(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف‘انقلاب روس کی تاریخ’ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ‘جدوجہد’ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
دوہرے اقتدار [۱] کی اساس کیا تھی؟ ہمیں اس سوال پر رکنا چاہئے، کیونکہ تاریخی لٹریچر میں اس پر روشنی نہیں ڈالی گئی ہے۔ اگرچہ یہ دوہرا قتدار سماجی بحران کی ایک مخصوص کیفیت ہے، جو صرف انقلابِ روس کے لئے مخصوص نہیں ہے، لیکن یہاں اس کا اظہار سب سے واضح انداز میں ہوا۔
سماج میں متحارب طبقات ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، اقتدار سے محروم طبقہ ناگزیر طور پر حکومتی روش کو اپنے مفادات کی سمت میں موڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ایک سے زیادہ اقتدار سماج پر حکمرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ سیاسی ڈھانچے کا کردار براہ راست طور پر محکوم طبقے کے حکمران طبقے کے ساتھ تعلق سے متعین ہوتا ہے۔ ایک واحد حکومت، جو کسی بھی نظام کے استحکام کی ضروری شرط ہوتی ہے، تب تک قائم رہتی ہے جب تک حکمران طبقہ سماج پر اپنے سیاسی اور معاشی طریقہ ہائے کار کو واحد ممکنہ صورت کے طور پر مسلط رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ جرمن زمیندار اشرافیہ (Junkers) اور بورژوازی کا بیک وقت راج، چاہے یہ ہوہنزولرن (Hohenzollern) بادشاہت کی شکل میں ہو یا پھر جمہوریہ کی شکل میں، دوہری حکومت نہیں ہے، چاہے اِن دو شریک طاقتوں کے درمیان تصادم بعض اوقات کتنے ہی شدید ہو جائیں۔ اِن کی سماجی بنیاد مشترک ہے، اس لئے اِن کے آپسی تصادم سے ریاستی ڈھانچے کے ٹوٹ جانے کا خطرہ نہیں ہے۔ دوہرے اقتدار کا نظام صرف ناقابل مصالحت طبقاتی تضادات میں سے برآمد ہوتا ہے، اس لئے یہ صرف ایک انقلابی عہد میں ممکن ہے اور اس کے بنیادی عناصر میں سے ایک ہے۔
انقلاب کا سیاسی میکانیہ ایک طبقے سے دوسرے طبقے کو اقتدار کی منتقلی پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ جبری اُلٹ پلٹ عام طور پر مختصر وقت میں مکمل ہو جاتی ہے۔ لیکن کوئی تاریخی طبقہ اچانک ایک ہی رات میں خود کو محکوم سے حاکم کی سطح پر بلند نہیں کرلیتا، چاہے یہ انقلاب کی رات ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے انقلاب سے قبل سرکاری حکمران طبقے کی طرف بہت خودمختیار رویہ اپنایا ہوتا ہے، اُن درمیانے طبقات اور پرتوں کی امیدیں خود پر مرکوز کروائی ہوتی ہیں جو مروجہ حالات سے غیر مطمئن ہوتے ہیں لیکن کوئی آزادانہ کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔قبل از انقلابی عرصے کے دوران انقلاب کی تاریخی تیاری ایک ایسی صورتحال پیدا کر دیتی ہے کہ جب وہ طبقہ جس نے نیا سماجی نظام قائم کرنا ہوتا ہے، ابھی ملک کا حکمران تو نہیں بنا ہوتا لیکن اُس نے درحقیقت اپنے ہاتھ میں ریاستی اقتدار کا خاطر خواہ حصہ مجتمع کر لیا ہوتا ہے، جبکہ حکومت کی سرکاری مشینری ابھی بھی پرانے آقاؤں کے اختیار میں ہی ہوتی ہے۔ یہ ہر انقلاب کا ابتدائی دوہرا اقتدار ہوتا ہے۔
لیکن یہ اس کی واحد صورت نہیں ہے۔ اگر اپنی خواہش کے برخلاف برپا ہونے والے انقلاب سے اقتدار میں آنے والا نیا طبقہ اپنی اساس میں ایک پرانا اور تاریخی طور پر تاخیر زدہ طبقہ ہو؛ اگر باضابطہ طور پر اقتدار میں آنے سے پہلے ہی یہ گھس پٹ چکا ہو؛ اگر اقتدار میں آکر اس کا سامنا ایک ایسے مخالف سے ہو جائے جو پہلے ہی خاصا بالغ ہو چکا ہو اور مسند اقتدار کی طرف ہاتھ بڑھا رہا ہو؛ تو پھر ایک غیر مستحکم دوہرے اقتدارکے توازن کی بجائے سیاسی انقلاب ایک اور قسم کے دوہرے اقتدار کو جنم دیتا ہے جو اور بھی زیادہ غیر مستحکم ہوتا ہے۔ اس دوہری حاکمیت کی ‘‘انارکی’’ پر قابو پانا ہر نئے قدم پر انقلاب یا پھر ردِ انقلاب کا فریضہ بن جاتا ہے ۔
اس دوہری حاکمیت میں اقتدار کی دو برابر حصوں میں تقسیم یا طاقتوں کے اس طرح کے کسی بھی باقاعدہ توازن کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔یہ کوئی آئینی نہیں بلکہ انقلابی حقیقت ہوتی ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ سماجی توازن کی تباہی نے ریاست کے بالائی ڈھانچے کو تقسیم کر دیا ہے۔ یہ کیفیت تب پیدا ہوتی ہے جب متحارب طبقات اپنی اساس میں دو متضاد حکومتی تنظیموں پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں، ایک جو اپنی مدت پوری کر چکی ہوتی ہے اور دوسری جو ابھی تشکیل پا رہی ہوتی ہے، یہ تنظیمیں اقتدار کے حلقے میں سے ہر قدم پر ایک دوسرے کو باہر دھکیلتی ہیں۔ ان برسرپیکار طبقات میں سے ہر ایک کے ہاتھ آنے والی طاقت کا انحصار جدوجہد کے دوران طاقتوں کے توازن پر ہوتا ہے۔
اپنی نوعیت کے تحت ہی اس طرح کی کیفیت کبھی مستحکم نہیں ہو سکتی۔ سماج کو مجتمع شدہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک حکمران طبقہ، یا پھر جس صورتحال کی بات ہم کر رہے ہیں اُس میں دو نصف حکمران طبقات، اِسے حاصل کرنے کی بے انتہا کوشش کرتے ہیں۔ اقتدار کی یہ تقسیم کم از کم ایک خانہ جنگی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔لیکن اِس انتہا پر جانے سے پہلے متحارب طبقات یا فریق، بالخصوص اگر اُنہیں کسی تیسری قوت کی مداخلت کا خطرہ ہو تو وہ دوہرے اقتدار کو لمبے عرصے تک برداشت کرنے، حتیٰ کہ اس کی باقاعدہ منظوری دینے پر بھی خود کو مجبور محسوس کر سکتے ہیں۔ تاہم اِس نظام کو ناگزیر طور پھٹنا ہوتا ہے۔ خانہ جنگی اِس دوہرے اقتدار کا سب سے واضح اظہار کرتی ہے، کیونکہ وہ عملداری کی حدود متعین کر دیتی ہے۔اپنے حلقہ اثر کی قلعہ بندی کرنے کے بعد دونوں میں سے ہر طاقت باقی ماندہ علاقے پر قبضے کے لئے لڑتی ہے، جسے اکثر اوقات متحارب طاقتوں کے پے درپے حملوں کی شکل میں دوہرا اقتدار بھگتنا پڑتاہے، جب تک کہ اُن میں سے کوئی ایک فیصلہ کن انداز میں خود کو مسلط نہ کر لے۔
پوری قوم کو نیچے تک توڑ ڈالنے والا سترہویں صدی کا برطانیہ کا عظیم انقلاب ایسے دوہرے اقتدار کی واضح مثال ہے، جس میں خانہ جنگی کی شکل میں تیز تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
پہلے پہل مراعت یافتہ طبقات، یعنی اشرافیہ اور پادریوں، یا اِن طبقات کے بالائی حلقوں پر تکیہ کرنے والے شاہی اقتدار کی مخالفت بورژوازی اور اس کے قریبی زمینداروں کے حلقے کرتے رہے۔ بورژوازی کی حکومت پریسبیٹیرین پارلیمنٹ (Presbyterian Parliament) تھی، جسے لندن شہر کی حمایت حاصل تھی۔ ان دونوں حکومتوں میں طویل تصادم کا فیصلہ آخر کار کھلی خانہ جنگی نے کیا۔ دو حکومتی مراکز، لندن اور آکسفورڈ، نے اپنی اپنی افواج تشکیل دیں۔ یہاں دوہرے اقتدار نے حدبندی کی شکل اختیار کر لی، اگرچہ جیسا کہ خانہ جنگی میں ہمیشہ ہوتا ہے، یہ حدود مسلسل بدلتی رہیں۔پارلیمنٹ فتح یاب رہی۔ بادشاہ کو گرفتار کر لیا گیا اور وہ اپنے مقدر کا انتظار کرنے لگا [۲]۔
یوں محسوس ہو گا کہ اب پریسبیٹیرین بورژوازی کے واحد اقتدار کے حالات پیدا ہو گئے تھے۔ لیکن اِس سے قبل کہ شاہی اقتدار کو توڑا جاتا، پارلیمانی فوج نے خود کو ایک خودمختیار سیاسی فوج میں تبدیل کر لیا۔ اُس نے اپنی صفوں میں انڈیپنڈنٹوں (Independents) ، یعنی پارسا اور پرعزم پیٹی بورژوازی، دست کاروں اور کسانوں کو مجتمع کر لیا۔نہ صرف ایک مسلح قوت کے طور پر، بلکہ ایک پریٹری گارڈ (Praetorian Guard) [۳]کے طور پر ، خوشحال اور امیر بورژوازی کی مخالفت کرنے والے ایک نئے طبقے کے سیاسی نمائندے کے طور پر یہ فوج سماجی زندگی میں زور دار مداخلت کرتی تھی۔ اس لحاظ سے پارلیمانی فوج نے عسکری قیادت سے بالا ایک نیا ریاستی ادارہ تخلیق کیا: سپاہیوں اور افسران کے نمائندوں کی کونسل (‘‘ایجی ٹیٹرز’’) ۔ یوں دوہرے اقتدار کا ایک نیا عرصہ شروع ہوا: پریسبیٹیرین پارلیمنٹ اور انڈیپنڈنٹوں کی فوج کے دوہرے اقتدار کا عرصہ ۔ اس سے کھلے تصادم پیدا ہوئے۔ بورژوازی اپنی فوج کے ساتھ کرومویل (Cromwell) کی مسلح عوام پر مشتمل ‘‘ماڈل فوج’’ کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ تھی۔ یہ تصادم انڈیپنڈنٹوں کی تلوار سے پریسبیٹیرین پارلیمنٹ کی تطہیر پر ختم ہوا۔ پارلیمنٹ کا پچھواڑہ ہی باقی بچا؛ کرومویل کی آمریت قائم ہوئی۔ لیولروں (Levellers)،جو انقلاب کا انتہائی بایاں بازو تھے، کی قیادت میں فوج کی نچلی پرتوں نے فوج کی بالائی پرتوں، یعنی فوجی اشرافیہ Patricians) (کی حاکمیت کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی حقیقی عوامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ لیکن دوہرے اقتدار کا یہ نظام چلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا: لیولروں، جو پیٹی بورژوازی کی سب سے نچلی پرتیں تھے، کا اس وقت تک اپنا کوئی تاریخی راستہ تھا نہ ہو سکتا تھا۔ کرومویل [۴] نے جلد ہی اپنے دشمنوں سے حساب چکتا کیا۔ کئی سالوں کے عرصے کے لئے ایک نیا سیاسی توازن قائم ہو گیا جو قطعاً مستحکم نہیں تھا۔
عظیم انقلاب فرانس میں آئین ساز اسمبلی، جس کی ریڑھ کی ہڈی تیسرے درجے (Third Estate) کی بالائی پرتیں تھیں، نے اقتدار کی طاقت اپنے ہاتھوں میں مجتمع کر لی، اگرچہ بادشاہ کے اختیارات کو مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا۔ آئین ساز اسمبلی کا عرصہ واضح طور پر دوہرے اقتدار کا عرصہ تھا، جو بادشاہ کے ویرینس بھاگ جانے پر ختم ہوا اور جمہوریہ کے قیام کے ساتھ باضابطہ طور پر اختتام پزیر ہو گیا۔
قانون سازی اور انتظامیہ کے اختیارات کی مکمل خود مختیاری کے فسانے پر مبنی پہلا فرانسیسی آئین (1791ء) درحقیقت عوام سے دوہرا اقتدار چھپاتا تھا یا چھپانے کی کوشش کرتا تھا: ایک طرف باستیل پر عوام کے قبضے کے بعد قومی اسمبلی میں مضبوطی سے قلعہ بندبورژوازی کا اقتدار اور دوسری طرف پادریوں، افسرشاہی اور فوج پر ابھی تک انحصار کرنے والی پرانی بادشاہت کا اقتدار۔اِس داخلی تضادات کے شکار نظامِ حکومت میں اِس کی ناگزیر تباہی کے جراثیم موجود تھے۔ اِس کا حل صرف یورپی رجعت کی طاقتوں کے ذریعے بورژوا نمائندگی کے خاتمے یا پھر بادشاہ اور بادشاہت کا سر قلم کر کے ہی نکل سکتا تھا۔ پیرس اور کوبلینز (Coblenz) کو اپنی قوتوں کی پیمائش کرنا تھی۔
لیکن اس سے پہلے کہ بات جنگ یا سر قلم کرنے تک پہنچتی، پیرس کمیون [۵] منظر نامے پر نمودار ہوا، جس کی حمایت تیسرے درجے کی سب سے نچلی شہری پرتیں کر رہی تھیں اور یہ مسلسل بڑھتی ہوئی بے باکی سے اقتدار کے حصول کے لئے قومی بورژوازی کے نمائندوں سے مقابلہ کر رہا تھا۔ یوں ایک دوہرے اقتدار کا آغاز ہو گیا جس کا پہلا اظہار ہمیں 1790ء میں ہی نظر آتا ہے ، جب بڑی اور درمیانی بورژوازی انتظامیہ اور بلدیاؤں میں مضبوطی سے براجمان تھی۔ کیسا شاندار نظارہ ہے اور کس کمینگی کے ساتھ اسے بدنام کیا گیا! جب عوام خود کو سماجی تہہ خانوں اور قبروں سے بلند کرکے اس ممنوع میدان میں قدم رکھنے کی جدوجہد کر رہے تھے جہاں زرق برق لباس میں ملبوس لوگ قوم کے مقدر کا فیصلہ کر رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ تہذیب یافتہ بورژوازی کے پیروں تلے کچلی سماج کی بنیادیں جوش کھا رہی تھیں اور زندہ ہو رہی تھیں۔انسان جمود کے بھاری مادے کو چیرتے ہوئے سر اٹھا رہے تھے، مشتعل ہاتھ ہوا میں بلند ہو رہے تھے، بیٹھی ہوئی لیکن جرات مند آوازیں چیخ رہی تھیں! پیرس کے اضلاع ، انقلاب کے وہ ناجائز بچے، اپنی زندگی جینے لگے تھے۔ انہیں شناخت نہ دینا ممکن نہیں رہا تھا، انہیں شناخت دی گئی اور سیکشنوں [۶]میں تبدیل کر دیا گیا۔ لیکن وہ مسلسل قانونیت کی حدیں توڑتے رہے اور نیچے سے تازہ خون لیتے رہے، قانون کے برخلاف اپنی صفیں حقوق سے محروم عام اور غریب لوگوں کے لئے کھولتے رہے۔ عین اسی وقت دیہی بلدیاؤں میں بھی جاگیردارانہ نظامِ ملکیت کا تحفظ کرنے والی بورژوا قانونیت کے خلاف کسانوں کی شورشیں ہو رہی تھیں۔ یوں دوسری قوم کے نیچے سے تیسری قوم نمودار ہوئی۔
پیرس کے سیکشن پہلے پہل کمیون کے مخالف تھے، جس پر ابھی تک معزز بورژوازی کا غلبہ تھا۔ 10 اگست 1792ء کی بے باک انقلابی شورش میں سیکشنوں نے کمیون کو اپنے قابو میں لے لیا۔ اس کے بعد سے انقلابی کمیون نے قانون ساز اسمبلی اور بعد ازاں کنونشن کی بھی مخالفت کی، جو انقلاب کے مسائل اور پیش رفت کے ساتھ چلنے میں ناکام ہو چکا تھا اور عملی طور پر خود کچھ کرنے کی بجائے صرف انقلاب کے واقعات کا اندراج ہی کر رہا تھا، کیونکہ اِس میں اُس نئے طبقے کی توانائی، بے باکی اور یکجائی نہ تھی جو پیرس کے اضلاع میں سے اٹھا تھا اور جس نے انتہائی پسماندہ دیہاتوں میں حمایت حاصل کی تھی۔ جیسے سیکشنوں نے کمیون کو قابو کیا ویسے ہی نئی سرکشی کے ذریعے کمیون نے کنونشن [۷] کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ہر مرحلے پر دوہرا قتدار انتہائی واضح تھا، جس میں سے ہر اقتدار ایک یکجا و مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، دایاں اقتدار دفاعی جب کہ بایاں اقتدار جارحانہ جدوجہد کے ذریعے۔ یوں انقلابات اور رد انقلابات، دونوں میں دوہرے اقتدار کے ناقابل حل تضادات آمریت کے متقاضی ہوتے ہیں۔اس کی ایک شکل سے دوسری میں تبدیلی خانہ جنگی کے ذریعے ہوتی ہے۔ نئے طبقات یا پرتوں کو اقتدار کی منتقلی جیسے انقلاب کے عظیم مراحل، اِس عمل میں نمائندگی کے اُن اداروں کی جانشینی سے بالکل بھی میل نہیں کھاتے جو انقلاب کی حرکت کے پیچھے ایک تاخیر زدہ سائے کی طرح چلتے ہیں۔ آخر کار غریب انقلابی طبقات (Sansculottes) کی آمریت کنونشن کی آمریت سے متحد ہو گئی۔ لیکن کون سے والے کنونشن سے؟ ایک ایسا کنونشن جس میں سے کل تک دہشت کے ذریعے حکومت کرنے والے گیرونڈسٹوں Girondists) ( کو اب نکال باہر کیا گیاتھا، ایک ایسا کنونشن جس کی تطہیر اور تشکیل نئی سماجی قوتوں کے اقتدار کے مطابق کی گئی تھی۔ یوں دوہرے اقتدار کے مراحل عبور کرتے ہوئے چار سال کے عرصے میں انقلابِ فرانس اپنی معراج پر پہنچا۔ تھرمیڈور [۸] کی 9 تاریخ کے بعد ایک بار پھر دوہرے اقتدار کے مراحل طے کرتے ہوئے اس کی تنزلی شروع ہو گئی۔ اور بالکل ابھار کے ہر مرحلے کی طرح تنزلی کے ہرمرحلے سے پہلے بھی خانہ جنگی تھی۔ اسی طرح نئے سماجوں میں طاقتوں کا نیا توازن پیدا ہوتا ہے۔
روسی بورژوازی نے راسپیوٹن افسر شاہی سے لڑتے ہوئے اور اس کی معاونت کرتے ہوئے، جنگ کے دوران اپنی سیاسی صورتحال بڑی مستحکم کر لی تھی۔ زار شاہی کی شکست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے شہری اور دیہاتی یونینوں اور فوجی صنعتی کمیٹیوں کے ذریعے اپنے ہاتھوں میں بڑی طاقت مجتمع کر لی تھی۔ اس کے علیحدہ اختیار میں ریاست کے وسیع وسائل تھے، معاملے کی اساس دیکھی جائے تو اس کے پاس ایک متوازی حکومت تھی۔ جنگ کے دوران زار کے وزرا نے شکایت کی کہ فوج کی رسد، خوراک، ادویات، حتیٰ کہ سپاہیوں کے لئے حجام کی دکانیں تک شہزادہ لووف چلا رہا تھا۔ وزیر کریووشن نے 1915ء میں کہا، ‘‘ہمیں یہ سب روکنا ہو گا، یا پھر سارا اقتدار ہی اُس کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں۔’’اس نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ ڈیڑھ سال بعد شہزادہ لووف نہ صرف زار بلکہ کیرنسکی، شکائدز اور سوخانوف کے ہاتھوں سے بھی ‘‘سارا اقتدار’’ ہی لے لے گا۔ لیکن جس دن اُسے یہ اقتدار ملا اُس کے اگلے ہی دن دوہری حکومت شروع ہو گئی: کل کی لبرل نیم حکومت جو آج قانونی بن چکی تھی، اس کے ساتھ ہی محنت کش عوام کی ایک غیر سرکاری لیکن کہیں زیادہ حقیقی حکومت سوویتوں کی شکل میں ابھری۔ اس کے بعد سے انقلابِ روس ایک عالمی تاریخی اہمیت کے واقعے میں تبدیل ہونے لگا۔
فروری انقلاب میں نمودار ہونے والے اس دوہرے اقتدار کی خاص بات کیا تھی؟ سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے واقعات میں دوہرا اقتدار اُس جدوجہد میں ایک فطری مرحلہ تھا جو قوتوں کے عارضی توازن نے فریقین پر مسلط کی تھی، ہر فریق کی کوشش تھی کہ وہ دوہرے اقتدار کی جگہ اپنا واحد اقتدار قائم کرے۔ 1917ء کے انقلاب میں ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے ہاتھوں میں اقتدار لینے سے یکسر انکار کر کے سرکاری جمہوریت پسندوں نے شعوری اور دانستہ طور پر دوہرے اقتدار کا نظام قائم کیا۔ دوہری حاکمیت دو طبقات کے درمیان اقتدار کی جدوجہد کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک طبقے کی دوسرے طبقے کے سامنے اقتدار سے رضاکارانہ‘‘دستبرداری’’ کے نتیجے میں قائم ہوئی۔روسی ‘‘جمہوریت’’ دوہرے اقتدار کے نظامِ حکومت سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن اِس کا واحد راستہ اُسکے اپنے ہی اقتدار کا خاتمہ تھا۔ اِسی کو ہم نے فروری انقلاب کا متناقضہ قرار دیا تھا۔
اس کی ایک تمثیل 1848ء میں بادشاہت کیساتھ تعلق کے معاملے میں جرمن بورژوازی کے طرز عمل میں مل سکتی ہے۔ لیکن یہ مکمل تمثیل نہیں ہے۔ جرمن بورژوازی نے پوری کوشش کی کہ ایک معاہدے کی بنیاد پر طاقت کو بادشاہت کے ساتھ بانٹ لے۔ لیکن نہ تو بورژوازی کے ہاتھ میں پورا اقتدار تھا اور نہ ہی اُس نے کسی بھی طرح اِسے مکمل طور پر بادشاہت کے ہاتھ آنے دیا۔‘‘پروشیائی بورژوازی کا اقتدار برائے نام تھا، اُسے ایک لمحے کے لیے بھی یہ غلط فہمی نہیں تھی کہ پرانی حکومت کی قوتیں خود کو مکمل طور پر اُس کے زیر اختیار لاتے ہوئے اُس کے مکمل اقتدار کی وفادار پیروکار بن جائیں گی۔’’ (مارکس اور اینگلز)
1917ء کی جمہوریت، جس نے سرکشی کے وقت ہی اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا، نے نہ صرف اسے بورژوازی کے ساتھ بانٹنے کی بلکہ پوری ریاست ہی مکمل طور پر بورژوازی کے حوالے کرنے کی کوشش کی۔ اس کا مطلب ہے کہ بیسویں صدی کی پہلی چوتھائی میں باضابطہ روسی جمہوریت انیسویں صدی کی جرمن لبرل بورژوازی سے زیادہ گل سڑ چکی تھی۔ اور یہ تاریخ کے قوانین کے عین مطابق ہے، کیونکہ یہ اُس پرولتاریہ کی نشونما کا مخالف پہلو تھا جس نے کرومویل کے دستکاروں اور روبسپیر کے نادار انقلابی طبقات (Sansculottes) کی جگہ لے لی تھی۔
اگر آپ گہرائی میں دیکھیں تو عبوری حکومت اور مجلس عاملہ کے دوہرے اقتدار کا کردار محض عکس کا تھا۔ صرف پرولتاریہ آگے بڑھ کر نئے اقتدار کا دعویٰ کر سکتا تھا۔ مزدوروں اور سپاہیوں پر بے اعتباری سے انحصار کرتے ہوئے مصالحت پسند درحقیقت بادشاہوں اور پیغمبروں والی دوہری کھاتے داری پر مجبور تھے۔ لبرلوں اور جمہوریت پسندوں کی دوہری حکومت صرف بورژوازی اور پرولتاریہ کی اُس دوہری حاکمیت کا عکس تھی جو ابھی تک پوشیدہ تھی۔ جب بالشویکوں نے سوویت کی قیادت میں سے مصالحت پسندوں کو ہٹایا (یہ چند مہینوں میں ہی ہونے والا تھا) تو یہی پوشیدہ دوہری حاکمیت کھل کر سامنے آ گئی، یہ اکتوبر انقلاب کا وقت تھا۔ اُس لمحے تک انقلاب کو سیاسی عکسوں کی دنیا میں رہنا تھا۔ سوشلسٹ دانشوروں کی توجیہات سے منعطف ہو کر دوہری حاکمیت ، طبقاتی جدوجہد کے ایک مرحلے سے ‘باقاعدگی دینے والے اصول’ میں تبدیل ہو گئی۔ اسی وجہ سے اسے تمام نظریاتی مباحث میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہوتا ہے: فروری کی دوہری حکومت کے آئینے جیسے کردار نے ہمیں اِس قابل بنایا ہے کہ تاریخ کے اُن عہدوں کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکیں جہاں یہ مظہر دو نظاموں کی کشمکش کے خونریز مرحلے کے طور پر نمودار ہوتا ہے۔ چاند کی ماند اور منعکس شدہ روشنی کے ذریعے سورج کی روشنی کے بارے میں اہم نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔
پرانے انقلابات کے شہری عوام کے مقابلے میں روسی پرولتاریہ کی انتہائی زیادہ پختگی میں انقلابِ روس کی مخصوص نوعیت پنہاں ہے۔ اسی نے پہلے نیم آسیبی دوہری حکومت کے متناقضے کو جنم دیا اور بعد ازاں بورژوازی کے حقیقی اقتدار کا راستہ روکا۔کیونکہ سوال کچھ یوں تھا: یا تو بورژوازی ریاستی مشینری پر غالب آجائے گی اور اسے اپنے مقاصد کے تحت ڈھال دے گی، اس صورت میں سوویتوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا؛ یا پھر سوویتیں نئی ریاست کی بنیادیں مرتب کریں گی، نہ صرف پرانی حکومت کی مشینری کا خاتمہ کر دیں گی بلکہ اُن طبقات کی عملداری کا بھی جن کے لئے یہ مشینری کام کرتی تھی۔ منشویک اور سوشل انقلابی پہلے حل کی طرف گامزن تھے، بالشویک دوسرے کی طرف۔ مراہ (Marat) نے مشاہدہ کیا تھا کہ محکوم طبقات کے پاس ماضی میں اُس کام کو مکمل کرنے کی مہارت، قیادت یا علم نہیں تھا جسے انہوں نے شروع کیا تھا۔ لیکن بیسویں صدی کے انقلابِ روس میں اُن کے پاس یہ تینوں چیزیں تھیں۔ بالشویک فتح یاب ہوئے۔
اُن کی فتح کے ایک سال بعد یہی صورتحال طاقتوں کے مختلف توازن کے ساتھ جرمنی میں دوبارہ پیدا ہوئی۔ سوشل ڈیموکریسی بورژوازی کی جمہوری حکومت کے قیام اور سوویتوں کی تحلیل کی کوشش کر رہی تھی۔ روزا لکسمبرگ اور کارل لائبنیخت (Karl Liebknecht) سوویتوں کی آمریت کے لئے سرگرم عمل تھے۔ سوشل ڈیموکریٹ جیت گئے۔ جرمنی میں کاؤتسکی اور ہلفرڈنگ اور آسٹریا میں میکس ایڈلر نے تجویز پیش کی کہ آئین میں مزدوروں کی سوویتیں شامل کر کے جمہوریت کو سوویت نظام کے ساتھ ‘‘ملا’’ دینا چاہئے۔اس کا مطلب ایک مخفی یا کھلی خانہ جنگی کو ریاستی نظام کا آئینی جزو بنانا تھا۔ اس سے زیادہ دلچسپ یوٹوپیا کا گمان کرنا بھی ناممکن ہے۔ جرمن سرزمین پر اِس کی واحد دلیل شاید ایک پرانی روایت تھی: 1848ء کے جرمن جمہوریت پسندوں نے ایک بادشاہ کی حکمرانی میں جمہوریہ قائم کرنے کی خواہش کی تھی۔
دوہرے اقتدار کا یہ مظہر، جس کی اہمیت کو قبل ازیں سمجھا نہیں گیا ہے، کیا مارکسی تھیوری کے برخلاف نہیں جاتا، جو حکومت کو حکمران طبقات کی انتظامی کمیٹی گردانتی ہے؟ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پوچھا جائے: کیا طلب اور رسد کے تحت قیمتوں میں آنے والا اتار چڑھاؤ قدر کی لیبر تھیوری کے برخلاف نہیں ہے؟ کیا اپنے بچے کی حفاظت کے لئے مادہ (Female) کی جانب سے اپنی جان کی قربانی بقا کی جدوجہد کی تھیوری کو رد کرتی ہے؟ نہیں، ان مظاہر میں انہی قوانین کا زیادہ پیچیدہ امتزاج موجود ہے۔ اگر ریاست حکمران طبقات کا ادارہ ہے اور انقلاب حکمران طبقات کو اکھاڑنے کا نام ہے، تو پھر ایک طبقے سے دوسرے طبقے تک اقتدار کی منتقلی لازمی طور پر ریاست کی متضاد کیفیت پیدا کرتی ہے، یہ کیفیت سب سے پہلے ایک دوہرے اقتدار کی شکل میں ہوتی ہے۔ طبقاتی قوتوں کا توازن کوئی ریاضی کی مقدار نہیں ہے جس کا پیشگی حساب کتاب لگایا جا سکے۔ جب پرانا نظام اپنا توازن کھو دیتا ہے تو قوتوں کا نیا توازن صرف لڑائی کی آزمائش کے نتیجے میں قائم ہو سکتا ہے۔ یہی انقلاب ہوتا ہے۔
شاید یوں محسوس ہو کہ نظریاتی تفتیش ہمیں 1917ء کے واقعات سے دور لے آئی ہے۔ لیکن درحقیقت یہ ہمیں اُن کی گہرائی میں لے گئی ہے۔ دوہرے اقتدار کے اِسی مسئلے کے گرد پارٹیوں اور طبقات کی ڈرامائی جدوجہد گھوم رہی تھی۔ صرف نظریاتی بلندی سے ہی اِس کا مکمل مشاہدہ اور درست ادراک ممکن ہے۔
[۱]دوہرے اقتدار، دوہری حکومت، دوہری حاکمیت، دوہری طاقت جیسی اصطلاحات سے مصنف کی مراد ایک ہی مظہر ہے۔ ہم "Dual Power”کے لئے اردو میں ‘‘دوہرے اقتدار’’ کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔
[۲]برطانیہ کے اس بورژوا انقلاب میں بادشاہ کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔
[۳]پریٹری گارڈ قدیم روم میں بادشاہوں کے محافظ فوجی دستے تھے جن کا سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ رفتہ رفتہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ وہ ریاست کے اندر ریاست بن گئے۔ وہ اپنے مفادات کے مطابق لوگوں کو تخت پر بٹھاتے اور اتارتے تھے اور بعض اوقات تو بادشاہوں کو قتل بھی کروا دیتے تھے۔یہاں ان کے اس گہرے سماجی اور سیاسی کردار کو بطوراستعارہ استعمال کیا گیا ہے۔
[۴] کرومویل برطانیہ کے اِس انقلاب کا کلیدی رہنما تھا۔
[۵]یہاں پیرس کمیون سے مراد 1871ء کا پرولتاری کمیون نہیں بلکہ انقلاب فرانس کے دوران پیرس میں قائم ہونے والی انقلابی حکومت ہے، جو 1789ء سے 1795ء تک قائم رہی۔
[۶]سیکشنوں سے مراد ‘پیرس کے انقلابی سیکشن’ ہیں۔ یہ ایک طرح سے پیرس کے مختلف علاقوں میں تشکیل پانے والے انتظامی اور سیاسی ادارے تھے جو انقلابی عوام نے اپنی نمائندگی کے لئے تخلیق کئے تھے۔انہیں ایک طرح سے انقلابی برانچیں بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں پیرس کے سابق ضلعوں کی جگہ باضابطہ طور پر ان سیکشنوں نے لے لی تھی۔
[۷]‘کنونشن’ یا قومی کنونشن ، یہ انقلابِ فرانس کے دوران آئین ساز اسمبلی کے بعد معرض وجود میں آنے والا جمہوری ادارہ تھا۔10 اگست 1792ء کی شورش کے نتیجے میں آئین ساز اسمبلی نے بادشاہ کی معزولی اور کنونشن بلانے کا حکم جاری کیا تھا تاکہ ملک کا آئین تشکیل دیا جا سکے۔یہ فرانسیسی بادشاہت کے باقاعدہ خاتمے کی گھڑی تھی۔کنونشن نے 21 ستمبر کو بادشاہت کے باقاعدہ خاتمے اور 22 ستمبر کو جمہوریہ کا اعلان کیا۔کنونشن ایک طرح کی قومی اسمبلی تھی جس کے اراکین کا انتخابات فرانس کی تاریخ میں پہلی بار عام حق رائے دہی کے ذریعے ہوا۔ 25 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام مرد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔اس وقت فرانسیسی سماج میں جاری عوام اور بورژوازی کے درمیان جدوجہد کا اظہار کنونشن کے اندر بھی ہوتا رہا۔ ‘مونٹا گنارڈ’ غریب عوام کو زیادہ سیاسی طاقت دینا چاہتے تھے جب کہ ‘گیرونڈسٹ’ بورژوازی کو۔
[۸] تھرمیڈور جمہوریہ فرانس کے کیلنڈر کا گیارہواں مہینہ تھا۔