روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

بالشویک اور سوویتیں

بالشویک اور سوویتیں

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

قریبی مشاہدے پر بالشویک ایجی ٹیشن کے ذرائع اور اوزار نہ صرف بالشویزم کے سیاسی اثرورسوخ سے بالکل غیرمتناسب بلکہ حیران کن حد تک بے وقعت معلوم ہوتے ہیں۔ جولائی کے دنوں تک ہفت روزوں اور ماہناموں سمیت پارٹی کی 41 اشاعتیں (Publications) تھیں، جن کی مجموعی سرکولیشن 320,000 تھی۔ اگست کے آخر میں پارٹی کا مرکزی جریدہ 50 ہزار کاپیاں شائع کر رہا تھا۔ جن دنوں پیٹروگراڈ اور ماسکو سوویتوں کو پارٹی جیت رہی تھی، مرکزی کمیٹی کے خزانے میں صرف 30 ہزار روبل کی رقم موجود تھی۔
دانشور طبقہ بمشکل ہی بالشویک پارٹی میں آتا تھا۔ نام نہاد ’’پرانے بالشویکوں‘‘ کی وسیع پرت، جو 1905ء کے انقلاب سے وابستہ طلبہ میں سے تھی، اب انتہائی کامیاب انجینئروں، ڈاکٹروں اور سرکاری اہلکاروں میں تبدیل ہو چکی تھی۔ وہ اب پارٹی کو بڑے روکھے انداز سے پیٹھ دکھاتے تھے۔ حتیٰ کہ پیٹروگراڈ میں بھی پارٹی میں ہر قدم پر صحافیوں، مقررین اور ایجی ٹیٹروں کی کمی محسوس کی گئی؛ صوبے تو اُن تھوڑے بہتوں سے بھی بالکل محروم ہو چکے تھے جو اُن کے پاس کبھی ہوا کرتے تھے۔ ’’کوئی رہنما نہیں ہیں؛ کوئی سیاسی طور پر خواندہ لوگ نہیں ہیں جو عوام کو بتا سکیں کہ بالشویک چاہتے کیا ہیں!‘‘ یہ پکار سینکڑوں دور دراز کے علاقوں سے آ رہی تھی، بالخصوص محاذ سے۔ دیہاتوں میں کم و بیش کوئی بالشویک مرکزے موجود نہیں تھے۔ ڈاک کے ذریعے روابط بالکل درہم برہم تھے۔ اپنے حال پر چھوڑ دی گئی مقامی تنظیمیں اکثر مرکزی کمیٹی کو لعن طعن کرتی تھیں کہ اُسے بس پیٹروگراڈ سے ہی غرض تھی۔
پھر کیسے ہو گیا اِس کمزور ڈھانچے اور پارٹی پرچوں کی انتہائی معمولی گردش کے ساتھ بالشویزم کے نظریات اور نعروں نے عوام کو جیت لیا؟ اِس کی وضاحت بالکل سادہ ہے: طبقے اور عہد کے تقاضوں سے مطابقت رکھنے والے نعروں نے اپنے لئے ہزاروں راستے خود ہی تخلیق کر لئے۔ بالشویک پرچے باآوازِ بلند پڑھے جاتے تھے اور اتنے پڑھے جاتے کہ صفحات تک پھٹ جاتے تھے۔ اہم مضامین کو یاد کر لیا جاتا تھا، سنایا جاتا تھا، نقل کیا جاتا تھا اور جہاں کہیں ممکن ہوتا دوبارہ شائع کیا جاتا تھا۔ سپاہی پیریکو کہتا ہے، ’’ہمارے فوجی چھاپہ خانے نے انقلاب کے لیے بہت کام کیا۔ ہم ’پراودا‘ کے کتنے ہی مضامین دوبارہ چھاپتے تھے، کتنے ہی ایسے کتابچے جو سپاہیوں کے لیے قابل فہم ہوتے تھے! اِن سب کو ہوائی ڈاک، سائیکلوں اور موٹرسائیکلوں کے ذریعے سارے محاذ پر جلدی سے تقسیم کر دیا جاتا تھا… ‘‘ اِنہی وقتوں میں محاذ پر دسیوں لاکھ مفت کاپیاں تقسیم کرنے والی بورژوا پریس کو بمشکل ہی کوئی قاری مل پاتا تھا۔ ’’حب الوطن‘‘ پریس کا یہ بائیکاٹ بعض اوقات ایک واضح شکل اختیار کر لیتا تھا۔ 18ویں سائبیریائی ڈویژن کے نمائندگان نے ایک قرارداد منظور کی جس میں بورژوا پارٹیوں کو لٹریچر کی ترسیل روکنے کو کہا گیا، کیونکہ ’’یہ چائے کا پانی گرم کرنے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔‘‘ بالشویک پرچوں کا استعمال اِس سے بالکل مختلف تھا۔ یوں اس کی کارآمد تاثیر کا عددی سر بے حد بلند تھا۔
بالشویزم کی کامیابی کی روایتی وضاحت عوام کی امنگوں سے میل کھانے والے ’’اِس کے نعروں کی سادگی‘‘ تک محدود ہو چکی ہے۔ اِس میں کسی حد تک سچائی کا عنصر بھی شامل ہے۔ بالشویک حکمت عملی کی درستی اِس حقیقت کی وجہ سے تھی کہ ’’جمہوری پارٹیوں‘‘ کے برعکس بالشویک ایسے مذکورہ یا نیم مذکورہ عقائد سے آزاد تھے جو آخری تجزئیے میں نجی ملکیت کے دفاع تک محدود تھے۔ تاہم معاملہ صرف اِسی فرق پر ختم نہیں ہو جاتا۔ اگر دائیں طرف بالشویکو ں کا مقابلہ ’’جمہوریت‘‘ کر رہی تھی تو بائیں طرف بھی انارکسٹ، انتہا پسند اور بائیں بازو کے سوشل انقلابی تھے۔ تاہم یہ سارے گروہ بھی اپنی خصی کیفیت سے نکل نہیں پائے۔ بالشویزم کا امتیاز یہ تھا کہ اُس نے عوام کے مفادات کے تحفظ کے موضوعی نصب العین کو انقلابی قوانین کے معروضی عمل کے تابع کر دیا۔ اِن قوانین کی سائنسی دریافت ہی بالشویک حکمت عملی کی بنیاد تھی۔ محنت کرنے والے اپنی جدوجہد میں صرف اپنے مطالبات اور ضروریات سے ہی نہیں بلکہ اپنے زندگی کے تجربات سے بھی رہنمائی پاتے ہیں۔ عوام کے اِس اپنے تجربے کی طرف کسی شاہانہ حقارت کا معمولی سا داغ بھی بالشویزم پر نہیں تھا۔ اِس کے برعکس بالشویکوں نے اسی عوامی تجربے کو اپنا نقطہ آغاز بنایا اور اسی پر تعمیر کی۔ یہ اُن کی برتری کے عظیم ترین نکات میں سے ایک تھا۔
انقلابات ہمیشہ باتونی ہوتے ہیں، بالشویک اِس قانون سے بھاگے نہیں ۔ لیکن جہاں منشویکوں کی ایجی ٹیشن بکھری ہوئی، متضاد اور گول مول ہوتی تھی، بالشویکوں کی ایجی ٹیشن اپنے گاڑھے اور مدلل کردار کی وجہ سے ممتاز ہوتی تھی۔ مصالحت پسندمشکلات سے بھاگتے تھے ؛ بالشویک مشکلات کا سامنا کرتے تھے۔ معروضی صورتحال کا مسلسل جائزہ، حقائق کی بنیاد پر نعروں کی پرکھ اور دشمن کی طرف سنجیدہ رویے نے بالشویک ایجی ٹیشن کو خصوصی قوت اور اعتماد کی طاقت عطا کر دی۔
پارٹی کی پریس کامیابی کو مبالغہ آرائی سے پیش نہیں کرتی تھی، طاقتوں کے توازن کو بگاڑتی نہیں تھی، شور مچا کر جیتنے کی کوشش نہیں کرتی تھی۔ لینن کی درس گاہ انقلابی حقیقت پسندی کی درسگاہ تھی۔ 1917ء کی تاریخی تنقید اور عہد کی دوسری دستاویزات کی روشنی میں 1917ء کی بالشویک پریس کا مواد، دوسرے تمام اخبارات کی نسبت کہیں زیادہ درست ثابت ہو رہا ہے۔ یہ درستی بالشویکوں کی انقلابی قوت کا نتیجہ تھی، لیکن عین اسی وقت یہ اُن کی قوت میں اضافے کا باعث بھی تھی۔ اس روایت سے دستبرداری [بالشویزم کی سٹالنسٹ] نقالی کی سب سے مہلک خصوصیات میں سے ایک بن چکی ہے۔
لینن نے اپنی آمد کے فوراً بعد کہا تھا، ’’ہم عطائی نہیں ہیں۔ہمیں عوام کے شعور کو بنیاد بنانا ہو گا۔اگر اقلیت میں رہنا بھی ضروری ہے تو ایسا ہی سہی… ہمیں اقلیت ہونے سے ڈرنا نہیں چاہئے… ہم فریب کاری سے عوام کو آزاد کرانے کے لیے تنقید کا کام جاری رکھیں گے۔ ہماری حکمت عملی درست ثابت ہو گی۔ تمام محکوم ہماری طرف آئیں گے۔ اُن کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘‘ یہی بالشویک حکمت عملی تھی، جو جوش خطابت اور مہم جولائی کے بالکل برخلاف شروع سے آخر تک قابل فہم تھی۔
لینن روپوش ہے۔ وہ پوری توجہ سے اخبارات دیکھ رہا ہے، ہمیشہ کی طرح بین السطور معنی بھانپ رہا ہے ، یا پھر انفرادی بات چیت میں نامکمل خیالات کی بازگشت سن رہا ہے۔ عوام زوال پذیر ہیں۔مارٹوف جہاں بہتان تراشی کے خلاف بالشویکوں کا دفاع کر رہا ہے اُس کے ساتھ ہی ماتمی طعنے بھی دے رہا ہے کہ پارٹی نے کس ’’مہارت‘‘ سے خود کو ہی شکست دے دی ہے۔ لینن اندازہ لگاتا ہے کہ کچھ بالشویک بھی ایسے پچھتاوے کی علامات سے مبرا نہیں ہیں، کہ اِس معاملے میں حساس لیوناچارسکی اکیلا نہیں ہے۔ لینن پیٹی بورژوازی کی ’ریں ریں‘ اور اِس ریں ریں کی طرف جھکاؤ ظاہر کرنے والے کچھ بالشویکوں کے ’’بھگوڑ پن‘‘ کے بارے میں لکھتا ہے۔ علاقوں اور صوبوں میں بالشویک اِن تلخ الفاظ کی تائید کرتے ہیں۔ اُنہیں ایک بار پھر، زیادہ پختگی سے یقین ہو جاتا ہے: ’’یہ بوڑھا عقل سے فارغ نہیں ہو رہا ہے۔ اِس کا عزم ٹھوس ہے۔ وہ کسی حادثاتی مزاج کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔‘‘
بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی کا ایک رکن، شاید سویڈلوف، ایک صوبے کو لکھتا ہے: ’’فی الوقت ہمارے پاس اخبارات نہیں ہیں… لیکن تنظیم ٹوٹی نہیں ہے… کانگریس موخر نہیں ہوئی ہے۔‘‘ جہاں تک اُس کی جبری تنہائی اجازت دیتی ہے، لینن پوری توجہ سے پارٹی کانگریس کی تیاریوں کی پیروی کرتا ہے اور اس کے بنیادی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے: آگے کے حملے کی منصوبہ بندی۔ کانگریس کو پیشگی ایک مشترکہ کانگریس قرار دیا گیا تھا، کیونکہ اس میں کچھ خود مختار انقلابی گروہوں نے بالشویک پارٹی میں شمولیت اختیار کرنی ہے۔ اِن میں سب سے اہم بین العلاقائی پیٹروگراڈ تنظیم ہے، جس سے ٹراٹسکی، جوفے، یورٹسکی، ریازانوف، لیوناچارسکی، پوکرووسکی، مینوالسکی، کاراخان، یورینیف سمیت کسی ایسے انقلابی وابستہ ہیں جو ماضی میں مشہور تھے یا اب مشہور ہو رہے ہیں۔
2 جولائی کو مظاہرے سے بالکل قبل، 4 ہزار مزدوروں کی نمائندگی کرنے والی مذکورہ بالا بین العلاقائی تنظیم مزھرایونٹسی کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ سوخانوف، جو برآمدے میں موجود تھا، لکھتا ہے، ’’اکثریت ایسے مزدوروں اور سپاہیوں کی تھی جنہیں میں نہیں جانتا تھا… انتھک کام کیا گیا تھا اور اِس کی کامیابی ہم سب کے سامنے تھی۔ صرف ایک مشکل تھی: تم میں اور بالشویکوں میں کیا فرق ہے اور تم اُن کے ساتھ کیوں نہیں ہو؟‘‘ مزھرایونٹسی کا بالشویک پارٹی میں ادغام، جسے اِس تنظیم کے کچھ رہنما موخر کرنے کی کوشش کر رہے تھے، کو تیز کرنے کے لیے ٹراٹسکی نے ’پراودا‘ میں یہ بیان شائع کیا: میرے خیال میں بین العلاقائی اور بالشویک تنظیموں کے درمیان کوئی نظریاتی یا طریقہ کار کا اختلاف نہیں ہے۔ یوں اِن تنظیموں کے الگ الگ وجود کا کوئی جواز نہیں بنتا۔‘‘
مشترکہ کانگریس کا آغاز 26 جولائی کو ہوا۔ بنیادی طور پر یہ بالشویک پارٹی کی چھٹی کانگریس تھی،جس نے اپنے اجلاس نیم قانونی طور پر دو مختلف مزدور علاقوں میں چھپ کر منعقد کئے۔ 176750 اراکین پر مشتمل 112 تنظیموں کی نمائندگی کرنے والے 175 مندوبین تھے، جن میں سے 157 کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔ پیٹروگراڈ میں 41 ہزار اراکین تھے: 36 ہزار بالشویک تنظیم میں، 4 ہزار مزھرایونٹسی میں، تقریباً ایک ہزار فوجی تنظیم میں۔ مرکزی صنعتی علاقوں میں پارٹی کے 42 ہزار اراکین تھے؛ یورال کے علاقوں میں 25 ہزار؛ ڈونٹس میں تقریباً 15 ہزار۔کاکیشیا میں باکو، گروزنی اور تفلیس میں بڑی بالشویک تنظیمیں موجود تھیں۔ اِن میں سے پہلی دو کم و بیش ساری کی ساری مزدوروں پر مشتمل تھیں؛ تفلیس میں سپاہی غالب تھے۔
کانگریس کے شرکا پارٹی کے قبل از انقلابی ماضی کی مجسم شکل تھے۔ سوالنامہ [۱] بھرنے والے 171 مندوبین میں سے 110 نے 245 سال جیل میں گزارے تھے، 10 مندوبین نے 41 سال سخت مشقت کی سزا کاٹی تھی، 24 نے 73 سال تعزیزی بستیوں میں گزارے تھے، 55 مندوبین 127 سال جلاوطن رہے تھے؛ 27 نے 89 سال ملک سے باہر گزارے تھے؛ 150 مندوبین 549 مرتبہ گرفتار ہوئے تھے۔
جیسا کہ کمیونسٹ انٹرنیشنل کے موجودہ سیکرٹریوں میں شامل پیاٹنٹسکی بعد میں یاد کرتا ہے، ’’لینن، ٹراٹسکی، زینوویف اور کامینیف میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا… اگرچہ پارٹی پروگرام کے سوال کو ایجنڈے میں سے ہٹا دیا گیا، تاہم پارٹی رہنماؤں کے بغیر بھی کانگریس بطریق احسن انجام پائی… ‘‘ کام کی بنیاد لینن کے تھیسس تھے۔ کلیدی رپورٹیں سٹالن اور بخارن نے پیش کیں۔ سٹالن کی رپورٹ اُس فاصلے کی اچھی پیمائش ہے جو اِس مقرر نے لینن کی آمد کے بعد کے چار مہینوں میں پارٹی کے دوسرے تمام کیڈروں کے ہمراہ طے کیا تھا۔ نظریاتی جھجک لیکن سیاسی قطعیت کے ساتھ سٹالن نے ’’ایک سوشلسٹ مزدور انقلاب کے گہرے کردار‘‘ کا تعین کرنے والی خصوصیات گنوانے کی کوشش کی۔ اپریل کی کانگریس کی نسبت اِس کانگریس میں اتفاقِ رائے نمایاں تھا۔
مرکزی کمیٹی کے انتخابات کے موضوع پر رپورٹ میں درج ہے: ’’مرکزی کمیٹی کے چار سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے اراکین کے نام با آواز بلند پڑھے جا رہے ہیں: لینن کے لیے 134 میں سے 133 ووٹ، زینوویف 132، کامینیو 131 ، ٹراٹسکی 131 ۔ اِن چار اراکین کے علاوہ یہ اراکین مرکزی کمیٹی میں منتخب ہوئے ہیں: نوگن، کولنٹائی، سٹالن، سویڈلوف، رائیکوف، بخارن، آرٹم، جوفے، یورٹسکی، ملیوٹن، لوموف۔‘‘ اِس مرکزی کمیٹی کی رکنیت قابل غور ہے۔ اکتوبر انقلاب اسی کی قیادت میں برپا ہونا ہے۔
مارٹوف نے کانگریس کو ایک خط کے ذریعے مبارکباد پیش کی، جس میں اُس نے ایک بار پھر بہتان تراشی کی مہم کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا، لیکن بنیادی مسائل پر عمل کی دہلیز پر ہی کھڑا رہا۔ ’’ہمیں اقتدار پر انقلابی جمہوریت کی اکثریت کے قبضے کا متبادل اِس اکثریت کے خلاف جدوجہد سے اقتدار پر قبضے کو نہیں بنانا چاہئے… ‘‘’’انقلابی جمہوریت کی اکثریت‘‘ سے مارٹوف کی مراد پہلے کی طرح سرکاری سوویت نمائندگی تھی، جس کے پیروں تلے اب زمین ہی نہیں رہی تھی۔ ٹراٹسکی نے اُس وقت لکھا، ’’مارٹوف نہ صرف ایک کھوکھلی جماعتی روایت، بلکہ سماجی انقلاب کو مستقبل بعید کا مقصد سمجھنے والے ایک انتہائی موقع پرستانہ رویے کی وجہ سے سوشل حب الوطنوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہی چیز اُسے ہم سے جدا کر دیتی ہے۔‘‘
اِس عرصے میں لارن کی قیادت میں بائیں بازو کے منشویکوں کی تھوڑی سی تعداد ہی بالشویکوں کی طرف آئی۔ مستقبل کے سوویت سفارتکار یورینیف نے اِن انٹرنیشنلسٹوں کے ساتھ اتحاد کے موضوع پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ ’’منشویکوں کی اقلیت کی اقلیت ‘‘ کے ساتھ ملنا ضروری تھا۔ پارٹی میں سابقہ منشویکوں کا بکثرت بہاؤ اکتوبر انقلاب کے بعد ہی شروع ہوا۔ پرولتاری سرکشی کی بجائے اِس سے برآمد ہونے والے اقتدار کے ساتھ چپک کر اِن منشویکوں نے موقع پرستی کی سب سے بنیادی خاصیت، یعنی مروجہ طاقتوں کی اطا عت کا مظاہرہ کیا ۔ پارٹی کے اجزا کے بارے میں ہمیشہ انتہائی حساس لینن نے جلد ہی مطالبہ کیا کہ اکتوبر انقلاب کے بعد پارٹی میں شامل ہونے والے 99 فیصد منشویکوں کو باہر نکالا جائے۔ وہ اِس مقصد کے حصول سے بہت دور تھا۔ بعد ازاں منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کے لیے پارٹی کے دروازے پوری طرح سے کھول دئیے گئے۔ یہی سابقہ مصالحت پسند اب سٹالنسٹ پارٹی راج کے سب سے بڑے محافظ بن چکے ہیں۔ لیکن یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔
کانگریس کے عملی منتظم سویڈلوف نے رپورٹ پیش کی: ’’کانگریس سے پہلے ہی ٹراٹسکی ہمارے پرچے کی مجلس ادارت میں شامل ہو چکا تھا، لیکن اُس کی قید نے اُس کی حقیقی شراکت کو روک رکھا تھا۔‘‘ ٹراٹسکی نے بالشویک پارٹی میں باقاعدہ شمولیت اس جولائی کانگریس میں ہی اختیار کی۔ یہ کئی سالوں کے اختلافات اور گروہی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ لینن کی طرف رجوع میں ٹراٹسکی گویا ایک ایسے استاد کی طرف آیا جس کی اہمیت اور طاقت اُسے دوسرے بہت سے لوگوں کی نسبت بعد میں سمجھ آئی تھی، لیکن شاید اُن کی نسبت زیادہ بھرپور انداز میں سمجھ آئی تھی۔ راشکولنیکوف، جو ٹراٹسکی کی کینیڈا سے آمد کے وقت سے ہی اُس کے ساتھ قریبی رابطے میں تھا اور بعد ازاں اُس کے ساتھ کئی ہفتے جیل میں بھی گزارے، اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے: ’’ولادیمیر الیچ (لینن) کی طرف ٹراٹسکی کا رویہ انتہائی احترام کا تھا۔ وہ اُسے کسی بھی ہم عصر سے بلند گردانتا تھا۔ جس لہجے میں ٹراٹسکی لینن کے بارے میں بات کرتا تھا اُس میں ایک شاگرد جیسی جانثاری محسوس ہوتی تھی۔ اُن وقتوں میں لینن تیس سال پرولتاریہ کی خدمت کر چکا تھا اور ٹراٹسکی بیس سال۔ اُن کے درمیان قبل از جنگ کے عرصے کے اختلافات کی بازگشت بالکل مٹ چکی تھی۔ لینن اور ٹراٹسکی کی تدبیری حکمت عملی میں کوئی فرق موجود نہیں تھا۔ جس وقت سے لیؤ ڈیویڈووچ (ٹراٹسکی) روس واپس آیا تھا اُن کی مفاہمت، جو جنگ کے دوران ہی واضح ہو چکی تھی، کامل اور مصمم تھی۔ اُس کی پہلی تقاریر کے بعد سے ہم سارے پرانے لینن اسٹ اُسے اپنا محسوس کرنے لگے تھے۔‘‘ ہم مزید کہتے چلیں کہ مرکزی کمیٹی کے انتخاب میں ٹراٹسکی کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد ہی ثابت کر دیتی ہے اُس کی پارٹی میں شمولیت کے وقت بالشویک حلقوں میں کوئی بھی اُسے باہر کا بندہ نہیں سمجھتا تھا۔
غیرمرئی انداز میں کانگریس میں موجود لینن نے اِس کے کام میں ذمہ داری اور بے باکی کا جذبہ متعارف کروا دیا۔ پارٹی کا یہ بانی اور اُستاد نظریات اور عملی سیاسیات میں سستی اور لاپرواہی برداشت نہیں کرتا تھا۔ وہ جانتا تھاکہ عمل کے وقت ایک لاپرواہ سیاسی مشاہدہ سخت انتقام لیتا ہے۔ پارٹی کی ہر تحریر، حتیٰ کہ بالکل ثانوی نوعیت کی تحریروں کی طرف بھی اپنے انتہائی محتاط رویے کے دفاع میں لینن نے ایک سے زیادہ بار کہا: ’’یہ کوئی معمولی عنصر نہیں ہے۔ ہمیں غلطیاں نہیں کرنی چاہئیں۔ ہمارے ایجی ٹیٹر یہ سیکھیں گے اور بھٹکیں گے نہیں… ‘‘ کیا کہنا ہے اور کیسے کہنا ہے، اِس سوال پر عام کارکنان کے سنجیدہ اور بے حد محتاط رویے کے پیش نظر وہ کہا کرتا تھا، ’’ہمارے پاس ایک اچھی پارٹی ہے۔‘‘
بالشویک نعروں کی بے باکی نے ایک سے زیادہ بار غیر حقیقت پسندی کا تاثر دیا۔ لینن کے اپریل تھیسس کو اِسی طرح سے لیا گیا تھا۔ درحقیقت ایک انقلابی عہد میں کم نظری ہی غیر حقیقت پسندی ہوتی ہے۔ ایسے وقتوں میں طویل مقصد کی حکمت عملی کے بغیر حقیقت پسندی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ یہ کہنا ہی کافی نہیں ہے کہ بالشویزم غیرحقیقت پسندی سے بالکل ناواقف تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انقلاب میں لینن کی پارٹی ہی سیاسی حقیقت پسندی کی واحد پارٹی تھی۔
جون میں اور جولائی کے آغاز میں مزدور بالشویکوں نے کئی بار شکایت کی کہ اُنہیں اکثر عوام کو ٹھنڈا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جولائی اپنے ساتھ شکست کے ساتھ ساتھ ایک بھاری سبق بھی لایا۔ عوام اب پارٹی کی تنبیہوں پر کہیں زیادہ کان دھرنے لگے۔ پارٹی کی جولائی کانگریس نے اِن تنبیہوں کی توثیق کر دی۔’’پرولتاریہ کو بورژوازی کی اشتعال انگیزیوں کا شکار نہیں بننا چاہئے، جو ہمیں وقت سے پہلے ایک لڑائی پر اُکسا کر بڑی خوش ہو گی۔‘‘ اگست کا سارا مہینہ، بالخصوص دوسرا نصف حصہ، سپاہیوں اور مزدوروں کے نام پارٹی کی مسلسل تنبیہوں سے لبریز ہے: سڑک پر نہ نکلو۔ جرمن سوشل ڈیموکریسی، جو اشتعال انگیزوں کے خطرے اور اپنی قوت مجتمع کرنے کی ضرورت کا حوالہ دے کر عوام کو ہر سنجیدہ جدوجہد سے روکتی تھی، کی روایتی سیاسی واردات سے اپنی تنبیہوں کی مماثلت پر خود بالشویک رہنما بھی اکثر ہنستے تھے۔ لیکن یہ مماثلت حقیقی نہیں تھی۔ بالشویک اچھی طرح جانتے تھے قوت جدوجہد میں مجتمع کی جاتی ہے، نہ کہ اِس سے بھاگ کر۔ لینن کے لیے حقیقت کا مطالعہ، عمل کی خاطر محض ایک نظریاتی معائنہ تھا۔ صورتحال کو پرکھتے ہوئے وہ ہمیشہ اپنی پارٹی کو اِس کے بالکل مرکز میں ایک متحرک قوت کے طور پر دیکھتا تھا۔بے عمل تشریحات کو ہی نظریاتی تجزیہ سمجھنے والے آٹو بائر ، ہلفرڈنگ اور دوسروں کے ’آسٹرو مارکسزم‘ کو وہ خصوصی مخاصمت، بلکہ کراہت کی نظر سے دیکھتا تھا ۔ احتیاط ایک قوت محرکہ نہیں بلکہ ایک بریک ہے۔ کسی نے آج تک بریکوں پر سفر نہیں کیا اور کسی نے آج تک احتیاط سے کچھ تخلیق نہیں کیا۔ لیکن بالشویک اچھی طرح جانتے تھے کہ جدوجہد قوتوں کے حساب کتاب کی متقاضی ہوتی ہے اور بے باک ہونے کا حق جیتنے کے لیے کبھی محتاط بھی ہونا پڑتا ہے۔
چھٹی کانگریس کی قرارداد نے قبل از وقت تصادموں سے خبردار کرتے ہوئے عین اسی وقت یہ نشاندہی بھی کی کہ اُس وقت لازماً لڑائی میں شامل ہوا جائے جب ’’ ملک گیر بحران اور عوام کی گہری تحریک مزدوروں کے ساتھ شہروں اور دیہاتوں کے غریبوں کے مل جانے کے لیے موافق حالات پیدا کر دے۔‘‘ انقلاب کی رفتار سے یہ دہائیوں یا سالوں کا نہیں بلکہ مہینوں کا سوال تھا۔
عوام کے سامنے ایک مسلح سرکشی کی ضرورت کی وضاحت کو فوری فریضہ قرار دیتے ہوئے کانگریس نے عین اسی وقت یہ فیصلہ بھی کیا کہ سوویتوں کو اقتدار کی منتقلی کا نعرہ واپس لے لیا جائے۔ ایک چیز دوسری سے جڑی ہوئی تھی۔ نعرے کی اِس تبدیلی کا راستہ لینن نے اپنے مضامین، خطوط اور انفرادی گفتگو کے ذریعے ہموار کیا تھا۔
فوری لحاظ سے اقتدار کی سوویتوں کو منتقلی کا مطلب اقتدار کی مصالحت پسندوں کو منتقلی تھا۔ یہ کام آسانی سے بورژوا حکومت کو سبکدوش کر کے مکمل کیا جا سکتا تھا، جو بچی ہی مصالحت پسندوں اور اُن پر عوام کے اعتماد کی باقیات کی وجہ سے ہوئی تھی۔ مزدوروں اور سپاہیوں کی آمریت 27 فروری سے ہی ایک حقیقت تھی۔ لیکن مزدور اور سپاہی اِس حقیقت سے حسب ضرورت آگاہ نہیں تھے۔ انہوں نے بھروسہ کر کے اقتدار مصالحت پسندوں کو دیا تھا، جنہوں نے آگے سے اِسے بورژوازی کو دے دیا تھا۔ بالشویکوں کی جانب سے لگائے گئے انقلاب کے پرامن ارتقا کے اندازوں کی بنیاد یہ امید نہیں تھی کہ بورژوازی رضاکارانہ طور پر اقتدار مزدوروں اور سپاہیوں کے حوالے کر دے گی، بلکہ یہ کہ مزدور اور سپاہی اقتدار کو بورژوازی کے حوالے کرنے سے مصالحت پسندوں کو روکیں گے۔
سوویت جمہوریت کے نظام کے تحت سوویتوں میں اقتدار کا ارتکاز بالشویکوں کے لیے سوویت میں اکثریت بننے اور اپنے پروگرام کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل کے وسیع مواقع کھول دیتا۔اِس مقصد کے لیے ایک مسلح سرکشی غیرضروری ہوتی۔ سوویتوں میں پارٹیوں کے درمیان اقتدار کی منتقلی پرامن انداز میں مکمل ہو جانی تھی۔ اپریل سے جولائی تک پارٹی کی تمام کوششیں سوویتوں کے ذریعے انقلاب کے پرامن ارتقا کو ممکن بنانے کے لیے ہی تھیں۔’’صبر سے وضاحت کرو!‘‘ یہی بالشویک حکمت عملی کی کنجی رہی تھی۔
لیکن جولائی کے دنوں نے صورتحال کو یکسر بدل دیا۔ سوویتوں سے نکل کر اقتدار ایک فوجی گروہ کے ہاتھوں میں چلا گیا، جو کیڈٹوں اور سفارتخانوں کے ساتھ قریبی رابطے میں تھا، ایک ایسا گروہ جو صرف کیرنسکی کو عارضی طور پر ایک ’جمہوری ٹریڈ مارک‘ کی حیثیت سے برداشت کرتا تھا۔ اگر مجلس عاملہ اِس وقت اقتدار کی اپنے ہاتھوں میں منتقلی کی قرارداد متعارف کروانے کا فیصلہ کرتی تو نتیجہ تین دن پہلے سے بالکل مختلف ہوتا۔ شاید ٹاؤرائد محل میں ایک کاسک رجمنٹ گھس کر ’’غاصبوں‘‘ کو گرفتار کرنے کی کوشش کرتی۔ اب کے بعد سے ’’اقتدار سوویتوں کے پاس‘‘ کے نعرے کا مطلب حکومت اور اُس کے پشت پناہ فوجی گروہوں کے خلاف مسلح سرکشی تھا۔ لیکن ایک ایسے وقت جب خود سوویتیں ہی اقتدار نہیں لینا چاہتی تھیں، ’’اقتدار سوویتوں کے پاس‘‘ کے مقصد کے لئے ایک سرکشی سراسر حماقت ہوتی۔
دوسری طرف اب یہ بھی مشکوک ہو چکا تھا کہ آیا اِن بے طاقت سوویتوں میں پرامن انتخابات کے ذریعے بالشویک اکثریت حاصل کر بھی سکتے ہیں۔ منشویکوں اور سوشل انقلابیوں نے مزدوروں اور سپاہیوں پر جولائی کے حملوں سے خود کو وابستہ کرلینے کے بعد بالشویکوں کے خلاف پرتشدد اقدامات کے لیے آڑ فراہم کئے رکھنی تھی۔ مصالحت پسندانہ رہنے پر سوویتوں نے ایک ردِ انقلابی حکومت کے تحت ایک خصی حزب مخالف میں تبدیل ہو کر جلد ہی ختم ہو جانا تھا۔
اِن حالات میں پرولتاریہ کو اقتدار کی پرامن منتقلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ بالشویک پارٹی کے لئے اس کا مطلب تھا: ہمیں ایک مسلح سرکشی کی تیاری کرنا ہوگی۔ کس نعرے کے تحت؟ اقتدار پر پرولتاریہ اور غریب کسانوں کے قبضے کے صاف گو نعرے کے تحت۔ ہمیں انقلابی فریضے کو عریاں شکل میں پیش کرنا چاہئے۔ ہمیں مبہم سوویت شکل سے طبقاتی اساس کو آزاد کروانا چاہئے۔ یہ سوویتوں سے دستبرداری نہیں تھی۔ اقتدار پر قبضے کے بعد پرولتاریہ کو سوویت شکل پر ہی ریاست منظم کرنا ہو گی۔ لیکن وہ دوسری قسم کی سوویتیں ہوں گی اور مصالحت پسندانہ سوویتوں کے بالکل برخلاف ایک تاریخی فریضہ ادا کریں گی۔
حملے اور بہتان تراشی کی پہلی بوچھاڑ کے بعد لینن نے لکھا، ’’سوویتوں کو اقتدار کی منتقلی کا نعرہ اب بے سروپا اور مذاق لگے گا۔ معروضی طور پر یہ نعرہ عوام کو دھوکہ دینے اور اُنہیں اِس خوش فہمی میں مبتلا کرنے کے مترادف ہو گا کہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے سوویتوں کی خواہش یا ایک قرارداد کی منظوری ہی کافی ہے۔‘‘
اقتدار کی سوویتوں کو منتقلی کا مطالبہ چھوڑ دیں؟ پہلی جھلک میں اِس خیال نے پارٹی کو ہلا کر رکھ دیا، بلکہ ایجی ٹیشن کرنے والے کیڈروں کو ہلا کر رکھ دیا، جو پچھلے تین مہینوں کے دوران اس عوامی نعرے کے اتنے عادی ہو چکے تھے کہ اسی کو انقلاب کا سارا مافیہ سمجھنے لگے تھے۔ پارٹی میں ایک بحث شروع ہو گئی۔ مینوالسکی، یورینیف اور کئی دوسرے نمایاں پارٹی کارکنان نے دلیل پیش کی کہ ’’اقتدار سوویتوں کے پاس‘‘ کے نعرے سے دستبرداری سے پرولتاریہ کی کسانوں سے علیحدگی کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اِس دلیل نے اداروں کو طبقات کی جگہ رکھ دیا۔ تنظیمی اشکال کا استصنام Fetishism) ( انقلابی حلقوں میں پائی جانے والی عام بیماری ہے۔ ٹراٹسکی نے لکھا، ’’جس حد تک ہم سوویتوں کی رکنیت میں رہتے ہیں ہم کوشش کریں گے کہ انقلاب کے گزرے دنوں کی غمازی کرنے والی یہ سوویتیں خود کو مستقبل کے فریضے تک بلند کرنے کے قابل ہو جائیں۔ لیکن سوویتوں کے کردار اور مقدر کا سوال جتنا بھی اہم ہو، ہمارے لئے یہ شہر، فوج اور دیہات کے پرولتاری و نیم پرولتاری عوام کی سیاسی طاقت اور انقلابی آمریت کی جدوجہد کے تابع ہے۔‘‘
سرکشی میں کون سی عوامی تنظیمیں پارٹی کے کام کی تھیں، اِس سوال کا قطعی جواب تو دور کی بات، پیشگی کوئی جواب بھی نہیں دیا جا سکتا تھا۔ سرکشی کے اوزار فیکٹری کمیٹیاں اور ٹریڈ یونینیں ہو سکتی تھیں، جو پہلے ہی بالشویکوں کے زیر قیادت تھیں۔ کچھ صورتوں میں ایسی سوویتیں بھی یہ کردار ادا کر سکتی تھیں جو مصالحت پسندوں کا طوق اتار پھینک چکی تھیں۔ مثلاً لینن نے اورتھونکڈز سے کہا: ’’ہمیں مرکز ثقل کو فیکٹری و کارخانہ کمیٹیوں کی طرف منتقل کرنا ہو گا۔ فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیوں کو سرکشی کے آلات بننا ہو گا۔‘‘
جولائی میں عوام نے سوویتوں کو پہلے مجہول مخالف اور پھر متحرک دشمن پایا۔ چنانچہ نعرے کی اِس تبدیلی کو عوام کے شعور میں زرخیز زمین میسر آئی۔ یہیں لینن کی لازوال گہری فکر پوشیدہ تھی: اُس چیز کو انتہائی سادگی سے بیان کرنا جو ایک طرف معروضی حالات سے برآمد ہوکر دوسری طرف عوام کے موضوعی تجربے کو ڈھالتی ہے۔ اقتدار اب ہمیں سریتیلی کی سوویتوں کو پیش نہیں کرنا ہے! ہراول مزدور اور سپاہی بھی یہی محسوس کر رہے تھے۔ ہمیں اب اسے اپنے ہاتھوں میں لینا ہے۔
ریاستی اجلاس کے خلاف ماسکو کی ہڑتال نہ صرف سوویتوں کی منشا کے برخلاف تھی، بلکہ اِس نے سوویت اقتدار کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا۔ عوام نے واقعات کے پیش کردہ اور لینن کے تشریح کردہ اسباق کو کامیابی سے سیکھ لیا تھا۔ عین اسی وقت جب یہ خطرہ ابھرا کہ ردِ انقلاب مصالحت پسندانہ سوویتوں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرے گا تو ماسکو کے بالشویک ایک لمحے کے لیے بھی مورچے سنبھالنے سے نہیں ہچکچائے۔ بالشویک حکمت عملی ہمیشہ سختی کو انتہائی لچک کے ساتھ یکجا کرتی تھی، اِسی امتزاج میں اُس کی طاقت کا راز مضمر تھا۔
میدان جنگ کے واقعات نے جلد ہی پارٹی کی حکمت عملی، جہاں تک اِس کے انٹرنیشنلزم کا تعلق تھا، کو بہت سخت امتحان میں ڈال دیا۔ سقوطِ ریگا کے بعد پیٹروگراڈ کے مقدر کے سوال نے مزدوروں اور سپاہیوں کو آن لیا۔ سمولنی میں فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیوں کے ایک اجلاس میں منشویک مازورنکو، ایک افسر جس نے ابھی ابھی پیٹروگراڈ کے مزدوروں کو غیرمسلح کرنے میں سبقت لی تھی، نے پیٹروگراڈ کو لاحق خطرے کے بارے میں تقریر کی اور دفاع سے متعلق عملی سوالات اٹھائے۔ ایک بالشویک مقرر چلّایا، ’’تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ ہمارے رہنما جیل میں ہیں اور تم ہمیں دارالحکومت کے دفاع کے سوالات میں الجھانا چاہتے ہو؟‘‘ صنعتی مزدوروں اور ایک بورژا جمہوریہ کے شہریوں کی حیثیت سے وائبورگ کے پرولتاریوں کی انقلابی دارالحکومت کے دفاع کو سبوتاژ کرنے کی کوئی نیت نہیں تھی، لیکن بالشویکوں اور پارٹی اراکین کی حیثیت سے وہ روس اور دوسرے ممالک کے عوام کے سامنے حکمران گروہوں کے ساتھ ایک منٹ کے لیے بھی جنگ کی ذمہ داری میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے۔ اِس خوف سے کہ دفاعی مزاج ایک ڈیفنسسٹ حکمت عملی میں بدل جائیں گے، لینن نے لکھا: ’’ہم اقتدار کی پرولتاریہ کو منتقلی کے بعد ہی ڈیفنسسٹ بنیں گے… نہ تو ریگا پر قبضہ اور نہ ہی پیٹرزبرگ پر قبضہ ہمیں ڈیفنسسٹ بنائے گا۔ اُس لمحے تک ہم پرولتاری انقلاب کے علمبردار ہیں۔ ہم جنگ کے خلاف ہیں۔ ہم ڈیفنسسٹ نہیں ہیں۔‘‘ ٹراٹسکی نے جیل سے لکھا، ’’سقوطِ ریگا ایک بے رحم ضرب ہے۔ سقوطِ پیٹرز برگ ایک بدبختی ہو گی۔ لیکن روسی پرولتاریہ کی بین الاقوامی حکمت عملی کا سقوط تباہ کن ہو گا۔‘‘
کیرنسکی اور کورنیلوف، ایک ہی خطرے کی دو مختلف شکلیں تھیں۔ لیکن یہ دونوں شکلیں، پہلی دائمی اور دوسری شدید، اگست کے آخر میں ایک دوسرے سے متصادم ہو گئیں۔ شدید خطرے سے پہلے نبٹنا ضروری تھا، تاکہ بعد میں دائمی والے سے نبٹا جا سکے۔ بالشویک نہ صرف دفاعی کمیٹی میں شامل ہوئے، اگرچہ وہاں انہیں ایک چھوٹی سی اقلیت تک محدود رکھا گیا، بلکہ اُنہوں نے اعلان کیا کہ کورنیلوف کے خلاف جدوجہد میں وہ مجلس نظامت تک سے ’’فوجی و تکنیکی اتحاد‘‘ بنانے کو تیار تھے۔ اس موضوع پر سوخانوف لکھتا ہے: ’’بالشویکوں نے غیرمعمولی موقع شناسی اور سیاسی بصارت کا مظاہرہ کیا… اپنے مزاج سے عدم مناسبت رکھنے والے سمجھوتے میں شامل ہو کر وہ اپنے ہی کچھ ایسے مقاصد کے تعاقب میں تھے جن کی پیش بینی اُن کے اتحادی نہیں کر سکے۔‘‘ اِس حکمت عملی میں بالشویزم کے مزاج سے ’’عدم مناسبت‘‘ رکھنے والا کچھ بھی نہیں تھا: اِس کے برعکس یہ پارٹی کے سارے کردار کے عین مطابق تھا۔ بالشویک اپنی اداؤں میں نہیں بلکہ عمل میں، ظاہریت میں نہیں بلکہ اساس میں انقلابی تھے۔
تکنیکی طور پر اُن کی حمایت کرو، سیاسی طور پر نہیں۔ مرکزی کمیٹی کے نام اپنے ایک خط میں لینن نے سیاسی حمایت کے خلاف فیصلہ کن تنبیہ کی: ’’ہم اب بھی کیرنسکی حکومت کی حمایت نہیں کر سکتے۔ یہ غیر اصولی ہو گا۔ تم پوچھتے ہو: لیکن کیا ہمیں کورنیلوف کے خلاف لڑنا نہیں چاہئے؟ بالکل لڑنا چاہئے۔ لیکن یہ ایک چیز نہیں ہے۔ یہاں ایک حد ہے۔ کچھ بالشویک اِسے عبور کر رہے ہیں، مصالحت پسندی میں پھسل رہے ہیں، واقعات کے سیلاب میں بہہ رہے ہیں۔‘‘
لینن جانتا تھا کہ سیاسی مزاج کی نفیس ترین پرچھائیوں کو دور سے کیسے پرکھا جائے۔ 29 اگست کو کیف کی شہری دوما کے ایک اجلاس میں ایک مقامی بالشویک رہنما پیاٹاکوف نے کہا: ’’اِس خطرناک گھڑی میں ہمیں تمام پرانے کھاتے بھول جانے چاہئیں… اور ردِ انقلاب کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کی حامی تمام انقلابی پارٹیوں کے ساتھ مل جانا چاہئے۔ میں تمہیں یکجہتی کا پیغام دیتا ہوں، وغیرہ۔‘‘ اسی غلط سیاسی لہجے کے خلاف لینن نے تنبیہ کی: ’’پرانے کھاتے بھول جانے‘‘ کا مطلب دیوالیہ ہو جانے والوں کو نئے قرضے جاری کرنا ہوگا… ہم لڑیں گے، ہم کورنیلوف کے خلاف لڑ رہے ہیں، لیکن ہم کیرنسکی کی حمایت نہیں کر رہے ہیں، بلکہ اُس کی کمزوری کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ یہ ایک مختلف چیز ہے۔ہمیں عبوری حکومت کی حمایت سے متعلق باتوں کے خلاف بے رحم جدوجہد کرنا ہو گی۔‘‘ عبوری حکومت کے ساتھ [کورنیلوف کے خلاف] اپنے اتحاد کی نوعیت کے بارے میں مزدور کسی خوش فہمی کا شکار نہیں تھے۔ ’’کورنیلوف کے خلاف پرولتاریہ کیرنسکی کی آمریت کے لیے نہیں بلکہ انقلاب کی فتوحات کو بچانے کے لیے لڑے گا۔‘‘ پیٹروگراڈ، ماسکو اور صوبوں میں ایک کے بعد دوسری فیکٹری یہی کہہ رہی تھی۔ مصالحت پسندوں کو ذرا سی بھی چھوٹ دئیے بغیر اور تنظیموں اور پرچموں کو گڈ مڈ کئے بغیر بالشویک ہمیشہ کی طرح وقتی طور پر ایک زیادہ خطرناک دشمن پر ضرب لگانے کے لیے اپنے عمل کو اپنے مخالف اور چھوٹے دشمن کے عمل سے ہم آہنگ کرنے کو تیار تھے۔
کورنیلوف کے خلاف جدوجہد میں بالشویک اپنے ’’خصوصی مقاصد‘‘ کا تعاقب کر رہے تھے۔ سوخانوف اشارہ کرتا ہے کہ اُس وقت تک وہ دفاعی کمیٹی کو پرولتاری انقلاب کے اوزار میں تبدیل کرنے کا مقصد اپنے لئے طے کر چکے تھے۔ یہ مسلمہ ہے کہ کورنیلوف کے دنوں کی انقلابی کمیٹیاں کسی حد تک اُن اداروں کی ابتدائی نمونے بن گئیں جنہوں نے بعد ازاں پرولتاری سرکشی کی قیادت کی۔ تاہم سوخانوف جب کہتا ہے کہ بالشویک یہ تنظیمی عنصر پیشگی دیکھ رہے تھے تو وہ اُن کے ساتھ کچھ زیادہ ہی پیش بینی منسوب کر دیتا ہے۔ بالشویکوں کے ’’خصوصی مقاصد‘‘ردِ انقلاب کو پاش پاش کرنا،اگر ہو سکے تو مصالحت پسندوں کو کیڈٹوں سے الگ کرنا، ہر ممکنہ حد تک وسیع تر عوام کو اپنی قیادت میں یکجا کرنا اور انقلابی مزدوروں کو مسلح کرنا تھے۔ بالشویکوں نے اپنے یہ مقاصد چھپائے نہیں۔ اِس ستائی ہوئی پارٹی نے اُس حکومت کو بچایا جس نے اِس پر الزامات لگائے تھے اور جبر کیا تھا، لیکن اِس نے حکومت کو ایک عسکری تباہی سے صرف اس لیے بچایا کہ اُسے زیادہ یقین سے سیاسی طور پر تباہ کیا جا سکے۔
اگست کے آخری دن طاقتوں کے توازن میں ایک اور تیز تبدیلی لائے، لیکن اس بار یہ دائیں سے بائیں جانب تھی۔ ایک بار لڑائی میں بلا لئے جانے کے بعد عوام کو سوویتوں کو اُس مقام پر دوبارہ بحال کرنے میں کوئی مشکل درپیش نہ تھی جو انہیں جولائی کے بحران سے پہلے حاصل تھا۔ اس کے بعد سے سوویتوں کا مقدر اُن کے اپنے ہاتھوں میں تھا۔ وہ کسی جدوجہد کے بغیر اقتدار پر قبضہ کر سکتی تھیں۔ اِس مقصد کے لیے مصالحت پسندوں کو صرف اس صورتحال کی توثیق کرنے کی ضرورت تھی جو پہلے سے درحقیقت پیدا ہو چکی تھی۔ تاہم اصل سوال یہ تھا کہ کیا وہ ایسا کرنا چاہتے تھے؟ مصالحت پسندوں نے اب گرمی سے اعلان کیا کہ کیڈٹوں کے ساتھ اتحاد اب قابلِ خیال نہیں رہا تھا۔ اگر ایسا تھا تو یہ ہمیشہ سے ہی ناقابلِ خیال تھا۔ تاہم اتحاد کو مسترد کرنے کا مطلب اقتدار کی مصالحت پسندوں کو منتقلی کے سوا کچھ نہ تھا۔
لینن نے فوراً اِس نئی صورتحال کی اساس کو پکڑ لیا اور اِس سے ضروری نتائج اخذ کئے۔ 3 ستمبر کو اُس نے ایک عمدہ مضمون ’مصالحتوں کے بارے میں‘ تحریر کیا۔ سوویتوں کا کردار ایک بار پھر تبدیل ہو چکا تھا، اُس نے واضح کیا: جولائی کے آغاز میں وہ پرولتاریہ کے خلاف مزاحمت کے ادارے تھیں۔ اگست کے آخر میں وہ بورژوازی کے خلاف جدوجہد کے ادارے بن چکی تھیں۔ اب ایک بار پھر سوویتوں نے فوجی دستوں کا اختیار حاصل کر لیا ہے۔ تاریخ نے ایک بار پھر انقلاب کے پرامن ارتقا کا امکان کسی حد تک پیدا کر دیا ہے۔ یہ ایک غیرمعمولی حد تک نایاب اور قیمتی امکان ہے۔ ہمیں اِس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اتفاقاً لینن نے اُن لفاظی کرنے والوں کا بھی مذاق اڑایا جو ہر طرح کی مصالحتوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں: مسئلہ ’’تمام ناگزیر بن جانے والی مصالحتیں کرتے ہوئے ہی‘‘ اپنے مقاصد کے حصول اور اپنے فرائض کی تکمیل کا ہے۔‘‘ اُس نے کہا، ’’ہماری طرف سے مصالحت ہمارے جولائی سے قبل کے مطالبات کی طرف واپسی ہو گی: سارا اقتدار سوویتوں کے پاس اور سوویتوں کو جوابدہ منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کی حکومت۔ ابھی اور صرف ابھی، شاید کچھ دنوں یا ہفتوں میں ایسی کوئی حکومت بالکل پرامن انداز میں تخلیق اور مستحکم کی جا سکتی ہے۔‘‘ اِس مختصر تاریخ کا مقصد ساری صورتحال کی شدت بیان کرنا تھا: بورژوازی اور پرولتاریہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے لئے مصالحت پسندوں کے پاس چند ہی دن تھے۔
لینن کی تجویز سے مصالحت پسند ایسے دور ہٹے جیسے کوئی عیار پھندا ہو۔ درحقیقت لینن کی تجویز میں ذرہ برابر عیاری نہیں تھی۔ لینن، جو پراعتماد تھا کہ عوام کی قیادت اُس کی پارٹی کو ہی سنبھالنا تھی، نے اِس ناگزیریت کے خلاف دشمن کی مزاحمت کو کمزور کر کے محض جدوجہد کو نرم کرنے کی بے تکلف کوشش کی۔
صورتحال میں تبدیلیوں کے نتیجے میں لینن کی جانب سے حکمت عملی میں جرات مندانہ تبدیلیوں اور اپنے تذویراتی منصوبے کی یکجائیت کو مستقل برقرار رکھنے نے انقلابی حکمت عملی کی ایک بیش قیمت درسی کتاب مرتب کی ہے۔ مصالحت کی یہ تجویز سب سے پہلے خود بالشویک پارٹی کے لیے ایک سبق کے طور پر اہم تھی۔ اِس نے ثابت کیا کہ کورنیلوف والے تجربے کے باوجود انقلاب کی راہ پر مصالحت پسندوں کے دوبارہ گامزن ہونے کا کوئی امکان اب باقی نہیں رہا تھا۔ بالشویک پارٹی اب قطعی طور پر خود کو انقلاب کی واحد پارٹی محسوس کر رہی تھی۔
مصالحت پسندوں نے اقتدار کی بورژوازی سے پرولتاریہ کو منتقلی کے وسیلے کا کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ اِس حقیقت کے پیش نظر ’’اقتدار سوویتوں کے پاس‘‘ کا نعرہ ایک بار پھر معطل کر دیا گیا۔ تاہم زیادہ عرصے کے لیے نہیں: اگلے کچھ ہی دنوں میں بالشویکوں نے پیٹروگراڈ سوویت اور بعد ازاں کئی دوسروں سوویتوں میں اکثریت حاصل کر لی۔اس لیے ’’اقتدار سوویتوں کے پاس‘‘ کے نعرے کو دوبارہ ختم نہیں کیا گیا بلکہ اِس نے نیا معنی حاصل کر لیا: سارا اقتدار بالشویک سوویتوں کے پاس۔ اِس شکل میں یہ نعرہ اب انقلاب کے پرامن ارتقا کا نعرہ نہیں رہا تھا۔ پارٹی کو سوویتوں کے ذریعے اور سوویتوں کی جانب سے مسلح سرکشی کے راستے پر گامزن کر دیا گیا۔
واقعات کی آگے کی روش کو سمجھنے کے لیے یہ سوال اٹھانا ضروری ہے: مصالحت پسندانہ سوویتوں نے ستمبر کے آغاز میں وہ طاقت کس انداز میں دوبارہ حاصل کی جو انہوں نے جولائی میں گنوا دی تھی؟ بالشویک پارٹی کی چھٹی کانگریس کی ساری قراردادوں میں یہ دعویٰ ملتا ہے کہ جولائی کے واقعات کے نتیجے میں دوہرا اقتدار ختم ہو گیا تھا اور بورژوازی کی آمریت نے اِس کی جگہ لے لی تھی۔ بالکل حالیہ سوویت تاریخ دانوں نے اِس خیال کو بعد کے واقعات کی روشنی میں جانچے بغیر کتاب در کتاب نقل ہی کیا ہے۔ مزید برآں اُنہیں یہ پوچھنے کا خیال بھی نہیں آیا کہ اگر جولائی میں سارا اقتدار فوجی گروہ کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا تو اسی فوجی گروہ کو اگست میں ایک سرکشی پر اترنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ جن کے پاس اقتدار ہوتا ہے وہ سازش کا پرخطر راستہ منتخب نہیں کرتے، بلکہ اقتدار کے خواہش مند ہی ایسا کرتے ہیں۔
چھٹی کانگریس کا یہ کلیہ درست نہیں تھا۔ ہم دوہرا اقتدار ایک ایسے نظام حکومت کو قرار دیتے ہیں جس میں جعلی اقتدار سرکاری حکومت کے پاس ہوتا ہے اور حقیقی اقتدار سوویت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ایسے میں یہ دعویٰ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ دوہرا اقتدار اُس وقت ختم ہو جاتا ہے جب حقیقی طاقت کا ایک حصہ سوویت سے بورژوازی کو منتقل ہو جاتا ہے۔ عسکری مسائل کے نقطہ نظر سے ردِ انقلاب کے ہاتھوں میں طاقت کے اجتماع کو حقیقت سے زیادہ گمان کرنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری تھا۔ سیاست کوئی ریاضیاتی سائنس نہیں ہوتی۔ عملی طور پر اس تبدیلی کی اہمیت کو گھٹانا اِسے بڑھانے سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا۔ لیکن ایک تاریخی تجزئیے کو ایسی مبالغہ آرائیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو صرف ایجی ٹیشن کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔
سٹالن نے کانگریس میں کہا: ’’صورتحال واضح ہے۔ اب کوئی بھی دوہرے اقتدار کی بات نہیں کرتا۔ اگر ماضی میں سوویتیں حقیقی اقتدار کی نمائندگی کرتی تھیں تو اب وہ محض عوام کے اتحاد کے اوزار ہیں، جن کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔‘‘ کئی مندوبین نے جواب میں کہا کہ جولائی میں رجعت جیت گئی تھی لیکن ردِ انقلاب فتح یاب نہیں ہوا تھا۔ سٹالن نے حیران کن معقولے میں جواب دیاـ: ’’ایک انقلاب کے دوران کوئی رجعت نہیں ہوتی۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ رجعتی وقفوں کے سلسلے سے گزر کر ہی انقلاب فتح یاب ہوتا ہے۔دو قدم آگے بڑھانے کے لیے یہ ہمیشہ ایک قدم پیچھے اٹھاتا ہے۔ رجعت کی ردِ انقلاب سے وہی نسبت ہے جو اصلاحات کی انقلاب سے ہوتی ہے۔ ہم نظام حکومت میں رجعت کی کامیابیوں کو ایسی تبدیلیاں قرار دے سکتے ہیں جو اقتدار کے مالک کو تبدیل کئے بغیر اقتدار کو ردِ انقلابی طبقے کے مطالبات کی سمت میں گامزن کرتی ہیں؛ تاہم ایک مختلف طبقے کو اقتدار کی منتقلی کے بغیر ردِ انقلاب کی فتح بعید از قیاس ہوتی ہے۔ جولائی میں اقتدار کی فیصلہ کن منتقلی نہیں ہوئی تھی۔
’’اگر جولائی کی سرکشی ایک نیم سرکشی تھی تو ردِ انقلاب کی فتح بھی کسی حد تک ایک نیم فتح تھی۔‘‘ بخارن نے کچھ مہینے قبل یہ بالکل درست لکھا، تاہم اپنے ہی الفاظ سے ضروری نتائج اخذ کئے بغیر۔ ایک نیم فتح بورژوازی کو اقتدار نہیں دے سکتی تھی۔ دوہرا اقتدار دوبارہ تعمیر ہوا، اپنی شکل تبدیل کی لیکن غائب نہیں ہوا۔ پہلے کی طرح اب بھی فیکٹریوں میں مزدوروں کی منشا کے خلاف کچھ بھی کرنا ناممکن تھا؛ زمینداروں کو ملکیت کے حقوق سے فیضیاب ہونے سے روکنے کے لیے کسانوں نے بھی کافی طاقت بچا رکھی تھی؛ سپاہیوں کے سامنے کمانڈر کوئی اعتماد محسوس نہیں کرتے تھے۔ لیکن اقتدار اگر ملکیت کے حقوق اور عسکری طاقت کو ختم کرنے کا مادی امکان نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ 13 اگست کو ٹراٹسکی نے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں لکھا: ’’صرف یہ نہیں تھا کہ حکومت کے برابر سوویتیں کھڑی تھیں اور بہت سے حکومتی امور انجام دے رہی تھیں… بلکہ معاملے کی اساس یہ تھی کہ سوویتوں کے پیچھے اور حکومت کے پیچھے دو مختلف نظامِ حکومت کھڑے تھے جن کا انحصار مختلف طبقات پر تھا… اوپر سے مسلط کئے جانے والے سرمایہ دارانہ جمہوریہ کے نظام حکومت اور نیچے سے تشکیل پانے والے مزدور جمہوریت کے نظام حکومت نے ایک دوسرے کو مفلوج کر رکھا تھا۔‘‘
یہ بالکل مسلمہ ہے کہ مجلس عاملہ نے اپنی اہمیت کا وسیع حصہ کھو دیا تھا۔ لیکن یہ سمجھنا غلطی ہوگی کہ مصالحت پسندوں نے جو کچھ کھویا تھا وہ بورژوازی نے حاصل کر لیا تھا۔ اِن رہنماؤں نے نہ صرف دائیں بلکہ بائیں طرف بھی کھویا تھا، جو نہ صرف فوجی ٹولوں بلکہ فیکٹری اور رجمنٹ کمیٹیوں کے لیے بھی سود مند ثابت ہوا۔ اقتدار غیر مرکزیت کا شکار ہو کر بکھر گیا تھا، کسی حد تک اُس ہتھیار کے ساتھ زیر زمین مخفی ہو گیا تھا جو مزدور نے جولائی کی شکست کے بعد چھپا دیا تھا۔ دوہرا اقتدار اب ’’پرامن‘‘، معاہدی اور باضابطہ نہیں رہا تھا۔ یہ زیادہ مخفی، زیادہ غیرمرکزی، زیادہ متضاد اور دھماکہ خیز ہو گیا تھا۔ اگست کے آخر میں یہ مخفی دوہرا اقتدار دوبارہ متحرک ہو گیا۔ ہم دیکھیں گے کہ اس حقیقت نے اکتوبر میں کیا اہمیت حاصل کی۔

*****

[۱] پارٹی کانگریسوں میں شامل ہونے والے مندوبین سے ایک سوالنامہ یا فارم پُر کروایا جاتا تھا، جس میں نام، ڈیلیگیٹ کارڈ نمبر، ذیلی تنظیم کا نام، عمر، قومیت، تعلیم، پیشہ، پارٹی میں شعبہ وغیرہ پوچھا جاتا تھا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں