روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

ردِانقلاب اپنا سر اٹھاتا ہے

ردِانقلاب اپنا سر اٹھاتا ہے

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

فروری انقلاب کے بعد کے پہلے دو مہینوں میں اقتدار باضابطہ طور پر تو گچکوف اور ملیوکوف کی حکومت کے پاس تھا، لیکن درحقیقت یہ مکمل طور پر سوویت کے ہاتھوں میں تھا۔ اِس سے اگلے دو مہینوں میں سوویت کمزور پڑتی گئی۔ عوام پر اُس کے اثر و رسوخ کا ایک حصہ بالشویکوں کے پاس چلا گیا؛ اُس کی طاقت کا ایک حصہ سوشلسٹ وزرا اپنے ساتھ مخلوط حکومت کے قلمدانوں میں لے گئے۔ حملے کی تیاریوں کے آغاز سے فوجی قیادت، مالیاتی سرمائے کے اداروں اور کیڈٹ پارٹی کے اثرورسوخ میں خودبخود اضافہ ہونے لگا۔ سپاہیوں کا خون بہانے سے قبل، مجلس عاملہ نے اپنے ہی خون کی اچھی خاصی مقدار بورژوازی کی شریانوں میں منتقل کر دی۔ پس پردہ اِس سب کی ڈوریاں اتحادی ممالک کے سفارتخانوں اور حکومتوں کے ہاتھوں میں تھیں۔
لندن میں ہونے والے اتحادی ممالک کے ایک اجلاس میں روسی سفیر کومغربی دوست بلانا ہی ’’بھول‘‘ گئے۔اُس نے اُنہیں اپنے وجود کی یاد دلائی تب کہیں جا کر اُسے دعوت نامہ بھیجا گیا اور وہ بھی اجلاس کے آغاز سے صرف دس منٹ قبل، مزید برآں میز پر اُس کے لئے کوئی جگہ نہ تھی، اُسے فرانسیسیوں کے ہجوم میں بیٹھنا پڑا۔ عبوری حکومت کے سفیر کی یہ تضحیک اور حکومت سے کیڈٹوں کی کھلے عام علیحدگی، 2 جولائی کو رونما ہونے والے اِن دونوں واقعات کا ایک مقصد تھا: مصالحت پسندوں کو جھکنے پر مجبور کرنا۔ اِس کے فوراً بعد پھٹ پڑنے والے مسلح مظاہرے نے سوویت کے رہنماؤں کو مشتعل کر دیا، کیونکہ دوہری ضرب کھانے کے بعد اُس وقت اُن کی تمام تر توجہ بالکل دوسری طرف مرکوز تھی۔ اتحادی ممالک سے سمجھوتے کا خون آلود کام لازمی بن جانے کے بعد کیڈٹوں سے بہتر ثالث تلاش کرنا مشکل تھا۔ سب سے پرانے انقلابیوں میں شامل چیکووسکی، جو لمبا عرصہ بیرون ملک گزارنے کے بعد ایک اعتدال پسند برطانوی لبرل میں تبدیل ہو چکا تھا، تلقین کرتا ہے: ’’جنگ کے لئے پیسہ ضروری ہے اور اتحادی کبھی بھی سوشلسٹوں کو پیسہ نہیں دیں گے۔‘‘ مصالحت پسند اِس حقیقت پر شرمسار تھے، لیکن اِس کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے تھے۔
طاقتوں کا توازن اب عوام کے مفادات کے خلاف واضح طور پر بدل چکا تھا، لیکن کوئی نہیں بتا سکتا تھا کہ کتنا: کم از کم بورژوازی کی ہوس اُنہیں حاصل مواقع سے کہیں زیادہ بڑھ چکی تھی۔اسی غیر یقینی کیفیت میں تصادم کا ماخذ مضمر تھا، کیونکہ طبقاتی قوتوں کی طاقت کا امتحان عمل میں ہوتا ہے اور ایک انقلاب کے تمام واقعات اِس طاقت کی مسلسل آزمائش ہی ہوتے ہیں۔ بائیں سے دائیں طرف طاقت کا انتقال کتنا ہی زیادہ کیوں نہ تھا، لیکن اِس نے عبوری حکومت پر بہت کم اثر ڈالا، جو اندر سے کھوکھلی ہی رہی۔ جولائی کے اُن نازک دنوں میں شہزادہ لووف کی حکومت میں دلچسپی رکھنے والوں کو ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا۔ جنرل کرائموف ، جس نے ایک مرتبہ گچکوف سے نکولس دوم کا تختہ الٹنے کی بات کی تھی، نے شہزدے کو ایک تار بھیجا جس میں فوری مطالبہ کیا گیا: ’’باتوں سے آگے بڑھ کر کچھ کرنے کا وقت آ چکا ہے۔‘‘ یہ نصیحت مضحکہ خیز معلوم ہوتی تھی اور حکومت کے خصی پن کو مزید عیاں کر رہی تھی۔
بعد ازاں لبرل نابوکوف نے لکھا، ’’جولائی کے آغاز میں مختصر وقت کے لئے یوں لگنے لگا جیسے حکومت کی عملداری دوبارہ سر اٹھا رہی تھی؛ یہ پہلی بالشویک سرکشی کے کچلے جانے کے بعد کا وقت تھا۔ لیکن عبوری حکومت اِس موقع کا فائدہ اٹھانے کے قابل نہیں تھی اوراُس وقت موجود موافق حالات کو ہاتھ سے جانے دیا۔ یہ موقع دوبارہ نہیں آیا۔‘‘ دائیں بازو کے دوسرے نمائندوں نے بھی اِسی خیال کا اظہار کیا ہے۔ درحقیقت دوسرے تمام نازک لمحات کی طرح جولائی کے دنوں میں بھی عبوری حکومت کے مختلف حصے مختلف مقاصد کے تعاقب میں تھے۔ بالشویکوں کا حتمی خاتمہ کرنے کے لئے مصالحت پسند بالکل تیار ہوتے، اگر یہ بالکل عیاں نہ ہوتا کہ بالشویکوں سے حساب چکتا کرنے کے بعد افسران، کاسک، سینٹ جارج اور یلغاری بٹالینوں کے گھڑ سوار خود مصالحت پسندوں کا صفایا کر دیں گے۔ کیڈٹ نہ صرف بالشویکوں بلکہ سوویت کا بھی صفایا چاہتے تھے۔ تاہم یہ کوئی حادثہ نہیں تھا کہ تمام فیصلہ کن لمحات میں کیڈٹوں نے خود کو حکومت سے باہر پایا۔ آخری تجزئیے میں اُنہیں عوام کے اُس دباؤ نے نکال باہر کیا جو مصالحت پسندوں کی فراہم کردہ ڈھال کے باوجود بھی ناقابل مزاحمت تھا۔ لبرل اگر اقتدار پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے تو اسے برقرار نہ رکھ پاتے۔ بعد کے واقعات نے یہ قطعی طور پر ثابت کر دیا۔ جولائی میں موقع گنوا دینے کا خیال ایک غلط فہمی ہے۔ بہرحال جولائی کی فتح نے حکومت کو مضبوط نہیں کیا، بلکہ اِس کے برعکس ایک طویل بحران کا آغاز کر دیا جو باضابطہ طور پر تو 24 جولائی کو حل ہو گیا لیکن درحقیقت فروری حکومت کی چار مہینوں پر مشتمل حالت نزع کا آغاز تھا۔
ایک طرف بورژوازی کے ساتھ نیم دوستی کی بحالی کی ضرورت اور دوسری طرف عوام کی مخالفت کو نرم کرنے کی مجبوری کے درمیان مصالحت پسند ٹوٹ چکے تھے۔ واردات ہی اُن کا طور طریقہ بن چکی تھی۔ وہ بے چینی کے عالم میں اِدھر اُدھر بل کھاتے پھر رہے تھے، لیکن بنیادی لکیر کا جھکاؤ دائیں جانب ہی رہا۔ 7 جولائی کو حکومت نے جبر کے کئی اقدامات کا حکم جاری کیا۔ لیکن اِسی اجلاس میں کیڈٹوں کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوشلسٹ وزرا نے حکومت کو مشورہ دیا کہ سوویتوں کی جون کانگریس کے پروگرام پر عملدرآمد کیا جائے۔ تاہم اس سے حکومت مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ بڑے زمیندار اور زمین یونین کے سابقہ صدر شہزادہ لووف نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنی زرعی پالیسی سے ’’[ملکیت کے] حق کے عمومی تاثر کو نقصان‘‘ پہنچا رہی تھی۔ زمیندار نہ صرف اس بارے میں پریشان تھے کہ کہیں اپنی موروثی ملکیت سے محروم نہ کر دئیے جائیں، بلکہ اس بارے میں بھی کہ مصالحت پسند کہیں ’’آئین ساز اسمبلی سے قبل ہی فیصلہ کر ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔‘‘ شاہ پرست رجعت کے تمام ستون اب خالص جمہوریت کے سلگتے ہوئے حمایتی بن چکے تھے! حکومت نے فیصلہ کیا کہ کیرنسکی کو جنگ اور بحریہ کے قلمدان اپنے پاس رکھتے ہوئے وزیر اعظم کا عہدہ بھی سنبھالنا چاہئے۔ مجلس عاملہ میں بالشویکوں کی گرفتاری سے متعلق سوالات کا جواب دینے کا کام نئے وزیر داخلہ کے طور پر سریتیلی کو کرنا پڑ گیا۔ مارٹوف نے ایک احتجاجی سوال اٹھایا اور سریتیلی نے اپنے اِس پرانے پارٹی کامریڈ کو روکھا جواب دیا کہ وہ مارٹوف کی نسبت لینن سے نبٹنے کو ترجیح دے گا: لینن کے معاملے میں وہ جانتا تھا کہ کیاکرنا ہے، لیکن مارٹوف کے معاملے میں اُس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے… ’’میں اِن گرفتاریوں کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں‘‘ : سریتیلی نے تناؤ بھرے متوجہ ہال کو للکار دیا۔
بائیں بازو پر ضرب کاری کے جواز میں مصالحت پسند دائیں بازو کے خطرے کا حوالہ دیتے تھے۔ ڈین نے 9 جولائی کے اجلاس میں اعلان کیا، ’’روس پر فوجی آمریت کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ہمیں فوجی آمر کے ہاتھ سے سنگین چھیننا ہوگی۔ ہم عبوری حکومت کو ’عوامی تحفظ کی مجلس‘ قرار دے کر ہی ایسا کر سکتے ہیں۔ ہمیں اِسے لامحدود اختیارات دینا ہوں گے، تاکہ یہ بائیں طرف کے انتشار اور دائیں طرف کے ردِ انقلاب کو نیست و نابود کر سکے… ‘‘ گویا مزدوروں، سپاہیوں اور کسانوں کے خلاف لڑنے والی حکومت کے ہاتھ میں ردِ انقلاب کی سنگین کے سوا کوئی دوسری سنگین بھی ہو سکتی ہے! ووٹ دینے سے 47 لوگوں کے گریز کے مقابلے میں 253 ووٹوں سے اجلاس نے یہ قرارداد منظور کی: ’’1۔ملک اور انقلاب کو خطرہ لاحق ہے۔ 2۔عبوری حکومت انقلاب کی نجات کی حکومت ہے۔3۔ اِسے لامحدود اختیارات دئیے جاتے ہیں۔‘‘ اس قرارداد کی گونج کسی خالی برتن جیسی تھی۔ اجلاس میں موجود بالشویکوں نے ووٹ نہیں دیا، جو اُس وقت پارٹی رہنماؤں کی مسلمہ بدحواسی کا ثبوت تھا۔
عوامی تحریکیں ٹوٹ کر بکھر بھی جائیں تو اپنے نشان چھوڑ جاتی ہیں۔ ایک خطاب یافتہ نواب کی جگہ اب حکومت کا سربراہ ایک ریڈیکل وکیل بن چکا تھا۔ وزارت داخلہ اب ماضی میں سخت مشقت کی سزا پانے والے کے پاس تھی۔ حکومت کی عوامی تبدیلی تو بہت قریب نہیں آگئی تھی؟ مجلس عاملہ کے رہنما کیرنسکی، سریتیلی، چرنوف اور سکوبیلیف اب حکومت کے خدوخال کا تعین کر رہے تھے۔ کیا یہی جون کے نعرے ’’دس سرمایہ دار وزیر مردہ باد‘‘ کا حصول نہ تھا؟ نہیں، یہ تو صرف اس کے ناکافی پن کا اظہار تھا۔ جمہوری وزرا نے صرف سرمایہ دار وزرا کو واپس لانے کے لئے اقتدار سنبھالا تھا۔ مخلوط حکومت مر چکی ہے، لیکن مخلوط حکومت زندہ باد!
اصل تماشا تو اب شروع ہوتا ہے، مشین گن والوں کو پیلس اسکوائر پر غیرمسلح کرنے کا شرمناک تماشا۔ کئی رجمنٹوں کو تحلیل کر دیا جاتا ہے، محاذ کی صفیں بھرنے کے لئے سپاہیوں کو چھوٹے دستوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔اِن چالیس سالہ آدمیوں کو مطیع کر کے مورچوں میں ہانک دیا جاتا ہے۔وہ سب کیرنسکی ازم کی اِس حکومت کے خلاف ایجی ٹیٹر ہیں۔ وہ دسیوں ہزار ہیں اور خزاں میں اُنہیں مورچوں میں ایک بڑے کام کی تکمیل کرنی ہے۔ عین اسی وقت مزدوروں کو بھی غیر مسلح کیا جا رہا ہے، اگرچہ اس میں کامیابی کم ہی مل رہی ہے۔ جرنیلوں کے دباؤ کے تحت (ہم ابھی دیکھیں گے اس نے کیا اشکال اختیار کیں) محاذ پر موت کی سزا دوبارہ متعارف کروا دی جاتی ہے۔ لیکن 12 جولائی کو اسی دن زمین کی فروخت کاری کو محدود کرنے کا ایک فرمان بھی جاری کیا جاتا ہے۔ کسان کی کلہاڑی کے خوف سے اٹھائے گئے اِس تاخیر زدہ نیم اقدام پر بائیں طرف والے منہ چڑاتے ہیں، دائیں طرف والے دانت پیستے ہیں۔ سڑکوں پر تمام مظاہروں پر پابندی لگاتے ہوئے سریتیلی ایک طرف بائیں طرف والوں کو دھمکاتا ہے تو دوسری طرف غیرقانونی گرفتاریوں پر اظہار تشویش کر کے دائیں طرف والوں کو بھی لگام دینے کی کوشش کرتا ہے۔ پیٹروگراڈ کی فوج کے سپہ سالار کو ہٹانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کیرنسکی بائیں طرف والوں کو کہتا ہے کہ اُس نے مزدور تنظیمیں توڑی ہیں، دائیں طرف والوں کو کہتا ہے کہ اُس میں قوت ارادی کی کمی تھی۔
کاسک پیٹروگراڈ کی بورژوازی کے پکے سورما بن گئے۔ کاسک افسر گریکوف بتاتا ہے، ’’بعض اوقات کسی جائے عام، مثلاً کسی ریستوران میں جب کوئی کاسکوں کی وردی میں داخل ہوتا تھا تو سارے کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور آنے والے کا پر تپاک استقبال کرتے تھے۔‘‘تھیٹروں، سینماؤں اور باغات عامہ میں زخمی کاسکوں اور مر جانے والوں کے لواحقین کی مالی امداد کے لئے شام کی خصوصی محافل کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس عاملہ کے بیورو نے ضروری سمجھا کہ ’’3 تا 5 جولائی کے دنوں میں انقلابی فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے مجاہدوں‘‘ کے عوامی جنازے میں شرکت کے لئے شکائدز کی قیادت میں ایک وفد منتخب کیا جائے۔ اِن مصالحت پسندوں کو ذلت کا جام آخری قطرے تک نوش کرنا تھا۔ تقریب کا آغاز ’اساکیوسکی کیتھڈرل‘ میں عبادت سے ہوا۔ جنازہ اٹھانے والوں میں روڈزیانکو، ملیوکوف، شہزادہ لووف اور کیرنسکی شامل تھے اور جلوس کی شکل میں الیگزینڈرنیوسکی قبرستان میں تدفین کی جگہ تک گئے۔ جلوس کے راستے میں سپاہی نظر نہیں آئے؛ کاسکوں نے نظم و نسق برقرار رکھا۔اِس جنازے کا دن اُن کے پیٹروگراڈ پر مکمل تسلط کا دن تھا۔ کاسکوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے مزدوروں اور سپاہیوں کو خفیہ طور پر دفنا دیا گیا، جیسے زارشاہی کے تحت 9 جنوری کے شہیدوں کو دفنایا گیا تھا۔
کرونسٹٹ کی مجلس عاملہ کو حکومت نے ناکہ بندی کی دھمکی کے ساتھ حکم دیا کہ راشکولنیکوف، روشال اور ریمنیف کو تفتیشی عدالت کے حوالے کیا جائے۔ ہلسنگفورس میں پہلی مرتبہ بالشویکوں کے ساتھ بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ وزارتِ عظمیٰ سے فارغ شدہ شہزادہ لووف نے اخبارات میں شکایت کی کہ ’’سوویتیں ریاستی اخلاقیات سے کم تر ہیں اور اُنہوں نے ابھی تک خود کو لینن اسٹوں اور جرمن ایجنٹوں سے پاک نہیں کیا ہے… ‘‘ یوں مصالحت پسندوں کے لئے اپنی ریاستی اخلاقیات کا مظاہرہ عزت کا معاملہ بن گیا۔ 13 جولائی کو مجلس عاملہ نے ایک مشترکہ اجلاس میں ڈین کی قرارداد منظور کی: ’’فیصلہ آنے تک عدالتوں کی جانب سے ملزم ٹھہرائے جانے والے ہر شخص کو مجالس عاملہ کی رکنیت سے فارغ کر دیا جائے۔‘‘ اس طرح بالشویکوں کو در حقیقت غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ کیرنسکی نے ساری بالشویک پریس کو بند کر دیا۔ صوبوں میں زمین کمیٹیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ’ازوستیا‘ نے بے بسی سے آہ بھری: ’’چند دن پہلے تک پیٹروگراڈ کی سڑکوں پر انتشار کی بدمستی تھی۔ آج اِنہی سڑکوں پر ردِ انقلابی بلیک ہنڈرڈ تقاریر کا نہ رکنے والا سیلاب ہے۔‘‘
زیادہ انقلابی رجمنٹوں کو توڑنے اور مزدوروں کو غیر مسلح کر دئیے جانے کے بعد طاقتوں کا توازن مزید دائیں جانب چلا گیا۔ حقیقی اقتدار کا بڑا حصہ اب فوجی حکام اور کیڈٹ گروہوں کے پاس تھا۔باقی ماندہ حصہ پہلے کی طرح سوویتوں کے پاس تھا۔ دوہرا اقتدار اب بھی موجو دتھا، لیکن اب یہ پچھلے دو ماہ والا قانونی، اتصالی اور مخلوط دوہرا اقتدار نہیں تھا، بلکہ مصالحت پسندانہ گروہ اور بورژوا-عسکری گروہ کا دھماکہ خیز دوہرا اقتدار تھا، جنہیں بیک وقت ایک دوسرے کی ضرورت بھی تھی اور ایک دوسرے سے ڈرتے بھی تھے۔پیچھے کیا باقی بچا تھا؟ ایک باقاعدہ مخلوط حکومت کا احیا۔ ملیوکوف بالکل درست کہتا ہے ، ’’3 تا 5 جولائی کی سرکشی کے بعد مخلوط حکومت کا خیال نہ صرف غائب نہیں ہوا بلکہ پہلے سے زیادہ قوت اور اہمیت اختیار کر گیا۔‘‘
اس وقت دوما کی عبوری کمیٹی غیرمتوقع طور پر دوبارہ زندہ ہو گئی اور ’نجات دہندہ حکومت‘ کے خلاف ایک سخت قرارداد منظور کی۔ یہ آخری تنکا ثابت ہوئی۔ تمام وزرا نے اپنے قلمدان کیرنسکی کے حوالے کر کے اُسے قومی حاکمیت کا مرکز بنا دیا۔ کیرنسکی کے ذاتی مقدر کی طرح فروری انقلاب کے مزید ارتقا میں بھی اِس لمحے نے بہت اہمیت حاصل کر لی۔ گروہ بندیوں، استعفوں اور تعیناتیوں کے انتشار میں [کیرنسکی کی شکل میں] کسی ساکت نقطے جیسی کوئی چیز مقرر ہو چکی تھی، جس کے گرد باقی تمام چیزیں گھوم رہی تھیں۔ وزرا کے استعفوں سے کیڈٹوں اور صنعتکاروں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا۔ کیڈٹوں نے اپنی شرائط پیش کیں: حکومت کے اراکین ’’صرف اور صرف اپنے ضمیر‘‘ کو جواب دہ ہوں گے؛ فوج میں ڈسپلن کی بحالی؛ اتحادی ممالک سے مکمل اتفاق؛ آئین ساز اسمبلی تک کوئی اصلاحات نہیں۔تحریر نہ کیا جانے والا نکتہ یہ مطالبہ تھا کہ آئین ساز اسمبلی کے انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔ اِسے ’’ پارٹی سے ماورا قومی پروگرام‘‘ قرار دیا گیا۔ ایسا ہی ایک پروگرام صنعت و تجارت کے نمائندگان کی جانب سے پیش کیا گیا، جنہیں مصالحت پسندوں نے کیڈٹوں کے خلاف کھڑا کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ مصالحت پسندوں نے ایک بار پھر سے ’نجات دہندہ حکومت‘ کو ’’لامحدود اختیارات‘‘ دینے کی اپنی قرارداد کی توثیق کر دی۔ اس کا مطلب سوویتوں کی جکڑ بندی سے حکومت کی آزادی پر رضامندی تھا۔ اسی دن وزیر داخلہ کے طور پر سریتیلی نے ’’زمینی رشتوں کے معاملے میں تمام غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف تیز اور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے‘‘ کی ہدایات جاری کیں۔اسی طرح وزیر خوراک پیشی خونوفنے بھی ’’زمینداروں کے خلاف تمام پرتشدد اور مجرمانہ مظاہروں‘‘ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ یوں اس ’انقلاب کی نجات دہندہ حکومت‘ نے سب سے بڑھ کر زمیندار کی جائیداد کی نجات دہندہ حکومت کے طور پر اپنی سفارشات پیش کیں۔ لیکن صرف یہی نہیں۔ ایک صنعتی رئیس انجینئر پالچنسکی، جو بیک وقت وزاتِ صنعت و تجارت کا منتظم، ایندھن اور دھات کا مقتدر منتظم اور دفاعی کمیشن کا سربراہ تھا، منظم سرمائے کے لئے بھرپور مہم چلا رہا تھا۔ منشویک معیشت دان چیریوانن نے سوویت کے محکمہ معیشت میں شکایت کی کہ جمہوریت کے عظیم الشان فرائض کا پالچنسکی کی تخریب کاری سے تصادم ہونے والا تھا۔ وزیر زراعت چرنوف، جس پر کیڈٹوں نے جرمنی سے روابط کا الزام لگایا تھا، نے ’’بحالی کے مقاصد کے تحت‘‘ استعفیٰ دینا مناسب سمجھا۔ 18 جولائی کو حکومت، جس میں سوشلسٹ غالب تھے، نے فن لینڈ کی سوشلسٹ اکثریت والی سرکش پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا فرمان جاری کیا۔ عالمی جنگ کی تیسری سالگرہ پر اتحادیوں کے نام متبرک پیغام میں حکومت نے نہ صرف اپنی وفاداری کا رسمی حلف دہرایا بلکہ دشمن کے ایجنٹوں کو خوش اصلوبی سے کچلنے کی اطلاع بھی دی۔ یہ جوتے چاٹنے کا انمول دستاویزی ریکارڈ تھا! عین اسی وقت ریلوے میں ڈسپلن کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت قانون کا اعلان بھی کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے ایسی سیاسی بلوغت کے مظاہرے کے بعد کیرنسکی نے آخر کار کیڈٹ پارٹی کی دھمکی کا جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ اُس کا جواب کچھ یوں تھا کہ کیڈٹ پارٹی کے پیش کئے گئے مطالبات ’’عبوری حکومت میں اُس کی شمولیت کے راستے میں رکاوٹ نہیں تھے۔‘‘ تاہم یہ درپردہ گماشتگی لبرلوں کے لئے کافی نہ تھی۔ انہوں نے تو مصالحت پسندوں کو سجدہ ریز کروانا تھا۔ کیڈٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے اعلان کیا کہ مخلوط حکومت کے ٹوٹنے کے بعد جاری کیا گیا حکومتی اعلامیہ اُن کے لئے ناقابل قبول تھا اور مذاکرات منقطع کر دئیے۔
یہ ایک گاڑھا حملہ تھا۔ کیڈٹ نہ صرف صنعتکاروں اور اتحادی ممالک کے سفیروں بلکہ فوجی جرنیلوں کے ساتھ مل کر کاروائی کر رہے تھے۔ صد دفتر میں ’افسران کی لیگ‘کی سربراہی کمیٹی غیراعلانیہ طور پر کیڈٹ پارٹی کی قیادت میں کام کر رہی تھی۔ اعلیٰ فوجی قیادت کے ذریعے کیڈٹوں نے مصالحت پسندوں کی سب سے حساس جگہ پر دباؤ ڈالا۔ 8 جولائی کو جنوب مغربی محاذ کے سپہ سالار جنرل کورنیلوف نے پسپا ہونے والے سپاہیوں پر مشین گنوں اور توپخانے سے فائر کھولنے کا حکم دے دیا۔ کورنیلوف نے اِس سے قبل محاذ کے کمیسار ساونکوف کی حمایت سے محاذ پر سزائے موت متعارف کروانے کا مطالبہ بھی کیا تھا اور بصورت دیگر کمان سے استعفیٰ دینے کی دھمکی دی تھی۔ یہ خفیہ تار فوراً پریس میں بھی نمودار ہو گیا تھا۔ کورنیلوف درحقیقت مشہور ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ سپہ سالارِ اعلیٰ بروسیلوف، جو زیادہ محتاط اور مکار تھا، نے کیرنسکی کو معلمانہ لہجے میں لکھا: ’’عظیم انقلابِ فرانس کے اسباق کو ہم نے جزوی طور پر فراموش کر دیا ہے، پھر بھی زبردستی یاد آ جاتے ہیں… ‘‘ اِن اسباق کی حقیقت کچھ یوں تھی کہ ’’مہذب اصولوں پر‘‘ فوج کی تنظیم نو میں ناکامی کے بعد فرانسیسی انقلابیوں نے بھی سزائے موت دوبارہ متعارف کروا دی تھی اور پھر ’’اُن کے فاتحانہ پرچم آدھی دنیا پر چھا گئے تھے۔‘‘ انقلاب کی کتاب سے اِس جرنیل نے بس یہی سیکھا تھا۔ 12 جولائی کو حکومت نے ’’زمانہ جنگ میں فوجی ڈیوٹی پر معمور لوگوں کی جانب سے کچھ مخصوص سنگین جرائم‘‘ کے لئے سزائے موت بحال کر دی۔ تاہم شمالی محاذ کے سپہ سالار جنرل کلیمبوسکی نے تین دن بعد لکھا: ’’تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ایسے فوجی یونٹ جن میں کئی تبدیلیاں (Replacements) ہوئی ہیں، لڑائی کے لئے بالکل نا اہل ہو چکے ہیں۔ اگر اِن تبدیلیوں کا ماخذ ہی گلا سڑا ہو تو فوج کبھی صحت مند نہیں ہو سکتی۔‘‘ تبدیلیوں کا یہ گلا سڑا ماخذ روسی عوام تھے۔
16 جولائی کو کیرنسکی نے صدر دفتر میں پرانے فوجی حکام کا اجلاس طلب کیا، جس میں ترشچینکو اور ساونکوف نے شرکت کی۔ کورنیلوف نہیں آیا۔ محاذ پر بھرپور پسپائی جاری تھی اور کئی دنوں بعد تب ہی رکی جب جرمن خود محاذ کی پرانی کیفیت پر ٹھہر گئے۔ اجلاس میں شریک ہونے والوں کے نام (بروسیلوف، الیگزیف، رسزکی، کلیمبووسکی، ڈینیکن، رومانووسکی) ایک ایسے عہد کی آخری بازگشت معلوم ہوتے تھے جو پاتال میں غائب ہو رہا تھا۔ پچھلے چار مہینے تک یہ اعلیٰ جرنیل خود کو نیم مردہ سمجھ رہے تھے۔ اب وہ زندہ ہو چکے تھے اور وزیر اعظیم کیرنسکی کو انقلاب، جس نے انہیں خوب ذلیل کیا تھا، کی مجسم شکل سمجھتے ہوئے نفرت سے نوچ رہے تھے اور بلاخوف طمانچے بھی رسید کر رہے تھے۔
صدر دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق6 سے 18 جولائی کے درمیان جنوب مغربی محاذ پر فوج 56 ہزار افراد کھو چکی تھی۔ جنگ کی وسعت کے لحاظ سے تو یہ ایک معمولی قربانی تھی! لیکن فروری اور اکتوبر کے دو انقلابات کی تباہی اس سے بہت کم تھی۔ لبرلوں اور مصالحت پسندوں کو موت، تباہی اور بربادی کے سوا اِس حملے سے کیا ملا؟ 1917ء کے سماجی زلزلوں نے دنیا کے 1/6 حصے کا منظر بدل دیا اور انسانیت کے سامنے نئے ممکنات کھولے۔ انقلاب کی سفاکیاں اور ہولناکیاں، جنہیں دھندلانے یا جن سے انکاری ہونے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے، آسمان سے نہیں گرتی ہیں۔ اُنہیں تاریخی ارتقا کے سارے عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔
بروسیلوف نے ایک مہینہ قبل شروع ہونے والے حملے کے نتائج کی رپورٹ پیش کی: ’’مکمل ناکامی۔‘‘ اِس کی وجہ اِس حقیقت کو قرار دیا کہ ’’کمپنی کمانڈر سے لے کر سپہ سالار تک، افسروں کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔‘‘ یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کب اور کیوں اس طاقت کو کھویا۔ مستقبل کی کاروائیوں کے بارے میں کہا: ’’ہم موسم بہار سے قبل ان کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔‘‘ باقیوں کی طرح جابرانہ اقدامات پر اصرار کرنے کے باوجود کلیمبووسکی نے اُن کے قابل عمل ہونے پر شبہ ظاہر کیا۔ ’’موت کی سزا؟ لیکن کیا سارے کے سارے ڈویژنوں کو مار دینا ممکن ہے؟ کورٹ مارشل؟ لیکن اِس صورت میں تو آدھی فوج کو سائبیریا بھیجنا پڑے گا۔‘‘ جنرل سٹاف کے سربراہ نے اطلاع دی: ’’پیٹروگراڈ گیریزن کی پانچ رجمنٹوں کو تحلیل کر دیا گیا ہے؛ اُکسانے والوں کا کورٹ مارشل کیا جا رہا ہے… مجموعی طور پر 90 ہزار سپاہیوں کو پیٹروگراڈ سے منتقل کر دیا جائے گا۔‘‘ اس خبر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ پیٹروگراڈ گیریزن کے انخلا کے مضمرات پر غور کرنے کا خیال کسی کو نہ آیا۔
الیگزیف نے کہا کہ جہاں تک کمیٹیوں کا سوال ہے تو ’’انہیں ختم کر دینا چاہئے… کئی ہزار سالوں پر محیط عسکری تاریخ نے اپنے قوانین تخلیق کئے ہیں۔ ہم نے اِن قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی اور رسوائی اٹھانا پڑی۔‘‘ اِس بندے نے تاریخ کے قوانین کو ایک ڈرل ماسٹر کے قواعد کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا۔ رسزکی نے شیخی بگھاری، ’’لوگ پرانے پرچموں کے تقدس کی خاطر جانیں قربان کر دیتے تھے۔ لیکن یہ سرخ پرچم ہمیں کہاں لے آئے ہیں؟ افواج کی پوری کی پوری کوریں ہتھیار ڈال رہی ہیں۔‘‘
یہ پاگل جرنیل شاید بھول چکا تھا کہ اُس نے خود اگست 1915ء میں وزرا کی کونسل کو اطلاع دی تھی: ’’فوجی تکنیک کی جدید ضروریات ہماری پہنچ سے باہر ہیں؛ کسی صورت میں ہم جرمنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‘‘ کلیمبووسکی نے اصرار کیا کہ فوج کو بالشویکوں نے نہیں بلکہ بیکار عسکری ضابطے (Military Code) متعارف کروانے والے ’’دوسرے لوگوں‘‘ نے برباد کیا تھا، ’’ایسے لوگ جو فوج کی زندگی اور وجود کی شرائط کو نہیں سمجھتے ہیں۔‘‘ یہ براہ راست کیرنسکی کے منہ پر طمانچہ تھا۔ ڈینیکن نے اِس سے بھی زیادہ کھل کر وزیروں کو تنقید کا نشانہ بنایا: ’’تم لوگوں نے ہمارے عظیم الشان پرچموں کو کیچڑ میں پامال کر دیا ہے اور اگر تم میں شرم ہے تو تم ہی اِنہیں دوبارہ اٹھاؤ گے… ‘‘ اور کیرنسکی؟ جس پر بے شرم ہونے کا الزام لگایا جا رہا تھا، اُس نے’’بے تکلفی اور درستی سے اظہارِ رائے کرنے‘‘ پر اِس فوجی گنوار کا شکریہ بڑی عاجزی سے ادا کیا۔ جہاں تک سپاہی کے حقوق کے اعلامیے کا تعلق تھا: ’’جب یہ تشکیل دیا جا رہا تھا، اگر میں اُس وقت وزیر ہوتا تو اعلامیہ جاری نہ کیا جاتا۔ سائبیریاتی نشانچیوں کو سب سے پہلے کس نے کچلا تھا؟ حکم عدولی کرنے والوں کو ٹھیک کرنے کے لئے کس نے سب سے پہلے خون بہایا تھا؟ میرے مقرر کردہ شخص نے! میرے کمیسار نے!‘‘ وزیر خارجہ ترشچینکو نے اِس اطمینان بخش مشاہدے سے خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی: ’’ہمارے حملے نے ناکامی کے باوجود ہم پر اتحادی ممالک کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔‘‘ اتحادی ممالک کا اعتماد! کیا زمین بھی اسی مقصد کے لئے اپنے محور کے گرد نہیں گھومتی تھی!
کلیمبووسکی نے وعظ کیا، ’’اِس وقت صرف افسران ہی آزادی اور انقلاب کا قلعہ ہیں۔‘‘ بروسیلوف نے مزید وضاحت کی، ’’افسر بورژوا نہیں ہوتا، وہ تو سب سے حقیقی پرولتاریہ ہوتا ہے۔‘‘ جنرل رسزکی نے اضافہ کیاـ : ’’جرنیل بھی پرولتاری ہیں۔‘‘ کمیٹیوں کا خاتمہ، پرانے افسروں کی طاقت کی بحالی اور سیاست یعنی انقلاب کو فوج میں سے نکال باہر کرنا: یہ جرنیلوں کے عہدوں والے اِن ’’پرولتاریوں‘‘ کا پروگرام تھا۔کیرنسکی نے پروگرام پر کوئی اعتراض نہیں کیا؛ اُسے بس تاریخ سے مسئلہ تھا۔ اُس نے کہا، ’’جہاں تک مجوزہ اقدامات کا تعلق ہے، میرا خیال ہے کہ جنرل ڈینیکن بھی اُنہیں فوری متعارف کروانے پر اصرار نہیں کریں گے… ‘‘ یہ جرنیل بڑے احمق سے بندے تھے، لیکن اُنہوں نے بھی خود سے برملا کہا ہوگا: ’’اِن لوگوں کے ساتھ اِسی زبان میں بات کرنی چاہئے!‘‘
اس اجلاس کے نتیجے میں بالائی کمان میں تبدیلی کی گئی۔ فرمانبردار اور لچکدار بروسیلوف، جس نے حملے کی مخالفت کرنے والے محتاط افسر الیگزیف کی جگہ لی تھی، کو ہٹا دیا گیا اور اُس کی جگہ جنرل کورنیلوف کو تعینات کیا گیا۔ اِس تبدیلی کی مختلف وجوہات تھیں: کیڈٹوں سے وعدہ کیا گیا کہ کورنیلوف آہنی ڈسپلن قائم کرے گا؛ مصالحت پسندوں کو یقین دلایا گیا کہ کورنیلوف کمیٹیوں اور کمیساروں کا دوست تھا؛ خود ساونکوف نے اُس کے جمہوری جذبات کی گواہی دی۔ اپنی تعیناتی کے جواب میں اِس جرنیل نے حکومت کو نئی دھمکی دے دی: وہ صرف اِن شرائط پر ہی اپنی تعیناتی قبول کرے گا: ’’صرف اپنے ضمیر اور عوام کے سامنے جوابدہ ہو گا؛ اعلیٰ فوجی قیادت کی تعیناتی میں کوئی مداخلت نہیں ہو گی؛ عقب میں بھی سزائے موت بحال کی جائے گی۔‘‘ پہلے نکتے نے مشکلات پیدا کر دیں۔ کیرنسکی نے ہی ’’اپنے ضمیر اور عوام کے سامنے جوابدہی‘‘ کا یہ کام شروع کیا تھا۔ کورنیلوف کے تار کو سب سے وسیع الاشاعت لبرل اخبارات نے شائع کیا۔ محتاط رجعتی سیاستدان اپنے ناک سکیڑنے لگے۔ کورنیلوف کی دھمکی درحقیقت کیڈٹ پارٹی کی دھمکی تھی، جس کا ترجمہ ایک کاسک جرنیل نے منہ پھٹ زبان میں کر دیا تھا۔ لیکن کورنیلوف نے درست حساب کتاب لگایا تھا:اُس کی دھمکی کے بے حد و حساب مطالبات اور گستاخ زبان نے انقلاب کے سارے دشمنوں اور سب سے بڑھ کر افسروں کو خوش کر دیا۔ کیرنسکی ڈر گیا اور کورنیلوف کو فوراً ہٹانا چاہا، لیکن حکومت میں کوئی حمایت نہ ملی ۔ آخر کار اپنے پشت پناہوں کے کہنے پر کورنیلوف ایک زبانی بیان میں یہ تسلیم کرنے پر راضی ہو گیا کہ ’عوام کے سامنے جوابدہی‘ سے اُس کی مراد عبوری حکومت کے سامنے جوابدہی تھی۔ باقی ماندہ دھمکی کو کچھ معمولی تبدیلیوں کے ساتھ مان لیا گیا۔ کورنیلوف سپہ سالارِ اعلیٰ بن گیا۔ اسی وقت فوجی انجینئر فلونینکو کو اُس کا کمیسار کا تعینات کر دیا گیا اور جنوب مغربی محاذ کے سابقہ کمیسار ساونکوف کو وزارت جنگ کا منتظم اعلیٰ بنا دیا گیا۔ اِن میں سے پہلا ایک حادثاتی شخصیت، ایک نودولتیا تھا، دوسرا ایک بڑے انقلابی ماضی والا آدمی تھا۔ دونوں خالصتاً مہم جو تھے اور کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے تھے۔ کم از کم فلونینکو تو کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتا تھا، جبکہ ساونکوف کافی کچھ کرنے کو تیار ہوتا تھا۔ کورنیلوف سے اِن دونوں کے قریبی روابط کا کردار ہم واقعات کے مزید ارتقا میں دیکھیں گے۔
مصالحت پسندمسلسل ہتھیار ڈال رہے تھے۔ سریتیلی نے دعویٰ کیا: ’’مخلوط حکومت نجات کا اتحاد ہے۔‘‘ باضابطہ پھوٹ کے باوجود پس پردہ مذاکرات پورے زور شور سے جاری تھے ۔جلد کسی حل تک پہنچنے کے لئے کیڈٹوں کی رضامندی سے کیرنسکی نے ایک خالصتاً نمائشی اقدام اٹھایا، ایک ایسا اقدام جو اُس کی عمومی حکمت عملی کی روح کے مطابق تھا، لیکن ساتھ ہی اُس کے مقصد کے لئے بھی کارآمد تھا۔ اُس نے استعفیٰ دے دیا اور مصالحت پسندوں کو اُن کے مایوس کن حال پر چھوڑ کر شہر سے چلا گیا۔ ملیوکوف اِس موضوع پر کہتا ہے: ’’اِس نمائشی روانگی کے ذریعے اُس نے اپنے دشمنوں، حریفوں اور طرفداروں پر ثابت کیا کہ وہ اُس کی انفرادی خصوصیات کو جیسے بھی دیکھتے ہوں، لیکن دو مخالف کیمپوں کے درمیان اپنے سیاسی مقام کی وجہ سے وہ اُس وقت ناگزیر تھا۔‘‘ اُس نے میدان چھوڑ کر کھیل جیت لیا۔ پوشیدہ لعنت ملامت اور سرکاری التجاؤں کے ساتھ مصالحت پسند اپنے ’’کامریڈ کیرنسکی‘‘ پر گر پڑے۔کیڈٹ اور سوشلسٹ، دونوں اطراف نے آسانی سے سر کٹی حکومت کو اپنے خاتمے پر مائل کر لیا اور کیرنسکی کو اپنی صوابدید پر نئے سرے سے حکومت بنانے کے اختیارات دے دئیے گئے۔
مجالس عاملہ کے پہلے سے ڈرے ہوئے اراکین کو مزید ڈرانے کے لئے اُنہیں محاذ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں تازہ ترین خبریں دی جا رہی تھیں۔روسی فوج کو جرمن ہانک رہے تھے، کیرنسکی کو لبرل ہانک رہے تھے اور مصالحت پسندوں کو کیرنسکی ہانک رہا تھا۔ 24 جولائی کی ساری رات منشویک اور سوشل انقلابی دھڑوں کا اجلاس جاری رہا۔42 افراد کے ووٹ دینے سے گریز اور 46 اختلافی ووٹوں کے مقابلے میں 147 ووٹوں کی اکثریت سے آخر کار مجلس عاملہ نے اپنی بے بسی سے تنگ آکر کیرنسکی کو لامحدود اور غیرمشروط اختیارات دینے کی توثیق کر دی۔ اسی وقت جاری کیڈٹ اجلاس میں کیرنسکی کو ہٹانے کی آوازیں بلند ہوئیں، لیکن ملیوکوف نے اِس بے صبری کو لگام دی اور فی الوقت صرف دباؤ ڈالنے کا مشورہ دیا۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ کیرنسکی کے بارے میں ملیوکوف کسی خوش فہمی کا شکار تھا، بلکہ وہ اُسے ملکیتی طبقات کے دباؤ کے نقطہ ارتکاز کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ حکومت کو ایک بار سوویتوں سے آزاد کر لینے کے بعد کیرنسکی سے آزاد کروانا زیادہ مشکل نہیں تھا۔
مخلوط حکومت کے ان داتا اُن دنوں پیاسے تھے۔ لینن کی گرفتاری کا حکم 7 جولائی کی عبوری حکومت کی تشکیل سے پہلے جاری ہوا تھا۔ اب مخلوط حکومت کے دوبارہ زندہ ہونے کا اشارہ دینے کے لئے کسی ٹھوس اقدام کی ضرورت تھی۔ 13 جولائی کو میکسم گورکی کے پرچے (بالشویک پریس اب موجود نہیں تھی) میں عبوری حکومت کے نام ٹراٹسکی کا کھلا خط شائع ہوا، جس میں لکھا تھا: ’’جس حکم کے تحت لینن، زینوویف اور کامینیف سزا وار قرار پائے ہیں، اُس سے مجھے خارج رکھنے کی کوئی منطقی بنیاد نہیں ہو سکتی۔ جہاں تک معاملے کے سیاسی رُخ کا سوال ہے تو اِس بات پر شبے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں بھی عبوری حکومت کی عمومی پالیسی کا اُتنا ہی سخت مخالف ہوں جتنے کہ مذکورہ بالا کامریڈ ہیں۔‘‘ جس رات نئی حکومت تشکیل پائی، ٹراٹسکی اور لیوناچارسکی کو پیٹروگراڈ سے اور مستقبل کے بالشویک سپہ سالار کرائلینکو کو محاذ پر گرفتار کر لیا گیا۔
تین روزہ بحران کے بعد جنم لینے والی نئی حکومت کسی بونے سے مشابہت رکھتی تھی۔ یہ دوسرے اور تیسرے درجے کی شخصیات پر مشتمل تھی، جنہیں کم تر برائی کی بنیاد پر چنا گیا تھا۔ انجینئر نیکراسوف کو نائب صدر بنادیا گیا، وہ بائیں بازو کا کیڈٹ تھا جس نے 27 فروری کو تجویز پیش کی تھی کہ کسی زار پرست جرنیل کو اقتدار دے کر انقلاب کو کچل دیا جائے۔ پارٹی اور شخصیت سے عاری ایک لکھاری پروکوپووچ ، ایک ایسا آدمی جو کیڈٹوں اور منشویکوں کی درمیانی سرحد پر رہتا تھا، صنعت و تجارت کا وزیر بن گیا۔ سابقہ اٹارنی جنرل اور بعد ازاں ایک ریڈیکل وکیل زارُڈنی، جو الیگزینڈر دوم کے ’’لبرل‘‘ وزیر کابیٹا تھا، کو وزارت انصاف دے دی گئی۔ کسان سوویت کی مجلس عاملہ کے وزیر ایوکسنٹیف کو وزارت داخلہ کا قلمدان ملا۔ منشویک سکوبیلیف محنت کا وزیر رہا اور ’عوامی سوشلسٹ‘ پیشیخونوف رسد کا وزیر بن گیا۔ لبرلوں نے بھی اتنی ہی ثانوی شخصیات فراہم کیں، ایسے افراد جنہوں نے نہ تو اپنی تعیناتی سے پہلے اور نہ ہی بعد میں کوئی رہنما کردار ادا کیا۔ غیرمتوقع طور پر چرنوف اپنے وزیر زراعت کے عہدے پر واپس آ گیا۔ اپنے استعفے اور دوبارہ تعیناتی کے درمیانی چار دنوں میں اُسے خود کو ’بحال‘ کرنے کا وقت مل گیا تھا۔ اپنی تاریخ میں ملیوکوف غیرجانبدارانہ تبصرہ کرتا ہے کہ چرنوف اور جرمن حکام کے درمیان تعلق کی نوعیت ’’غیر واضح ہی رہی۔‘‘ وہ اضافہ کرتا ہے، ’’یہ ممکن ہے کہ اِس معاملے میں روسی خفیہ پولیس کا بیان اور کیرنسکی، ترشچینکو اور دوسروں کے شکوک تھوڑے مبالغہ آرائی پر مبنی ہوں۔‘‘ وزیر زراعت کے عہدے پر چرنوف کی دوبارہ تعیناتی سوشل انقلابیوں کی حکمران جماعت کی شہرت کو پیش کئے گئے نذرانے کے سوا کچھ نہ تھی ، جس میں چرنوف مسلسل اپنا اثر و رسوخ کھو رہا تھا۔ حکومت سے باہر رہتے ہوئے سریتیلی نے آخر کار کچھ دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ مئی میں اُس کا خیال تھا کہ حکومتی قیادت میں رہ کر وہ انقلاب کے لئے کار آمد ہو سکتا تھا؛ اب وہ سوویت کی قیادت میں رہ کر حکومت کے لئے کارآمد بننا چاہتا تھا۔ اِس وقت کے بعد سے سریتیلی نے واقعتا سوویتوں کے نظام میں بورژوازی کے کمیسار کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ پیٹروگراڈ سوویت کے ایک اجلاس میں اُس نے کہا، ’’اگر ملک کے مفادات کو مخلوط حکومت ٹھیس پہنچاتی ہے تو اپنے کامریڈوں کو حکومت سے نکال لینا ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘ یعنی یہ اب لبرلوں کو استعمال کرنے کے بعد نکال باہر کرنے کا سوال نہیں رہا تھا، بلکہ خود استعمال ہونے کے بعد فارغ ہوجانے کا سوال بن چکا تھا۔ یوں سریتیلی اقتدار کو مکمل طور پر بورژوازی کے حوالے کرنے کی تیاری میں تھا۔
6 مئی کو بننے والی پہلی مخلوط حکومت میں سوشلسٹ اقلیت میں تھے، لیکن درحقیقت وہ حاوی تھے۔ 24 جولائی کی مخلوط حکومت میں سوشلسٹ اکثریت میں تھے، لیکن وہ لبرلوں کی پرچھائیوں سے زیادہ کچھ نہ تھے۔ ملیوکوف لکھتا ہے، ’’سوشلسٹوں کے برائے نام غلبے کے باوجود کابینہ میں بورژوا جمہوریت کے پکے حمایتی بلاشبہ غالب تھے۔‘‘ یہاں بورژا جمہوریت کی بجائے بورژوا ملکیت کہنا زیادہ درست ہوتا۔ جمہوریت کے معاملے میں چیزیں بہت کم واضح تھیں۔ اسی تناظر میں وزیر پیشیخونوف نے جولائی کی مخلوط حکومت کا موازنہ مئی کی مخلوط حکومت سے کیا۔ اُس نے کہا کہ اُس وقت بورژوازی کو بائیں بازو کی مدد درکار تھی؛ اب جبکہ ردِ انقلاب منڈلا رہا ہے تو اُسے دائیں بازو کی مدد کی ضرورت ہے۔ ’’ہم دائیں طرف سے جتنی قوتوں کو اپنے ساتھ جوڑیں گے، حکومت پر حملہ کرنے کی خواہش مند قوتیں اُتنی ہی کم ہو جائیں گی۔‘‘سیاسی پالیسی کا کیا شاندار اصول بیان کیا گیا: قلعے کا محاصرہ اٹھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دروازے اندر سے ہی کھول دئیے جائیں! یہی اِس نئی مخلوط حکومت کا کلیہ تھا۔
رجعت جارحیت پر اترآئی تھی اور جمہویت پسپائی پر۔ انقلاب کے ابتدائی ایام میں خوف سے بیٹھ جانے والے طبقات اور گروہ اب اپنے سر اٹھانے لگے تھے۔ کل تک کے مخفی مفادات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ تاجروں اور سٹے بازوں نے بالشویکوں کی بیخ کنی اور تجارت کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ وہ تجارت پر ہر قسم کی بندشوں کے خلاف آواز بلند کرنے لگے، حتیٰ کہ اُن بندشوں کے خلاف بھی جو زار شاہی کے تحت متعارف کروائی گئی تھیں۔ سٹے بازی کی روک تھام کرنے والے خوراک کمیشنوں پر ہی ضروریات زندگی کی قلت کا الزام دھر دیا گیا۔ کمیشنوں سے یہ نفرت سوویتوں کی طرف منتقل ہو گئی۔ منشویک معیشت دان گروہمین بتاتا ہے کہ تاجروں کی مہم ’’بالخصوص 3-4 جولائی کے بعد زور پکڑ گئی۔‘‘ محاذ پر شکست، ضروریات زندگی کی بلند قیمتوں اور رات کو ہونے والی چوری چکاری کی ذمہ داری سوویتوں پر عائد کر دی گئی۔
شاہ پرستوں کی سازش اور بائیں طرف سے کسی جوابی دھماکے سے خوفزدہ ہو کر حکومت نے نکولس رومانوف اور اُس کے خاندان کو ٹوبولسک بھیج دیا۔ اگلے دن بالشویک پرچہ ’مزدور اور سپاہی‘ بند کر دیا گیا۔ ہر طرف سے بڑے پیمانے پر سپاہی کمیٹیوں کی گرفتاریوں کی خبریں آ رہی تھیں۔ جولائی کے آخر میں بالشویک نیم قانونی طور پر ہی اپنی کانگریس منعقد کرنے کے قابل ہوئے۔ فوجی کانگریسوں پر پابندی لگا دی گئی۔ اب صرف گھر پر بیٹھے رہنے والے ہی اپنی کانگریسیں منعقد کر رہے تھے: زمیندار، تاجر، صنعتکار، کاسک سردار، پادری، سینٹ جارج کے گھڑ سوار۔ اُن کی آوازیں ایک سی معلوم ہوتی تھیں، صرف ڈھٹائی کے درجات میں فرق تھا۔ اگرچہ ہمیشہ سرِ عام نہیں لیکن کیڈٹ پارٹی ہی اِس دھن کی مسلمہ کنڈکٹر تھی۔
اگست کے آغاز میں صنعت و تجارت کی کانگریس میں انتہائی اہم صنعتی اور سٹاک ایکسچینج تنظیموں کے تین سو نمائندگان شریک ہوئے۔ ابتدائی تقریر ٹیکسٹائل کے بادشاہ ریابوشنسکی نے کی اور ڈھکے چھپے الفاظ میں کوئی بات نہیں کی۔ اُس نے کہا، ’’عبوری حکومت کے پاس صرف اقتدار کی پرچھائی ہے… حقیقت میں سب کچھ سیاسی عطائیوں کے ایک گینگ کے تسلط میں ہے… حکومت ٹیکسوں پر زور دے رہی ہے اور بالخصوص تاجر اور صنعتی طبقے پر انہیں بے رحمی سے نافذ کر رہی ہے… کیا ان فضول خرچ لوگوں کو ٹیکس دینا مناسب ہے؟‘‘ آخر میں دھمکی دی: ’’بھوک اور قومی محتاجی کا ہڈی دار ہاتھ اِن عوام دوستوں کو گلے سے دبوچ لے گا!‘‘ ہڈی دار ہاتھ کی یہ اصطلاح، جو تالہ بندیوں کی طرف اشارہ کرتی تھی، اِس وقت کے بعد سے انقلاب کی سیاسی لغت میں شامل ہو گئی۔ یہ سرمایہ داروں کو بہت مہنگی پڑی۔
پیٹروگراڈ میں صوبائی کمیساروں کی ایک کانگریس منعقد ہوئی۔ عبوری حکومت کے یہ کارندے، جنہیں ایک حفاظتی دیوار کی طرح اس کے ارد گرد کھڑا ہونا چاہئے تھا، اسکے خلاف کھڑے ہو گئے اور اپنے کیڈٹ مرکزے کی قیادت میں وزیر داخلہ ایوکسنٹیف کو اپنے ہاتھوں میں کر لیا۔ ’’تم دو کرسیوں کے درمیان نہیں بیٹھ سکتے: حکومت کو حکومت کرنی چاہئے، کٹھ پتلی نہیں بننا چاہئے۔‘‘ مصالحت پسندوں نے اپنا دفاع کیا اور اِس خوف سے نیم دلانہ احتجاج کیا کہ کہیں اُن کی اپنے اتحادیوں سے لڑائی کی آواز بالشویکوں کے کان میں نہ پڑ جائے۔
سوشل انقلابی اور منشویک پریس بتدریج زیادتی اور شکایت کا لہجہ اپنانے لگی۔ اس کے صفحات پر غیرمتوقع انکشافات شائع ہونے لگے۔ 6 اگست کو سوشل انقلابی پرچے ’ڈییلو نارودا‘ نے بائیں بازو کے جنکروں کے ایک گروہ کا خط شائع کیا، جو انہوں نے محاذ پر جاتے ہوئے بھیجا تھا۔ وہ ’’جنکروں کے کردار پر ششدر رہ گئے… دانستہ طور پر لوگوں کے چہروں پر ضرب لگانا، ایسی تعزیری مہمات میں شمولیت کہ مقدمے اور تفتیش کے بغیر صرف بٹالین کمانڈر کے حکم پر لوگوں کو گولیوں سے اڑانا جن کا خاصہ تھا… تنگ آ کر انتقام پر اتر آنے والے سپاہی اِن جنکروں پر چھپ کر گولیاں چلانے لگے تھے… ‘‘ فوج کی صحت کوبحال کرنے کا عمل کچھ ایسا ہی تھا۔
رجعت جارحیت پر اتر آئی تھی اور جمہویت پسپائی پر۔7 اگست کو یہودیوں کے خلاف بلووں اور راسپیوٹن حلقوں کے حمایتی انتہائی بدنام زمانہ بلیک ہنڈرڈ ایجنٹوں کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔ بالشویک بدستور کریسٹی جیل میں ہی قید تھے، جہاں گرفتار شدہ سپاہیوں اور جہازیوں کی بھوک ہڑتال جاری تھی۔ پیٹروگراڈ سوویت کے مزدور حصے نے اُس دن ٹراٹسکی، لیوناچارسکی، کولنٹائی اور دوسرے قیدیوں کو سلام بھیجا۔
صنعتکاروں، صوبائی کمیساروں، نوووچرکاسک میں ہونے والی کاسک کانگریس، حب الوطن پریس، جرنیلوں، لبرلوں، غرضیکہ ہر کسی کا خیال تھا کہ ستمبر میں آئین ساز اسمبلی کے انتخابات کروانا ناممکن تھا، لہٰذا بہتر ہے کہ انہیں جنگ کے آخر تک موخر کر دیا جائے۔ تاہم حکومت اِس پر راضی نہیں تھی۔ ایک درمیانی راستہ ڈھونڈ لیا گیا۔ آئین ساز اسمبلی کی طلبی کو 28 نومبر تک ملتوی کر دیا گیا۔ کیڈٹوں نے شکوے شکایتوں کے ساتھ اس التوا کو قبول کر لیا۔ وہ اِن تین مہینوں کے دوران کچھ فیصلہ کن واقعات کے انتظار میں تھے، جو آئین ساز اسمبلی کے سارے سوال کو ایک مختلف سطح پر منتقل کر دیتے۔ کورنیلوف کے نام کیساتھ زیادہ سے زیادہ امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں۔
اِس نئے ’’سربراہ‘‘ کی عوام میں تشہیر بورژوا حکمت عملی کا مرکز بن گئی۔ صدر د فتر کی متحرک معاونت سے اِس’’پہلے عوامی سپہ سالار‘‘ کی سوانح حیات بڑی تعداد میں تقسیم کی گئی۔ جب وزارت جنگ کے منتظم اعلیٰ کے طور پر ساونکوف صحافیوں سے کہتا تھا کہ ’’ہمارا خیال ہے…‘‘ تو ’’ہمارا‘‘ سے اُس کی مراد ساونکوف اور کیرنسکی نہیں بلکہ ساونکوف اور کورنیلوف ہوتے تھے ۔ کورنیلوف کے نام کے شور شرابے نے کیرنسکی کو اُس سے محتاط کر دیا۔ صدر دفتر میں ’افسران کی لیگ‘ میں ایک سازش کی تیاری کی افواہیں زیادہ سے زیادہ پھیلنے لگی تھیں۔ اگست کے ابتدائی دنوں میں سربراہانِ حکومت اور فوج کے اعلیٰ افسران کے درمیان نجی ملاقاتوں نے اُن کی آپسی مخاصمت کے شعلوں کو ہوا ہی دی۔ کورنیلوف نے بلاشبہ خود سے کہا ہو گا، ’’ یہ دو ٹکے کا خطیب [کیرنسکی] کیا سمجھتا ہے کہ مجھے حکم دے سکتا ہے؟‘‘ کیرنسکی بھی سوچنے پر مجبور ہو گا، ’’اب روس کو یہ جاہل اور اجڈ کاسک [کورنیلوف] بچائے گا؟‘‘ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست سوچ رہے تھے۔ فیکٹریوں اور ریلوے کی عسکر کاری (Militarization)، سزائے موت کی عقب تک توسیع اور پیٹروگراڈ فوجی ڈسٹرکٹ اور دارالحکومت کے گیریزن کو صدر دفتر کے ماتحت کرنے پر مبنی کورنیلوف کا پروگرام اُن دنوں مصالحت پسندانہ حلقوں کو معلوم پڑا۔ اِس باضابطہ پروگرام میں پوشیدہ ایک اور پروگرام کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا تھا، جس کا اظہار تو نہیں کیا گیا لیکن جو اِس سے کم حقیقی نہ تھا۔ بائیں بازو کی پریس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ مجلس عاملہ نے سپہ سالار کے عہدے کے لئے جنرل چیریمیسوف کی شکل میں نیا امیدوار پیش کر دیا۔ کورنیلوف کی قریب آتی ہوئی ریٹائرمنٹ کی بات کھلے عام ہونے لگی۔ رجعت بھی متنبہ ہو گئی۔
6 اگست کو ساونکوف کی مدد سے ’بارہ کاسک افواج کی یونین‘نے ’’پرشور اور پرزور انداز میں‘‘ حکومت اور عوام کے علم میں لانے کے لئے ایک قرارداد منظور کی کہ اگر ’’سورما سربراہ‘‘ جنرل کورنیلوف کو ہٹایا گیا تو وہ محاذ یا عقب پر کاسک سپاہیوں کے رویے کے ذمہ دار نہ ہوں گے۔ ’ سینٹ جارج بٹالین کے گھڑ سواروں کی لیگ‘ کے ایک اجلاس نے اِس سے بھی زیادہ زوردار انداز میں حکومت کو دھمکایا۔ اگر کورنیلوف کو ہٹایا گیا تو لیگ فوری طور پر ’’سینٹ جارج بٹالین کے تمام گھڑسواروں کو نعرہ جنگ‘‘ جاری کر تے ہوئے ’’اُنہیں مشترکہ کاروائی کرنے کو کہے گی۔‘‘ اِس کھلی گستاخی کے خلاف کسی ایک جرنیل نے بھی احتجاج نہیں کیا اور مروجہ پریس نے بڑے مزے سے یہ قرارداد شائع کی جو درحقیقت خانہ جنگی کی دھمکی کی حامل تھی۔ ’فوج اور بحری بیڑے کے افسران کی لیگ‘ کی سربراہ کمیٹی نے تار بھیجے جن میں ’’ہمارے پیارے رہنما جنرل کورنیلوف ‘‘ سے تمام امیدیں وابستہ کی گئیں اور ’’تمام دیانتدار لوگوں‘‘ کو اُس پر اظہارِ اعتماد کرنے کو کہا گیا۔ اُن دنوں ماسکو میں ہونے والے ’’عوامی لوگوں‘‘ کے ایک اجلاس نے کورنیلوف کو ایک تار بھیجا جس میں فوجی افسران، سینٹ جارج کے گھڑ سواروں اور کاسکوں کی آواز سے آواز ملائی گئی: ’’سوجھ بوجھ رکھنے والا تمام روس آپ کی طرف امید اور اعتماد سے دیکھ رہا ہے۔‘‘ اِس سے زیادہ وضاحت سے کچھ کہنا ممکن نہ تھا۔ اجلاس میں ریابوشنسکی اور ٹریٹیاکوف جیسے صنعتکار اور بینکار، الیگزیف اور بروسیلوف جیسے جرنیل، پادریوں کے نمائندے، پروفیسر اور ملیوکوف کی قیادت میں کیڈٹ پارٹی کے رہنما شریک تھے۔کیڈٹوں کو کسان رہنماؤں میں کچھ حمایت دینے کے لئے تخلیق کی گئی نیم خودساختہ ’’کسان یونین‘‘ کے نمائندے بھی وہاں موجود تھے۔ صدارتی کرسی پر اپنی زبردست شخصیت کے ساتھ روڈزیانکو براجمان تھا اور بالشویکوں کو کچلنے پر کاسک رجمنٹ کے وفد کا شکریہ ادا کر رہا تھا۔ یوں روس کے ملکیتی اور پڑھے لکھے طبقات کھلے عام کورنیلوف کو ملک کے نجات دہندہ کے منصب کے امیدوار کے طور پر پیش کر رہے تھے۔
اِن تیاریوں کے بعد اپنے ’’ملکی نجات کے پروگرام‘‘ پر مذاکرات کے لئے سپہ سالارِ اعلیٰ دوسری مرتبہ وزارت جنگ آیا۔ اُس کا چیف آف سٹاف جنرل لوکومسکی کہتا ہے، ’’اپنی پیٹروگراڈ آمد پر وہ [کاکیشیا کی مقامی گھڑ سوار فوج] ٹیکنسکی والوں کے ہمراہ دو مشین گنوں کے ساتھ سرما محل گیا۔ سرما محل میں جنرل کورنیلوف کے داخلے کے بعد یہ مشین گنیں موڑ گاڑی سے اتار لی گئیں اور ٹیکنسکی سپاہی محل کے دروازے پر چوکس کھڑے ہو گئے، تاکہ بوقت ضرورت سپہ سالار کی مدد کو جا سکیں۔‘‘ گویا یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ سپہ سالار کو وزیر اعظیم کے خلاف فوجی مدد کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔ ٹیکنسکی والوں کی مشین گنیں درحقیقت بورژوازی کی مشین گنیں تھیں، جن کا رخ اُن مصالحت پسندوں کی طرف تھا جو بار بار اُن کے راستے میں حائل ہوتے تھے۔ سوویتوں سے آزاد اِس نجات دہندہ حکومت کی حالت کچھ ایسی ہی تھی!
کورنیلوف کے دورے کے کچھ ہی دیر بعد عبوری حکومت کے ایک رکن کوکوشکن نے کیرنسکی کو بتایا کہ ’’اگر کورنیلوف کا پروگرام آج ہی تسلیم نہ کیا گیا‘‘ تو کیڈٹ مستعفی ہو جائیں گے۔ کیڈٹ بھی اب حکومت سے کورنیلوف والی دھمکی آمیز زبان میں بات کرنے لگے تھے، اگرچہ مشین گنوں کے بغیر۔ یہ کارگر ثابت ہوا۔عبوری حکومت نے جلدی سے سپہ سالار کی رپورٹ کا تجزیہ کیا اور اُس کے مجوزہ اقدامات، ’’بشمول عقب پر سزائے موت کی بحالی‘‘، اٹھانے کے امکان کو اصولی طور پر تسلیم کر لیا۔
رجعتی قوتوں کی تیاری کے اس عمل میں ’’گرجوں کی کُل روس کونسل‘‘بھی فطری طور پر شامل تھی،جس کا باضابطہ مقصد تو افسرشاہانہ سرگرمیوں سے آرتھوڈاکس کلیسا کی نجات تھا، لیکن حقیقی مقصد انقلاب سے اِس کی حفاظت تھا۔ بادشاہت کے دھڑن تختے کے بعد کلیسا اپنی سرکاری سرپرستی سے محروم ہو گیا تھا۔ ریاست، جو ہمیشہ سے اِس کی محافظ اور سرپرست تھی ، سے اِس کا تعلق ہوا میں معلق تھا۔ کلیسا کی مجلس مشائخ نے 9 مارچ کے ایک مراسلے میں کامیاب انقلاب کو اپنے فضل و رحمت کی آغوش میں لے لیا تھا اور عوام سے کہا تھا کہ ’’عبوری حکومت پر اعتماد رکھیں۔‘‘ لیکن مستقبل خطرات کا حامل تھا۔ دوسرے تمام سوالات کی طرح حکومت کلیسا کے سوال پر بھی خاموش تھی۔ پادری یکسر خسارے میں تھے۔ دور دراز کے کسی علاقے، مثلاً چین کی سرحدوں پر قائم ورنیشہر سے کبھی کبھار کسی مقامی پادری کا تار آتا تھا، جس میں شہزادہ لووف کو یقین دہانی کرائی جاتی تھی کہ اُس کی حکمت عملی انجیل کی تعلیمات کے بالکل مطابق تھی۔ اس طرح سے انقلاب کی ہاں میں ہاں ملانے کے باوجود بھی کلیسا نے واقعات میں مداخلت کرنے کی جرات ابھی تک نہیں کی تھی۔ یہ سب سے زیادہ محاذ پر واضح تھا، جہاں خوف پر مبنی ڈسپلن کے ساتھ ساتھ پادریوں کا اثر و رسوخ بھی بھاپ بن کر اڑ گیا تھا۔ ڈینیکن تسلیم کرتا ہے: ’’افسران تو لمبے عرصے تک اپنی عملداری اور کمان کا اختیار بچانے کے لئے لڑتے رہے، لیکن پادریوں کی آواز انقلاب کے ابتدائی دنوں سے ہی خاموش ہو چکی تھی اور سپاہی کی زندگی میں اُن کا ہر طرح کا عمل دخل ختم ہو گیا۔‘‘ صدر دفتر میں پادریوں کے اجتماع کوئی نام و نشان چھوڑے بغیر غائب ہو گئے۔
اگرچہ گرجوں کی کونسل بنیادی طور پر پادریوں، بالخصوص اُن کے بالائی درجات کا آپسی معاملہ تھا، تاہم یہ معاملہ کلیسائی افسر شاہی کی حدود میں محدود نہیں رہا۔ لبرل طبقے نے اِسے قابو کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ عوام میں کوئی سیاسی بنیادیں حاصل نہ کر سکنے والی کیڈٹ پارٹی خواب دیکھنے لگی کہ ایک اصلاح شدہ کلیسا کیڈٹوں اور عوام کے درمیان رابطے کے وسیلے کا کام دے سکتا ہے۔ کونسل کے اجلاس کی تیاریوں میں کلیسا کے شہزادوں کے ہمراہ، بلکہ اُن سے بھی بڑھ کر متحرک کردار ادا کرنے والوں میں شہزادہ ٹروبٹسکوئے، نواب اولسوفیف، روڈزیانکو اور سمارن جیسے رنگ برنگ کے غیر مذہبی سیاستدان اور لبرل پروفیسر اور لکھاری شامل تھے۔ کسی غیر محتاط حرکت سے سارے گلے سڑے ڈھانچے کے ڈھیر ہو جانے کے خطرے کے پیش نظر، کیڈٹ پارٹی نے بڑی آہستگی سے کونسل کے ذریعے کلیسا کی اصلاح کا ماحول پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی۔ پادریوں یا اصلاح کاروں نے ریاست کی کلیسا سے علیحدگی کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا۔ کلیسا کے شہزادے فطری طور پر اپنے داخلی معاملات پر ریاست کے تسلط کو کمزور کرنا چاہتے تھے، لیکن ساتھ ہی اُن کی خواہش تھی کہ مستقبل میں ریاست نہ صرف اُن کے مراعت یافتہ مقام، زمینوں اور آمدن کی ضمانت دے بلکہ اُن کے اخراجات کا بڑا حصہ بھی برداشت کرے۔ دوسری طرف لبرل بورژوازی بھی آرتھوڈاکس کلیسا کو اُس کے غالب مقام کے تسلسل کی ضمانت دینے کو تیار تھی، لیکن اِس شرط پر کہ وہ ایک نئے انداز میں عوام میں حکمران طبقے کے مفادات کا تحفظ کرنا سیکھے۔
لیکن یہاں سے ہی بڑی مشکلات کا آغاز ہوا۔ خود ڈینیکن افسوس کے ساتھ تبصرہ کرتا ہے کہ انقلابِ روس نے ’’کوئی ایک بھی ایسی مذہبی تحریک پیدا نہیں کی جو تبصرے کے لائق ہو۔ ‘‘ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ جوں جوں عوام کی نئی پرتیں انقلاب میں شامل ہو تی گئیں، اُنہوں نے تقریباً خود بخود کلیسا کی طرف پیٹھ پھیر لی، حتیٰ کہ وہاں بھی جہاں ماضی میں وہ اِس سے وابستہ رہے تھے۔دیہات میں شاید پادریوں کا کچھ انفرادی اثر و رسوخ موجود تھا، جس کا دارومدار زمین کے سوال کی طرف اُن کے رویے پر تھا؛ شہروں میں مزدوروں، پیٹی بورژوازی، غرضیکہ کسی نے بھی انقلاب کی جانب سے اٹھائے گئے کسی سوال کے حل کے لئے پادریوں سے رجوع کرنے کا نہیں سوچا۔ عوام نے گرجوں کی کونسل کی تیاریوں سے بالکل لاتعلقی کا مظاہرہ کیا۔عوام کی امنگیں اور جذبات اپنا اظہار سوشلسٹ نعروں میں تلاش رہے تھے، نہ کہ مذہبی تحریروں میں۔ تاخیر زدہ روس نے اپنی تاریخ کی تشکیل مختصر کر دی: اُس نے خود کو نہ صرف کلیسا کی تجدید بلکہ بورژوا پارلیمانیت کے عہد پر سے بھی پھلانگ جانے پر مجبور پایا۔
اگرچہ گرجوں کی کونسل کی منصوبہ بندی انقلابی سیلاب کے مہینوں میں کی گئی تھی، لیکن یہ اُس کے اُتار کے ہفتوں میں وقوع پذیر ہوئی۔ یوں اِس کا رجعتی رنگ مزید گاڑھا ہو گیا۔ کونسل کا دستور، اس کے پیش نظر مسائل کا حلقہ، حتیٰ کہ اس کے آغاز کی تقریب، سب کچھ مختلف طبقات کے رویے میں گہری تبدیلیوں کا غماز تھا۔ اسپنسکی کیتھڈرل میں ہونے والی باجماعت عبادات میں روڈزیانکو اور کیڈٹوں کے پہلو میں کیرنسکی اور ایوکسنٹیف بیٹھے تھے۔ ماسکو کے صدرِ بلدیہ، سوشل انقلابی رڈنرنے اپنی استقبالیہ تقریر میں کہا: ’’ جب تک روس کے عوام زندہ ہیں، عیسائی مذہب اِس کی مٹی میں رچا بسا رہے گا۔‘‘ کل تک یہی لوگ خود کو روسی روشن خیالی کے پیغمبر چرنیشیوسکی [۱] کی براہ راست اولاد سمجھتے تھے۔
کونسل نے ہر طرف تحریری استدعائیں تقسیم کیں، ایک مضبوط حکومت کی دعا کی، بالشویکوں کو لعن طعن کی اور وزیر محنت سکوبیلیف کے ساتھ مل کر مزدوروں سے التجا کی: ’’مزدورو، اپنا کام کرو، کوئی کسر نہ چھوڑو اور اپنی ضروریات کو مادرِ وطن کی فلاح کے تابع کر لو۔‘‘ لیکن کونسل نے خصوصی توجہ زمین کے سوال کو دی۔ بشپ اور علاقوں کے پادری بھی کسان تحریک کی وسعت سے زمینداروں کی طرح ہی خوفزدہ اور خفا تھے؛ کلیسا کو جمہوری بنانے کے سوال سے زیادہ گرجوں اور خانقاہوں کی زمینیں چھن جانے کے خوف نے اُن کی روحوں کو جکڑ رکھا تھا۔ خدا کے قہر اور کلیسا سے قطع تعلق کی دھمکیوں کے ساتھ کونسل کے مراسلوں میں ’’ گرجوں، خانقاہوں، پادریوں اور نجی مالکان کو زمینیں، جنگلات اور فصلیں فوراً واپس کرنے‘‘ کا مطالبہ کیا گیا۔ یہاں بیاباں میں گونجتی آواز کو یاد کرنا مناسب ہو گا! کونسل ہفتوں گھسٹتی رہی اور اس کی تمام تر محنت کا نکتہ عروج اُس پادری نظام [۲] کی پھر سے بحالی تھا جسے زار پیٹر نے اکتوبر انقلاب سے دو سو سال قبل ختم کر دیا تھا۔
جولائی کے آخر میں حکومت نے ملک کے تمام طبقات اور سماجی اداروں کا اجلاس 13 اگست کو ماسکو میں بلانے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کی رکنیت کا تعین خود حکومت نے کرنا تھا۔ ملک میں ہونے والے تمام جمہوری انتخابات کے بالکل برخلاف حکومت نے پیشگی یقینی بنایا کہ اجلاس میں ملکیتی طبقات اور عوام کے نمائندوں کی مساوی تعداد شریک ہو۔ صرف ایسے جعلی توازن کے ذریعے ہی انقلاب کی یہ ’نجات دہندہ حکومت‘ خود کو بچانے کی توقع کر سکتی تھی۔ اس قومی اجلاس کے پاس کوئی واضح اختیارات نہیں تھے۔ ملیوکوف کے الفاظ میں: ’’ زیادہ سے زیادہ اِس اجلاس کے پاس صرف مشاورتی اختیار تھا۔‘‘ ملکیتی طبقات عوام کو بے خودی کا سبق دینا چاہتے تھے، تاکہ بعد میں سارے اقتدار پر قبضہ کر سکیں۔ سرکاری طور پر اجلاس کا مقصد ’’ریاستی اقتدار اور ملک کی تمام منظم قوتوں کے درمیان مفاہمت‘‘ کروانا تھا۔ پریس میں یکجہتی کی ضرورت، مفاہمت ، ہمت افزائی اور سب کے حوصلے بلند کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ دوسرے الفاظ میں جس مقصد کے لئے اجلاس بلایا گیا تھا وہ اُس کا ذکر نہیں کرنا چاہتے تھے اور باقی اُس کا ذکر کرنے کے قابل نہیں تھے۔ یہاں ایک بار پھر چیزوں کو بے نقاب کرنا بالشویکوں کا فریضہ بن گیا۔

*****

[۱] نکولے چرنیشیوسکی (Nikolay Chernyshevsky) انیسویں صدی میں روس کا مشہور انقلابی جمہوریت پسند، مادیت پسند فلسفی اور یوٹوپیائی سوشلسٹ تھا۔ وہ 1860 ء کی دہائی میں چلنے والی جمہوری تحریک کا رہنما تھا۔ وہ نرودنک تحریک، یعنی سوشل انقلابیوں کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔
[۲] زار پیٹر (1682-1721ء) سے پہلے کلیسا کے سربراہ کا اپنا دربار اور اپنی انتظامیہ ہوتی تھی اور وہ عملی طور پر ایک طرح سے زار کے ہم پلہ ہوتا تھا۔ پیٹر نے یہ نظام ختم کر دیا تھا اور اِس کی جگہ ’مجلس مشائخ‘ قائم کر کے کلیسا کو زار کے تابع کر دیا تھا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں