاب کے فرائض ادا کرنے کے قابل نہیں تھے۔ فیصلہ کن مرحلے پر کچھ تعمیر نو اور اتھل پتھل ناگزیر ہوتی ہے۔ سوویت حکومت کے حق میں ووٹ دینے والے پیٹروگراڈ سوویت کے تمام مندوبین اِس خیال سے سرشار نہیں تھے کہ مسلح سرکشی ایک فوری فریضہ بن چکی تھی۔ سوویت کو سرکشی کی مشین میں تبدیل کرنے کے لئے ضروری تھا کہ ہر ممکن حد تک کم انتشار سے اِسے ایک نئے راستے پر گامزن کیا جائے۔ایک پک چکے بحران کے حالات میں اِس کے لئے مہینے یا حتیٰ کہ ہفتے بھی درکار نہیں تھے۔ لیکن اُن آخری دنوں میں اختلافات، سوویت کے تیار ہو جانے سے پہلے اسے کاروائی کا حکم دے دینا، اپنی صفوں میں تذبذب پیدا کرنا یا صرف چوبیس گھنٹوں کے لئے بھی پارٹی کو سوویت سے کاٹنا انتہائی خطرناک ہو سکتا تھا۔
لینن نے بار بار کہا تھا کہ عوام پارٹی سے بہت بائیں جانب کھڑے ہیں، بالکل جیسے پارٹی اپنی مرکزی کمیٹی سے بائیں جانب کھڑی تھی۔ اپریل، جون اور بالخصوص جولائی کے آغاز میں مزدور اور سپاہی انتہائی بے صبری سے پارٹی کو ایک فیصلہ کن کاروائی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم جولائی کے حملوں کے بعد عوام زیادہ محتاط ہو گئے۔ وہ پہلے کی طرح اور پہلے سے کہیں زیادہ انقلاب کے خواہشمند تھے، لیکن ایک بار اپنی انگلیاں جلا لینے کے بعد وہ ایک اور ناکامی سے ڈرتے تھے۔ جولائی، اگست اور ستمبر کے سارے عرصے کے دوران پارٹی روزانہ کی بنیاد پر مزدوروں اور سپاہیوں کو روکتی رہی، جنہیں ردِ انقلابی اپنی پوری قوت سے سڑکوں پر للکار رہے تھے۔ اِن آخری مہینوں کے سیاسی تجربے نے نہ صرف رہنماؤں بلکہ پیروکاروں کی صبر کرنے کی صلاحیت کو بھی انتہائی مستحکم کر دیا۔ تاہم ایجی ٹیشن کی مسلسل کامیابی نے بھی تاخیری رویے کے جمود کو پروان چڑھایا۔ عوام کے لئے ایک نئی سیاسی جہت ہی کافی نہیں تھی: اُنہیں ایک نفسیاتی ترتیب نو درکار تھی۔انقلابی پارٹی کی کمان کی مطابقت حالات سے جتنی زیادہ ہوتی ہے، سرکشی اُتنے ہی وسیع تر عوام کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔
سرکشی کی سیاسی تیاری سے حقیقی تکنیک تک بڑھنے کا عمل پورے ملک میں مختلف شکلوں میں ابھرا، لیکن اِس کی روح ایک ہی تھی۔ مورالوف بتاتا ہے کہ کیسے ماسکو میں اقتدار پر قبضے کی ضرورت کے بارے میں بالشویکوں کی فوجی تنظیم کی رائے متفقہ تھی؛ تاہم ’’یہ قبضہ کیسے کیا جائے، اِس پر کوئی اتفاق نہیں ہو رہا تھا۔‘‘ زنجیر میں آخری کڑی کی کمی تھی۔
جن دنوں پیٹروگراڈ میں گیریزن کی منتقلی کا تنازعہ چل رہا تھا، ماسکو میں مسلسل ہڑتالیں جاری تھیں۔ ایک فیکٹری کمیٹی کی تجویز پرسوویت کے بالشویک دھڑے نے معاشی تنازعات کو سوویت کے احکامات کے ذریعے حل کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ تیاری کے مراحل میں کافی وقت لگا۔ 23 اکتوبر کو کہیں جا کر ’انقلابی فرمان نمبر 1 ‘ کی منظوری سوویت اداروں نے دی۔ اِس کے مطابق: اب کے بعد سے فیکٹریوں اور کارخانوں میں مزدور اور کلرک صرف کارخانہ کمیٹیوں کی مرضی سے ہی رکھے یا نکالے جائیں گے۔اِس کا مطلب تھا کہ سوویت ایک ریاستی اقتدار کے امور سرانجام دینے لگی تھی۔یہ قدم اٹھانے والوں کا منصوبہ تھا کہ حکومت کی ناگزیر مزاحمت عوام کو سوویت کے زیادہ قریب لے آئے گی اور ایک کھلے تصادم پر منتج ہو گی۔اِس خیال کو پرکھا نہیں جا سکا کیونکہ پیٹروگراڈ میں انقلاب نے باقی ماندہ ملک کی طرح ماسکو کو بھی نئی سوویت حکومت کی فوری مدد کے لئے سرکشی کا لازمی نصب العین عطا کر دیا ۔
حملہ کرنے والی طرف کی کم و بیش ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ دفاعی نظر آئے۔ ایک انقلابی پارٹی بھی قانونی آڑ لینے کی کوشش کرتی ہے۔ سوویتوں کی آنے والی کانگریس اگرچہ بنیادی طور پر انقلاب کی کانگریس تھی، تاہم وسیع تر عوام کے لئے اگر پورے نہیں تو کم از کم آدھے اقتدار کی مالک ضرور تھی۔ یہ دوہرے اقتدار کے ایک عنصر کی دوسرے عنصر کے خلاف سرکشی کا سوال تھا۔ عملداری کے ماخذ کے طور پر کانگریس سے استدعا کرتے ہوئے عسکری انقلابی کمیٹی نے حکومت پر سوویتوں کے خلاف کاروائی کی تیاری کا پیشگی الزام عائد کیا۔ یہ الزام ساری صورتحال سے منطقی طور پر برآمد ہوتا تھا۔ حکومت لڑائی کے بغیر ہار ماننے کو تیار نہیں تھی اور اپنے دفاع کی تیاری کر رہی تھی۔ لیکن بالکل اِسی حقیقت کی وجہ سے وہ مزدوروں، کسانوں اور سپاہیوں کے سب سے اعلیٰ ادارے کے خلاف سازش کی قصور وار قرار پائی۔ سوویتوں کی جس کانگریس نے کیرنسکی کو اکھاڑ پھینکنا تھا، اُس کے خلاف مزاحمت میں حکومت نے طاقت کے اُس ماخذ پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جس میں سے کیرنسکی برآمد ہوا تھا۔
یہ ایک سنجیدہ غلطی ہو گی کہ اِس سارے معاملے کو ایسی قانونی باریکی سمجھا جائے جس میں عوام کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بلکہ یہی وہ صورت تھی جس میں انقلاب کے بنیادی حقائق اپنا اظہار عوام کی سوچ میں کر رہے تھے۔اِس انتہائی فائدہ مند تعلق کا بھرپور استعمال ضروری تھا۔ بیرکوں سے محاذ کے مورچوں پر جانے سے سپاہی کی فطری نفرت کو یوں ایک عظیم سیاسی مقصد عطا کرکے اور گیریزن کو سوویت کانگریس کے دفاع کے لئے متحرک کر کے انقلابی رہنماؤں نے سرکشی کی تاریخ کے بارے میں ایک لمحے کے لئے بھی اپنے ہاتھ نہیں باندھے۔ دن اور وقت کے انتخاب کا انحصار تصادم کی آگے کی روش پر تھا۔ چال وہی چل سکتا تھا جو زیادہ مضبوط تھا۔
سرکشی کی جگہ کہیں آئینی ثانویت نہ لے لے، اِس خوف سے لینن مسلسل دہراتا رہا، ’’پہلے کیرنسکی کو شکست دو، پھر کانگریس بلاؤ۔‘‘ لیکن ابھی تک لینن نے ایک نئے عنصر کو نہیں جانچا تھا جو سرکشی کی تیاری میں گھس گیا تھا اور جس نے اس کا سارا کردار ہی بدل دیا تھا: پیٹروگراڈ گیریزن اور حکومت کے درمیان گہرا تصادم۔ اگر کانگریس نے اقتدار کے سوال کا فیصلہ کرنا تھا، اگر کانگریس کو اقتدار حاصل کرنے سے روکنے کے لئے حکومت گیریزن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہی تھی، اگر گیریزن نے سوویتوں کی کانگریس سے پہلے ہی حکومت کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا تو درحقیقت اِس سب کا مطلب تھا کہ سرکشی بنیادی طور پر شروع ہو چکی تھی اور اگرچہ کانگریس کا انتظار کئے بنا لیکن اُس کی عملداری کی آڑ میں شروع ہو چکی تھی۔ اس لئے سرکشی کی تیاری کو سوویتوں کی کانگریس کی تیاری سے الگ کرنا سیاسی طور پر غلط تھا۔
اکتوبر انقلاب کی خصوصیات، اِس کا موازنہ فروری انقلاب کیساتھ کر کے ہی بہتر طور پر سمجھی جا سکتی ہیں۔ تاہم یہ موازنہ کرتے ہوئے حالات کے سارے سلسلے کو ایک جیسا فرض کرنا ضروری نہیں ہے۔ وہ درحقیقت ایک جیسے تھے بھی۔ مثلاً دونوں صورتوں میں پیٹروگراڈ کا منظر: وہی میدان، وہی سماجی گروہ بندیاں، وہی پرولتاریہ، وہی گیریزن۔ دونوں صورتوں میں ریزرو رجمنٹوں کے مزدوروں کیساتھ مل جانے سے فتح حاصل ہوئی تھی۔ لیکن اِن بنیادی خاصیتوں کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کتنا فرق ہے! پیٹروگراڈ کے یہ دو انقلابات، جنہوں نے تاریخی طور پر ایک دوسرے کو مکمل کیا، ایسی متضاد خاصیتوں کے حامل ہیں جیسے سرکشی کو بہتر طور پر سمجھانے کے لئے ہی برپا کئے گئے ہوں۔
فروری کی سرکشی کو خودرو کہا جاتا ہے۔ ہم نے متعلقہ جگہوں پر اِس تعریف کی تمام حدود بیان کی ہیں۔ لیکن یہ بہرحال درست ہے کہ فروری میں کسی نے راستے کا پیشگی تعین نہیں کیا تھا، کسی نے انقلاب کے سوال پر فیکٹریوں اور بیرکوں میں ووٹ نہیں دیا تھا، کسی نے اوپر سے سرکشی کی کال نہیں دی تھی۔سالوں سے جمع ہونے والا غصہ اچانک پھٹ پڑا تھا، جو بڑی حد تک خود عوام کے لئے بھی غیر متوقع تھا۔
اکتوبر میں صورتحال بالکل مختلف تھی۔ آٹھ مہینوں تک عوام شدید سیاسی تحرک میں تھے۔ اِس دوران وہ نہ صرف واقعات تخلیق کر رہے تھے بلکہ اُن کا ربط بھی سمجھنے لگے تھے۔ ہر کاروائی کے بعد وہ اُس کے نتائج کا تنقیدی جائزہ لیتے تھے۔ سوویت پارلیمانیت عوام کی سیاسی زندگی کی روزمرہ کی میکانیات بن چکی تھی۔ ہڑتالوں، مظاہروں اور رجمنٹوں کی محاذ پر منتقلی کے سوالوں کا فیصلہ ووٹ سے کرنے والے عوام بھلا سرکشی کے سوال کے فیصلے سے دستبردار ہو سکتے تھے؟
تاہم فروری کی انمول اور واحد فتح نے نئی مشکلات کو جنم دیا۔ سرکشی کے سوال کو باقاعدہ طور پر سوویت میں اٹھائے بغیر، یعنی اِسے مخالف کیمپ کے نمائندوں کی موجودگی میں عوامی بحث کا موضوع بنائے بغیر عوام کو لڑائی کی کال دینا ناممکن تھا۔ سرکشی کی قیادت کے لئے ایک خصوصی اور ہر ممکن حد تک خفیہ ادارے کی تخلیق کی ضرورت بالکل واضح تھی۔ لیکن اِس کے لئے بھی اپنے تمام فوائد اور تاخیروں سمیت جمہوری طریقوں کی ضرورت تھی۔ مثلاً عسکری انقلابی کمیٹی کی 9 اکتوبر کی قرارداد پر 20 تاریخ کو عمل ہو پایا تھا۔ لیکن یہ کلیدی مشکل نہیں تھی۔ سوویت میں اکثریت کا فائدہ اٹھانے اور کمیٹی کو صرف بالشویکوں پر مشتمل رکھنے سے بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں، کچھ انارکسٹ گروہوں کے ساتھ ساتھ کسی پارٹی سے غیر وابستہ افراد میں بھی بے چینی پیدا ہو جانی تھی۔ عسکری انقلابی کمیٹی کے بالشویک تو اپنی پارٹی کے فیصلوں کے تابع تھے، لیکن کسی پارٹی سے غیروابستہ لوگوں اور بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں سے ڈسپلن کا تقاضا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اُن سے کسی مخصوص تاریخ پر سرکشی کا پیشگی فیصلہ لینے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ حتیٰ کہ اُن کے سامنے یہ سوال رکھنا بھی انتہائی خطرناک تھا۔ اِس لئے عسکری انقلابی کمیٹی کے ذریعے صرف صورتحال کو روز بروز تلخ کر کے تصادم کو ناگزیر بناتے ہوئے عوام کو سرکشی میں شامل ہی کیا جا سکتا تھا۔ لیکن کیا براہِ راست پارٹی کی طرف سے سرکشی کی کال دینا زیادہ آسان نہ ہوتا؟ کاروائی کی اِس شکل کے بلاشبہ بھاری فائدے ہوتے۔ لیکن اِس کے سنجیدہ نقصانات بھی تھے۔ پارٹی جن دسیوں لاکھ لوگوں پر انحصار کر رہی تھی، اُن کی تین پرتوں میں فرق کرنا ضروری ہے: ایک جو بالشویکوں کی غیر مشروط حمایتی تھی؛ دوسری جو زیادہ وسیع تھی اور جو بالشویکوں کی وہاں تک ہی حمایت کرتی تھی جہاں تک وہ سوویتوں کے ذریعے عمل کرتے تھے؛ تیسری جو سوویتوں کی پیروی کرتی تھی، باوجودیکہ اُن پر بالشویک حاوی تھے۔
یہ تینوں پرتیں نہ صرف سیاسی معیار بلکہ بڑی حد تک اپنے سماجی اجزا کے لحاظ سے بھی مختلف تھیں۔ بطور پارٹی بالشویکوں کی حمایت کرنے والے زیادہ تر صنعتی مزدور تھے، جن میں پیٹروگراڈ کے موروثی پرولتاری پیش پیش تھے۔ سوویتوں کی حد تک بالشویکوں کی حمایت کرنے والوں میں اکثریت سپاہیوں کی تھی۔ بالشویکوں کے غلبے کے باوجود سوویتوں کی حمایت کرنے والوں میں مزدوروں کے زیادہ قدامت پسند گروہ یعنی سابقہ منشویک اور سوشل انقلابی، کاسکوں سمیت فوج کے زیادہ قدامت پسند حصے اور سوشل انقلابی پارٹی کی قیادت سے آزاد ہو کر اُس کے بائیں بازو سے وابستہ ہو جانے والے کسان شامل تھے۔
بالشویک پارٹی کی قوت کو اُس کے زیر قیادت سوویتوں کی قوت سمجھنا غلطی ہو گی۔ بالشویک پارٹی کی نسبت سوویتیں کہیں زیادہ طاقتور تھیں۔ تاہم بالشویک پارٹی کے بغیر وہ خصی تھیں۔ اِس میں کوئی نہ سمجھ آنے والی بات نہیں ہے۔ پارٹی اور سوویت کا رشتہ ایک انقلابی عہد میں بالشویزم کے بے حد وسیع سیاسی اثرورسوخ اور محدود تنظیمی پہنچ کے درمیان تضاد سے پروان چڑھا تھا۔ ایک لیور کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو انسانی ہاتھ کو اِس کی قوت سے کئی گنا زیادہ وزن اٹھانے کے قابل بنا دیتا ہے،لیکن ہاتھ کے بغیر لیور ایک بیکار چھڑی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
ستمبر کے آخر میں بالشویکوں کے ماسکو کے علاقائی اجلاس میں ایک مندوب نے بتایا: ’’ییگوریوسک میں بالشویکوں کا اثرورسوخ مسلمہ ہے… لیکن پارٹی کی تنظیم کمزور ہے۔یہ بالکل عدم توجہی کا شکار ہے۔ نہ تو اراکین کا باقاعدہ اندراج ہے نہ ہی رکنیت کا چندہ۔‘‘ اثرورسوخ اور تنظیم کے درمیان یہ عدم تناسب اگرچہ ہر جگہ اتنا واضح نہیں تھا، لیکن ایک عمومی مظہر تھا۔ وسیع تر عوام بالشویک نعروں اور سوویت تنظیم سے واقف تھے۔ستمبر سے اکتوبر کے درمیانی عرصے میں یہ دونوں چیزیں اُن کے دماغوں میں یکجا ہو گئیں۔ عوام انتظار کر رہے تھے کہ سوویتیں اُن کی رہنمائی کریں کہ بالشویکوں کے پروگرام پر عملدرآمد کب اور کیسے کرنا ہے۔
خود پارٹی نے بھی عوام کی منظم تربیت اِسی انداز سے کی تھی۔ کیف میں جب افواہ پھیلی کہ سرکشی کی تیاری ہو رہی ہے تو بالشویک مجلس عاملہ نے فوراً تردید کی: ’’سوویت کی کال کے بغیر کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی… سوویت کے بغیر ایک قدم بھی نہیں!‘‘ 22 تاریخ کو مبینہ سرکشی کی افواہوں کی تردید 18 تاریخ کو کرتے ہوئے ٹراٹسکی نے کہا تھا:’’سوویت ایک انتخابی ادارہ ہے اور مزدوروں اور سپاہیوں کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا… ‘‘ روزانہ دہرایا جانے والا اور عمل سے پختہ ہونے والا یہ کلیہ عوام کے رگ و پے میں سرایت کر چکا تھا۔
حوالدار بیریزن کی رپورٹ کے مطابق ماسکو میں بالشویکوں کے اکتوبر کے عسکری اجلاس میں مندوبین کہہ رہے تھے: ’’کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے کہ بالشویکوں کی ماسکو کمیٹی کی کال پر سپاہی میدان میں آئیں گے یا نہیں۔لیکن سوویت کی کال پر وہ آ سکتے ہیں۔‘‘ اس کے باوجود کہ ستمبر میں ہی ماسکو کے 90 فیصد گیریزن نے بالشویکوں کے حق میں ووٹ دے دیا تھا۔ پیٹروگراڈ میں 16 مئی کے ایک اجلاس میں بوکی نے پارٹی کمیٹی کی طرف سے رپورٹ دی: ماسکو میں ’’وہ سوویت کی کال پر میدان میں آئیں گے، لیکن پارٹی کی کال پر نہیں؛ نیوسکی کے علاقے میں ’’ہر کوئی سوویت کی پیروی کرے گا۔‘‘ اِس کے بعد وولوڈارسکی نے پیٹروگراڈ کی کیفیت کو اِن الفاظ میں بیان کیا: ’’عمومی تاثر یہی ہے کہ کوئی بھی سڑکوں پر جانے کو بے قرار نہیں ہے، لیکن سوویت کی کال پر سب آئیں گے۔‘‘ اولگا ریوچ نے اُس کی تصحیح کی: ’’کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی کال پر بھی سب آئیں گے۔‘‘ 18 تاریخ کو پیٹروگراڈ گیریزن کے اجلاس میں مندوبین نے بتایا کہ اُن کی رجمنٹیں میدان میں آنے کے لئے سوویت کی کال کی منتظر ہیں۔ کسی نے بھی پارٹی کا نام نہیں لیا، باوجودیکہ بالشویک کئی یونٹوں کی قیادت کر رہے تھے۔ یوں سوویت کے ڈسپلن کے تحت ہمدردوں، لڑکھڑاتے ہوؤں اور نیم مخالفوں کو یکجا کر کے ہی بیرکوں میں اتحاد کو برقرار رکھا جا سکتا تھا ۔ بم بردار رجمنٹ نے تو اعلان بھی کر دیا تھا کہ وہ صرف سوویتوں کی کانگریس کے حکم پر ہی میدان میں آئیں گے۔ عوام کی نفسیاتی کیفیت کو پرکھتے وقت ایجی ٹیٹر اور منتظمین ہمیشہ پارٹی اور سوویت میں فرق کرتے تھے، یہ حقیقت ہی واضح کر دیتی ہے کہ سرکشی کی کال کے نقطہ نظر سے یہ سوال کتنا اہم تھا۔
ڈرائیور متریوچ بتاتا ہے کہ موٹر ٹرکوں کے دستے میں، جہاں سرکشی کے حق میں قرارداد منظور نہیں ہو سکی تھی، بالشویکوں نے ایک مصالحتی تجویز پیش کی: ’’ہم نہ تو بالشویکوں اور نہ ہی منشویکوں کے لئے میدان میں آئیں گے… لیکن سوویتوں کی دوسری کانگریس کے مطالبات فوراً پورے کریں گے۔‘‘ یہ بالشویک یہاں چھوٹے پیمانے پر آڑ لینے کی وہی تدبیر استعمال کر رہے تھے جو عسکری انقلابی کمیٹی بڑے پیمانے پر استعمال کر رہی تھی۔
براہِ راست پارٹی کے ذریعے سرکشی کی قیادت کی کوششوں نے کہیں بھی نتائج نہیں دئیے ۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کے ایک بڑے مرکز کائنشما میں سرکشی کی تیاری کے بارے میں ایک انتہائی دلچسپ بیان محفوظ ہے۔ ماسکو کے علاقے میں سرکشی کو فوری ایجنڈے پر رکھنے کے بعد کائنشما میں پارٹی کمیٹی نے عسکری قوتوں اور رسد کی فہرست مرتب کرنے اور سرکشی کی تیاری کے لئے تین لوگوں کی خصوصی جماعت تشکیل دی، جسے کسی وجہ سے ’’مجلس نظامت‘‘ کہا جاتا تھا۔ اِس مجلس نظامت کا ایک رکن لکھتا ہے، ’’ہمیں ماننا پڑے گا کہ منتخب شدہ تین افراد کچھ زیادہ نہیں کر پائے۔ واقعات نے ایک مختلف روش اختیار کر لی… علاقائی ہڑتال نے مکمل طور پر جکڑ لیا اور فیصلہ کن واقعات کے وقت تک تنظیمی مرکز کو ہڑتال کمیٹی اور سوویت میں منتقل کیا جا چکا تھا۔‘‘ یہاں ایک چھوٹے صوبائی پیمانے پر پیٹروگراڈ والی چیز ہی دوبارہ رونما ہوئی۔
پارٹی نے سوویتوں کو متحرک کیا، سوویتوں نے مزدوروں، سپاہیوں اور کسی حد تک کسانوں کو متحرک کیا۔ وزن جتنا زیادہ تھا، رفتار اتنی ہی کم ہو گئی ۔اگر ’ٹرانسمیشن‘ کے اِس طریقہ کار کو گراریوں کے ایک نظام کے طور پر دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ سوویتوں کی درمیانی سائز کی گراری کو بیچ میں سے نکال کر پارٹی کی چھوٹی گراری کو عوام کی دیوہیکل گراری سے براہِ راست جوڑنے کی کوشش سے پارٹی کی گراری کے دندانے ٹوٹ جاتے اور اس کے باوجود بھی وسیع تر عوام کو متحرک نہ کیا جا سکتا۔
اِس سے برعکس خطرہ بھی کچھ کم حقیقی نہیں تھا، سوویت نظام کی داخلی رگڑوں کے نتیجے میں مناسب صورتحال کو گنوا دینے کا خطرہ۔ نظریاتی طور پر بات کی جائے تو سرکشی کا مناسب ترین موقع آخری تجزئیے میں کسی نہ کسی لمحے تک محدود ہو جاتا ہے۔ لیکن عملی طور پر اِس مناسب ترین لمحے کو ڈھونڈا نہیں جا سکتا۔ سرکشی اِس مثالی نقطہ عروج کی طرف بلند ہوتی ہوئی خمدار لکیر (Curve) پر کامیابی سے آگے بڑھ سکتی ہے، لیکن اگر طاقتوں کا توازن یکسر تبدیل نہ ہوا ہو تو اِس خمدار لکیر کا رُخ نیچے کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ یوں ایک ’’لمحے‘‘ کی بجائے ہمارے پاس ہفتوں یا بعض اوقات مہینوں پر محیط عرصہ ہوتا ہے۔بالشویک چاہتے تو پیٹروگراڈ میں جولائی کے آغاز میں ہی مسند اقتدار پر قبضہ کر سکتے تھے۔ لیکن اگر وہ ایسا کرتے تو اقتدار پر براجمان نہیں رہ سکتے تھے۔ لیکن ستمبر کے وسط کے بعد سے وہ نہ صرف اقتدار پر قبضے بلکہ اُس پر براجمان رہنے کی امید بھی کر سکتے تھے۔ اگر وہ سرکشی کو اکتوبر کے آخر سے بھی آگے موخر کرتے تو شاید تاخیر کی تلافی کر لیتے، اگرچہ یہ یقینی نہیں ہے۔ ہم مشروط طور پر فرض کر سکتے ہیں کم و بیش ستمبر سے دسمبر تک کے درمیانی تین چار مہینوں میں انقلاب کی لازمی سیاسی شرائط موجود تھیں۔ انقلاب پک کر تیار ہو چکا تھا، لیکن ابھی گلنا سڑنا شروع نہیں ہوا تھا۔ اِن حدود میں پارٹی کو انتخاب کی کچھ آزادی حاصل تھی، جس نے عملی نوعیت کے کچھ ناگزیر اور بعض اوقات شدید اختلافات کو بھی جنم دیا۔
لینن نے جمہوری اجلاس کے دِنوں میں سرکشی کا مشورہ دیا تھا۔ ستمبر کے آخر میں وہ مزید کسی تاخیر کو نہ صرف خطرناک بلکہ مہلک قرار دے رہا تھا۔ اُس نے اکتوبر کے آغاز میں لکھا، ’’سوویتوں کی کانگریس کے انتظار کا مطلب تکلفات سے بچوں کی طرح کھیلنا ہے… یہ تکلفات سے شرمناک کھیل اور انقلاب سے غداری ہے۔‘‘ تاہم بالشویک رہنماؤں میں سے شاید ہی کوئی تکلفات کو ملحوظ رکھ رہا تھا۔ مثلاً زینوویف نے جب سوویت کانگریس کے بالشویک دھڑے سے تمہیدی ملاقات کا مطالبہ کیا تو وہ کوئی رسمی اجازت نہیں بلکہ مرکزی کمیٹی کے خلاف صوبائی مندوبین کی سیاسی حمایت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوویت پر پارٹی کے انحصار نے سرکشی میں ابہام کا عنصر متعارف کروا دیا تھا، جس نے لینن کو بالکل جائز طور پر خبردار کیا۔
’سرکشی کی کال کب دی جائے‘کے سوال کا انحصار اِس سوال پر تھا کہ ’کال کون دے گا۔‘ سوویت کی طرف سے کال دینے کے فائدوں سے لینن بخوبی آگاہ تھا، لیکن وہ باقیوں سے پہلے جان چکا تھا کہ اِس راستے پر کون سی مشکلات پیش آئیں گی۔ بالخصوص دُور سے وہ خوفزدہ ہی ہو سکتا تھا کہ سوویت کے بالائی اداروں میں مزاحمتی عناصر، پارٹی کی مرکزی کمیٹی سے بھی زیادہ مضبوط ہوں گے۔ آغاز پارٹی کرے یا سوویت؟ اِس سوال کو لینن نے دو ممکنات میں سے ایک کے انتخاب کے طور پر لیا، لیکن ابتدائی ہفتوں میں وہ فیصلہ کن طور پر پارٹی کی آزادانہ پیش قدمی کے حق میں تھا۔ وہ اِن دونوں ممکنات کو اصولی طور پر متضاد نہیں سمجھ رہا تھا۔ بلکہ یہ ایک ہی سرکشی کے دو ایسے راستوں کا سوال تھا جن کی بنیاد، کیفیت اور مقصد ایک ہی تھا۔ لیکن پھر بھی یہ دو مختلف راستے تھے۔
الیگزینڈرنکا کو محاصرے میں لینے اور جمہوری اجلاس کو گرفتار کرنے کی لینن کی تجویز اِس مفروضے کی پیداوار تھی کہ سرکشی کی قیادت سوویتیں نہیں بلکہ فیکٹریوں اور بیرکوں سے براہِ راست استدعا کے ذریعے پارٹی کرے گی۔ اس سے برعکس ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ سوویت کے ذریعے ایسے کسی منصوبے پر عمل درآمد بالکل ناممکن تھا۔ لینن کو پتا تھا کہ پارٹی کے رہنما بھی اُس کے منصوبے کی مخالفت کریں گے؛ لہٰذا اُس نے پیشگی سفارش کی تھی کہ جمہوری اجلاس کے بالشویک دھڑے میں ’’تعداد کے پیچھے نہ بھاگا جائے۔‘‘ اگر اوپر والے پرعزم ہیں تو تعداد کی ضمانت نیچے والے دیں گے۔ لینن کا یہ بے باک منصوبہ تیزی اور ’اچانک پن‘ کے مسلمہ فوائد کا حامل تھا، لیکن اِس نے پارٹی کو بہت عریاں کر کے خطرہ پیدا کر دیا تھا کہ کچھ مخصوص حدود میں پارٹی خود کو عوام کے مدمقابل لا کھڑا کرے گی۔ حتیٰ کہ پیٹروگراڈ سوویت، جو بالکل بے خبر ہوگی ، منصوبے کی پہلی ناکامی پر ہی اپنی غیر مستحکم بالشویک اکثریت کھو دے گی۔
10 اکتوبر کی قرارداد نے پارٹی کی تمام مقامی تنظیموں کو مشورہ دیا کہ تمام سوالات کا فیصلہ قریب آتی ہوئی سرکشی کے نقطہ نظر سے کیا جائے۔ مرکزی کمیٹی کی قرارداد میں سوویتوں کے سرکشی کا اوزار ہونے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں تھا۔ 16 تاریخ کو ایک اجلاس میں لینن نے کہا: ’’حقائق بتا رہے ہیں کہ ہمیں دشمن پر برتری حاصل ہے۔ ایسے میں مرکزی کمیٹی شروعات کیوں نہیں کر سکتی؟‘‘ لینن کا یہ سوال کسی طور بھی خطیبانہ نہیں تھا۔ اِس کا مطلب تھا: اگر مرکزی کمیٹی فوراً سرکشی کا سگنل دے سکتی ہے تو پیچیدہ سوویت ’ٹرانسمیشن‘ کے مطابق خود کو ڈھالنے میں وقت ضائع کیوں کیا جائے؟ تاہم اب کی بار لینن کی قرارداد کا اختتام اظہارِ اعتماد پر ہوا کہ ’’مرکزی کمیٹی اور سوویت، کاروائی کے مناسب وقت اور طریقوں کی نشاندہی بروقت کر دیں گے۔‘‘ پارٹی کے ساتھ سوویت کا ذکر اور تاریخ کے سوال پر لچک، لینن کی جانب سے پارٹی رہنماؤں کے ذریعے عوام کی مزاحمت کو محسوس کرنے کا نتیجہ تھا۔
اگلے دن کامینیف اور زینوویف کے ساتھ مناظرے میں لینن نے ایک دن پہلے کی بحث کو کچھ یوں سمیٹا: ’’سب متفق ہیں کہ سوویتوں کی کال پر اور سوویتوں کے دفاع کے لئے مزدور یکجان ہو کر میدان میں آئیں گے۔‘‘ اِس کا مطلب تھا: پارٹی کی طرف سے کال دینے پر اگر سب لینن کے ساتھ متفق نہیں بھی ہیں تو اِس بات پر ضرور متفق ہیں کہ سوویتوں کی طرف سے کال دی جا سکتی ہے۔
لینن نے 24 تاریخ کی شام کو لکھا، ’’اقتدار پر قبضہ کون کرے گا؟ اب یہ سوال اہم نہیں ہے۔ عسکری انقلابی کمیٹی کو قبضہ کرنے دو ، یا ’کسی دوسرے ادارے‘کو، جو پھر اعلان کرے گا کہ وہ اقتدار صرف عوام کے مفادات کے حقیقی نمائندوں کے حوالے ہی کرے گا۔‘‘ یہاں پراسرار کوموں میں ’’کسی دوسرے ادارے‘‘ سے مراد بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی تھی۔ یہاں لینن اپنی ستمبر والی تجویز ہی دہرا رہا تھا کہ براہِ راست مرکزی کمیٹی کی طرف سے کاروائی کی جائے، لیکن اس بار صرف اِس صورت میں جب کانگریس سے پہلے عسکری انقلابی کمیٹی کی کاروائی کے راستے میں سوویت قانونیت حائل ہو۔
تاریخوں اور طریقوں کی یہ کشمکش اگرچہ پورا ہفتہ چلتی رہی، لیکن اِس میں شریک تمام لوگ اِس کے مطلب اور اہمیت سے آگاہ نہیں تھے۔ سٹالن نے 1924ء میں لکھا، ’’لینن گراڈ [۱] ہو یا ماسکو، لینن نے سوویتوں کی پشت پیچھے نہیں بلکہ اُن کے ذریعے اقتدار پر قبضے کی سفارش کی۔ نہ جانے ٹراٹسکی کو لینن کے بارے یہ عجیب داستان گھڑنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پارٹی لینن کو اِس عہد کے عظیم ترین مارکسسٹ کے طور پر جانتی ہے۔ جبکہ ٹراٹسکی ہمارے سامنے عظیم لینن نہیں بلکہ کوئی ٹھگنا بلانکسٹ پیش کر رہا ہے۔‘‘ نہ صرف بلانکسٹ بلکہ ٹھگنا بھی! درحقیقت اِس سوال کا کسی عقیدے کے ذریعے پیشگی تعین نہیں کیا جا سکتا کہ سرکشی کس کی جانب سے برپا کی جائے اور اقتدار کس ادارے کے ہاتھ آئے۔ جب انقلاب کے عمومی حالات پیدا ہو جائیں تو سرکشی ایک فن کا عملی مسئلہ بن جاتی ہے، ایک ایسا مسئلہ جسے کئی طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ یہاں مارکسزم اور بلانکزم کو آپس میں گڈ مڈ کرنا دونوں کی فہم کے فقدان کو عیاں کرتا ہے۔
پروفیسر پوکرووسکی تو پارٹی یا سوویت میں سے کسی ایک کے انتخاب کی اہمیت سے ہی انکار ی ہے۔وہ ہنستا ہے کہ سپاہی تکلفات میں نہیں پڑتے، اُنہیں کیرنسکی کو اکھاڑے پھینکنے کے لئے سوویتوں کی کانگریس کی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم تمام تر طنز کے باوجود سوال کا یہ بیان مسئلے کو حل نہیں کرتا: اگر پارٹی ہی کافی ہے تو سوویتیں بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ پروفیسر مزید کہتا ہے، ’ ’کتنی دلچسپ بات ہے کہ ہر چیز کو کم و بیش قانونی طور پر سوویت قانونیت کے تحت کرنے کے شوق کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور عین آخری وقت پر اقتدار پر سوویت نے نہیں بلکہ ایک ’غیر قانونی‘ تنظیم نے قبضہ کیا، جو اِسی مقصد کے لئے ہنگامی طور پر بنائی گئی تھی۔‘‘ یہاں پوکرووسکی اِس حقیقت کا حوالہ دے رہا ہے کہ ٹراٹسکی نے کیرنسکی حکومت کے خاتمے کا اعلان سوویت کی طرف سے نہیں بلکہ عسکری انقلابی کمیٹی کی طرف سے کیا تھا۔ کیسی غیرمتوقع دلیل ہے! عسکری انقلابی کمیٹی کے رہنما کردار نے کسی طور بھی سوویت کی اُس قانونیت کی خلاف ورزی نہیں کی تھی جس کا مذاق پروفیسر اڑا رہا ہے اور جس سے عوام انتہائی بدگمان تھے۔ [انقلاب کے بعد] عوامی کمیساروں کی کونسل بھی ہنگامی طور پر ایک خاص مقصد کے تحت بنائی گئی تھی۔ لیکن اِس چیز نے اُسے سوویت اقتدار کا ادارہ بننے اور رہنے سے نہیں روکا، جس میں خود پوکرووسکی بھی تعلیم کے نائب عوامی کمیسار کے طور پر شامل تھا۔
سرکشی نہ صرف سوویت قانونیت بلکہ کسی حد تک دوہرے اقتدار کی روایت کی حدود میں بھی رہنے کے قابل تھی، بالخصوص اِس حقیقت کی بدولت کہ انقلاب سے پہلے ہی پیٹروگراڈ گیریزن نے کم و بیش مکمل طور پر سوویت کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ بے شمار یادداشتوں، سالگرہ کے مقالوں اور ابتدائی تاریخی مضامین میں ہر طرح کی دستاویزات سے مصدقہ اِس حقیقت کو مسلمہ سمجھا گیا ہے۔
سرکشی کا ایک منتظم اور بعد ازاں سرخ محافظ ملیشیا کا تاریخ دان میلاخووسکی اصرار کرتا ہے کہ نیم مجہول گیریزن کے برعکس یہ مسلح مزدور تھے جنہوں نے سرکشی میں پیش قدمی، عزم اور استقلال کا مظاہرہ کیا۔ وہ لکھتا ہے، ’’اکتوبر انقلاب کے دوران سرخ محافظوں نے حکومتی اداروں، ڈاک خانے اور ٹیلی گراف پر قبضہ کیا اور لڑائیوں کے دوران وہ پہلی صفوں میں تھے۔‘‘ یہ سب بالکل درست ہے۔ تاہم یہ سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے کہ سرخ محافظ اگر اِن اداروں پر باآسانی ’’قبضہ‘‘ کر سکے تو صرف اِس لئے گیریزن اُن کے ساتھ تھا، اُن کی مدد کر رہا تھا یا کم از کم رکاوٹ نہیں بن رہا تھا۔ اِسی چیز نے سرکشی کے مقدر کا فیصلہ کیا۔
سرکشی کے لئے کون زیادہ اہم تھا، مزدور یا سپاہی؟ ایسا سوال اٹھانا ہی واضح کر دیتا ہے کہ ہم انتہائی پست سیاسی معیار پر کھڑے ہیں جہاں بحث کی کم و بیش کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اکتوبر انقلاب اقتدار کے لئے بورژوازی کے خلاف پرولتاریہ کی جدوجہد تھا، لیکن آخری تجزئیے میں اِس جدوجہد کے نتیجے کا فیصلہ کسان نے کیا۔ جو عمومی خاکہ پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا، اُسے اپنا سب سے مکمل اظہار پیٹروگراڈ میں ملا۔ جس چیز نے یہاں انقلاب کو کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ مختصر حملے کا کردار عطا کیا وہ ایک انقلابی سازش، پرولتاری سرکشی اور اپنی جان بچانے کے لئے کسان گیریزن کی جدوجہد کا امتزاج تھا۔ پارٹی نے شورش کی قیادت کی؛ کلیدی قوت محرکہ پرولتاریہ تھا؛ مزدوروں کے مسلح دستوں نے پیش قدمی کی؛ لیکن بھاری بھرکم کسان گیریزن نے ہی جدوجہد کے نتیجے کا فیصلہ کیا۔
بالکل اِسی سوال پر فروری اور اکتوبر انقلاب کا موازنہ ناگزیر ہے۔ بادشاہت کے دھڑن تختے کے وقت دونوں اطراف کے لئے گیریزن ایک بہت بڑا معمہ تھا؛ سپاہیوں کو خود نہیں پتا تھا کہ مزدوروں کی سرکشی پر اُن کا ردِ عمل کیا ہو گا۔ مزدوروں اور سپاہیوں کے درمیان بڑے پیمانے کے تصادموں، عمل میں سپاہیوں کی آزمائش اور سپاہیوں کے مزدوروں کے ساتھ مل جانے کے لئے ضروری میدان صرف ایک عام ہڑتال ہی سجا سکتی تھی۔ یہی فروری کے اُن پانچ دنوں کا ڈرامائی مافیہ تھا۔
لیکن عبوری حکومت کے دھڑن تختے کے وقت گیریزن کی وسیع اکثریت سرِ عام مزدوروں کے ساتھ کھڑی تھی۔ حکومت پورے ملک میں اتنی تنہا کہیں نہیں تھی جتنی اپنے گھر میں تھی۔ انقلابی رجمنٹوں کو نکالنے کی ناکام کوشش سے حکومت نے فیصلہ کن طور پر خود کو تباہ کر لیا ۔
سرکشی سے پہلے کیرنسکی کی مجہول حکمت عملی کی وضاحت محض اُس کی ذاتی خاصیتوں سے کرنا ایک سطحی سوچ ہو گی۔ حکومت میں پالچنسکی جیسے لوگ بھی تھے، جن میں توانائی کی کوئی کمی نہیں تھی۔ مجلس عاملہ کے رہنماؤں کو بھی پتا تھا کہ بالشویکوں کی فتح کا مطلب اُن کی سیاسی موت تھا۔ تاہم وہ سب کے سب مفلوج ثابت ہوئے اور کیرنسکی کی طرح ایک نیم نیند کی کیفیت میں چلے گئے، یہ وہ نیند تھی جس میں اپنے سر پر منڈلاتے خطرے کے باوجود بھی انسان خود کو بچانے کے لئے ہاتھ تک نہیں اٹھا سکتا۔
اکتوبر میں مزدوروں اور سپاہیوں کا بھائی چارہ فروری کی طرح سڑکوں پر کھلے تصادموں میں پروان نہیں چڑھا تھا، بلکہ سرکشی سے پہلے ہی قائم ہو چکا تھا۔ اگر اِس بار بالشویکوں نے عام ہڑتال کی کال نہیں دی تو اِس لئے نہیں کہ وہ دے نہیں سکتے تھے، بلکہ اُنہیں ضرورت ہی نہیں تھی۔ سرکشی سے پہلے ہی عسکری انقلابی کمیٹی خود کو مختارِ کُل محسوس کر رہی تھی؛وہ گیریزن کے ہر حصے، اُس کے مزاج، اُس کی داخلی گروہ بندیوں سے واقف تھی؛ ہر روز اطلاعات موصول کر رہی تھی، جو نمائشی نہیں بلکہ حقائق پر مبنی تھیں؛ کسی بھی وقت کسی بھی رجمنٹ کو اپنے قاصد یا بااختیار کمیسار کے ذریعے حکم دے سکتی تھی ؛ ٹیلیفون کے ذریعے کسی یونٹ کی کمیٹی کو اپنے دفتر بلا سکتی تھی یا ڈیوٹی پر موجود کسی کمپنی کو احکامات جاری کر سکتی تھی۔ عسکری انقلابی کمیٹی نے سپاہیوں کے لئے سازشیوں کے کسی صدر دفتر کا نہیں بلکہ ایک حکومتی صدر دفتر کا درجہ حاصل کر لیا تھا۔
یہ درست ہے کہ ریاست کے کلیدی ادارے ابھی تک حکومت کے اختیار میں ہی تھے۔ لیکن اُن کے نیچے سے مادی بنیاد ختم ہو چکی تھیں۔صدر دفتر اور وزرا ہوا میں معلق ہو چکے تھے۔ ٹیلی فون، ٹیلی گراف اور سٹیٹ بینک ابھی تک حکومت کا کام انجام دے رہے تھے۔ لیکن حکومت کے پاس اِن اداروں پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے عسکری قوتیں نہیں تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سرما محل اور سمولنی نے ایک دوسرے کی جگہ لے لی ہو۔ عسکری انقلابی کمیٹی نے بھوت جیسی حکومت کو ایسی صورتحال میں مبتلا کر دیا تھا جہاں گیریزن کے توڑے بغیر یہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن سپاہیوں پر ضرب لگانے کی کیرنسکی کی ہر کوشش نے اُس کے انجام کو تیز تر ہی کیا۔
تاہم انقلاب کا نصب العین ابھی تک حاصل نہیں ہوا تھا۔ سپرنگ اور گھڑی کا سارا نظام عسکری انقلابی کمیٹی کے پاس تھا۔ لیکن سوئیوں اور ڈائل کی کمی تھی۔ اور اِن جزئیات کے بغیر گھڑی اپنا کام نہیں کر سکتی۔ ٹیلی گراف اور ٹیلیفون، بینک اور صدر دفتر کے بغیر عسکری انقلابی کمیٹی حکومت نہیں کر سکتی تھی۔ اُس کے پاس اقتدار کی تمام شرائط اور عناصر موجود تھے، لیکن خود اقتدار نہیں تھا۔
فروری میں مزدوروں کو بینکوں اور سرما محل پر قبضے کی نہیں بلکہ فوج کی مزاحمت توڑنے کی فکر لاحق تھی۔ وہ ریاست کے کلیدی اداروں کے لئے نہیں بلکہ سپاہی کی روح جیتنے کے لئے لڑ رہے تھے۔ جب اِس میدان میں فتح حاصل ہو گئی تو دوسرے تمام مسائل خود بخود حل ہو گئے۔ اپنی محافظ بٹالینیں کھو دینے کے بعد بادشاہت نے نہ تو اپنے محلات اور نہ ہی اپنے صدر دفتر کے دفاع کی کوشش کی۔
اکتوبرمیں سپاہی کی روح کھو دینے کے بعد بھی کیرنسکی کی حکومت ریاست کے کلیدی اداروں سے چمٹی رہی۔ اُس کے اختیار میں موجود صدر دفتر، بینک اور ٹیلیفون صرف اقتدار کی ظاہریت تھے۔ سوویتوں کے اختیار میں آ کر اُنہوں نے مکمل اقتدار کا ضامن بننا تھا۔ سرکشی سے عین پہلے کی صورتحال ایسی ہی تھی اور اِسی نے آخری چوبیس گھنٹوں میں سرگرمی کی اشکال کا تعین کیا۔
مظاہروں، سڑکوں پر جھڑپوں اور مورچوں جیسی ہر چیز جو سرکشی کا عمومی خیال تشکیل دیتی ہے، تقریباً بالکل غیرموجود تھی۔ انقلاب کو پہلے سے حل شدہ مسئلے کو دوبارہ حل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ حکومتی مشینری پر قبضہ منصوبے کے مطابق ایک مرکز کی قیادت میں نسبتاً چھوٹے مسلح دستوں کے ذریعے مکمل ہو سکتا تھا ۔ بیرکیں، قلعہ، گودام، وہ تمام ادارے جہاں مزدور اور سپاہی کام کرتے ہیں، اُن کی داخلی قوتوں کے ذریعے ہی قبضہ میں لئے جا سکتے تھے۔ لیکن سرما محل، عبوری پارلیمنٹ، فوجی سکولوں، فوج کے علاقائی صدر دفتر اور وزارتوں پر اندر سے قبضہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ ٹیلیفون، ٹیلی گراف، ڈاکخانے اور سٹیٹ بینک کے بارے میں بھی درست تھا۔ اِن افسر شاہانہ ایوانوں میں باہر سے گھسنا ضروری تھا۔ یہاں سیاسی فتح کی جگہ بزور طاقت قبضے نے لے لی۔ لیکن چونکہ حکومت کو اُس کی عسکری طاقت سے محروم کر دئیے جانے کے بعد اُس کے لئے مزاحمت کرنا ناممکن ہو چکا تھا، لہٰذا اِن آخری کلیدی اداروں پر قبضہ بالعموم تصادموں کے بغیر ہی مکمل ہو گیا۔
تاہم مسئلہ بہر صورت لڑائی کے بغیر حل نہیں ہوا۔ سرما محل پر حملہ کر کے قبضہ کیا گیا۔لیکن ساری جدوجہد میں 25 اکتوبر کے مقام کو یہ حقیقت ہی واضح کر دیتی ہے کہ حکومت کی مزاحمت صرف سرما محل کے دفاع تک محدود ہو چکی تھی۔ سرما محل اُس نظامِ حکومت کا آخری مورچہ تھا جو اپنے وجود کے آٹھ مہینوں میں سیاسی طور پر بالکل ٹوٹ پھوٹ چکا تھا اور پچھلے دو ہفتوں میں فیصلہ کن طور پر غیر مسلح ہو چکا تھا۔
’سازشی عناصر‘کی اصطلاح سے اگر ایک منصوبہ اور مرکزی قیادت مراد لی جائے تو فروری انقلاب میں اُنہیں معمولی مقام حاصل تھا۔ اِس کی وجہ زارشاہی کے جبر اور جنگ کی وجہ سے انقلابی گروہوں کی کمزوری اور بکھرا پن تھا۔ لہٰذا عوام پر عائد ہونے والی ذمہ داری اتنی ہی بھاری تھی۔ سرکشی کرنے والے کوئی انسانی ٹڈی دَل نہیں تھے۔ اُن کے پیچھے سیاسی تجربہ، روایات، نعرے اور گمنام رہنما تھے۔ تاہم سرکشی میں قیادت کے بکھرے ہوئے عناصر بادشاہت کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے تو کافی ثابت ہوئے، لیکن فاتحین کو اُن کی فتح کا ثمر دینے کے لئے وہ بالکل ناکافی تھے۔
اکتوبر میں سڑکوں کی طمانیت، ہجوموں اور لڑائیوں کی عدم موجودگی نے دشمن کو ’ایک معمولی اقلیت کی سازش‘ اور ’مٹھی بھر بالشویکوں کی مہم جوئی‘ کی باتیں کرنے کا عذر فراہم کر دیا۔ سرکشی کے بعد دنوں، مہینوں، حتیٰ کہ کئی سالوں تک یہ کلیہ مسلسل دہرایا جاتا رہا۔ [اِس کے جواب میں] انقلاب کی ساکھ کو بحال کرنے کے لئے ہی یاروسلاوسکی 25 اکتوبر کے بارے میں لکھتا ہے: ’’عسکری انقلابی کمیٹی کی کال پر پیٹروگراڈ کے پرولتاریہ کی وسیع تعداد نے اُس کے پرچم تلے پیٹروگراڈ کی سڑکوں کو بھر دیا۔‘‘ یہ سرکاری تاریخ دان صرف یہ بتانا بھول جاتا ہے کہ عسکری انقلابی کمیٹی نے کس مقصد کے لئے اِن عوام کو سڑکوں پر بلایا تھا اور اُنہوں نے سڑکوں پر آکر کیا کیا۔
فروری انقلاب کے کمزور اور قوی نکات میں سے اِس کے کُل قومی انقلاب ہونے کا سرکاری تصور ابھرا ہے، اِس کے برخلاف اکتوبر انقلاب کو ایک سازش قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بالشویکوں نے اقتدار کی جدوجہد کو بالکل آخری وقت میں ایک ’’سازش‘‘تک محدود کر دیا تھا، اِس لئے نہیں کہ وہ ایک چھوٹی سی اقلیت تھے، بلکہ اِس کے برعکس اِس لئے کہ اُنہیں مزدور علاقوں اور بیرکوں کی ٹھوس اور منظم وسیع اکثریت کی حمایت حاصل تھی ۔
اکتوبر انقلاب کو صرف اِس صورت میں درست طور پر سمجھا جا سکتا ہے جب نظر کی وسعت کو محض اُس کی آخری کڑی تک محدود نہ کیا جائے۔ فروری کے آخری دنوں میں شطرنج کا کھیل پہلی چال سے آخری چال تک، یعنی دشمن کے ہتھیار ڈالنے تک کھیلا گیا تھا۔ تاہم اکتوبر کے آخر میں کھیل کا اہم حصہ پہلے ہی کھیلا جا چکا تھااور سرکشی کے دن محض ایک قدرے چھوٹا مسئلہ حل کرنا باقی تھا: دو چالوں میں شہ مات! اس لئے اکتوبر کے عرصے کا آغاز 9 اکتوبر کو سمجھا جانا چاہئے، جب گیریزن سے متعلقہ تنازعہ شروع ہوا، یا پھر 12 اکتوبر کو، جب عسکری انقلابی کمیٹی کی تخلیق کی قرارداد منظور ہوئی۔ خفیہ چالبازی دو ہفتوں سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔ اِس کا زیادہ فیصلہ کن حصہ پانچ سے چھ دن جاری رہا: عسکری انقلابی کمیٹی کی پیدائش سے سرما محل پر قبضہ تک۔ اِس سارے عرصے میں لاکھوں مزدور اور سپاہی براہِ راست کاروائی میں شریک ہوئے، جو بظاہر دفاع لیکن اپنی اساس میں جارحانہ تھی۔ آخری مرحلہ، جب سرکشی کرنے والوں نے آخر کار دوہرے اقتدار کی بندشتوں کو اُس کی مبہم قانونیت اور اپنی دفاعی لفاظی سمیت مسترد کر دیا، ٹھیک چوبیس گھنٹوں پر مشتمل تھا: 25 تاریخ کی رات 2 بجے سے لے کر 26 تاریخ کی رات 2 بجے تک۔اِس دوران عسکری انقلابی کمیٹی نے شہر کی فتح اور حکومت پر قبضے کے لئے سرِ عام ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ اِن کاروائیوں میں بالعموم اُتنی ہی قوتوں نے حصہ لیا جتنی ایک محدود مسئلے کو حل کرنے کے لئے درکار تھیں، زیادہ سے زیادہ 25 سے 30 ہزار۔
ایک اطالوی مصنف، جو نہ صرف الف لیلیٰ کی کہانیوں بلکہ ریاست کے اعلیٰ ترین مسائل پر بھی کتب لکھتا ہے، نے 1929 ء میں ماسکو کا دورہ کیا، جو کچھ کسی دوسرے، تیسرے یا دسویں فرد سے منہ زبانی معلوم ہوا اُسے بھی غلط طور پر سمجھا اور اِس بنیاد پر ایک کتاب تخلیق کر ڈالی: ’’سازش کے ذریعے حکومت پر قبضہ: انقلاب کی تکنیک۔‘‘ اِس مصنف کا نام میلا پارٹ ہے، جس سے اُسے ریاستی سرکشی کے ایک دوسرے ماہر، نپولین بوناپارٹ، سے ممتاز کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
میلاپارٹ کے مطابق روس کے سماجی و سیاسی حالات سے مطابقت رکھنے والی ’’لینن کی حکمت عملی‘‘ کے برخلاف ’’ٹراٹسکی کی چالبازی کی ملک کے عمومی حالات سے کوئی مطابقت نہیں تھی۔‘‘ انقلاب کی سیاسی شرائط کے بارے میں لینن کی رائے کا جواب یہ مصنف ٹراٹسکی سے دلواتا ہے: ’’تمہاری حکمت عملی بہت زیادہ موافق حالات کا تقاضا کرتی ہے، جن میں سرکشی کو کسی چیز کی ضرورت نہ ہو اور وہ خود کفیل ہو۔‘‘ اِس سے زیادہ خود کفیل بکواس کا تصور کرنا محال ہو گا۔ میلاپارٹ بار بار دہراتا ہے کہ اکتوبر انقلاب کے پیچھے لینن کی حکمت عملی نہیں بلکہ ٹراٹسکی کی چالبازی کارفرما تھی اور یہ کہ یہ چالبازی ابھی تک یورپی ریاستوں کے امن و امن کے لئے ایک خطرہ ہے۔ ’’یورپ کی حکومتوں کو لینن کی حکمت عملی سے کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔ اُنہیں ایک حقیقی اور مزید برآں مسلسل خطرہ ٹراٹسکی کی چالوں سے ہے… کیرنسکی کی جگہ فرانسیسی وزیر اعظم پونکارے کو رکھ دیں تو بھی اکتوبر 1917ء کا بالشویک ریاستی انقلاب کامیاب ہو جائے گا۔‘‘ یہ جاننے کی کوشش یقینا بیکار ہو گی کہ اگر ٹراٹسکی کی چالیں ہر طرح کے حالات میں مسئلہ حل کر سکتی ہیں تو پھر تاریخی حالات پر انحصار کرنے والی لینن کی حکمت عملی کا کیا فائدہ ہے؟ مزید بتاتے چلیں کہ اِس ’عظیم کتاب‘ کا ترجمہ کئی زبانوں میں ہو بھی چکا ہے اور سیاسی مدبرین اِس سے ریاستی انقلاب کو پسپا کرنے کے طریقے سیکھ رہے ہیں۔ ہماری نیک تمنائیں اُن کے ساتھ ہیں!
25 اکتوبر کی خالصتاً عسکری کاروائیوں پر ابھی تک کوئی تنقید نہیں کی گئی ہے۔ سوویت لٹریچر میں اِس موضوع پر جو کچھ موجود ہے اُس کا کردار تنقیدی نہیں بلکہ خالصتاً معذرت خواہانہ ہے۔ نقالوں کی اِن تحریروں کے مقابلے میں تو سوخانوف کی تنقید بھی اپنے تمام تر تضادات کے باوجود حقائق کی طرف محتاط رویے کی وجہ سے بہتر ہے۔
اکتوبر کی سرکشی کو جانچتے ہوئے سوخانوف نے دو سال کے عرصے میں دو متضاد خیالات پیش کئے ہیں۔ فروری انقلاب پر اپنی تصنیف میں وہ کہتا ہے: ’’میں کسی دن اپنی ذاتی یادداشتوں سے اکتوبر انقلاب کا تذکرہ لکھوں گا، جو ایسے برپا ہو اجیسے اشاروں پر موسیقی بجائی جا رہی ہو۔‘‘ سوخانوف کے اِس تبصرے کو یاروسلاوسکی بھی لفظ بہ لفظ دہراتا ہے۔ ایک مخالف اور ایک گہرا نہیں مگر ہوشیار مشاہد کلاڈ اینٹ اس سے بھی زیادہ زور دار انداز سے کہتا ہے: ’’7 نومبر کے ریاستی انقلاب کی ستائش ہی کی جا سکتی ہے۔ کوئی ایک بھی غلط قدم نہیں، کوئی ایک بھی دراڑ نہیں۔ حکومت کو ’ہائے‘ کہنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔‘‘ دوسری طرف اکتوبر انقلاب کے لئے وقف اپنی جلد میں سوخانوف بتاتا ہے کہ کیسے سمولنی نے ’’خفیہ طور پر اپنا راستہ ٹٹولتے ہوئے، پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے ، کسی نظام کے بغیر‘‘ عبوری حکومت کا خاتمہ کیا۔
اِن دونوں تبصروں میں مبالغہ آرائی ہے۔ لیکن ایک وسیع تر نقطہ نظر سے وہ کچھ حقیقت پر بھی مبنی ہیں۔ اکتوبر انقلاب کا منصوبہ بند کردار بڑی حد تک معروضی حالات، بحیثیت مجموعی انقلاب کی پختگی، ملک میں پیٹروگراڈ کے مقام، پیٹروگراڈمیں حکومت کے مقام، پارٹی کے پچھلے سارے کام اور آخر میں انقلاب کی درست سیاسی قیادت کا نتیجہ تھا۔ لیکن عسکری تکنیک کے مسائل باقی تھے۔ یہاں نقائص کی کمی نہیں تھی اور اگر آپ اِن سب نقائص کو یکجا کریں تو سوچے سمجھے بغیر کئے جانے والے کام کا تاثر قائم ہو سکتا ہے۔
سرکشی سے پہلے کے دنوں کے دوران سوخانوف نے کئی بار خود سمولنی کی عسکری عدم حفاظت کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ یہ درست ہے کہ 23 تاریخ تک بھی انقلاب کے صدر دفتر کا دفاع سرما محل سے کچھ ہی بہتر تھا۔ عسکری انقلابی کمیٹی نے اِس کی حفاظت کو بالخصوص گیریزن کے ساتھ اپنا ناطہ مضبوط کر کے دشمن کی تمام عسکری حرکات پر نظر رکھتے ہوئے یقینی بنایا۔کمیٹی نے تکنیکی عسکری نوعیت کے زیادہ سنجیدہ اقدامات حکومت سے صرف چوبیس گھنٹے قبل ہی اٹھائے۔ سوخانوف کو پورا یقین ہے کہ 23 تاریخ اور 24 تاریخ کی رات کو حکومت کچھ پیش قدمی کرتی تو عسکری انقلابی کمیٹی کو گرفتار کر سکتی تھی۔ ’’سمولنی اور اِس میں موجود ہر کسی کے خاتمے کے لئے 500 بندوں کا ایک تگڑا دستہ کافی ہوتا۔‘‘ لیکن اِس کام کے لئے سب سے پہلے حکومت کو عزم اور جرات کی ضرورت تھی، یہ دنوں خاصیتیں اُس کی فطرت سے متضاد تھیں۔ اِس کے بعد اُسے ’’500 بندوں کے تگڑے دستے‘‘ کی ضرورت تھی۔ یہ بندے کہاں سے ملنے تھے؟ افسروں میں سے؟ ہم نے اگست کے آخر میں اُنہیں سازشیوں کے طور پر دیکھا ہے: اُنہیں نائٹ کلبوں میں ڈھونڈنا پڑا تھا۔ مصالحت پسندوں کے لڑاکا دستے ٹوٹ کر بکھر چکے تھے۔ فوجی سکولوں میں ہر چھوٹا موٹا مسئلہ متصادم گروہ کھڑے کر دیتا تھا۔ کاسکوں کی حالت اور بھی خراب تھی۔ مختلف یونٹوں سے انفرادی چناؤ کے ذریعے ایک دستہ تشکیل دینے کا مطلب کام ختم ہونے سے پہلے دس بار اپنا راز فاش کرنا ہوتا۔
تاہم ایسے کسی دستے کی موجودگی سے بھی مسئلہ حل نہ ہوتا۔ سمولنی کے علاقے میں چلنے والی پہلی ہی گولی مزدور علاقوں اور بیرکوں میں خوفناک گونج پیدا کر دیتی۔ انقلاب کے مرکز کے دفاع کے لئے دسیوں ہزار مسلح اور نیم مسلح لوگ نکل آتے۔ حتیٰ کہ عسکری انقلابی کمیٹی کی گرفتاری بھی حکومت کو بچا نہ پاتی۔ سمولنی کی دیواروں سے پرے لینن موجود تھا اور مرکزی کمیٹی اور پیٹروگراڈ کمیٹی اُس کے ساتھ رابطہ میں تھی۔ پیٹر اور پال کے قلعے میں ایک دوسرا صدر دفتر بھی تھا، ’آرورا‘ پر ایک تیسرا صدر دفتر تھا اور ہر علاقے کا اپنا صدر دفتر تھا۔ عوام قیادت سے محروم نہ رہتے۔ مزدور اور سپاہی اپنی حرکت کی سست روی کے باوجود ہر حال میں فتح کے لئے پرعزم تھے۔
تاہم یہ بالکل درست ہے کہ عسکری احتیاط کے اضافی اقدامات کچھ دن پہلے اٹھائے جا سکتے تھے اور اٹھائے جانے چاہئے تھے۔ اِس لحاظ سے سوخانوف کی تنقید جائز ہے۔ ایک انقلاب کی عسکری مشین تاخیروں اور غفلتوں کے ساتھ بڑے بے ڈھنگے انداز سے چلتی ہے اور عمومی قیادت بھی تکنیک کی جگہ سیاست سے کام چلانے کی کوشش کرتی ہے۔سمولنی میں لینن کی نظروں کی شدید کمی تھی۔ باقی ابھی سیکھ رہے تھے۔
سوخانوف کا یہ دعویٰ بھی درست ہے کہ 26 تاریخ کے دوسرے نصف حصے کی بجائے صبح یا 25 تاریخ کی رات کو سرما محل پر قبضہ کرنا کہیں زیادہ آسان ہوتا۔ محل اور اُس کے ہمسائے میں صدر دفتر کی عمارت کا دفاع جنکروں کے عام دستے کر رہے تھے: ایک اچانک حملے کی کامیابی کم و بیش یقینی تھی۔ کیرنسکی اُس صبح ایک موٹر گاڑی میں بلا روک ٹوک بھاگ گیا تھا۔ اِسی سے ثابت ہوتا ہے کہ [عسکری انقلابی کمیٹی کی جانب سے] سرما محل پر کوئی خاص نظر نہیں رکھی جا رہی تھی۔یہ واضح غفلت تھی۔
عبوری حکومت پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سویڈلوف پر عائد ہوتی تھی اور لاشیوچ اور بلاگنراووف اُس کے معاون تھے۔ تاہم پہلے سے بے شمار کاموں میں کھپا سویڈلوف شاید ہی اِس اضافی کام پر توجہ دے پایا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ فیصلہ، جسے اگرچہ منٹس میں درج کیا گیا تھا، اُس وقت کے شدید دباؤ میں بھول گیا ہو۔
ہر چیز کے باوجود عسکری انقلابی کمیٹی میں حکومت کے عسکری وسائل اور بالخصوص سرما محل کے دفاع کو حقیقت سے زیادہ سمجھا جا رہا تھا۔ حتیٰ کہ محاصرے کے براہِ راست رہنما اگر محل کی داخلی قوتوں کے بارے میں جان لیتے تو بھی اُنہیں کمک کی آمد کا خوف رہتا: جنکر، کاسک، یلغاری بٹالینیں۔ محل پر قبضے کا منصوبہ کسی بڑے پیمانے کی کاروائی کی طرز پر تیار کیا گیا تھا۔ سول اور نیم سول لوگ کسی خالصتاً عسکری مسئلے کو حل کرتے وقت ہمیشہ ضرورت سے زیادہ ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اور ضرورت سے زیادہ باریک بینی کے ساتھ ساتھ وہ اپنی انتہائی بے چارگی کا مظاہرہ ہی کرتے ہیں۔
محل پر قبضے میں اِن کوتاہیوں کی وضاحت کسی حد تک کلیدی رہنماؤں کی ذاتی صفات سے بھی ہوتی ہے۔ پوڈووئسکی، اینٹونوف اور چڈنووسکی بڑے دلیر بندے ہیں۔ لیکن وہ باقاعدہ اور منظم سوچ والے بندے بالکل نہیں ہیں۔ پوڈووئسکی، جو جولائی کے دنوں میں انتہائی سرگرم تھا، اب فوری تناظر کے بارے میں بہت محتاط، حتیٰ کہ شکّی ہو گیا تھا۔ لیکن بنیادی طور پر وہ اپنے طور طریقے کے مطابق ہی چلتا تھا: کسی عملی کام سے آمنا سامنا ہو جانے پر وہ اُس کی حدود کو توڑ دینے، منصوبے کو وسیع کر دینے، ہر چیز اور ہر بندے کو اُس میں شامل کر لینے اور جہاں کم سے کم کی ضرورت ہوتی تھی وہاں زیادہ سے زیادہ کرنے کی طرف مائل ہوتا تھا۔ منصوبے میں موجود مبالغے کے عنصر میں اُس کے مزاج کی چھاپ با آسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ اینٹونوف فطرتاً ایک ہیجانی رجائیت پسند تھا، جو حساب کتاب سے زیادہ برجستگی کے لئے موزوں تھا۔ سابقہ پیٹی افسر کی حیثیت سے وہ کچھ عسکری معلومات رکھتا تھا۔ جنگ کے دوران ایک تارک وطن کے طور پر وہ پیرس کے ایک پرچے ’ناشے سلووو‘ میں عسکری صورتحال کا جائزہ لیتا تھا اور اکثر فوجی حکمت عملی کی بصیرت کا مظاہرہ کرتا تھا۔ تاہم اِس شعبے میں اُس کی اثر پذیر شوقینی پوڈووئسکی کی بے حد اڑان کا توڑ نہیں تھی۔ اِن عسکری رہنماؤں میں تیسرا چڈنووسکی تھا، جس نے کچھ مہینے ایک غیر فعال محاذ پر بطور ایجی ٹیٹر گزارے تھے، یہی اُس کی کُل فوجی تربیت تھی۔ چڈنووسکی کا رجحان اگرچہ دائیں بازو کی طرف تھا، تاہم لڑائی میں سب سے پہلے جاتا تھا اور وہ جگہ ڈھونڈتا تھا جہاں کام سب سے گرم ہوتا تھا۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ذاتی بہادری اور سیاسی بے باکی کے درمیان ہمیشہ مکمل توازن نہیں ہوتا ہے۔ انقلاب کے کچھ دنوں بعد چڈنووسکی پیٹروگراڈ کے قریب کیرنسکی کے کاسکوں سے ایک جھڑپ میں زخمی ہوا اور کچھ مہینوں بعد یوکرائن میں مارا گیا۔ یہ واضح ہے کہ باتونی اور ہیجانی چڈنووسکی باقی دو رہنماؤں کی کمیوں کی تلافی نہیں کر سکا۔ اِن تینوں میں سے کسی کے پاس بھی گہری نظر نہیں تھی، کیونکہ اِن میں سے کسی نے بھی اس کام کی باریکیاں نہیں سیکھی تھیں۔ جاسوسی، روابط اور چالبازی میں اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے اِن سرخ سپہ سالاروں نے سرما محل پر اتنی زیادہ قوتیں چڑھانا ضروری سمجھا کہ عملی قیادت کی ضرورت ہی ختم ہو جائے۔ تاہم اِس سب کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ عسکری انقلابی کمیٹی کے عملے یا اُس کے ارد گرد اِن سے زیادہ قابل فوجی رہنما مل سکتے تھے۔ اِن سے زیادہ مخلص اور بے لوث لوگ ڈھونڈنا ناممکن تھا۔
سرما محل کے لئے جدوجہد کا آغاز سارے علاقے کو ایک وسیع حلقے میں گھیرنے سے ہوا۔ سپہ سالاروں کی ناتجربہ کاری، روابط میں خلل، سرخ محافظ دستوں کے اناڑی پن اور باقاعدہ یونٹوں کے عدم اندراج کی وجہ سے یہ پیچیدہ کاروائی بہت سست رفتاری سے آگے بڑھی۔ عین انہی اوقات میں جنکروں کی کمپنیاں، کاسکوں کے سکواڈرن، خواتین بٹالین اور سینٹ جارج کے گھڑسوار سرما محل میں گھس گئے ۔یوں حملہ آور گھیرے کے ساتھ ساتھ ایک مزاحمتی مکّا بھی تشکیل پا رہا تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ مسئلہ اُس بے حد گول مول طریقے سے پیدا ہوا جس کے ذریعے اِسے حل کیا جا رہا تھا۔ رات کے وقت ایک بے باک حملے یا دن کے وقت ایک جرات مندانہ ضرب میں ہلاکتوں کی تعداد شاید ہی اِس طویل کاروائی سے زیادہ ہوتی۔ ’آرورا‘ کے توپخانے کا نفسیاتی اثر بارہ یا چوبیس گھنٹے پہلے بھی آزمایا جا سکتا تھا۔ جہاز دریائے نیوا میں بالکل تیار کھڑا تھا اور جہازیوں کو کمپریسروں کے تیل کی کمی کی بھی کوئی شکایت نہیں تھی۔ لیکن کاروائی کے رہنما کسی لڑائی کے بغیر مسئلے کے حل کی امید کر رہے تھے، نمائندے بھیج رہے تھے، الٹی میٹم دے رہے تھے اور مقررہ وقت کی تعمیل نہیں کر رہے تھے۔ اُنہیں پیٹر اور پال کے قلعے میں توپخانے کا جائزہ بروقت لینے کا خیال اِس لئے نہیں آیا کہ اُنہیں توپخانے کے بغیر ہی کام چل جانے کی توقع تھی۔
عسکری قیادت کی عدم تیاری کا اظہار اِس سے بھی زیادہ واضح طور پر ماسکو میں ہوا، جہاں طاقتوں کا توازن اس قدر موافق سمجھا جا رہا تھا کہ لینن نے شروعات وہاں سے کرنے پر اصرار کیا تھا: ’’فتح یقینی ہے اور لڑنے کو کوئی نہیں ہے۔‘‘ لیکن درحقیقت ماسکو میں سرکشی طویل جھڑپوں کی شکل اختیار کر گئی جو وقفوں وقفوں سے آٹھ دن جاری رہیں۔ ماسکو کی سرکشی کا ایک کلیدی رہنما مورالوف لکھتا ہے، ’’اِس گرم کام میں ہم ہمیشہ اور مکمل طور پر ثابت قدم اور اٹل نہیں ہوتے تھے۔ 10:1 کی غالب عددی برتری کی بنیاد پر ہم نے لڑائی کو ایک پورا ہفتہ کھینچا… جس کی وجہ لڑنے والے عوام کو قابو کرنے کی عدم صلاحیت اور سڑکوں کی لڑائی کی حکمت عملی سے کمانڈروں اور سپاہیوں کی عدم واقفیت تھی۔‘‘ مورالوف سیدھی بات کرنے کا عادی ہے، اِسی لئے آج سائبیریا میں جلاوطن ہے۔ لیکن مورالوف اُس ذمہ داری کا بڑا حصہ عسکری قیادت پر ڈال دیتا ہے جو درحقیقت سیاسی قیادت پر عائد ہونی چاہئے، جو ماسکو میں بہت متزلزل تھی اور مصالحت پسندانہ حلقوں کا اثر فوراً قبول کر لیتی تھی۔ ہمیں اِس حقیقت سے بھی قطع نظر نہیں کرنا چاہئے کہ ماسکو میں ٹیکسٹائل اور چمڑے کے مزدور پیٹروگراڈ کے پرولتاریہ سے بہت پیچھے تھے۔ فروری میں ماسکو میں کسی سرکشی کی ضرورت نہیں پڑی تھی: بادشاہت کے خاتمے کا انحصار مکمل طور پر پیٹروگراڈ پر تھا۔ جولائی میں ماسکو پرامن رہا تھا۔ اِس کا اظہار اکتوبر میں ہوا: مزدوروں اور سپاہیوں میں لڑائی کے تجربے کی کمی تھی۔
سرکشی کی تکنیک وہ کام کرتی ہے جو سیاست نہیں کر پائی ہوتی۔ بالشویزم کی دیوہیکل بڑھوتری نے بلاشبہ معاملے کے عسکری پہلو پر توجہ کمزور کر دی تھی۔ لینن کی تند و تیز ڈانٹ ڈپٹ بالکل جائز تھی۔ عسکری قیادت، سیاسی قیادت سے کہیں زیادہ کمزور ثابت ہوئی۔ کیا اِس کے برعکس ہو سکتا تھا؟ ابھی مزید کئی مہینوں تک انقلابی حکومت اُن تمام معاملات میں انتہائی اناڑی پن کا مظاہرہ کرے گی جہاں ہتھیاروں کا استعمال ضروری ہے۔
اِس سب کے باوجود بھی پیٹروگراڈ میں حکومتی کیمپ کے فوجی حکام نے انقلاب کی عسکری قیادت کو بڑی خوشامدانہ رائے سے نوازا ہے۔ سرما محل کے سقوط کے فوراً بعد وزارتِ جنگ نے براہِ راست تار پر صدر دفتر کو اطلاع دی، ’’سرکشی کرنے والوں نے نظم و نسق اور ڈسپلن قائم رکھا ہوا ہے۔ تباہی اور بلووں کے کوئی واقعات نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ سرکشوں کے گشت کرنے والے دستوں نے آوارہ گردی کرنے والے سپاہیوں کو روکا ہے… سرکشی کا منصوبہ بلاشبہ پہلے سے تیار کیا گیا تھا اور اِس پر بے لچک اور ہم آہنگ انداز سے عمل درآمد کیا گیا۔‘‘ نہ تو بالکل ’’اشاروں پر‘‘، جیسا کہ سوخانوف اور یاروسلاوسکی نے لکھا ہے، نہ ہی بالکل ’’کسی نظام کے بغیر‘‘ ، جیسا کہ اولذکر نے بعد ازاں دعویٰ کیا۔ مزید برآں انتہائی درشت تنقید کی عدالت میں کامیابی ہی بہترین ستائش ہوتی ہے۔

*****

[۱] 1924ء میں پیٹروگراڈ کا نام لینن گراڈ رکھ دیا گیا تھا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں